26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 26:1
طسم۔ بغوی نے بروایت عکرمہ بیان کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا طسم کی تفسیر سے علماء عاجز ہیں۔ علی بن طلحہ والبی کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ قسم ہے اور اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے (یعنی اللہ نے اس نام کی قسم کھائی ہے) قتادہ نے کہا قرآن کے ناموں میں سے ایک نام طسم ہے۔ مجاہد نے کہا ایک عورت کا نام ہے محمد بن کعب قرظی نے کہا اللہ نے قسم کھائی اپنے ملول (یعنی قدرت کی) اور سنا (یعنی نور کی) اور مجد (یعنی بزرگی) کی (قرظی کی مراد یہ ہے کہ ط سے طول کی طرف اور س سے سنا کی طرف اور میم سے مجد کی طرف اشارہ ہے) حق بات یہ ہے کہ (دوسرے مقطعات کی طرح۔ مترجم) ۔ اللہ اور اس کے رسول کے درمیان ایک راز ہے۔
Ayah 26:2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں

تلک یہ سورت یا قرآن۔ آیت الکتب المبین۔ کھلی یا کھول دینے والی کتاب کی آیات ہیں۔ یعنی اس کتاب کی آیات ہیں جس کا معجزہ ہونا ظاہر ہے یا جو اللہ کے احکام اور ہدایت کا راستہ کھول دینے والی ہے۔
Ayah 26:3

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

(اے پیغمبرﷺ) شاید تم اس (رنج) سے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے اپنے تئیں ہلاک کردو گے

لعلک باخع نفسک شاید آپ اپنی جان کھو دیں گے۔ بَخَعَ نَفْسَۂ اس نے غم میں اپنی جان ہلاک کردی۔ بَخاعپشت میں ایک رگ ہوتی ہے جو گردن میں بھی آتی ہے یہ رگ حسب زعم زمخشری نخاع (حرام مغز) کے علاوہ ہوتی ہے اور نجع کا اصل معنی ہے ذبح کرتے وقت چھری کو نجاع تک پہنچا دینا پھر اس کا استعمال ہر مبالغہ کے لئے ہونے لگا 1 ؂۔ الا یکونو مؤمنین۔ اس وجہ سے کہ وہ مؤمن نہیں ہوتے (ایمان نہیں لاتے) اس آیت کا نزول اس وقت ہوا جب اہل مکہ نے رسول اللہ کی تکذیب کی اور آپ کو یہ بات بہت شاق ہوئی کیونکہ حضور ﷺ : کو بہت زیادہ تمنا اور رغبت تھی کہ اہل مکہ مسلمان ہوجائیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضور کو اہل مکہ کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے اس بات کا غم ہو کہ کہیں خدا تعالیٰ مجھ سے اس کی باز پرس نہ کرے اس صورت میں یہ آیت رسول اللہ ﷺ کے لئے پیام تسلی ہے۔ لعل کلمہ امید ہے لیکن اس جگہ رحم کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے یعنی اپنی جان پر آپ رحم کریں اور غم میں نہ پڑیں آپ اگر غم کریں گے تو شاید آپ غم کی وجہ سے اپنی جان ہلاک کردیں۔ درحقیقت ہم ہی ان کا مؤمن ہونا نہیں چاہتے۔
Ayah 26:4

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے نشانی اُتار دیں۔ پھر ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں

ان نشا اگر ہم (ان کا مؤمن ہوجانا) چاہیں۔ ننزل علیہم من السمآء ایۃ تو ان پر آسمان سے کوئی نشانی نازل کردیں کہ وہ اس کو دیکھ کر ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں۔ یا (آیۃً سے مراد ہے مصیبت یعنی) کوئی ایسی مصیبت نازل کردیں۔ جو ان کو ایمان لانے پر مجبور کر دے۔ فظلت اعناقہم لہا خضعین۔ پھر ان کی گردنیں اس کے سامنے جھک جائیں یعنی یہ فرماں بردار ہوجائیں۔ قتادہ نے کہا اگر اللہ چاہتا تو کوئی ایسی نشانی نازل کردیتا کہ پھر کوئی بھی نافرمانی سے گردن نہ موڑتا ابن جریج نے کہا آیت کا یہ معنی ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو کوئی ایسا امر نازل کردیتا کہ پھر ان میں سے کوئی شخص بھی نافرمانی نہ کرسکتا۔ ایک شبہاعناق عنق کی جمع ہے اور عنق مؤنث ہے اس لئے اعناق کے ساتھ خاضعۃ ہونا چاہئے۔ خاضعین بعینہٖ جمع مذکر کیوں کہا گیا۔ ازالہ (1) دوسری متصل آیات کے مقاطع کی لفظی رعایت سے ایسا کیا گیا۔ (2) اصل کلام فَظَلُّوْا لَہَا خٰضِعِیْنَتھا اور یہ صحیح تھا ‘ لیکن (عضو ‘ خضوع اور) مقام خضوع کو بیان کرنے کے لئے لفظ اعناق بڑھا دیا گیا جو زائد ہے۔ (3) مضاف محذوف ہے ‘ اصل میں اصحاب الاعناق تھا مضاف کو حذف کر کے مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام کردیا گیا۔ کیونکہ گردنیں جب خاضع ہوجائیں گی تو گردنوں والے خود ہی فرماں بردار ‘ عاجز ہوجائیں گے۔ (جواب نمبر دوم مجاز فی الاسناد تھا اور نمبر سوئم میں مجاد بالحذف۔ مترجم) ۔ (4) اخفش نے کہا خاضعین کا تعلق اَعْنَاقُہُمْکی ضمیر جمع مذکر (یعنی ہُمْ ) سے ہے اعناق سے نہیں ہے۔ (5) خضوع اہل عقل کی صفت ہے اور عناق کو عقلاء کے قائم مقام قرار دے کر خاضعین کو بصیغۂ جمع مذکر کردیا۔ (6) عرب کا قاعدہ ہے کہ جب مؤنث کی اضافت مذکر کی طرف کرتے ہیں تو مؤنث کو بھی مذکر مان لیتے ہیں اور مذکر کی اضافت مؤنث کی طرف کرتے ہیں تو اس مذکر کو بھی مؤنث قرار دے لیتے ہیں اس جگہ شق اوّل کی موافقت ہے۔ (7) عنق سے پورا جسم مراد ہے (جز اعظم بول کر کل مراد لینا جائز ہے۔ مترجم) ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمت یَدَاکَ (ہاتھوں سے مراد پوری شخصیت ہے) ۔ اَلْزَمْنَاہُ طَاءِرَہٗ فِی عَنُقہٖ (عنق سے مراد وہ شخص ہے) ۔ (8) مجاہد نے کہا (اعناق کا حقیقی معنی مراد نہیں ہے بلکہ) اعناق سے مراد ہیں بڑے بڑے سردار ‘ یعنی بڑے بڑے سردار اس آیت کے سامنے تابع دار ہوجاتے ہیں۔ (9) اعناق سے جماعتیں مراد ہیں۔ عرب کہتے ہیں جاء القوم عنقاً عنقاً وہ لوگ جوق در جوق ٹکڑیاں بنا کر آئے۔
Ayah 26:5

