An-Naml 27:2

An-Naml · from ayah 2

27:2

هُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۟ۙهُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَۙ

مومنوں کے لئے ہدایت اور بشارت

— Fateh Muhammad Jalandhari

As guidance and good tidings for the believers

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:2

ہدایت اور بشارت اُن ایمان لانے والوں کے لیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مومنوں کے لئے ہدایت اور بشارت

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہدایت اور خوشخبری ایمان والوں کے لیے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ ان مومنوں کے لیے سراپا ہدایت اور خوشخبری بن کر آئی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہدایت اور خوشخبری ایمان والوں کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(جو) ہدایت ہے اور (ایسے) ایمان والوں کے لئے خوشخبری ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو ان ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور بشارت ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ ہدایت و بشارت ہے ان ایمان لانے والوں کے لئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ایک ایسی کتاب کی جو سراسر ہدایت اور عظیم الشان خوشخبری ہے ان ایمان والوں کے لیے

— مولانا اسحاق مدنی

(موجب) ہدایت وبشارت ایمان والوں کے لئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ ہدایت اور بشارت ہے اہل ایمان کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

a guidance and good tidings for the believers

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

a guidance and good news to the believers

— Muhammad Taqi Usmani

a guidance and good news to the believers

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

A guide and glad tidings for the believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A guidance and good tidings for believers

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

As guidance and good tidings for the believers

— Saheeh International

They are glad news and guidance for the believers

— Muhammad Sarwar

A guidance and good news for the believers,

— Muhammad Habib Shakir

A guidance and glad tidings unto the believers.

— Abdul Majid Daryabadi

A guide: and glad tidings for the believers,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورة بقرہ کے شروع میں ہم کرچکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اسکی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لئے ہدایت و بشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ بھی، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چناچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لئے تو یہ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 2 یعنی یہ آیات ہدایت اور بشارت ہیں، " ہدایت کرنے والی " اور " بشارت دینے والی " کہنے کے بجائے انہیں بجائے خود " ہدایت " اور " بشارت " کہا گیا جس سے رہنمائی اور بشارت کے وصف میں ان کے کمال کا اظہار مقصود ہے، جیسے کسی کو آپ سخی کہنے کے بجائے مجسم سخاوت اور حسین کہنے کے بجائے ازسرتاپا حسن کہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

خلاصہ تفسیر طس (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ (آیتیں جو آپ پر نازل کی جاتی ہیں) آیتیں ہیں قرآن کی اور ایک واضح کتاب کی (یعنی اس میں دو صفتیں ہیں قرآن ہونا اور کتاب مبین ہونا) یہ (آیتیں) ایمان والوں کے لئے (موجب) ہدایت اور (اس ہدایت پر جزائے نیک کا) مژدہ سنانے والی ہیں جو (مسلمان) ایسے ہیں کہ (عملاً بھی ہدایت پر چلتے ہیں چنانچہ) نماز کی پابندی کرتے ہیں (جو کہ عبادات بدنیہ میں سب سے بڑی ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں (جو کہ عبادات مالیہ میں سب سے بڑی ہے) اور (عقیدہ کے لحاظ سے بھی ہدایت یافتہ ہیں چنانچہ) وہ آخرت پر پورا یقین رکھتے ہیں (یہ تو ایمان والوں کی صفت ہے اور) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قرآن ہدایت و بشارت یعنی اس کے مخالفین اس کی قدر کریں یا نہ کریں لیکن یہ کتاب ان لوگوں کے لئے ہدایت و بشارت بن کر نازل ہوئی ہے جو اس پر ایمان لائے ہیں ان کو یہ زندگی کی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی بھی کر رہی ہے اور دنیا اور آخرت دونوں میں فوز و فلاح کی بشارت بھی دے رہی ہے۔ اقامت صلوۃ اور ایتائے زکواۃ کا ذکر یہاں ان اہل ایمان کی جامع صفت کی حیثیت سے ہوا ہے۔ ہم دوسرے مقام میں ذکر کرچکے ہیں کہ ان دونوں چیزوں کی حیثیت دین میں تمام نیکیوں کے شیرازے کی ہے۔ خواہ وہ حقوق اللہ سے تعلق رکھنے والی ہوں یا حقوق العباد سے انکا ذکر ہوگیا تو گویا سب کا ذکر ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

