An-Naml 27:1

27. An-Namlالنمل

The Ant · Meccan · 93 ayahs · 7 rukus

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

27:1

طٰسٓ ۫— تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَكِتَابٍ مُّبِیْنٍ ۟ۙطٰسٓ‌ ۚ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡقُرۡاٰنِ وَكِتَابٍ مُّبِيۡنٍۙ

ٰطٰسٓ۔ یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Ta, Seen. These are the verses of the Qur'an and a clear Book

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:1

ط س یہ آیات ہیں قرآن اور کتاب مبین کی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ٰطٰسٓ۔ یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

طٰس، یہ آیتیں ہیں قرآن کی (یعنی واضح) اور روشن کتاب کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

طس۔ یہ قرآن کی اور ایک ایسی کتاب کی آیتیں جو حقیقت کھول دینے والی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ آیتیں ہیں قرآن اور روشن کتاب کی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

طا، سین (حقیقی معنی اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)، یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

طٰسۤ، یہ قرآن اور واضح کتاب کی آیات ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ط۔ س یہ قرآن اور وضاحت کرنے والی کتاب کی آیات ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ طس ہے یہ قرآن اور ایک واضح کتاب کی آیات ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

طس، یہ آیتیں ہیں اس عظیم الشان قرآن کی یعنی کھول کر بیان کردینے والی

— مولانا اسحاق مدنی

طا۔ سین۔ یہ آیتیں ہیں قرآن اور ایک واضح کتاب کی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

طٰسۗ یہ قرآن اور کتاب مبین کی آیات ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

طٰسۗ۔ یہ قرآن اور کتاب روشن کی آیتیں ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Ta'. Sin. These are the verses of the Qur'an and a Clear Book;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Ta Sin . These are the verses of the Qur‘an and an enlightening book,

— Muhammad Taqi Usmani

Ta Sin . These are the verses of the Qur‘an and an enlightening book,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Ta Sin. These are the Ayat of the Qur'an, and (it is) a Book (that is) clear.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Ta. Sin. These are revelations of the Qur'an and a Scripture that maketh plain;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Ta, Seen. These are the verses of the Qur'an and a clear Book

— Saheeh International

Ta. Sin. These are the verses of the Quran and of the illustrious Book

— Muhammad Sarwar

Ta Sin! These are the verses of the Quran and the Book that makes (things) clear

— Muhammad Habib Shakir

Ta. Sin. These are the verses of the Qur'an and a Book luminous.

— Abdul Majid Daryabadi

These are verses of the Qur'an,-a book that makes (things) clear;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورة بقرہ کے شروع میں ہم کرچکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اسکی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لئے ہدایت و بشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ بھی، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چناچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لئے تو یہ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 1 کتاب مبین کا ایک مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب اپنی تعلیمات اور اپنے احکام اور ہدایات کو بالکل واضح طریقے سے بیان کرتی ہے، دوسرا یہ کہ وہ حق اور باطل کا فرق نمایاں طریقے سے کھول دیتی ہے، اور ایک تیسرا مطلب یہ بھی ہے کہ اس کا کتاب الہی ہونا ظاہر ہے جو کوئی اسے آنکھیں کھول کر پڑھے گا اس پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ محمد ﷺ کا اپنا گھڑا ہوا کلام نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

خلاصہ تفسیر طس (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ (آیتیں جو آپ پر نازل کی جاتی ہیں) آیتیں ہیں قرآن کی اور ایک واضح کتاب کی (یعنی اس میں دو صفتیں ہیں قرآن ہونا اور کتاب مبین ہونا) یہ (آیتیں) ایمان والوں کے لئے (موجب) ہدایت اور (اس ہدایت پر جزائے نیک کا) مژدہ سنانے والی ہیں جو (مسلمان) ایسے ہیں کہ (عملاً بھی ہدایت پر چلتے ہیں چنانچہ) نماز کی پابندی کرتے ہیں (جو کہ عبادات بدنیہ میں سب سے بڑی ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں (جو کہ عبادات مالیہ میں سب سے بڑی ہے) اور (عقیدہ کے لحاظ سے بھی ہدایت یافتہ ہیں چنانچہ) وہ آخرت پر پورا یقین رکھتے ہیں (یہ تو ایمان والوں کی صفت ہے اور) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیات (1) طس یہ اس سورة کا قرآنی نام ہے۔ قرآن اپنے دعوے پر اور حجت ہے تلک ایت القرآن و کتاب مبین، لفظ قرآن کتاب آسمانی کے لئے معروف ہے اس کے ساتھ کتاب مبین کی صفت اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ یہ اپنے ہر دعوے پر خود ایسی حجت ہے کہ اس کی صحت و صداقت کو جانچنے کے لئے کسی خارجی شہادت اور کسی معجزہ و نشانی کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ صفت یہاں اس کے ان معترضین و مخالفین کو سامنے رکھ کر لائی گئی ہے جو اس کی تصدیق کے لئے کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یہاں ان دونوں لفظوں نے اس کی عظمت کے پہلو کو بھی واضح کردیا ہے اور اس کی حجت کرے پہلو کو بھی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ خدا کا اتارا ہوا قرآن ہے کوئی مذاق و استہزاء…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–2

