Ayah 24:1[ سُوْرَةٌ: (یہ) ایک ایسی سورت ہے ] [ اَنْزَلْنٰهَا : ہم نے اتارہ جس کو ] [ وَفَرَضْنٰهَا : اور ہم نے فرض کیا جس کو ] [ وَاَنْزَلْنَا : اور ہم نے اتارا ] [ فِيْهَآ : جس میں ] [ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ : واضح آیات ] [ لَّعَلَّكُمْ : شاید کہ تم لوگ ][ تَذَكَّرُوْنَ : (1) نصیحت حاصل کرو ]
نوٹ ۔ 1: زیر مطالعہ آیت ۔ 2 ۔ کا حوالہ اس سے پہلے سورة النساء کی آیت 15 ۔ کے نوٹ۔ 2 میں آچکا ہے اور وہیں پر رجم کی سزا کی بات بھی ہوچکی ہے۔ اب اس ضمن میں وہ ضروری باتیں ذہن نشین کرلیں۔ اولاً یہ کہ ” اسلامی قانون حکومت کے سوا کسی کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ زنی اور زانیہ کے خلاف کاروائی کرے۔ اور عدالت کے سوا کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اس پر سزا دے۔ اس امر پر تمام امت کے فقہاء کا اتفاق ہے “۔ (تفہیم القرآن) ثانیاً : یہ کہ جو لوگ ہاتھ کاٹنے اور کوڑے مارنے کی سزا کو وحشیانہ سمجھتے ہیں وہ لوگ کم از کم دنیا کے تجربات ہی سے کچھ سبق حاصل کریں۔ اسی روئے زمین پر نجد و حجاز اور یمن کی حکومتیں بھی ہیں ۔ ان میں اسلامی حدود و تعزیرات نافذ ہیں۔ اس زمانے میں آسانی سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ان کے ہاں چوری ، رہزنی، ڈکیتی اور زنا کے کتنے واقعات ہوئے اور کتنے چوروں کے ہاتھ کاٹے گئے اور کتنے زانیوں کو کوڑے لگائے گئے۔ وہاں نہ جرائم کا وجود ہے نہ مجرموں کا۔ وہاں نہ تو یہ جرائم ہوتے ہیں اور نہ ہاتھ کاٹنے اور کوڑے مارنے کی نوبت آتی ہے۔ اگر کبھی کبھار اکا دکا کوئی واقعہ پیش آجاتا ہے تو مجرم کو اس کی جو سزا ملتی ہے وہ عوام کی سبق آموزی کے لئے کافی ہوتی ہے (تدبر قرآن سے ماخوذ) اور جن ممالک میں ایسے مجرموں کو ” مہذب “ سزائیں دی جاتی ہیں وہاں پر ایسے جرائم کا ریکارڈ دیکھ لیں۔
Ayah 24:2[ اَلزَّانِيَةُ : زنا کرنے والی ] [ وَالزَّانِيْ : اور زنا کرنے والا ] [ فَاجْلِدُوْا : پس تم لوگ کھال پر مارو ][ كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا : ان دونوں کے ہر ایک کو ][ مِائَةَ جَلْدَةٍ ۠ : ایک سو کوڑے ][ وَّلَا تَاْخُذْكُمْ : اور نہ پکڑے تم لوگوں کو ][ بِهِمَا : ان دونوں کے بارے میں ] [ رَاْفَةٌ: کوئی نرم دلی ] [ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ : اللہ کے ضابطہ حیات میں ] [ اِنْ كُنْتُمْ : اگر تم لوگ ][ تُؤْمِنُوْنَ : ایمان رکھتے ہو ][ بِاللّٰهِ : اللہ پر ][ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۚ : اور آخری دن پر ][ وَلْيَشْهَدْ : اور چاہیے کہ معائنہ کرے ][ عَذَابَهُمَا : ان دونوں کے عذاب کا ][ طَاۗىِٕفَةٌ: ایک گروہ ][ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ : (2) مومنوں میں سے ]
