An-Naml 27:4

An-Naml · from ayah 4

27:4

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَ ۟ؕاِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ زَيَّـنَّا لَهُمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فَهُمۡ يَعۡمَهُوۡنَؕ

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ہم نے ان کے اعمال ان کے لئے آرستہ کردیئے ہیں تو وہ سرگرداں ہو رہے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, for those who do not believe in the Hereafter, We have made pleasing to them their deeds, so they wander blindly.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:4

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ان کے لیے ہم نے اُن کے کرتوتوں کو خوشنما بنا دیا ہے، اس لیے وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ہم نے ان کے اعمال ان کے لئے آرستہ کردیئے ہیں تو وہ سرگرداں ہو رہے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں ﻻتے ہم نے انہیں ان کے کرتوت زینت دار کر دکھائے ہیں، پس وه بھٹکتے پھرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ہم نے ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں خوشنما بنادیا ہے۔ اس لیے وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے کوتک (برے اعمال) ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اَعمالِ (بد ان کی نگاہوں میں) خوش نما کر دیئے ہیں سو وہ (گمراہی میں) سرگرداں رہتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال مزین کردیے ہیں، پس وہ حیران پھرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے لیے ان کے کرتوتوں کو خوشنما بنادیا ہے۔ لہذا وہ اندھے بنے پھرتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال ان کی نگاہوں میں کھبا دیئے ہیں، پس وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس کے برعکس جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے بلاشبہ ان کے لیے ہم نے ان کے اعمال کو ایسا خوشنما بنادیا ہے کہ وہ بھٹکتے ہی چلے جا رہے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال ان کی نظر میں خوش نما بنا رکھے ہیں سو وہ بھٹکتے پھرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال کو مزین کردیا ہے پس وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال ان کے لیے آراستہ کردیے ہیں تو وہ سرگردان پھر رہے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

As for those who do not believe in the Hereafter, We have made their deeds seem attractive to them so they stumble around in perplexity.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for those who do not believe in the Hereafter, We have made their deeds look beautiful to them. So they are wandering astray.

— Muhammad Taqi Usmani

As for those who do not believe in the Hereafter, We have made their deeds look beautiful to them. So they are wandering astray.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who believe not in the Hereafter, We have made their deeds fair seeming to them, so that they wander about blindly.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! as for those who believe not in the Hereafter, We have made their works fairseeming unto them so that they are all astray.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, for those who do not believe in the Hereafter, We have made pleasing to them their deeds, so they wander blindly.

— Saheeh International

We have made the deeds of those who do not believe in the life to come, attractive to them and they wander about blindly.

— Muhammad Sarwar

As to those who do not believe in the hereafter, We have surely made their deeds fair-seeming to them, but they blindly wander on.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who believe not in the Hereafter - fairseeming unto them We have made their works, so that they wander perplexed.

— Abdul Majid Daryabadi

As to those who believe not in the Hereafter, We have made their deeds pleasing in their eyes; and so they wander about in distraction.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورة بقرہ کے شروع میں ہم کرچکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اسکی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لئے ہدایت و بشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ بھی، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چناچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لئے تو یہ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 5 یعنی خدا کا قانون فطرت یہ ہے، نفسیات انسان کی فطری منطق یہی ہے کہ جب آدمی زندگی اور اس کی سعی و عمل کے نتائج کو صرف اسی دنیا تک محدود سمجھے گا، جب وہ کسی ایسی عدالت کا قائل نہ ہوگا جہاں انسان کے پورے کارنامہ حیات کی جانچ پڑتال کر کے اس کے حسن و قبح کا آخری اور قطعی فیصلہ کیا جانے والا ہو، اور جب وہ موت کے بعد کسی ایسی زندگی کا قائل نہ ہوگا جس میں حیات دنیا کے اعمال کی حقیقی قدر و قیمت کے مطابق ٹھیک ٹھیک جزا و سزا دی جانے والی ہو تو لازما اس کے اندر ایک مادہ پرستانہ نقطعہ نظر نشو و نما پائے گا۔ اسے حق اور باطل، شرک اور توحید، نیکی اور بدی، اخلاق اور بد اخلاقی کی ساری بحثیں سراسر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–6