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

اور ان کے پاس (خدائے) رحمٰن کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

وما یاتیہم من ذکر من الرحمن محدث الا کانوا عنہ معرضین۔ اور کوئی جدید (تازہ وارد) نصیحت ان کے پاس رحمن کی طرف سے نہیں آتی مگر وہ اس سے روگرداں ہوجاتے ہیں۔ ذِکْرٍ یعنی نصیحت۔ یعنی قرآن کا کوئی حصّہ جس میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے من ذکرٍ میں مِنْ زائد ہے اور مِنَ الرَّحْمٰنِمیں من ابتدائیہ ہے۔ مُحْدَث سے مراد ہے جدید نازل شدہ خواہ وجود کے لحاظ سے وہ قدیمی ہو (حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو پیام بھی نازل ہوا ہے۔ وہ کسی زمانے میں نازل ہوا ہو ‘ اصول کے لحاظ سے ایک ہی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ کی ذاتی و صفاتی توحید ‘ وجود ملائکہ ‘ نبوت و وحی کی صداقت ‘ قانون خیر و شر اور قیامت کے دن اعمال کی جزا و سزا یہ بنیادی تعلیم ہر کتاب اور ہر صحیفے میں میں دی گئی ہے اس میں زمانہ کا فرق اثر انداز نہیں۔ البتہ قدیم و جدید کا فرق نزول میں ہے کوئی کتاب پہلے نازل ہوئی جیسے صحف نوح ( علیہ السلام) کوئی سب سے آخر میں نازل ہوئی جیسے قرآن مجید۔ مترجم) ۔
Ayah 26:6

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

سو یہ تو جھٹلا چکے اب ان کو اس چیز کی حقیقت معلوم ہوگی جس کی ہنسی اُڑاتے تھے

فقد کذبوا پھر یقیناً انہوں نے تکذیب کی۔ یعنی ذکر کی طرف سے روگرداں ہونے کے بعد انہوں نے ذکر کو جھوٹا قرار دیا اور تکذیب میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ ذکر کا مذاق بنانے لگے۔ فَقَدْ کَذَّبُوْاکے اندر استہزاء کا مفہوم ضمنی طور پر آگیا آئندہ آیت اس پر دلالت کر رہی ہے۔ فسیاتیہم اثبوا ما کانوا بہ یستہزء ون۔ (بدر کے دن یا قیامت کے دن) آئندہ ان کو اس (ذکر) کی اطلاعات مل جائیں گی جس ذکر کا وہ مذاق اڑا رہے تھے۔ یعنی یہ بات سامنے آجائے گی کہ وہ ذکر جس کا وہ مذاق بناتے تھے یا باطل اور تصدیق و تعظیم کا مستحق تھا یا تکذیب و تحقیر و استہزاء کے لائق۔
Ayah 26:7

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی کتنی نفیس چیزیں اُگائی ہیں

اولم یروا الی الارض کم انبتنا فیہا من کل زوج کریم۔ کیا انہوں نے زمین کی طرف (نظر اٹھا کر) نہیں دیکھا کہ ہم نے کس قدر عمدہ اچھا سبزہ ہر طرح کا اس میں اگایا ہے۔ یعنی اللہ کے رسول سے اللہ کی توحید اور مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھائے جانے کی دلیلیں انہوں نے طلب کیں اور زمین کی طرف نہیں دیکھا۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ زمین کو اور اس کی روئیدگی کو دیکھ رہے ہیں (اور توحیدِ الٰہی اور قیامت کے وقوع کی نشانیاں ان کے سامنے ہیں) تو مزید آیات کی طلب نہ کرنی چاہئے۔ آیت میں استفہام انکاری ہے اور انکار نفی اثبات ہوتا ہے۔ کَمْ اَنْبَتْنَا میں کَمْ خبریہ ہے جو کثرت کو ظاہر کر رہا ہے۔ زَوْجٍ بمعنی صنف نبات۔ ہر طرح کا سبزہ ‘ درخت۔ کَرِیْمٍ عمدہ ‘ اچھا ‘ آدمیوں اور جانوروں کے لئے مفید ترین غذا اور کثیر المنفعت دوا۔ خواہ مفرد شکل میں ہو یا مرکب بنا کر۔ (دوا کبھی مفرد مفید ہوتی ہے کبھی معجون جوارش اور دوسرے طرح طرح کے مرکبات کی شکل میں) زمین کے ہر سبزہ کی روئیدگی و بالیدگی کی سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کی ہمہ گیر قدرت پر دلالت کر رہی ہے عدم کے بعد دوبارہ پیدا کرنے کو ثابت کر رہی ہے اور اللہ کی کامل صفات کا اظہار کر رہی ہے۔ لفظ کل احاطۂ افراد کے لئے ہے اور لفظ کم کثرت اصناف کو ظاہر کر رہا ہے۔
Ayah 26:8

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ اس میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے مگر یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں

ان فی ذلک لایۃ اس میں بلاشبہ (بڑی) نشانی ہے۔ یعنی طرح طرح کا سبزہ پیدا کرنے میں یا ان میں سے ہر ایک کے اندر ایسی عظیم الشان نشانی موجود ہے جو واجب بالذات کامل القدرت تام الحکمۃ وسیع النعمت بسیط الرحمۃ اللہ کی ہستی پر دلالت کر رہی ہے۔ وما کان اکثرہم مؤمنین۔ اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ یعنی اللہ کے علم اور قضائے خداوندی میں (پہلے سے ہی) یہ بات موجود تھی کہ ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اسی لئے عظیم الشان آیات قدرت نے بھی ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ سیبویہ نے کہا اس جگہ کان زائد ہے یعنی آیات عظیمہ کو دیکھنے کے بعد بھی ان میں سے اکثر مؤمن نہیں ہیں۔
Ayah 26:9

