Ash-Shu'araa 26:226

Ash-Shu'araa · from ayah 226

26:226

وَاَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ ۟ۙوَاَنَّهُمۡ يَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا يَفۡعَلُوۡنَۙ

اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And that they say what they do not do? -

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 11 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:226

اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور وه کہتے ہیں جو کرتے نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کہ وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ کہتے ہیں جو نہیں کرتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور یہ کہ وہ (ایسی باتیں) کہتے ہیں جنہیں (خود) کرتے نہیں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ کہ بیشک وہ کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ کہتے ہیں وہ جو کرتے نہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ کہتے وہ کچھ ہیں جو خود کرتے نہیں۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ کہتے وہ ہیں جو وہ کرتے نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ کہ وہ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہتے وہ ہیں جو کرتے نہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

and say things which they do not act upon,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and that they say what they do not?

— Muhammad Taqi Usmani

and that they say what they do not?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And that they say what they do not do.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And how they say that which they do not?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And that they say what they do not do? -

— Saheeh International

and preaching what they themselves never practice.

— Muhammad Sarwar

And that they say that which they do not do,

— Muhammad Habib Shakir

And that they say that which they do not?

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 26:226

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 221–227

شیاطین اور جادوگر مشرکین کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اسکو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 144 یہ شاعروں کی ایک اور خصوصیت ہے جو نبی ﷺ کے طرز عمل کی عین ضد تھی۔ حضور ﷺ کے متعلق آپ کا ہر جاننے والا جانتا تھا کہ آپ جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں اور جو کرتے ہیں وہی کہتے ہیں۔ آپ کے قول اور فعل کی مطابقت ایسی صریح حقیقت تھی جس سے آپ کے گرد و پیش کے معاشرے میں کوئی انکار نہ کرسکتا تھا۔ اس کے برعکس شعراء کے متعلق کس کو معلوم نہ تھا کہ ان کے ہاں کہنے کی باتیں اور ہیں اور کرنے کی اور۔ سخاوت کا مضمون اس زور شور سے بیان کریں گے کہ آدمی سمجھے شاید ان سے بڑھ کر دریا دل کوئی نہ ہوگا۔ مگر عمل میں کوئی دیکھے تو معلوم ہوگا کہ سخت بخیل ہیں۔ بہادری کی باتیں کریں گے مگر خود بزدل ہوں گے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 224–227

شعر کی تعریف وَالشُّعَرَاۗءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ ، اصل لغت میں شعر ہر اس کلام کو کہا جاتا ہے جس میں محض خیالی اور غیر تحقیقی مضامین بیان کئے گئے ہوں جس میں کوئی بحر، وزن، ردیف اور قافیہ کچھ شرط نہیں، فن منطق میں بھی ایسے ہی مضامین کو ادلہ شعریہ اور قضایا شعریہ کہا جاتا ہے۔ اصطلاحی شعر و غزل میں بھی چونکہ عموماً خیالات کا ہی غلبہ ہوتا ہے اس لئے اصطلاح شعراء میں کلام موزوں مقفّٰی کو شعر کہنے لگے۔ بعض مفسرین نے آیات قرآن بَلْ هُوَ شَاعِرٌ، شَاعِرٍ مَّجْــنُوْنٍ ، شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ وغیرہ میں شعر اصطلاحی کے معنی میں مراد لے کر کہا کہ کفار مکہ حضور ﷺ کو وزن دار، قافیہ دار کلام لانے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 224–227

آیت 227-244 آنحضرت پر اشعر ہونے کے الزام کی تردید اوپر کی آیات میں آنحضرت ﷺ پر کہانت کے الزام کی تردید ہوئی۔ اب آگے کی آیات میں شعر و شاعری کے الزام کی تردید آرہی ہے۔ قریش آنحضرت ﷺ کو شاعر یا قرآن کو جو شعر کہتے تھے تو شعر یا شاعری کے معروف معنی میں نہیں کہتے تھے۔ آخر وہ ایسا کہہ بھی کیسے سکتے تھے، معروف معنی میں نہ آنحضرت ﷺ کو شاعر کہنے کی کوئی وجہ تھی اور نہ قرآن کو شعر کہنے کی۔ اصل یہ ہے کہ جب قریش نے دیکھا کہ قرآن کی فصاحت و بلاغت دلوں کو مفتوح کرتی جا رہی ہے اور اس طرح اس کے خدائی کتاب ہونے کا دعویٰ روز بروز مسحتکم ہوتا جا رہا ہے تو اس کے توڑ کے لئے انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ قرآن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 224–226

