25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 25:41

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) "کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟

وَاِذَا [ اور جب کبھی ] رَاَوْكَ [ وہ دیکھتے ہیں آپ ﷺ کع ] اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ [ تو نہیں بناتے آپ ﷺ کو ] اِلَّا [ مگر ] هُزُوًا ۭ [ مذاق کا ذریعہ ] اَھٰذَا الَّذِيْ [ کیا یہ ہے وہ جس کو ] بَعَثَ [ بھیجا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] رَسُوْلًا [ رسول ہوتے ہوئے ]
Ayah 25:42

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

اِس نے تو ہمیں گمراہ کر کے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کر دیا ہوتا اگر ہم اُن کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے" اچھا، وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر اِنہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا تھا

اِنْ [ یقینا ] كَادَ [ قریب تھا کہ ] لَيُضِلُّنَا [ وہ ضرور بھٹکا دے ہم کو ] عَنْ اٰلِهَتِنَا [ ہمارے معبودوں سے ] لَوْلَآ اَنْ [ اگر نہ ہوتا کہ ] صَبَرْنَا [ ہم ڈٹے رہے ] عَلَيْهَا ۭ [ ان پر ] وَسَوْفَ [ اور عنقریب ] يَعْلَمُوْنَ [ وہ لوگ جان لیں گے ] حِيْنَ [ جس وقت ] يَرَوْنَ [ وہ دیکھیں گے ] الْعَذَابَ [ عذاب کو ] مَنْ [ (کہ) کون ] اَضَلُّ [ زیادہ جھٹکنے والا ہے ] سَبِيْلًا [ راستے کے لحاظ سے ]
Ayah 25:43

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ کیا تم ایسے شخص کو راہِ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو؟

اَرَءَيْتَ [ کیا دیکھا آپ ﷺ نے ] مَنِ [ اس کو جس نے ] اتَّخَذَ [ بنایا ] اِلٰـهَهٗ [ اپنا الہٰ ] هَوٰىهُ ۭ [ اپنی خواہش کو ] اَفَاَنْتَ [ تو کیا آپ ﷺ ] تَكُوْنُ [ ہوں گے ] عَلَيْهِ وَكِيْلًا [ اس کے وکیل ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 43 ۔ میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ جن لوگوں نے اپنی عقل کو معطل کرکے اپنی باگ اپنی خواہشوں کے ہاتھ میں پکڑا دی ہے، بھلا آپ ﷺ ان کی ہدایت و اصلاح کے ذمہ دار کس طرح بن سکتے ہیں۔ انسان کے اندر رہنمائی کا چراغ عقل ہے نہ کہ نفس کی خواہشات۔ تو جو لوگ اس چراغ کو گل کرکے اپنی خواہشات کے پرستار بن جائیں، ان کو راستہ دکھانا کس کے بس میں ہے۔ واضح رہے کہ خواہشیں جتنی بھی ہیں وہ سب اندھی ہیں۔ وہ صرف اپنے مطالبے کو پورا کرانا چاہتی ہے۔ ان کو اس سے کوئی بحث نہیں ہوتی کہ کیا حق ہے کیا باطل اور کیا خیر ہے کیا شر۔ تو جو شخص ان کا پیرو بن جائے اس کے لئے شیطان کے پھندے سے چھوٹنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ (تدبر قرآن) رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس آسمان کے نیچے اللہ کے سوا جتنے معبود بھی پوجے جا رہے ہیں ان میں اللہ کے نزدیک بدترین معبود وہ خواہش نفس ہے جس کی پیروی کی جارہی ہو۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 25:44

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ اُن سے بھی گئے گزرے

اَمْ [ یا ] تَحْسَبُ [ آپ ﷺ سمجھتے ہیں ] اَنَّ [ کہ ] اَكْثَرَهُمْ [ ان کے اکثر ] يَسْمَعُوْنَ [ سنتے ہیں ] اَوْ يَعْقِلُوْنَ ۭ [ یا عقل سے کام لیتے ہیں ] اِنْ هُمْ [ نہیں ہیں وہ ] اِلَّا [ مگر ] كَالْاَنْعَامِ [ چوپایوں کی مانند ] بَلْ [ بلکہ ] هُمْ [ وہ ] اَضَلُّ [ زیادہ گمراہ ہیں ] سَبِيْلًا [ بلحاظ راستے کے ]
Ayah 25:45

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارا رب کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے؟ اگر وہ چاہتا تو اسے دائمی سایہ بنا دیتا ہم نے سورج کو اُس پر دلیل بنایا

