25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 25:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

نہایت متبرک ہے وہ جس نے یہ فرقان اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ سارے جہان والوں کے لیے نذیر ہو

تَبٰرَكَ [ بابرکت ہوا ] الَّذِيْ [ وہ جس نے ] نَزَّلَ [ اتارا ] الْفُرْقَانَ [ فرق واضح کرنے والے (قرآن) کو ] عَلٰي عَبْدِهٖ [ اپنے بندے پر ] لِيَكُوْنَ [ تاکہ وہ ہوجائے ] لِلْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے لئے ] نَذِيْرَۨا [ ایک خبردار کرنے والا ]
Ayah 25:2

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہ جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ہے، جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے، جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی

الَّذِيْ [ وہ ] لَهٗ [ جس کے لئے ہے ] مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ] وَلَمْ يَتَّخِذْ [ اور اس نے بنایا ہی نہیں ] وَلَدًا [ کوئی بیٹا ] وَّلَمْ يَكُنْ [ اور ہوا ہی نہیں ] لَّهُ [ اس کا ] شَرِيْكٌ [ کوئی شریک ] فِي الْمُلْكِ [ بادشاہت میں ] وَخَلَقَ [ اور اس نے پیدا کیا ] كُلَّ شَيْءٍ [ ہر چیز کو ] فَقَدَّرَهٗ [ پھر اس نے اندازہ مقرر کیا اس کا ] تَقْدِيْرًا [ جیسا اندازہ مقرر کرنے کا حق ہے ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 2 ۔ میں ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف یہی نہیں کہ کائنات کی ہر چیز کو وجوہ بخشا ہے۔ بلکہ وہی ہے جس نے ایک ایک چیز کے لئے صورت ، جسامت، قوت و استعداد ، اوصاف و خصائص ، کام اور کام کا طریق، بقاء کی مدت، عروج و ارتقاء کی حد اور دوسری وہ تمام تفصیلات مقرر کی ہیں جو اس چیز کی ذات سے متعلق ہیں۔ اور پھر اسی نے عالم وجود میں وہ اسباب وہ وسائل اور مواقع پیدا کئے ہیں جن کی بدولت ہر چیز یہاں اپنے اپنے دائرے میں اپنے اپنے حصے کا کام کر رہی ہے (تفہیم القرآن) ۔ اسی کو تقدیر کہتے ہیں۔
Ayah 25:3

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

لوگوں نے اُسے چھوڑ کر ایسے معبود بنا لیے جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں، جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے، جو نہ مار سکتے ہیں نہ جِلا سکتے ہیں، نہ مرے ہوئے کو پھر اٹھا سکتے ہیں

وَاتَّخَذُوْا [ اور ان لوگوں نے بنائے ] مِنْ دُوْنِهٖٓ [ اس کے علاوہ ] اٰلِهَةً [ کچھ ایسے الہٰ جو ] لَّا يَخْلُقُوْنَ [ پیدا نہیں کرتے ] شَـيْـــــًٔا [ کوئی چیز ] وَّهُمْ [ اور وہ لوگ (خود)] يُخْلَقُوْنَ [ پیدا کئے جاتے ہیں ] وَلَا يَمْلِكُوْنَ [ اور وہ اختیار نہیں رکھتے ] لِاَنْفُسِهِمْ [ اپنی جانوں کے لئے ] ضَرًّا [ کسی نقصان کا ] وَّلَا نَفْعًا [ اور نہ کسی نفع کا ] وَّلَا يَمْلِكُوْنَ [ اور وہ اختیار نہیں رکھتے ] مَوْتًا [ مرنے کا ] وَّلَا حَيٰوةً [ اور نہ زندہ رہنے کا ] وَّلَا نُشُوْرًا [ اور نہ دوبارہ جی اٹھنے کا ]
Ayah 25:4

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

جن لوگوں نے نبیؐ کی بات ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ فرقان ایک من گھڑت چیز ہے جسے اِس شخص نے آپ ہی گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اِس کام میں اس کی مدد کی ہے بڑا ظلم اور سخت جھوٹ ہے جس پر یہ لوگ اتر آئے ہیں

