Explained with ayahs 1–6
حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورة بقرہ کے شروع میں ہم کرچکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اسکی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لئے ہدایت و بشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ بھی، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چناچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لئے تو یہ قرآن…
Read the full tafseer →سورة النمل 3
یعنی قرآن مجید کی یہ آیات رہنمائی بھی صرف انہی لوگوں کی کرتی ہیں اور انجام نیک کی خوشخبری بھی صرف انہی لوگوں کو دیتی ہیں جن میں دو خصوصیات پائی جاتی ہوں، ایک یہ کہ وہ ایمان لائیں، اور ایمان لانے سے مراد یہ ہے کہ وہ قرآن اور محمد ﷺ کی دعوت کو قبول کرلیں، خدائے واحد کو اپنا ایک ہی الہ اور رب مان لیں، قرآن کو خدا کی کتاب تسلیم کرلیں، محمد ﷺ کو نبی بر حق مان کر اپنا پیشوا بنالیں، اور یہ عقیدہ بھی اختیار کرلیں کہ اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ہے جس میں ہم کو اپنے اعمال کا حساب دینا اور جزائے اعمال سے دو چار ہونا ہے، دوسری خصوصیت ان کی یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کو محض مان کر نہ رہ جائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
خلاصہ تفسیر
طس (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ (آیتیں جو آپ پر نازل کی جاتی ہیں) آیتیں ہیں قرآن کی اور ایک واضح کتاب کی (یعنی اس میں دو صفتیں ہیں قرآن ہونا اور کتاب مبین ہونا) یہ (آیتیں) ایمان والوں کے لئے (موجب) ہدایت اور (اس ہدایت پر جزائے نیک کا) مژدہ سنانے والی ہیں جو (مسلمان) ایسے ہیں کہ (عملاً بھی ہدایت پر چلتے ہیں چنانچہ) نماز کی پابندی کرتے ہیں (جو کہ عبادات بدنیہ میں سب سے بڑی ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں (جو کہ عبادات مالیہ میں سب سے بڑی ہے) اور (عقیدہ کے لحاظ سے بھی ہدایت یافتہ ہیں چنانچہ) وہ آخرت پر پورا یقین رکھتے ہیں (یہ تو ایمان والوں کی صفت ہے اور) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں…
Read the full tafseer →جو لوگ آخرت کا یقین رکھتے ہیں وہی اس قرآن پر ایمان لائیں گے
وھم بالاخرۃ ھم یوقنون میں حصر اور تاکید کا اسلوب یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جو لوگ نماز اور زکوۃ کا یہ اہتمام کر رہے ہیں درحقیقت وہی لوگ آخرت پر یقین رکھنے والے ہیں اور اسی چیز نے ان کو اس کتاب پر ایمان لانے کی توفیق بخشی ہے۔ رہے وہ لوگ جن پر یہ چیزیں شاق ہیں تو وہ آخرت کے یقین سے محروم ہیں اور اس قسم کے لوگ اس کتاب پر ایمان سے محروم ہی رہیں گے۔
Read the full tafseer →3-1یہ مضمون متعدد جگہ گزر چکا ہے کہ قرآن کریم ویسے تو پوری نسل انسانی کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے لیکن اس سے حقیقتاً راہ یاب وہی ہونگے جو ہدایت کے طالب ہونگے، جو لوگ اپنے دل اور دماغ کی کھڑکیوں کو حق کے دیکھنے اور سننے سے بند یا اپنے دلوں کو گناہوں کی تاریکیوں سے مسخ کرلیں گے، قرآن انھیں کس طرح سیدھی راہ پر لگا سکتا ہے، ان کی مثال اندھوں کی طرح ہے جو سورج کی روشنی سے فیض یاب نہیں ہوسکتے، درآں حالیکہ سورج کی روشنی پورے عالم کی درخشانی کا سبب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: یعنی ان کی ضد کی وجہ سے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنے سارے برے اعمال کو اچھا سمجھتے ہیں، اور ہدایت کی طرف نہیں آتے۔
Read the full tafseer →وہ نماز قائم کرتے ہیں اور نماز کی ادائیگی اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس کا حق شبے یوں کہ جب وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں تو ان کے دل جاگ رہے ہوں اور اس وقت ان کو یہ شعور ہو کہ وہ ذوالجلال والا کرام کے دربار میں کھڑے ہیں ۔ اس وقت ان کی توجہ اس بلند افق پر ہو ، ان کے دل مناجات الٰہی میں مشغول ہوں ، اسے پکار رہے ہوں اور اسکے عظیم دربار میں حاضر ہوں۔
