26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 26:1
طسم
Ayah 26:2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ کتاب مبین کی آیات ہیں

تِلْكَ [ یہ ] اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ ’ واضح کتاب کی آیات ہیں ]
Ayah 26:3

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

اے محمدؐ، شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے

لَعَلَّكَ [ شاید کہ آپ ] بَاخِعٌ [ ہلاکت تک پہنچانے والے ہیں ] نَّفْسَكَ [ اپنے آپ کو ] اَلَّا [ کہ نہیں ] يَكُوْنُوْا [ ہوتے یہ لوگ ] مُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]
Ayah 26:4

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کر سکتے ہیں کہ اِن کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں

اِنْ نَّشَاْ [ اگر ہم چاہیں ] نُنَزِّلْ [ تو ہم اتاردیں ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] مِّنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] اٰيَةً [ کوئی نشانی ] فَظَلَّتْ [ تو ہوجائیں ] اَعْنَاقُهُمْ [ ان کی گردنیں ] لَهَا [ اس کے لئے ] خٰضِعِيْنَ [ جھکنے والی ] خ ض ع (ف) خضوعا عاجزی کرنا۔ تواضع کرنا۔ جھکنا۔ فَلَا تَخْـضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ (تو تم خواتین تواضع مت کرو بات سے کہ لالچ کرے وہ جس کے دل میں کوئی مرض ہو) 33/32 ۔ خاضع فاعل کے وزن پر صفت ہے۔ جھکنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 4 ۔ نوٹ۔ 1: آیت ۔ 4 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اس کتاب پر ایمان لانے کے لئے کوئی نشانی دیکھنے ہی پر اڑے ہوئے ہیں تو یاد رکھیں کہ ہمارے پاس نشانیوں کی کمی نہیں ہے۔ ہم جب چاہیں آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار سکتے ہیں جس کے آگے سب کی گردنیں جھک جائیں۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ یہ سوچ سمجھ کر اپنے اختیار و ارادہ سے ایمان لائیں۔ ہمارے ہاں معتبر ایمان وہی ہے جو اختیار و ارادہ کے ساتھ لایا جائے نہ کہ مجبور ہوکر۔ (تدبر القرآن)
Ayah 26:5

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

اِن لوگوں کے پاس رحمان کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں

وَمَا يَاْتِيْهِمْ [ اور نہیں آتی ان کے پاس ] مِّنْ ذِكْرٍ [ کوئی بھی نصیحت ] مِّنَ الرَّحْمٰنِ [ رحمن (کے پاس) سے ] مُحْدَثٍ [ نئی ] اِلَّا [ مگر ] كَانُوْا [ وہ لوگ ہوتے ہیں ] عَنْهُ [ اس سے ] مُعْرِضِيْنَ [ اعراض کرنے والے ]
Ayah 26:6

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

اب کہ یہ جھٹلا چکے ہیں، عنقریب اِن کو اس چیز کی حقیقت (مختلف طریقوں سے) معلوم ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں

فَقَدْ كَذَّبُوْا [ پس یہ لوگ جھٹلا چکے ] فَسَيَاْتِيْهِمْ [ تو آئیں گی ان کے پاس ] اَنْۢبٰۗـؤُا مَا [ اس کی خبریں جس کا ] كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ [ یہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے ]
Ayah 26:7

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

اور کیا انہوں نے کبھی زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے کتنی کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں پیدا کی ہیں؟

اَوَلَمْ يَرَوْا [ تو کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ] اِلَى الْاَرْضِ [ زمین کی طرف ] كَمْ اَنْۢبَـتْنَا [ کتنے ہی ہم نے اگائے ] فِيْهَا [ اس میں ] مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيْمٍ [ ہر ایک نفیس و پاکیزہ جوڑے میں سے ]
Ayah 26:8

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں

اِنَّ [ بیشک ] فِيْ ذٰلِكَ [ اس میں ] لَاٰيَةً ۭ [ یقینا ایک نشانی ہے ] وَمَا كَانَ [ اور نہیں ہیں ] اَكْثَرُهُمْ [ ان کے اکثر ] مُّؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]
Ayah 26:9

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

وَاِنَّ [ اور بیشک ] رَبَّكَ [ آپ ﷺ کا رب ] لَهُوَ الْعَزِيْزُ [ یقینا وہ ہی بالادست ہے ] الرَّحِيْمُ [ رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 26:10

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اِنہیں اس وقت کا قصہ سناؤ جب کہ تمہارے رب نے موسیٰؑ کو پکارا "ظالم قوم کے پاس جا