اَلَمْ تَرَ [ کیا آپ ﷺ نے غور نہیں کیا ] اِلٰى رَبِّكَ [ اپنے رب (کی قدرت) کی طرف ] كَيْفَ [ کیسے ] مَدَّ [ اس نے دراز کیا ] الظِّلَّ ۚ [ سائے کو ] وَلَوْ شَاۗءَ [ اور اگر وہ چاہتا ] لَجَعَلَهٗ [ تو وہ ضرور بناتا اس کو ] سَاكِنًا ۚ [ ساکن ] ثُمَّ جَعَلْنَا [ پھر ہم نے بنایا ] الشَّمْسَ [ سورج کو ] عَلَيْهِ [ اس پر ] دَلِيْلًا [ ایک رہنمائی کرنے والا ]
Ayah 25:46

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر (جیسے جیسے سورج اٹھتا جاتا ہے) ہم اس سائے کو رفتہ رفتہ اپنی طرف سمیٹتے چلے جاتے ہیں

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ [ پھر ہم نے سمیٹا اس کو ] اِلَيْنَا [ اپنی طرف ] قَبْضًا يَّسِيْرًا [ جیسے آسان سمیٹا ہو ]
Ayah 25:47

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا Open ayah 25:47 in the Quran reader

اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے لباس، اور نیند کو سکونِ موت، اور دن کو جی اٹھنے کا وقت بنایا

وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْ [ وہی ہے جس نے ] جَعَلَ [ بنایا ] لَكُمُ [ تم لوگوں کے لئے ] الَّيْلَ [ رات کو ] لِبَاسًا [ ایک اوڑھنی (یعنی چھپانے کی چیز)] وَّالنَّوْمَ [ اور نیند کو ] سُـبَاتًا [ آرام ] وَّجَعَلَ [ اور اس نے بنایا ][ النَّهَارَ : دن کو [ نُشُوْرًا : دوبارہ اٹھنے کے لیے ]
Ayah 25:48

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ Open ayah 25:48 in the Quran reader

اور وہی ہے جو اپنی رحمت کے آگے آگے ہواؤں کو بشارت بنا کر بھیجتا ہے پھر آسمان سے پاک پانی نازل کرتا ہے

وَهُوَ الَّذِيْٓ [ وہی ہے جس نے ] اَرْسَلَ [ بھیجا ] الرِّيٰحَ [ ہواؤں کو ] بُشْرًۢا [ خوشخبریاں ہوتے ہوئے ] بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهٖ ۚ [ اپنی رحمت کے آگے (یعنی بارش سے پہلے)] وَاَنْزَلْنَا [ اور ہم نے اتارا ] مِنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] مَاۗءً طَهُوْرًا [ کچھ انتہائی پاک پانی ]
Ayah 25:49

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

تاکہ ایک مردہ علاقے کو اس کے ذریعے زندگی بخشے اور اپنی مخلوق میں سے بہت سے جانوروں اور انسانوں کو سیراب کرے

لِّنُحْيِۦ[ تاکہ ہم زندہ کریں ] بِهٖ [ اس سے ] بَلْدَةً مَّيْتًا [ کسی مردہ شہر کو ] وَّنُسْقِيَهٗ [ اور تاکہ ہم پینے کے لئے دیں اس (پانی) کو ] مِمَّا [ ان میں سے جن کو ] خَلَقْنَآ [ ہم نے پیدا کیا ] اَنْعَامًا [ جیسے چوپائے ] وَّاَنَاسِيَّ كَثِيْرًا [ اور بہت سے انسان ]
Ayah 25:50

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اس کرشمے کو ہم بار بار ان کے سامنے لاتے ہیں تاکہ وہ کچھ سبق لیں، مگر اکثر لوگ کفر اور ناشکری کے سوا کوئی دوسرا رویہ اختیار کرنے سے انکار کر دیتے ہیں

وَلَقَدْ صَرَّفْنٰهُ [ اور بیشک ہم نے بار بار بیان کیا ہے اس (قرآن) کو ] بَيْنَهُمْ [ ان کے مابین ] لِيَذَّكَّرُوْا ڮ [ تاکہ وہ لوگ نصیحت پکڑیں ] فَاَبٰٓى [ تو قبول نہ کیا ] اَكْثَرُ النَّاسِ [ لوگوں کے اکثر نے ] اِلَّا [ اگر ] كُفُوْرًا [ ناشکری کو ]
Ayah 25:51

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اگر ہم چاہتے تو ایک ایک بستی میں ایک ایک نذیر اٹھا کھڑا کرتے