وہ زکوۃ دیتے ہیں ، اس طرح ان کے نفوس کنجوسی کی رذالت سے نجات پا جائیں۔ یوں ان کی روح مال کے فتنوں سے سربلند ہوجائے اور وہ بعض ان نادار بھائیوں کے ساتھ مربوط ہوجائیں اور ان تک رزق پہنچا دیں اور اس طرح اپنی اجتماعی ذمہ داریاں ادا کردیں۔
وہ آخرت پر پختہ یقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
3 یعنی جن کو انجام کی کوئی فکر اور مستقبل کا خیال نہ ہو، وہ اسی دنیائے فانی کی فکر میں ڈوبے رہتے ہیں۔ ان کی تمام کوشش کا مرکز یہ ہی چند روزہ زندگی ہے جو کتاب یا پیغمبر ادھر سے ہٹا کر عاقبت کی طرف توجہ دلائے، اس پر کیوں کان دھرنے لگے۔ وہ دنیا کے عشق میں غرق ہو کر ہادیوں پر آوازیں کستے ہیں۔ آسمان صحیفوں کو مرد طعن بناتے ہیں۔ پیغمبروں کے ساتھ ٹھٹھا کرتے ہیں۔ اور یہ ہی کام ہیں، جن کو اپنے نزدیک بہت اچھا سمجھ کر برابر گمراہی میں ترقی کرتے جاتے ہیں۔ (تنبیہ) تزیین کی نسبت حق تعالیٰ کی طرف اس حیثیت سے کی کہ خالق ہر چیز کا وہ ہی ہے کسی سبب پر مسبب کا ترتب بدون اس کی مشیت و ارادہ کے نہیں ہوسکتا۔ جیسا…
Read the full tafseer →آیت 3 الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ بالْاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ ”
یعنی آخرت پر ان کا پورا یقین ہے۔ سورة البقرۃ کے آغاز میں بھی متقین کی صفات کے ضمن میں عقیدۂ آخرت پر ایمان کے لیے لفظ ”یُوْقِنُوْنَ“ ہی استعمال ہوا ہے۔ دراصل انسان کے عمل اور کردار کے اچھے یا برے ہونے کا تعلق براہ راست عقیدۂ آخرت کے ساتھ ہے۔ آخرت پر اگر یقین کامل نہیں ہے تو انسان کا عمل اور کردار بھی درست نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →3 ایمان کا دعویٰ رکھنے والوں کی ظاہری علامات یہ ہیں کہ کم از کم وہ نماز کو پوری درستی کے ساتھ قائم کریں۔ نیز زکوٰۃ ادا کریں اور روز آخرت پر ایمان بھی رکھتے ہوں۔ روز آخرت پر ایمان اگرچہ ایمان کے چھ اجزاء میں ایک جزء ہے اور ایمان لانے میں آخرت پر ایمان لانا از خود شامل ہوجاتا ہے۔ تاہم ایمان کے اس جزء کی اہمیت کے پیش نظر اس کو دوبارہ اور بڑی تاکید سے بیان فرمایا۔ اسی لئے قرآن کریم نے آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کو مکمل کافر قرار دیا ہے۔ بلکہ ان لوگوں کو بھی کافر قرار دیا ہے جو آخرت کے دن پر ایمان تو رکھتے ہیں مگر جزا و سزا کے متعلق وہ تصور نہیں رکھتے جو قرآن پیش کرتا ہے۔
Read the full tafseer →2۔ یعنی عقائد و اعمال دونوں کے باب میں بڑے پختہ ہیں۔ (آیت) ” یقیمون ..... الزکوۃ “۔ نماز گویا خلاصہ ہے طاعات بدنی کا اور زکوٰۃ طاعات مالی کا۔ وکنی باقامۃ الصلوۃ وایتاء الزکوۃ عن عمل الصالحات مطلقا (روح) (آیت) ” وھم یوقنون “۔ عقائد کے باب میں عقیدۂ آخرت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ انسان کو اپنی ذمہ داری، مسؤلیت کا پورا احساس بغیر اس کے ہو نہیں سکتا۔ مشرکین کے ہاں تو یہ عقیدہ پہلے ہی سے مسخ شدہ تھا، یہود بھی آخرت کی سزا وجزا کو بھلا کر اسی دنیا پر قانع ہوگئے تھے۔ چناچہ ان کی توریت اور دوسرے صحائف عالم آخرت سے خاموش ہی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : طس اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب مبین کی یعنی حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی، زیادتی صفت کے ساتھ (القرآن) پر عطف ہے، وہ ہدایت ہے یعنی گمراہی سے ہدایت کرنے والی ہے اور مومنین یعنی اس کی تصدیق کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری ہے، وہ (مومن) جو نماز قائم کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کے طریقہ کے مطابق ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں (یعنی) دلیل کے ساتھ اس پر یقین رکھتے ہیں، اور (ھم) مبتداء اور اس کی خبر (یوقنون) کے درمیان (بالآخرۃ) کے فصل کی وجہ سے ھم کا اعادہ کیا گیا ہے جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے…