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار غالب (اور) مہربان ہے

وان ربک لہو العزیز الرحیم۔ اور حقیقت یہ ہے کہ بلاشک و شبہ آپ کا رب ہی غالب مہربان ہے۔ یعنی کافروں سے انتقام لینے پر قادر ہے لیکن مہربان بھی ہے۔ یعنی کافروں سے انتقام لینے پر قادر ہے لیکن مہربان بھی ہے اپنی مہربانی سے اس نے مہلت دے رکھی ہے یا یہ مطلب ہے کہ کافروں سے انتقام لینے پر قادر ہے اور توبہ کرنے والے مؤمنوں پر مہربان ہے۔
Ayah 26:10

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا کہ ظالم لوگوں کے پاس جاؤ

واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین۔ اور جب آپ کے رب نے موسیٰ : ( علیہ السلام) کو پکارا (اور حکم دیا) کہ تم ان ظالموں
Ayah 26:11

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

(یعنی) قوم فرعون کے پاس، کیا یہ ڈرتے نہیں

قو فرعون الا یتقون۔ یعنی فرعون کی قوم والوں کے پاس جاؤ (اور دیکھو کہ) کیا وہ ہمارے غضب سے نہیں ڈرتے۔ یعنی اس واقعہ کو یاد کرو جب آپ کے رب نے موسیٰ کو پکارا تھا موسیٰ نے درخت کو اور (درخت سے اٹھتی ہوئی) آگ کو دیکھا اس وقت اللہ نے ان کو ندا دی تھی۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لئے پیام تسکین ہے کہ آپ کافروں کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے اپنی جان کا نقصان نہ کریں اور اس وقت کو یاد کریں جب اللہ نے موسیٰ کو ندا دی تھی اور قوم فرعون کے پاس جا کر ہدایت کرنے کا حکم دیا تھا۔ اَلظَّالِمِیْنَظلم کرنے والے یعنی کفر کرنے والے یعنی اسرائیل کو غلام بنانے والے اور ان کو طرح طرح کی اذیتیں دینے والے ‘ یہاں تک کہ ان کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کردینے والے۔ قَوْمَ فِرَعَوُنَفرعون تو ان کا فرماں روا تھا۔ سب کام اسی کے حکم سے ہوتے تھے اس لئے فرعون کا ذکر نہیں کیا صرف قوم فرعون کا ذکر کیا۔ اَلاَ یَتَّقُوْنَاستفہام انکاری توبیخی ہے جس سے مراد ہے امر یعنی اللہ کی اطاعت و عبادت کر کے ان کو اللہ کے عذاب سے اپنی جانوں کو محفوظ کرنا چاہئے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اصل کلام الا یَاقومِ اتَّقونہو۔ قوم کو حذف کردیا (منادیٰ کبھی محذوف کردیا جاتا ہے) جیسے الا یَسْجُدُوْاکی اصل الا یاقوم اُسْجُدُوْاتھی (پھر یاء کو اتقون سے ملا دیا اور امر کی ہمزہ کو حذف کردیا) مطلب یہ ہوگا کہ قوم فرعون کے پاس جاؤ اور کہو اے میری قوم اللہ سے ڈرو۔
Ayah 26:12

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ میرے پروردگار میں ڈرتا ہوں کہ یہ مجھے جھوٹا سمجھیں

قال رب انی اخاف ان یکذبون۔ موسیٰ نے کہا اے میرے رب مجھے اندیشہ ہے کہ وہ میری تکذیب کریں گے۔
Ayah 26:13

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

اور میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان رکتی ہے تو ہارون کو حکم بھیج کہ میرے ساتھ چلیں

ویضیق صدری ولا ینطلق لسانی اور میرا سینہ تنگ ہوجائے گا (یعنی دل بھچے گا) اور میری زبان نہیں چلے گی۔ مطلب یہ ہے کہ میری زبان میں گرہ ہے اس لئے زبان سے چونکہ تکذیب کو دور کرنے والی کوئی دلیل میں روانی سے نہ کہہ سکوں گا اور زبان و دل کی مدد نہ کرے گی۔ اس لئے میرا دل بھچے گا۔ بغوی نے لکھا ہے۔ یضیق صدری کا یہ مطلب ہے کہ ان کی تکذیب سے میرا سینہ تنگ ہوگا۔ فارسل الی ہرون۔ پس ہارون ( علیہ السلام) کے پاس (وحی یا جبرئیل کو وحی دے کر) بھیج دے۔ بیضاوی نے لکھا ہے حضرت موسیٰ کی طرف سے یہ حیلۂ بہانہ اور تعمیل حکم میں ٹال مٹول نہ تھی بلکہ اپنے ساتھ ملانے اور تبلیغ رسالت میں شریک بنانے کی درخواست تین وجوہ کی بناء پر کی۔ (1) تکذیب کا اندیشہ۔ (2) تکذیب سے متاثر ہو کر دل کی تنگی۔ (3) تنگی قلب کی وجہ سے روح کا دل کے اندر گھٹ جانا اور زبان کی بندش بڑھ جانا۔ جب یہ تینوں امور جمع ہوجائیں تو لامحالہ کسی مددگار کی ضرورت پڑنا ظاہر ہے تاکہ وہ دل کو قوی کرے اور زبان کے گنگڑانے کے وقت ترجمانی کرسکے۔ پس موسیٰ کی درخواست کا مقصد یہ تھا کہ تعمیل حکم کے لئے ہارون کو میرا مددگار بنا دے (تاکہ امتثال حکم پورے طور پر ہو سکے) ۔
Ayah 26:14

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور ان لوگوں کا مجھ پر ایک گناہ (یعنی قبطی کے خون کا دعویٰ) بھی ہے سو مجھے یہ بھی خوف ہے کہ مجھ کو مار ہی ڈالیں