وَلَوْ شِئْنَا [ اور گار ہم چاہتے ] لَبَعَثْنَا [ تو ہم ضرور بھیجتے ] فِيْ كُلِّ قَرْيَةٍ [ ہر ایک بستی میں ] نَّذِيْرًا [ ایک خبردار کرنے والا ]
Ayah 25:52

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

پس اے نبیؐ، کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ جہاد کبیر کرو

فَلَا تُطِعِ [ تو آپ کہا مت مانیں ] الْكٰفِرِيْنَ [ کافروں کا ] وَجَاهِدْهُمْ [ اور آپ ﷺ جہاد کریں ان سے ] بِهٖ [ اس (قرآن) کے ساتھ ] جِهَادًا كَبِيْرًا [ جیسے بڑا جہاد کرنے کا حق ہے ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 52 ۔ میں جھاد کبیرا کا حکم آیا ہے۔ یہ آیت مکی ہے جبکہ کفار سے قتال کے احکام نازل نہیں ہوئے تھے ، اسی لئے یہاں جہاد کو بہ کے ساتھ مقید کیا گیا۔ بہ کی ضمیر قرآن کے لئے ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ مخالفین اسلام سے جہاد کرو، بڑا جہاد۔ اس کا حاصل قرآن کے احکام کی تبلیغ اور خلق خدا کو اس کی طرف توجہ دلانے کی ہر کوشش ہے ، خواہ زبان سے ہو یا قلم سے یا دوسرے طریقوں سے۔ اس سب کو یہاں جہاد کبیر فرمایا ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 25:53

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے ایک لذیذ و شیریں، دوسرا تلخ و شور اور دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے ایک رکاوٹ ہے جو انہیں گڈ مڈ ہونے سے روکے ہوئے ہے

وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْ [ وہی ہے جس نے ] مَرَجَ [ رواں کئے ] الْبَحْرَيْنِ [ دو سمندر ] ھٰذَا [ یہ ] عَذْبٌ [ خوشگوار ہے ] فُرَاتٌ [ نہایت شیریں ہے ] وَّھٰذَا [ اور یہ ] مِلْحٌ [ کھاری ہے ] اُجَاجٌ ۚ [ نہایت کڑوا ہے ] وَجَعَلَ [ اور اس نے بنایا ] بَيْنَهُمَا [ ان دونوں کے درمیان ] بَرْزَخًا [ ایک پردہ ] وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا [ اور ایک مضبوط رکاوٹ ] م ر ج (ن) مرجا (1) گڈمڈ کرنا۔ الجھا دینا۔ (2) مویشی کو چرنے کے لئے یا پانی کو بہنے کے لئے چھوڑنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 53 ۔ مریج پیچیدہ یا الجھا ہوا معاملہ۔ فھم فی امر مریج (پس وہ لوگ ایک الجھے ہوئے کام میں ہیں) 50/5 ۔ مارج دھواں ملا ہوا شعلہ۔ وَخَلَقَ الْجَاۗنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ (اور اس نے پیدا کیا جن کو ایک شعلہ سے آگ میں سے) 55/15 ۔ مرجان چھوٹے ہوتی۔ مونگا یہ اسم جنس ہے۔ واحد مرجانۃ۔ يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ (نکلتا ہے اس میں سے موتی اور مونگا) 55/22 ر ت (ک) فروتۃ شیریں ہونا۔ میٹھا ہونا۔ فرات نہایت شیریں۔ بہت میٹھا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 53 ۔ م ل ح (ن) ملحا پانی کا کھاری ہونا۔ ملح کھاری ۔ نمکین۔ زیر مطالعہ آیت۔ 53 ۔ ء ج ج (ن) اجوجا پانی کا کڑوا ہونا۔ اجاج نہایت کڑوا۔ تلخ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 53 ۔ نوٹ۔ 1: آیت۔ 53 ۔ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی ایک عظیم نشانی کی طرف توجہ دلائی ہے ۔ وہ ایک طرف سے شیریں پانی کے دریا کو چھوڑتا ہے۔ دوسری طرف سے کھاری پانی کے سمندر کو۔ دونوں کی موجیں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں لیکن اس کے باوجود یہ نہیں ہوتا کہ شیریں پانی کھاری بن جائے یا کھاری پانی شیریں، بلکہ دونوں اپنی مزاجی خصوصیات باقی رکھتے ہیں، اللہ کے ان کے درمیان ایک ایسی غیر مرئی دیوار کھڑی کردیتا ہے جو نہ کسی کو نظر آتی ہے اور نہ دونوں کا باہمی ٹکراؤ اس کو توڑ سکتا ہے۔ (تدبر قرآن) ۔ یہ کیفیت ہر اس جگہ رونما ہوتیہ ہے جہاں کوئی بڑا دریا سمندر میں آکر گرتا ہے۔ اس کے علاوہ خود سمندر میں بھی مختلف مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے پائے جاتے ہیں جن کا پانی سمندر کے تلخ پانی کے درمیان بھی اپنی مٹھاس پر قائم رہتا ہے۔ ترکی کے امیر البحر سیدی علی رئیس نے اپنی کتاب میں ، جو سولہویں صدری عیسوی کی تصنیف ہے ، خلیج فارس کے اندر ایسے ہی ایک مقام کی نشاندہی کی ہے جس سے وہ خود اپنے بیڑے کے لئے پینے کا پانی حاصل کرتا رہا تھا۔ موجودہ زمانے میں جب امریکن کمپنی نے سعودی عرب میں تیل نکالنے کا کام شروع کیا تو ابتداء وہ بھی خلیج فارس کے ان ہی چشموں سے پانی حاصل کرتی تھی۔ بحرین کے قریب بھی سمندر کی تہہ میں میٹھے پانی کے چشمے ہیں جن سے لوگ کچھ عرصہ پہلے پینے کا پانی حاصل کرتے رہے ہیں۔ (تفہیم القرآن) (جلت قدرتہ وھو علی ما یشاء قدیر)
Ayah 25:54