226-1شاعروں کی اکثریت چونکہ ایسی ہوتی ہے کہ وہ اصول کی بجائے، ذاتی پسند و ناپسند کے مطابق اظہار رائے کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں غلو اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں اور شاعرانہ تخیلات میں کبھی ادھر اور کبھی ادھر بھٹکتے ہیں، اس لئے فرمایا کہ ان کے پیچھے لگنے والے بھی گمراہ ہیں، اسی قسم کے اشعار کے لئے حدیث میں بھی فرمایا گیا ہے کہ ' پیٹ کو لہو پیپ سے بھر جانا، جو اسے خراب کر دے، شعر سے بھر جانے سے بہتر ہے ' (ترمذی و مسلم وغیرہ)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

53: یعنی اپنی شیخی بگھارتے ہوئے ایسے دعوے کرتے ہیں جن کا ان کی عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 221–226

ھل انیئکم ……کذبون (041) عربوں میں کاہن ہوا کرت ی تھے ، ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جن انہیں غیب کی خبریں دیتے ہیں اور لوگ ان کے ہاں جاتے تھے اور ان کی پیش گوئیاں سنتے تھے ان کاہنوں میں سے اکثر جھوٹے ہوتے تھے۔ ان کاہنوں کی تصدیق وہ لوگ کرتے تھے جو ہر قسم کے اوبام اور ہر قسم کے افسانوں پر یقین کرنے کے لئے تیار ہوتے تھے لیکن یہ کاہن بہرحال لوگوں کو کسی بھلائی کی طرف نہ بلاتے تھے اور نہ لوگوں کی قیادت راہ ایمان کی طرف کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا حال ان سے بہت مختف تھا۔ رسول اللہ کو قرآن کے ذریعہ ایک نہایت ہی ٹھوس نظام زندگی کی طرف بلاتے تھے۔ یہ کاہن قرآن کے بارے میں کبھی کہتے یہ شعر ہے اور حضور ﷺ کے بارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

14 یعنی شعر پڑھو تو معلوم ہو کہ رستم سے زیادہ بہادر اور شیر سے زیادہ دلیر ہوں گے، اور جا کر ملو تو پرلے درجہ کے نامرد اور ڈرپوک کبھی دیکھو تو ہٹے کٹے ہیں اور اشعار پڑھو تو خیال ہو کہ نبضیں ساقط ہو چکیں، قبض روح کا انتظار ہے۔ حالی نے مسدس میں ان کے جھوٹ کا خوب نقشہ کھینچا ہے۔ غرض ایک پیغمبر خدا اور وہ بھی خاتم الانبیاء کو اس جماعت سے کیا لگاؤ۔ اسی لیے فرمایا۔ (وَمَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْۢبَغِيْ لَهٗ ) 36 ۔ یس :69) آپ ﷺ کی جو بات تھی سچی، جچی تلی باون تولے پاؤ رتی، تحقیق کے ترازو میں تلی ہوئی۔ پھر جو بات زبان مبارک سے سنی جاتی تھی وہ ہی علم میں آنکھوں سے نظر آتی تھی۔ بھلا شاعر ایسے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 226 وَاَنَّہُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ ” شعراء کے بارے میں سب سے بڑی بات یہاں یہ بتائی گئی کہ ان کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے اور یہ عادت بہت گھٹیا کردار کی مظہر ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

136 شاعر حضرات کی دوسری خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ ان کے قول اور فعل میں نمایاں تضاد ہوتا ہے وہ کہتے کچھ اور ہوتے کچھ ہیں۔ اور یہ چیز رسول اللہ ﷺ کے طرز عمل کے عین ضد تھی۔ آپ جو تعلیم پیش کرتے تھے سب سے پہلے خود اس پر عمل پیرا ہوتے تھے پھر ایمان لانے والوں کو اسی تعلیم کا نمونہ بناتے تھے۔ لہذا اے مشرکین مکہ ! خود ہی اندازہ کرلو کہ اس پیغمبر کے شاعر ہونے کا جو الزام تم لگا رہے ہو وہ کہاں تک درست ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