ولہم علی ذنب فاخاف ان یقتلون۔ اور ان کا مجھ پر ایک جرم بھی عائد ہوتا ہے اس لئے مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ عَلَیٌّ ذَنْبٌاس جگہ مضاف محذوف ہے یعنی ان کی طرف سے مجھ پر ارتکاب جرم کا دعویٰ بھی ہے ایک قبطی میرے ہاتھ سے مارا گیا تھا۔ حضرت موسیٰ نے قبطی کے قتل کو فرعونیوں کے خیال کے بموجب جرم قرار دیا ورنہ واقع میں قبطی کو قتل کرنا جائز تھا ‘ وہ کافر تھا معصوم الدم نہ تھا۔ یہ ایک طویل قصہ کا مختصر حصہ ہے دوسری جگہ اس کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ فَاَخَافَ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ یعنی اداء رسالت سے وہ مجھے قتل کردیں گے اس کا مجھے اندیشہ ہے ‘ حضرت موسیٰ کا اظہار خوف قتل بھی عدم تعمیل حکم کا بہانہ نہ تھا بلکہ ایک طرح کی دعا تھی کہ اللہ اس مصیبت کو دفع کر دے جس کے واقع ہوجانے کا قوی اندیشہ ہے کہ پیام پہنچانے سے پہلے ہی وہ قتل کردیں اور تبلیغ رسالت نہ ہو سکے۔
Ayah 26:15

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

فرمایا ہرگز نہیں۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں

قال کلا اللہ نے فرمایا ہرگز نہیں (ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا وہ تم کو قتل نہیں کرسکتے۔ فاذہبا بایتنآ انا محکم مستعمون۔ سو اب تم دونوں ہمارے احکام لے کر جاؤ ہم (اپنی نصرت و امداد کے ساتھ) تمہارے ساتھ ہیں (اور تمہارے کلام کو) سنتے ہیں۔ حضرت ہارون موجود نہ تھے بطور تغلیب حاضر علی الغائب تثنیۂ مخاطب کا صیغہ استعمال کیا گیا اور دونوں کو جانے کا حکم دیا۔ حضرت موسیٰ کی دونوں درخواستیں قبول کرلی گئیں۔ کَلاَّکے لفظ سے تو قتل سے محفوظ رکھنے کا وعدہ کیا گیا اور فاذْہَبَا (بصیغۂ تثنیہ) سے حضرت ہارون کو بطور مددگار شریک بنا دیا گیا۔ گویا یوں فرمایا موسیٰ تم اپنے قتل ہوجانے کا وہم نہ کرو اور جس کو اپنے ساتھ ملانے کی تم نے درخواست کی ہے اس کو ساتھ لے کر جاؤ۔ اِنَّا مَعَکُمْہم تم سب کے ساتھ ہیں۔ یعنی تمہارے اور ہارون کے اور جو تمہارے ساتھ جائے اس کے ساتھ ہماری مدد ہے یا تم دونوں کے اور تمہارے دشمنوں کے ساتھ ہمارا علم ہے (کوئی بھی ہمارے علم سے باہر نہیں ہے۔ مُسْتَمِعُوْنَ تم سب کی گفتگو کو ہم سننے والے ہیں ہم تم دونوں کو ان پر غالب کردیں گے۔
Ayah 26:16

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

تو دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہان کے مالک کے بھیجے ہوئے ہیں

فاتیا فرعون فقولا انا رسول رب العالمین۔ سو تم دونوں فرعون کے پاس جا کر اس سے کہو کہ ہم رب العالمین کے قاصد ہیں۔ رسول کا لفظ مفرد ہے اس جگہ بمعنئ رسالت ہے۔ لفظ رسول بمعنیٗ مرسل (بھیجا ہوا) بھی ہے اور بمعن ئرسالت (پیامبری) بھی۔ بیضاوی نے لکھا ہے اسی وجہ سے لفظ رسول کو کبھی بصورت تثنیہ استعمال کیا جاتا ہے کبھی بصیغۂ مفرد۔ یعنی اگر رسول بمعنی مرسل ہو تثنیہ لایا جائے گا اور اگر بمعنئ رسالت ہو تو مفرد مستعمل ہوگا۔ اگر بمعنئ رسالت ہو تو یہ مطلب ہوگا کہ ہم رب العالمین کی طرف سے رسالت والے (پیام رساں) ہیں (یعنی رسول سے پہلے لفظ ذو محذوف ہوگا) ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وزن فعول کا استعمال واحد و جمع دونوں کے لئے ہوتا ہے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ اِنَّا رُسُلُ رَبِّ الْعَالَمِیْنَنہیں فرمایا کیونکہ وزن فعول و فعیل میں مذکر ‘ مؤنث اور واحد ‘ جمع سب برابر ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا رسول کا اطلاق دو پر بھی ہوتا ہے اور زیادہ پر بھی ‘ عرب بولتے ہیں ہٰذَا رَسُوْلِیْ وَوَکِیْلِیْہذان (یہ دونوں) رسولی ووکیلی۔ اللہ نے (فعول کو جمع کے لئے بھی استعمال کیا ہے۔ ) فرمایا وَہُمْ لَکُمْ عَدُوٌّبعض نے کہا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون اخوت (بھائی ہونے) میں متحد تھے اس لئے لفظ رسول بصیغۂ مفرد استعمال کیا۔ بعض نے کہا پیام ایک تھا اس لئے دو پیامبروں کو ایک ہی قرار دیا ‘ یا اِنَّا رَسُوْلُکا مطلب ہے اِنَّ کُلَّ وَاحِدٍ مِنَّا ہم میں سے ہر ایک اللہ کا رسول ہے۔
Ayah 26:17

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

(اور اس لئے آئے ہیں) کہ آپ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیں

ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (ہم کو یہ پیام دے کر بھیجا گیا ہے) کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو چھوڑ دو تاکہ وہ شام کو چلے جائیں تو ان کو غلام بنائے نہ رکھ۔ بغوی نے لکھا ہے فرعون نے بنی اسرائیل کو چار سو برس غلام بنائے رکھا ‘ اس زمانہ میں بنی اسرائیل کی تعداد چھ سو اسّی ہزار تھی (یعنی چھ لاکھ اسّی ہزار) غرض موسیٰ مصر کی طرف چلے ہارون وہاں موجود ہی تھے موسیٰ نے ہارون کو حکم الٰہی سے مطلع کیا۔ قصہ کی تفصیل میں آیا ہے کہ موسیٰ جب مصر کو لوٹ کر آئے تو اس وقت اونی چوغہ پہنے ہاتھ میں لاٹھی لئے لاٹھی کے سریے میں تو بڑا لٹکا ہوا (جس کے اندر کھانے پینے کا سامان تھا) اس ہیئت سے مصر میں داخل ہوئے۔ مصر میں آکر اپنے گھر میں داخل ہوئے اور ہارون کو اطلاع دی کہ اللہ نے مجھے فرعون کے اور تمہارے پاس بھیجا ہے تمہارے پاس اس سے لئے بھیجا ہے کہ ہم دونوں جا کر فرعون کو دعوت دیں۔ یہ سن کر موسیٰ و ہارون کی ماں آگئی اور چیخ پڑی کہنے لگی فرعون تو تجھے قتل کرنے کے لئے تیری تلاش میں ہے اگر تم لوگ اس کے پاس جاؤ گے تو وہ تم کو مروا ڈالے گا۔ حضرت موسیٰ نے اس کی ایک نہ مانی اور رات کو دونوں فرعون کے دروازہ پر جا پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ دربان ہ کے بکے ہوگئے اور گھبرا کر انہوں نے پوچھا ‘ دروازے پر کون ہے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ دربانوں نے اوپر سے جھانک کر دیکھا اور پوچھا تم دونوں کون ہو۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا میں رب العالمین کا قاصد ہوں فوراً دربان نے فرعون سے جا کر کہا ‘ ایک پاگل دروازے پر کھڑا کہہ رہا ہے میں رب العالمین کا قاصد ہوں ‘ فرعون نے صبح تک یوں ہی چھوڑے رکھا۔ صبح ہوئی تو دونوں کو طلب کیا۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ دونوں فرعون کی طرف گئے لیکن سال بھر تک فرعون نے اپنے پاس آنے کی اجازت نہیں دی پھر دربان نے جا کر فرعون سے کہا یہاں ایک آدمی ہے جو کہہ رہا ہے کہ میں رب العالمین کا قاصد ہوں ‘ فرعون نے کہا اندر آنے دو ۔ ہم اس سے کچھ دل لگی ہی کریں گے۔ دونوں فرعون کے پاس پہنچے اور اللہ کا پیام پہنچایا۔ فرعون حضرت موسیٰ کو پہچان گیا۔ کیونکہ آپ نے اسی کے گھر میں پرورش پائی تھی۔
Ayah 26:18

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

(فرعون نے موسیٰ سے کہا) کیا ہم نے تم کو کہ ابھی بچّے تھے پرورش نہیں کیا اور تم نے برسوں ہمارے ہاں عمر بسر (نہیں) کی

قال الم نربک فینا ولیدا۔ کہنے لگا کیا ہم نے اس وقت اپنے گھروں میں نہیں پالا تھا ؟ جبکہ تو (نوزائیدہ) بچہ تھا۔ ولید سے مراد ہے بچہ ‘ قرب ولادت کی وجہ سے ولید کہا (ورنہ حضرت موسیٰ فرعون کے گھر کے اندر پیدا نہیں ہوئے تھے) ۔ ولبثت فینا من عمرک سنین۔ اور تو ہمارے اندر برسوں رہا۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت موسیٰ فرعون کے پاس تیس سال کی عمر تک رہے پھر مدین کو چلے گئے وہاں دس سال رہے پھر مصر کو لوٹے اور فرعونیوں کو تیس سال تک اللہ کی طرف بلاتے رہے پھر فرعون کے ڈوبنے کے بعد پچاس برس زندہ رہے۔ (آپ کی کل عمر 120 برس ہوئی) ۔
Ayah 26:19

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور تم نے وہ کام کیا تھا جو کیا اور تم ناشکرے معلوم ہوتے ہو

وفعلت فعلتک التی فعلت وانت من الکفرین۔ اور تو نے اپنی وہ حرکت بھی کی تھی جو کی تھی اور تو بڑا ناشکرا ہے۔ یعنی تو نے قبطی کو قتل کردیا اور میرے احسان کی ایسی ناشکری کی کہ میرے خاص لوگوں کو قتل کرنے لگا۔ کذا روی العوفی عن ابن عباس وہو قول اکثر المفسرین۔ (یعنی کفر سے مراد ہے کفران نعمت اور احسان فراموشی) کیونکہ فرعون کفر باللہ سے تو واقف ہی نہ تھا۔ حسن اور سدی نے کہا اَنْتَ کُنْتَ مِنَ الْکَافِرِیْنَیعنی اپنے جس معبود کی طرف تو ہم کو بلا رہا ہے اس کا منکر تو پہلے تو خود تھا ہمارے ساتھ ہمارے مذہب پر رہتا تھا۔ یا یہ مراد ہے کہ تو میرا منکر یا احسان فراموش ہے کہ لوٹ کر آیا تو میری مخالفت کرتا آیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تو کافروں میں سے ہے یعنی ان لوگوں میں سے ہے جن کو فرعون والے اپنے مذہب میں کافر قرار دیتے تھے۔
Ayah 26:20

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہاں (ہاں) وہ حرکت مجھ سے ناگہاں سرزد ہوئی تھی اور میں خطا کاروں میں تھا

قال فعلتہا اذا وانا من الضآلین۔ حضرت موسیٰ نے کہا میں نے وہ حرکت اس وقت کی تھی جبکہ میں گم کردہ راہ تھا یعنی ناواقفوں میں سے تھا اس وقت اللہ کے پاس سے میرے پاس کوئی ہدایت نہیں آئی تھی۔ یا یہ مطلب ہے کہ میں اس وقت نہیں جانتا تھا کہ میرے اس فعل سے وہ مرجائے گا ‘ مارنے سے میرا مقصد قتل کرنا نہ تھا۔ یا یہ مطلب ہے کہ بغیر قصد و ارادہ کے میں اس وقت صحیح راستہ سے بھٹک گیا تھا یعنی نازیبا حرکت تو مجھ سے ضرور صادر ہوئی لیکن بلا ارادہ۔ یا یہ مطلب ہے کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو جاہلانہ کام کر بیٹھتے ہیں۔ بعض نے کہا ضلالت سے مراد ہے بھول جانا یعنی بھولے سے مجھ سے یہ حرکت ہوگئی۔ اَنْ تَضِلَّ اِحْدَاہُمَا فَتُذِکِّرَ اِحْدَاہُمَا الْاُخْرٰی میں اَنْ تَضِلَّکا ترجمہ اَنْ تَنْسٰی کیا گیا ہے کہ ایک عورت بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلا دے۔
Ayah 26:21

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

تو جب مجھے تم سے ڈر لگا تو تم میں سے بھاگ گیا۔ پھر خدا نے مجھ کو نبوت وعلم بخشا اور مجھے پیغمبروں میں سے کیا