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا، پھر اس سے نسب اور سسرال کے دو الگ سلسلے چلائے تیرا رب بڑا ہی قدرت والا ہے

وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْ [ وہی ہے جس نے ] خَلَقَ [ پیدا کیا ] مِنَ الْمَاۗءِ [ پانی سے ] بَشَرًا [ بشر کو ] فَجَعَلَهٗ [ پھر اس نے بنایا اس کو ] نَسَبًا [ رشتہ دار باپ دادا سے ] وَّصِهْرًا ۭ [ اور ناطے دار سسرال سے ] وَكَانَ [ اور ہے ] رَبُّكَ [ آپ ﷺ کا رب ] قَدِيْرًا [ قدرت والا ]
Ayah 25:55

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اس خدا کو چھوڑ کر لوگ اُن کو پوج رہے ہیں جو نہ ان کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، اور اوپر سے مزید یہ کہ کافر اپنے رب کے مقابلے میں ہر باغی کا مدد گار بنا ہوا ہے

وَيَعْبُدُوْنَ [ اور وہ لوگ بندگی کرتے ہیں ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] مَا [ اس کی جو ] لَا يَنْفَعُهُمْ [ نفع نہیں دیتی ان کو ] وَلَا يَضُرُّهُمْ ۭ [ اور نہ نقصان پہنچاتی ہے ان کو ] وَكَانَ [ اور ہیں ] الْكَافِرُ [ سب کافر ] عَلٰي رَبِّهٖ [ اپنے رب (کی مخالفت) پر ] ظَهِيْرًا [ مدد کرنے والے ]
Ayah 25:56

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اے محمدؐ، تم کو تو ہم نے بس ایک مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ [ اور ہم نے نہیں بھیجا آپ ﷺ کو ] اِلَّا [ مگر ] مُبَشِّرًا [ خوشخبری دینے والا ] وَّنَذِيْرًا [ اور خبردار کرنے والا ہوتے ہوئے ]
Ayah 25:57

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

اِن سے کہہ دو کہ "میں اس کام پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا، میری اُجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کر لے"

قُلْ [ آپ ﷺ کہیے ] مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ [ میں نہیں مانگتا تم لوگوں سے ] عَلَيْهِ [ اس پر ] مِنْ اَجْرٍ [ کوئی بھی اجرت ] اِلَّا مَنْ [ سوائے اس شخص کے جو ] شَاۗءَ [ چاہے ] اَنْ [ کہ ] يَّتَّخِذَ [ وہ پکڑے ] اِلٰى رَبِّهٖ [ اپنے رب کی طرف ] سَبِيْلًا [ ایک راستہ ]
Ayah 25:58

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور اے محمدؐ، اُس خدا پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اپنے بندوں کے گناہوں سے بس اُسی کا باخبر ہونا کافی ہے