معارف و مسائل زَيَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ ، یعنی جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے اعمال بد ان کی نظروں میں مزین کردیئے ہیں۔ اس لئے وہ انہی کو بہتر سمجھ کر گمراہی میں مبتلا رہتے ہیں اور بعض مفسرین نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ اعمالھم سے مراد نیک اعمال ہیں اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے تو نیک اعمال کو مزین کر کے ان کے سامنے رکھ دیا تھا مگر ان ظالموں نے ان کی طرف التفات نہ کیا بلکہ کفر و شرک میں مبتلا رہے اس لئے گمراہی میں بھٹکنے لگے۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ واضح ہے، اول تو اس لئے کہ مزین کرنے کے الفاظ عموماً اعمال بد کے لئے استعمال ہوئے ہیں جیسے زُيِّنَ للنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ ،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

منکرین قرآن کا سبب انکار یہ منکرین کے اصل سبب انکار کی طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں بلکہ اسی دنیا کی زندگی کو کل زندگی سمجھے ہوئے بیٹھے ہیں۔ ان کی نگاہوں میں ان کے اعمال اس طرح کھبا دیئے گئے ہیں کہ اب ان سے ہٹ کر کچھ سوچنے سمجھنے کے لئے وہ تیار نہیں ہیں۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے کہ جو لوگ اسی دنیا کو مقصود و مطلوب بنا کر اپنی تمام ذہانت و قابلیت اسی کی طلب میں لگا دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے اعمال و مشاغل کو اس طرح ان پر مسلط کردیتا ہے کہ پھر نہ وہ ان کے چھوڑنے ہی پر آمادہ ہوتے اور نہ ان سے چھوٹ ہی سکتے۔ وہ انہی کے اندر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–6

4-1یہ گناہوں کا وبال اور بدلہ ہے کہ برائیاں ان کو اچھی لگتی ہیں اور آخرت پر عدم ایمان اس کا بنیادی سبب ہے اس کی نسبت اللہ کی طرف اس لئے کی گئی ہے کہ ہر کام اس کی مشیت سے ہی ہوتا ہے، تاہم اس میں بھی اللہ کا وہی اصول کار فرما ہے کہ نیکوں کے لئے نیکی کا راستہ اور بدوں کے لئے بدی کا راستہ آسان کردیا جاتا ہے۔ لیکن ان دونوں میں سے کسی ایک راستے کا اختیار کرنا، یہ انسان کے اپنے ارادے پر منحصر ہے۔ 4-2یعنی گمراہی کے جس راستے پر وہ چل رہے ہوتے ہیں، اس کی حقیقت سے وہ آشنا نہیں ہوتے اور صحیح راستے کی طرف رہنمائی نہیں پاتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–4

1: یعنی ان کی ضد کی وجہ سے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنے سارے برے اعمال کو اچھا سمجھتے ہیں، اور ہدایت کی طرف نہیں آتے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان الذین ……یعمھون (4) حقیقت یہ ہے کہ آخرت پر ایمان وہ قوت ہے جو اس دنیا میں انسانی خواہشات ، اس کے جذبات کو دباتی ہے اور ان کو اعتدال اور توازن بخشتی ہے۔ جو شخص ایمان نہیں رکھتا وہ اپنی کسی خواہش اور کسی میلان کو دبانے کی طاقت اور اخلاقی قوت ہی نہیں رکھتا وہ تو یہ سمجھتا ہے کہ بابر بعیش کوش کو عالم دوبارہ نیست اور اس عالم میں زندگی بھی مختصر ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ اگر ہم نے اس دنیا میں کوئی عیش اور کوئی لذت ترک کردی یا ہم حاصل نہ کرسکے تو اس زندگی میں ایک منٹ کی توسیع ہوجائے۔ جب سوچ یہ ہوجائے تو کسی کو عیش و عشرت اور لذات و رغبات کے ہاتھوں کون چھڑا سکتا ہے۔ الا یہ کہ وہ اللہ کے سامنے کھڑ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–4

