Explained with ayahs 221–227
شیاطین اور جادوگر
مشرکین کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اسکو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 145
یہاں شعراء کی اس عام مذمت سے جو اوپر بیان ہوئی، ان شعراء کو مستثنیٰ کیا گیا ہے جو چار خصوصیات کے حامل ہوں
اول یہ کہ وہ مومن ہوں، یعنی اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتابوں کو سچے دل سے مانتے ہوں اور آخرت پر یقین رکھتے ہوں۔
دوسرے یہ کہ اپنی عملی زندگی میں صالح ہوں، بد کار اور فاسق و فاجر نہ ہوں، اخلاق کی بندشوں سے آزاد ہو کر جھک نہ مارتے پھریں۔
تیسرے یہ کہ اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہوں، اپنے عام حالات اور اوقات میں بھی، اور اپنے کلام میں بھی۔ یہ نہ ہو کہ شخصی زندگی تو زہد وتقویٰ سے آراستہ ہے مگر کلام سراسر رندی و ہوسنا کی سے لبریز۔ اور یہ بھی نہ ہو کہ شعر میں تو بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
شعر کی تعریف
وَالشُّعَرَاۗءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ ، اصل لغت میں شعر ہر اس کلام کو کہا جاتا ہے جس میں محض خیالی اور غیر تحقیقی مضامین بیان کئے گئے ہوں جس میں کوئی بحر، وزن، ردیف اور قافیہ کچھ شرط نہیں، فن منطق میں بھی ایسے ہی مضامین کو ادلہ شعریہ اور قضایا شعریہ کہا جاتا ہے۔ اصطلاحی شعر و غزل میں بھی چونکہ عموماً خیالات کا ہی غلبہ ہوتا ہے اس لئے اصطلاح شعراء میں کلام موزوں مقفّٰی کو شعر کہنے لگے۔ بعض مفسرین نے آیات قرآن بَلْ هُوَ شَاعِرٌ، شَاعِرٍ مَّجْــنُوْنٍ ، شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ وغیرہ میں شعر اصطلاحی کے معنی میں مراد لے کر کہا کہ کفار مکہ حضور ﷺ کو وزن دار، قافیہ دار کلام لانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
آیت 227-244
آنحضرت پر اشعر ہونے کے الزام کی تردید
اوپر کی آیات میں آنحضرت ﷺ پر کہانت کے الزام کی تردید ہوئی۔ اب آگے کی آیات میں شعر و شاعری کے الزام کی تردید آرہی ہے۔ قریش آنحضرت ﷺ کو شاعر یا قرآن کو جو شعر کہتے تھے تو شعر یا شاعری کے معروف معنی میں نہیں کہتے تھے۔ آخر وہ ایسا کہہ بھی کیسے سکتے تھے، معروف معنی میں نہ آنحضرت ﷺ کو شاعر کہنے کی کوئی وجہ تھی اور نہ قرآن کو شعر کہنے کی۔ اصل یہ ہے کہ جب قریش نے دیکھا کہ قرآن کی فصاحت و بلاغت دلوں کو مفتوح کرتی جا رہی ہے اور اس طرح اس کے خدائی کتاب ہونے کا دعویٰ روز بروز مسحتکم ہوتا جا رہا ہے تو اس کے توڑ کے لئے انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ قرآن…
Read the full tafseer →227-1اس سے ان شاعروں کو مستشنٰی فرما دیا گیا، جن کی شاعری صداقت اور حقائق پر مبنی ہے اور استثنا ایسے الفاظ سے فرمایا جن سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایماندار، عمل صلح پر کاربند اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والا شاعر، جس میں جھوٹ، غلو اور افراط اور تفریط ہو، کر ہی نہیں سکتا۔ یہ ان ہی لوگوں کا کام ہے جو مومنانہ صفات سے عاری ہوں۔
227-2یعنی ایسے مومن شاعر، ان کافر شعرا کا جواب دیتے ہیں، جس میں انہوں نے مسلمانوں کی (برائی) کی ہو۔ جس طرح حضرت حسان بن ثابت کافروں کی شاعری کا جواب دیا کرتے تھے اور خود نبی ﷺ ان کو فرماتے کہ ' ان (کافروں) کی ہجو بیان کرو، جبرائیل ؑ بھی تمہارے ساتھ ہیں (صحیح بخاری)
227-3یعنی…