وَتَوَكَّلْ [ آپ ﷺ بھروسہ کریں ] عَلَي الْـحَيِّ الَّذِيْ [ اس حقیقی زندہ پو جو ] لَا يَمُوْتُ [ نہیں مرتا ] وَسَبِّحْ [ اور آپ ﷺ تسبیح کریں ] بِحَمْدِهٖ ۭ [ اس کی حمد کے ساتھ ] وَكَفٰى [ اور کافی ہے ] بِهٖ [ وہ ] بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ [ اپنے بندوں کے گناہوں پر ] خَبِيْرَۨا [ باخبر ہونے کے لحاظ سے ]
Ayah 25:59

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

وہ جس نے چھ دنوں میں زمین اور آسمان کو اور اُن ساری چیزوں کو بنا کر رکھ دیا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں، پھر آپ ہی (کائنات کے تخت سلطنت) "عرش" پر جلوہ فرما ہوا رحمٰن، اس کی شان بس کسی جاننے والے سے پوچھو

الَّذِيْ [ وہ جس نے ] خَلَقَ [ پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں کو ] وَالْاَرْضَ [ اور زمین کو ] وَمَا [ اور اس کو جو ] بَيْنَهُمَا [ ان دونوں کے مابین ہے ] فِيْ سِـتَّةِ اَيَّامٍ [ چھ دنوں میں ] ثُمَّ [ پھر ] اسْتَوٰي [ وہ متمکن ہوا ] عَلَي الْعَرْشِ ڔ [ عرش پر ] اَلرَّحْمٰنُ [ (وہ) رحمن ہے ] فَسْـَٔــلْ [ تو آپ ﷺ پوچھ لیں ] بِهٖ [ اس کے بارے میں ] خَبِيْرًا [ کسی باخبر سے ]
Ayah 25:60

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اِن لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ اس رحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں "رحمان کیا ہوتا ہے؟ کیا بس جسے تو کہہ دے اسی کو ہم سجدہ کرتے پھریں؟" یہ دعوت ان کی نفرت میں الٹا اور اضافہ کر دیتی ہے

وَاِذَا [ اور جب کبھی ] قِيْلَ [ کہا جاتا ہے ] لَهُمُ [ ان لوگوں سے ] اسْجُدُوْا [ تم لوگ سجدہ کرو ] لِلرَّحْمٰنِ ۚ [ رحمن کے لئے ] قَالُوْا [ تو وہ کہتے ہیں ] وَمَا [ اور کیا (شئے) ہے ] الرَّحْمٰنُ ۤ [ رحمن ] اَنَسْجُدُ [ کیا ہم سجدہ کریں ] لِمَا [ اس کے لئے کس کو ] تَاْمُرُنَا [ آپ ﷺ کہیں ہم سے ] وَزَادَهُمْ [ اور (اس بات نے) زیادہ کیا ان کو ] نُفُوْرًا [ بیزاریوں کے لحاظ سے ]
Ayah 25:61

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

بڑا متبرک ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور ایک چمکتا چاند روشن کیا

تَبٰرَكَ [ بابرکت ہوا ] الَّذِيْ [ وہ جس نے ] جَعَلَ [ مقرر کیں ] فِي السَّمَاۗءِ [ آسمان میں ] بُرُوْجًا [ منزلیں ] وَّجَعَلَ [ اور اس نے بنایا ] فِيْهَا [ اس (آسمان) میں ] سِرٰجًا [ ایک چراغ ] وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا [ اور ایک چمکنے والا چاند ] س ر ج (ن) سرجا بالوں کو گوندھ کر چوٹی بنانا۔ (افعال) اسراجا بتی اور تیل سے کسی چیز کو روشن کرنا۔ سراج وہ چیز جو روشن کی جائے۔ چراغ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 61 ۔ نوٹ۔ 1: آیات۔ 61 ۔ 62 ۔ میں پھر آفاق کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ جہاں تک نشانیوں کا تعلق ہے ، ان کی کمی نہیں ہے۔ ضرورت کسی نئی نشانی کی نہیں بلکہ نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے ارادے اور جذبے کی ہے۔ جن کے اندر یہ جذبہ اور ارادہ نہیں پایا جاتا وہ ہر قسم کی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی اندھے ہی بنے رہتے ہیں۔ (تدبر قرآن) ۔ ان ہی آیات کی تفسیر میں مفتی محمد شفیع (رح) نے ایک طویل مضمون قلمبندر کیا ہے جو معارف القرآن کی جلد ششم کے صفحات ۔ 487 تا 497 پر محیط ہے۔ اس کے مضامین اتنے مربوط اور باہم اس طرح گتھے ہوئے ہیں کہ کوشش کے باوجود میں اس کا خلاصہ نہیں نکال سکتا۔ مثلا اجرام سماوی کی حقیقت اور ہیت کیا ہے۔ علم ہیئت کے قدیم و جدید نظریات اور قرآن کریم کے ارشادات۔ کائنات کے حقائق کو قرآن میں بیان کرنے کا مقصد۔ تفسیر قرآن میں فلسفی (یعنی سائنسی) نظریات کی موافقت اور مخالفت کا صحیح معیار۔ جدید تحقیقات نے انسانیت کو کیا بۃ شا۔ وغیرہ۔ ہمارا مشورہ ہے کہ کسی لائبریری یا مسجد سے متعلقہ جلد حاصل کرکے ہر طالب علم اس مضمون کا مطالعہ ضرور کرے۔
Ayah 25:62