نَمْل، چیو نٹی کو کہتے ہیں۔ اس سورت میں چیونٹیوں کا ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس کو سورة نمل کہا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–4

1: یعنی ان کی ضد کی وجہ سے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنے سارے برے اعمال کو اچھا سمجھتے ہیں، اور ہدایت کی طرف نہیں آتے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 071 تشریح آیات 1………تا……6 طس تلک ایت القرآن و کتاب مبین (1) حروف مقطعات دراصل اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ یہ سورت اسی مواد پر مشتمل ہے جو ان حروف سے بنا ہے۔ پورا قرآن بھی اسی سے بنا ہے۔ یہ مواد عام عربی دانوں کے دسترس میں ہے لیکن وہ اس مواد سے ایسی کتاب تصنیف کرنے سے عاجز ہیں۔ باوجود بار بار کی تحدی اور چیلنج کے۔ یہاں کتاب سے مراد قرآن مجید ہی ہے ۔ یہاں قرآن مجید پر کتاب (خط) کا اطلاق اس لئے کیا گیا ہے کہ اس کتاب اور قریش کی جانب سے اس کے حوالے سے ردعمل اور حضرت سلیمان کے خط اور ملکہ سبا کی جانب سے اس کے بارے میں ردعمل کے درمیان مقابلہ کیا جائے ، حالانکہ سلیمان (علیہ السلام) اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–4

3 یعنی جن کو انجام کی کوئی فکر اور مستقبل کا خیال نہ ہو، وہ اسی دنیائے فانی کی فکر میں ڈوبے رہتے ہیں۔ ان کی تمام کوشش کا مرکز یہ ہی چند روزہ زندگی ہے جو کتاب یا پیغمبر ادھر سے ہٹا کر عاقبت کی طرف توجہ دلائے، اس پر کیوں کان دھرنے لگے۔ وہ دنیا کے عشق میں غرق ہو کر ہادیوں پر آوازیں کستے ہیں۔ آسمان صحیفوں کو مرد طعن بناتے ہیں۔ پیغمبروں کے ساتھ ٹھٹھا کرتے ہیں۔ اور یہ ہی کام ہیں، جن کو اپنے نزدیک بہت اچھا سمجھ کر برابر گمراہی میں ترقی کرتے جاتے ہیں۔ (تنبیہ) تزیین کی نسبت حق تعالیٰ کی طرف اس حیثیت سے کی کہ خالق ہر چیز کا وہ ہی ہے کسی سبب پر مسبب کا ترتب بدون اس کی مشیت و ارادہ کے نہیں ہوسکتا۔ جیسا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

آیت 1 طٰسۗ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ وَكِتَابٍ مُّبِيْنٍ اگر ”و“ کو واؤ تفسیری مانا جائے تو پھر ترجمہ ہوگا : ”یہ قرآن یعنی کتاب مبین کی آیات ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 یعنی اس کتاب کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس میں جو کچھ بیان کیا جاتا ہے۔ وہ بالکل واضح ہے اس میں کوئی ابہام یا پیچیدگی نہیں جو کسی کی سمجھ میں نہ آسکے۔ اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ حق اور باطل سب کچھ بڑی وضاحت سے بتلا رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ گویا آیتوں سے متعلق یہاں چار باتیں بیان ہوئیں۔ ایک یہ کہ یہ آیتیں جس کتاب کی ہیں وہ قرآن ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ کتاب روشن وواضح ہے، تیسرے اور چوتھے یہ کہ آیات انہیں اہل ایمان کیلیے سبب ہدایت بھی ہیں اور ذریعہ بشارت بھی (آیت) ” تلک “۔ کا اشارۂ بعید قرآن کے شرف ومنزلت کے اظہار کے لیے ہے۔ لاداۃ البعد للاشارۃ بعید لمنزلۃ فی الفضل والشرف (روح) (آیت) ” کتاب “۔ کتاب کی تنوین وتنکیر اظہار عظمت کے لیے ہے۔ (آیت) ” وتنوینہ للتفخیم “ (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–14