Read the full tafseer →الذین یقیمون الصلوۃ . جو نماز قائم کرتے ہیں یعنی نماز کے فرض ‘ ارکان ‘ نماز کی سنتیں اور نماز کے آداب کے پابند ہیں۔
ویوتون الزکوۃ وھم بالاخرۃ ھم یوقنون . اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر پورا پورا ایمان رکھتے
ہیں یعنی ایمان کے بعد ان کا اعمال صالحہ اختیار کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا آخرت پر یقین پختہ ہے۔
Read the full tafseer →(3) اب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ جو پانچوں نمازوں کی کمال وضو، رکوع، اور سجود اور تمام آداب کی رعایت کے ساتھ پابندی کرتے ہیں اور اپنے اموال کی زکوٰۃ دیتے ہیں اور بعث بعد الموت اور جنت و دوزخ پر پورا یقین رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
هُدًى وَّبُشْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ۔۔ : ان آیات کی تفسیر کے لیے سورة بقرہ کی ابتدائی آیات (2 تا 4) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(طس، تلک ایت القرآن۔۔۔۔۔۔۔۔ )
طس تلک ایت القرآن و کتاب مبین سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں حروف مقطعات کے بارے میں گفتگوپہلے گزر چکی ہے۔ تلک یہ ھذہ کے معنی میں ہے یعنی یہ سورت قرآن کی آیات اور کتاب مبین کی آیات اور کتاب مبین کی آیات ہیں۔ لفظ قرآن معرفہ ذکر کیا اور کتاب مبین نکرہ کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا دونوں معرفہ کے حکم میں ہیں : جس طرح تو کہتا ہے : فلاں الرجل عاقل و فلاں الرجل العاقل۔ کتاب سے مراد قرآن ہے اس کی دو صفتیں جمع کی گئیں یعنی یہ قرآن ہے اور یہ کتاب ہے کیونکہ یہ کتابت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے اور قرأت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ سورة بقرہ میں ان کا اشتقاق گزر چکا ہ۔ سورة حجر میں فرمایا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ ابن ابی حاتم نے ابنم عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ قرآن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اللہ تعالیٰ کی اس آیت ” ان الذین لا یؤمنون بالاخرۃ “ سے یہی مراد ہے کہ وہ آخرت کا اقرار نہیں کرتے اور نہ ہی اس پر ایمان لاتے ہیں آیت ” فہم یعمہون “ یعنی وہ سرگرداں ہیں) اسی گمراہی میں آیت ” وانک لتلقی القراٰن “ یعنی آپ لے رہے ہیں قرآن کو ” حکیم علیم “ یعنی بڑے حکمت والے علم والے کی طرف سے۔
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] يُقِيْمُوْنَ [ قائم کرتے ہیں ] الصَّلٰوةَ [ نماز کو ] وَيُؤْتُوْنَ [ اور پہنچاتے ہیں ]
الزَّكٰوةَ [ زکوٰۃ کو ] وَهُمْ [ اور وہ ] بِالْاٰخِرَةِ [ آخرت پر ] هُمْ [ وہ ہی ] يُوْقِنُوْنَ [ یقین رکھتے ہیں ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 3 ۔ میں اقامت صلوٰۃ اور ایتائے زکوٰۃ کا ذکر اہل ایمان کی جامع صفت کی حیثیت سے ہوا ہے۔ ان دونوں چیزوں کی حیثیت دین میں تمام نیکیوں کے شیرازے کی ہے، خواہ وہ حقوق اللہ سے تعلق رکھنے والی ہوں یا حقوق العباد سے۔ ان کا ذکر ہوگیا تو گویا سب کا ذکر ہوگیا۔ (تدبر القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
پھر آیات قرآنیہ کو اہل ایمان کے لیے ہدایت اور بشارت بتایا۔ اور اہل ایمان کی صفات بتائیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ نماز بدنی عبادت ہے اور زکوٰۃ مالی عبادت ہے اور یہ دونوں اسلام کے ارکان میں سے ہیں۔ ان کی ادائیگی پابندی سے کی جائے تو ایمان کے دوسرے تقاضوں پر بھی عمل ہوتا رہتا ہے۔ اور آخرت کا یقین ہر نیکی پر آمادہ کرنے اور ہر گناہ چھڑانے پر ابھارتا رہتا ہے اسی کو آیت کے ختم پر (وَ ھُمْ بالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ ) میں بیان فرمایا۔
