26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 26:1–3

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ کتاب مبین کی آیات ہیں،

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

کیا ایسا ہونے کو ہے کہ آپ اپنی جان کو اس وجہ سے ہلاک کردیں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔

رسول اللہ ﷺ کو تسلی اور مکذبین کے لیے وعید علامہ بغوی معالم التنزیل ص 381 ج 3 میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی جب اہل مکہ نے تکذیب کی تو یہ آپ کو شاق گزرا چونکہ آپ کو اس بات کی حرص تھی کہ وہ لوگ ایمان لے آئیں اس لیے ان کی تکذیب سے آپ کو تکلیف ہوتی تھی۔ آپ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آیت (لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ ) نازل فرمائی (جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنا کام کرتے رہیں ان کے غم میں آپ کو جان ہلاک کرنا نہیں ہے) ۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ہم اگر چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل فرما دیں جسے یہ تسلیم کرلیں اور اس کی وجہ سے ان کی گردنیں جھک جائیں اور اس طرح سے جبراً و قہراً ایمان لے آئیں لیکن ایسا کرنا نہیں ہے کیونکہ لوگوں کو مجبور نہیں کیا گیا بلکہ اختیار دیا گیا ہے تاکہ اپنے اختیار سے ایمان قبول کریں۔ اس کے بعد مخاطبین کی عام حالت بیان فرمائی کہ جب بھی رحمن کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو قبول کرنے کے بجائے اعراض کرتے ہیں ان کے جھٹلانے اور آیات کا مذاق بنانے کا نتیجہ عنقریب ان کے سامنے آجائے گا یعنی تکذیب اور استہزاء کی سزا پائیں گے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ آنے والے عذابوں کو انباء سے تعبیر فرمایا جو نباء کی جمع ہے نباء خبر کے معنی میں آتا ہے چونکہ قرآن عظیم نے پہلے سے تکذیب و استہزاء کے مواقب کی خبر دی ہے اس لیے (اَنْبَآءُ مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزءُوْن) فرمایا یعنی تکذیب پر عذاب آنے کی جو خبریں دی گئی تھیں ان کا ظہور ہوجائے گا۔
Ayahs 26:4–8

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے بڑی نشانی نازل کردیں، پھر ان کی گردنیں اس نشانی کی وجہ سے جھک جائیں،

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے جو بھی کوئی نصیحت آجاتی ہے تو اس سے اعراض کرنے والے بن جاتے ہیں،

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

سو انہوں نے جھٹلا دیا سو آجائینگی ان کے پاس اس چیز کی خبریں جس کے ساتھ وہ استہزاء کیا کرتے تھے

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین کو نہیں دیکھا اس میں ہم نے کتنی قسم کی اچھی اچھی بوٹیاں اگائی ہیں

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں بڑی نشانیاں ہیں، اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی شان ربوبیت کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے زمین سے ہر قسم کی عمدہ عمدہ چیزیں نکالی اور اگائی ہیں جنہیں بنی آدم اور حیوانات کھاتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں آخر میں فرمایا (اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً ) کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید پر اور کمال پر بڑی نشانی ہے اور اکثر لوگ مانتے نہیں ہیں اور انکار پر تلے ہوئے ہیں۔
Ayah 26:9

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ کا رب زبردست ہے رحمت والا ہے۔

آخر میں فرمایا (وَاِِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) (اور آپ کا رب عزیز ہے غلبہ والا ہے) منکرین دین اور معاندین یہ نہ سمجھیں کہ ہم یوں ہی انتقام اور عذاب سے چھوٹے ہوئے رہیں گے نیز اللہ تعالیٰ رحیم بھی ہے جو لوگ ابھی کفر و شرک سے باز آجائیں ایمان قبول کرلیں ان پر رحم فرمائے گا۔
Ayah 26:10

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اور جب آپ کے رب نے موسیٰ کو پکارا کہ ظالم قوم

حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کا فرعون کے پاس پہنچنا اور گفتگو کرنا یہ پورے ایک رکوع کا ترجمہ ہے جو بہت سی آیات پر مشتمل ہے ان میں حضرت موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) کے فرعون کے پاس جانے اور گفتگو کرنے کا تذکرہ ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک گھرانہ میں پیدا ہوئے۔ فرعون بنی اسرائیل کا دشمن تھا۔ ان کے لڑکوں کو قتل کردیتا تھا اور ان کی جو لڑکیاں پیدا ہوتی تھیں انہیں زندہ چھوڑ دیتا تھا جب موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی والدہ کے دل میں ڈالا کہ اس بچہ کو ایک تابوت میں رکھ کر سمندر میں ڈال دو انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اہل فرعون نے اس تابوت کو پکڑ لیا دیکھا کہ اس میں ایک بچہ ہے بچہ کو اٹھا لیا اور فرعون کی بیوی نے فرعون سے کہا اسے قتل نہ کرو ممکن ہے کہ یہ ہمیں کچھ فائدہ پہنچا دے یا ہم اسے بیٹا ہی بنا لیں جب فرعون اس پر راضی ہوگیا تو دودھ پلانے والی عورت کی تلاش ہوئی موسیٰ (علیہ السلام) کسی عورت کا دودھ نہیں لیتے تھے جب ان کی والدہ نے تابوت میں رکھ کر انہیں سمندر میں ڈالا تو ان کی بہن کو پیچھے لگا دیا تھا کہ دیکھ یہ تابوت کدھر جاتا ہے جب تابوت فرعون کے محل میں پہنچ گیا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کسی عورت کا دودھ نہ پیا تو ان کی بہن بول اٹھی کہ میں تمہیں ایسا خاندان بتا دیتی ہوں جو ان کی کفایت کرلے گا ان لوگوں نے منظوری دے دی اور یہ جلدی سے اپنی والدہ کو لے آئیں موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی والدہ کا دودھ قبول کرلیا اور اپنی والدہ کے پاس رہتے رہے لیکن فرعون کا بیٹا ہونے کی حیثیت سے رہتے تھے جب بڑے ہوگئے تو فرعون کے محل میں رہنا سہنا شروع ہوگیا اور وہاں کئی سال گزارے پھر جب اور بڑے ہوگئے تو ایک قبطی یعنی فرعون کی قوم کے ایک شخص کا ان کے ہاتھ سے قتل ہوگیا لہٰذا ایک شخص کے مشورہ دینے پر مصر چھوڑ کر مدین چلے گئے وہاں ایک بزرگ کی لڑکی سے نکاح ہوگیا دس سال وہاں گزارے اس عرصہ میں بکریاں چراتے رہے پھر جب اپنے وطن یعنی مصر کو واپس ہونے لگے تو اپنی بیوی کو ساتھ لیا جنگل بیابان میں کوہ طور کے پاس پہنچے (جو مصر اور مدین کے درمیان ہے) اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ راستہ بھول گئے اور سردی بھی لگنے لگی کوہ طور پر آگ نظر آئی اپنی بیوی سے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو میں جاتا ہوں تمہارے تاپنے کے لیے کوئی چنگاری لے آؤں گا یا کوئی راہ بتانے والا ہی مل جائے گا وہ نار نہ تھی بلکہ نور الہٰی تھا وہاں پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت سے نواز دیئے گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوا کہ فرعون کے پاس جاؤ اسے توحید کی دعوت دو ، وہ اور اس کی قوم ظالم لوگ ہیں انہیں کفر و شرک اور اس کی سزا سے بچنا چاہئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں اور ساتھ ہی یہ بات ہے کہ میرا دل تنگ ہونے لگتا ہے اور زبان میں بھی روانی نہیں ہے اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی نبوت سے سر فراز فرمائیے اور میرے کام میں شریک فرمائیے ایک بات اور بھی ہے وہ یہ کہ میرے ذمہ ان کا ایک جرم ہے میں نے ان کا ایک آدمی قتل کردیا تھا اب ڈر ہے کہ وہ مجھے اس کے بدلہ قتل نہ کردیں اللہ تعالیٰ شانہٗ کا ارشاد ہوا تمہاری درخواست قبول کرلی گئی ہارون کو