آیت نمبر 1 تا 14 ترجمہ : طس اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب مبین کی یعنی حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی، زیادتی صفت کے ساتھ (القرآن) پر عطف ہے، وہ ہدایت ہے یعنی گمراہی سے ہدایت کرنے والی ہے اور مومنین یعنی اس کی تصدیق کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری ہے، وہ (مومن) جو نماز قائم کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کے طریقہ کے مطابق ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں (یعنی) دلیل کے ساتھ اس پر یقین رکھتے ہیں، اور (ھم) مبتداء اور اس کی خبر (یوقنون) کے درمیان (بالآخرۃ) کے فصل کی وجہ سے ھم کا اعادہ کیا گیا ہے جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

طس تلک ایت القران و کتاب مبین . یہ آیات قرآن کی اور (حلال و حرام کے احکام کو) واضح کر دینے والی کتاب کی آیات ہیں۔ تِلْکَ سے آیات سورت کی طرف اشارہ ہے۔ کتاب مبین سے مراد لوح محفوظ ہے جس کے اندر ہر ہونے والی چیز کا اندراج ہے اس کو مبین یعنی مظہر کل فرمایا ‘ لوح محفوظ تحریر کے لحاظ سے قرآن پر مقدم ہے لیکن ہمارے علم کا تعلق قرآن سے ہی ہے اسی تعلق کا لحاظ کر کے القرآن کو کتاب مبین سے پہلے ذکر کیا۔ یا کتاب مبین سے بھی قرآن ہی مراد ہے قرآن حلال و حرام احکام کو کھول کر بیان کرنے والا ہے اور چونکہ معجز ہے اس لئے اپنے لئے صحیح ہونے کو بھی واضح طور پر بیان کر رہا ہے۔ قرآن اور کتاب صفت کے صیغے بھی ہیں جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) طس، طاء سے طول اور سین سے خوبصورتی ونزاکت مراد ہے یا یہ کہ ایک قسم ہے یہ سورت قرآن کریم اور ایک ایسی کتاب کی آیتیں ہیں جو کہ حلال و حرام کو واضح کرنے والی ہیں یہ آیتیں ہیں ایمان والوں کے لیے گمراہی سے ہدایت کے لیے اور جنت کی خوشخبری سنانے والی ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

طٰسۗ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ وَكِتَابٍ مُّبِيْنٍ : یہاں قرآن کا ذکر پہلے ہے جب کہ سورة حجر میں اس کے برعکس کتاب کا ذکر پہلے ہے، وہاں فرمایا : (الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ) [ الحجر : 1 ] ”۔ یہ کامل کتاب اور واضح قرآن کی آیات ہیں۔“ یہ فرق کیوں ہے ؟ ابو حیان اور زمخشری کے مطابق یہ فرق ظاہر نہیں ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ بعض معطوف علیہ اور معطوف ایسے ہوتے ہیں جن میں سے کسی کو پہلے ذکر کرنے کی کوئی وجہ ترجیح نہیں ہوتی، جسے چاہو پہلے ذکر کر دو اور جسے چاہو بعد میں، جیسا کہ ”وَقُوْلُوْا حِطَّةً“ اور ”وَادْخُلْوْا الْبَابَ سْجَّداً“ میں ہے۔ قرآن اور کتاب کے عطف کا معاملہ بھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–6

(طس، تلک ایت القرآن۔۔۔۔۔۔۔۔ ) طس تلک ایت القرآن و کتاب مبین سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں حروف مقطعات کے بارے میں گفتگوپہلے گزر چکی ہے۔ تلک یہ ھذہ کے معنی میں ہے یعنی یہ سورت قرآن کی آیات اور کتاب مبین کی آیات اور کتاب مبین کی آیات ہیں۔ لفظ قرآن معرفہ ذکر کیا اور کتاب مبین نکرہ کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا دونوں معرفہ کے حکم میں ہیں : جس طرح تو کہتا ہے : فلاں الرجل عاقل و فلاں الرجل العاقل۔ کتاب سے مراد قرآن ہے اس کی دو صفتیں جمع کی گئیں یعنی یہ قرآن ہے اور یہ کتاب ہے کیونکہ یہ کتابت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے اور قرأت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ سورة بقرہ میں ان کا اشتقاق گزر چکا ہ۔ سورة حجر میں فرمایا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–6