مومنین کی صفات بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ آیات قرآنیہ اہل ایمان کے لیے بشارت اور ہدایت ہیں قرآن تو سبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
2:۔ یہ تمہید اور ترغیب الی القرآن ہے۔ ” کتاب مبین “ سے مراد قرآن ہے از قبیل عطف صفت علی الصفۃ کیونکہ القرآن اور کتاب مبین دونوں ایک ہی چیز کی صفتیں ہیں۔ والمراد بہ القران و عطفہ علیہ مع اتحادہ معہ فی الصدق کعطف احدی الصفتین علی الاخری کما فی قولھم ھذا فعل السخی والجواد الکریم (روح ج 19 ص 155) ، ” کتاب مبین “ سے جنس کتاب مراد ہے جو تمام کتب سابقہ کو شامل ہے اس صورت میں ” ایت القران “ سے اس طرف اشارہ ہوگا کہ اس سورت میں بعض مضامین ایسے مذکور ہیں جو کتب سابقہ میں نہیں تھے جیسا کہ ” ان ھذا القران یقص علی بنی اسرائیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون “ سے معلوم ہوتا ہے۔ اور ” کتاب مبین “ سے ان مضامین کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة النمل ہے عربی زبان میں نمل چیونٹی کو کہتے ہیں ۔ اس سورة کے دوسرے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے وادی نمل سے گزرنے اور وہاں پر دلائل توحید کے طور پر ایک واقعہ پیش آنے کا ذکر کیا ہے اسی نسبت سے اس سورة کو سورة النمل کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ، گزشتہ سورة الشعراء اور اس سورة کا زمانہ نزول قریب قریب ہی ہے ۔ دونوں سورتیں مکی دور کے وسط یا آخری حصہ میں نازل ہوئیں ۔ سورة ہذا کی ترانوے آیتیں ہیں اور یہ سات رکوع 9411 الفاظ اور 7674 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
اس سورة میں بھی دیگر مکی سورتوں کی طرح چار اہم اور…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَہُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ يُوْقِنُوْنَ 3
اقامت
والْإِقَامَةُ في المکان : الثبات . وإِقَامَةُ الشیء : توفية حقّه، وقال : قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] أي : توفّون حقوقهما بالعلم والعمل، وکذلک قوله : وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] ولم يأمر تعالیٰ بالصلاة حيثما أمر، ولا مدح بها حيثما مدح إلّا بلفظ الإقامة، تنبيها أنّ المقصود منها توفية شرائطها لا الإتيان بهيئاتها، نحو : أَقِيمُوا الصَّلاةَ [ البقرة/ 43] ، في غير موضع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب : و کتاب معطوف ہے قرآن مجرورمضاف الیہ پر ھدی و بشری دونوں محل حال میں ہیں آیات یا کتاب سے اور مبتدا محذوف کی خبر بھی ہوسکتے ہیں الذین یقیمون صفت ہے المؤمنین کی وھم بالآخرۃ الخ تتمہ صلہ کا ہے و حال یا عطف کی صورت میں جملہ فعلیہ سے اسمیہ کی طرف تغیر کرنا ان کے ثبات اور ایمان پر استمرار ثابت کرنے کے لیے ہے۔
تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے اس میں بھی توحید اور اثبات نبوت کے مباحث اور چند انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرے ہیں اور ان پر جو کچھ انعامات ہوئے وہ بھی بیان ہوئے ہیں جو ان کی خدا پرستی کا نتیجہ تھا۔ فرماتا ہے طس ان دو حرفوں سے کسی خاص بات کی طرف اشارہ ہے جس کو وہی خوب جانتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ ۔ (النمل : 2، 3)
(یہ ہدایت و بشارت ہے ان ایمان لانے والوں کے لیے۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہی ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں)
کتاب کی دو خصوصیات ہدایت، بشارت