وَقَالَ الَّذِيْنَ [ اور کہا ان لوگوں نے جنہوں نے ] كَفَرُوْٓا [ انکار کیا ] اِنْ ھٰذَآ [ نہیں ہے یہ ] اِلَّآ اِفْكُۨ [ مگر ایک جھوٹ ] افْتَرٰىهُ [ اس نے گھڑا اس کو ] وَاَعَانَهٗ [ اور اعانت کی اس کی ] عَلَيْهِ [ اس پر ] قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ ڔ [ ایک دوسری قوم نے ] فَقَدْ جَاۗءُوْ [ پس وہ لوگ آئے ہیں ] ظُلْمًا [ ظلم کے ساتھ ] وَّزُوْرًا [ اور جھوٹ کے ساتھ ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 4 ۔ 5 ۔ میں جو اعتراض نقل کیا گیا ہے یہ وہی اعتراض ہے جو آج کل کے مغربی علماء قرآن مجید کے خلاف پیش کرتے ہیں ۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ مشرکین مکہ نے کبھی یہ نہیں کہا کہ نبی ﷺ بچپن میں جب عیسائی راہب سے ملے تھے اس وقت یہ مضامین سیکھ لئے تھے۔ اور نہ یہ کہا کہ جوانی میں تجارتی سفروں کے دوران راہبوں اور یہودی علماء سے یہ معلومات حاصل کی تھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے تھے کہ یہ سفرا کیلئے نہیں بلکہ قافلوں کے ساتھ ہوئے تھے۔ اور وہ جانتے تھے کہ اگر ہم یہ الزام لگائیں گے تو مکہ میں سینکڑوں زبانیں ہم کو جھٹلا دیں گی۔ اس کے علاوہ مکہ کا عام آدمی پوچھے گا اگر یہ معلومات آپ ﷺ کو تیرہ برس کی عمر میں عیسائی راہب سے حاصل ہوگئی تھیں یا 25 برس کی عمر میں تجارتی سفروں کے دوران حاصل ہوئی تھیں۔ تو کیا وجہ ہے کہ چالیس برس کی عمر تک ان کا یہ سارا علم چھپا رہا اور کبھی ایک لفظ بھی ان کی زبان سے ایسا نہ نکلا جو اس علم کی غمازی کرتا ۔ یہی وجہ ہے کہ کفار مکہ نے ایسے سفید جھوٹ کی جرأت نہ کی اور اسے بعد کے زیادہ بےحیا لوگوں کے لئے چھوڑ دیا۔ وہ یہ کہتے تھے کہ اگلے لوگوں کی کتابوں کے اقتباسات راتوں کو ترجمہ اور نقل کرائے جاتے ہیں۔ پھر یہ کسی سے پڑھواکر سنتے ہیں اور یاد کرکے ہم کو سناتے ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ چند آدمیوں کے نام لیتے تھے جو آزاد کردہ غلام تھے۔ مکہ میں رہتے تھے اور اہل کتاب تھے۔ بظاہر یہ اعتراض وزنی معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے جواب میں قرآن نے کوئی دلیل نہیں پیش کی اور صرف یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ تم ظلم کر رہے ہو اور جھوٹ کہتے ہو، یہ تو اللہ کا کلام ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایسا ہی بےوزن اعتراض تھا کہ اس کے جواب میں بس ظلم اور جھوٹ کہہ دینا کافی تھا۔ کیا وجہ ہے کہ اس مختصر جواب کے بعد نہ عوام نے کسی واضح جواب کا مطالبہ کیا، نہ ایمان لانے والوں کے دلوں میں کوئی شک پیدا ہوا اور نہ مخالفین یہ کہہ سکے کہ ہمارے اس اعتراض کا جواب نہیں بن پڑ رہا ہے اور محض ظلم اور جھوٹ کہہ کر بات ٹالی جا رہی ہے۔ اس گتھی کا حل ہمیں اسی ماحول سے مل جاتا ہے جس میں یہ اعتراض کیا گیا تھا۔ پہلی بات یہ تھی کہ مکہ کے سرداروں کے لئے یہ کچھ بھی مشکل نہ تھی کہ وہ مذکورہ افراد کے گھروں پر چھاپے مار کر پرانی کتابیں اور ان کے ترجمے برآمد کرکے عوام کے سامنے پیش کردیتے۔ لیکن وہ بس زبانی دعوے کرتے رہے اور کبھی بھی یہ فیصلہ کن قدم نہیں اٹھایا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس سلسلہ میں جن لوگوں کا نام لیتے تھے وہ مکہ کے رہنے والے تھے۔ ان کی قابلیت کسی سے چھپی ہوئی نہ تھی۔ ہر شخص دیکھ سکتا تھا کہ نبی ﷺ جو کلام پیش کر رہے ہیں وہ کس پائے اور مرتبے کا ادب ہے اور مذکورہ لوگ کس درجے کے ہیں۔ اس وجہ سے کسی نے بھی اس اعتراض کو کوئی وزن نہ دیا۔ ہر شخص سمجھتا تھا کہ ان باتوں سے بس چلے دل کے پھپھولے پھوڑے جا رہے ہیں ورنہ اس اعتراض میں کوئی جان نہیں ہے۔ اور اگر یہ لوگ ایسی ہی قابلیت رکھتے تھے تو انہوں نے اس سے خود اپنا چراغ کیوں نہ چلایا۔ اور نہ ہی نبی ﷺ نے اسے اپنے کلام کے طور پر پیش کیا۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ)
Ayah 25:5

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

کہتے ہیں یہ پرانے لوگوں کی لکھی ہوئی چیزیں ہیں جنہیں یہ شخص نقل کرتا ہے اور وہ اِسے صبح و شام سنائی جاتی ہیں

وَقَالُوْٓا [ اور انھوں نے کہا ] اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ [ پہلے لوگوں کے قصے ہیں ] اكْتَتَبَهَا [ اس نے تصنیف کیا ان کو ] فَهِيَ [ پس وہ ] تُمْلٰى عَلَيْهِ [ پڑھ کر سنائے جاتے ہیں اس پر ] بُكْرَةً [ صبح ] وَّاَصِيْلًا [ اور شام ]
Ayah 25:6

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

اے محمدؐ، ان سے کہو کہ "اِسے نازل کیا ہے اُس نے جو زمین اور آسمانوں کا بھید جانتا ہے" حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا غفور رحیم ہے

قُلْ [ آپ ﷺ کہیے ] اَنْزَلَهُ [ اس کا اتارا ] الَّذِيْ [ اس نے جو ] يَعْلَمُ [ جانتا ہے ] السِّرَّ [ سارے بھیدوں کو ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ] وَالْاَرْضِ ۭ [ اور زمین میں ] اِنَّهٗ [ یقینا وہ ] كَانَ [ ہے ] غَفُوْرًا [ بےانتہا بخشنے والا ] رَّحِيْمًا [ ہمیشہ رحم کرنے والا ]
Ayah 25:7

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

کہتے ہیں "یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے؟ کیوں نہ اس کے پاس کوئی فرشتہ بھیجا گیا جو اس کے ساتھ رہتا اور (نہ ماننے والوں کو) دھمکاتا؟

وَقَالُوْا [ اور انہوں نے کہا ] مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ [ اس رسول ﷺ کو کیا ہے (یعنی کیسا ہے) يَاْكُلُ [ جو کھاتا ہے ] الطَّعَامَ [ کھانا ] وَيَمْشِيْ [ اور چلتا ہے ] فِي الْاَسْوَاقِ ۭ [ بازاروں میں ] لَوْلَآ [ کیوں نہیں ] اُنْزِلَ [ اتارا گیا ] اِلَيْهِ [ اس کی طرف ] مَلَكٌ [ کوئی فرشتہ ] فَيَكُوْنَ [ تو وہ ہوجانا ] مَعَهٗ [ اس کے ساتھ ] نَذِيْرًا [ ایک خبردار کرنے والا ]
Ayah 25:8

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اور کچھ نہیں تو اِس کے لیے کوئی خزانہ ہی اتار دیا جاتا، یا اس کے پاس کوئی باغ ہی ہوتا جس سے یہ (اطمینان کی) روزی حاصل کرتا" اور ظالم کہتے ہیں "تم لوگ تو ایک سحر زدہ آدمی کے پیچھے لگ گئے ہو"