نوٹ ۔ 2: میرے محدود مطالعہ کی حد تک زیر مطالعہ آیت۔ 3 کے تین طرح سے ترجمے کئے گئے ہیں اور تینوں ترجمے درست ہیں۔ ایک یہ ہے کہ لاینکح سادہ مضارع ہے اور اس کا ترجمہ ہے ” نکاح نہیں کرتا “ دوسرا یہ ہے کہ عربی میں فعل مضارع کبھی فعل نہی کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس سے ملتا جلتا اسلوب اردو میں بھی ہے۔ کبھی ہم بچے سے کہتے ہیں ” اب کروگے “۔ بظاہر یہ جملہ استفہامیہ ہے لیکن اس میں اصل مفہوم فعل نہی کا ہے کہ اب مت کرنا۔ اس لحاظ سے لاینکح کا دوسرا ترجمہ ہے ” نکاح نہ کرے “۔ ان دونوں ترجموں کی صورت میں وحرم ذلک میں ذلک کا اشارہ نکاح کرنے کی طرف ہے یعنی کسی زانی یا مشرک مرد یا عورت کا نکاح کسی مسلمان مرد یا عورت سے حرام کیا گیا۔ اس ضمن میں ” امام احمد (رح) کا فرمان ہے کہ نیک اور پاک دامن مسلمان کا نکاح بدکار عورت سے صحیح نہیں ہوتا جب تک وہ توبہ نہ کرلے۔ ہاں بعد از توبہ نکاح درست ہے۔ اسی طرح سے بھولی بھالی پاک دامن عفیفہ عورتوں کا نکاح زانی اور بدکار لوگوں سے منعقد ہی نہیں ہوتا جب تک کہ وہ سچے دل سے اپنے اس ناپاک فعل سے توبہ نہ کرلیں “۔ (منقول از ابن کثیر (رح))
مادہ ” ن ک ح “ کی وضاحت میں امام راغب اصفہانی (رح) نے مفردات القرآن میں لکھا ہے ” اصل میں نکاح بمعنی عقد آتا ہے اور بطور استعارہ جماع کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے “۔ اس لحاظ سے لاینکح کا تیسرا ترجمہ ہے ” جماع نہیں کرتا “۔ اس ترجمہ کی صورت میں وحرم ذلک میں ذلک کا اشارہ عقد کے بغیر جماع کرنے یعنی زنا کرنے کی طرف ہے ” حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ مراد اس آیت سے یہ ہے کہ زنا مسلمانوں پر حرام ہے “۔ (ابن کثیر (رح))
Ayah 24:3[ اَلزَّانِيْ : زنا کرنے والا ][ لَا يَنْكِحُ : جماع نہیں کرتا ][ اِلَّا : مگر ][ زَانِيَةً : کسی زنا کرنے والی سے ][ اَوْ مُشْرِكَةً ۡ : یا کسی شرک کرنے والی سے ][ وَّالزَّانِيَةُ : اور زنا کرنے والی ][ لَا يَنْكِحُهَآ : جماع نہیں کرتا اس سے ][ اِلَّا : مگر ][ زَانٍ : کوئی زنا کرنے والا ] اَوْ مُشْرِكٌ ۚ: یا کوئی شرک کرنے والا ][ وَحُرِّمَ : اور حرام کیا گیا ][ ذٰلِكَ : یہ ][ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ : (3) [ مومنوں پر ]
نوٹ۔ 3: زیر مطالعہ آیت ۔ 4 ۔ 5 ۔ میں تہمت لگانے کی سزا کا ذکر ہے۔ اس حکم کا مقصد یہ ہے کہ معاشرے میں لوگوں کے ناجائز تعلقات کے چرچے بند کر دئیے جائیں کیونکہ اس سے معاشرے میں بیشمار برائیاں پھیلتی ہیں۔ شریعت ایک طرف حکم دیتی ہے کہ اگر کوئی زنا کرے اور شہادتوں سے اس کا جرم ثابت ہوجائے تو اس کو وہ انتہائی سزا دو جو کسی اور جرم پر نہیں دی جاتی ۔ اور دوسری طرف وہ فیصلہ کرتی ہے کہ جو شخص کسی پر زنا کا الزام لگائے وہ یا تو شہادتوں سے الزام ثابت کرے ورنہ اس پر اسی کوڑے برسا دو تاکہ آئندہ کبھی وہ اپنی زبان سے ایسی بات بلا ثبوت نکالنے کی جرأت نہ کرے۔ بالفرض اگر الزام لگانے والے نے کسی کو اپنی آنکھوں سے بدکاری کرتے دیکھ لیا ہو تب بھی اسے خاموش رہنا چاہیے اور دوسروں تک اسے نہ پہنچانا چاہیے۔ البتہ اگر اس کے پاس گواہ موجود ہیں تو معاشرے میں بیہودہ چرچے کرنے کے بجائے معاملہ حکام کے پاس لے جائے اور عدالت میں جرم ثابت کرکے اسے سزا دلوائے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 24:4[ وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ جو ][ يَرْمُوْنَ : تہمت لگاتے ہیں ][ الْمُحْصَنٰتِ : پاکدامن عورتوں پر ][ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا : پھر وہ لوگ نہیں لاتے ][ بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاۗءَ : چارا گواہ ][ فَاجْلِدُوْهُمْ : تو تم لوگ کھال پر مارو ان کو ][ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً : اسی (80) کوڑے ][ وَّلَا تَــقْبَلُوْا : اور تم لوگ قبول مت کرو ][ لَهُمْ : ان کو ][ شَهَادَةً : کوئی گواہی ][ اَبَدًا ۚ: کبھی کبھی ][ وَاُولٰۗىِٕكَ : اور یہ لوگ ][ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ : (4) [ ہی نافرمانی کرنے والے ]
نوٹ۔ 1: گرشتہ آیت ۔ 4 ۔ میں زنا کا الزام لگانے کا قانون بیان ہوا تھا جس کی رو سے ضروری ہے کہ الزام لگانے والا چار عینی گواہ پیش کرے اور جو یہ نہ کرسکے تو اس پر تہمت کی حد جاری کی جائے گی۔ عام آدمی کے لئے تو یہ ممکن ہے کہ جب چار گواہ میسر نہ ہوں تو وہ خاموش رہے لیکن شوہر کے لئے یہ معاملہ سنگین ہے۔ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور گواہ موجود نہیں ہیں۔ اب اگر وہ بولے تو تہمت زنا کی سزا پائے اور نہ بولے تو اس کی زندگی وبال ہوجائے ۔ اس لئے شوہر کے معاملہ کو عام قانون سے لاگ کرکے اس کا مستقل قانون بنادیا گیا جو زیر مطالعہ آیات میں بیان ہوا ہے۔ اس کو لعان (ایک دوسرے پر لعنت کرنا) کہتے ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ لعان صرف میاں بیوی کے معاملہ میں ہوسکتا ہے۔ دوسروں کا حکم وہی ہے جو آیت ۔ 4 ۔ میں گزر چکا ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 24:5[ اِلَّا الَّذِيْنَ : سوائے ان کے جنہوں نے ][ تَابُوْا : توبہ کی ][ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ : اس کے بعد ][ وَاَصْلَحُوْا ۚ: اور اصلاح کی (اپنی)][ فَاِنَّ اللّٰهَ : تو بیشک اللہ ][ غَفُوْرٌ: بےانتہا بخشنے والا ][ رَّحِيْمٌ : (5) [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔]