وَاِذْ ا [ اور جب ] نَادٰي [ پکارا ] رَبُّكَ [ آپ ﷺ کے رب نے ] مُوْسٰٓي [ موسیٰ (علیہ السلام) کو ] اَنِ [ کہ ] ائْتِ [ آپ پہنچیں ] الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ [ ظالم قوم کے پاس ]
Ayah 26:11

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

فرعون کی قوم کے پاس، کیا وہ ڈرتے نہیں؟"

قَوْمَ فِرْعَوْنَ ۭ [ جو فرعون کی قوم ہے ] اَ [ کیا ] لَا يَتَّقُوْنَ [ وہ لوگ تقوی نہیں کریں گے ]
Ayah 26:12

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

اُس نے عرض کیا "اے رب، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے

قَالَ [ (موسیٰ (علیہ السلام) ) کہا ] رَبِّ [ اے میرے رب ] اِنِّىْٓ [ بیشک میں ] اَخَافُ [ ڈرتا ہوں ] اَنْ [ کہ ] يُّكَذِّبُوْنِ [ وہ لوگ جھٹلائیں گے مجھ کو ]
Ayah 26:13

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

میرا سینہ گھٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی آپ ہارونؑ کی طرف رسالت بھیجیں

وَيَضِيْقُ [ اور تنگ ہوتا ہے ] صَدْرِيْ [ میرا سینہ ] وَلَا يَنْطَلِقُ [ اور نہیں چلتی ] لِسَانِيْ [ میری زبان ] فَاَرْسِلْ [ پس تو بھیج ] اِلٰى هٰرُوْنَ [ ہارون (علیہ السلام) کی طرف ]
Ayah 26:14

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور مجھ پر اُن کے ہاں ایک جرم کا الزام بھی ہے، اس لیے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے"

وَلَهُمْ [ اور ان کا ] عَلَيَّ [ مجھ پر ] ذَنْۢبٌ [ ایک گناہ ہے ] فَاَخَافُ [ تو میں ڈرتا ہوں ] اَنْ [ کہ ] يَّقْتُلُوْنِ [ وہ قتل کریں گے مجھ کو ]
Ayah 26:15

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

فرمایا "ہرگز نہیں، تم دونوں جاؤ ہماری نشانیاں لے کر، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے

قَالَ [ (اللہ نے) کہا ] كَلَّا ۚ [ ہرگز نہیں ] فَاذْهَبَا [ پس تم دونوں جاؤ] بِاٰيٰتِنَآ [ ہماری نشانیوں کے ساتھ ] اِنَّا [ بیشک ہم ] مَعَكُمْ [ تم لوگوں کے ساتھ ] مُّسْتَمِعُوْنَ [ خوب سننے والے ہیں ]
Ayah 26:16

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو، ہم کو رب العٰلمین نے اس لیے بھیجا ہے

فَاْتِيَا [ پس تم دونوں پہنچو ] فِرْعَوْنَ [ فرعون کے پاس ] فَقُوْلَآ [ پھر تم دونوں کہو ] اِنَّا [ کہ ہم ] رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے رب کے پیغمبر ہیں ]
Ayah 26:17

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے"

اَنْ [ (پیغام یہ ہے) کہ ] اَرْسِلْ [ تو بھیج ] مَعَنَا [ ہمارے ساتھ ] بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل کو ]
Ayah 26:18

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

فرعون نے کہا "کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا؟ تو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے

قَالَ [ (فرعون نے) کہا ] اَلَمْ نُرَبِّكَ [ کیا ہم نے تربیت نہیں کی تیری ] فِيْنَا [ اپنے (گھر) میں ] وَلِيْدًا [ بچہ ہوتے ہوئے ] وَّلَبِثْتَ [ اور تو رہا ] فِيْنَا [ ہم میں ] مِنْ عُمُرِكَ [ اپنی عمر سے ] سِـنِيْنَ [ کچھ سال ]
Ayah 26:19

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کہ کر گیا، تو بڑا احسان فراموش آدمی ہے"

وَفَعَلْتَ [ اور تو نے کیا ] فَعْلَتَكَ الَّتِيْ [ اپنا وہ فعل (کام) جو ] فَعَلْتَ [ تو نے کیا ] وَاَنْتَ [ اور تو ] مِنَ الْكٰفِرِيْنَ [ ناشکر گزاروں میں سے ہے ]
Ayah 26:20

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

موسیٰؑ نے جواب دیا "اُس وقت وہ کام میں نے نادانستگی میں کر دیا تھا

قَالَ [ (موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا ] فَعَلْتُهَآ [ میں نے کیا اس کو ] اِذًا [ تب ] وَّ [ اس حال میں کہ ] اَنَا [ میں ] مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ [ حق تلاش کرنے والوں میں سے تھا ]
Ayah 26:21