اَوْ يُلْقٰٓى [ یا ڈالا جاتا ] اِلَيْهِ [ اس کی طرف ] كَنْزٌ [ کوئی خزانہ ] اَوْ تَكُوْنُ [ یا ہوتا ] لَهٗ [ اس کے لئے ] جَنَّةٌ [ کوئی باغ ] يَّاْكُلُ [ وہ کھاتا ] مِنْهَا ۭ [ اس میں سے ] وَقَالَ الظّٰلِمُوْنَ [ اور ظالموں نے کہا ] اِنْ تَتَّبِعُوْنَ [ تم لوگ پیروی نہیں کرتے ] اِلَّا [ مگر ] رَجُلًا مَّسْحُوْرًا [ ایک جادو کئے ہوئے شخص کی ]
Ayah 25:9

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

دیکھو، کیسی کیسی عجیب حجتیں یہ لوگ تمہارے آگے پیش کر رہے ہیں، ایسے بہکے ہیں کہ کوئی ٹھکانے کی بات اِن کو نہیں سوجھتی

اُنْظُرْ [ آپ ﷺ دیکھیں ] كَيْفَ [ کیسے ] ضَرَبُوْا [ انہوں نے بیان کیں ] لَكَ [ آپ ﷺ کے لئے ] الْاَمْثَالَ [ مثالیں ] فَضَلُّوْا [ تو وہ گمراپ ہوئے ] فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ [ پھر وہ استطاعت نہیں رکھتے ] سَبِيْلًا [ کسی راستے کی ]
Ayah 25:10

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

بڑا بابرکت ہے وہ جو اگر چاہے تو ان کی تجویز کردہ چیزوں سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر تم کو دے سکتا ہے، (ایک نہیں) بہت سے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اور بڑے بڑے محل

تَبٰرَكَ [ بابرکت ہوا ] الَّذِيْٓ [ وہ جو ] اِنْ شَاۗءَ [ اگر چاہے ] جَعَلَ [ تو بنادے ] لَكَ [ آپ ﷺ کے لئے ] خَيْرًا مِّنْ ذٰلِكَ [ اس سے بہتر ] جَنّٰتٍ [ باغات ] تَجْرِيْ [ بہتی ہوں ] مِنْ تَحْتِهَا [ جن کے نیچے سے ] الْاَنْهٰرُ ۙ [ نہریں ] وَيَجْعَلْ [ اور وہ بنا دے ] لَّكَ [ آپ ﷺ کے لئے ] قُصُوْرًا [ کچھ محلات ]
Ayah 25:11

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ "اُس گھڑی" کو جھٹلا چکے ہیں اور جو اُس گھڑی کو جھٹلائے اس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے

بَلْ [ بلکہ ] كَذَّبُوْا [ انہوں نے جھٹلایا ] بِالسَّاعَةِ ۣ [ اس گھڑی (یعنی قیامت) کو ] وَاَعْتَدْنَا [ اور ہم نے تیار کیا ] لِمَنْ [ اس کے لئے جس نے ] كَذَّبَ [ جھٹلایا ] بِالسَّاعَةِ [ اس گھڑی کو ] سَعِيْرًا [ ایک شعلوں والی آگ ] نوٹ۔ 1: بل کذبوا بالساعۃ کا مطلب یہ ہے کہ جو باتیں یہ کر رہے ہیں ان کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کو واقعی قرآن کے جعلی کلام ہونے کا خدشہ ہے یا ایمان نہ لانے کی وجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کھانا کھاتے ہیں ، بازاروں میں چلتے ہیں، نہ آپ ﷺ کے ساتھ کوئی فرشتہ ہے، نہ کوئی خزانہ ہے۔ اصل وجہ ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ آخرت کو نہیں مانتے۔ جس نے ان کو حق اور باطل کے معاملہ میں بالکل غیر سنجیدہ بنادیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ دوسرے سے کسی غور و فکر اور تحقیق و جستجو کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ اس لئے آپ ﷺ کی دعوت کو رد کرنے کے لئے ایسی مضحکہ خیز حجتیں پیش کرتے ہیں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 25:12

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

وہ جب دور سے اِن کو دیکھے گی تو یہ اُس کے غضب اور جوش کی آوازیں سن لیں گے

اِذَا [ جب ] رَاَتْهُمْ [ وہ (آگ) دیکھے گی ان کو ] مِّنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ [ دور والی جگہ سے ] سَمِعُوْا [ تو وہ سنیں گے ] لَهَا [ اس کو ] تَغَيُّظًا [ غصہ سے کھولتے ہوئے ] وَّزَفِيْرًا [ اور چنگھاڑتے ہوئے ]
Ayah 25:13

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب یہ دست و پا بستہ اُس میں ایک تنگ جگہ ٹھونسے جائیں گے تو اپنی موت کو پکارنے لگیں گے

وَاِذَآ [ اور جب ] اُلْقُوْا [ وہ لوگ ڈالے جائیں گے ] مِنْهَا [ اس میں سے ] مَكَانًا ضَيِّقًا [ ایک تنگ جگہ میں ] مُّقَرَّنِيْنَ [ جکڑے ہوئے ] دَعَوْا [ تو وہ دعا کریں گے ] هُنَالِكَ [ وہیں ] ثُبُوْرًا [ ہلاک ہونے کی ]
Ayah 25:14

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

(اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ) آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کو پکارو

لَا تَدْعُوا [ تم لوگ دعا مت کرو ] الْيَوْمَ [ آج کے دن ] ثُبُوْرًا وَّاحِدًا [ ایک مرتبہ ہلاک ہونے کی ] وَّادْعُوْا [ اور دعا کرو ] ثُبُوْرًا كَثِيْرًا [ کثرت سے (یعنی بار بار) ہلاک ہونے کی ]
Ayah 25:15

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

اِن سے پوچھو، یہ انجام اچھا ہے یا وہ اَبدی جنت جس کا وعدہ خداترس پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے؟ جو اُن کے اعمال کی جزا اور اُن کے سفر کی آخری منزل ہو گی

قُلْ [ آپ ﷺ کہیے ] اَذٰلِكَ [ کیا یہ ] خَيْرٌ [ بہتر ہے ] اَمْ [ یا ] جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِيْ [ ہمیشگی کا وہ باغ جس کا ] وُعِدَ [ وعدہ کیا گیا ] الْمُتَّقُوْنَ ۭ [ تقوی کرنے والوں سے ] كَانَتْ لَهُمْ [ وہ (باغ) ہوگا ان کے لئے ] جَزَاۗءً [ ایک بدلہ ] وَّمَصِيْرًا [ اور ایک لوٹنے کی جگہ ]
Ayah 25:16