Read the full tafseer →54: یہ استثناء ذکر فرما کر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا کہ اگر شاعری میں یہ خرابیاں نہ ہوں اور ایمان اور عمل صالح کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوئی شاعری کرے اور اپنے شاعرانہ تخیلات کو دین و مذہب کے خلاف استعمال نہ کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور ظلم کا بدلہ لینے کا ذکر بطور خاص اس لئے کیا گیا ہے کہ اس زمانے میں شاعری پروپیگنڈے کا سب سے مؤثر ذریعہ سمجھی جاتی تھی، کوئی شاعر کسی کے خلاف کوئی شاندار ہجویہ قصیدہ کہہ دیتا تو وہ لوگوں کی زبانوں پر چڑھ جاتا تھا، چنانچہ بعض بد نہاد کافروں نے حضور نبی کریم ﷺ کے بارے میں بھی اس قسم کے اشعار کہہ کر مشہور کردئے تھے، بعض صحابہ مثلاً حضرت حسان بن ثابت…
Read the full tafseer →الا الذین ……(721)
” بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ “
لہٰذا اہل ایمان ان لوگوں میں داخل نہیں ہیں۔ یہ لوگ ایمان لائے تو ان کے دل و دماغ اسلامی عقیدہ اور ایمان سے بھرگئے۔ ان کی زندگی ایک منہاج پر رواں دواں ہوگئی۔ انہوں نے اپنی عمی زندگی میں نیک عمل کرنا شروع کردیا اور ان کی قوتیں اعمال صالحہ اور خوبصورت بھلائی کی راہ پر صرف ہونے لگیں۔ وہ صرف ادہام و تخیلات کی دنیا سے باہر آگئے اور انہوں نے اپنے فن کو بھی اپنے نظریہ کے لئے…
Read the full tafseer →1 مگر جو کوئی شعر میں اللہ کی حمد کہے یا نیکی کی ترغیب دے، یا کفر کی مذمت یا گناہ کی برائی کرے یا کافر اسلام کی ہجو کریں یہ اس کا جواب دے، یا کسی نے اس کو ایذاء پہنچائی اس کا جواب بحد اعتدال دیا، ایسا شعر عیب نہیں۔ چناچہ حضرت حسان بن ثابت ؓ وغیرہ ایسے ہی اشعار کہتے تھے۔ اسی لیے حضور نے فرمایا کہ ان کافروں کا جواب دے اور روح القدس تیرے ساتھ ہے۔
2 یہ (مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا) 26 ۔ الشعرآء :227) کی مناسبت سے فرمایا کہ ظالموں کو عنقریب اپنا انجام معلوم ہوجائے گا کہ کس کروٹ اونٹ بیٹھتا ہے سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اللہ کی کتابوں اور پیغمبروں کو کاہن و شاعر کہہ کر جھٹلائے۔ تَمَّ سورة الشعراء وللہ…
Read the full tafseer →آیت 227 اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا ”
یہ البتہ استثنائی حکم ہے۔ کوئی شاعر اگر حقیقی مؤمن ہو اور اعمال صالحہ پر کاربند ہونے کے ساتھ ساتھ کثرت ذکر اللہ پر بھی مداومت کرے تو وہ یقیناً مذکورہ بالا مذمت سے مستثنیٰ ہوگا اور اس کا کلام بھی خیر اور بھلائی کا باعث بنے گا۔ اس سلسلے میں حضرت حسانّ بن ثابت رض کی مثال دی جاسکتی ہے جو دربار نبوی ﷺ کے شاعر تھے۔ عرب میں اس وقت شاعری کا بہت رواج تھا اور مشرکین کے شعراء ہجویہ اشعار کے ذریعے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے تھے۔ چناچہ اس میدان میں ان کے جواب کی ضرورت محسوس ہوئی تو یہ فریضہ حضرت حسانّ بن ثابت رض…
Read the full tafseer →137 یعنی جن شعراء کی عام مذمت بیان کی گئی۔ ان میں سے مندرجہ ذیل چار خصائل والے شعراء مستثنیٰ ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ایمان لائے ہوں۔ دوسرے انہوں نے نیک اعمال کو اپنا طرز زندگی بنا لیا ہو۔ تیسرے اللہ کو بکثرت یاد کرتے رہتے ہوں۔ کسی وقت بھی ان کے دل اللہ کی یاد سے غافل نہ ہوں۔ چوتھے یہ کہ جو کچھ کہیں ظالموں کے مقابلہ میں حق کی حمایت کے شعر کہیں۔ کسی کی ہجو اپنی ذاتی اغراض کے ماتحت نہ کریں۔ مثلاً اشعار کے ذریعہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کریں۔ نیکی کی ترغیب دیں۔ کفر کی اور گناہوں کی مذمت بیان کریں یا اگر کافر مسلمانوں یا اسلام یا پیغمبر اسلام کی ہجو بیان کریں۔ تو ہجو کا اسی طرح جواب دے کر اس ظالم کا بدلہ…
Read the full tafseer →123۔ اسلام اکثر ” فنون لطیفہ “ کی طرح عموما شاعری کا بھی ہرگز قدرداں نہیں، اور نہ شاعروں کی ہمت افزائی کرنا چاہتا ہے۔ اسلام کے دربار میں کوئی کرسی ہرگز شاعری میں بجز خیال آرائی اور مبالغہ پروری کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ اعلم ان الایات الدالۃ علی تقبیح الشعر اکثر من ان یحضی (احمد ی) لیکن اس عام بےراہ روی کی شاعری کے حکم سے وہ شاعری یقیناً مستثنی ہے، جو حقائق اور صداقتوں کی جامع ہے، جو نصرت وحمایت حق میں کی جائے، جس سے کام دین کے غلبہ کا لیا جائے۔ (آیت) ” ذکروا اللہ کثیرا “۔ اسلامی نظمیں، جوش دینی پیدا کرنے والی، عصبیت اسلامی کو بیدار کرنے والی، سب ذکر الہی ہی کی فرد ہیں، شاعر دربار نبوت حضرت حسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیت نمبر 192 تا 227
ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…
Read the full tafseer →الا الذین امنوا وعملوا الصلحت وذکروا اللہ کثیرا وانتصروا من بعد ما ظلموا
مگر وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے اور مظلوم ہونے کے بعد انہوں نے انتقام لیا۔
ذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا یعنی ان کی شاعری ان کے لئے اللہ کے ذکر کی کثرت سے مانع نہ ہو اور اپنے بیشتر اشعار میں وہ اللہ کے ذکر۔ توحید ‘ اللہ کی حمد و ثنا اور اس کی اطاعت کی ترغیب بیان کرتے ہوں۔
ابو یزید نے کہا ذکر کی کثرت تعداد کی کثرت سے نہیں ہوتی بلکہ حضور قلب سے ہوتی ہے۔
وَّانْتَصَرُوْا یعنی مسلمانوں کی ہجا جن لوگوں نے کی ہو ان مؤمن شاعروں نے اس کے مقابلے میں ان کی ہجا کی ہو اور اس طرح کافروں کے ظلم کا انتقام لیا…
Read the full tafseer →(227) سوائے ان حضرات کے جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور اچھے اچھے کام کیے اور انہوں نے اپنے اشعار میں کثرت سے اللہ کا ذکر کیا اور انھوں نے رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی اپنے اشعار میں کفار کی تردید کرکے مدد کی بعد اس کے کہ کفار نے ان کی برائی کی تھی تو انہوں نے بھی کفار کی برائی کر کے ان سے بدلہ لیا جیسا کہ حضرت حسان بن ثابت ؓ گزرے ہیں اور عنقریب ان لوگوں کو جنہوں نے رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی شان میں گستاخی کی ہے معلوم ہوجائے گا کہ آخرت میں کیسی مصیبت کی جگہ ان کو جانا ہے یعنی اگر ایمان نہ لائے تو جہنم…
Read the full tafseer →اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ۔۔ : شعراء کی مذمت کے بعد ان میں سے ایسے لوگوں کو مستثنیٰ فرمایا جن میں چار اوصاف پائے جائیں، پہلا وصف یہ کہ وہ مومن ہوں۔ دوسرا یہ کہ وہ صالح اعمال کے حامل ہوں، فاسق و فاجر اور بدکار نہ ہوں۔ تیسرا یہ کہ اللہ کو کثرت سے یاد کرتے ہوں، اپنی عام زندگی میں بھی اور اپنے اشعار میں بھی۔ ایسا نہ ہو کہ زبانی تسبیح و تہلیل اور اذکار پر تو بہت زور ہو مگر اشعار میں اللہ کی یاد کے بجائے عشق و ہوس اور فضول باتوں کا تذکرہ ہو۔ چوتھا وصف یہ کہ وہ اپنے کلام سے ظالموں کے مقابلے میں حق کی حمایت کا کام لیتے ہوں اور کفار و مشرکین اسلام، مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
(والشعر یتبعہم الغاون۔۔۔۔۔ )
مسئلہ نمبر 1 :۔ الشعراء۔ یہ شاعر کی جمع ہے جس طرح جاہل کی جمع جہلاء ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد کفار ہیں ان کی جنوں اور انسانوں میں گمراہ لوگ پیروی کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : الغاون سے مراد حق سے بھٹکے ہوئے ہیں اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ شعراء بھی گمراہ ہیں کیونکہ اگر وہ گمراہ نہ ہوتے تو ان کے پیروکار گمراہ نہ ہوتے ہم سورة نور میں بیان کرچکے ہیں کہ کن اشعار کو پڑھنا جائز ہے، کن کو پڑھنا مکروہ ہے اور کن کو پڑھنا حرام ہے۔ امام مسلم نے عمرو بن شرید سے وہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں ایک روز میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا پوچھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانی میں دو آدمیوں (یعنی دو شاعروں) باہم ہجو کا مقابلہ کیا ایک انصاری تھا اور دوسرا کسی اور قبیلہ سے تھا دونوں میں سے ہر ایک کے ساتھیوں میں کچھ بیوقوف قسم کے لوگ تھے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی آیت ” والشعراء یتبعہم الغاون “ الآیات۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے اس طرح روایت کیا۔
2۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں دو شاعروں نے باہم ہجو کا مقابلہ کیا اور ان میں سے ہر ایک کے ساتھ لوگوں کی جماعتیں تھیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی آیت ” والشعراء یتبعہم…
Read the full tafseer →اِلَّا الَّذِيْنَ [ سوائے ان کے جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [ اور انھوں نے عمل کئے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیکیوں کے ] وَذَكَرُوا [ اور یاد کیا ] اللّٰهَ [ اللہ کو ] كَثِيْرًا [ کثرت سے ] وَّانْتَــصَرُوْا [ اور انھوں نے بدلہ لیا ] مِنْۢ بَعْدِ مَا [ اس کے بعد کہ جو ] ظُلِمُوْا ۭ[ ان پر ظلم کیا گیا ] وَسَـيَعْلَمُ الَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جان لیں گے جنہوں نے ] ظَلَمُوْٓا [ ظلم کیا ] اَيَّ مُنْقَلَبٍ [ کون سی پلٹنے کی جگہ ] يَّنْقَلِبُوْنَ [ وہ لوگ پلٹیں گے ]
مورخہ 19/رجب 1428 ھ
بمطابق 4/اگست 2007 ء
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
اس کے بعد مومنین صالحین کا استثناء فرمایا (اِِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّانتَصَرُوْا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا) (یعنی جو لوگ شاعروں کی مذکورہ بالا جماعت سے خارج ہیں) چونکہ ان میں ایمان ہے اعمال صالحہ میں لگے رہتے ہیں اور اللہ کے ذکر میں کثرت سے مشغول رہتے ہیں اس لیے اگر شعر بھی کہتے ہیں تو جھوٹی بےتکی بہکی بہکی باتوں سے بچ کر رہتے ہیں۔ ان کے اشعار بھی ایمان اور اعمال صالحہ کی دعوت دیتے ہیں اللہ سے لو لگانے کی ترغیب دیتے ہیں اشعار میں اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتے ہیں اور اعمال صالحہ کی طرف متوجہ کرتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
ابطال شاعریت
کفار آنحضرت ﷺ کو کبھی کاہن بتاتے اور کبھی شاعر بتاتے۔ گزشتہ آیات میں آپ کے کاہن ہونے کی تردید کی اب آئندہ آیت میں آپ کے شاعر ہونے کی تردید کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ قرآن کو شعر کہنا اور حضور پر نور ﷺ کو شاعر کہنا مشرکین کی کھلی ہٹ دھرمی ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور شاعروں کی پیروی کرتے ہیں۔ گمراہ لوگ جو خیالی اور نفسانی چیزوں کے دلدادہ ہوتے ہیں برخلاف محمد رسول اللہ ﷺ کے پیروی کرنے والوں کے، کہ وہ نہایت متقی اور پرہیزگار ہیں اور آخرت کے طلبگار اور دنیا سے بیزار ہیں۔
پس اگر محمد ﷺ شاعر ہوتے اور شاعروں کی طرح نفسانی اور خیالی باتیں کیا کرتے تو آپ ﷺ کے پیروی کرنے والے فسق وفجور سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 226–227
79:۔ مومن اور نیک شعراء کو ماقبل سے مستثنی کردیا گیا۔ وہ شعراء جو مومن اور صالح ہیں اور اپنے اشعار میں اللہ کی توحید، اس کی حمد و ثنا، مدح پیغمبر (علیہ السلام) اور ترغیب و ترہیب کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ کسی کی ہجو میں ابتداء نہیں کرتے ہاں اگر کوئی اسلام پر یا پیغمر خدا ﷺ کی ذات پر حملہ کرے تو اس کا جواب دیتے ہیں۔ ای کان ذکر اللہ وتلاوۃ القران اغلب علیہم من الشعر واذا قالو شعرا قالوہ فی توحید اللہ تعالیٰ والثناء علیہ والحکمۃ والموعظۃ والزھد والادب و مدح رسول اللہ ﷺ والصحابۃ و صلحاء الامۃ ونحو ذلک مما لیس فیہ ذنب (مدارک ج 3 ص 153) ۔
80:۔ یہ تخویف دنیوی ہے ” الذین ظلموا “ سے مشرک مراد ہیں جو توحید کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
ربط آیات
اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر تسلی کا مضمون بیان کیا گیا ہے ۔ مختلف انبیاء علہیم السلام اور ان کی قوموں کا حال بیان کر کے قوموں کی تباہی کا ذکر کیا گیا ہے تا کہ حضور ﷺ اور آپ کے ماننے والے دل برداشتہ نہ ہوں اور جان لیں کہ اہل حق کو ہمیشہ ایسی ہی تکالیف برداشت کرنا پڑی ہیں ، تا ہم انجام ہمیشہ انہیں کا اچھا ہوتا رہا ہے اور نافرمان ناکامو نامراد ہی رہے ہیں ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی چار بنیادی مسائل بیان ہوئے ہیں یعنی توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت صداقت ، گزشتہ درس میں صداقت قرآن کا بیان تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا بےمثال علام ہے اور ایسا کلام نازل کرنا شیاطین کی…
Read the full tafseer →اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَكَرُوا اللہَ كَثِيْرًا وَّانْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا 0 ۭ وَسَـيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا اَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ 227ۧ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
1 ؎ یعنی جب ان کی کسی نے ہجو کر کے ستایا تب وہ کسی کو ستاتے ہجو کرتے بدلہ لیتے ہیں ابتداء نہیں کرتے جیسا کہ حسان بن ثابت انصاری۔ 12 منہ۔
2 ؎ یعنی ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →اِلاَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّانْتَصَرُوْا مِنْ م بَعْدِمَاظُلِمُوْا ط وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ ۔
(بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے جنھوں نے نیک اعمال کیے اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا، اور انھوں نے بدلہ لیا اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور عنقریب جان لیں گے جنھوں نے ظلم و ستم کیے کہ ان کا ٹھکانا کیا ہوتا ہے۔ )
شانِ نزول
شعراء پر تنقیدی آیات کے نزول کے بعد حضرت حسان ابن ثابت ( رض) ، عبداللہ بن رواحہ ( رض) ، کعب بن مالک ( رض) اور کعب بن زہیر ( رض) روتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 225–227
فہم القرآن
ربط کلام : اکثر شعراء اوٹ پٹانگ باتیں کرتے ہیں اگر ان کے کلام میں کوئی اچھی بات پائی جائے تو اس پر خود عمل پیرا نہیں ہوتے سوائے ان شاعروں کے جو صحیح العقیدہ اور صالح کردار ہوتے ہیں۔
شعراء اور ان کے متبعین کی گمراہی کا ذکر کرنے کے بعد ان لوگوں کو اس گروہ سے مستثنیٰ قرار دیا ہے جو صحیح العقیدہ اور نیک اعمال کرنے کے ساتھ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنے والے ہیں۔ آیات کے سیاق وسباق کے حوالے سے ایمان والوں سے مراد یہاں سب سے پہلے صحیح العقیدہ اور صالح کردار شاعر ہیں۔ کیونکہ اس سے پہلے بےعمل اور بیہودہ شاعروں کا تذکرہ ہے اس لیے یہاں پہلے مخاطب نیک شعراء ہیں۔ نیک شاعر اور عقیدہ توحید…
Read the full tafseer →227: پھر مومن صالح شعراء کو مستثنیٰ فرمایا۔ اِلَّا الَّذیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ (مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالحہ کے) جیسے عبدا للہ بن رواحہ ‘ حسان بن ثابت، کعب بن زہیر ‘ کعب بن مالک ؓ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا (اور وہ اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کرتے ہیں) یعنی ذکر الٰہی اور تلاوت قرآن ان پر شعر سے زیادہ غالب ہے۔ اور جب کبھی وہ کوئی شعر کہتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی ثناء اور حکمت و موعظمت، زہد، ادب اور مدح رسول ﷺ اور مدح صحابہ و صلحائے امت پر کہتے ہیں اور اسی طرح کے اور موضوعات جن پر کلام گناہ نہیں ہے۔
قولِ ابو زید :
ذکر کثیر گنتی اور تعداد کے…