3 یعنی جن کو انجام کی کوئی فکر اور مستقبل کا خیال نہ ہو، وہ اسی دنیائے فانی کی فکر میں ڈوبے رہتے ہیں۔ ان کی تمام کوشش کا مرکز یہ ہی چند روزہ زندگی ہے جو کتاب یا پیغمبر ادھر سے ہٹا کر عاقبت کی طرف توجہ دلائے، اس پر کیوں کان دھرنے لگے۔ وہ دنیا کے عشق میں غرق ہو کر ہادیوں پر آوازیں کستے ہیں۔ آسمان صحیفوں کو مرد طعن بناتے ہیں۔ پیغمبروں کے ساتھ ٹھٹھا کرتے ہیں۔ اور یہ ہی کام ہیں، جن کو اپنے نزدیک بہت اچھا سمجھ کر برابر گمراہی میں ترقی کرتے جاتے ہیں۔ (تنبیہ) تزیین کی نسبت حق تعالیٰ کی طرف اس حیثیت سے کی کہ خالق ہر چیز کا وہ ہی ہے کسی سبب پر مسبب کا ترتب بدون اس کی مشیت و ارادہ کے نہیں ہوسکتا۔ جیسا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 4–6

آیت 4 اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ زَیَّنَّا لَہُمْ اَعْمَالَہُمْ ” ایسے لوگوں کو اپنے غلط کام بھی اچھے لگتے ہیں اور اپنا کلچر ہی مثالی نظر آتا ہے۔ فَہُمْ یَعْمَہُوْنَ ” ع م ی کے مادہ میں بصارت ظاہری کے اندھے پن کا مفہوم ہے ‘ جبکہ ع م ہ کے مادہ میں بصیرت باطنی کے اندھے پن کے معنی پائے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بصارت تو چاہے درست ہو مگر بصیرت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔ انسان کی اس کیفیت کو سورة الحج میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ”تو اصل میں آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں ‘ بلکہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 یعنی جو اللہ پر تو ایمان رکھتے ہوں مگر روز آخرت پر ایمان نہ رکھتے ہوں وہ اپنا معیار خیر و شر صرف انہی نتائج سے متعین کرتے ہیں جو اس دنیا میں ظاہر ہوتے یا ہوسکتے ہیں۔ لہذا ان کی زندگی کسی اصول کی پابند نہیں ہوتی وہ جس کام میں اپنا ذاتی فائدہ دیکھتے ہیں۔ وہی کام ان کے نزدیک خیر ہے۔ دوسروں کے نفع و نقصان سے انھیں کچھ غرض نہیں ہوتی۔ دنیا میں تمام فسادات روز آخرت اور باز پرس سے انکار یا بھول کی بنا پر واقع ہوتے ہیں۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ ایسے دنیا پر نہ سمجھنے والے لوگوں کو اپنے ایسے ہی خود غرضی پر مبنی اعمال اچھے نظر آنے لگتے ہیں۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ جو طرز عمل انہوں نے اختیار کر رکھا ہے وہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ یہ مشاہدہ ہے کہ جن قوموں کے دل سے آخرت کا خیال مٹ جاتا ہے وہ اپنا سارا وقت، ساری قوت اسی دنیا کی دوڑ دھوپ، اسی کی ترقیوں کے لیے وقف رکھتے ہیں۔ (آیت) ” زینا لھم اعمالھم فھم یعمھون “۔ جو لوگ مذہب کا دامن چھوڑے ہوئے ہیں، قرآن مجید کی کتنی صحیح تشخیص ان کے بارے میں کردی۔ اپنی اس مادی حسی دنیا کے سامان اور یہیں کی ترقیوں پر وہ پھولے اور اتراتے ہوئے، کس کس طرح ایک ایک نظریہ، ایک ایک فلسفہ کی آڑ ڈھونڈتے پھرتے ہیں، اور اس در سے اس در تک منڈلاتے ہی رہتے ہیں !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–14