نَمْل، چیو نٹی کو کہتے ہیں۔ اس سورت میں چیونٹیوں کا ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس کو سورة نمل کہا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–4

1: یعنی ان کی ضد کی وجہ سے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنے سارے برے اعمال کو اچھا سمجھتے ہیں، اور ہدایت کی طرف نہیں آتے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ھدی و بشریٰ للمئومنین (2) یہ اسلوب اس سے زیادہ بلیغ ہے اگر کہا جاتا ” اس میں ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت و بشارت ہے۔ “ قرآن جو اسلوب اختیار کیا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کتاب کا مواد ہی بذات خود ہدایت و بشارت ہے۔ اس طرح قرآن کریم اہل ایمان کو ان کی زندگی کے ہر نشیب و فراز میں ہدایت دیتا ہے۔ ہر پہلو سے ہدایت ہے اور انسان کی دنیاوی اور اخروی دونوں زندگیوں کے لئے یہ کتاب بشارت اور خوشخبری ہے۔ یہ کتاب صرف مومنین کے لئے ہدایت اور بشارت ہے ؟ اس فقرے میں اللہ نے ایک عظیم اور گہری حقیقت کو سمو دیا ہے۔ یہ قرآن کوئی نظریاتی اور فلسفیانہ کتاب نہیں ہے کہ جو بھی اسے پڑھے اور اس کے مضامین کا انطباق کرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–4

3 یعنی جن کو انجام کی کوئی فکر اور مستقبل کا خیال نہ ہو، وہ اسی دنیائے فانی کی فکر میں ڈوبے رہتے ہیں۔ ان کی تمام کوشش کا مرکز یہ ہی چند روزہ زندگی ہے جو کتاب یا پیغمبر ادھر سے ہٹا کر عاقبت کی طرف توجہ دلائے، اس پر کیوں کان دھرنے لگے۔ وہ دنیا کے عشق میں غرق ہو کر ہادیوں پر آوازیں کستے ہیں۔ آسمان صحیفوں کو مرد طعن بناتے ہیں۔ پیغمبروں کے ساتھ ٹھٹھا کرتے ہیں۔ اور یہ ہی کام ہیں، جن کو اپنے نزدیک بہت اچھا سمجھ کر برابر گمراہی میں ترقی کرتے جاتے ہیں۔ (تنبیہ) تزیین کی نسبت حق تعالیٰ کی طرف اس حیثیت سے کی کہ خالق ہر چیز کا وہ ہی ہے کسی سبب پر مسبب کا ترتب بدون اس کی مشیت و ارادہ کے نہیں ہوسکتا۔ جیسا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

آیت 1 طٰسۗ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ وَكِتَابٍ مُّبِيْنٍ اگر ”و“ کو واؤ تفسیری مانا جائے تو پھر ترجمہ ہوگا : ”یہ قرآن یعنی کتاب مبین کی آیات ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی صفات بیان کرتے ہو وے ہدایت دینے والی یا بشارت دینے والی کے بجائے صرف ہدایت اور بشارت فرمایا۔ گویا یہ کتاب مجسم ہدایت اور مجسم بشارت ہے۔ اور ان الفاظ کے استعمال میں بلاغت بھی ہے اور فضاحت بھی۔ البتہ یہ کتاب ہدایت اور بشارت صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ سمجھتے ہیں اور اللہ پر ایمان بالغیب رکھتے ہیں۔ اور جو سرے سے اسے اللہ کی طرف نازل شدہ نہ سمجھیں۔ ان کے لئے نہ یہ ہدایت بن سکتی ہے اور نہ بشارت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ گویا آیتوں سے متعلق یہاں چار باتیں بیان ہوئیں۔ ایک یہ کہ یہ آیتیں جس کتاب کی ہیں وہ قرآن ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ کتاب روشن وواضح ہے، تیسرے اور چوتھے یہ کہ آیات انہیں اہل ایمان کیلیے سبب ہدایت بھی ہیں اور ذریعہ بشارت بھی (آیت) ” تلک “۔ کا اشارۂ بعید قرآن کے شرف ومنزلت کے اظہار کے لیے ہے۔ لاداۃ البعد للاشارۃ بعید لمنزلۃ فی الفضل والشرف (روح) (آیت) ” کتاب “۔ کتاب کی تنوین وتنکیر اظہار عظمت کے لیے ہے۔ (آیت) ” وتنوینہ للتفخیم “ (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–14