ففرت منکم لما خفتکم تو جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا یعنی مدین کو بھاگ گیا۔ فوہب لی ربی حکما وجعلنی من المرسلین۔ پھر میرے رب نے مجھے حکم (یعنی حکمت وعلم) عطا فرمایا اور مجھے پیغمبروں میں سے بنا دیا۔
Ayah 26:22

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور (کیا) یہی احسان ہے جو آپ مجھ پر رکھتے ہیں کہ آپ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے

وتلک نعمۃ تمنہا علی ان عبدت بنی اسرآء یل اور یہ کوئی نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان رکھ رہا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا۔ تلک سے اشارہ تربیت کی طرف ہے یا بری خصلت کی طرف اشارہ ہے۔ عَبَّدْتَّسے تو نے غلام بنا رکھا۔ اَعْبَدْتُ اِسْتَعْبَدْتُاور تعبَّدْتُ (یعنی تفعیل افعال استفعال اور تفعل سب ہم معنی ہیں) مفسرین نے اس آیت کا مطلب مختلف طور پر لکھا ہے۔ (1) حضرت موسیٰ کی طرف سے یہ اقرار احسان ہے کہ تو نے مجھے زندہ چھوڑ دیا اور پالا اور دوسرے اسرائیلی بچوں کی طرح قتل نہیں کرایا۔ گویا حضرت موسیٰ نے فرمایا بیشک یہ تیرا احسان ہے جو تو مجھے جتلا رہا ہے کہ بنی اسرائیل کو تو نے غلام بنائے رکھا اور مجھے چھوڑ دیا غلام نہیں بنایا۔ (2) بظاہر یہ اقرار نعمت ہے اور حقیقت میں انکار ہے ‘ حضرت موسیٰ نے اوّل فرعون کی تردید و توبیخ کی اور پھر اس نعمت تربیت کی طرف کلام کا رخ کیا جس کا فرعون نے ذکر کیا تھا لیکن اس کا صراحۃً انکار نہیں کیا۔ کیونکہ فرعون نے واقع میں پالا ہی تھا بلکہ اس بات پر تنبیہ کی کہ یہ نعمت حقیقت میں احسان نہ تھی لیکن ظلم کے مقابلے میں یا ظلم کے نتیجہ میں یہ نعمت تھی مجھ پر تیرا احسان نتیجہ تھا اس بات کو کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا ان کے لڑکوں کو تو قتل کراتا تھا اسی وجہ سے میں تیرے ہاتھ لگا اور تیرے پاس مجھے پہنچا دیا گیا اور تو نے میری پرورش و کفالت کی۔ اگر تو بنی اسرائیل کو حد سے زیادہ ذلیل نہ کرتا اور ان کے لڑکوں کو قتل نہ کراتا تو میرے گھر والے میری پرورش کرتے اور دریا میں مجھے نہ پھینکتے اور میں تیرے مکان میں نہ لایا جاتا۔ (3) یہ استفہام انکاری ہے ہمزۂ استفہام محذوف ہے یعنی یہ احسان جس کا تو نے ذکر کیا ہے کیا کوئی احسان ہے جبکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھکا ہے۔ بنی اسرائیل کو غلام بنائے رکھنے کی صورت میں یہ تربیت کوئی احسان نہیں۔ میری قوم کو تو نے غلام بنائے رکھا اور میری تربیت کی یہ کوئی احسان ہوا۔ جب فرعون نے حضرت موسیٰ کے طنز کو سن لیا اور یہ بھی دیکھ لیا کہ موسیٰ اپنی دعوت پر اڑے ہوئے ہیں تو دعوت پر ہی اعتراض کرنے لگا اور سب سے پہلے بھیجنے والے رب کی حقیقت دریافت کی۔
Ayah 26:23

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ تمام جہان مالک کیا

قال فرعون وما رب العلمین (بطور تحقیق) کہنے لگا رب العلمین کیا چیز ہوتی ہے۔ یعنی فرعون نے رب العالمین کی حقیقت دریافت کی اور ظاہر ہے کہ اللہ کی ذات مرکب نہیں ہے کہ اس کے اجزاء ذاتیہ حضرت موسیٰ بتا دیتے اور فرد کے صرف خصوصیات ہی بتائے جاسکتے ہیں (یعنی صرف تعریف بالخاصہ ہی ہوسکتی ہے) اس لئے حضرت موسیٰ نے جواب میں اللہ کے خصوصی افعال اور آثار کا ذکر کیا اور۔
Ayah 26:24

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

کہا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک۔ بشرطیکہ تم لوگوں کو یقین ہو

قال رب السموت والارض وما بینہما ان کنتم موقنین۔ موسیٰ نے کہا وہ آسمانوں کا اور زمین اور ان کے درمیانی کائنات کا رب ہے اگر (ان آثار قدرت و حکمت کے ذریعہ سے) تم اس کو ماننے والے ہو (تو ایمان لے آؤ اور مان لو) یعنی اگر حقائق اشیاء کے وجود کو مانتے ہو تو پھر ان مصنوعات و مخلوقات سے ان کے خالق کے وجود و وحدانیت پر استدلال کرو۔ یہ تمام اجسام محسوسہ ممکن ہیں کیونکہ مرکب ہیں۔ ان میں تعدو ہے ان کے احوال تغیر پذیر ہیں ان کا ایک مبدء اور موثر ہونا لازم ہے جو واجب بالذات ہو۔ ممکن ‘ ممکن کی علت تامہ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ہر ممکن اپنے وجود میں اپنی علت کا محتاج ہے پس یا تو علت کی جانب تسلسل غیر متناہی ہوگا جو محال ہے یا واجب بالذات علت پر یہ تسلسل ختم ہوجائے گا یہی صحیح ہے (اس سے معلوم ہوا کہ مبدء اوّل کا واجب بالذات اور ضروری الوجود ہونا لازم ہے۔ مترجم) اور یہی مبدء تمام محسوس اور غیر محسوس ممکنات کا مبدء ہوگا ورنہ یا واجب کا تعدد لازم آئے گا یا بعض ممکنات کا علت سے استغنا اور محتاج نہ ہونا لازم آئے گا۔ واجبوں کا تعدد تو ناممکن ہے ورنہ متعدد واجبوں کے اندر کچھ اجزاء مشترکہ ہوں گے اور کچھ ممیزہ اس طرح ہر واجب کی حقیقت مشترکہ اور ممیزہ اجزاء سے مرکب ہوجائے گی اور مرکب ہونا حدوث کی دلیل ہے اس صورت میں واجب واجب نہ رہے گا حادث ہوجائے گا۔ رہی استغناء کی شق تو استغنا امکان کی ضد ہے ممکن ہوا اور علت سے مستغنی ہوا ایسا ہو نہیں سکتا۔ اب ظاہر ہے کہ واجب تعالیٰ کو اس کے بیرونی خصوصی احوال سے پہچاننا ممکن ہوسکتا ہے۔ ذات کے اجزاء سے نہیں۔ نہ ذات کی تعریف خود ذات سے کی جاسکتی ہے نہ ذاتیات اور اجزاء سے (جب اجزاء ہی نہیں ہیں تو اجزاء کے ذریعہ ذات کی تعریف کیسے ہوسکتی ہے خلاصہ یہ کہ اللہ کے وجود وحدانیت کو اگر پہچانا جاسکتا ہے تو ان ہی موجودات و کائنات کے ذریعہ سے جو اللہ کی وحدت ذاتیہ کے خصوصی نشانات و آثار ہیں۔ مترجم) ۔ چونکہ فرعون احمق (یا دانستہ نادان بننے والا) تھا ‘ حضرت موسیٰ کے جواب کی خوبی کو نہیں سمجھا اور۔
Ayah 26:25