آیت نمبر 1 تا 14 ترجمہ : طس اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب مبین کی یعنی حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی، زیادتی صفت کے ساتھ (القرآن) پر عطف ہے، وہ ہدایت ہے یعنی گمراہی سے ہدایت کرنے والی ہے اور مومنین یعنی اس کی تصدیق کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری ہے، وہ (مومن) جو نماز قائم کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کے طریقہ کے مطابق ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں (یعنی) دلیل کے ساتھ اس پر یقین رکھتے ہیں، اور (ھم) مبتداء اور اس کی خبر (یوقنون) کے درمیان (بالآخرۃ) کے فصل کی وجہ سے ھم کا اعادہ کیا گیا ہے جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُوْنَ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان کے (برے) اعمال کو ان کی نظروں میں سجا دیا ہے (کہ ان پر نفس کو مسلط کردیا ہے اور ان کا نفس برے اعمال کو پسند کرنے لگا ہے) پس وہ سرگرداں ہیں یعنی نتائج اور انجام سے بیخبر رہ کر بداعمالی میں سرگرداں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(4) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کی نظر میں ان کے اعمال کفریہ مرغوب کر رکھے ہیں جیسا کہ ابوجہل اور ان کے ساتھی سو وہ بھٹکتے پھرتے ہیں اور ان کو کچھ نہیں سوجھتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ۔۔ : اہل ایمان کے لیے قرآن کے ہدایت اور بشارت ہونے کے بعد ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، کہ ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال مزیّن کردیے ہیں، یعنی انھیں ان کے کفر کی یہ سزا دی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَنُقَلِّبُ اَفْــــِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖٓ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ) [ الأنعام : 110 ] ”اور ہم ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کو پھیر دیں گے، جیسے وہ اس پر پہلی بار ایمان نہیں لائے اور انھیں چھوڑ دیں گے، اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھریں گے۔“ یا ان کے کفر کا یہ نتیجہ نکلا کہ وہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–6

(طس، تلک ایت القرآن۔۔۔۔۔۔۔۔ ) طس تلک ایت القرآن و کتاب مبین سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں حروف مقطعات کے بارے میں گفتگوپہلے گزر چکی ہے۔ تلک یہ ھذہ کے معنی میں ہے یعنی یہ سورت قرآن کی آیات اور کتاب مبین کی آیات اور کتاب مبین کی آیات ہیں۔ لفظ قرآن معرفہ ذکر کیا اور کتاب مبین نکرہ کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا دونوں معرفہ کے حکم میں ہیں : جس طرح تو کہتا ہے : فلاں الرجل عاقل و فلاں الرجل العاقل۔ کتاب سے مراد قرآن ہے اس کی دو صفتیں جمع کی گئیں یعنی یہ قرآن ہے اور یہ کتاب ہے کیونکہ یہ کتابت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے اور قرأت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ سورة بقرہ میں ان کا اشتقاق گزر چکا ہ۔ سورة حجر میں فرمایا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–6

1۔ ابن ابی حاتم نے ابنم عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ قرآن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اللہ تعالیٰ کی اس آیت ” ان الذین لا یؤمنون بالاخرۃ “ سے یہی مراد ہے کہ وہ آخرت کا اقرار نہیں کرتے اور نہ ہی اس پر ایمان لاتے ہیں آیت ” فہم یعمہون “ یعنی وہ سرگرداں ہیں) اسی گمراہی میں آیت ” وانک لتلقی القراٰن “ یعنی آپ لے رہے ہیں قرآن کو ” حکیم علیم “ یعنی بڑے حکمت والے علم والے کی طرف سے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ [ بیشک جو لوگ ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان نہیں لاتے ] بِالْاٰخِرَةِ [ آخرت پر ] زَيَّنَّا [ ہم نے سجا دیا ] لَهُمْ [ ان کے لئے ] اَعْمَالَهُمْ [ ان کے اعمال کو ] فَهُمْ [ تو وہ ] يَعْمَهُوْنَ [ بھٹکتے پھرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 3–5

پھر آیات قرآنیہ کو اہل ایمان کے لیے ہدایت اور بشارت بتایا۔ اور اہل ایمان کی صفات بتائیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ نماز بدنی عبادت ہے اور زکوٰۃ مالی عبادت ہے اور یہ دونوں اسلام کے ارکان میں سے ہیں۔ ان کی ادائیگی پابندی سے کی جائے تو ایمان کے دوسرے تقاضوں پر بھی عمل ہوتا رہتا ہے۔ اور آخرت کا یقین ہر نیکی پر آمادہ کرنے اور ہر گناہ چھڑانے پر ابھارتا رہتا ہے اسی کو آیت کے ختم پر (وَ ھُمْ بالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ ) میں بیان فرمایا۔ مومنین کی صفات بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ آیات قرآنیہ اہل ایمان کے لیے بشارت اور ہدایت ہیں قرآن تو سبھی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