بھی نبوت سے سر فراز کردیا اور ان کو بھی تمہارے کام میں شریک کردیا اور تم اس بات کا خیال نہ کرو کہ تمہیں قتل کر دے گا ایسا ہرگز نہ ہوگا تم دونوں جاؤ اسے حق کی دعوت دو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور تمہارا حال دیکھتے ہیں اور جو کچھ فرعون سے بات چیت ہوگی وہ سب ہم سنتے رہیں گے فرعون کے پاس پہنچو اور اس سے کہو کہ ہم رب العالمین کے پیغمبر ہیں تو رب العالمین پر ایمان لا اور ہماری رسالت کو بھی تسلیم کر اور رب العالمین کے سوا کسی کو اپنا رب اور معبود مت بنا اور ہمارا یہ بھی کہنا ہے کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔ موسیٰ (علیہ السلام) مصر پہنچے اور اپنے بھائی ہارون کو ساتھ لیا اور دونوں فرعون کے پاس پہنچے اسے توحید کی دعوت دی اور بنی اسرائیل کو ساتھ بھیجنے کے لیے کہا فرعون نے کہا کہ اے موسیٰ جب تو چھوٹا سا بچہ تھا ہم نے تجھے پالا اپنی عمر کے کئی سال تم نے ہمارے ساتھ گزارے اور تو نے وہ حرکت کی جسے تو جانتا ہے (یعنی ایک قبطی کو قتل کردیا) ہم نے جو تیری پرورش کی تو نے اس کا بدلہ دیا اور شکر گزاری کی بجائے نا شکروں میں شامل ہوگیا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں یہ بات ٹھیک ہے کہ مجھ سے ایک شخص قتل ہوگیا تھا مجھ سے غلطی ہوگئی تھی (میں نے عمداً قتل نہیں کیا تھا اس کی ظالمانہ روش کو دیکھ کرتا دیباً مکا مارا تھا وہ ایک مکا لگنے سے مرگیا میرا مقصود نہ مارنا تھا نہ کوئی ایک مکا میں مرتا ہے) تم لوگ میرے قتل کے مشورے کر ہی رہے تھے لہٰذا میں قتل کے ڈر سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے دانشمندی عطاء فرما دی اور مجھے اپنے پیغمبروں میں شامل فرما دیا۔ اب جبکہ مجھے اللہ تعالیٰ کا فرمان لے کر تیرے پاس آنا ضروری ہوا، رہی یہ بات کہ تو نے میری پرورش کی تھی اور تو مجھ پر اس کا احسان جتا رہا ہے تو تجھے سمجھنا چاہئے کہ میری پرورش تجھے کیوں کرنی پڑی نہ تو بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرتانہ میں سمندر میں بہایا جاتا نہ تیرے گھر میں پہنچتا نہ تجھے پرورش کرنی پڑتی، تو نے جو بنی اسرائیل کو غلام بنارکھا تھا اس کی وجہ سے تیرے گھر میں میری پرورش کرائی گئی پھر یہ بھی تو دیکھ کہ میں نے ایک شخص کو قتل کیا میرا ایک شخص کا قتل کردینا تیرے نزدیک قابل ذکر ہے اور تو نے جو بنی اسرائیل کے لڑکے کثیر تعداد میں قتل کیے اس کا تجھے کوئی دھیان نہیں اگر تو نے ایک لڑکے کی پرورش کر ہی دی تو کیا اس سے اس ظلم کو دبایا جاسکتا ہے جو تو نے بنی اسرائیل کے ساتھ روا رکھا ہے۔ فرعون چونکہ اپنے ہی کو سب سے بڑا رب کہتا تھا اور اپنی قوم کے لوگوں سے منواتا تھا اور یہ لوگ خالق حقیقی جل مجدہ کے منکر تھے اس لیے موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) کا فرمانا کہ (اِِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) اچھا نہ لگا اس نے سوال جواب کے ذریعہ ان کی بات کو رد کرنے اور اپنے درباریوں کو مطمئن رکھنے کے لیے سوالات شروع کردیئے اس میں سے بعض سوال اور ان کے جواب سورة طہ کے دوسرے رکوع میں مذکور ہیں اور کچھ یہاں شعراء میں ذکر فرمائے ہیں فرعون کہنے لگا کہ یہ جو تم کہہ رہے ہو کہ ہم رب العالمین کے رسول ہیں یہ تو بتاؤ رب العالمین کون ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بےدھڑک جواب دیا کہ رب العالمین جل مجدہ وہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا اور جو ان کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے اس میں یہ بتادیا کہ اے فرعون تو اور تیرے آس پاس کے بیٹھنے والے اور تیری مملکت کے سارے افراد تیری سارے مملکت اور ساری دنیا اور اس کے رہنے بسنے والے رب العالمین ان سب کا رب ہے فرعون اور اس کے درباریوں نے یہ بات کبھی نہ سنی تھی وہ اچنبھے کے طور پر اپنے درباریوں سے کہنے لگا (اَلاَ تَسْتَمِعُوْنَ ) (کیا آپ لوگ سن رہے ہیں کہ یہ شخص کیا کہہ رہا ہے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا (رَبُّکُمْ وَرَبُّ آبَاءِکُمُ الْاَوَّلِیْنَ ) (رب العالمین تمہارا بھی رب اور تم سے پہلے جتنے باپ دادے گزرے ہیں ان سب کا بھی رب ہے) ایسی بےباکانہ بات سن کر فرعون سے کچھ بن نہ پڑا اور اپنے درباریوں سے بطور تمسخر یوں کہنے لگا کہ (اِِنَّ رَسُوْلَکُمُ الَّذِیْ اُرْسِلَ اِِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ) کہ یہ شخص جو اپنے خیال میں تمہارا رسول بن کر آیا ہے مجھے تو اس کے دیوانہ ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ (اللہ کے رسولوں کو دیوانہ اور جادوگر تو کہا جاتا ہی رہا ہے فرعون نے بھی یہ حربہ استعمال کرلیا) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی بات مزید آگے بڑھائی اور فرمایا کہ میں جس ذات پاک کو رب العالمین بتارہا ہوں وہ مشرق کا بھی رب ہے اور مغرب کا بھی اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے ان سب کا رب ہے اگر تم عقل رکھتے ہو تو اسے مان لو اب تو فرعون ظالمانہ کٹ حجتی پر آگیا جو ظالموں کا شعار ہے اور کہنے لگا کہ اے موسیٰ میرے سوا اگر تو نے کسی کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں شامل کر دوں گا تو جیل کاٹے گا اور وہاں کے مصائب میں مبتلا رہے گا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں دلیل سے بات کرتا ہوں میرے پاس اللہ کی طرف سے اس بات کی نشانی ہے کہ میں اس کا پیغمبر ہوں اگر میں نشانی پیش کر دوں تو پھر بھی جیل جانے کا مستحق ہوں ؟ حضرت موسیٰ کے فرمانے پر فرعون نے کہا اگر تم سچے ہو تو لاؤنشانی پیش کرو، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو جو نشانیاں دی تھیں ان میں ایک تو لاٹھی کو زمین پر ڈلوا کر سانپ بنا دینا تھا پھر ان کے پکڑنے سے وہ دو بارہ لاٹھی بن گئی تھی جیسا کہ سورة طہ میں بیان ہوچکا ہے دوسرے ان سے فرمایا تھا کہ تم اپنے گریبان میں اپناہاتھ داخل کرو انہوں نے ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ سفید ہو کر نکل آیا یہ سفیدی اس گورے پن سے کئی گنا زیادہ تھی جو عام طور سے گورے آدمیوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے یہ دونوں نشانیاں دے کر فرعون کے پاس بھیجا تھا اور فرمایا تھا کہ (فَذَالِکَ بُرْھَانَانِ مِنْ رَّبِکَ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَ مَلاَءِہٖ ) (سو یہ تمہارے رب کی طرف سے دو دلیلیں ہیں فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف لے کر جاؤ) فرعون نے نشانی طلب کی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی ڈال دی وہ فوراً اژدھا بن گئی اور گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالا تو خوب زیادہ سفید ہو کر نکلا دیکھنے والے اسے دیکھ کر دنگ رہ گئے تفسیر ابن کثیر ج 3 ص 233 میں لکھا ہے کہ اس وقت حضرت موسیٰ کا ہاتھ چاند کے ٹکڑے کی طرح چمک رہا تھا اس کے بعد فرعون نے مقابلہ کے لیے جادو گروں کو بلایا جیسا جیسا کہ آئندہ رکوع میں مذکور ہے۔
Ayahs 26:11–34

