26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsسراج البیان

Ayahs 26:1–5

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ کھلی کتات کی آیتیں ہیں

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

شاید تو غم میں اپنی جان کو کھونے والا ہے کہ وہ اہل مکہ مسلمان نہیں ہوتے

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو آسمان سے کوئی نشانی ان پر نازل کریں ۔ پھر ان کی گردنیں اس نشانی کے سامنے نیچی رہ جائیں

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

اور رحمن کی طرف سے جب ان کے پاس جب کبھی بھی نئی نصیحت آئی اسی سے انہوں نے منہ موڑا

ف 2: طسم حروف مقطعات ہیں ۔ تفصیل الم کی بحث میں دیکھئے ۔ امام رازی کہتے ہیں ۔ طا سے مراد قلوب عارفین کی طرف و نشاط ہے ۔ اور اس سے مقصود عشاق کا سردرد بہیت ہے ۔ اور م مریدین سے مناجات پر دال ہے ۔ کتاب مبین کے تعارف کے بعد حضور ﷺ کی اس محبت وعشق کا ذکر ہے ۔ جو آپ کو عام انسانوں سے تھی ۔ آپ یہ نہیں چاہتے تھے کہ ایک نفس انسانی بھی نجات سے محروم رہے ۔ اور اللہ کا عذاب کا شکار ہوجائے ۔ آپ نے نہایت جانسوزی سے قوم کو نجات و فلاح کی دعوت دی ، اور صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی تلقین فرمائی ارشاد ہے کہ آپ ان لوگوں کی محبت میں اپنی جان کیوں کھوتے ہیں ۔ اگر یہ لوگ اس وضاحت اور دلائل کی کثرت کے باوجود بھی اسلام قبول نہیں کرتے تو ان کو جانے دیجئے ۔ اور ان کی چنداں پرواہ نہ کیجئے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو یہی منظور ہے کہ حق کی پہچان کے لئے باطل کا وجود قائم رہے اور نہ اس کی استطاعت اور قدرت میں ہے ۔ کہ وہ ایسا زبردست نشان ظاہر کردے ۔ جس کے سامنے ان لوگوں کی گردنیں جھک جائیں اور یہ اسلام کی صداقت قبول کرلیں ۔ حل لغات :۔ باخع : ہلاک کرنے والا ۔ غم کی وجہ سے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والا ۔ ع ایھا الباخع الوحد نفسہ محدث ۔ یعنی نوپیدا ۔ یعنی ہر آیت جو نازل ہوئی وہ لوگوں کی معلومات کے اعتبار سے نئی اور جدید ہوگی ۔ ورنہ اللہ کا علم تو ازلی ہے اس کے لئے کوئی بات بھی نئی اور پرانی نہیں
Ayahs 26:6–9

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

سو یہ جھٹلا چکے اب عنقریب انہیں اس کی حقیقت معلوم ہوجائیں گی جس پر ٹھٹھا (ف 1) کرتے تھے

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین کی طرف نہ دیکھا کہ اس میں ہم نے کس قدر ہر قسم کی نفیس چیزیں اگائی ہیں

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

بیشک اس میں نشانی ہے اور اکثر ان میں ماننے والے نہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

اور اللہ تیرا رب وہی غالب مہربان ہے

ف 1: مقصد یہ ہے ۔ کہ مکہ والوں کی گھٹی میں انکار و اتحاد کے جراثیم ہیں ۔ ان کے لئے قرآن حکیم کی کوئی آیت بھی موجب ہدایت و برکت نہیں ۔ جب قرآن نازل ہوتا ہے ۔ ان کا اغراض اور پہلو تہی بڑھتی جاتی ہے ۔ اور یہ مضحکہ اڑاتے ہیں ۔ اور ہنسی دل لگی میں حقائق کو ٹال دیتے ہیں ۔ ارشاد ہے کہ عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا ۔ کہ اللہ کے کلام سے استہزاء کرنے کی سزا کس درجہ کڑی اور سخت ہے ۔ اولم یروا الی الارض ۔ سے مقصود یہ ہے کہ یہ لوگ بہت کوتاہ نظر ہیں ۔ اگر یہ زمین کی گونا گوں انگڑرایوں پر غور کرتے اور نباتات کے انواع و اقسام اور نفاست کو دیکھتے ۔ تو انہیں معلوم ہوجاتا ۔ کہ فطرت ہمہ افادہ ہے ۔ اور اس کی پیدا کردہ کوئی چیز بھی ثمرے سے خالی نہیں ۔ پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ قرآن میں ان کے لئے کوئی بات بھی قابل قبول نہ ہو اور قرآن کی ہر آیت کو مذاق بنالیں اور تکذیب کریں ۔ انبوت نباۃ کی جمع ہے بمعنے خیر زوج کریم ۔ صفیہ اصنف ۔
Ayahs 26:10–12