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے، یا شکر گزار ہونا چاہے

وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْ [ وہی ہے جس نے ] جَعَلَ [ بنایا ] الَّيْلَ [ رات کو ] وَالنَّهَارَ [ اور دن کو ] خِلْفَةً [ (ایک دوسرے کے) پیچھے پیچھے آنے والا ہوتے ہوئے ] لِّمَنْ [ اس کے لئے جو ] اَرَادَ [ ارادہ کرے ] اَنْ [ کہ ] يَّذَّكَّرَ [ وہ نصیحت حاصل کرے ] اَوْ اَرَادَ [ یا ارادہ کرے ] شُكُوْرًا [ شکر گزاری کا ]
Ayah 25:63

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

رحمان کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل ان کے منہ کو آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام

وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ [ اور رحمن کے بندے ] الَّذِيْنَ [ وہ ہیں جو ] يَمْشُوْنَ [ چلتے ہیں ] عَلَي الْاَرْضِ [ زمین پر ] هَوْنًا [ نرمی سے ] وَّاِذَا [ اور جب کبھی ] خَاطَبَهُمُ [ خطاب کرتے ہیں ان سے ] الْجٰهِلُوْنَ [ جاہل لوگ ] قَالُوْا [ تو وہ کہتے ہیں ] سَلٰمًا [ سلام ] آیت۔ 63 ۔ سے آخر تک اللہ کے پسندیدہ بندوں کی صفات کا بیان ہے۔
Ayah 25:64

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

جو اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] يَبِيْتُوْنَ [ رات بسر کرتے ہیں ] لِرَبِّهِمْ [ اپنے رب کے لئے ] سُجَّدًا [ سجدہ کرنے والے ] وَّقِيَامًا [ اور قیام کرنے والے ہوتے ہوئے ]
Ayah 25:65

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

جو دعائیں کرتے ہیں کہ "اے ہمارے رب، جہنم کے عذاب سے ہم کو بچا لے، اُس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] يَقُوْلُوْنَ [ کہتے ہیں ] رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] اصْرِفْ [ تو پھیر دے ] عَنَّا [ ہم سے ] عَذَابَ جَهَنَّمَ [ جہنم کا عذاب کو ] اِنَّ [ بیشک ] عَذَابَهَا [ اس کا عذاب ] كَانَ [ ہے ] غَرَامًا [ چمٹنے والی چیز ]
Ayah 25:66

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

وہ بڑا ہی برا مستقر اور مقام ہے"

اِنَّهَا [ بیشک ] سَاۗءَتْ [ بری ہے ] مُسْتَــقَرًّا [ قرار پکڑنے کی جگہ کے لحاظ سے ] وَّمُقَامًا [ اور ٹھہرائے جانے کی جگہ کے لحاظ سے ]
Ayah 25:67

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا Open ayah 25:67 in the Quran reader

جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] اِذَآ [ جب بھی ] اَنْفَقُوْا [ خرچ کرتے ہیں ] لَمْ يُسْرِفُوْا [ تو ضرورت سے زیادہ خرچ نہیں کرتے ] وَلَمْ يَـقْتُرُوْا [ اور خرچ میں تنگی نہیں کرتے ] وَكَانَ [ اور ہے ] بَيْنَ ذٰلِكَ [ اس کے درمیان ] قَوَامًا [ ایک اعتدال ]
Ayah 25:68