122۔ شاعر کو عمل کی زندگی سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ وہ مضامین شجاعت و مردانگی کے باندھے گا لیکن خود بھاگنے والوں میں سب سے آگے ہوگا، وہ قصیدہ خوانی عفت وعصمت کی کرے گا، اور خود انتہا درجہ کا بدچلن اور سیاہ کار ہوگا۔ عام دستور ہر ملک وقوم کے شاعروں کا یہی ہے۔ قوم کی قوت عملی کو وہ اور کمزور کرتے رہتے ہیں۔ تاریخوں میں آتا ہے کہ دور اموی کے مشہور عرب شاعر فرزدق نے جب اپنا وہ شعر جس میں اپنی حرامکاری کو مزے لے لے کر بیان کیا ہے خلیفہ وقت سلیمان بن عبدالملک کو سنایا تو خلیفہ نے برجستہ کہا کہ اس اقبال جرم کے بعد تم پر حد شرعی واجب آگئی، شاعر نے فورا یہی آیت قرآنی اپنی صفائی میں پڑھ کر اپنی جان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 192–227

آیت نمبر 192 تا 227 ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانہم یقولون ما لا یفعلون۔ اور وہ باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔ وادی سے کلام کی ایک نوع جیسے مدح ‘ ذم ‘ فخر ‘ بیان محبت ‘ اظہار بغض وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اَنَا فِی وَادٍ وَاَنْتَ فِیْ وَادٍ اُخَرَ ۔ میں ایک وادی میں ہوں (ایک قسم کی بات کر رہا ہوں) اور تو دوسری وادی میں ہے (دوسری قسم کی بات کر رہا ہے) ۔ ہَائمسرگرداں ‘ اپنے رخ پر بغیر کسی حد پر رکے چلا جانے والا۔ یعنی شعراء کلام میں انتہائی مبالغہ کرتے ہیں جھوٹ کی پروا بھی نہیں کرتے ان کے پیشتر کلامی مقدمات محض خیالی بےحقیقت ہوتے ہیں۔ قتادہ نے کہا شعراء تعریف بھی جھوٹی کرتے ہیں اور ہجامہ بھی غیر واقعی۔ بعض نے فِی کل وادٍ یَّہِیْمُوْنَکا مطلب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 225–226

(225۔ 226) اے محمد ﷺ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ وہ شاعر لوگ خیالی مضامین کے ہر میدان میں حیران ٹکریں مارتے ہوئے مضامین کی تلاش میں پھرا کرتے ہیں کہ کسی کی تعریف کردی تو کسی کی برائی کردی اور وہ زبان سے ایسی باتیں کرتے اور آسمان کے قلابے ملاتے اور شیخیاں بگھارتے ہیں کہ جن کو وہ کر بھی نہیں سکتے اور ایسا شاعر اور اس کی راہ پر چلنے والا دونوں گمراہ ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ والشعرآء یتبعھم الغاون“۔ (الخ) نیز ابن جریر ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے عوفی کے واسطہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے زمانہ میں دو شخصوں نے ایک دوسرے کی برائی کی ایک تو ان میں سے انصاری تھا اور دوسرا دوسری قوم کا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَنَّهُمْ يَقُوْلُوْنَ مَا لَا يَفْعَلُوْنَ : یہ شاعروں کی تیسری خصوصیت ہے جو نبی ﷺ کے طرز عمل کی عین ضد تھی، آپ ﷺ کو جاننے والا ہر شخص جانتا تھا کہ آپ جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں، دوست دشمن سب کا اتفاق تھا کہ آپ کے قول و فعل میں تضاد نہیں، جب کہ شاعروں کے متعلق ہر شخص جانتا ہے کہ ان کے کہنے کی باتیں اور ہوتی ہیں، کرنے کی اور۔ شعر پڑھو تو معلوم ہوگا کہ شیر سے زیادہ بہادر ہیں مگر پرلے درجے کے بزدل ہوں گے، سخاوت کا مضمون ایسا باندھیں گے کہ آدمی سمجھے ان سے بڑا سخی کوئی نہیں جب کہ واقع میں سخت کنجوس ہوں گے، زہد و قناعت اور خود داری کا بلند بانگ دعویٰ کریں گے جب کہ حرص و طمع میں ذلت کی آخری حد کو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 224–227