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اور جب تیرے رب نے (ف 2) کو پکارا کہ ظالم لوگوں کے پاس جا

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

جو فرعون کی قوم ہے کیا ان کو ڈر نہیں ؟

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

بولا اے رب میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلائیں

حضرت موسیٰ کا مطالبہ آزادی 2: حضرت یوسف سے تقریباً چار سو سال بعد بنی اسرائیل کی حالت مصر میں بہت خراب ہوگئی ۔ اور ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جانے لگے ۔ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا ۔ کہ ان کی بہتری اور بہبودی کے لئے ایک پیغمبر کو بھیجا جائے ۔ جو ان کی غلامی اور بندگی کی زنجیروں کو توڑا دے ۔ اور جو اپنے الفا میں قدسیہ سے ان لوگوں کے دل میں ایمان کی شمع کو روشن کردے ۔ چناچہ اس خدمت کے لئے حضرت موسیٰ منتخب کیا گیا ۔ اور آپ سے کہا گیا ۔ کہ فرعون کی قوم بہت ظالم ہوچکی ہے ۔ اور اس کی سرکشیاں حد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں ۔ تم جاؤ۔ اور اس کی رشدوہدایت کی طرف دعوت دو ۔ آخر کیوں ان لوگوں کے دلوں میں نعشیت وتقوی کے جذبات پیدا نہیں ہوتے ؟ حضرت موسیٰ نے کہا ۔ کہ میں ڈرتا ہوں کہ وہ مطالبے کو ٹھکرا نہ دیں ۔ اور میرے پیغام کی تکذیب نہ کردیں ۔ یہ بھی خیال ہے کہ ان کا سامنا کرنے سے میرے دل میں ایک قسم کی تنگی پیدا ہوتی ہے ۔ اور زبان بھی جو ہر بلاغت ، فضاحت سے محروم ہے ۔ اور ایک یہ بات بھی ہے ۔ کہ قبطی کو مارڈالنے کا جرم بھی مجھ پر ہے ۔ اس لئے مجھے مارے ڈالے جانے کا بھی خوف ہے ۔ غرضیکہ میری انتہا درجہ کی مخالفت ہوگی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ جاؤ ان میں سے کوئی خوف بھی تمہارے دل میں نہیں رہے گا ۔ تمہارے سینے کی تنگی اور حصیق کو انشراح سے بدلے دیتے ہیں ۔ زبان فصیح وبلیغ ہوجائے گی ۔ اور ہاتھ بٹانے کے لئے ہارون کو ساتھ کئے دیتے ہیں ۔ ہماری نشانیاں لے کر فرعون کے پاس جاؤ۔ ہم تمہاری دعاؤں کو سننے والے ہیں ۔ فرعون سے جاکر صاف صاف طور پر کہہ دو ۔ ہم رب العالمین کی طرف سے رسول ہوکر آئے ہیں ۔ اس لئے اب بنی اسرائیل کی غلام کا دور ختم ہوچکا ہے ۔ اب وقت آگیا ہے ۔ کہ تو ان کو آزادی کی نعمت سے بہرہ ور ہونے کا موقع دے ۔ اب یہ عبودیت اور ذلت کی زندگی بسر نہیں کرسکتے ۔
Ayah 26:13

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

اور میرا دل رک جاتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی ، تو ہارون کی طرف پیغام بھیج

حل لغال :۔ لا ینطق یسانی ۔ میری زبان رواں نہیں
Ayahs 26:14–17

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور مجھ ان کا ایک گناہ ثابت ہے کہ مصری مارا تھا ، میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کریں

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

فرمایا ہرگز نہیں ۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ۔ ہم تمہارے ساتھ سنتے ہیں

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

سو فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم جہاں کے ماکل کا پیغام لائے ہیں