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

یعنی قوم فرعون کے پاس چلے جاؤ کیا یہ لوگ ڈرتے نہیں ہیں،

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

موسیٰ نے عرض کیا کہ اے میرے رب میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا دیں،

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

اور میرا سینہ تنگ ہونے لگتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی لہٰذا ہارون کو بھی پیغمبر بنا دیجیے

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور مجھ پر ان لوگوں کا جرم ہے لہٰذا میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ مجھے قتل کر ڈالیں،

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہرگز ایسا نہیں ہوگا سو تم دونوں ہماری آیات لے کر جاؤ، بیشک ہم تمہارے ساتھ ہیں

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

سو تم فرعون کے پاس جاؤ اور یوں کہو کہ بلاشبہ ہم رب العالمین کے پیغمبر ہیں

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

یہ کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

فرعون نے کہا کیا ہم نے تجھے اپنے پاس رکھ کر اس وقت نہیں پالا جب تو نومولود تھا

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور تو ہمارے اندر اپنی عمر کے برسہا برس رہا ہے اور تو نے وہ کام کیا جو تو نے کیا اور تو نا شکروں میں سے ہے،

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

موسیٰ نے جواب دیا یہ فعل میں نے اس وقت کیا تھا جبکہ میں چوک جانے والوں میں سے تھا،

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

سو میں تمہارے یہاں سے فرار ہوگیا جب مجھے تمہاری طرف سے ڈرلگا سو میرے رب نے مجھے دانشمندی عطا فرمائی اور مجھے پیغمبروں میں شامل فرما دیا،

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور وہ جو تو مجھ پر اپنا احسان جتلا رہا ہے سو اس کی وجہ یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا،

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعون نے کہا اور رب العالمین کون ہے ؟

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

موسیٰ نے جواب دیا کہ رب العالمین وہی ہے جو آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو،

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

فرعون اپنے آس پاس کے بیٹھنے والوں سے کہنے لگا کیا تم نہیں سنتے ؟

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ وہ تمہارا رب ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی رب ہے،

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

فرعون نے کہا بلاشبہ تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہے،

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ وہ مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے اگر تم سمجھتے ہو

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

فرعون نے کہا اگر تو نے میرے علاوہ کوئی معبود بنایا تو میں ضرورضرور تجھے قیدیوں میں شامل کر دوں گا،

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی واضح دلیل پیش کر دوں ؟

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

فرعون نے کہا اگر تو سچوں میں سے ہے تو دلیل پیش کر دے

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

اس پر موسیٰ نے اپنی عصا ڈال دیا سو وہ اچانک واضح طور پر اژدھا بن گیا

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ نکالا سو وہ اچانک دیکھنے والوں کے لیے سفید ہوگیا تھا۔