Read the full tafseer →227۔ الاالذین امنواعموالصالحات۔۔ بغوی نے شرح السنہ اور معالم میں لکھا ہے کہ حضرت کعب بن مالک نے رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا یانبی اللہ، شاعری کے متعلق اللہ نے جو کچھ نازل فرمایا وہ معلوم ہی ہے (پھر ہمارا کیا ہوگا) فرمایا مومن اپنی تلوار سے بھی جہاد کرتا ہے اور زبان سے بھی جہاد کرتا ہے قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم جو اپنی زبانوں سے ان کے تیرمارتے ہو وہ گویا کمانوں سے تیر مارنے کی طرح ہے۔
جہاد میں اشعار کہنا تیروں جیسا اثر رکھتا ہے۔
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ عمرۃ القضا کے موقع پر رسول اللہ مکہ میں داخل ہوئے ابن رواحہ حضور کے آگے آگے چل رہے تھے اور حرم کے اند رشعر پڑھ رہے…
Read the full tafseer →227۔ بخاری شریف 5 ؎ میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے اور مسلم میں 6 ؎ جابر ؓ سے روایتیں ہیں جن میں پیغمبر ﷺ نے ارشا فرمایا بچو ظلم سے کس واسطے کہ ظلم قیامت کے روزاندہیریاں ہیں مطلب یہ ہے کہ ظلم کے باعث سے ظالم کے آگے اندھیرے پر اند ہیرا ہوگا اس آیت میں قتادہ (رح) کے قول کے موافق ظالموں سے مراد گمراہ شاعر ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا کہ وہ جرم شرک کے علاوہ اسلام ناحق سمجھ کر اسلام اور اہل اسلام کی ہجو کیا کرتے تھے اس واسطے ایسے لوگوں کو حق اللہ اور حق العباد دونوں طرح کے جرموں کی سزا قیامت کے دن ہوگی حاصل کلام یہ ہے کہ اوپر کی روایتیں ای منقلب ینقلبون کی تفسیر ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ ایسے لوگ دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 221–227
آیت 221 سے 227
یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد ﷺ پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد ﷺ شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا : (ھل انبئکم) ” کیا تمہیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟ “ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں، یعنی میں تمہیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں۔ (تنزل علی کل افاک) ” ہر کذاب ](قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیطان نازل ہوتے ہیں۔ “ (اثیم) یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان۔۔۔ اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
شعراء کی دو اقسام
قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…
Read the full tafseer →122 ایماندار اور سچے شاعروں کا استثناء : سو بیکار و بدکار شاعروں سے سچے اور ایماندار شاعروں کا استثناء کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " مگر جو ایمان اور عمل صالح کی دولت سے سرفراز ہوتے ہیں اور وہ اللہ کو بہت یاد کرتے ہیں "۔ اللہ پاک کو یاد کرنے میں یہ بھی داخل ہے کہ اس کا ذکر کیا کریں اور یہ بھی کہ اپنے شعر و کلام سے بھی اس کی تعریف کریں۔ اور اس کی عظمت کو بیان کریں۔ اور اس کی عظمت شان اور ذات وصفات کا ایسا استحضار ہو کہ انسان ہمیشہ اسی کا ہو کر رہ جائے۔ اللّھُمَّ ارْزُقْنَا التَّوْفِیْقَ لِذَالِک وَالسِّدَادَ وَالثَّبَاتَ عَلَیْہِ وَخُذُ بِنَواصِیْنَا اِلٰی مَا فِیْہِ حُبک وَرِضَاک فِیْ کُلِّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد
تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیات نمبر 192 تا 227:
اسرار و معارف
اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…