(والشعر یتبعہم الغاون۔۔۔۔۔ ) مسئلہ نمبر 1 :۔ الشعراء۔ یہ شاعر کی جمع ہے جس طرح جاہل کی جمع جہلاء ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد کفار ہیں ان کی جنوں اور انسانوں میں گمراہ لوگ پیروی کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : الغاون سے مراد حق سے بھٹکے ہوئے ہیں اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ شعراء بھی گمراہ ہیں کیونکہ اگر وہ گمراہ نہ ہوتے تو ان کے پیروکار گمراہ نہ ہوتے ہم سورة نور میں بیان کرچکے ہیں کہ کن اشعار کو پڑھنا جائز ہے، کن کو پڑھنا مکروہ ہے اور کن کو پڑھنا حرام ہے۔ امام مسلم نے عمرو بن شرید سے وہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں ایک روز میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا پوچھا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 224–227

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانی میں دو آدمیوں (یعنی دو شاعروں) باہم ہجو کا مقابلہ کیا ایک انصاری تھا اور دوسرا کسی اور قبیلہ سے تھا دونوں میں سے ہر ایک کے ساتھیوں میں کچھ بیوقوف قسم کے لوگ تھے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی آیت ” والشعراء یتبعہم الغاون “ الآیات۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے اس طرح روایت کیا۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں دو شاعروں نے باہم ہجو کا مقابلہ کیا اور ان میں سے ہر ایک کے ساتھ لوگوں کی جماعتیں تھیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی آیت ” والشعراء یتبعہم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَنَّهُمْ [ اور یہ کہ وہ ] يَقُوْلُوْنَ [ کہتے ہیں ] مَا [ وہ جو ] لَا يَفْعَلُوْنَ [ وہ کرتے نہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 226–227

اس کے بعد مومنین صالحین کا استثناء فرمایا (اِِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّانتَصَرُوْا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا) (یعنی جو لوگ شاعروں کی مذکورہ بالا جماعت سے خارج ہیں) چونکہ ان میں ایمان ہے اعمال صالحہ میں لگے رہتے ہیں اور اللہ کے ذکر میں کثرت سے مشغول رہتے ہیں اس لیے اگر شعر بھی کہتے ہیں تو جھوٹی بےتکی بہکی بہکی باتوں سے بچ کر رہتے ہیں۔ ان کے اشعار بھی ایمان اور اعمال صالحہ کی دعوت دیتے ہیں اللہ سے لو لگانے کی ترغیب دیتے ہیں اشعار میں اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتے ہیں اور اعمال صالحہ کی طرف متوجہ کرتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 224–227

ابطال شاعریت کفار آنحضرت ﷺ کو کبھی کاہن بتاتے اور کبھی شاعر بتاتے۔ گزشتہ آیات میں آپ کے کاہن ہونے کی تردید کی اب آئندہ آیت میں آپ کے شاعر ہونے کی تردید کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ قرآن کو شعر کہنا اور حضور پر نور ﷺ کو شاعر کہنا مشرکین کی کھلی ہٹ دھرمی ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور شاعروں کی پیروی کرتے ہیں۔ گمراہ لوگ جو خیالی اور نفسانی چیزوں کے دلدادہ ہوتے ہیں برخلاف محمد رسول اللہ ﷺ کے پیروی کرنے والوں کے، کہ وہ نہایت متقی اور پرہیزگار ہیں اور آخرت کے طلبگار اور دنیا سے بیزار ہیں۔ پس اگر محمد ﷺ شاعر ہوتے اور شاعروں کی طرح نفسانی اور خیالی باتیں کیا کرتے تو آپ ﷺ کے پیروی کرنے والے فسق وفجور سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 226–227