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

قوم کے سردار جو فرعون کے آس پاس موجود تھے ان سے فرعون نے کہا کہ بلاشبہ یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ یہ بات قوم فرعون کے سرداروں نے کہی تھی اور یہاں اس بات کو فرعون کی طرف منسوب فرمایا۔ بات یہ ہے کہ بادشاہ جو کچھ کہتے ہوں ان کے درباری خوشامدی بھی اس بات کو دہراتے ہوئے تائید میں وہی الفاظ کہہ دیتے ہیں جو بادشاہ سے سنے ہوں۔ جب مشورہ میں بات ڈالی گئی تو آپس میں یہ طے پایا کہ تمہاری قلم رو میں جتنے بھی بڑے بڑے ماہر جادوگر ہیں ان سب کو جمع کرو اور اس مقصد کے لیے اپنے سارے شہروں میں کارندے بھیج دو جو ہر طرف سے جادو گروں کو جمع کر کے لے آئیں اور اس شخص کو جو جادو لے کر سامنے آیا ہے اور اس کے بھائی کو سردست مہلت دو ۔ جب جادو گر آجائیں گے تو مقابلہ کرا لیا جائے گا۔ شہروں میں آدمی بھیجے گئے انہوں نے بڑے بڑے ماہر جادو گروں کو سمیٹنا شروع کیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کا دن اور وقت طے کرنے کی بات کی گئی انہوں نے فرمایا (مَوْعِدُکُمْ یَوْمُ الزِّیْنَۃِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًی) تمہارے لیے یوم الزینہ یعنی میلے کا دن مقرر کرتا ہوں چاشت کے وقت مقابلہ ہوگا جادو گر آئے اور جیسے اہل دنیا کا طریقہ ہوتا ہے انہوں نے وہی دنیا داری کی باتیں شروع کردیں اور فرعون سے کہنے لگے کہ اگر ہم غالب آگئے تو کیا ہمیں اس کی وجہ سے بڑا انعام اور کوئی عظیم صلہ ملے گا ؟ فرعون نے کہا کیوں نہیں تم پوری طرح نوازے جاؤ گے۔ نہ صرف یہ کہ تمہیں بڑے انعام سے سرفراز کیا جائے گا بلکہ تم میرے مقربین میں سے ہوجاؤ گے۔ مقررہ دن اور مقررہ وقت میں ایک بڑے کھلے میدان میں مصر کے عوام اور خواص جمع ہوئے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) بھی پہنچے جادو گر بھی اپنی رسیاں اور لاٹھیاں لے کر آئے مصر کے لوگوں میں دین شرک مشہور و مروج تو تھا ہی لیکن ساتھ ہی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کی دعوت توحید کا بھی چرچا ہو چلا تھا اب لوگوں میں یہ بات چلی کہ دیکھو کون غالب ہوتا ہے۔ اگر جادو گر غالب ہوگئے تو ہم انہیں کی راہ پر یعنی دین شرک پر چلتے رہیں گے جس کا داعی فرعون ہے اس کے ساتھ یوں بھی کہنا چاہئے تھا کہ یہ دونوں بھائی موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) غالب ہوگئے تو ان کا دین قبول کرلیں گے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کی ہیبت کی وجہ سے یہ بات زبانوں پر نہ لاسکے گو لفظ لَعَلَّنَا سے اس طرف اشارہ ملتا ہے۔ انہوں نے یقین کے ساتھ نہیں کہا کہ ہم جادو گروں کا اتباع کرلیں گے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عامۃ الناس کو اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ جادو گر غالب ہونے والے نہیں ہیں۔ جادو گروں نے کہا کہ اے موسیٰ بولو کیا رائے ہے تم پہلے اپنی لاٹھی ڈال کر سانپ بنا کردکھاتے ہو یا ہم پہلے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ؟ (جادو گروں کا یہ سوال سورة طہ میں مذکور ہے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا کہ پہلے تم ہی ڈالو۔ میں بعد میں ڈالوں گا۔ لہٰذا جادو گروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال دیں۔ رب العالمین جل مجدہ کے ماننے والوں میں تو تھے نہیں لہٰذا انہوں نے فرعون کی عزت کی قسم کھا کر کہا کہ ہماری فتح ہے اور ہم غالب ہونے والے ہیں اس کے بعد سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا ڈالا وہ عصا اژدھا بن گیا اور نہ صرف یہ کہ اژدھا بن گیا بلکہ جادو گروں نے جو اپنی رسیوں اور لاٹھیوں کے سانپ بنائے تھے ان سب کو نگلنا شروع کردیا اب جادو گر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معتقد ہوگئے انہوں نے یقین کرلیا کہ موسیٰ اور ان کا بھائی ( علیہ السلام) جادو گر نہیں ہیں ہم اتنے زیادہ جادو گر ہیں اور جادو میں ماہر بھی ہیں ان کے مقابلہ میں ہم سب کا جادو دھرا رہ گیا ان کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا جب یہ اپنی بات میں سچے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں اور ان کا سچا ہونا ہم پر واضح ہوگیا تو ان پر ایمان لانا ضروری ہے ان کے دلوں میں حق قبول کرنے کا جذبہ ایسے زور سے بھرا کہ بےاختیار سجدہ میں گرگئے جیسا کہ کوئی کسی کو پکڑ کر سجدہ میں ڈال دے اور کہنے لگے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔ (اس وقت ان کا اجمالی ایمان ہی کافی تھا) اب تو فرعون کی خفت اور ذلت کی انتہا نہ رہی جن لوگوں کو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے بلایا تھا وہی ہارمان گئے اور ان دونوں پر ایمان لے آئے لہٰذا اپنی خفت مٹانے کے لیے فرعون نے وہی دھمکی والی چال چلی جو بادشاہوں کا طریقہ رہا ہے اول تو اس نے یوں کہا کہ تم میری اجازت کے بغیر ان پر ایمان لے آئے (حالانکہ دین و ایمان ہر شخص کا ذاتی مسئلہ ہے دلوں پر اللہ تعالیٰ ہی کا قبضہ ہے کسی مخلوق کا قبضہ نہیں ہے گو بادشاہ اپنی سر کشی اور طغیانی میں یہ خیال کرتے رہتے ہیں کہ دلوں پر بھی ہمارا قبضہ رہنا چاہئے اور ہمارے عوام اسی دین کو قبول کریں جس کے ہم داعی ہیں جب حق دلوں میں اپنی جگہ کرلیتا ہے تو کسی بھی صاحب اقتدار اور صاحب تسلط سے نہیں ڈرتا وہ صرف معبود حقیقی جل مجدہ سے ڈرتا ہے اور اسی سے امید رکھتا ہے) ۔ فرعون نے دوسری بات یہ کہی کہ تم نے جو ہار مان لی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تم لوگوں کو اسی شخص نے جادو سکھایا ہے اور یہی تمہارا بڑا ہے تم نے یہ ملی بھگت کی ہے کہ ہار جیت کا مصنوعی سوانگ دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف مائل کرلو ابھی دیکھو تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ ڈالوں گا اور تم کو سولی پر لٹکا دوں گا چونکہ جادو گروں پر پوری طرح حق واضح ہوچکا تھا اس لیے انہوں نے فرعون کی دھمکی کا کچھ اثر نہ لیا بلکہ فرعون کو منہ توڑ جواب دیا اور اور یوں کہا کہ کوئی حرج کی بات نہیں بلاشبہ ہم اپنے رب کی طرف لوٹ جانے والے ہیں ( پروردگار عالم کی طرف سے جو ایمان پر صلہ ملے گا اس کے مقابلہ میں دنیا کی ذرا سی تکلیف کی کوئی حیثیت نہیں) بلاشبہ ہم اللہ سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ہماری خطاؤں کو اس وجہ سے معاف فرما دے کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں میدان مقابلہ میں جو لوگ حاضر تھے ان میں سب سے پہلے جادو گر ایمان لائے اس اعتبار سے انہوں نے اپنے کو اول المومنین سے تعبیر کیا۔