Read the full tafseer →1 ۔ یعنی جن شعراء کی مذمت کی گئی ہے ان سے ایسے شعرا مستثنیٰ ہیں جو مومن ہوں، نیک کام کرنے والے ہوں اور اللہ کو بکثرت یاد کرتے ہوں اور اپنے کلام سے ظالموں کے مقابلے میں حق کی حمایت کا کام لیتے ہوں جیسے آنحضرت ﷺ کے زمانے میں حضرت حسان ؓ ثابت عبد اللہ ؓ بن رواحہ اور کعب ؓ بن مالک اور دیگر صحابہ ؓ کہ آنحضرت ﷺ خود ان کی حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے، چناچہ ایک موقع پر آپ ﷺ نے حضرت حسان ؓ کے متعلق فرمایا : اللھم ایدہ بروح القدس۔ اے اللہ ! جبریل ( علیہ السلام) کے ذریعہ اس کی تائید فرما۔ بعض احادیث میں جو شعر کی مذمت کی گئی ہے اس سے مراد وہ شعر ہے جو لغویت، بےحیائی اور فحش کلامی پر مبنی ہو۔ ایک حدیث…
Read the full tafseer →(26:227) انتصروا : انتصار (افتعال) سے ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے بدلہ لیا۔ انہوں نے انتقام لیا۔
ما ظلموا۔ میں ما مصدریہ ہے۔ من بعد ما ظلموا۔ اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا۔ ان پر ظلم کئے جانے کے بعد۔ ان پر زیادتی ہوجانے کے بعد۔ یعنی جب مومن ، صالح اور اللہ کا ذکر کرنے والوں کے ساتھ ظلم کی اجائے یعنی ان کے ساتھ زیادتی کی جائے (ہجو کرکے یا کسی اور طرح) تو بدلہ لینے کیلئے اشعار میں جواب دینے میں وہ مستثنیٰ ہیں۔ یہ استثناء اس آیت کے مصداق ہے ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ماعلیہم من سبیل (42:41) اور جو اپنے پر ظلم ہونے کے بعد بدلہ لے لے سو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں۔
اس استثناء میں شعراء اسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–227
لغات القرآن : آیت نمبر 214 تا 227 :
عشیرۃ (قبیلہ۔ خاندان۔ رشتہ دار) اخفض (جھکا دے۔ عاجزی اور تواضع کر) جناح (بازو۔ پر) ‘ بری ئ (بیزار ۔ نفرت) ‘ توکل (بھروسہ کر) تقلب (الٹنا پلٹنا۔ اٹھنا بیٹھنا) ‘ افاک (بہتان و الزام لگانے والا) ‘ اثیم (گناہ کرنے والا۔ گناہ گار) ‘ الغاون (گمراہ لوگ) ‘ یھیمون (وہ گھومتے ہیں) ‘ انتصروا (انہوں نے بدلہ لیا) ‘ ای (کونسا) ‘ منقلب (لوٹنے والا) ‘ ینقلبون (وہ لوٹ کرجاتے ہیں) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 214 تا 227 :
نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے محبوب پیغمبر اور معصوم ہیں جن کی طرف کسی گناہ ‘ خطا یا شرک کا تصور کرنا بھی گناہ ہے۔ آپ کی سیرت و کردار اور قول و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
شاعروں کا ذکر۔
(ف 1) شان نزول۔ یہ آیت شعراء کفار کے حق میں نازل ہوئی جو نبی کی ہجو میں شعر کہتے تھے جیسا محمد ﷺ کہتے ہیں ایسا ہم بھی کہہ لیتے ہیں اور ان کی قوم کے گمراہ لوگ ان سے ان اشعار کی نقل کرتے تھے ان لوگوں کی مذمت میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ لوگ فنون شعر سے ہر فن میں بھٹکتے پھرا کرتے ہیں اور رسول اللہ کی ہجو میں شعر کہتے ہیں ایسے شاعروں کا کچھ اعتبار نہیں جھوٹے اور مبالغہ آمیز بندشیں باندھتے ہیں اور ان میں سے جو ایماندار دین دار لوگ ہیں اور نیک کام کرتے ہیں اور جو رسول اللہ ﷺ کی نعت میں تعریف کرتے ہیں اور اپنے اشعار میں خدا ورسول کو محبت سے یاد کرتے ہیں…
Read the full tafseer →[40] یہاں ان شعراء کو مستثنیٰ کیا گیا ہے جو مومن اور نیک کردار ہوں، اپنے اشعار میں اللہ تعالیٰ کی حمد اور نیکی کی تبلیغ کرتے ہوں، جذبہ دینی کو ابھارتے ہوں اور اسلام کی ہجو کرنے والوں کا احسن طریقے سے جواب دیتے ہوں۔ شاعرِدربار نبوت حسان بن ثابت ؓ ، مولانا روم اور علامہ اقبال کی شاعری اسی طبقے میں آتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