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

فرعون نے اپنے اہالی موالی سے کہا کہ کیا تم سنتے نہیں

قال لمن حولہ الا تستمعون۔ اور اپنے گردوپیش کے لوگوں سے فرعون (بطور تعجب) کہنے لگا کیا تم سن رہے ہو۔ یعنی موسیٰ کا جواب تم نے سنا میں نے اس سے اس کے رب العالمین کی حقیقت پوچھی اور یہ اس کے افعال و آثار کا ذکر کرنے لگا یا یہ مطلب ہے کہ آسمان تو قدیم بالذات ہیں اور یہ کہہ رہا ہے کہ ان کا رب (خالق) ہے شاید فرعون دہریہ کا خیال تھا (جو عالم کو قدیم اور خود کو فنا جانتے ہیں مترجم) ۔ یا یہ مطلب ہے کہ آسمان کسی موثر فاعل کے محتاج نہیں ہیں اور یہ ان کو رب مانتا ہے۔ حضرت موسیٰ نے دیکھا کہ آسمان و زمین کی تخلیق و حدوث تو ان لوگوں کے سامنے نہیں اس لئے یہ آسمانوں کو قدیم خیال کرنے لگے ایسی دلیل پیش کرنا چاہئے اور ایسی مخلوق کا رب ہونا ظاہر کرنا چاہئے جس کے قدیم ہونے کا ان کو تو ہم بھی نہ ہو اور جس کی احتیاج کسی مصور حکیم کی جانب بالکل نمایاں ہو اس لئے موسیٰ نے کہا۔
Ayah 26:26

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا کہ تمہارا اور تمہارے پہلے باپ دادا کا مالک

قال ربکم ورب ابآئکم الاولین کہا وہ تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے سابق باپ دادا کا بھی۔
Ayah 26:27

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا کہ (یہ) پیغمبر جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے باؤلا ہے

قال ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون۔ فرعون کہنے لگا تمہارا (یہ) رسول جو تمہارے پاس بھیجا گیا ہے بلاشک و شبہ پاگل ہے۔ کہ میں اس سے اس کے رب کی حقیقت پوچھتا ہوں اور یہ دوسرے جواب دیتا ہے۔ فرعون نے حضرت موسیٰ کو رسول بطور مذاق کہا تھا۔
Ayah 26:28

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک، بشرطیکہ تم کو سمجھ ہو

قال رب المشرق والمغرب وما بینہما موسیٰ نے کہا وہی مشرق و مغرب کا اور ان دونوں کے درمیانی کائنات کا رب ہے۔ یعنی روزانہ دیکھتے ہو کہ اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اور گزشتہ دن کے محور کے علاوہ ودسرے محور پر چلاتا ہے یہاں تک کہ مغرب تک ایسے طریقہ سے پہنچا دیتا ہے جو انتظامِ کائنات کے لئے انتہائی مفید ہے۔ ان کنتم تعقلون۔ اگر تم عقل رکھتے ہو تو سمجھ گئے ہو گے کہ جو جواب میں نے دیا ہے اس سے اعلیٰ جواب (اللہ کے بارے میں) ممکن نہیں۔ حضرت موسیٰ نے پہلے گفتگو میں نرمی کی تھی لیکن جب ان لوگوں کی طرف سے شدت محسوس کی تو ان ہی کے قول کی طرح اپنے کلام میں بھی درشتی اختیار کرلی۔ مغلوب جاہلوں کی عادت ہے کہ جب کوئی جواب بن نہیں پڑتا تو دھمکیاں دینے پر اتر آتے ہیں۔ فرعون نے بھی ایسا ہی کیا۔ جب لاجواب ہوگیا تو۔
Ayah 26:29

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تمہیں قید کردوں گا

قال لئن اتخذت الہا غیر لاجعلنک من المسجونین۔ بولا اگر میرے سوا تو نے کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں شامل کر دوں گا۔ اَلْمَسْجُوْنِیْنَ میں الف لام عہدی ہے یعنی ان قیدیوں میں شامل کر دوں گا جن کی حالت میرے قید خانے میں تجھے معلوم ہے ‘ کلبی نے کہا فرعون کی قید کی حالت قتل سے بھی زیادہ سخت تھی ‘ قیدی کو ایک تنہا اندھیری کوٹھری میں پھینک دیتا تھا ‘ قیدی کو وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا اور لڑھکتا ہوا زمین کے اندر چلا جاتا تھا۔ فرعون کو سخت عذاب دینے کی قدرت حاصل تھی اس نے اپنے رب ہونے پر استدلال کیا اور صانع عالم کا انکار کرنے لگا اس نے بطور تعجب الا تَسْتَمِعُوْنَ کہا تھا کہ میرے سوا کسی دوسرے الٰہ کا ہونا عجیب بات ہے۔
Ayah 26:30

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا خواہ میں آپ کے پاس روشن چیز لاؤں (یعنی معجزہ)

قال اولو جئتک بشیء مبین۔ موسیٰ نے (فرعون کی دھمکی کے جواب میں) کہا ‘ (تو مجھے ایسی حالت میں بھی قید کرسکے گا) جبکہ میں نے تیرے سامنے (اپنی سچائی اور تیری غلطی کی) کوئی واضح چیز (یعنی نشانی) لے آؤں۔ اس جملہ میں استفہام انکاریہ تنبیہ ہے اور واو حالیہ ہے۔
Ayah 26:31