4:۔ یہ منکرین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ جو لوگ آخرت کے منکر ہیں وہ اس کے علاوہ شرک بھی کرتے ہیں اور اپنے مشرکانہ اعمال کو بہت عمدہ خیال کرتے ہیں۔ وہ غیر اللہ کو کارساز اور برکات دہندہ سمجھ کر پکارنے کو بہت بڑا عمل صالح تصور کرتے ہیں ان کو اس کی سخت ترین سزا دی جائیگی اور آخرت میں وہ سب سے زیادہ خسارے میں رہیں گے۔ کیونکہ وہ اجر وثواب سے محروم رہیں گے اور عذاب میں مبتلا ہوں گے اور یہی سب سے بڑا خسارہ ہے۔ ای اشد الناس خسرانا لفوات الثواب و استحقاق العقاب (ابو السعود ج 6 ص 572) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النمل ہے عربی زبان میں نمل چیونٹی کو کہتے ہیں ۔ اس سورة کے دوسرے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے وادی نمل سے گزرنے اور وہاں پر دلائل توحید کے طور پر ایک واقعہ پیش آنے کا ذکر کیا ہے اسی نسبت سے اس سورة کو سورة النمل کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ، گزشتہ سورة الشعراء اور اس سورة کا زمانہ نزول قریب قریب ہی ہے ۔ دونوں سورتیں مکی دور کے وسط یا آخری حصہ میں نازل ہوئیں ۔ سورة ہذا کی ترانوے آیتیں ہیں اور یہ سات رکوع 9411 الفاظ اور 7674 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة اس سورة میں بھی دیگر مکی سورتوں کی طرح چار اہم اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ زَيَّنَّا لَہُمْ اَعْمَالَہُمْ فَہُمْ يَعْمَہُوْنَ۝ 4ۭ زين الزِّينَةُ الحقیقيّة : ما لا يشين الإنسان في شيء من أحواله لا في الدنیا، ولا في الآخرة، فأمّا ما يزينه في حالة دون حالة فهو من وجه شين، ( زی ن ) الزینہ زینت حقیقی ہوتی ہے جو انسان کے لئے کسی حالت میں بھی معیوب نہ ہو یعنی نہ دنیا میں اور نہ ہی عقبی ٰ میں اور وہ چیز جو ایک حیثیت سی موجب زینت ہو لیکن دوسری حیثیت سے موجب زینت نہ ہو وہ زینت حقیقی نہیں ہوتی بلکہ اسے صرف ایک پہلو کے اعتبار سے زینت کہہ سکتے ہیں عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب : و کتاب معطوف ہے قرآن مجرورمضاف الیہ پر ھدی و بشری دونوں محل حال میں ہیں آیات یا کتاب سے اور مبتدا محذوف کی خبر بھی ہوسکتے ہیں الذین یقیمون صفت ہے المؤمنین کی وھم بالآخرۃ الخ تتمہ صلہ کا ہے و حال یا عطف کی صورت میں جملہ فعلیہ سے اسمیہ کی طرف تغیر کرنا ان کے ثبات اور ایمان پر استمرار ثابت کرنے کے لیے ہے۔ تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے اس میں بھی توحید اور اثبات نبوت کے مباحث اور چند انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرے ہیں اور ان پر جو کچھ انعامات ہوئے وہ بھی بیان ہوئے ہیں جو ان کی خدا پرستی کا نتیجہ تھا۔ فرماتا ہے طس ان دو حرفوں سے کسی خاص بات کی طرف اشارہ ہے جس کو وہی خوب جانتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ زَیَّـنَّا لَھُمْ اَعْمَالَھُمْ فَھُمْ یَعْمَھُوْنَ ۔ (النمل : 4) (بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال کو ان کے لیے خوشنما بنادیا ہے، پس وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ ) ایمان سے انکار کا سبب قرآن کریم کی تعلیمات حددرجہ واضح ہونے کے باوجود جو لوگ ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوتے بلکہ مخالفت اور معاندت پر تلے ہوئے ہیں ان کے انکار کا سبب پیش نظر آیت کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ وہ سبب یہ ہے کہ وہ لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے بلکہ اسی دنیا کی زندگی کو کل زندگی سمجھے بیٹھے ہیں۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب آدمی زندگی اور اس کی سعی و عمل کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–5

