Ayahs 26:1–21 قرآن اپنی صداقت و حقانیت کا گواہ خود : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ آیتیں ہیں کھول کر بیان کرنے والی اس کتاب کی "۔ اور ایسی کھول کر بیان کرنے والی کتاب جس نے حق و باطل، صحیح و غلط، جائز و ناجائز اور کامیابی و ناکامی وغیرہ سب کو پوری طرح واضح کردیا اور سب کچھ اس طرح کھول کھول کر بیان کردیا ہے کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی نہ آئندہ کبھی ممکن ہے۔ لہذا اس قدر عظیم الشان نعمت اور ایسی بےمثال کتاب کی ان آیات کریمہ کو پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ اور دل کے کانوں سے سنو تاکہ تم لوگ اس کی برکات سے مالا مال ہو سکو۔ نیز یہ ایسی فصیح وبلیغ زبان میں ہے کہ اس نے اپنی دعوت کے ہر پہلو کو گوناگوں اسلوبوں سے اس قدر واضح اور ایسا مدلل و مبرہن کردیا کہ اس میں کسی بھی طرح کا کوئی خفا و غموض باقی نہیں رہ گیا۔ اور اس حد تک کہ یہ اپنی صداقت و حقانیت کی خود دلیل اور گواہ بن گئی۔ اور ایسی کہ اس کے لیے کسی خارجی دلیل و شہادت کی کوئی ضرورت نہیں۔ سو اس کے باوجود جو لوگ کسی اور دلیل اور معجزے کا مطالبہ کرتے ہیں وہ محض ہٹ دھرم ہیں۔
Ayahs 26:3–43 جبری ایمان نہ مطلوب ہے نہ مفید : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جبری ایمان نہ مفید ہے نہ مطلوب۔ بلکہ مطلوب و مفید وہ ایمان ہے جو کہ اپنے قصد و ارادہ سے اور اپنے نفس کی قناعت و اختیار سے ہو۔ ورنہ اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار دیتے کہ ان سب کی گردنیں اس کے آگے جھک جاتیں۔ اور یہ سب کے سب ایمان لے آتے۔ مگر ایسا جبری اور قہری ایمان تو ہماری مشیت و منشا ہے ہی نہیں۔ ورنہ اس کے لئے تو ایک اشارہ بھی کافی تھا۔ ہم تو چاہتے ہیں وہ ایمان جو کہ بندے کے اپنے اختیار اور اپنی مرضی سے ہو نہ کہ جبری و اضطراری ایمان۔ ورنہ امتحان کا ہے کا ؟ اور ثواب و عقاب کیونکر ؟ سو اب جبری ایمان اگر مطلوب ہوتا تو ہم اس کے لیے آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار دیتے جس کے آگے ان سب کی گردنیں جھک جاتیں اور یہ سب کے سب بلاچون و چرا فورا ایمان لے آتے۔ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تمہارے رب کی مشیت اس طرح کی ہوتی تو روئے زمین کے تمام لوگ ایک ساتھ ایمان لے آتے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { و لوشاء ربک لآمن من فی الارض کلہم جمیعا } ۔ (یونس :99) ۔ مگر اس طرح کا جبری اور غیر اختیاری ایمان سرے سے مطلوب ہی نہیں۔
Ayahs 26:5–65 منکرین و مکذبین کے لیے آخری جواب نتیجہ وانجام کا انتظار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " عنقریب ہی آجائے گی انکے پاس حقیقت اس چیز کی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے تھے " تب ان کو اپنے اعراض و انکار کا نتیجہ وانجام خود معلوم ہوجائے گا۔ یعنی جب آنکھ بند ہوتے ہی عالم آخرت کے وہ غیبی حقائق خود بخود روز روشن کی طرح ان کی آنکھوں کے سامنے آجائیں گے اور وہ سب کچھ یہ لوگ خود بخود اور بچشم سر دیکھ لیں گے تب ان کو پتہ چل جائے گا۔ اور اس وقت یہ خوب سنیں اور مانیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَسْمِعْ بِہِمْ وَاَبْصِرْ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا } ۔ ( مریم :38) " کیا ہی خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے یہ لوگ اس دن جس دن کہ یہ ہمارے پاس پہنچیں گے "۔ مگر اس وقت کے اس دیکھنے سننے کا ان کو فائدہ نہیں ہوگا۔ سوائے حسرت و افسوس میں اضافہ کے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو انکے اس استہزاء کے نتیجے میں ان پر وہ عذاب بہرحال آکر رہے گا جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے تھے۔ خواہ عذاب عاجل کی صورت میں اسی دنیا میں یا پھر آخرت میں یا دونوں میں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرحال اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین و مکذبین کے لیے آخری جواب یہی ہے کہ وہ اپنے نتیجہ و انجام کا انتظار کریں۔ وقت آنے پر حقیقت خود بخود معلوم ہوجائے گی۔