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا اس کے بعد میرے رب نے مجھ کو حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں شامل کر لیا

فَفَرَرْتُ [ پھر میں فرار ہوا ] مِنْكُمْ [ تم لوگوں سے ] لَمَّا [ جب ] خِفْتُكُمْ [ میں ڈرا تم لوگوں سے ] فَوَهَبَ [ تو عطا کیا ] لِيْ [ مجھے ] رَبِّيْ [ میرے رب نے ] حُكْمًا [ ایک حکم ] وَّجَعَلَنِيْ [ اور اس نے بنایا مجھ کو ] مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ [ بھیجے ہوؤں (یعنی رسولوں) میں سے ]
Ayah 26:22

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

رہا تیرا احسان جو تو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا"

وَتِلْكَ [ اور یہ ہے ] نِعْمَةٌ [ وہ نعمت ] تَمُنُّهَا [ تو احسان رکھتا ہے جس کا ] عَلَيَّ [ مجھ پر ] اَنْ [ کہ ] عَبَّدْتَّ [ تو نے غلام بنایا ] بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل کو ] نوٹ۔ 1: سورة کی مختصر تمہید کے بعد اب تاریخی بیان کا آغاز ہو رہا ہے جس میں سات قوموں کے حالات پیش کیے گئے ہیں جنہوں نے نشانیاں اور معجزے دیکھنے کے بعد بھی انکار کیا تو ان کا کیا انجام ہوا۔ اس کی ابتدا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے قصے سے کی گئی ہے کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جن حالات سے سابقہ پیش آیا تھا وہ ان حالات کی کہیں زیادہ سخت تھے جن سے نبی ﷺ کو سابقہ درپیش تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسی قوم کے فرد تھے جو فرعون سے بری طرح دبی ہوئی تھی، جبکہ نبی ﷺ کا خاندان قریش کے دوسرے خانوانوں کے ساتھ بالکل برابر کی پوزیشن رکھتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خود اس فرعون کے گھر میں پرورش پائی تھی اور ایک قتل کے الزام میں دس سال روپوش رہنے کے بعد انھیں حکم دیا گیا تھا کہ اسی بادشاہ کے دربار میں جا کھڑے ہوں جس کے ہاں سے وہ جان بچا کر فرار ہوئے تھے۔ نبی ﷺ کو ایسی کسی نازک صورتحال سے سابقہ نہ تھا۔ فرعون کی سلطنت اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقتور سلطنت تھی۔ قریش کی طاقت کو اس کی طاقت سے کوئی نسبت نہ تھی۔ اس کے باوجود فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کچھ نہ بگاڑ سکا اور ان (علیہ السلام) سے ٹکرا کر آخر کار تباہ ہوگیا۔ اس سے اللہ تعالیٰ کفار قریش کو یہ سبق دینا چاہتا ہے کہ جب فرعون کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے کچھ پیش نہ گئی تو تم بیچارے کیا ہستی ہو نبی ﷺ کے مقابلے میں بازی جیت لے جاؤ گے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 26:23

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعون نے کہا "اور یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے؟"

قَالَ [ کہا ] فِرْعَوْنُ [ فرعون نے ] وَمَا [ اور کیا چیز ہے ] رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کا رب ]
Ayah 26:24

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

موسیٰؑ نے جواب دیا "آسمان اور زمین کا رب، اور اُن سب چیزوں کا رب جو آسمان اور زمین کے درمیان ہیں، اگر تم یقین لانے والے ہو"

قَالَ [ (موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا ] رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ (وہ ) زمین اور آسمانوں کا رب ہے ] وَمَا [ اور اس کا جو ] بَيْنَهُمَا ۭ [ ان دونوں کی درمیان ہے ] اِنْ كُنْتُمْ [ اگر تم لوگ ] مُّوْقِنِيْنَ [ یقین کرنے والے ہو ]
Ayah 26:25

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

فرعون نے اپنے گرد و پیش کے لوگوں سے کہا "سُنتے ہو؟"

قَالَ [ (فرعون نے) کہا ] لِمَنْ [ ان سے جو ] حَوْلَهٗٓ [ اسی کے اردگرد ] اَ [ کیا ] لَا تَسْتَمِعُوْنَ [ تم لوگ سنتے نہیں ہو ]
Ayah 26:26

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا "تمہارا رب بھی اور تمہارے ان آباء و اجداد کا رب بھی جو گزر چکے ہیں"