فہم القرآن ربط کلام : یقین اور ایمان سے محروم لوگوں کی دنیا میں سزا اور آخرت میں انتہا درجہ کا نقصان۔ جو لوگ ایمان وایقان کی دولت سے محروم ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کے حوالہ کردیتا ہے۔ وہ اپنے گناہوں میں سرگرداں رہتے ہیں۔ انسان جب گمراہی کے آخری درجہ میں پہنچجاتا ہے تو پھر وہ گناہ کو گناہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے تہذیب و تمدن، معاشرتی روایات، فیشن اور ترقی کا زینہ سمجھتا ہے۔ ایسے شخص کا دل پریشانیوں کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ دل کے سکون کے لیے کبھی نشہ کرتا ہے اور کبھی مزید عیاشی کا سامان ڈھونڈتا ہے۔ لیکن دل میں اطمینان اور سکون پیدا ہونے کی بجائے مزید پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں۔ ان لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4: اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ یَّنَّالَہُمْ اَعْمَالَہُمْ (بیشک وہ لوگ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ہم نے ان کے لئے ان کے اعمال کو مزین کردیا ) ۔ ان میں شہوت پیدا کر کے یہاں تک کہ وہ اس کو اچھا سمجھنے لگے۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے۔ افمن زین لہ سوء عملہ فراہ حسنا [ فاطر : 8] فَہُمْ یَعْمَہُوْنَ (پس وہ سرگرداں و حیران ہیں) اپنی گمراہی میں متردد ہیں۔ جیسا کہ راستہ سے گم گشتہ شخص کا حال ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4۔ ان الذین لایومنون بالاخرۃ زینالھم اعمالھم۔ ان قبیح افعال کو جوان کے نفس اس کو اچھا سمجھتے ہیں۔ فھم یعمھون، ا س میں وہ متردد اور حیران ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

سورة النمل : (1 تا 4) سورتوں کے شروع میں جو حرف مقطعات ان کا حال مفصل طور سے سورة بقرہ کے شروع میں بیان ہوچکا ہے لفظ تلک سے یہ سورت اور تمام قرآن کی آیتیں مقصود ہیں اور مبین کے معنی واضح اور ظاہر کے ہیں اور دوسری آیت کا یہ مطلب ہے کہ قرآن شریف سے اسی کو ہدایت اور بشارت ہوتی ہے جس نے قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا یقین کیا اور اس پر ایمان لایا اور جو احکام اس میں ہے ان پر عمل کیا فرض نماز پڑھے زکوٰۃ دے اور آخرت کو سچا جاننا کہ مرنے کے بعد زندہ ہونا ہے اور نیکی بدی پر جزا و سزا ضرور ملے گی اور جنت اور دوزخ حق ہیں جیسا کہ سورة حم السجدہ میں فرمایا قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ آمَنُوْا ھَدْیً وَّشَفَآئٌ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–6

تفسیر سورة النمل آیت 1 سے 6 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چناچہ فرمایا : (تلک ایت القران وکتائب مبین) ” یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں۔ “ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہیں۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لئے ایسے ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

4 برے اعمال کی خوشنمائی ایک مستقل عذاب۔ والعیاذ باللہ : سو منکرین و معاندین کے لیے ایک سزا یہ ہے کہ ان کے برے اعمال کو ہی خوشنما بنادیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں وہ اپنے برے اعمل کو چھوڑنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوں گے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ ہلاکت و تباہی کی راہ پر بڑھتے چلے جائیں گے۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ نور ایمان سے محروم لوگوں کیلئے سنت الہیہ یہی ہے کہ انکے لیے انکے برے اعمال ہی کو مزین کردیا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی ایسے لوگوں کے دلوں میں چونکہ حق کی طلب و تلاش ہوتی ہی نہیں۔ وہ اسی دنیائے دوں کے وقتی اور عارضی فائدوں کے حصول ہی کو اصل کامیابی اور اس کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