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] لَا يَدْعُوْنَ [ نہیں پکارتے ] مَعَ اللّٰهِ [ اللہ کے ساتھ ] اِلٰــهًا اٰخَرَ [ کسی دوسرے الہٰ کو ] وَلَا يَقْتُلُوْنَ [ اور قتل نہیں کرتے ] النَّفْسَ الَّتِيْ [ اس جان کو جس کو ] حَرَّمَ [ (قتل کرنا) حرام کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] اِلَّا [ مگر ] بِالْحَقِّ [ حق کے ساتھ ] وَلَا يَزْنُوْنَ ۚ [ اور وہ لوگ زنا نہیں کرتے ] وَمَنْ [ اور جو ] يَّفْعَلْ [ کرے گا ] ذٰلِكَ [ وہ ] يَلْقَ [ تو وہ ملے گا ] اَثَامًا [ گناہ کی سزا ہے ] ترکیب : آیت ۔ 68) ومن یفعل میں من شرطیہ ہے اس لئے یفعل شرط ہونے کی وجہ سء مجزوم ہے جبکہ یلق۔ یصنف اور یخلد جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہیں۔
Ayah 25:69

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

قیامت کے روز اس کو مکرّر عذاب دیا جائے گا اور اسی میں وہ ہمیشہ ذلت کے ساتھ پڑا رہے گا

يُّضٰعَفْ [ کئی گناہ کیا جائے گا ] لَهُ [ اس کے لئے ] الْعَذَابُ [ عذاب کو ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ [ قیامت کے دن ] وَيَخْلُدْ [ اور وہ ہمیشہ رہے گا ] فِيْهٖ [ اس میں ] مُهَانًا [ ذلیل کیا ہوا ہوتے ہوئے ]
Ayah 25:70

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:70 in the Quran reader

اِلّا یہ کہ کوئی (ان گناہوں کے بعد) توبہ کر چکا ہو اور ایمان لا کر عمل صالح کرنے لگا ہو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور وہ بڑا غفور رحیم ہے

اِلَّا مَنْ [ سوائے اس کے جس نے ] تَابَ [ توبہ کی ] وَاٰمَنَ [ اور ایمان لایا ] وَعَمِلَ [ اور اس نے عمل کیا ] عَمَلًا صَالِحًا [ جیسا نیک عمل کرنے کا حق ہے ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ہیں ] يُبَدِّلُ [ بدل دے گا ] اللّٰهُ [ اللہ ] سَـيِّاٰتِهِمْ [ جن کی برائیوں کو ] حَسَنٰتٍ ۭ [ بھلائیوں ہوتے ہوئے ] وَكَانَ [ اور ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] غَفُوْرًا [ بےانتہا بخشنے والا ] رَّحِيْمًا [ ہمیشہ رحم کرنے والا ] نوٹ۔ 1: یبدل اللہ سیاتھم حسنت کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ توبہ کر کے ایمان وعمل صالح کی زندگی اختیار کرلیتے ہیں ان کی نیکیاں ان کے اعمال نامے کے پچھلے گناہوں کو محو کردیتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان (برائیوں) کی جگہ پر ان کی نیکیوں کو رکھ دیتا ہے جو ان کے گناہوں کو ڈھانک لیتی ہیں ۔ (تدبر قرآن )
Ayah 25:71

وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا Open ayah 25:71 in the Quran reader

جو شخص توبہ کر کے نیک عملی اختیار کرتا ہے وہ تو اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے

وَمَنْ [ اور جس نے ] تَابَ [ توبہ کی ] وَعَمِلَ [ اور عمل کیا ] صَالِحًا [ نیک ] فَاِنَّهٗ [ تو بیشک وہ ] يَتُوْبُ [ پلٹتا ہے ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ] مَتَابًا [ جیسا پلٹنے کا حق ہے ]
Ayah 25:72

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

(اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں) جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے اور کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہو جائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] لَا يَشْهَدُوْنَ [ موقع پر موجود نہیں ہوتے ] الزُّوْرَ ۙ [ جھوٹ کے ] وَاِذَا [ اور جب کبھی ] مَرُّوْا [ وہ گزرتے ہیں ] بِاللَّغْوِ [ بےفائدہ چیز پر ] مَرُّوْا [ تو وہ گزرتے ہیں ] كِرَامًا [ معزز ہوتے ہوئے ]
Ayah 25:73