Ayah 24:6[ وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ جو ] [ يَرْمُوْنَ : الزام دیتے ہیں ][ اَزْوَاجَهُمْ : اپنی بیویوں کو ][ وَ : اس حال میں کہ ][ لَمْ يَكُنْ : نہیں کرتے ][ لَّهُمْ : ان کے لئے ][ شُهَدَاۗءُ : کچھ گواہ ][ اِلَّآ : سوائے ] [ اَنْفُسُهُمْ : ان کی جانوں کے ][ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ : تو اں کے ایک کی گواہی ][ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۢ: چار گواہیاں ہیں ][ بِاللّٰهِ ۙ : اللہ کی قسم سے ][ اِنَّهٗ : (کہ) بیشک وہ ][ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ : (6) یقینا سچ کہنے والوں میں سے ہے ]
Ayah 24:7وَالْخَامِسَةُ [ اور پانچویں بار ] اَنَّ [ یہ کہ ] لَعْنَتَ اللّٰهِ [ اللہ کی لعنت ہو ] عَلَيْهِ [ اس پر ] اِنْ [ اگر ] كَانَ [ وہ ہو ] مِنَ الْكٰذِبِيْنَ [ جھوٹ کہنے والوں میں سے ]
Ayah 24:8وَيَدْرَؤُا [ اور ہٹا دے گا ] عَنْهَا [ اس عورت سے ] الْعَذَابَ [ سزا کو ] اَنْ [ (یہ) کہ ] تَشْهَدَ [ وہ عورت گواہی دے ] اَرْبَعَ شَهٰدٰتٍۢ [ چار گواہیاں ] بِاللّٰهِ ۙ [ اللہ کی قسم ] اِنَّهٗ [ (کہ) بیشک وہ ] لَمِنَ الْكٰذِبِيْنَ [ یقینا جھوٹ کہنے والوں میں سے ہے ]
Ayah 24:9وَالْخَامِسَةَ [ اور پانچویں بار ] اَنَّ [ یہ کہ ] غَضَبَ اللّٰهِ [ اللہ کا غضب ہو ] عَلَيْهَآ [ اس پر ] اِنْ [ اگر ] كَانَ [ وہ ہو ] مِنَ الصّٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والوں میں سے ]
خ م س :
) ن ۔ ض) خمسا کسی چیز کا پانچواں حصہ لینا۔
خمسۃ اسم عدد ہے مذکر کے لئے۔ مؤنث کے لئے خمس۔ پانچ۔ وَيَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ (اور کہیں گے وہ پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا ہے) 18/22 ۔
خمسون پچاس۔ فَلَبِثَ فِيْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِيْنَ عَامًا ۭ (تو وہ رہے ان میں ہزار برس مگر پچاس سال) 29/14
خمس کسی چیز کا پانچواں حصہ۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ (اور جان لو کہ جو تم لوگوں نے مال غنیمت حاصل کیا کسی چیز سے تو اللہ کے لئے ہے اس کا پانچواں حصہ) 8/41 ۔
خامس ترتیب میں پانچواں۔ زیر مطالعہ آیت۔
ترکیب :
(آیت ۔ 6) فشھادۃ احدھم یہ پورا فقرہ مبتدا ہے اور اربع شھدت اس کی خبر ہے اس لئے اربع حالت رفع میں آیا ہے۔ جبکہ اس کی تمیز ہونے کی وجہ سے شھدت حالت نصب میں ہے۔ (آیت ۔ 7) گزشتہ آیت میں اربع پر عطف ہونے کی وجہ سے والخامسۃ حالت رفع میں ہے۔ (آیت۔ 8) یدروا کا مفعول العذاب ہے۔ جبکہ ان تشھد اربع شھدت یہ پورا جملہ اس کا فاعل ہے۔ تشھد کا مفعول ہونے کی وجہ سے اربع حالت نصب میں ہے اور اگلی آیت میں اس پر عطف ہونے کی وجہ سے ولخامسۃ حالت نصب میں ہے۔
Ayah 24:10وَلَوْلَا [ اور اگر نہ ہوتا ] فَضْلُ اللّٰهِ [ اللہ کا فضل ] عَلَيْكُمْ [ تو لوگوں پر ] وَرَحْمَتُهٗ [ اور اس کی رحمت (تو یہ رہنمائی نہ ملتی)] وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] تَوَّابٌ [ باربار توبہ قبول کرنے والا ہے [ حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ]