Ayah 26:76 زمین کی نشانیوں میں نگاہ عبرت ڈالنے کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان لوگوں نے اس زمین کو نہیں دیکھا کہ ہم نے کس طرح اس میں قسما قسم کی نفع بخش چیزیں اگائی ہیں " تو کیا یہ ہماری اس قدرت کی کوئی کم نشانی ہے ؟ بھلا اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کس کے بس میں ہے کہ وہ زمین سے اگنے والی طرح طرح کی ان عمدہ اور نفع بخش چیزوں میں سے کوئی ایک بھی اگا سکے ؟ اور اگانا تو درکنار آج تک کوئی بڑے سے بڑا دہریہ بھی اس کا کوئی دعوٰی نہیں کرسکا اور نہ کبھی کرسکتا ہے کہ یہ کام اس نے یا اس جیسی کسی اور مخلوق نے کیا ہے۔ تو پھر وہ کون ہوسکتا ہے جو خداوند قدوس کی اس قدرت میں شرکت کا دم مار سکے ؟ سو اس طرح قدرت خداوندی کے یہ کھلے دلائل اثبات توحید کے ساتھ ساتھ شرک کی بھی جڑ کاٹ کر رکھ دیتے ہیں ۔ والحمد للہ رب العالمین ۔ سو آخر یہ لوگ عذاب مانگنے کی بجائے انہی دلائل میں غور کیوں نہیں کرتے ؟ ان کی عقلوں کو کیا ہوگیا ؟۔
Ayah 26:87 اکثریت ہمیشہ بےایمانوں ہی کی رہی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ نشانیوں اور دلائل کی کوئی کمی نہیں۔ زمین کا چپہ چپہ ان سے مملو و معمور ہے۔ مگر جو ماننا چاہتے ہی نہ ہوں ان کا کیا علاج ہوسکتا ہے۔ سو آیات اور نشانیاں تو ہر طرف پھیلی بکھری ہیں لیکن ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے ہی نہیں حق اور صداقت کو۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اکثریت بےایمانوں ہی کی ہوتی ہے۔ لہذا عوام کی اکثریت کو حقانیت کی دلیل قرار دینا جس طرح کہ آج مغربی جمہوریت کے پجاریوں اور آج کے اہل بدعت وغیرہ باطل پرستوں کا کہنا اور ماننا ہے وہ سراسر مردود ہے۔ پس حق و باطل کا مدار عوام کالانعام کی کثرت و قلت پر نہیں بلکہ دلائل وبراہین پر ہے۔ عوام کالانعام کی اکثریت تو ہمیشہ غلط کاروں اور بےایمانوں ہی کی رہی۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ تو پھر ایسوں کی کثرت و قلت کا کوئی اعتبار کس طرح ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ و ضلال -
Ayah 26:98 رب تعالیٰ کی صفت عزیز و رحیم کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک تمہارا رب بڑا ہی زبردست اور انتہائی مہربان ہے "۔ پس چونکہ وہ عزیز ہے اس لئے کوئی اس کی گرفت و پکڑ سے نکل نہیں سکتا۔ لیکن چونکہ مہربان بھی ہے اس لئے وہ سرکشوں کی فوری گرفت نہیں فرماتا بلکہ وہ ان کو ڈھیل پر ڈھیل دئیے جاتا ہے۔ اور صرف ڈھیل ہی نہیں بلکہ اس کی رحمت سامانیوں کا یہ عالم ہے کہ بڑے سے بڑا گنہگار بھی اگر سچے دل سے توبہ کر کے اس کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوجائے تو وہ اس کے عمر بھر کے گناہ معاف فرما دیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور یہ اسی وحدہ لاشریک کی شان ہے کہ وہ انتہائی زبردست ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مہربان بھی ہے۔ سو اس کے عزیز و غالب یعنی انتہائی زبردست ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ ہمیشہ اس سے ڈرتا اور اس کی معصیت و نافرمانی سے بچتا رہے۔ لیکن اس کے رحیم یعنی انتہائی مہربان ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس کی رحمت و عنایت سے کبھی مایوس نہ ہو۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ایمان خوف ورجاء یعنی امید و بیم کے درمیان ہے۔ یعنی چونکہ لوگوں کی گمراہی اور بےراہ روی کا ایک بڑا سبب ہمیشہ یہی رہا کہ انہوں نے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی ان دو صفتوں کو اپنے سامنے نہیں رکھا جس سے وہ گمراہ ہوگئے۔ کچھ نے اس کی صفت عزیز یعنی زبردست اور غالب ہونے کے پیش نظر یہ سمجھا کہ اب ان کی بخشش اور جان بخشی ہوگی ہی نہیں۔ اس لیے وہ مایوسی کا شکار ہو کر توبہ وانابت اور رجوع الی اللہ کی توفیق وسعادت سے محروم ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور کچھ اس کی صفت رحیم کے پیش نظر دوسری انتہاء کو چلے گئے کہ ہم جو بھی کرتے جائیں کوئی پرواہ نہیں۔ وہ ہماری بخشش فرما دے گا کہ وہ بڑا رحیم اور مہربان ہے۔ جبکہ اصل یہ ہے کہ اس کے اندر یہ دونوں ہی صفتیں پائی جاتی ہیں اور دونوں ہی کو مستحضر رکھنا ضروری ہے۔ پس نہ کوئی اس سے غافل و لاپرواہ ہوجائے کہ وہ بڑا ہی عزیز و زبردست ہے اور نہ ہی کوئی اس کی رحمت و عنایت سے مایوس ہوجائے کہ وہ بڑا ہی رحیم اور انتہائی مہربان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ توسط و اعتدال کی راہ پر رکھے ۔ آمین۔