79:۔ مومن اور نیک شعراء کو ماقبل سے مستثنی کردیا گیا۔ وہ شعراء جو مومن اور صالح ہیں اور اپنے اشعار میں اللہ کی توحید، اس کی حمد و ثنا، مدح پیغمبر (علیہ السلام) اور ترغیب و ترہیب کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ کسی کی ہجو میں ابتداء نہیں کرتے ہاں اگر کوئی اسلام پر یا پیغمر خدا ﷺ کی ذات پر حملہ کرے تو اس کا جواب دیتے ہیں۔ ای کان ذکر اللہ وتلاوۃ القران اغلب علیہم من الشعر واذا قالو شعرا قالوہ فی توحید اللہ تعالیٰ والثناء علیہ والحکمۃ والموعظۃ والزھد والادب و مدح رسول اللہ ﷺ والصحابۃ و صلحاء الامۃ ونحو ذلک مما لیس فیہ ذنب (مدارک ج 3 ص 153) ۔ 80:۔ یہ تخویف دنیوی ہے ” الذین ظلموا “ سے مشرک مراد ہیں جو توحید کا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 224–227

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر تسلی کا مضمون بیان کیا گیا ہے ۔ مختلف انبیاء علہیم السلام اور ان کی قوموں کا حال بیان کر کے قوموں کی تباہی کا ذکر کیا گیا ہے تا کہ حضور ﷺ اور آپ کے ماننے والے دل برداشتہ نہ ہوں اور جان لیں کہ اہل حق کو ہمیشہ ایسی ہی تکالیف برداشت کرنا پڑی ہیں ، تا ہم انجام ہمیشہ انہیں کا اچھا ہوتا رہا ہے اور نافرمان ناکامو نامراد ہی رہے ہیں ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی چار بنیادی مسائل بیان ہوئے ہیں یعنی توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت صداقت ، گزشتہ درس میں صداقت قرآن کا بیان تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا بےمثال علام ہے اور ایسا کلام نازل کرنا شیاطین کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَنَّہُمْ يَقُوْلُوْنَ مَا لَا يَفْعَلُوْنَ۝ 226ۙ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ فعل الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله، (ع ل ) الفعل کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 224–227

1 ؎ یعنی جب ان کی کسی نے ہجو کر کے ستایا تب وہ کسی کو ستاتے ہجو کرتے بدلہ لیتے ہیں ابتداء نہیں کرتے جیسا کہ حسان بن ثابت انصاری۔ 12 منہ۔ 2 ؎ یعنی ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 222–226

وَالشُّعَرَآئُ یَـتَّبِعُھُمُ الْغَاوٗنَ ۔ اَلَمْ تَرَاَنَّھُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّھِیْمُوْن۔ وَاَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ مَالاَ یَفْعَلُوْنَ ۔ اِلاَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّانْتَصَرُوْا مِنْ م بَعْدِمَاظُلِمُوْا ط وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ ۔ (الشعرآء : 224 تا 227) (اور شعراء، بہکے ہوئے لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں۔ وہ کہا کرتے ہیں ایسی باتیں جن پر وہ خود عمل نہیں کرتے۔ بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے جنھوں نے نیک اعمال کیے اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 225–227

فہم القرآن ربط کلام : اکثر شعراء اوٹ پٹانگ باتیں کرتے ہیں اگر ان کے کلام میں کوئی اچھی بات پائی جائے تو اس پر خود عمل پیرا نہیں ہوتے سوائے ان شاعروں کے جو صحیح العقیدہ اور صالح کردار ہوتے ہیں۔ شعراء اور ان کے متبعین کی گمراہی کا ذکر کرنے کے بعد ان لوگوں کو اس گروہ سے مستثنیٰ قرار دیا ہے جو صحیح العقیدہ اور نیک اعمال کرنے کے ساتھ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنے والے ہیں۔ آیات کے سیاق وسباق کے حوالے سے ایمان والوں سے مراد یہاں سب سے پہلے صحیح العقیدہ اور صالح کردار شاعر ہیں۔ کیونکہ اس سے پہلے بےعمل اور بیہودہ شاعروں کا تذکرہ ہے اس لیے یہاں پہلے مخاطب نیک شعراء ہیں۔ نیک شاعر اور عقیدہ توحید…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

226: فرزدق کا قول ہے سیلمان بن عبدالملک نے میرا یہ شعر سنا ؎ فَبِتْنَ بجا نبیَّ مُصرَّعاتٍ ٭ وبِتُّ اَفُضُّ اغلاقَ الختامِ تو سلیمان نے کہا تم پر حد لازم آتی ہے فرزدق کہنے لگا اللہ تعالیٰ نے حد مجھ سے یہ فرما کر ہٹالی۔ اور آیت پڑھی وَاَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ مَالَا یَفْعَلُوْنَ (اور وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے کذب اور وعدہ خلافی کو ذکر فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