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

جس میں اُن کی ہر خواہش پوری ہو گی، جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، جس کا عطا کرنا تمہارے پروردگار کے ذمے ایک واجب الادا وعدہ ہے

لَهُمْ [ ان کے لئے ] فِيْهَا [ اس میں ہے ] مَا [ وہ جو ] يَشَاۗءُوْنَ [ وہ چاہیں گے ] خٰلِدِيْنَ ۭ [ ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] كَانَ عَلٰي رَبِّكَ [ یہ ہے آپ ﷺ کے رب پر ] وَعْدًا مَّسْـُٔـوْلًا [ ایک مانگا ہوا وعدہ ]
Ayah 25:17

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور وہ وہی دن ہو گا جب کہ (تمہارا رب) اِن لوگوں کو بھی گھیر لائے گا اور ان کے اُن معبودوں کو بھی بُلا لے گا جنہیں آج یہ اللہ کو چھوڑ کر پوج رہے ہیں، پھر وہ اُن سے پوچھے گا "کیا تم نے میرے اِن بندوں کر گمراہ کیا تھا؟ یا یہ خود راہِ راست سے بھٹک گئے تھے؟"

وَيَوْمَ [ اور جس دن ] يَحْشُرُهُمْ [ وہ اکٹھا کرے گا ان لوگوں کو ] وَمَا [ اور ان کو جن کی ] يَعْبُدُوْنَ [ یہ لوگ بندگی کرتے ہیں ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] فَيَقُوْلُ [ پھر وہ کہے گا ] ءَ اَنْتُمْ [ کیا تم لوگوں نے ہی ] اَضْلَلْتُمْ [ گمراہ کیا ] عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاۗءِ [ میرے ان بندوں کو ] اَمْ هُمْ [ یا وہ لوگ (خود) ہی ] ضَلُّوا [ بھٹک گئے ] السَّبِيْلَ [ راستے سے ] نوٹ۔ 1: عربی میں عام طور پر غیر عاقل چیزوں کے لئے ما اور عاقل لوگوں کے لئے من آتا ہے ۔ اس لئے آیت ۔ 17 میں مایعبدون سے مراد وہ بت اور مورتیاں معلوم ہوتی ہیں جن کو پوجا جاتا ہے ۔ لیکن آگے کی عبارت بتارہی ہے اس سے مراد عاقل لوگ ہیں ۔ تفسیر نعیمی میں ہے کہ یہاں عاقل اور غیر عاقل دونوں مراد ہیں ۔ اللہ تعالیٰ بتوں کو قوت گویائی عطا کرے گا ۔ تفہیم القرآن اور تدبر قرآن میں ہے کہ اس سے مراد انبیاء اور صلحاء ہیں اور میدان حشر میں وہ اپنے پر ستاروں سے اعلان برأت کریں گے ۔
Ayah 25:18

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ عرض کریں گے "پاک ہے آپ کی ذات، ہماری تو یہ بھی مجال نہ تھی کہ آپ کے سوا کسی کو اپنا مولا بنائیں مگر آپ نے اِن کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامانِ زندگی دیا حتیٰ کہ یہ سبق بھول گئے اور شامت زدہ ہو کر رہے"

قَالُوْا [ وہ کہیں گے ] سُبْحٰنَكَ [ پاکیزگی تیری ہے ] مَا كَانَ [ نہیں تھا ] يَنْۢبَغِيْ [ سزا وار ] لَنَآ [ ہمارے لئے ] اَنْ نَّتَّخِذَ [ کہ ہم بناتے ] مِنْ دُوْنِكَ [ تیرے علاوہ ] مِنْ اَوْلِيَاۗءَ [ کوئی بھی کار ساز ] وَلٰكِنْ [ اور لیکن ] مَّتَّعْتَهُمْ [ تو نے عرصہ تک فائدہ اٹھانے دیا ان کو ] وَاٰبَاۗءَهُمْ [ اور ان کے پاپ دادا کو ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] نَسُوا [ یہ لوگ بھول گئے ] الذِّكْرَ ۚ[ ساری نصیحتوں کو ] وَكَانُوْا [ اور وہ تھے ] قَوْمًۢا بُوْرًا [ ایک ہلاک ہونے والی قوم ]
Ayah 25:19

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

یوں جھٹلا دیں گے وہ (تمہارے معبود) تمہاری اُن باتوں کو جو آج تم کہہ رہے ہو، پھر تم نہ اپنی شامت ٹال سکو گے نہ کہیں سے مدد پا سکو گے اور جو بھی تم میں سے ظلم کرے اسے ہم سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ [ تو انھوں نے جھٹلا دیا ہے تم لوگوں کو ] بِمَا [ اس میں جو ] تَقُوْلُوْنَ ۙ [ تم لوگ کہتے ہو ] فَمَا تَسْتَطِيْعُوْنَ [ پس تم لوگ استطاعت نہیں رکھتے ] صَرْفًا [ ہٹانے کی (عذاب کو ] وَّلَا نَصْرًا ۚ [ اور نہ مدد کرنے کی ] وَمَنْ [ اور جس نے ] يَّظْلِمْ [ ظلم کیا ] مِّنْكُمْ [ تم میں سے ] نُذِقْهُ [ اس کو ہم چکھائیں گے ] عَذَابًا كَبِيْرًا [ ایک بڑا عذاب ]
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اے محمدؐ، تم سے پہلے جو رسول بھی ہم نے بھیجے ہیں وہ سب بھی کھانا کھانے والے اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے لوگ ہی تھے دراصل ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے کیا تم صبر کرتے ہو؟ تمہارا رب سب کچھ دیکھتا ہے

وَمَآ اَرْسَلْنَا [ اور ہم نے نہیں بھیجا ] قَبْلَكَ [ آپ ﷺ سے پہلے ] مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ [ رسولوں میں سے (کسی کو)] اِلَّآ [ سوائے اس کے کہ ] اِنَّهُمْ [ بیشک وہ سب ] لَيَاْكُلُوْنَ [ یقینا کھاتے تھے ] الطَّعَامَ [ کھانا ] وَيَمْشُوْنَ [ اور چلتے تھے ] فِي الْاَسْوَاقِ ۭ [ بازاروں میں ] وَجَعَلْنَا [ اور ہم نے بنایا ] بَعْضَكُمْ [ تمہارے کسی کو ] لِبَعْضٍ [ کسی کے لئے ] فِتْنَةً ۭ [ ایک آزمائش ] اَتَصْبِرُوْنَ ۚ [ کیا تم لوگ ثابت قدم رہتے ہو ] وَكَانَ [ اور ہے ] رَبُّكَ [ آپ ﷺ کا رب ] بَصِيْرًا [ دیکھنے والا ]
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں "کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں" بڑا گھمنڈ لے بیٹھے یہ اپنے نفس میں اور حد سے گزر گئے یہ اپنی سرکشی میں