Ayah 26:109 حضرت موسیٰ کی داستان عبرت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ بھی یاد کرو کہ جب موسیٰ کو آپ کے رب کی طرف سے حکم ہوا کہ تم جاؤ ظالموں کے پاس " یعنی قوم فرعون کے پاس۔ سو اس انداز و اسلوب سے معلوم ہوا کہ ظلم اور ظالمیت میں وہ لوگ اس حد کو پہنچ گئے تھے کہ ظلم ان کا اصل لقب اور ٹائٹل بن گیا تھا۔ اس لئے پہلے ان کو ظالم فرمایا گیا اور پھر قوم فرعون کہہ کر ان کی تعیین و تشخیص فرمائی گئی۔ اور ان کا یہ ظلم بھی ظلم بالائے ظلم تھا کہ ایک طرف تو وہ کفر و شرک کے ارتکاب سے خود اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے اور دوسری طرف وہ بنی اسرائیل کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے تھے اور راہ حق سے خود محروم ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اس سے روکتے اور محروم کر رہے تھے۔ بہرکیف جب حضرت موسیٰ کو مدین سے واپسی کے دوران وادی ذی طویٰ میں نبوت سے نوازا گیا تو انکو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ آپ فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ جو کہ ظلم کا نشان اور اس کا عنوان بن چکے ہیں۔ سو ان کے پاس جاکر ان کو پیغام حق پہنچاؤ تاکہ وہ ظلم سے باز آجائیں۔
Ayah 26:1110 کیا لوگ ڈرتے نہیں ؟ : استفہام تحضیض و ترغیب کے لیے ہے۔ یعنی ان لوگوں کو اپنی اس روش کے انجام سے ڈرنا چاہیے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اصلاح احوال کی اصل بنیاد تقویٰ اور خوف خداوندی ہے۔ جب تک کسی شخص کے دل میں اپنے انجام کے بارے میں فکر اور خوف پیدا نہ ہو وہ سنجیدہ نہیں ہوتا۔ اور وہ سنجیدگی سے کسی بات کو سننے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ایسے میں اس پر کوئی وعظ و ارشاد اثر انداز نہیں ہوسکتا اور وہ ہر سنی کو ان سنی کردیتا ہے۔ اور اس طرح وہ راہ حق و ہدایت سے دور و نفور اور محروم تر ہوتا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس لیے یہاں پر اس ارشاد سے ان کے دلوں کو دستک دی گئی کہ کیا یہ لوگ ڈرتے نہیں ؟ کیونکہ جب تک اصلاح کیلئے آمادگی نہیں پائی جائے گی کسی بات کا کوئی اثر اور فائدہ نہیں ہوگا۔ یعنی ان کو اپنے طرز عمل اور اپنے کیے کرائے کے نتیجہ وانجام سے ڈرنا اور بچنا چاہیے اور ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ ورنہ ہمیشہ کے پچھتاوے میں مبتلا ہونا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 26:12–1411 حضرت موسیٰ کی حضرت ہارون کے لیے ایک خاص دعا اور اہل بدعت کے ایک مغالطے کا جواب : کہ میرے بھائی ہارون کو بھی کار رسالت کی ادائیگی کے لیے میرے ساتھ شریک کیا جائے۔ سو یہ حضرت موسیٰ کی طرف سے حضرت ہارون کو بھی پیغمبر بنائے جانے کی درخواست ہے۔ حضرت موسیٰ ۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام ۔ نے اپنے اعذار پیش کرنے کے بعد اپنے بھائی حضرت ہارون کی رسالت کے لئے بھی بارگاہ خداوندی میں درخواست پیش کی تاکہ وہ ان کے معاون اور مددگار ہو سکیں۔ اور آپ کی اس دعا کو قبول بھی فرما لیا گیا۔ اہل بدعت کے بعض بڑوں نے اس سے غیر اللہ کی امداد کے ثبوت و جواز کی دلیل کشید کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ چناچہ موصوف اس سلسلے میں اس مقام پر لکھتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے بندوں سے مدد لینا سنت انبیاء ہے۔ اسے حرام یا شرک کہنا سخت جہالت ہے۔ حالانکہ یہ مدد و امداد تو زندگی میں اور اسباب کے درجے میں تھی۔ اسے کون حرام یا شرک کہہ سکتا ہے ؟ اس دنیا کا تو سارا نظام ہی اسباب پر چل رہا ہے۔ ہاں خلاف اسباب یا کسی سے اس کی موت کے بعد مدد مانگنا بلاشبہ شرک بھی ہے اور حرام بھی۔ اور قرآن و سنت کی نصوص اس پر شاہد عدل ہیں۔ اس کے ثبوت کا تو یہاں کوئی سوال ہی نہیں۔ کیسی مت ماری جاتی ہے ایسے لوگوں کی کہ یہ ان دو کھلی ہوئی حقیقتوں کے درمیان موجود واضح فرق کو بھی نہیں سمجھ سکتے۔ اور ان دونوں کو خلط ملط کر کے یہ لوگ ایسے غلط نتیجے نکالتے ہیں۔ سو ظاہری اسباب اختیار کرنا اور چیز ہے اور خلاف اسباب یا مافوق الاسباب کسی سے مدد مانگنا بالکل ایک دوسری شے۔ پہلی صورت نہ صرف جائز بلکہ امر واقع اور حقیقت نفس الامری ہے کہ یہ دنیا ہے ہی دارالاسباب۔ جبکہ دوسری صورت کسی مخلوق کے اندر ماننا شرک اور بلاشبہ شرک ہے۔ جیسا کہ قرآن و سنت کی بیشمار نصوص اس کی شاہد ہیں کہ خلاف اسباب یا مافوق الاسباب مدد کرنے کی یہ صفت خاصہ خداوندی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور ہر مومن اپنی ہر نماز کی ہر رکعت میں ۔ { اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ } ۔ کے کلمہ حصر کے ساتھ اسی حقیقت صادقہ کا اقرار و اظہار کرتا اور تاکید و تکرار کے ساتھ کرتا ہے۔ اور اسی کی تعلیم و تلقین نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت کو صاف وصریح طور پر اس طرح فرمائی ہے ۔ " اِذَا سَأَلْتَ فَاَسْئِلِ اللّٰہ وَاِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ باللّٰہِ " ۔ یعنی " جب تمہیں مانگنا اور سوال کرنا ہو تو اللہ سے مانگو اور سوال کرو اور جب تم مدد چاہو تو اللہ ہی سے چاہو " ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ مگر اہل بدعت ہیں کہ اس سب کے باوجود اس طرح کی مغالطہ آمیزیوں سے کام لینے اور اس طرح کی تحریفات سے کام لیتے ہیں۔ آدمی حیران ہوتا ہے کہ یہ لوگ خوف خداوندی سے کس قدر عاری ہوجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
12 حضرت موسیٰ کے ایک طبعی خوف کا ذکر : سو حضرت موسیٰ نے اس موقعہ پر اپنے طبعی خوف کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ " ان لوگوں کا میرے ذمے ایک گناہ بھی ہے۔ اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل نہ کردیں "۔ سو آنجناب کا یہ خوف ایک طبعی خوف تھا جو کہ نبوت کے منافی نہیں۔ جیسا کہ سانپ بچھو وغیرہ سے ڈرنا ایک طبعی امر ہے۔ ایسے ڈر اور خوف کی بنا پر کسی پر کوئی سوال اور اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ بہرکیف حضرت موسیٰ نے بارگہ خداوندی میں اپنے اس خوف و اندیشہ کو پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ ان لوگوں کا مجھ پر ایک گناہ بھی ہے۔ یعنی ایک قطبی کا قتل۔ جسکو میں نے تادیب و سرزنش کیلئے ایک مکہ مارا تھا جس سے اس کا کام تمام ہوگیا تھا۔ جیسا کہ آگے سورة قصص میں اس کا قصہ تفصیلی طور پر آ رہا ہے۔ اس کی بنا پر حضرت موسیٰ نے عرض کیا کہ مجھے ان لوگوں سے ڈر ہے کہ کہیں وہ مجھے دیکھتے ہی قتل نہ کردیں۔ سو یہ خوف ایک طبعی خوف تھا جو ہر انسان کو پیش آسکتا ہے اور پیش آتا ہے۔ اور حضرات انبیاء و رسل اور خود ہمارے رسول امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ بھی اس طرح کا خوف رکھتے تھے۔ اور آپ کی حفاظت کے لیے خاص انتظام موجود تھا۔ یہاں تک کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ { واللہ یعصمک من الناس } ۔ (المائدۃ :67) (المراغی وغیرہ) ۔ سو حضرات انبیائے کرام اپنی بےمثال عظمت شان کے باوجود طبعی عوارض اور بشری تقاضوں سے پاک اور مبرا نہیں نہیں ہوتے ۔ علیہم الصلاۃ والسلام -
Ayah 26:1513 حضرت موسیٰ کے لیے تسکین وتسلیہ : سو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے اس خدشے کے جواب میں آپ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ " ہرگز نہیں کہ بیشک ہم تمہارے ساتھ ہیں "۔ اور جب اس قادر مطلق حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی معیت اور نصرت شامل حال ہو تو پھر خوف کا ہے کا ؟ اور کیونکر ؟ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تن تنہا اتنے بڑے جابر اور ظالم بادشاہ کو ڈنکے کی چوٹ حق کا پیغام سناتے ہیں۔ ساتھ میں صرف حضرت ہارون ہیں اور بس۔ سو یہ امر بذات خود ایک بڑا معجزہ ہے کہ تنہا ایک شخص جسکے ساتھ دنیا کی کوئی مادی قوت اور کوئی ظاہری طاقت نہیں وہ وقت کے سب سے بڑے کافر اور سب سے بڑے ڈکٹیٹر اور مطلق العنان حکمراں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حق کا اعلان کرتا ہے اور اس کی سلطنت اور اس کی مصنوعی اور خودساختہ خدائی کو چیلنج کرتا ہے۔ اور اس کے کسی ظلم و جبر کو خاطر میں نہیں لاتا۔ اور وہ اس راہ حق پر پوری طرح اور آخری وقت اور آخری حد تک قائم اور ثابت قدم رہتا ہے۔ اور وقت کا وہ سب سے بڑا طاغیہ اور اپنے دور کا سب سے بڑا ڈکٹیٹر اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ یہاں تک کہ وقت کا وہ سب سے بڑا طاغیہ اور سرکش اور ظالم و کافر انسان ایسا ظالم و سرکش کہ اس کا نام ہی ظلم وعدوان کا عنوان بن گیا تھا۔ یعنی فرعون وہ اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق قلزم ہو کر ہمیشہ کیلئے فی النار والسقر ہوگیا ۔ فالحمدللہ الذی بیدہ ازمۃ التوفیق -
Ayahs 26:16–1714 حضرت موسیٰ کا فرعون سے ایک اہم مطالبہ : یعنی اس سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ۔ بنی اسرائیل کا اصلی وطن ملک شام تھا۔ واضح رہے کہ اس وقت کا شام موجودہ سوریا، اردن اور فلسطین سب ہی کو شامل تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں یہ لوگ جا کر مصر میں آباد ہوگئے تھے۔ بعد میں فرعون نے ان کو اپنا غلام بنا لیا تھا اور وہ ان کو اپنے وطن جانے کے لئے نہیں چھوڑتا تھا۔ اور ظاہر ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں ملے ہوئے ان مفت کے غلاموں کو وہ اس طرح آسانی سے چھوڑتا بھی کیونکر ؟ قرآن پاک میں پیغام موسیٰ (علیہ السلام) کے ضمن میں زیادہ تر اسی کا ذکر آتا ہے۔ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ حضرت موسیٰ کا پیغام صرف یہی تھا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کرایا جائے اور بس۔ جیسا کہ بعض لوگوں نے کہا۔ سو نہیں ایسا نہیں بلکہ آپ کا اصل پیغام تو وہی تھا جو دوسرے سب انبیائے کرام کا تھا۔ یعنی توحید خداوندی کی دعوت۔ جیسا کہ دوسری جگہ قرآن پاک میں خود اس کی تصریح موجود ہے ۔ { فَقُلْ ہَلْ لَّکَ اِلٰی اَنْ تَزَکّٰی وَاَہْدِیَکَ اِلٰی رَبِّکَ فَتَخْشٰی } ۔ (النازعات : 18، 19) ۔ اور خود پروردگار عالم کے رسول یعنی اس کے فرستادہ ہونے کے الفاظ بھی اسی حقیقت کو واضح کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فرعونی دربار میں دلائل توحید سے لبریز و بھرپور تقریر بھی اس کا کھلا ثبوت ہے کہ آپ (علیہ السلام) کا اصل مشن اور پیغام دوسرے انبیائے کرام کی طرح توحید ہی کا پیغام تھا۔ البتہ اس کے ساتھ آپ کا دوسرا بڑا کام اور اہم مشن و پروگرام بنی اسرائیل کو فرعون کے چنگل سے آزاد کرانا بھی تھا ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام -
Ayahs 26:18–2016 حضرت موسیٰ کا فرعون کو جوابِ حق ترجمان : سو آپ نے فرعون سے کہا کہ " میں نے یہ کام اس وقت کیا تھا جبکہ میں بیخبر تھا "۔ یعنی یہ علم و آگہی مجھے اس وقت حاصل نہ تھی جو اب عطا فرمائی گئی ہے۔ نیز مجھے اس کی کیا خبر تھی کہ وہ ایک مکہ سے مرجائے گا۔ میں نے تو وہ مکا اسے قتل کی غرض سے نہیں صرف تادیب کے لئے مارا تھا۔ سو حضرت موسیٰ نے اپنے اس جوابِ حق ترجمان سے قتل قطبی کے قصور کا اقرار و اعتراف کیا اور اس واقعے کا انکار نہیں فرمایا۔ لیکن یہ واضح فرما دیا کہ اس فعل کا صدور مجھ سے اس وقت ہوا جبکہ مجھے اپنے رب کی طرف سے علم و ہدایت کا نور نہیں ملا تھا۔ بلکہ میں ابھی تک نور علم و ہدایت کی طلب و تلاش میں محو و سرگشتہ تھا۔ چناچہ اس فعل کے صدور پر جب مجھے تم لوگوں سے ظلم و زیادتی کا خوف و خدشہ لاحق ہوا تو میں یہاں سے نکل گیا۔ پھر اس کے بعد مجھے میرے رب نے علم و حکمت کی روشنی سے نوازا اور مجھے حق اور باطل کے درمیان فرق وتمیز کے لیے قوت فیصلہ سے سرفراز فرمایا۔ اور مجھے رسولوں میں سے بنایا۔ سو اب میں تم لوگوں کے پاس بالکل مختلف حیثیت سے آیا ہوں کہ اب میں خدا کا فرستادہ اور اس کا رسول ہوں۔ اور میرا پیغام دراصل اسی رب العالمین کا پیغام ہے۔ میری بات کو ماننا دراصل اس کی بات کو ماننا ہے اور اس سے اعراض و روگردانی اس کے حکم و ارشاد سے روگردانی ہوگی۔ پس تم ان پرانی باتوں کو بھول کر اب میری بات کو اپناؤ تاکہ تمہارا بھلا ہو۔ ورنہ حق کے انکار اور اس سے روگردانی کا بھگتان تم کو بھگتنا پڑے گا۔