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے

ذنب ۔ الزام ۔ گناہ
Ayahs 26:18–19

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

بولا کیا ہم نے تجھے تیرے لڑکپن کے زمانہ میں اپنے گھر میں نہیں پالا تھا ؟ اور تو ہم میں اپنی عمر کے کتنے برسوں تک رہا

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور تو اپنا کام کرگیا جو کرگیا ۔ اور تو ناشکروں میں ہے

نریک ۔ تربیت سے ہے ۔ معنی پالنا ۔ پوسنا ۔ پرورش کرنا
Ayahs 26:20–21

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

بولا وہ کام میں نے اس وقت کیا تھا اور میں بھولنے ، چوکنے والاوں میں سے نہ ہوں

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

پھر جب میں تم سے ڈرا تو تمہارے پاس سے بھاگ گیا ۔ پھر میرے رب نے مجھے حکم عطا کیا اور مجھے رسول بنایا

حل لغات :۔ من الضالین ۔ ضال کی جمع ہے ۔ ضلالت کا لفظ لغزش اور غلطی پر بولا جاتا ہے ۔ اور گمراہی پر بھی یہاں مقصود الغزش ہے ۔ کیونکہ حضرت موسیٰ نے قبطی کو عمدا قتل کیا تھا ۔ بلکہ پیٹا تھا ۔ وہ کمزور ہونے کی وجہ سے جانبرنہ ہوسکا ۔
Ayah 26:22

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور کیا یہی احسان ہے ۔ جو تو مجھ پر رکھتا ہے ۔ کہ تونے بنی اسرائیل (ف 1) کو غلام بنا رکھا ہے

موسیٰ اور فرعون کی بحث 1: حضرت موسیٰ نے جب بنی اسرائیل کی بندگی اور غلامی کے خلاف احتجاج کیا ۔ اور فرعون سے کہا ۔ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کرتا ہوں ۔ تو فرعون نے کہا ۔ یکایک تجھے نبوت کیونکر مل گئی ؟ کیا ہم نے تیری تربیت نہیں کی ۔ اور تمہیں پال پوس کر بڑا نہیں کیا ۔ اور کیا تو ایک مدت تک ہمارے پاس نہیں رہا ۔ اور کیا تونے اس قبطی کو بلاوجہ نہیں مار ڈالا تھا ؟ حضرت موسیٰ نے جواباً کہا ۔ کہ قبطی کے معاملہ میں مجھ سے واقعی لغزش ہوگئی تھی ۔ اور ڈر کر میں بھاگ گیا تھا ۔ اب اللہ نے مجھے سمجھ بوجھ عنایت فرمائی ہے ۔ اور مجھے نبوت کا عہدہ عطا کیا ہے ۔ اس لئے تیری راہنمائی کے لئے آیا ہوں ۔ باقی تربیت وغیرہ کا احسان ، تو کیا پوری قوم کو غلام بناکر ایک فرد کی تربیت کرنا کوئی بہت بڑا احسان ہے ۔ جو تو جتلارہا ہے ۔ اور پھر یہ بھی تو اس وجہ سے ہوا ۔ کہ تونے بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کر ڈالنے کا حکم دے رکھا تھا ۔ یہ تیرے استبداد اور ظلم کا نتیجہ ہے ۔ کہ میں تیرے ہاتھ لگا اور تیرے محل میں میری تربیت ہوئی ۔ اب فرعون نے جب دیکھا ۔ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے نہایت معقول جواب دیئے ہیں ۔ اور اس کے بعد ان سوالات پر مزید گفتگو کی گنجائش نہیں ۔ تو اس نے پہلو بدلا ۔ اور کہا ۔ کہ یہ رب العالمین کون ہے ؟ جس کی طرف سے تو رسول ہوکر ایا ہے ۔ اور جس کی جانب تو ہمیں دعوت دیتا ہے ۔ اور جس کا نام بار بار تیری زبان پر آتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے جواباً کہا ۔ رب العالمین وہ ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ۔ اس پر وہ اپنے حواریوں سے مخاطب ہوکر کہنے لگا ۔ سنتے ہو ۔ موسیٰ کیا کہہ رہے ہیں ؟ گویا وہ چاہتا تھا کہ اپنے اہالی موالیوں کو مشتعل کیا جائے ۔ اور ان کو بتایا جائے ۔ کہ موسیٰ تمہارے معتقدات کے خلاف عقیدہ رکھتا ہے ۔ موسیٰ نے بات کا رخ بدل کر کہا ۔ کہ رب وہ ہے جس نے تم کو پیدا کیا ہے ۔ اور تمہارے آباؤ اجداد کو بھی ۔ فرعون اس مزید تشریح سے گھبرا گیا ۔ اور جو اب بن نہ آیا ۔ تو کہنے لگا ۔ کہ یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ۔ قطعی دیوانہ ہے ۔ موسیٰ نے اس کے جواب کو قابل جواب نہ سمجھتے ہوئے کہا ۔ کہ وہ خدا مشرق ومغرب اور جو کچھ ان دونوں میں ہے ۔ سب کا مالک ہے ۔ مگر تم نافہمی کی وجہ سے محسوس نہیں کرتے ۔ فرعون اس جواب سے بالکل بوکھلا گیا ۔ اسے پہلی دفعہ معلوم ہوا ۔ کہ کوئی ذات ایسی ہے ۔ جو اس سے بہت اعلیٰ وارفع ہے ۔ اور اس کی حدود وسلطنت مشرق سے مغرف تک وسیع ہیں ۔ اس نے غصہ سے بےتاب ہوکر کہا ۔ خبردار ! جو میرے سوا کسی دوسرے کو خدا مانا ۔ ورنہ یاد رکھو ۔ کہ میں تمہیں قید کردوں گا ۔ حضرت موسیٰ نے بالکل بےخوف ہوکر کہا ۔ کیا دلیل ومعجزہ کے بعد بھی تم سختی کروگے ۔ اس نے کہا ۔ اگر تم میں صداقت ہے ۔ تو دلائل پیش کرو ۔ موسیٰ نے اپنی لاٹھی کو ڈالا ۔ تو وہ اژدھا بن گئی ۔ اور بغل میں سے ہاتھ دبا کر نکالا ۔ تو سفید چمکتا ہوا نظر آنے لگا ۔ یہ معجزے دراصل فرعون کے لئے بمنزلہ ، تشبیہ کے تھے ۔ اس کو ان معجزات سے یہ بتانا مقصود تھا ۔ کہ اللہ کی قدرت سے بےجان خشک لکڑی بھی اژدہا بن سکتی ہے ۔ اس لئے تم بنی اسرائیل کو اپنے لئے بےضرر نہ سمجھو ۔ اور ہاتھ کا براق ہونا کامیابی و کامرانی کی طرف اشارہ ہے ۔
Ayahs 26:23–28