Ayah 24:11اِنَّ الَّذِيْنَ [ بیشک جو لوگ ] جَاۗءُوْ [ آئے ] بِالْاِفْكِ [ اس بہتان کے ساتھ ] عُصْبَةٌ [ وہ ایک گروہ ہے ] مِّنْكُمْ ۭ [ تم لوگوں میں سے ] لَا تَحْسَبُوْهُ [ تم لوگ مت سمجھو اس (بہتان) کو شَرًّا [ کوئی شر ] لَّكُمْ ۭ [ اپنے لئے ] بَلْ هُوَ [ بلکہ وہ ] خَيْرٌ [ خیر ہے ] لَّكُمْ ۭ [ تم لوگوں کے لئے ] لِكُلِّ امْرِۍ [ ہر ایک شخص کے لئے ہے ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] مَّا [ وہ جو ] اكْتَسَبَ [ اس نے کمایا ] مِنَ الْاِثْمِ ۚ [ اس گناہ میں سے ] وَالَّذِيْ [ اور وہ جس نے ] تَوَلّٰى [ اپنایا ] كِبْرَهٗ [ اس کے بڑے (حصہ) کو ] مِنْهُمْ [ ان میں سے ] لَهٗ [ اس کے لئے ] عَذَابٌ عَظِيْمٌ [ ایک عظیم عذاب ہے ]
Ayah 24:12لَوْلَآ [ کیوں نہیں ] اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ [ جب تم لوگوں نے سنا اس (بہتان) کو ] ظَنَّ [ تو خیال کیا ] الْمُؤْمِنُوْنَ [ مومنوں نے ] وَالْمُؤْمِنٰتُ [ اور مومنات نے ] بِاَنْفُسِهِمْ [ اپنی جانوں (یعنی اپنے لوگوں) پر ] خَيْرًا ۙ [ بھلائی کا ] وَّقَالُوْا [ اور (کیوں نہیں) کہا ] ھٰذَآ [ یہ ] اِفْكٌ مُّبِيْنٌ [ ایک کھلا بہتان ہے ]
نوٹ ۔ 1: واقعہ افک کی نوعیت یہ ہے کہ غزوۂ بنی مصطلق ہے واپسی میں فوج نے شب میں کہیں پڑاؤ ڈالا۔ فوج کے کوچ سے پہلے بی بی عائشہ ؓ ضرورت سے باہر نکلیں۔ اتنے میں کوچ کا حکم ہوگیا اور قافلہ روانہ ہوگیا۔ بی بی عائشہ ؓ کا ساربان بھی یہ سمجھ کر روانہ ہوگیا کہ وہ اپنے ہو وج میں سوار ہیں۔ آپ ؓ جب واپس آئیں تو دیکھا کہ قافلہ روانہ ہوگیا تھا۔ ان کو اس کے سوا کوئی اور تدبیر نظر نہیں آئی کہ وہیں ٹھہر جائیں تآنکہ اللہ تعالیٰ کوئی راہ پیدا کرے۔ حضرت صفوان رضی تعالیٰ عنہ اس خدمت پر مامور تھے کہ وہ قافلہ کے پیچھے چلیں تاکہ بھولی بسری چیزوں کا جائزہ لے سکیں۔ صبح کو جب وہ پڑاؤ کی جگہ پر پہنچے اور دیکھا کہ بی بی عائشہ ؓ پیچھے رہ گئی ہیں تو انھوں نے اپنا اونٹ بٹھایا۔ بی بی عائشہ ؓ اس پر سوار ہوگئیں اور انھوں نے مہار پکڑ کر اونٹ کو قافلہ سے جا ملایا۔ فوج کے کوچ و مقام کے دوران اس قسم کے واقعہ کا پیش آجانا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے لیکن منافقین نے اس ذرا سی بات کو ایک افسانہ بنا ڈالا۔
اس واقعہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہ تمہارے حق میں برا نہیں ہوا بلکہ اس میں تمہارے لئے خیر کے پہلو ہیں۔ اس واقعہ نے معاشرہ کی اصلاح و تنظیم سے متعلق بہت سے احکام و ہدایات کے نزول کے لئے ایک سازگار فضا پیدا کردی کہ اگر اس فضا کے پیدا ہوئے بغیر یہ احکام اترتے تو بہت سے لوگوں پر ان کی حقیقی قدروقیمت واضح نہ ہو پاتی۔ (تدبر قرآن) ۔