Ayahs 26:21–2217 فرعون کے اظہار احسان پر حضرت موسیٰ کا بلیغ جواب : سو حضرت موسیٰ نے فرعون کی اس بات کے جواب میں فرمایا کہ یہ اسی بنا پر تو ہوا کہ تو نے بنی اسرائیل کو اپنی غلامی میں جکڑ رکھا تھا۔ یعنی یہ احسان جتلانے کا مقام ہے ؟ یا تیرے لئے شرم کے مارے ڈوب مرنے کا ؟ کیونکہ اس کی نوبت تو تیرے ان لرزہ خیز مظالم کی وجہ سے ہی آئی تھی جو تو بنی اسرائیل پر توڑ رہا تھا۔ اگر معصوم بچوں کے خون ناحق سے تیرے ہاتھ رنگین نہ ہوتے تو میری والدہ مجھے دریا کی موجوں کے حوالے کیوں کرتیں اور میں تیرے محل میں پہنچتا ہی کیوں۔ اور یہ نوبت آتی ہی کیوں ؟ سو اس میں اس کے اس احسان کا انکار ہے۔ (المعارف، المحاسن اور المراغی وغیرہ) ۔ اور بعض نے کہا کہ اس میں اس کے احسان کا اقرار ہے۔ یعنی تو نے مجھ پر احسان کیا تھا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تو بنی اسرائیل کو غلام بنالے اور میری نبوت کا انکار کر دے۔ (الجامع، الفتح وغیرہ) ۔
Ayah 26:2318 فرعون کے تکبر کا ایک اور مظہر و نمونہ : کہ اس نے کہا " یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے ؟ " اور اس طرح اس ملعون نے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہ السلام) کے دعوائے نبوت و رسالت کا استہزاء و مذاق اڑایا۔ فرعون ملعون چونکہ اپنے سے بالا کسی ہستی ۔ سپر پاور۔ (Super Power) کو ماننے کے لئے تیار ہی نہ تھا۔ اس کا کہنا تھا ۔ { مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ } ۔ کہ " میں تم لوگوں کے لیے اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا "۔ نیز اس کا نعرہ تھا ۔ { اَنَا رَبُّکُمُ الاَعْلٰی } ۔ کہ " میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں "۔ اس لئے اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے جس کا تم اپنے آپ کو فرستادہ بتاتے ہو اور اس کا پیغام سناتے ہو۔ اور اس طرح اس لعین نے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہ السلام) کے دعوائے نبوت و رسالت کا اور اس سے بھی بڑھ کر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا مذاق اڑایا اور کہا۔ " یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے " اور یہ بدبختی کی انتہاء ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 26:2419 حضرت موسیٰ کا فرعون کو جواب کہ میرا رب وہ ہے جو کہ رب ہے اس پوری کائنات کا : ظاہر ہے کہ آسمان و زمین اور ان کی درمیانی مخلوق کی خالقیت و مالکیت کا دعوی تو فرعون بھی بایں ہمہ استکبار و طمطراق نہیں کرسکتا تھا۔ ورنہ اس کو وہیں منہ پر جھٹلا دیا جاتا۔ وہ تو کہتا تھا کہ اس ملک پر جس پر میری حکمرانی ہے دوسری کسی ہستی کا حکم نہیں چل سکتا۔ یہاں سب کچھ میں ہی میں ہوں۔ اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا خدا وہ ہے جو سب کا خالق سب کا مالک ہے اور ان ان صفات کا مالک ہے ۔ جل جلالہ ۔ سو حضرت موسیٰ کا یہ جواب جو بظاہر بڑا سادہ سا لگتا ہے اپنے اندر بہت جامعیت اور بڑی ہمہ گیر و معنویت رکھتا ہے کہ جس نے تمہارے پاؤں کے نیچے بچھے ہوئے اس عظیم الشان فرش کو بچھا دیا اور تمہارے اوپر نہایت پر حکمت طریقے سے آسمان کے اس عظیم الشان چھت کو تن دیا اور زمین و آسمان کے درمیان کی اس عظیم الشان اور حکمتوں اور نعمتوں بھری کائنات کو وجود بخشا وہی رب العالمین ہے۔ پس تم لوگ اگر اپنے پاؤں کے نیچے بچھے زمین کے اس عظیم الشان فرش اور اپنے اوپر تنی ہوئی آسمان کی اس عظیم الشان چھت میں نگاہ عبرت و بصیرت ڈالو اور آسمان و زمین کے درمیان پھیلی اس کائنات میں کسی بھی طرف نگاہ عبرت ڈالو تو تم کو رب العالمین کے وجود باجود اس کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و عنایت کے عظیم الشان نشانات چاروں طرف پھیلے بکھرے نظر آئیں۔ مگر عجب و استکبار اور عناد و ہٹ دھرمی نے تم لوگوں کو اندھا، بہرہ اور اوندھا و ٹیڑھا کر کے رکھ دیا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 26:25–2720 فرعون کی بوکھلاہٹ اور اس کے طنز و استہزاء کا ایک نمونہ : سو اس سے حضرت موسیٰ کے جواب کے نتیجے میں فرعون کی بوکھلاہٹ سامنے آتی۔ یعنی { رسولکم } اس ملعون نے طنز کے طور پر کہا۔ ورنہ وہ حضرت موسیٰ کو رسول تھوڑا ہی مانتا تھا۔ حضرت موسیٰ کے مسکت جواب سے اس کے کبر و غرور پر جو چوٹ لگی اس سے وہ تلملا اٹھا اور اپنے درباریوں اور دوسروں کی طرف مڑ کر کہنے لگا۔ سنتے ہو یہ شخص کیا کہتا ہے ؟ یہ تو دیوانہ ہے۔ سو حضرت موسیٰ نے جب ان کے آباء و اجداد کی گمراہی کو واضح کردیا تو اس سے فرعون کا پارہ اور چڑھ گیا تو اس نے غصے میں جھنجھلا کر ایسے کہا۔