226۔ وانھم یقولون مالایفعلون۔ وہ اپنے اشعار میں جھو ٹ بولتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے یہ یہ بات کہی اور وہ جھوٹے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا اگر کسی کے پیٹ میں لہو، پیپ بھرا ہوا اس کی صحت کو غارت کردے تو اس سے بہتر ہے کہ اس کے اندر شعر بھرے ہوں ۔ پھر اس سے مسلمان شعراء کا استثنی کیا جو زمانہ جاہلیت کے شعراء کا جواب دیتے ہیں اور کفار کے اشعار کی ہجو کرتے ہیں اور نبی کریم اور ان کے صحابہ کرام کی طرف سے دفاع کرتے ہیں ان میں سے حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحہ، کعب بن مالک ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 225–226

225 تا 226۔ معتبر سند سے ادت مضرد بخاری مستدرک حاکم تفسیر ابن ابی حاتم میں جو شان نزول ان آیتوں کو حضرت عبداللہ بن عباس وغیرہ کی روایت 2 ؎ سے بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عرب میں دو قبیلوں کے لوگوں میں کچھ مخالفت ہوجاتی تھی تو ایک شاعر ایک قبیلہ کی طرف ہوجاتا تھا اور دوسرا شاعر دوسرے قبیلہ کی طرف اور ہجو کے قصیدے دونوں طرف سے ہوا کرتے تھے اور جس طرح اس زمانہ کے شاعر فارسی اور اردو میں فرضی اور جھوٹے مضمون باندھتے ہیں اسی طرح ایک طرف کا شاعر دوسری طرف کے لوگوں کی صحیح اور غلط ہجو کیا کرتا تھا اور قبیلہ کے لوگ اپنی طرف والے شاعر کے ساتھ بن جایا کرتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے شاعروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 221–227

آیت 221 سے 227 یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد ﷺ پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد ﷺ شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا : (ھل انبئکم) ” کیا تمہیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟ “ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں، یعنی میں تمہیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں۔ (تنزل علی کل افاک) ” ہر کذاب ](قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیطان نازل ہوتے ہیں۔ “ (اثیم) یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان۔۔۔ اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 224–227

شعراء کی دو اقسام قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

121 شعراء کا کام کہنا کچھ اور کرنا کچھ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ شاعروں کی خاصیت یہ ہے کہ کہنا کچھ اور کرنا کچھ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ کہتے ہیں وہ کچھ جو خود کرتے نہیں "۔ جبکہ محمد رسول اللہ ﷺ کا اسوئہ حسنہ اس کے بالکل برعکس یہ ہے کہ آپ ﷺ نے جو فرمایا اس پر سب سے پہلے خود عمل کیا۔ اور اپنوں کو اس راہ پر چلایا۔ دنیا کے سامنے سب سے پہلے خود اپنا عملی نمونہ پیش فرمایا۔ اور نمونہ بھی ایسا کامل واکمل کہ ساری دنیا کے لئے مینارہ نور اور نشان رشد و ہدایت ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) جبکہ شاعر جیسا کہ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ صرف گفتار کے غازی ہوتے ہیں نہ کہ عمل و کردار کے۔ وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 192–227

قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 192–227

آیات نمبر 192 تا 227: اسرار و معارف اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

15 ۔ کیونکہ انہیں اپنے کسی قول کا پاس نہیں ہوتا۔ ان کے کسی شعر کو پڑھو تو معلوم ہوگا کہ ان سے بڑھ کر کوئی بہادر اور دریا دل نہیں لیکن ان کی عملی زندگی دیکھو تو پرلے درجے کے ڈرپوک اور مکھی چوس۔ بھلا ایک پیغمبر۔ اور وہ بھی خاتم الانبیا ﷺ ۔ کو ان سے کیا لگائو ؟۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 225–226