اس کتاب کی دو خصوصیات کو ذکر کیا گیا۔ ایک یہ کہ وہ ہدایت ہے اور دوسرا یہ کہ وہ بشارت ہے۔ اس میں جو بات سب سے پہلے ہماری توجہ اپنی طرف مبذول کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب کا کام ہدایت دینا اور بشارت دینا ہے۔ اس لحاظ سے اسے مصدر کی بجائے اسم فاعل کی صورت میں لانا چاہیے تھا لیکن یہاں دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
فہم القرآن
ربط کلام : یقین اور ایمان سے محروم لوگوں کی دنیا میں سزا اور آخرت میں انتہا درجہ کا نقصان۔
جو لوگ ایمان وایقان کی دولت سے محروم ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کے حوالہ کردیتا ہے۔ وہ اپنے گناہوں میں سرگرداں رہتے ہیں۔ انسان جب گمراہی کے آخری درجہ میں پہنچجاتا ہے تو پھر وہ گناہ کو گناہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے تہذیب و تمدن، معاشرتی روایات، فیشن اور ترقی کا زینہ سمجھتا ہے۔ ایسے شخص کا دل پریشانیوں کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ دل کے سکون کے لیے کبھی نشہ کرتا ہے اور کبھی مزید عیاشی کا سامان ڈھونڈتا ہے۔ لیکن دل میں اطمینان اور سکون پیدا ہونے کی بجائے مزید پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں۔ ان لوگوں کے…
Read the full tafseer →تکرارِ ضمیر کا فائدہ :
3: الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ (ـجو نماز قائم کرتے ہیں) اس کے فرائض و سنن پر مداومت اختیار کرنے والے ہیں۔ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ (اور وہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں) اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ وَہُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ (اور وہی آخرت پر پورا پورا ایمان رکھتے ہیں) ۔ یہ نمبر 1۔ الذین کے صلات میں سے صلہ ہے۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے پہلے صلہ پورا ہوجائے اور یہ نمبر 2۔ جملہ معترضہ ہو۔ گویا اس طرح فرمایا۔ ہؤلاء الذین یؤمنون ویعملون الصالحات من اقامۃ الصلاۃ وایتاء الزکاۃ ہم الموقنون بالآخرۃ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ کئے جیسے اقامت…
Read the full tafseer →3۔ الذین یقیمون الصلوۃ اور وہ نماز اپنے تمام ارکان و شرائط کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ ویوتون الزکوۃ اور مال میں سے جو کچھ ان پر واجب ہے وہ ادا کرتے ہیں وھم بالاخرۃ ھم یوقنون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة النمل : (1 تا 4) سورتوں کے شروع میں جو حرف مقطعات ان کا حال مفصل طور سے سورة بقرہ کے شروع میں بیان ہوچکا ہے لفظ تلک سے یہ سورت اور تمام قرآن کی آیتیں مقصود ہیں اور مبین کے معنی واضح اور ظاہر کے ہیں اور دوسری آیت کا یہ مطلب ہے کہ قرآن شریف سے اسی کو ہدایت اور بشارت ہوتی ہے جس نے قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا یقین کیا اور اس پر ایمان لایا اور جو احکام اس میں ہے ان پر عمل کیا فرض نماز پڑھے زکوٰۃ دے اور آخرت کو سچا جاننا کہ مرنے کے بعد زندہ ہونا ہے اور نیکی بدی پر جزا و سزا ضرور ملے گی اور جنت اور دوزخ حق ہیں جیسا کہ سورة حم السجدہ میں فرمایا قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ آمَنُوْا ھَدْیً وَّشَفَآئٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تفسیر سورة النمل
آیت 1 سے 6
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چناچہ فرمایا : (تلک ایت القران وکتائب مبین) ” یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں۔ “ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہیں۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لئے ایسے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