وَقَالَ [ اور کہا ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں نے جو ] لَا يَرْجُوْنَ [ امید نہیں رکھتے ] لِقَاۗءَنَا [ ہم سے ملاقات کرنے کی ] لَوْلَآ [ کیوں نہیں ] اُنْزِلَ [ اتارے گئے ] عَلَيْنَا [ ہم پر ] الْمَلٰۗىِٕكَةُ [ فرشتے ] اَوْ نَرٰي [ یا (کیوں نہیں) ہم دیکھتے ] رَبَّنَا ۭاپنے رب کو ] لَـقَدِ اسْتَكْبَرُوْا [ یقینا وہ بڑے بنے ہیں ] فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ [ اپنے جی (یعنی زعم) میں ] وَعَتَوْ [ اور انہوں نے سرکشی کی ] عُتُوًّا كَبِيْرًا [ ایک بڑی سرکشی ]
Ayah 25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن نہ ہوگا، چیخ اٹھیں گے کہ پناہ بخدا

يَوْمَ [ جس دن ] يَرَوْنَ [ وہ دیکھیں گے ] الْمَلٰۗىِٕكَةَ [ فرشتوں کو ] لَا بُشْرٰى [ کوئی خوشخبری نہیں ہوگی ] يَوْمَىِٕذٍ [ اس دن ] لِّلْمُجْرِمِيْنَ [ مجرموں کیلئے ] وَيَقُوْلُوْنَ [ اور کہیں گے ] حِجْـرًا مَّحْجُوْرًا [ کوئی مضبوط رکاوٹ (یعنی پناہ) ہو ]
Ayah 25:23

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اُسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے

وَقَدِمْنَآ [ اور ہم نے ارادہ کیا ] اِلٰى مَا [ اس کی طرف جو ] عَمِلُوْا [ انہوں نے عمل کئے ] مِنْ عَمَلٍ [ کوئی بھی عمل ] فَجَـعَلْنٰهُ [ تو ہم نے کردیا اس کو ] هَبَاۗءً مَّنْثُوْرًا [ ایک بکھیرا ہوا غبار ] ھـ ب و (ن) ھبوا آہستہ چلنا۔ غبار کا بلند ہونا ھباء مٹی کے باریک ذرات جو فضا میں پھیلے ہوتی ہیں۔ غبار۔ زیر مطالعہ آیت۔ 23 ن ث ر (ن ۔ ض) نثرا کسی چیز کو بکھیرنا۔ منشور بکھیرا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 23 ۔ (افتعال) انتثار کسی چیز کو بکھر جانا۔ وَاِذَا الْكَوَاكِبُ انْـتَثَرَتْ (اور جب تارے بکھر جائیں گے) ۔ 82/2 ۔
Ayah 25:24

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

بس وہی لوگ جو جنت کے مستحق ہیں اُس دن اچھی جگہ ٹھیریں گے اور دوپہرگزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ [ جنت والے ] يَوْمَىِٕذٍ [ اس دن ] خَيْرٌ [ بہتر ہوں گے ] مُّسْتَــقَرًّا [ بلحاظ ٹھکانے کے ] وَّاَحْسَنُ [ زیادہ اچھے ہوں گے ] مَقِيْلًا [ بلحاظ آرام گاہ کے ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 24 ۔ میں بھی یومئذ سے مراد حشر کا دین ہے اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ میدان حشر میں جنت کے مستحق لوگوں کے ساتھ مجرمین سے مختلف معاملہ ہوگا۔ وہ عزت کے ساتھ بٹھائے جائیں گے اور روز حشر کی سخت دوپہر گزارنے کے لئے ان کو آرام کی جگہ دی جائے گی۔ اس دن کی ساری سختیاں مجرموں کے لئے ہوں گی نہ کہ نیکوکاروں کے لئے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ قیامت کا عظیم الشان اور خوفناک دن ایک مومن کے لئے بہت ہلکا کردیا جائے گا حتی کہ اتنا ہلکا جتنا دنیا میں ایک فرض نماز پڑھنے کا وقت ہوتا ہے۔ (تفہیم القرآن) ۔ آیت میں لفظ مقیلا استعمال ہوا ہے جو معنی خیز ہے۔ مادہ ” ق ی ل “ سے ماضی ، مضارع اور مصدر قال۔ یقیل۔ قیلولۃ بنتا ہے اس کے معنی ہیں ” دوپہر کو آرام کرنا خواہ نیند نہ آئے “۔ اس سے اسم الظرف مقیل بنتا ہے جس کے معنی ہیں دوپہر کو آرام کرنے یعنی قیلولہ کرنے کی جگہ ۔ اب ظاہر ہے کہ اس آیت میں مقیلا سے مراد میدان حشر کی دوپہر میں قیلولہ کرنے کی جگہ ہے۔
Ayah 25:25

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

آسمان کو چیرتا ہوا ایک بادل اس روز نمودار ہو گا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیے جائیں گے

وَيَوْمَ [ اور جس دن ] تَشَقَّقُ [ پھٹ جائے گا ] السَّمَاۗءُ [ آسمان ] بِالْغَمَامِ [ بادلوں کے ساتھ ] وَنُزِّلَ [ اور اراتارے جائیں گے ] الْمَلٰۗىِٕكَةُ [ فرشتے ] تَنْزِيْلًا [ جیسے بتدریج اتارے جاتے ہیں ]
Ayah 25:26

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اُس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمان کی ہو گی اور وہ منکرین کے لیے بڑا سخت دن ہو گا

اَلْمُلْكُ [ ساری بادشاہت ] يَوْمَىِٕذِۨ [ اس دن ] الْحَقُّ [ برحق ہوگی ] لِلرَّحْمٰنِ ۭ [ رحمان کے لئے ] وَكَانَ [ اور وہ (دن) ہوگا ] يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا [ کافروں پر ایک سخت دن ]
Ayah 25:27