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

جنہیں اگر اُن کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] اِذَا [ (کہ) جب ] ذُكِّرُوْا [ انھیں یاد کرائی جاتی ہیں ] بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ [ ان کے رب کی آیات ] لَمْ يَخِـرُّوْا [ تو وہ نہیں گرتے ] عَلَيْهَا [ ان پر ] صُمًّا [ بہرے ہوتے ہوئے ] وَّعُمْيَانًا [ اور اندھے ہوتے ہوئے ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 73 ۔ میں ــــ ” نہیں گرتے “ کا لفظ اپنے لغوی معنی کے لئے نہیں بلکہ محاورے کے طور پر استعمال ہوا ہے ۔ جیسے ہم اردو میں کہتے ہیں ” جہاد کا حکم بیٹھے رہ گے ۔ “ اس میں بیٹھنے کا لفظ اپنے لغوی معنی میں بلکہ جہاد کے لئے حرکت نہ کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ وہ ایسے لوگ نہیں ہیں جو اللہ کی آیت سن کر ٹس سے مس نہ ہوں ، بلکہ وہ ان کا گہرا اثر قبول کرتے ہیں ۔ جو ہدایات ان آیات میں آتی ہیں اس کی پیروی کرتے ہیں ۔ جو فرض قرار دیا گیا ہو اسے بجا لاتے ہیں ۔ جس کی مزمت بیان کی گئی ہو اس سے روک جاتے ہیں ۔ اور جس عذاب سے ڈرایا گیا ہو اس سے کے تصور سے کانپ اٹھتے ہیں ۔ (تفہیم القرآن )
Ayah 25:74

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

جو دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ "اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا"

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] يَقُوْلُوْنَ [ کہتے ہیں ] رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] هَبْ [ تو عطا کر ] لَنَا [ ہم کو ] مِنْ اَزْوَاجِنَا [ ہمارے جوڑوں میں سے ] وَذُرِّيّٰتِنَا [ اور ہماری اولادوں میں سے ] قُرَّةَ اَعْيُنٍ [ آنکھوں کی ٹھنڈک ] وَّاجْعَلْنَا [ اور تو بنا ہم کو ] لِلْمُتَّقِيْنَ [ تقوی کرنے والوں کے لئے ] اِمَامًا [ پیشوا ]
Ayah 25:75

اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader

یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے صبر کا پھل منزل بلند کی شکل میں پائیں گے آداب و تسلیمات سے اُن کا استقبال ہو گا

اُولٰۗىِٕكَ [ ان لوگوں کو ] يُجْزَوْنَ [ بدلہ میں دیا جائے گا ] الْغُرْفَةَ [ بالاخانہ ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] صَبَرُوْا [ وہ ثابت قدم رہے ] وَيُلَقَّوْنَ [ اور ان کو دیا جائے گا ] فِيْهَا [ اس میں ] تَحِيَّةً [ دعا ] وَّسَلٰمًا [ اور سلام ]
Ayah 25:76

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader

وہ ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہیں گے کیا ہی اچھا ہے وہ مستقر اور وہ مقام

خٰلِدِيْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] فِيْهَا ۭ [ اس میں ] حَسُنَتْ [ (یہ) اچھی ہے ] مُسْـتَقَرًّا [ بلحاظ قرار پکڑنے کی جگہ کے ] وَّمُقَامًا [ اور بلحاظ ٹھہرائے جانے کی جگہ کے ]
Ayah 25:77

قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ Open ayah 25:77 in the Quran reader

اے محمدؐ، لوگوں سے کہو "میرے رب کو تمہاری کیا حاجت پڑی ہے اگر تم اس کو نہ پکارو اب کہ تم نے جھٹلا دیا ہے، عنقریب وہ سزا پاؤ گے کہ جان چھڑانی محال ہو گی"

قُلْ [ آپ ﷺ کہیے ] مَا يَعْبَؤُا [ پرواہ نہیں کرتا ] بِكُمْ [ تمہاری ] رَبِّيْ [ میرا رب ] لَوْلَا [ اگر نہ ہوتا ] دُعَاۗؤُكُمْ ۚ [ تم کو دعوت دیا جانا ] فَقَدْ كَذَّبْتُمْ [ پس تم لوگ جھٹلا چکے ] فَسَوْفَ [ تو عنقریب ] يَكُوْنُ [ ہوگا ] لِزَامًا [ چمٹ جانا (عذاب کا)] ع ب ء (ف) عبا کسی چیز کو وزن دینا۔ کسی کی پرواہ کرنا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 77 (آیت۔ 77) ۔ دعاء مصدر ہے اور مصدر معروف اور مجہول دونوں معنی دیتا ہے۔ یہاں دونوں معنی لینے کی گنجائش ہے۔ ہم مجہول معنی کو ترجیح دی گے کیونکہ فقد کذبتم سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ مورخہ 11 /جمادی الثانی 1428 ھ بمطا بق 2/ جون 2007 ء