(26:225) واد اصل میں وادی تھا۔ (ودی مادہ) الوادی اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پانی بہتا ہو اسی سے وہ پہاڑوں کے درمیان کشادہ زمین کو وادی کہا جاتا ہے اس کی جمع اور یۃ ہے۔ جیسے ناد کی جمع اندیۃ ہے اور ناج کی جمع انجیۃ ہے۔ استعارہ کے طور پر مذہب، طریقہ اور اسلوب بیان کو وادی کہا جاتا ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے فلان فی واد غیر وادیک۔ کہ فلاں کا مسلک تجھ سے جدا گانہ ہے۔ یہاں اس آیت میں بھی فی کل واد سے مختلف اسالیب سخن مراد ہیں َ جیسے مدح۔ ہجو۔ جدل۔ غزل وغیرہ۔ چناچہ شاعر نے کہا ہے :۔ اذاما قطعنا وادیا من حدیثنا الی غیرہ زدنا الاحادیث وادیا جب ہم موضوع سخن کی ایک وادی کو قطع کرلیتے ہیں تو دوسری وادی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 214–227

لغات القرآن : آیت نمبر 214 تا 227 : عشیرۃ (قبیلہ۔ خاندان۔ رشتہ دار) اخفض (جھکا دے۔ عاجزی اور تواضع کر) جناح (بازو۔ پر) ‘ بری ئ (بیزار ۔ نفرت) ‘ توکل (بھروسہ کر) تقلب (الٹنا پلٹنا۔ اٹھنا بیٹھنا) ‘ افاک (بہتان و الزام لگانے والا) ‘ اثیم (گناہ کرنے والا۔ گناہ گار) ‘ الغاون (گمراہ لوگ) ‘ یھیمون (وہ گھومتے ہیں) ‘ انتصروا (انہوں نے بدلہ لیا) ‘ ای (کونسا) ‘ منقلب (لوٹنے والا) ‘ ینقلبون (وہ لوٹ کرجاتے ہیں) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 214 تا 227 : نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے محبوب پیغمبر اور معصوم ہیں جن کی طرف کسی گناہ ‘ خطا یا شرک کا تصور کرنا بھی گناہ ہے۔ آپ کی سیرت و کردار اور قول و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 224–227

شاعروں کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول۔ یہ آیت شعراء کفار کے حق میں نازل ہوئی جو نبی کی ہجو میں شعر کہتے تھے جیسا محمد ﷺ کہتے ہیں ایسا ہم بھی کہہ لیتے ہیں اور ان کی قوم کے گمراہ لوگ ان سے ان اشعار کی نقل کرتے تھے ان لوگوں کی مذمت میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ لوگ فنون شعر سے ہر فن میں بھٹکتے پھرا کرتے ہیں اور رسول اللہ کی ہجو میں شعر کہتے ہیں ایسے شاعروں کا کچھ اعتبار نہیں جھوٹے اور مبالغہ آمیز بندشیں باندھتے ہیں اور ان میں سے جو ایماندار دین دار لوگ ہیں اور نیک کام کرتے ہیں اور جو رسول اللہ ﷺ کی نعت میں تعریف کرتے ہیں اور اپنے اشعار میں خدا ورسول کو محبت سے یاد کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 224–226

[39] یعنی شاعر کو عمل کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ مضامین شجاعت و مردانگی باندھے گا لیکن خود بھاگنے والوں میں سب سے آگے ہوگا۔ وہ عصمت و عفت کی قصیدہ خوانی کرے گا اور خود انتہا درجے کا بدچلن اور سیہ کار ہوگا۔ عام دستور ہر ملک و قوم کے شاعروں کا یہی ہے۔ شاعروں کی یہ خصوصیت نبی ﷺ کے طرزعمل کی عین ضد تھی۔ آپ کے قول و فعل کی مطابقت ایسی صریح حقیقت تھی جس سے آپ کے گردوپیش معاشرے میں کوئی شخص بھی انکار نہ کرسکتا تھا۔ لہذا کفار کا آپ ﷺ کو شاعر کہنا حقیقت کے خلاف تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 224–227