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

فرعون نے کہا اگر سچے ہو تو اسے لاؤ (دکھاؤ)

قال فات بہ ان کنت من الصدقین۔ فرعون بولا (وہ واضح چیز کیا ہے) اس کو پیش کر اگر تو (اپنی رسالت کے دعوے میں) سچا ہے۔
Ayah 26:32

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

پس انہوں نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ اسی وقت صریح اژدہا بن گئی

فالقی عصاہ فاذا ہی ثعبان مبین۔ پس موسیٰ نے اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دی تو وہ یکدم کھلم کھلا اژدہا بن گئی یا ایسا اژدہا بن گئی جو موسیٰ کے دعوے کی سچائی کو ظاہر کرنے والا تھا۔ فرعون نے مزید معجزہ طلب کیا تو۔
Ayah 26:33

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کے لئے سفید (براق نظر آنے لگا)

ونزع یدہ فاذا ہی بیضآء للنظرین۔ موسیٰ نے (اپنے گریبان کے اندر سے) اپنا ہاتھ نکالا تو یکدم وہ دیکھنے والوں (کی نظروں) کے لئے گورا (شعاع پاش نظروں کو خیرہ کردینے والا) ہوگیا۔ جس کی کرنیں افق پر چھا گئیں۔ فرعون ہکا بکا ہوگیا اور لاچار ہو کر۔
Ayah 26:34

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

فرعون نے اپنے گرد کے سرداروں سے کہا کہ یہ تو کامل فن جادوگر ہے

قال للملا حولہ ان ہذا لسحر علیم۔ اپنے گرد جمع شدہ سرداروں سے کہنے لگا یہ بڑا جاننے والا جادوگر ہے
Ayah 26:35

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو (کے زور) سے تمہارے ملک سے نکال دے تو تمہاری کیا رائے ہے؟

یرید ان یخرجکم من ارضکم بسحرہ فما ذا تامرون۔ تم کو تمہارے ملک سے اپنے جادو کے زور سے نکال دینا چاہتا ہے اب تم مجھے کیا مشورہ دیتے ہو۔ کہاں تو ربوبیت کے دعوے کی وہ زورازوری تھی اور اب جب موسیٰ کے معجزہ کے سامنے اپنی کمزوری محسوس ہوئی تو نیچے اتر آیا اور لگا ساتھیوں سے مشورہ کرنے گویا ان کو اپنا حاکم مان لیا۔ اس کو خوف ہوگیا کہ موسیٰ غالب آجائے گا اور اس کے ملک پر تسلط جما لے گا۔ اس لئے مصاحبین کو موسیٰ کی طرف سے نفرت دلانے کے لئے مذکورہ بالا الفاظ کہے۔
Ayah 26:36

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اسے اور اس کے بھائی (کے بارے) میں کچھ توقف کیجیئے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیئے

قالوا ارجہ واخارہ وابعث فی المدآئن حشرین۔ مصاحبین نے کہا (اس وقت تو) موسیٰ کو اور اس کے بھائی کو ٹال دیجئے اور شہروں میں (جادوگروں کو) جمع کرنے والوں کو بھیج دیجئے
Ayah 26:37

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

کہ سب ماہر جادوگروں کو (جمع کرکے) آپ کے پاس لے آئیں

یاتوک بکل سحار علیم۔ تاکہ وہ تمام بڑے بڑے جاننے والے جادوگروں کو لے آئیں۔ اَرْجِہْان دونوں کے معاملے کو مؤخر کر دیجئے (اس وقت ملتوی کر دیجئے ان کو ٹال دیجئے) ۔
Ayah 26:38

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

تو جادوگر ایک مقررہ دن کی میعاد پر جمع ہوگئے

فجمع السحرۃ لمیقات یوم معلوم۔ چناچہ ایک مقرر تاریخ کو معین وقت پر جادوگر اکٹھے کردیئے گئے۔ اس جگہ کچھ جملے حذف کردیئے گئے ہیں اور کلام کو مختصر کردیا گیا ہے پورا کلام یوں تھا کہ فرعون نے کچھ لوگوں کو جادوگروں کو جمع کرنے کے لئے شہروں میں بھیجا وہ گئے اور معین تاریخ پر جادوگروں کو جمع کر لائے وقت دن چڑھے کا تھا اور دن تہوار کا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ اتفاق سے وہ دن نوروز کا تھا اور شنبہ کا دن تھا۔
Ayah 26:39

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کہ تم (سب) کو اکھٹے ہو کر جانا چاہیئے

وقیل للناس ہل انتم مجتمعون۔ اور لوگوں سے کہہ دیا گیا کیا تم تم بھی جمع ہوجاؤ گے۔ یہ استفہام بمعنی امر ہے۔ فرعون نے لوگوں کو جمع ہوجانے کی ترغیب دی اور حکم دیا کہ تم سب بھی اکٹھے ہوجانا شاید فرعون کو یہ خیال ہوگیا تھا کہ لوگ جمع ہونے میں سستی کریں گے۔
Ayah 26:40

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

تاکہ اگر جادوگر غالب رہیں تو ہم ان کے پیرو ہوجائیں

لعلنا نتبع السحرۃ ان کانوا ہم الغلبین۔ تاکہ جادوگر اگر غالب ہوجائیں تو ہم ان کی راہ پر رہیں۔ جادوگروں سے مراد ہیں وہ جادوگر جن کو فرعون نے موسیٰ کے مقابلے کے لئے بلوایا تھا۔ لَعَلَّ امید ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور امید کا لفظ اسی کی تائید کر رہا ہے کہ جادوگروں سے مراد ہیں فرعون کے جمع کئے ہوئے جادوگر۔ (حضرت مؤلف نے کہا) جادوگروں سے مراد ہیں موسیٰ ( علیہ السلام) اور ہارون ( علیہ السلام) اور ان کی قوم والے اور اتباع سے مراد ہے اتباع دینی۔ اس وقت امید کا (حقیقی اصلی معنیٰ مراد نہ ہوگا بلکہ) مطلب یہ ہوگا کہ اگر موسیٰ اور ہارون غالب ہوگئے تو شاید ہم ان کے دین پر چلنے لگیں ‘ یعنی ہم ان کے دین پر نہیں چلیں گے۔