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعون نے کہا رب العالمین کیا چیز ہے ؟

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

کہا آسمانوں اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے ۔ اس کا مالک ۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

فرعون نے ان لوگوں سے جو اس کے گرد تھے کہا تم نہیں سنتے ہو ؟

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا ۔ تمہارا رب اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا رب

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

فرعون نے کہا ۔ البتہ یہ تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ۔ دیوانہ ہے

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا ۔ مشرق اور مغرب اور جو ان کے درمیان میں ہے اس رب اگر تم عقل رکھتے ہو

مارب العلمین ۔ ما یہاں منطقی تعریف کے لئے نہیں بلکہ اس کا مقصود یہ تھا کہ موسیٰ خدا کا صحیح صحیح تخیل پیش کریں ۔
Ayahs 26:29–33

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

فرعون نے کہا ۔ اگر تونے میرے سوا کوئی اور معبود ٹھہرایا تو میں تجھے قید خانہ میں بھیج دوں گا

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

بولا اگرچہ میں تیرے پاس ایک روشن چیز لاؤں !

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

کہا اگر تو سچا ہے ۔ تو وہ چیز لا

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

تب اس نے اپنی لاٹھی ڈال دی ۔ تو وہ اسی وقت صریح اژدھا بن گئی

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اندر سے نکالا تو وہ اسی وقت ناظرین کے لئے (سفید) چٹا ہوگیا

المسجونین ۔ سجن سے ہے ۔ جس کے معنے قید خانہ کے ہیں ۔
Ayahs 26:34–35

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

فرعون (ف 1) نے اپنے گرد کے سرداروں سے کہا ۔ یہ کوئی (بڑا ہی) دانا جادوگر ہے

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے ، سو اب تم کیا صلاح دیتے ہو ؟