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

ظالم انسان اپنا ہاتھ چبائے گا اور کہے گا "کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا

وَيَوْمَ [ اور جس دن ] يَعَضُّ [ چبائیں گے ] الظَّالِمُ [ سارے ظالم لوگ ] عَلٰي يَدَيْهِ [ اپنے دونوں ہاتھوں کو ] يَقُوْلُ [ کہتے ہوئے ] يٰلَيْتَنِي [ اے کاش میں نے ] اتَّخَذْتُ [ پکڑا ہوتا ] مَعَ الرَّسُوْلِ [ ان رسول کے ساتھ ] سَبِيْلًا [ کوئی راستہ ]
Ayah 25:28

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے میری کم بختی، کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا

يٰوَيْلَتٰى [ ہائے بربادی ] لَيْتَنِيْ [ کاش میں نے ] لَمْ اَتَّخِذْ [ نہ بنایا ہوتا ] فُلَانًا خَلِيْلًا [ فلاں کو دوست ]
Ayah 25:29

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

اُس کے بہکائے میں آ کر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی، شیطان انسان کے حق میں بڑا ہی بے وفا نکلا"

لَقَدْ اَضَلَّنِيْ [ بیشک اسی نے گمراہ کیا ہے مجھ کو ] عَنِ الذِّكْرِ [ اس نصیحت سے ] بَعْدَ اِذْ [ اس کے بعد کہ جب ] جَاۗءَنِيْ ۭ[ وہ آئی میرے پاس ] وَكَانَ [ اور ہے ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان ] لِلْاِنْسَانِ [ انسان کے لئے ] خَذُوْلًا [ انتہائی دغا باز ]
Ayah 25:30

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور رسول کہے گا کہ "اے میرے رب، میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنا لیا تھا"

وَقَالَ [ اور کہیں گے ] الرَّسُوْلُ [ یہ رسول ﷺ ] يٰرَبِّ [ اے میرے رب ] اِنَّ قَوْمِي [ بیشک میری قوم نے ] اتَّخَذُوْا [ بنایا ] ھٰذَا الْقُرْاٰنَ [ اس قرآن کو ] مَهْجُوْرًا [ چھوڑا ہوا ] نوٹ۔ ا : آنحضرت ﷺ کی یہ شکایت قیامت کے روز ہوگی یا اسی دنیا میں آپ ﷺ نے یہ شکایت فرمائی، ائمہ تفسیر اس میں مختلف ہیں احتمال دونوں ہیں۔ اگلی آیت اس کا قرینہ ہے کہ یہ شکایت آپ ﷺ نے دنیا میں پیش فرمائی تھی جس کے جواب میں آپ ﷺ کو تسلی دی گئی کہ سنت اللہ ہمیشہ سے یہی ہے کہ ہر نبی کے کچھ مجرم لوگ دشمن ہوا کرتے ہیں اور انبیاء (علیہم السلام) اس پر صبر کرتے رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ قرآن کو مہجور کردینے سے مراد قرآن کا انکار ہے جو کفار ہی کا کام ہے ۔ مگر بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ جو مسلمان نہ اس کی تلاوت کی پابندی کرتے ہیں نہ اس پر عمل کرتے ہیں ، وہ بھی اس حکم میں داخل ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے قرآن پڑھا (حدیث میں تعلم ہے یعنی سیکھا) مگر پھر اس کو بند کرکے گھر میں معلق کردیا نہ اس کی تلاوت کی پابندی کی نہ اس کے احکام میں غور کیا، قیامت کے روز قرآن اس کے گلے میں پڑا ہوا آئے گا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کرے گا کہ آپ کے اس بندے نے مجھے چھوڑ دیا تھا۔ اب آپ میرے اور اس کے معاملہ کا فیصلہ فرما دیں۔ (معارف القرآن)
Ayah 25:31

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اے محمدؐ، ہم نے تو اسی طرح مجرموں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی رہنمائی اور مدد کو کافی ہے

وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] جَعَلْنَا [ ہم نے بنایا ] لِكُلِّ نَبِيٍّ [ ہر نبی کے لئے ] عَدُوًّا [ ایک دشمن ] مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ ۭ [ مجرموں میں سے ] وَكَفٰى [ اور کافی ہے ] بِرَبِّكَ [ آپ ﷺ کا رب ] هَادِيًا [ بلحاظ ہدایت دینے والے کے ] وَّنَصِيْرًا [ اور مدد کرنے والے کے ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 31 ۔ میں یہ جو فرمایا کہ ہم نے ان کو دشمن بنایا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا قانون فطرت یہی کچھ ہے۔ لہٰذا ہماری اس مشیت پر صبر کرو اور قانون فطرت کے تحت جن حالات سے دو چار ہونا ناگزیر ہے اس کا مقابلہ ٹھنڈے دل اور مضبوط عزم کے ساتھ کرتے چلے جاؤ۔ اس بات کی امید نہ رکھو کہ ادھر تم نے حق پیش کیا اور ادھر ایک دنیا اسے قبول کرنے کے لئے امنڈ آئے گی۔ رہنمائی سے مراد صرف علم حق عطا کرنا ہی نہیں ہے بلکہ تحریک اسلامی کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لئے اور دشمنوں کی چالوں کو شکست دینے کے لئے بروقت صحیح تدبیریں بجھانا بھی ہے۔ اور مدد سے مراد یہ ہے کہ حق اور باطل کی کشمکش میں جتنے محاذ بھی کھلیں، ہر ایک پر اہل حق کی تائید میں کمک پہنچانا اللہ کا کام ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 25:32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

منکرین کہتے ہیں "اِس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اتار دیا گیا؟" ہاں، ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے رہیں اور (اسی غرض کے لیے) ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے

وَقَالَ [ اور کہا ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں نے جنہوں نے ] كَفَرُوْا [ انکار کیا ] لَوْلَا نُزِّلَ [ کیوں نہیں اتارا گیا ] عَلَيْهِ [ ان پر ] الْقُرْاٰنُ [ قرآن کو ] جُمْلَةً [ اکٹھا کیا ہوا ] وَّاحِدَةً ڔ [ ایک بار ] كَذٰلِكَ ڔ [ اسی طرح ہے ] لِنُثَبِّتَ [ تاکہ ہم جما دیں ] بِهٖ [ اس کے ذریعہ سے ] فُؤَادَكَ [ آپ ؐ کے دل کو ] وَرَتَّلْنٰهُ [ اور ہم نے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا اس کو ] تَرْتِيْلًا [ جیسا ترتیل کا حق ہے ] ر ت ل (س) رتلا کسی چیز کا اچھے انتظام اور ترتیب میں ہونا۔ (تفعیل) ترتیلا کسی چیز کو اچھی طرح ترتیب دینا۔ ادائیگی حروف کا لحاظ رکھ کر کسی کلام کو خوش اسلوبی سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 32 ۔ رتل فعل امر ہے۔ تو خوش اسلوبی سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھ۔ ورتل القران ترتیلا (اور آپ ﷺ ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں قرآن کو جیسا ترتیل کا حق ہے) 73/4 ۔ نوٹ۔ 3: آیت۔ 32 ۔ میں کافروں کے اعتراض کے جوان کا مطلب یہ ہے کہ ہم پوری کتاب ایک ہی دفعہ نازل کرسکتے تھے لیکن سوال تمہارے تحمل اور لوگوں کی تربیت کا تھا۔ اس وجہ سے اس کو آہستہ آہستہ اتارا تاکہ تم بھی اس کو برداشت کرسکو اور لوگ بھی اگر سیکھنا چاہیں تو سیکھ سکیں۔ ایک استاد اگر چاہے تو پوری کتاب ایک ہی نشست میں شاگردوں کو سنا دے لیکن کیا اس طرح شاگرد کتاب سے کچھ حاصل کرسکیں گے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ آسمانی کتب میں سے کوئی بھی کتاب بیک دفعہ نہیں نازل ہوئی ہے ۔ جن لوگوں نے یہ خیال کیا ہے ان کا خیال ان صحائف سے بیخبر ی پر مبنی ہے۔ تورات بھی پوری کی پوری بیک دفعہ نازل نہیں ہوئی۔ بیک دفعہ اس کے صرف احکام عشرہ نازل ہوئے ہیں۔ جو الواح میں لکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئے۔ لیکن تورات صرف احکام عشرہ ہی پر تو مشتمل نہیں ہے۔ اس میں تو شریعت موسوی کے تمام احکام و قوانین ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پوری زندگی میں درجہ بہ درجہ نازل ہوئے۔ اسی طرح انجیل تمام تر سیدنا مسیح (علیہ السلام) کے مواعظ حکمت پر مشتمل ہے جو مختلف مواقع پر، حالات کے تقاضوں کے مطابق آپ (علیہ السلام) پر نازل ہوئے اور انہوں نے ان سے اپنی قوم کو انذار کیا۔ اسی طرح زبور حضرت داؤد (علیہ السلام) کی منظوم مناجاتوں پر مشتمل ہے جو وقتا فوقتا ان پر القاء ہوئیں۔ غرض یہ خیال بالکل بےبنیاد ہے کہ ان میں سے کوئی کتاب بھی بیک دفعہ نازل ہوئی۔ ایسا ہو بھی کیسے سکتا تھا۔ انبیاء (علیہم السلام) داعی ، معلم اور مزکی ہوتے تھے ۔ انہیں اپنی قوم کا علاج اور تزکیہ کرنا ہوتا تھا ۔ اس فرض منصبی کا فطری تقاضہ یہ تھا کہ وہ اصلاح کی راہ میں تدریج کے ساتھ قدم آگے بڑھا ـ ئیں اور ہر قدم پر ضرورت کے مطابق ان کو اللہ کی طرف سے رہنمائی حاصل ہو ۔ جہاں تک مجھے علم ہے اہل کتاب کے علماء بھی اپنی کسی کتاب کے بیک دفعہ نازل ہونے کے مدعی نہیں ہیں ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 25:33

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور (اس میں یہ مصلحت بھی ہے) کہ جب کبھی وہ تمہارے سامنے کوئی نرالی بات (یا عجیب سوال) لے کر آئے، اُس کا ٹھیک جواب بر وقت ہم نے تمہیں دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کھول دی

وَلَا يَاْتُوْنَكَ [ وہ لوگ نہیں لاتے آپ ؐ کے پاس ] بِمَثَلٍ [ کوئی مثال ] اِلَّا [ مگر یہ کہ ] جِئْنٰكَ [ ہم لے آتے ہیں آپ ﷺ کے پاس ] بِالْحَقِّ [ حق کو ] وَاَحْسَنَ [ اور زیادہ اچھے کو ] تَفْسِيْرًا [ بلحاظ معنی مراد بتانے کے ] س د (ن۔ ض) فسرا ڈھکی ہوئی چیز کو کھول دینا۔ مراد بتانا۔ واضح کرنا۔ (تفعیل) تفسیرا بتدریج اور تسلسل کے ساتھ مراد بتانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 33
Ayah 25:34

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

جو لوگ اوندھے منہ جہنم کی طرف دھکیلے جانے والے ہیں ان کا موقف بہت برا اور ان کی راہ حد درجہ غلط ہے

اَلَّذِيْنَ [ وہ لوگ جن کو ] يُحْشَرُوْنَ [ اکٹھا کیا جائے گا ] عَلٰي وُجُوْهِهِمْ [ ان کے چہروں کے بل ] اِلٰى جَهَنَّمَ ۙ [ جہنم کی طرف ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] شَرٌّ [ زیادہ برے ہیں ] مَّكَانًا [ ٹھکانے کے لحاظ سے ] وَّاَضَلُّ [ اور زیادہ گمراہ ہیں ] سَبِيْلًا [ راستے کے لحاظ سے ]
Ayah 25:35

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارونؑ کو مددگار کے طور پر لگایا

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا [ اور بیشک ہم دے چکے ] مُوْسَى [ موسیٰ (علیہ السلام) کو ] الْكِتٰبَ [ کتاب ] وَجَعَلْنَا [ اور ہم نے بنایا ] مَعَهٗٓ[ ان کے ساتھ ] اَخَاهُ [ ان کے بھائی ] هٰرُوْنَ [ ان کے بھائی ] وَزِيْرًا [ ایک معاون ] نوٹ۔ ا : آیت۔ 35 ۔ میں مذکور کتاب سے مراد غالبا وہ کتاب نہیں جو تورات کے نام سے مشہور ہے اور مصر سے نکلنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی بلکہ اس سے مراد وہ ہدایت ہیں جو نبوت کے منصب پر مامور ہونے کے وقت سے لے کر خروج تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی جاتی رہیں، قرآن مجید میں جگہ جگہ ان چیزوں کا ذکر ہے مگر اغلب یہ ہے کہ یہ چیزیں تورات میں شامل نہیں کی گئیں۔ تورات کا آغاز احکام عشرہ سے ہوترا ہے جو خروج کے بعد سے ان پر کتبوں کی شکل میں آپ (علیہ السلام) کو دئیے گئے تھے۔
Ayah 25:36