قرآن مجید کے اوصاف، ایمانداروں اور کفار کا تذکرہ تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کئی مرتبہ قرآن پاک کی صفات بیان کی جا چکی ہیں۔ بہرحال اسلام کی یہ مقدس کتاب قرآن مجید تمام آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ ممتاز اور بہترین ہے۔ کیونکہ یہ تاقیامت پوری کائنات اور مخلوقات کے لیے مکمل آئین ہے۔ اس کے ذریعہ ہم ماضی حال اور مستقبل کو بڑی آسانی سے دیکھ سکتے ہیں اور پھر یہ سائنسی حقائق کا سرچشمہ بھی ہے۔ مسلم سائنس دانوں نے جس قدر ایجادات کی ہیں جو کہ بیشمار ہیں سب کی بنیاد قرآن پاک کی مختلف آیات ہی پر ہے۔ سائنس کی بنیاد سچ ہے اور قرآن پاک پورے کا پورا سچ ہے۔ اس کی ہر آیت اتنی جامع اور آسان ہے کہ بدو ہو یا عالم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–14

سورة نمل رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 14 ۔ اسرار و معارف : طس۔ یہ قرآن کی آیات ہیں جو ایک کھلی کتاب ہے یعنی جو حقائق کو واضح کرکے بیان کرتی ہے اور باعث ہدایت بھی ہے اور نوید کامرانی بھی ان لوگوں کے لیے جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے یقین کی دلیل یہ ہے کہ عملاً اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور عبادات کے ادا کرنے میں پوری کوشش کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی کردار میں بھی اور معیشت میں بھی اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور یہ سب کسی دنیاوی فادے یا لالچ میں نہیں کرتے بلکہ انہیں آخرت اور روز جزا پر یقین کامل ہے لہذا اس روز کی کامیابی کے خواہشمند ہیں۔ اور ایسے لوگ جو آخرت پر یقین نہیں کرتے ان کو سزا کے طور پر ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–4

5 ۔ یعنی ہم نے ان کے کفر کی یہ سزا دی یا ان کے کفر کا یہ نتیجہ نکلا کہ وہ دنیا ہی میں مگن ہوگئے اور اسی کو اپنی تمام کوششوں کا مرکز سمجھنے لگے۔ گویا آخرت پر عدم ایمان کی یہ سزا ملتی ہے کہ انسان اپنے برے کاموں کو بھی اچھا سمجھنے لگتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:4) زینا۔ ماضی جمع متکلم ہم نے زینت دی۔ ہم نے خوبصورت بنادیا۔ ہم نے خوشنما کردیا۔ ہم نے سنوارا۔ یعمھون۔ مضارع جمع مذکر غائب عمہ مصدر۔ (باب فتح، سمع) وہ سرگرداں پھرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : بشری (خوش خبری۔ اچھی اطلاع) ‘ یئو تون (وہ دیتے ہیں) ‘ زینا (ہم نے خوبصورت بنادیا) ‘ یعمھون (وہ اندھے بن رہے ہیں) ‘ الا خسرون (زیادہ نقصان اٹھانے والے) ‘ تلقی (دیا گیا ہے) ‘ لدن (قریب ۔ نزدیک) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 : ٭اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا فرمائے تھے جو راہ حق سے بھٹک جانے والوں کو کھلی آنکھوں سے نظر آتے تھے مگر سچائیوں کا انکار کرنے والوں نے ان کا بھی انکار کردیا اور اللہ کے غضب کا شکار ہوگئے۔ ان ہی انبیاء کرام میں سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھی تھے جن کو اللہ نے نہ صرف انسانوں اور جنات پر حکومت عطا فرمائی تھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

(ف 1) فرمایا کہ یہ آیتیں جو اس سورت میں ہیں قرآن اور کتاب روشن کی آیات ہیں کسی شاعر کا کلام نہیں کتاب مبین سے مراد یہی قرآن ہے مگر کتاب مبین کہنے سے یہ بات بتلانی مقصود ہے کہ قرآن مجید میں کوئی بات بعید ازعقل نہیں سب باتیں اس کی صاف اور ظاہر ہیں جن کو ہر ایک صاحب عقل سلیم تسلیم کرنے میں ذرا بھی تردد نہیں کرسکتا مگر وہی کہ جس کے دل کی آنکھیں روش نہیں اور جو کو رباطن ہے یہ کتاب ہدایت اور بشارت ہے ان لوگوں کو جو اس پر ایمان لاکر اس پر عمل کرتے ہیں اس سے نفع یاب وہی ہوتے ہیں جن میں ہدایت کا مادہ ہے پھر آگے یہ بھی کھول دیا کہ زبان سے مومن کہنا کافی نہیں جب تک کہ اس میں یہ اوصاف نہ پائے جائیں جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–4