Ayah 26:2821 حضرت موسیٰ کی طرف سے فرعون کی جھوٹی خدائی پر ایک اور ضرب کاری : سو حضرت موسیٰ نے اس کی بدتمیزی کا نوٹس لیے بغیر اس کی جھوٹی خدائی پر ایک ضرب کاری لگانے کے لیے مزید کہا کہ " جو رب ہے مشرق و مغرب کا اور ان تمام چیزوں کا جو کہ ان دونوں کے درمیان ہیں "۔ یعنی مجھے دیوانہ قرار دینے والو، تم اپنی عقل کی خبر لو اور مشرق و مغرب اور ان کے درمیان پھیلی ہوئی اس اتھاہ کائنات پر غور کرکے اس کے خالق ومالک اور اس کے رب کو پہچانو اور اس پر ایمان لاؤ۔ تاکہ تمہارا اپنا ہی بھلا ہو۔ سو حضرت موسیٰ نے فرعون کی بدتمیزی کا کوئی نوٹس لیے بغیر رب کی مزید صفات اس کے سامنے رکھ دیں۔ سو یہ حضرت موسیٰ کی طرف سے فرعون کی خدائی پر آخری بڑی ضرب تھی کہ جس کو نہ مشرق پر کوئی اختیار ہے نہ مغرب پر۔ اس کو خدا ماننے والے اپنی عقلوں کی خرابی اور فتور میں مبتلا ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 26:2922 فرعون کی طرف سے حضرت موسیٰ کو دھمکی : حقائق و دلائل کے مقابلے میں عاجز آجانے کے بعد بوکھلاہٹ کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ ایسے موقعہ پر باطل پرست دھمکیوں پر اتر آتے ہیں۔ جیسا کہ آج کل کے اہل ہویٰ اور باطل پرستوں کا بھی یہی طریقہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ ایسے لوگ جب دلائل وبراہین کی دنیا میں ناکام ہوجاتے ہیں تو تشدد اور دھمکیوں کی زبان اپنا لیتے ہیں۔ بہرکیف فرعون نے جب دیکھا کہ حضرت موسیٰ آپ کی کسی بات کو لائقِ اعتناء نہیں سمجھتے بلکہ پوری بےخوفی کے ساتھ اپنی ایک سے بڑھ کر ایک بات پورے زور و قوت سے اس کے منہ پر کیے جا رہے ہیں اور اس کی خدائی پر ایک سے بڑھ کر ایک ضرب کاری لگا رہے ہیں تو وہ بوکھلا کر چلا اٹھا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی کو اپنا معبود مانا تو میں تم کو جیل کی کال کوٹھڑی میں پہنچا کر چھوڑوں گا۔
Ayahs 26:30–3223 عصائے موسیٰ یکایک اژدھا بن گیا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب فرعون نے حضرت موسیٰ کو نشانی پیش کرنے کے لیے کہا تو حضرت موسیٰ نے اپنے عصا کو زمین پر ڈال دیا۔ اور اس کو زمین پر ڈالنا تھا کہ یکایک وہ ایک اژدہا بن گیا۔ سو جسم کے اعتبار سے تو وہ ایک بڑے اژدھا کی طرح تھا لیکن پھرتی اور چستی میں پتلے باریک سانپ کی طرح۔ جیسا کہ دوسری جگہ اس کیلئے " جان " کا لفظ آیا ہے جس کے معنیٰ پتلے اور باریک سانپ کے ہیں۔ یہ بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس معجزے کا ایک اہم اعجازی پہلو تھا۔ ورنہ دنیا کے عام سانپوں میں ایسا کوئی سانپ نہیں پایا جاتا جس میں یہ دونوں صفتیں جمع ہوں کہ جسم کے اعتبار سے وہ اژدھا ہو اور حرکت و سیر اور چستی و پھرتی کے اعتبار سے باریک سانپ کی طرح۔ بہرکیف فرعون نے حضرت موسیٰ کی دعوت توحید کے جواب میں جو کہ عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق اور آفاق وانفس کے کھلے اور واضح دلائل پر مبنی تھی، حق کو ماننے کی بجائے حضرت موسیٰ کو قید کرنے کی دھمکی دی۔ اور پھر آپ سے نشانی اور معجزہ کا مطالبہ کیا کہ اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو اس پر دلیل پیش کرو۔ تو اس کے جواب میں حضرت موسیٰ نے اس کو عصاء اور یدبیضا کے یہ دونوں واضح معجزات دکھلا دیئے۔ مگر اس پر اس متکبر اور ملعون انسان نے مان کر نہ دیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 26:33–3524 معجزئہ موسوی کی ضرب کاری اور فرعون کی عیاری : سو یہ دونوں کھلے معجزے دیکھنے کے باوجود فرعون نے حق کو تسلیم کرنے اور اس کے آگے جھکنے کی بجائے اپنے حواریوں اور درباریوں سے کہا اور پوری ڈھٹائی سے کہا کہ یہ شخص تو یقینا ایک بڑا ماہر جادوگر ہے جو اپنے جادو کے زور سے تم لوگوں کو تمہارے ملک سے نکال باہر کرنا چاہتا ہے۔ تو تم لوگ کیا حکم دیتے ہو ؟ سو یہاں پر حق کی ضرب کاری کا اثر و نتیجہ ملاحظہ ہو کہ کہاں فرعون کی وہ شورا شوری اور اکڑفوں کہ ۔ { اَنَا رَبُّکُمُ الاَعْلٰی } ۔ کے نعرے لگ رہے ہیں اور کہاں یہ خوفزدگی اور حواس باختگی کہ اپنے ماتحتوں اور درباریوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم مجھے کیا حکم دیتے ہو ؟ پھر تضاد ملاحظہ ہو کہ ادھر حضرت موسیٰ کو جادوگر بتارہا ہے اور ادھر یہ بھی کہہ رہا ہے کہ یہ شخص اپنے جادو کے زور سے تم لوگوں کو تمہارے ملک سے نکال باہر کرنا چاہتا ہے۔ کیا جادو کے زور سے بھی کبھی کسی نے کسی قوم کو اس کے ملک سے نکال باہر کیا ہے ؟ سو اس سے فرعون کی بوکھلاہٹ اور اس کے اضطراب کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اور یہی خاصہ ہوتا ہے ایمان و یقین سے محرومی کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف معجزئہ موسوی کی ضرب کاری نے فرعون کے اندر کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس کے خدائی کے دعوے میں زلزلہ بپا کردیا تھا۔ مگر اس ملعون نے اپنے حواریوں کو اس کے اثر سے بچانے کیلئے اس چالاکی اور عیاری سے کام لیا کہ اس کو جادوگری کا اثر قرار دیا اور مزید یہ کہا کہ یہ شخص اور اس کا یہ کھیل تمہارے لیے بڑے خطرے کا باعث ہے کہ یہ اپنے جادو کے زور سے تم کو اس ملک سے نکال دینا چاہتا ہے اور تمہاری تہذیب کو ختم کردینا چاہتا ہے۔ اور اس طرح اس نے اپنے حواریوں کو حضرت موسیٰ کے خلاف اکسانا اور بھڑکانا چاہا۔ اور یہی طریقہ ہوتا ہے بازیگران سیاست کا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ الا ما شاء اللہ -
Ayahs 26:36–3825 جادوگروں کے حق کے مقابلے میں جمع کر لانے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جمع کردیا گیا جادوگروں کو وقت مقررہ پر "۔ یعنی ان کے جشن کے دن اور چاشت کے وقت۔ جیسا کہ سورة طہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ اور اس کیلئے ایک بڑے کھلے میدان کا انتخاب کیا گیا۔ اور لوگوں کو وہاں حاضری کی ترغیب بھی دی گئی کہ یہ ہماری قومی سلامتی اور ہمارے اجتماعی وقار کا مسئلہ ہے۔ ہمارے ملک اور ہماری تہذیب کو اس وقت بہت بڑا خطرہ درپیش ہے۔ اس لیے ہم سب کا یہ فریضہ اور قومی اور اجتماعی فریضہ بنتا ہے کہ ہم پورے ذوق و شوق اور جوش و خروش سے وہاں جمع ہوں اور اپنے جادوگروں کی حوصلہ افزائی کریں۔ دوسری طرف قدرت کے غیبی ہاتھوں سے یہ انتظام کیا جا رہا تھا تاکہ اس طرح غلبہ حق کا منظر سب لوگ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ لیں اور حق کا غلبہ سب کے سامنے واضح ہوجائے۔ جیسا کہ بعد میں بالفعل ہوا اور آنا فانا ایک دنیا کی دنیا بدل گئی ۔ فالحمد للہ رب العالمین -
Ayahs 26:39–4026 فرعون کے مستقبل کی وابستگی جادوگروں کے کرتب سے : سو فرعون نے اپنے مستقبل کو جادوگروں کے کرتب سے وابستہ کرتے ہوئے کہا کہ " شاید ہم جادوگروں کی پیروی کریں اگر وہ غالب رہیں "۔ یعنی ظاہر ہے کہ ملک بھر کے ماہر جادوگروں کے مقابلے میں تنہا موسیٰ (علیہ السلام) کیا ٹھہر سکے گا۔ جیت بہرحال ہماری ہی ہوگی۔ اس لئے ہم الزام اتارنے کے لئے سب لوگوں کے سامنے آسانی سے کہہ دیں گے کہ لو جی ہم تو حق ہی کی پیروی کرتے ہیں جو کہ اس مقابلے میں جادوگروں کی فتح کی صورت میں سامنے آگیا۔ لیکن اس کو کیا خبر تھی کہ نتیجہ اس کے برعکس اور ہی صورت میں نکلے گا اور غلبہ حق ہی کا ہوگا اور ان کو ذلت اور رسوائی سے دوچار ہونا پڑے گا۔ بہرکیف اس کا خیال تھا کہ ملک بھر سے جمع ہونے والے یہ ماہر جادوگر بہرحال کامیاب ہوں گے اور دنیا میں ہماری عظمت و بڑائی کے ڈنکے بجیں گے۔ اس لیے اس نے ایک طرف تو عام لوگوں کو جمع ہونے پر ابھارنے کے لیے ان سے بطور تحریض و تشویق استفہامیہ انداز میں کہا کہ کیا تم لوگ جمع ہونے والے ہو ؟ یعنی تم سب کو ضرور جمع ہونا چاہیے۔ اور دوسری طرف اس نے ۔ { لعلنا نتبع السحرۃ ان کانوا ہم الغالبین } ۔ سے ان لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ان جادوگروں کی کامیابی ہمارے قومی وقار اور ہمارے مستقبل کے تحفظ اور ہماری بقا کا مسئلہ ہے۔ اس لیے ہم میں سے ہر ایک کو اس بات کا آرزومند رہنا چاہیے کہ اس مقابلے میں ان کی فتح ہو اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ہمیں ان کا ساتھ دینا چاہیے۔