1۔ ابن ابی حاتم نے ابنم عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ قرآن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اللہ تعالیٰ کی اس آیت ” ان الذین لا یؤمنون بالاخرۃ “ سے یہی مراد ہے کہ وہ آخرت کا اقرار نہیں کرتے اور نہ ہی اس پر ایمان لاتے ہیں آیت ” فہم یعمہون “ یعنی وہ سرگرداں ہیں) اسی گمراہی میں آیت ” وانک لتلقی القراٰن “ یعنی آپ لے رہے ہیں قرآن کو ” حکیم علیم “ یعنی بڑے حکمت والے علم والے کی طرف سے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

طٰسۗ ۣ[ تِلْكَ [ یہ ] اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ [ قرآن کی آیتیں ہیں ] وَكِتَابٍ مُّبِيْنٍ [ اور ایک واضح کتاب کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–2

یہ کتاب مبین کی آیات ہیں جو مومنین کے لیے ہدایت اور بشارت ہیں، کافروں کے لیے ان کے اعمال مزین کردیئے گئے ہیں یہاں سے سورة النمل شروع ہو رہی ہے۔ نمل چیونٹی کو کہتے ہیں اس سورت کے دوسرے رکوع میں ایک قصہ بیان فرمایا ہے جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ ایک مرتبہ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر آ رہا تھا تو ایک چیونٹی نے اپنی ہم جنس چیونٹیوں سے کہا کہ تم لوگ اپنے بلوں میں گھس جاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہارا چورا بنا کر رکھ دیں، اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورة النمل معروف ہوا۔ اول تو یہ فرمایا کہ یہ قرآن کی اور واضح طور پر بیان کرنے والی کتاب کی آیات ہیں کتاب مبین سے بھی قرآن مجید…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔ یہ تمہید اور ترغیب الی القرآن ہے۔ ” کتاب مبین “ سے مراد قرآن ہے از قبیل عطف صفت علی الصفۃ کیونکہ القرآن اور کتاب مبین دونوں ایک ہی چیز کی صفتیں ہیں۔ والمراد بہ القران و عطفہ علیہ مع اتحادہ معہ فی الصدق کعطف احدی الصفتین علی الاخری کما فی قولھم ھذا فعل السخی والجواد الکریم (روح ج 19 ص 155) ، ” کتاب مبین “ سے جنس کتاب مراد ہے جو تمام کتب سابقہ کو شامل ہے اس صورت میں ” ایت القران “ سے اس طرف اشارہ ہوگا کہ اس سورت میں بعض مضامین ایسے مذکور ہیں جو کتب سابقہ میں نہیں تھے جیسا کہ ” ان ھذا القران یقص علی بنی اسرائیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون “ سے معلوم ہوتا ہے۔ اور ” کتاب مبین “ سے ان مضامین کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النمل ہے عربی زبان میں نمل چیونٹی کو کہتے ہیں ۔ اس سورة کے دوسرے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے وادی نمل سے گزرنے اور وہاں پر دلائل توحید کے طور پر ایک واقعہ پیش آنے کا ذکر کیا ہے اسی نسبت سے اس سورة کو سورة النمل کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ، گزشتہ سورة الشعراء اور اس سورة کا زمانہ نزول قریب قریب ہی ہے ۔ دونوں سورتیں مکی دور کے وسط یا آخری حصہ میں نازل ہوئیں ۔ سورة ہذا کی ترانوے آیتیں ہیں اور یہ سات رکوع 9411 الفاظ اور 7674 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة اس سورة میں بھی دیگر مکی سورتوں کی طرح چار اہم اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