قَالَ [ موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا ] رَبُّكُمْ [ تمہارا رب ہے ] وَرَبُّ اٰبَاۗىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ اور تمہارے پہلے آباؤ اجداد کا رب ہے ]
Ayah 26:27

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

فرعون نے (حاضرین سے) کہا "تمہارے یہ رسول صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں، بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں"

قَالَ [ (فرعون نے) کہا ] اِنَّ [ بیشک ] رَسُوْلَكُمُ الَّذِيْٓ [ تم لوگوں کا وہ پیغمبر جو ] اُرْسِلَ [ بھیجا گیا ] اِلَيْكُمْ [ تمہاری طرف ] لَمَجْنُوْنٌ [ یقینا مجنون ہے ]
Ayah 26:28

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا "مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب، اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں"

قَالَ [ (موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا ] رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ [ (وہ) مشرق اور مغرب کا رب ہے ] وَمَا [ اور اس کا جو ] بَيْنَهُمَا ۭ [ ان دونوں کے درمیان ہے ] اِنْ كُنْتُمْ [ اگر تم لوگ ] تَعْقِلُوْنَ [ عقل سے کام لیتے ہو ]
Ayah 26:29

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

فرعون نے کہا "اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو تجھے میں اُن لوگوں میں شامل کر دوں گا جو قید خانوں میں پڑے سڑ رہے ہیں"

قَالَ [ (فرعون نے) کہا ] لَىِٕنِ [ بیشک اگر ] اتَّخَذْتَ [ تو نے بنایا ] اِلٰــهًا [ کوئی الہٰ ] غَيْرِيْ [ میرے علاوہ ] لَاَجْعَلَنَّكَ [ تو میں لازما بنا دوں گا تجھ کو ] مِنَ الْمَسْجُوْنِيْنَ [ قید کئے ہوئے لوگوں میں سے ]
Ayah 26:30

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا "اگرچہ میں لے آؤں تیرے سامنے ایک صریح چیز بھی؟"

قَالَ [ (موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا ] اَوَلَوْ [ اور کیا اگر ] جِئْتُكَ [ میں لاؤں تیرے پاس ] بِشَيْءٍ مُّبِيْنٍ [ ایک واضح چیز ]
Ayah 26:31

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

فرعون نے کہا "اچھا تو لے آ اگر تو سچا ہے"

قَالَ [ (فرعون نے) کہا ] فَاْتِ [ پس تولا ] بِهٖٓ [ اس کو ] اِنْ كُنْتَ [ اگر تو ہے ] مِنَ الصّٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والوں میں سے ]
Ayah 26:32

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

(اس کی زبان سے یہ بات نکلتے ہی) موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک صریح اژدھا تھا

فَاَلْقٰى [ تو انہوں نے ڈالا ] عَصَاهُ [ اپنا عصا ] فَاِذَا [ تو جب ہی ] هِىَ [ وہ تھا ] ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ [ ایک واضح اژدھا ]
Ayah 26:33

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

پھر اُس نے اپنا ہاتھ (بغل سے) کھینچا اور وہ سب دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا

وَّنَزَعَ [ اور انھوں نے کھینچ نکالا ] يَدَهٗ [ اپنا ہاتھ ] فَاِذَا [ تو جب ہی ] هِىَ [ وہ تھا ] بَيْضَاۗءُ [ سفید ] لِلنّٰظِرِيْنَ [ دیکھنے والوں کے لئے ]
Ayah 26:34

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

فرعون اپنے گرد و پیش کے سرداروں سے بولا "یہ شخص یقیناً ایک ماہر جادوگر ہے

قَالَ [ (فرعون نے) کہا ] لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗٓ [ اپنے اردگرد کے سرداروں سے ] اِنَّ ھٰذَا [ بیشک یہ ] لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ [ یقینا ایک عالم (یعنی ماہر) جادوگر ہے ]
Ayah 26:35

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو ملک سے نکال دے اب بتاؤ تم کیا حکم دیتے ہو؟"

يُّرِيْدُ [ وہ چاہتا ہے ] اَنْ يُّخْرِجَكُمْ [ کہ وہ نکال دے تم لوگوں کو ] مِّنْ اَرْضِكُمْ [ تمہاری زمین سے ] بِسِحْرِهٖ ڰ [ اپنے جادو کے ذریعے ] فَمَاذَا [ تو کیا (کس طرح کا)] تَاْمُرُوْنَ [ تم لوگ مشورہ دیتے ہو ]
Ayah 26:36

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

انہوں نے کہا "اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجیے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے

قَالُوْٓا [ ان لوگوں نے کہا ] اَرْجِهْ [ تو ٹال دے اس کو ] وَاَخَاهُ [ اور اس کے بھائی کو ] وَابْعَثْ [ اور تو بھیج ] فِي الْمَدَاۗىِٕنِ [ شہروں میں ] حٰشِرِيْنَ [ جمع کرنے والوں کو ]
Ayah 26:37

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

کہ ہر سیانے جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں"

يَاْتُوْكَ [ وہ لوگ لے آئیں گے تیرے پاس ] بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيْمٍ [ تمام جاننے والے بڑے جادوگر کو ] نوٹ۔ 1: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی گفتگو کو سمجھنے کے لئے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ آج کی طرح قدیم زمانے میں بھی ” معبود “ کا تصور صرف مذہبی معنوں تک محدود تھا۔ یعنی یہ کہ اسے پوجا پاٹ اور نذر و نیاز کا حق پہنچتا ہے اور اپنے فوق الفطری غلبہ و اقتدار کی وجہ سے اس کا یہ منصب بھی ہے کہ انسان اپنے معاملات میں اس سے دعائیں مانگے۔ لیکن کسی معبود کی یہ حیثیت کہ وہ قانونی اور سیاسی معنوں میں بھی بالادست ہے اور اسے یہ حق پہنچتا ہے کہ معاملات دنیا میں وہ جو حکم چاہے دے اور انسانوں کا فرض ہے کہ اس کے امر و نہی کو قانون برتر مان کر اس کے آگے جھک جائیں، ، یہ بات زمین کے فرمانرواؤں نے نہ پہلے کبھی مان کردی تھی اور نہ آج اسے ماننے کے لئے تیار ہیں۔ دنیوی بادشاہوں اور انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی پیروی کرنے والوں کے تصادم کی اصل وجہ یہی رہی ہے۔ انھوں نے فرما نرواؤں سے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت و بالدستی تسلیم کرانے کی کوشش کی ہے اور فرمانروا اپنی حاکمیت مطلقہ کا دعوی کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے ہر اس شخص کو باغی اور مجرم قرار دیا جو ان کے سوا کسی اور کو قانون و سیاست کے میدان میں معبود مانے۔ اس تشریح سے فرعون کی اس گفتگو کا صحیح مفہوم سمجھ میں آسکتا ہے اگر معاملہ صرف پوجا پاٹ کا ہوتا تو فرعون کو اس سے کوئی بحث نہ تھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) صرف ایک اللہ رب العالمین کا اس کا مستحق سمجھتے ہیں۔ اگر اس معنی میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو توحید فی العبادت کی دعوت دی ہوتی تو اسے غضبناک ہونے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ لیکن جس چیز نے اسے غضبناک کردیا وہ یہ تھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خود کو رب العالمین کے نمائندے کی حیثیت سے پیش کرکے ایک سیاسی حکم (بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کا) اس طرح پہنچایا کہ گویا فرعون ایک ماتحت حاکم ہے اور ایک برتر حاکم کا پیغامبر اس سے اطاعت کا مطالبہ کر رہا ہے ۔ اس معنی میں فرعون اپنے اوپر کسی کی سیاسی برتری ماننے کے لئے تیار نہ تھا اور وہ یہ بھی گوارہ نہیں کرسکتا تھا کہ اس کی رعایا میں سے کوئی فرد اس کے بجائے کسی اور کو حاکم برتر مانے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 26:38

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

چنانچہ ایک روز مقرر وقت پر جادوگر اکٹھے کر لیے گئے

فَجُمِعَ [ پس جمع کئے گئے ] السَّحَرَةُ [ جادوگر لوگ ] لِمِيْقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ [ ایک معلوم دن کے طے شدہ وقت کیلئے ]
Ayah 26:39

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور لوگوں سے کہا گیا "تم اجتماع میں چلو گے؟

وَّقِيْلَ [ اور کہا گیا ] لِلنَّاسِ [ لوگوں سے ] هَلْ اَنْتُمْ [ کیا تم لوگ ] مُّجْتَمِعُوْنَ [ جمع ہونے والے ہو ]
Ayah 26:40

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

شاید کہ ہم جادوگروں کے دین ہی پر رہ جائیں اگر وہ غالب رہے"

لَعَلَّنَا [ شاید کہ ہم ] نَتَّبِعُ [ پیروی کریں ] السَّحَرَةَ [ جادوگروں کی ] اِنْ [ اگر ] كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِيْنَ [ وہ لوگ ہی غالب ہونے والے ہیں ]