[1] یعنی اس کتاب کی آیتیں ہیں جو اپنی تعلیمات اور اپنے احکام و ہدایات کو بالکل واضح طریقے سے بیان کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–6

ف 1: ان آیات سے سورة نمل کا آغاز ہوتا ہے ۔ طٰسۤ حروف مقطعات میں سے ہے تفصیل آلمۤ کی بحث میں گزرچکی ۔ سورۃ کا آغاز قرآن کے تعارف سے ہوتا ہے ۔ ارشاد ہے کہ یہ قرآن اور کتاب مبین کی آئتیں ہیں قرآن کے معنے اس کتاب کے ہیں جس کی کثرت سے قرات اور تلاوت ہو ۔ یہ مصدر بمعنی مفعول ہے ۔ غور فرمائیے ۔ انجیل کی اشاعت آج دنیا میں سب کتابوں سے زیادہ ہے ۔ دنیا کے ہر گوشے میں مشینری موجود ہیں اور ہر وہ زبان اور ہر قوم میں اس کو سرعت سے پھیلا رہے ہیں ۔ مگر وہ کتاب جس کی دن رات تلاوت ہوتی ہے ۔ صرف قرآن ہے کتاب مبین سے غرض یہ ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے ۔ جس میں تمام ضروریات انسانی کو کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال ان کی نظر میں خوش منظر اور مستحسن کر رکھے ہیں سو وہ اپنی اس خوش فہمی میں بھٹکتے پھر رہے ہیں یعنی ان کے اعمال ان کی نگاہ میں بھلے معلوم ہوتے ہیں اس لئے انہی میں ڈانوا ڈول پھرا کرتے ہیں تزیین کی نسبت حضرت حق تعالیٰ کی خالق ہونے کے اعتبار سے کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو لوگ عقیدہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ راہ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں : 4۔ مختصر طور پر آپ یوں سمجھیں کہ دنیاکا صلہ نقد ہے اور آخرت کا سارا ادھار اور ظاہر ہے کہ جو شخص دنیا میں رہ رہا ہے اور اس کے حالات کا مشاہدہ کر رہا ہے اگر وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتا تو وہ جو کام کرے گا اس کا صلہ نقد بہ نقد چاہے گا اور وہ یقینا ایسا کام دلجمعی سے نہیں کرسکتا جس کا صلہ اس کو اسی وقت مل جانے کی امید نہ ہوگی اور آخرت پر یقین رکھنے والا گویا یہ ایمان رکھتا ہے کہ جو کچھ میں کرتا ہوں اس کا صلہ مجھے اس سے کئی گنا زیادہ کرکے پیش کیا جائے گا اس کا کچھ حصہ اگر اس دنیا میں بھی مل گیا تو خیر ہے ورنہ آخرت میں یقینا ملے گا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–6

Commentary زَيَّنَّا لَهُمْ أَعْمَالَهُمْ (We have made their deeds adorned in their sight - 27:4)It means that those who do not believe in the Hereafter We have made their bad actions look adorned in their sight. Therefore they feel good about them and remain enthralled in depravity. Some commentators have interpreted that "their deeds" is used in this verse for good deeds. Hence meaning of the verse is that Allah had placed the good deeds before them with all their attractions. But those unjust people did not pay any attention to them, rather they remained engrossed in infidelity; hence…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5 That is. "This is God's Law of Nature and the natural logic of human psychology that when man thinks that the results of his life's struggle are confined to this world only when he dces not believe in the existence of any court where his life's work has to be scrutinized and judged finally for good and evil, and when he dces not believe in any life hereafter when he will be requited strictly in accordance with the real worth of his life's deeds, he will inevitably develop in himself a material outlook on life, and every kind of conflict between the Truth and falsehood, good and evil,…

Read the full tafseer →