طٰسۗ۝ 0ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُرْاٰنِ وَكِتَابٍ مُّبِيْنٍ۝ 1ۙ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب : و کتاب معطوف ہے قرآن مجرورمضاف الیہ پر ھدی و بشری دونوں محل حال میں ہیں آیات یا کتاب سے اور مبتدا محذوف کی خبر بھی ہوسکتے ہیں الذین یقیمون صفت ہے المؤمنین کی وھم بالآخرۃ الخ تتمہ صلہ کا ہے و حال یا عطف کی صورت میں جملہ فعلیہ سے اسمیہ کی طرف تغیر کرنا ان کے ثبات اور ایمان پر استمرار ثابت کرنے کے لیے ہے۔ تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے اس میں بھی توحید اور اثبات نبوت کے مباحث اور چند انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرے ہیں اور ان پر جو کچھ انعامات ہوئے وہ بھی بیان ہوئے ہیں جو ان کی خدا پرستی کا نتیجہ تھا۔ فرماتا ہے طس ان دو حرفوں سے کسی خاص بات کی طرف اشارہ ہے جس کو وہی خوب جانتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

طٰسٓ قف تِلْـکَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَکِتَابٍ مُّبِیْنٍ ۔ (النمل : 1) (ط۔ س یہ آیات ہیں قرآن اور ایک واضح کتاب کی۔ ) ایک اشکال کا جواب یہاں قرآن کو معرفہ اور کتاب کو نکرہ لایا گیا ہے، لیکن سورة الحجر میں قرآن کو نکرہ اور کتاب کو معرفہ ذکر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے تِلْکَ اٰیٰتُ الْـکِتَابِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍاس کی کیا وجہ ہے ؟ تفسیر مظہری میں اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ قرآن اور کتاب کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک یہ کہ دونوں اس کتاب الٰہی کے عَلَم (نام) ہیں جو نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئی ہے۔ دوسری یہ کہ یہ اس کلام کی صفتیں ہیں۔ یعنی قرآن سے مراد مقرو (پڑھا جانے والا) ہے اور کتاب سے مکتوب جو لکھا جاتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1: طٰٰسٓٓ تِلْکَ اٰیٰتُ القُرْاٰنِ وَکِتَابٍ مُّبِیْنٍ ہُدًی و بُشْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (طس۔ یہ قرآن اور کتاب مبین کی آیات ہیں۔ وہ ایمان والوں کیلئے ہدایت و بشارت ہے) ۔ کتاب مبین ای آیات کتاب مبین۔ یہ کتاب مبین کی آیات ہیں۔ تِلْکَ سے سورت کی آیات کی طرف اشارہ ہے اور کتاب مبین سے لوح محفوظ مراد ہے۔ مبین کا معنی : مبین کا معنی نمبر 1۔ ابانت و ظہور ہے اور اس کے ظہور کا مطلب یہ ہے کہ سب کچھ ہونے والا اس میں ظاہر کردیا گیا اس میں دیکھنے والوں کے لئے قرآن کی آیات واضح ہیں۔ نمبر 2۔ کتاب مبین سے قرآن مجید مراد ہے اور اس کے ابانت کا مطلب یہ ہے کہ جو حکمتیں اور علوم اس میں بیان کیے گئے یہ ان کو کھول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 1۔” طس “ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اس کی تفصیل ماقبل حروف تہجی کے ذیل میں گزرچکی ہے۔ تلک آیات القرآن، یہ قرآنی آیات ، وکتاب مبین، اور یہ نشانیاں کتاب میں واضح موجود ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

سورة النمل : (1 تا 4) سورتوں کے شروع میں جو حرف مقطعات ان کا حال مفصل طور سے سورة بقرہ کے شروع میں بیان ہوچکا ہے لفظ تلک سے یہ سورت اور تمام قرآن کی آیتیں مقصود ہیں اور مبین کے معنی واضح اور ظاہر کے ہیں اور دوسری آیت کا یہ مطلب ہے کہ قرآن شریف سے اسی کو ہدایت اور بشارت ہوتی ہے جس نے قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا یقین کیا اور اس پر ایمان لایا اور جو احکام اس میں ہے ان پر عمل کیا فرض نماز پڑھے زکوٰۃ دے اور آخرت کو سچا جاننا کہ مرنے کے بعد زندہ ہونا ہے اور نیکی بدی پر جزا و سزا ضرور ملے گی اور جنت اور دوزخ حق ہیں جیسا کہ سورة حم السجدہ میں فرمایا قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ آمَنُوْا ھَدْیً وَّشَفَآئٌ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–6

تفسیر سورة النمل آیت 1 سے 6 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چناچہ فرمایا : (تلک ایت القران وکتائب مبین) ” یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں۔ “ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہیں۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لئے ایسے ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–3