ف 2: حضور کے متعلق ایک شبہ یہ بھی تھا کہ آپ شاعری میں اور محض دقیق قسم کی باتوں سے لوگوں کے دلوں کو موہ لیتے ہیں ۔ ورنہ دراصل ان میں کوئی صداقت نہیں ارشاد فرمایا ۔ کہ تم لوگ منصب الموت سے آگاہ نہیں ۔ تم جانتے کہ کہ نبوت کس قدر اعلیٰ درجے کی چیز ہے ۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ شعراء کس قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ اور ان کا اتباع یس قماش کے لوگ کرتے ہیں ! نبوت اور شعاری میں کیا نسبت ۔ نبوت تو سراسر عمل کا نام ہے ۔ اور شاعری ہمہ گمراہی وبے عملی ۔ الشعراء کا کوئی خاص نصب العین نہیں ہوتا ۔ وہ محض بیکار اور بےعمل لوگ ہوتے ہیں ۔ اور ہر رو میں بہ جاتے ہیں ۔ بخلاف اس کے انبیاء سراپا فکر کا مجسمہ اور نہایت سلیم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(226) یہ شاعر وہ باتیں کہا کرتے ہیں جو کرتے نہیں یعنی نبی کریم ﷺ نہ کاہن ہیں نہ شاعر شاعروں کی راہ تو بےراہ لوگ چلتے ہیں جو مختلف مضامین کی وادیوں میں حیران و سرگرداں پھرا کرتے ہیں ان کا قول ان کے کردار سے بالکل برعکس باضابطہ شاعری ہو یا نثر کی تک بندی ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافر پیغمبر کو کبھی کاہن کہتے کبھی شاعر سو فرمایا کہ شاعر کی بات سے کسی کو ہدایت نہیں ہوتی اس کی صحبت میں ہزاروں خلق نیکی پر آتے ہیں 12 پھر فرماتے ہیں یعنی جس مضمون کو پکڑ لیا اسی کو بڑھاتے چلے گئے پھر فرماتے ہیں جیسے مردانگی کہتے ہیں زور نہیں رکھتے عشق کہتے ہیں جھوٹ بیماری کہتے ہیں جھوٹ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 225–227

ف 3۔ یعنی شرع کے خلاف نہ ان کا قول ہے نہ فعل، یعنی ان کے اشعار میں بےہودہ مضامین نہیں ہیں۔ 4۔ مراد اس سے جہنم ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شاعر لوگ وہ کچھ کہہ جاتے ہیں جو کرتے نہیں : 226۔ قرآن کریم نے کتنی پتے کی بات بتائی ہے جو اس وقت بھی اور آج بھی بلاشبہ اور لاریب صحیح اور سچ ہے اسی موقع پر بولتے ہیں کہ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے یہ تیسری کسوٹی ہے جو قرآن کریم نے بیان کی ہے بلاشبہ شاعر لوگ اپنے شعروں میں وہ کچھ کہہ دیتے ہیں جو وہ خود نہیں کرتے اور وہ کچھ کہہ دیتے ہیں جو کبھی بھی کر نہیں سکتے اس کی مثالیں کثرت سے آج بھی موجود ہیں وہ اکثر اوقات مکارم اخلاق کی تعریف میں آسمان و زمین کے قلابے ملا دیں گے لیکن ان پر عمل کی توفیق ان کو کبھی نہیں ہوگی ۔ شعروں سے مجھے نہ لگاؤ ہے اور نہ پڑھنے کی عادت یہی وجہ ہے کہ جو اشعار میں نے کہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 224–227

وَالشُّعَرَ‌اءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ ﴿224﴾ As for the poets, they are followed by the straying people. - 26:224. شِعر (Shi'r) which is the origin of Shu` ara' and is translated as poetry; is an Arabic word which lexically means any statement based on imagination and ideas not confirmed by serious proofs. It is not necessary for being a شِعر 'Shi'r' in original Arabic to have a particular rhythm or qafiyah or radif. Since the technical شِعر shi` r (poetry) which is always based on particular rhythms is generally composed of imaginary thoughts, the technical definition of شِعر shi` r…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

144 This characteristic of the poets was just the antithesis of the Holy Prophet's conduct and practice. Everybody knew that the Holy Prophet said what he practised and practised what he said. The fact that there was complete conformity between his word and deed, could not be denied by anybody. On the contrary, everyone was well aware that the poets said one thing and practised just the opposite of it. For instance, they would express noble themes of generosity, indifference to worldly wealth, contentment and self-respect in their poetry, but, in practical life, they would turn out to be…

Read the full tafseer →