ف 2: حضور کے متعلق ایک شبہ یہ بھی تھا کہ آپ شاعری میں اور محض دقیق قسم کی باتوں سے لوگوں کے دلوں کو موہ لیتے ہیں ۔ ورنہ دراصل ان میں کوئی صداقت نہیں ارشاد فرمایا ۔ کہ تم لوگ منصب الموت سے آگاہ نہیں ۔ تم جانتے کہ کہ نبوت کس قدر اعلیٰ درجے کی چیز ہے ۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ شعراء کس قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ اور ان کا اتباع یس قماش کے لوگ کرتے ہیں ! نبوت اور شعاری میں کیا نسبت ۔ نبوت تو سراسر عمل کا نام ہے ۔ اور شاعری ہمہ گمراہی وبے عملی ۔ الشعراء کا کوئی خاص نصب العین نہیں ہوتا ۔ وہ محض بیکار اور بےعمل لوگ ہوتے ہیں ۔ اور ہر رو میں بہ جاتے ہیں ۔ بخلاف اس کے انبیاء سراپا فکر کا مجسمہ اور نہایت سلیم…
Read the full tafseer →(227) مگر ہاں وہ شاعر مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے اور انہوں نے اپنے اشعار میں بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور انہوں نے اس ظلم کی بعد جو ان پر کیا جاچکا ہے اس ظلم کا انتقام اور بدلا لیا اور عنقریب ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم پر کمر باندھ رکھی ہے یہ معلوم ہوجائے گا کہ کیسی جگہ پلٹ کرجانا ہے اور وہ کس کو وٹ الٹتے ہیں ان مخصوص شاعروں کو مستثنیٰ فرمایا جو اپنے اشعار میں اللہ تعالیٰ کی پیغمبر خدا ﷺ کی ثناء اسلام کی تعریف مسلمانوں کی ہمت افزائی اور ان کی شجاعت اور جو منکر اسلام کی ہجو کریں ان کا جواب اور جن پر ظلم کیا گیا اور ان کو وطن سے اجاڑا گیا وہ ظلم کی پاداش میں ظالموں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 225–227
ف 3۔ یعنی شرع کے خلاف نہ ان کا قول ہے نہ فعل، یعنی ان کے اشعار میں بےہودہ مضامین نہیں ہیں۔
4۔ مراد اس سے جہنم ہے۔
Read the full tafseer →شاعروں میں بھی سب ایک جیسے نہیں جہاں کثرت بدعملوں کی ہے وہاں نیک عمل بھی ہیں :
227۔ مشہور ومعروف ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں جہاں شاعروں کی اکثریت کا یہ حال ہے وہاں اپنے شاعر بھی موجود ہوتے ہیں جن میں یہ اوصاف جو اوپر بیان کئے گئے ہیں نہیں ہوتے یا بہت ہی کم ہوتے ہیں اس لئے جہاں شعر و شاعری کی اصلیت کو بیان کیا وہاں اس میں ان لوگوں کو مستثنی بھی کردیا جن میں ایمان وعمل کی زندگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے وہ بولتے بھی احتیاط کے ساتھ ہیں اور ہر وادی میں گم ہونے کے لئے بھی وہ تیار نہیں ہوتے اگر کوئی شعر کہتے ہیں یا ان کی طبع میں کوئی ایسا میلان موجود ہے تو وہ نہایت احتیاط سے کام لیتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 224–227
وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ ﴿224﴾
As for the poets, they are followed by the straying people. - 26:224.
شِعر (Shi'r) which is the origin of Shu` ara' and is translated as poetry; is an Arabic word which lexically means any statement based on imagination and ideas not confirmed by serious proofs. It is not necessary for being a شِعر 'Shi'r' in original Arabic to have a particular rhythm or qafiyah or radif.
Since the technical شِعر shi` r (poetry) which is always based on particular rhythms is generally composed of imaginary thoughts, the technical definition of شِعر shi` r…
Read the full tafseer →145 Here those poets have made an exception from the general reproach, who possess the following four characteristics:
(1) They should be believers in Allah, His Prophets, His Books and the Hereafter.
(2) They should be pious in practical life and not sinners, nor free from moral restrictions to say whatever they like.
(3) They should be remembering Allah much in their day to day lives as well as in their literary work. It should not be so that their personal lives reflect God-consciousness and piety, but their poetry is replete with themes of debauchery and lusts of the flesh, or that their…
Read the full tafseer →