3 ایمان بالآخرت کی خاص اہمیت : سو آخرت پر ایمان و یقین کو بطور خاص ذکر فرمانے سے اس کی عظمت و اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اس کا اجمالی ذکر اس سے پہلے مطلق ایمان کے ضمن میں آچکا ہے کہ عقیدہ آخرت ہی دراصل وہ اہم اور بنیادی نقطہ ہے جس پر انسان کے بناؤ بگاڑ کا مدارو انحصار ہے۔ کہ اسی ایمان و یقین سے اس کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے اور وہ غور و فکر سے کام لیتا ہے۔ ورنہ اس سے محرومی کی صورت میں انسان لایعنی اور غیرذمہ دار انسان بلکہ محض ایک حیوان بن کر رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ لوگ چاہے اس کتاب حکیم کی قدر کریں یا نہ کریں حق اور حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
قرآن مجید کے اوصاف، ایمانداروں اور کفار کا تذکرہ
تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کئی مرتبہ قرآن پاک کی صفات بیان کی جا چکی ہیں۔ بہرحال اسلام کی یہ مقدس کتاب قرآن مجید تمام آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ ممتاز اور بہترین ہے۔ کیونکہ یہ تاقیامت پوری کائنات اور مخلوقات کے لیے مکمل آئین ہے۔ اس کے ذریعہ ہم ماضی حال اور مستقبل کو بڑی آسانی سے دیکھ سکتے ہیں اور پھر یہ سائنسی حقائق کا سرچشمہ بھی ہے۔ مسلم سائنس دانوں نے جس قدر ایجادات کی ہیں جو کہ بیشمار ہیں سب کی بنیاد قرآن پاک کی مختلف آیات ہی پر ہے۔ سائنس کی بنیاد سچ ہے اور قرآن پاک پورے کا پورا سچ ہے۔ اس کی ہر آیت اتنی جامع اور آسان ہے کہ بدو ہو یا عالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة نمل
رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 14 ۔ اسرار و معارف :
طس۔ یہ قرآن کی آیات ہیں جو ایک کھلی کتاب ہے یعنی جو حقائق کو واضح کرکے بیان کرتی ہے اور باعث ہدایت بھی ہے اور نوید کامرانی بھی ان لوگوں کے لیے جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے یقین کی دلیل یہ ہے کہ عملاً اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور عبادات کے ادا کرنے میں پوری کوشش کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی کردار میں بھی اور معیشت میں بھی اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور یہ سب کسی دنیاوی فادے یا لالچ میں نہیں کرتے بلکہ انہیں آخرت اور روز جزا پر یقین کامل ہے لہذا اس روز کی کامیابی کے خواہشمند ہیں۔ اور ایسے لوگ جو آخرت پر یقین نہیں کرتے ان کو سزا کے طور پر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
5 ۔ یعنی ہم نے ان کے کفر کی یہ سزا دی یا ان کے کفر کا یہ نتیجہ نکلا کہ وہ دنیا ہی میں مگن ہوگئے اور اسی کو اپنی تمام کوششوں کا مرکز سمجھنے لگے۔ گویا آخرت پر عدم ایمان کی یہ سزا ملتی ہے کہ انسان اپنے برے کاموں کو بھی اچھا سمجھنے لگتا ہے۔
Read the full tafseer →(27:3) الذین یقیمون الصلوۃ ویؤتون الزکوۃ۔ مؤمنین کی صفت ہے۔
وھم بالاخرۃ ہم یوقنون ۔ یا اس جملہ کا عطف جملہ اول پر ہے ۔ اس صورت میں یہ مؤمنین کی تیسری صفت (اقام الصلوٰۃ وایتاء الزکوۃ کے علاوہ) ہوگی۔ یا یہ ضمیر موصول سے حال ہے۔
یوقنون۔ مضارع جمع مذکر غائب ہے ایقان (افعال) مصدر۔ وہ یقین کرتے ہیں۔ یقین مادہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 :
بشری (خوش خبری۔ اچھی اطلاع) ‘ یئو تون (وہ دیتے ہیں) ‘ زینا (ہم نے خوبصورت بنادیا) ‘ یعمھون (وہ اندھے بن رہے ہیں) ‘ الا خسرون (زیادہ نقصان اٹھانے والے) ‘ تلقی (دیا گیا ہے) ‘ لدن (قریب ۔ نزدیک) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 :
٭اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا فرمائے تھے جو راہ حق سے بھٹک جانے والوں کو کھلی آنکھوں سے نظر آتے تھے مگر سچائیوں کا انکار کرنے والوں نے ان کا بھی انکار کردیا اور اللہ کے غضب کا شکار ہوگئے۔ ان ہی انبیاء کرام میں سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھی تھے جن کو اللہ نے نہ صرف انسانوں اور جنات پر حکومت عطا فرمائی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