3 ایمان بالآخرت کی خاص اہمیت : سو آخرت پر ایمان و یقین کو بطور خاص ذکر فرمانے سے اس کی عظمت و اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اس کا اجمالی ذکر اس سے پہلے مطلق ایمان کے ضمن میں آچکا ہے کہ عقیدہ آخرت ہی دراصل وہ اہم اور بنیادی نقطہ ہے جس پر انسان کے بناؤ بگاڑ کا مدارو انحصار ہے۔ کہ اسی ایمان و یقین سے اس کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے اور وہ غور و فکر سے کام لیتا ہے۔ ورنہ اس سے محرومی کی صورت میں انسان لایعنی اور غیرذمہ دار انسان بلکہ محض ایک حیوان بن کر رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ لوگ چاہے اس کتاب حکیم کی قدر کریں یا نہ کریں حق اور حقیقت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

قرآن مجید کے اوصاف، ایمانداروں اور کفار کا تذکرہ تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کئی مرتبہ قرآن پاک کی صفات بیان کی جا چکی ہیں۔ بہرحال اسلام کی یہ مقدس کتاب قرآن مجید تمام آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ ممتاز اور بہترین ہے۔ کیونکہ یہ تاقیامت پوری کائنات اور مخلوقات کے لیے مکمل آئین ہے۔ اس کے ذریعہ ہم ماضی حال اور مستقبل کو بڑی آسانی سے دیکھ سکتے ہیں اور پھر یہ سائنسی حقائق کا سرچشمہ بھی ہے۔ مسلم سائنس دانوں نے جس قدر ایجادات کی ہیں جو کہ بیشمار ہیں سب کی بنیاد قرآن پاک کی مختلف آیات ہی پر ہے۔ سائنس کی بنیاد سچ ہے اور قرآن پاک پورے کا پورا سچ ہے۔ اس کی ہر آیت اتنی جامع اور آسان ہے کہ بدو ہو یا عالم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–14

سورة نمل رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 14 ۔ اسرار و معارف : طس۔ یہ قرآن کی آیات ہیں جو ایک کھلی کتاب ہے یعنی جو حقائق کو واضح کرکے بیان کرتی ہے اور باعث ہدایت بھی ہے اور نوید کامرانی بھی ان لوگوں کے لیے جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے یقین کی دلیل یہ ہے کہ عملاً اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور عبادات کے ادا کرنے میں پوری کوشش کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی کردار میں بھی اور معیشت میں بھی اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور یہ سب کسی دنیاوی فادے یا لالچ میں نہیں کرتے بلکہ انہیں آخرت اور روز جزا پر یقین کامل ہے لہذا اس روز کی کامیابی کے خواہشمند ہیں۔ اور ایسے لوگ جو آخرت پر یقین نہیں کرتے ان کو سزا کے طور پر ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

4 ۔ ” کھلی کتاب “ یعنی جو مضمون اور مدعا بیان کرنے میں بالکل صاف اور واضح ہے۔ اس سے مراد خود قرآن ہے یا یہ سورة یا لوح محفوظ۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:1) طس۔ حروف مقطعات ہیں۔ تلک : ای ھذہ۔ سورة ہذا کی طرف اشارہ ہے۔ ایت القران۔ مضاف مضاف الیہ ۔ قران : قرأت الشیء قرانا کے معنی ہیں جمعتہ وضممت بعضہ الی بعض۔ میں نے اس چیز کو اکٹھا کیا اور اس میں نظم پیدا کیا۔ اور ارأت الکتاب کے معنی ہیں میں نے کتاب کو پڑھا ۔ گویا قرآن کے معنی ہیں وہ کتاب جس میں تمام صداقتیں اکٹھی کردی گئی ہوں اور جس میں ہر ایک حصہ کو دوسرے حصہ کے ساتھ ایسا نظم و ربط ہو کہ وہ تمام ایک مجموعہ نظر آئے وکتاب مبین میں واؤعاطف کی ہے۔ کتاب مبین موصوف و صفت مل کر آیات کا مضاف الیہ ہے کیونکہ کتاب مبین کا عطف القرآن پر ہے کعب احدی الصفتین علی الاخری جیسا کہ دو صفتوں میں سے ایک کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : بشری (خوش خبری۔ اچھی اطلاع) ‘ یئو تون (وہ دیتے ہیں) ‘ زینا (ہم نے خوبصورت بنادیا) ‘ یعمھون (وہ اندھے بن رہے ہیں) ‘ الا خسرون (زیادہ نقصان اٹھانے والے) ‘ تلقی (دیا گیا ہے) ‘ لدن (قریب ۔ نزدیک) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 : ٭اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا فرمائے تھے جو راہ حق سے بھٹک جانے والوں کو کھلی آنکھوں سے نظر آتے تھے مگر سچائیوں کا انکار کرنے والوں نے ان کا بھی انکار کردیا اور اللہ کے غضب کا شکار ہوگئے۔ ان ہی انبیاء کرام میں سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھی تھے جن کو اللہ نے نہ صرف انسانوں اور جنات پر حکومت عطا فرمائی تھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