آیت نمبر 1 تا 14 ترجمہ : طس اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب مبین کی یعنی حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی، زیادتی صفت کے ساتھ (القرآن) پر عطف ہے، وہ ہدایت ہے یعنی گمراہی سے ہدایت کرنے والی ہے اور مومنین یعنی اس کی تصدیق کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری ہے، وہ (مومن) جو نماز قائم کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کے طریقہ کے مطابق ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں (یعنی) دلیل کے ساتھ اس پر یقین رکھتے ہیں، اور (ھم) مبتداء اور اس کی خبر (یوقنون) کے درمیان (بالآخرۃ) کے فصل کی وجہ سے ھم کا اعادہ کیا گیا ہے جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھدی وبشری للمومنین . یہ مجسم ہدایت بھی ہے اور مومنوں کیلئے (خاص 1 ؂ طور پر) بشارت بھی ہے۔ یعنی سب لوگوں کے لئے یہ راہنما ہے اگر کوئی ہدایت یاب نہیں ہوتا تو اس کی بتائی اور دکھائی ہوئی راہ پر چلنے کی وجہ سے اور (جو لوگ اس کی بتائی ہوئی راہ پر چلتے ہیں یعنی) مؤمنوں کے لئے (خصوصیت کے ساتھ) بشارت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) طس، طاء سے طول اور سین سے خوبصورتی ونزاکت مراد ہے یا یہ کہ ایک قسم ہے یہ سورت قرآن کریم اور ایک ایسی کتاب کی آیتیں ہیں جو کہ حلال و حرام کو واضح کرنے والی ہیں یہ آیتیں ہیں ایمان والوں کے لیے گمراہی سے ہدایت کے لیے اور جنت کی خوشخبری سنانے والی ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 2–3

هُدًى وَّبُشْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ۔۔ : ان آیات کی تفسیر کے لیے سورة بقرہ کی ابتدائی آیات (2 تا 4) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–6

(طس، تلک ایت القرآن۔۔۔۔۔۔۔۔ ) طس تلک ایت القرآن و کتاب مبین سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں حروف مقطعات کے بارے میں گفتگوپہلے گزر چکی ہے۔ تلک یہ ھذہ کے معنی میں ہے یعنی یہ سورت قرآن کی آیات اور کتاب مبین کی آیات اور کتاب مبین کی آیات ہیں۔ لفظ قرآن معرفہ ذکر کیا اور کتاب مبین نکرہ کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا دونوں معرفہ کے حکم میں ہیں : جس طرح تو کہتا ہے : فلاں الرجل عاقل و فلاں الرجل العاقل۔ کتاب سے مراد قرآن ہے اس کی دو صفتیں جمع کی گئیں یعنی یہ قرآن ہے اور یہ کتاب ہے کیونکہ یہ کتابت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے اور قرأت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ سورة بقرہ میں ان کا اشتقاق گزر چکا ہ۔ سورة حجر میں فرمایا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–6

1۔ ابن ابی حاتم نے ابنم عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ قرآن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اللہ تعالیٰ کی اس آیت ” ان الذین لا یؤمنون بالاخرۃ “ سے یہی مراد ہے کہ وہ آخرت کا اقرار نہیں کرتے اور نہ ہی اس پر ایمان لاتے ہیں آیت ” فہم یعمہون “ یعنی وہ سرگرداں ہیں) اسی گمراہی میں آیت ” وانک لتلقی القراٰن “ یعنی آپ لے رہے ہیں قرآن کو ” حکیم علیم “ یعنی بڑے حکمت والے علم والے کی طرف سے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

هُدًى [ ہدایت ہوتے ہوئے ] وَّبُشْرٰي [ اور بشارت ہوتے ہوئے ] لِلْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں کیلئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