جادوگروں سے مقابلہ 1: فرعون نے جب موسیٰ کے معجزات کو دیکھا ۔ تو اپنے ہالی موالی سے کہنے لگا ۔ یہ تو بہت سمجھ دار جادوگر ہے ۔ اور چاہتا ہے کہ تم کو بسحر وجادو کے زور سے تمہارے ملک سے نکال دے ۔ اور بنی اسرائیل کو مصر کی حکومت سونپ دے ۔ یہ انقلاب پسند اور باغی ہے ۔ کہو تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے کہا ۔ حضور ان دونوں کو چند مہلت دیجئے اور اس اثنا میں شہروں سے اور دیہات میں کارندے دوڑا دیجئے ۔ تاکہ وہ تمام بڑے بڑے جادوگروں کو لے آئیں ۔ فرعون کو یہ تجویز پسند آئی ۔ اس کے ملک کے ہر گوشہ سے جادو گر بلائے ۔ اور ایک دن مقابلے کے لئے مقرر کیا ۔ تمام لوگوں میں اعلان کے ذریعے مشتہر کردیا گیا ۔ کہ سب اکٹھے ہوں ۔ اور مقابلہ دیکھیں ۔ تاکہ اگر جادوگر غالب آجائیں ۔ تو ہم سب ان کی پیروی کرنے پر مجبور ہوں ۔ چنانچہ جب فرعون کے پاس جادوگر آگئے ۔ تو کہنے لگے ۔ حضور اگر ہم غالب آگئے ۔ اور موسیٰ وہارون کو شکست دے دی ۔ تو کیا ہم کو انعام بھی ملے گا ؟ فرعون نے کہا ۔ ہاں تمہیں انعام بھی دیا جائے گا ۔ اور مقربین میں بھی شمار ہوگا حضرت موسیٰ نے جادوگروں سے مخاطب ہوکر کہا ۔ کہ تم جس کرشمہ سازی کا اظہار کرنا چاہتے ہو کرو ۔ تمہیں میری طرف سے اختیار ہے ۔ انہوں نے لاٹھیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں ۔ اور وہ دیکھنے والوں کو سانپ کی شکل میں نظر آنے لگیں ۔ کہنے لگے ۔ کہ ہم فرعون کے اقبال اور قوت کی برکت سے یقینا غالب رہیں گے ۔ اس پر حضرت موسیٰ جوش میں آگئے ۔ اور آپ نے اپنی لاٹھی جو زمین پر ڈالی ۔ تو وہ اژدھا بن گئی ۔ اور ان تمام چھوٹے چھوٹے سانپوں کو نگل گئی ۔ جادوگر جو سمجھ دار تھے ۔ اور اپنی فنی قوتوں سے آگاہ تھے ۔ فوراً پہچان گئے ۔ کہ یہ جادو یا کرشمہ سازی نہیں ۔ یہ اللہ کی حکمت ہے ۔ اور اس کی قدرت ہے ۔ چناچہ انہوں نے اس معجزہ کو دیکھ کر فوراً کہہ دیا ۔ کہ ہم نے ہتھیار ڈال دئیے ۔ ہم رب العالممین کو تسلیم کرتے ہیں ۔ اور موسیٰ وہارون کے خدا کو مانتے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے ۔ حضرت موسیٰ کے زمانے میں جادو اور سحر کا بہت زیادہ رواج تھا ۔ اس لئے آپ کے مچجزات کو بھی جادو سمجھے ۔ اور اسی لئے حضرت موسیٰ کو اس نوع کے دلائل سے نوازا گیا ۔ تاکہ وہ قوم کو یقین دلاسکیں ۔ کہ وہ اللہ کی جانب سے ہیں ۔ معجزہ اور سحر میں باریک اور دقیق فرق یہ ہے کہ سحر وہ علم ہے جس کو ہر شخص سیکھ سکتا ہے ۔ اور جس کے اثر سے جو تحول وانقلاب پیدا ہوتا ہے ۔ اس کے اسباب وذرائع معلوم ہوسکتے ہیں ۔ مگر معجزہ اللہ کے تقرب خاص کی نشانی ہے ۔ اور ہر شخص کے بس کا نہیں ۔ اکتساب سے حاصل نہیں ہوسکتا ۔ اور اس کے ذریعے سے جو انقلاب یا تبدیلی واقع ہوتی ہے ۔ اس کے اسباب وذرائع کو معلوم کرلینا انسانی وسعت و طاقت سے باہر ہے ۔ معجزاب کو وہ لوگ خوب جان سکتے ہیں جو خود جادوگرہوں ۔ اور فن تحویل و تصرف سے آگاہ ہوں