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

اور اُن سے کہا کہ جاؤ اُس قوم کی طرف جس نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے آخر کار اُن لوگوں کو ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا

فَقُلْنَا [ پھر ہم نے کہا ] اذْهَبَآ [ تم دونوں جاؤ] اِلَى الْقَوْمِ الَّذِيْنَ [ اس قوم کی طرف جنہوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا ۭ [ ہماری نشانیوں کو ] فَدَمَّرْنٰهُمْ [ پھر ہم نے ہلاک کیا انہیں ] تَدْمِيْرًا [ جیسے ہلاک کرتے ہیں ] آیت۔ 36 ۔ میں جن آیات کے جھٹلانے کا ذکر ہے اس سے مراد آیات ہیں جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) کے ذریعے سے مصر پہنچی تھیں اور جن کی تبلیغ بعد میں ایک مدت تک بنی اسرائیل کے صلحاء کرتے رہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 25:37

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

یہی حال قوم نوحؑ کا ہوا جب انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی ہم نے اُن کو غرق کر دیا اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک نشان عبرت بنا دیا اور ان ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب ہم نے مہیا کر رکھا ہے

وَقَوْمَ نُوْحٍ [ اور (یاد کرو) نوح (علیہ السلام) کی قوم کو ] لَّمَّا [ جب ] كَذَّبُوا [ انھوں نے جھٹلایا ] الرُّسُلَ [ رسولوں کو ] اَغْرَقْنٰهُمْ [ تو ہم نے غرق کیا ان کو ] وَجَعَلْنٰهُمْ [ اور ہم نے بنایا ان کو ] لِلنَّاسِ [ لوگوں کے لئے ] اٰيَةً ۭ[ ایک نشانی ] وَاَعْتَدْنَا [ اور ہم نے تیار کیا ] لِلظّٰلِمِيْنَ [ ظالموں کے لئے ] عَذَابًا اَلِـــيْمًا [ ایک دردناک عذاب ] ترکیب : (آیت۔ 37) ۔ قوم نوح کے مضاف قوم کی نصب بتارہی ہے کہ یہاں یہ مفعول کے طور پر آیا ہے۔ لیکن یہاں اس کو اغرقنا کا مفعول مقدم ماننے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اغرقنا کے ساتھ ضمیر مفعولی ہم لگی ہوئی ہے۔ اس لئے قوم نوح کو سابقہ آیت کے فعل دمرنا پر عطف بھی مانا جاسکتا ہے اور اس سے پہلے کوئی فعل محذوف بھی مانا جاسکتا ہے جیسے اہلکنا یا اذکر وغیرہ۔
Ayah 25:38

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اِسی طرح عاد اور ثمود اور اصحاب الرس اور بیچ کی صدیوں کے بہت سے لوگ تباہ کیے گئے

وَّعَادًا [ اور (ہم نے ہلاک کیا) عدا کو ] وَّثَمُــوْدَا۟ [ اور ثمود کو ] وَاَصْحٰبَ الرَّسِّ [ اور کنویں والوں کو ] وَقُرُوْنًــۢا بَيْنَ ذٰلِكَ كَثِيْرًا [ اور بہت سی قوموں کو ان کے درمیان (کے عرصہ میں)] ر س س (ن) رسا کنواں کھودنا۔ رس اسم ذات ہے ۔ کنواں۔ زیر مطالعہ آیت۔ 38 ۔
Ayah 25:39

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے (پہلے تباہ ہونے والوں کی) مثالیں دے دے کر سمجھایا اور آخرکار ہر ایک کو غارت کر دیا

وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ [ اور ہم نے بیان کیں (ان میں سے) سب کے لئے ] الْاَمْثَالَ ۡ [ مثالیں (سمجھانے کو)] وَكُلًّا [ اور سب کو ] تَبَّرْنَا [ ہم نے برباد کیا ] تَتْبِيْرًا [ جیسے برباد کرنے کا حق ہے ] (آیت۔ 39) ۔ وَكُلًّا ضَرَبْنَا اور وَكُلًّا تَبَّرْنَا میں کلا مفعول مقدم ہیں۔
Ayah 25:40

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور اُس بستی پر تو اِن کا گزر ہو چکا ہے جس پر بدترین بارش برسائی گئی تھی کیا انہوں نے اس کا حال دیکھا نہ ہو گا؟ مگر یہ موت کے بعد دوسری زندگی کی توقع ہی نہیں رکھتے

وَلَقَدْ اَتَوْا [ اور بیشک وہ لوگ آچکے ہیں ] عَلَي الْقَرْيَةِ الَّتِيْٓ [ اس بستی پر جس پر ] اُمْطِرَتْ [ برسائی گئی ] مَطَرَ السَّوْءِ ۭ[ برائی کی بارش ] اَفَلَمْ يَكُوْنُوْا يَرَوْنَهَا ۚ [ تو کیا وہ لوگ دیکھتے نہیں تھے ان کو ] بَلْ [ بلکہ ] كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ [ وہ امید نہیں رکھا کرتے تھے ] نُشُوْرًا [ جی اٹھنے کی ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 40 ۔ سے معلوم ہوا کہ چونکہ وہ لوگ آخرت کے قائل نہیں تھے اس لئے ان آثار قدیمہ یعنی عبرت کے مقامات کا مشاہدہ انھوں نے محض ایک تماشائی کی حیثیت سے کیا اور ان سے کوئی عبرت حاصل نہ کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آخرت کے قائل کی نگاہ اور اس کے منکر کی نگاہ میں کتنا فرق ہوتا ہے۔ ایک تماشا دیکھتا ہے یا زیادہ سے زیادہ یہ کہ تاریخ مرتب کرتا ہے، دوسرا انہی چیزوں سے اخلاقی سبق لیتا ہے اور زندگی سے ماوراء حقیقتوں تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ (تفہیم القرآن)