یہ کتاب مبین کی آیات ہیں جو مومنین کے لیے ہدایت اور بشارت ہیں، کافروں کے لیے ان کے اعمال مزین کردیئے گئے ہیں یہاں سے سورة النمل شروع ہو رہی ہے۔ نمل چیونٹی کو کہتے ہیں اس سورت کے دوسرے رکوع میں ایک قصہ بیان فرمایا ہے جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ ایک مرتبہ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر آ رہا تھا تو ایک چیونٹی نے اپنی ہم جنس چیونٹیوں سے کہا کہ تم لوگ اپنے بلوں میں گھس جاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہارا چورا بنا کر رکھ دیں، اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورة النمل معروف ہوا۔ اول تو یہ فرمایا کہ یہ قرآن کی اور واضح طور پر بیان کرنے والی کتاب کی آیات ہیں کتاب مبین سے بھی قرآن مجید…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔ یہ تمہید اور ترغیب الی القرآن ہے۔ ” کتاب مبین “ سے مراد قرآن ہے از قبیل عطف صفت علی الصفۃ کیونکہ القرآن اور کتاب مبین دونوں ایک ہی چیز کی صفتیں ہیں۔ والمراد بہ القران و عطفہ علیہ مع اتحادہ معہ فی الصدق کعطف احدی الصفتین علی الاخری کما فی قولھم ھذا فعل السخی والجواد الکریم (روح ج 19 ص 155) ، ” کتاب مبین “ سے جنس کتاب مراد ہے جو تمام کتب سابقہ کو شامل ہے اس صورت میں ” ایت القران “ سے اس طرف اشارہ ہوگا کہ اس سورت میں بعض مضامین ایسے مذکور ہیں جو کتب سابقہ میں نہیں تھے جیسا کہ ” ان ھذا القران یقص علی بنی اسرائیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون “ سے معلوم ہوتا ہے۔ اور ” کتاب مبین “ سے ان مضامین کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النمل ہے عربی زبان میں نمل چیونٹی کو کہتے ہیں ۔ اس سورة کے دوسرے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے وادی نمل سے گزرنے اور وہاں پر دلائل توحید کے طور پر ایک واقعہ پیش آنے کا ذکر کیا ہے اسی نسبت سے اس سورة کو سورة النمل کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ، گزشتہ سورة الشعراء اور اس سورة کا زمانہ نزول قریب قریب ہی ہے ۔ دونوں سورتیں مکی دور کے وسط یا آخری حصہ میں نازل ہوئیں ۔ سورة ہذا کی ترانوے آیتیں ہیں اور یہ سات رکوع 9411 الفاظ اور 7674 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة اس سورة میں بھی دیگر مکی سورتوں کی طرح چار اہم اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ہُدًى وَّبُشْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ۝ 2ۙ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب : و کتاب معطوف ہے قرآن مجرورمضاف الیہ پر ھدی و بشری دونوں محل حال میں ہیں آیات یا کتاب سے اور مبتدا محذوف کی خبر بھی ہوسکتے ہیں الذین یقیمون صفت ہے المؤمنین کی وھم بالآخرۃ الخ تتمہ صلہ کا ہے و حال یا عطف کی صورت میں جملہ فعلیہ سے اسمیہ کی طرف تغیر کرنا ان کے ثبات اور ایمان پر استمرار ثابت کرنے کے لیے ہے۔ تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے اس میں بھی توحید اور اثبات نبوت کے مباحث اور چند انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرے ہیں اور ان پر جو کچھ انعامات ہوئے وہ بھی بیان ہوئے ہیں جو ان کی خدا پرستی کا نتیجہ تھا۔ فرماتا ہے طس ان دو حرفوں سے کسی خاص بات کی طرف اشارہ ہے جس کو وہی خوب جانتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 2–3