(ف 1) فرمایا کہ یہ آیتیں جو اس سورت میں ہیں قرآن اور کتاب روشن کی آیات ہیں کسی شاعر کا کلام نہیں کتاب مبین سے مراد یہی قرآن ہے مگر کتاب مبین کہنے سے یہ بات بتلانی مقصود ہے کہ قرآن مجید میں کوئی بات بعید ازعقل نہیں سب باتیں اس کی صاف اور ظاہر ہیں جن کو ہر ایک صاحب عقل سلیم تسلیم کرنے میں ذرا بھی تردد نہیں کرسکتا مگر وہی کہ جس کے دل کی آنکھیں روش نہیں اور جو کو رباطن ہے یہ کتاب ہدایت اور بشارت ہے ان لوگوں کو جو اس پر ایمان لاکر اس پر عمل کرتے ہیں اس سے نفع یاب وہی ہوتے ہیں جن میں ہدایت کا مادہ ہے پھر آگے یہ بھی کھول دیا کہ زبان سے مومن کہنا کافی نہیں جب تک کہ اس میں یہ اوصاف نہ پائے جائیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
[1] یعنی اس کتاب کی آیتیں ہیں جو اپنی تعلیمات اور اپنے احکام و ہدایات کو بالکل واضح طریقے سے بیان کرتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ف 1: ان آیات سے سورة نمل کا آغاز ہوتا ہے ۔ طٰسۤ حروف مقطعات میں سے ہے تفصیل آلمۤ کی بحث میں گزرچکی ۔
سورۃ کا آغاز قرآن کے تعارف سے ہوتا ہے ۔ ارشاد ہے کہ یہ قرآن اور کتاب مبین کی آئتیں ہیں قرآن کے معنے اس کتاب کے ہیں جس کی کثرت سے قرات اور تلاوت ہو ۔ یہ مصدر بمعنی مفعول ہے ۔
غور فرمائیے ۔ انجیل کی اشاعت آج دنیا میں سب کتابوں سے زیادہ ہے ۔ دنیا کے ہر گوشے میں مشینری موجود ہیں اور ہر وہ زبان اور ہر قوم میں اس کو سرعت سے پھیلا رہے ہیں ۔ مگر وہ کتاب جس کی دن رات تلاوت ہوتی ہے ۔ صرف قرآن ہے کتاب مبین سے غرض یہ ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے ۔
جس میں تمام ضروریات انسانی کو کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے اس…
Read the full tafseer →(3) وہ ایمان والے ایسے ہیں جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوۃ دیا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں یعنی پچھلے دن پر جس کو قیامت کہتے ہیں ان کا یقین اور ایمان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ف 6۔ یعنی اسمیں دو صفتیں ہیں، قرآن ہونا اور کتاب مبین ہونا۔
Read the full tafseer →مومن کون لوگ ہیں ؟ ان آیات نے اس کو پوری وضاحت بیان کردی :
3۔ وہ مومن کون ہیں جن کے لئے یہ کتاب ہدایت اور خوشخبری ثابت ہوتی ہے ؟ فرمایا وہ لوگ ہیں جو نمازیں قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر مکمل یقین رکھتے ہیں ۔ یہ بات قبل ازیں عرض کی جا چکی ہے کہ قرآن کریم نے ہر جگہ صلوۃ قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور قیام صلوۃ کے متعلق مختصر طور پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ عقائد سے آگے بڑھ کر اعمال کو عقائد کے مطابق ڈھالنے اور انجام دینے نام ہے گویا نماز خلاصہ ہے باطات بدنی کا اور زکوۃ خلاصہ ہے طاعات مال کا اور پھر طاعات بدنی ہوں یا طاعات مالی انکی درستگی اسی وقت ہو سکتی ہے جب آخر پر پختہ یقین ہو…
Read the full tafseer →3 That is, "These verses of the Qur'an give guidance and convey the good news of a good end only to those people who possess these two qualities: (1) They should affirm faith, that is, accept the invitation of the Qur'an and the Holy Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings), believe In one God as their only Deity and Lord, accept the Qur'an' as the Book of AIlah, acknowledge the Holy Prophet as a true Prophet and their Leader, and also adopt the belief that after this life there is another life, in which man has to render his full account of deeds and be rewarded or…
Read the full tafseer →