(ف 1) فرمایا کہ یہ آیتیں جو اس سورت میں ہیں قرآن اور کتاب روشن کی آیات ہیں کسی شاعر کا کلام نہیں کتاب مبین سے مراد یہی قرآن ہے مگر کتاب مبین کہنے سے یہ بات بتلانی مقصود ہے کہ قرآن مجید میں کوئی بات بعید ازعقل نہیں سب باتیں اس کی صاف اور ظاہر ہیں جن کو ہر ایک صاحب عقل سلیم تسلیم کرنے میں ذرا بھی تردد نہیں کرسکتا مگر وہی کہ جس کے دل کی آنکھیں روش نہیں اور جو کو رباطن ہے یہ کتاب ہدایت اور بشارت ہے ان لوگوں کو جو اس پر ایمان لاکر اس پر عمل کرتے ہیں اس سے نفع یاب وہی ہوتے ہیں جن میں ہدایت کا مادہ ہے پھر آگے یہ بھی کھول دیا کہ زبان سے مومن کہنا کافی نہیں جب تک کہ اس میں یہ اوصاف نہ پائے جائیں جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–4

[1] یعنی اس کتاب کی آیتیں ہیں جو اپنی تعلیمات اور اپنے احکام و ہدایات کو بالکل واضح طریقے سے بیان کرتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–6

ف 1: ان آیات سے سورة نمل کا آغاز ہوتا ہے ۔ طٰسۤ حروف مقطعات میں سے ہے تفصیل آلمۤ کی بحث میں گزرچکی ۔ سورۃ کا آغاز قرآن کے تعارف سے ہوتا ہے ۔ ارشاد ہے کہ یہ قرآن اور کتاب مبین کی آئتیں ہیں قرآن کے معنے اس کتاب کے ہیں جس کی کثرت سے قرات اور تلاوت ہو ۔ یہ مصدر بمعنی مفعول ہے ۔ غور فرمائیے ۔ انجیل کی اشاعت آج دنیا میں سب کتابوں سے زیادہ ہے ۔ دنیا کے ہر گوشے میں مشینری موجود ہیں اور ہر وہ زبان اور ہر قوم میں اس کو سرعت سے پھیلا رہے ہیں ۔ مگر وہ کتاب جس کی دن رات تلاوت ہوتی ہے ۔ صرف قرآن ہے کتاب مبین سے غرض یہ ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے ۔ جس میں تمام ضروریات انسانی کو کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(1) طس وقف یہ سورت قرآن کریم کی اور واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔ یعنی وہ کتاب جس کے احکام واضح ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

طا ۔۔۔۔۔۔۔ سی ۔۔۔۔۔۔۔ ن ۔۔۔۔ دونوں حروف مقطعات میں سے ہیں : 1۔ حروف مقطعات کی بحث ہم مکمل طور پر سورة البقرہ کے شروع میں کرچکے ہیں اس لئے اس کے بیان کی بار بار ضرورت نہیں ضرورت ہو تو وہیں سے دیکھ لیا جائے ۔ زیر آیت میں قرآن کریم کا صفاتی نام (کتاب مبین) کا ذکر کیا ہے اس لئے کہ اس کی آیات بالکل واضح ہیں کہ انسانی ضرورت کی ہرچیز کو کھول کھول کر بیان کر رہی ہیں اور کسی ایک مسئلہ کو بھی ان میں مبہم پیش نہیں کیا گیا اور یہ بھی کہ حق و باطل کی مکمل وضاحت ان میں پیش کردی گئی ہے ایسا نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی شخص ان کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرے لیکن اس کے باوجود کسی معاملہ میں وہ حق اور باطل کو واضح…

Read the full tafseer →