ھُدًی وَّبُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ ۔ (النمل : 2، 3) (یہ ہدایت و بشارت ہے ان ایمان لانے والوں کے لیے۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہی ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں) کتاب کی دو خصوصیات ہدایت، بشارت اس کتاب کی دو خصوصیات کو ذکر کیا گیا۔ ایک یہ کہ وہ ہدایت ہے اور دوسرا یہ کہ وہ بشارت ہے۔ اس میں جو بات سب سے پہلے ہماری توجہ اپنی طرف مبذول کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب کا کام ہدایت دینا اور بشارت دینا ہے۔ اس لحاظ سے اسے مصدر کی بجائے اسم فاعل کی صورت میں لانا چاہیے تھا لیکن یہاں دونوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط سورة : الشعراء کا اختتام کفار کے الزامات کے جواب پر ہوا ہے اور سورة النمل کا آغاز قرآن مجید کے تعارف سے کیا گیا ہے۔ تاکہ الزام لگانے والوں کو معلوم ہو کہ اس کتاب کو نبی کریم ﷺ نے اپنی طرف سے نہیں بنایا بلکہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔ یہ قرآن مجید کی آیات ہیں جو اپنے الفاظ، انداز اور مدعا کے اعتبار سے واضح ہیں۔ اس کتاب مبین میں نہ کوئی ابہام ہے اور نہ اس کے مضامین اور مسائل میں کوئی الجھاؤ ہے۔ یہ حق اور باطل کے درمیان حدِّ فاصل قائم کرتی ہے۔ بشرطیکہ کوئی انسان ایمان اور ایقان کے ساتھ اس کی تلاوت کرے۔ یہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو میں اس کی رہنمائی کرتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2: ہُدًی وَّبُشْرٰی (وہ ہدایت و بشارت ہے) ۔ آیات سے حال ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہیں۔ مطلب یہ ہوا یہ آیات راہنمائی کرنے والی اور بشارت دینے والی ہیں۔ ان میں عامل وہی ہے جو تلک کا عامل ہے۔ یعنی نمبر 1۔ اشارہ کا معنی۔ نمبر 2۔ مجرور ہے اس طور پر کہ یہ کتاب سے بدل ہے۔ نمبر 3۔ کتاب کی صفت ہونے کی بناء پر مجرور ہے۔ نمبر 4۔ مرفوع ہیں ان کا مبتدأ محذوف ہے ہدًی و بشری۔ نمبر 5۔ آیات کا بدل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ نمبر 6۔ تلک کی دوسری خبر ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے تلک آیات وہادیۃ من الضلالۃ و مبشرۃ بالجنۃ۔ وہ آیات ہیں اور وہ گمراہی سے ہدایت بخشنے والی اور جنت کی خوشخبری والی ہیں۔ ایک قول : ہدی لجمیع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2۔ ھدی وبشری للمومنین، گمراہی سے ہدایت پانے والے اور مومنین مصدقین کے لیے جنت کی بشارت ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

سورة النمل : (1 تا 4) سورتوں کے شروع میں جو حرف مقطعات ان کا حال مفصل طور سے سورة بقرہ کے شروع میں بیان ہوچکا ہے لفظ تلک سے یہ سورت اور تمام قرآن کی آیتیں مقصود ہیں اور مبین کے معنی واضح اور ظاہر کے ہیں اور دوسری آیت کا یہ مطلب ہے کہ قرآن شریف سے اسی کو ہدایت اور بشارت ہوتی ہے جس نے قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا یقین کیا اور اس پر ایمان لایا اور جو احکام اس میں ہے ان پر عمل کیا فرض نماز پڑھے زکوٰۃ دے اور آخرت کو سچا جاننا کہ مرنے کے بعد زندہ ہونا ہے اور نیکی بدی پر جزا و سزا ضرور ملے گی اور جنت اور دوزخ حق ہیں جیسا کہ سورة حم السجدہ میں فرمایا قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ آمَنُوْا ھَدْیً وَّشَفَآئٌ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–6

تفسیر سورة النمل آیت 1 سے 6 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چناچہ فرمایا : (تلک ایت القران وکتائب مبین) ” یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں۔ “ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہیں۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لئے ایسے ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–3

3 ایمان بالآخرت کی خاص اہمیت : سو آخرت پر ایمان و یقین کو بطور خاص ذکر فرمانے سے اس کی عظمت و اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اس کا اجمالی ذکر اس سے پہلے مطلق ایمان کے ضمن میں آچکا ہے کہ عقیدہ آخرت ہی دراصل وہ اہم اور بنیادی نقطہ ہے جس پر انسان کے بناؤ بگاڑ کا مدارو انحصار ہے۔ کہ اسی ایمان و یقین سے اس کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے اور وہ غور و فکر سے کام لیتا ہے۔ ورنہ اس سے محرومی کی صورت میں انسان لایعنی اور غیرذمہ دار انسان بلکہ محض ایک حیوان بن کر رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ لوگ چاہے اس کتاب حکیم کی قدر کریں یا نہ کریں حق اور حقیقت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

قرآن مجید کے اوصاف، ایمانداروں اور کفار کا تذکرہ تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کئی مرتبہ قرآن پاک کی صفات بیان کی جا چکی ہیں۔ بہرحال اسلام کی یہ مقدس کتاب قرآن مجید تمام آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ ممتاز اور بہترین ہے۔ کیونکہ یہ تاقیامت پوری کائنات اور مخلوقات کے لیے مکمل آئین ہے۔ اس کے ذریعہ ہم ماضی حال اور مستقبل کو بڑی آسانی سے دیکھ سکتے ہیں اور پھر یہ سائنسی حقائق کا سرچشمہ بھی ہے۔ مسلم سائنس دانوں نے جس قدر ایجادات کی ہیں جو کہ بیشمار ہیں سب کی بنیاد قرآن پاک کی مختلف آیات ہی پر ہے۔ سائنس کی بنیاد سچ ہے اور قرآن پاک پورے کا پورا سچ ہے۔ اس کی ہر آیت اتنی جامع اور آسان ہے کہ بدو ہو یا عالم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–14

سورة نمل رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 14 ۔ اسرار و معارف : طس۔ یہ قرآن کی آیات ہیں جو ایک کھلی کتاب ہے یعنی جو حقائق کو واضح کرکے بیان کرتی ہے اور باعث ہدایت بھی ہے اور نوید کامرانی بھی ان لوگوں کے لیے جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے یقین کی دلیل یہ ہے کہ عملاً اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور عبادات کے ادا کرنے میں پوری کوشش کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی کردار میں بھی اور معیشت میں بھی اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور یہ سب کسی دنیاوی فادے یا لالچ میں نہیں کرتے بلکہ انہیں آخرت اور روز جزا پر یقین کامل ہے لہذا اس روز کی کامیابی کے خواہشمند ہیں۔ اور ایسے لوگ جو آخرت پر یقین نہیں کرتے ان کو سزا کے طور پر ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–4

5 ۔ یعنی ہم نے ان کے کفر کی یہ سزا دی یا ان کے کفر کا یہ نتیجہ نکلا کہ وہ دنیا ہی میں مگن ہوگئے اور اسی کو اپنی تمام کوششوں کا مرکز سمجھنے لگے۔ گویا آخرت پر عدم ایمان کی یہ سزا ملتی ہے کہ انسان اپنے برے کاموں کو بھی اچھا سمجھنے لگتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:2) ھدی وبشری۔ آیت کا حال ہے۔ للمؤمنین : اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) اس کا تعلق ہر دو ھدی و بشری سے ہے یعنی مومن لوگ ہی ہدایت یاب ہوتے ہیں اور بشارت کے بھی وہی مستحق ہیں۔ (2) اس کا تعلق صرف بشری سے ہے یعنی ہدایت کا پیغام تو اس میں ہر ایک کے لئے یکساں ہے خواہ مومن ہو یا کافر ۔ لیکن بشارت صرف اسی کے لئے ہے جس نے ہدایت پائی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : بشری (خوش خبری۔ اچھی اطلاع) ‘ یئو تون (وہ دیتے ہیں) ‘ زینا (ہم نے خوبصورت بنادیا) ‘ یعمھون (وہ اندھے بن رہے ہیں) ‘ الا خسرون (زیادہ نقصان اٹھانے والے) ‘ تلقی (دیا گیا ہے) ‘ لدن (قریب ۔ نزدیک) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 : ٭اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا فرمائے تھے جو راہ حق سے بھٹک جانے والوں کو کھلی آنکھوں سے نظر آتے تھے مگر سچائیوں کا انکار کرنے والوں نے ان کا بھی انکار کردیا اور اللہ کے غضب کا شکار ہوگئے۔ ان ہی انبیاء کرام میں سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھی تھے جن کو اللہ نے نہ صرف انسانوں اور جنات پر حکومت عطا فرمائی تھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

(ف 1) فرمایا کہ یہ آیتیں جو اس سورت میں ہیں قرآن اور کتاب روشن کی آیات ہیں کسی شاعر کا کلام نہیں کتاب مبین سے مراد یہی قرآن ہے مگر کتاب مبین کہنے سے یہ بات بتلانی مقصود ہے کہ قرآن مجید میں کوئی بات بعید ازعقل نہیں سب باتیں اس کی صاف اور ظاہر ہیں جن کو ہر ایک صاحب عقل سلیم تسلیم کرنے میں ذرا بھی تردد نہیں کرسکتا مگر وہی کہ جس کے دل کی آنکھیں روش نہیں اور جو کو رباطن ہے یہ کتاب ہدایت اور بشارت ہے ان لوگوں کو جو اس پر ایمان لاکر اس پر عمل کرتے ہیں اس سے نفع یاب وہی ہوتے ہیں جن میں ہدایت کا مادہ ہے پھر آگے یہ بھی کھول دیا کہ زبان سے مومن کہنا کافی نہیں جب تک کہ اس میں یہ اوصاف نہ پائے جائیں جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–4

[1] یعنی اس کتاب کی آیتیں ہیں جو اپنی تعلیمات اور اپنے احکام و ہدایات کو بالکل واضح طریقے سے بیان کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–6

ف 1: ان آیات سے سورة نمل کا آغاز ہوتا ہے ۔ طٰسۤ حروف مقطعات میں سے ہے تفصیل آلمۤ کی بحث میں گزرچکی ۔ سورۃ کا آغاز قرآن کے تعارف سے ہوتا ہے ۔ ارشاد ہے کہ یہ قرآن اور کتاب مبین کی آئتیں ہیں قرآن کے معنے اس کتاب کے ہیں جس کی کثرت سے قرات اور تلاوت ہو ۔ یہ مصدر بمعنی مفعول ہے ۔ غور فرمائیے ۔ انجیل کی اشاعت آج دنیا میں سب کتابوں سے زیادہ ہے ۔ دنیا کے ہر گوشے میں مشینری موجود ہیں اور ہر وہ زبان اور ہر قوم میں اس کو سرعت سے پھیلا رہے ہیں ۔ مگر وہ کتاب جس کی دن رات تلاوت ہوتی ہے ۔ صرف قرآن ہے کتاب مبین سے غرض یہ ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے ۔ جس میں تمام ضروریات انسانی کو کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) ایمان والوں کے لئے یہ آیتیں موجب ہدایت اور خو ش خبری و بشارت دینے والی ہیں یعنی جو ہدایت پر عمل کریں ان کے لئے موجب بشارت ہیں۔ یعنی جو ہدایت پر عمل کریں ان کے لئے موجب بشارت دیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان لانے والوں کے لئے اس میں ہدایت اور بشارت ہے : 2۔ جو لوگ ان آیات بینات پر جو اس روشن کتاب میں بیان کی گئی ہیں ایمان لاتے ہیں اور انکے احکام پر عمل پیرا ہوتے ہیں جن باتوں کا ان آیات میں حکم دیا ہے انکو پابندی کے ساتھ بجا لاتے ہیں اور جن باتوں اور کاموں سے انکو روکا گیا ہے ان سے سختی کے ساتھ رک جاتے ہیں بلاشبہ انکے لئے وہ ہدایت دیتی ہے اور ایسے ہدایت یافتہ لوگوں کے لئے ان آیات کریمات میں بشارات بھی دی گئی ہیں کہ وہ اس دنیوی زندگی میں کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی ان کے نیک اعمال کے نتائج سے ان کو وافر حصہ ملے گا اور اس طرح گویا یہ کتاب مبین ان لوگوں کے لئے سراسر ہدایت اور بشارت ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1 Kitab-i-mubin has three meanings: (1) This book presents its teachings and instructions and injunctions plainly; (2) it distinguishes between the Truth and falsehood clearly; and (3) its being a Divine Book is obvious: whoever studies it with open eyes will realize that it has not been composed and forged by the Holy Prophet himself. 2 That is, the verses themselves are a "guidance" and "good news", because they give guidance and convey good news in a most excellent manner.

Read the full tafseer →