نوٹ۔ 2: آیت ۔ 12 میں اسلامی معاشرہ کا ایک اخلاقی اصول دیا گیا کہ ہر مسلمان مردو عورت کا یہ حق ہے کہ دوسرے افراد معاشرہ ان کے بارے میں حسن ظن رکھیں۔ اور اس وقت تک ان کے اس حق کا احترام کریں جب تک یہ ثابت نہ ہوجائے کہ وہ اس حسن ظن کے حق دار باقی نہیں رہے۔ اس حق کا لازمی تقاضہ یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کے بارے میں کان میں کوئی ایسی بات پڑے جو اس حسن ظن کو مجروح کرنے والی ہو تو وہ اس کو فورا قبول نہ کرے اور نہ آگے بیان کرے بلکہ اس کو رد کردے اور اس وقت تک اس پر یقین نہ کرے جب تک اس کے سامنے اس کا کوئی معقول ثبوت نہ آجائے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 24:13لَوْلَا [ کیوں نہیں ] جَاۗءُوْ [ وہ لوگ آئے ] عَلَيْهِ [ اس پر ] بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاۗءَ ۚ [ چار گواہوں کے ساتھ ] فَاِذْ [ پھر جب ] لَمْ يَاْتُوْا [ وہ لوگ نہیں آئے ] بِالشُّهَدَاۗءِ [ گواہوں کے ساتھ ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ہیں کہ ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے نزدیک ] هُمُ الْكٰذِبُوْنَ [ وہی جھوٹے ہیں ]
Ayah 24:14وَلَوْلَا [ اور اگر نہ ہوتا ] فَضْلُ اللّٰهِ [ اللہ کا فضل ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] وَرَحْمَتُهٗ [ اللہ کے نزدیک ] فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ [ دنیا اور آخرت میں ] لَمَسَّكُمْ [ تو ضرور چھوتا تم لوگوں کو ] فِيْ مَآ [ اس میں ] اَفَضْتُمْ [ تم لوگوں نے چرچا کیا ] فِيْهِ [ جس میں ] عَذَابٌ عَظِيْمٌ [ ایک عظیم عذاب ]
Ayah 24:15اِذْ [ جب ] تَلَقَّوْنَهٗ [ تم لوگ لیتے تھے اس کو ] بِاَلْسِنَتِكُمْ [ اپنی زبانوں پر ] وَتَــقُوْلُوْنَ [ اور کہتے تھے ] بِاَفْوَاهِكُمْ [ اپنے مونہوں سے ] مَّا [ وہ ] لَيْسَ [ نہیں تھا ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] بِهٖ [ جس کے بارے میں ] عِلْمٌ [ کوئی علم ] وَّتَحْسَبُوْنَهٗ [ اور تم لوگ سمجھتے تھے اس کو ] هَيِّنًا ڰ [ ہلکا ] وَّهُوَ [ حالانکہ وہ ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے نزدیک ] عَظِيْمٌ [ ایک بڑی (بات) تھی ]
Ayah 24:16وَلَوْلَآ[ اور کیوں نہیں ] اِذْ [ جب ] سَمِعْتُمُوْهُ [ تم لوگوں نے سنا اس کو ] قُلْتُمْ [ تو کہا ] مَّا يَكُوْنُ [ نہیں ہوگا ] لَنَآ [ ہمارے لئے (مناسب)] اَنْ [ کہ ] نَّتَكَلَّمَ [ ہم کلام کریں ] بِھٰذَا ڰ [ اس کے بارے میں ] سُبْحٰنَكَ [ پاکیزگی تیری ہے ] ھٰذَا [ یہ (تو)] بُهْتَانٌ عَظِيْمٌ [ ایک عظیم بہتان ہے ]
Ayah 24:17يَعِظُكُمُ [ نصیحت کرتا ہے تم لوگوں کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَنْ [ کہ (انہیں)] تَعُوْدُوْا [ تم لوگ پھر کرو ] لِمِثْلِهٖٓ [ اس کے جیسا (کام)] اَبَدًا [ کبھی بھی ] اِنْ كُنْتُمْ [ اگر تم لوگ ہو ] مُّؤْمِنِيْنَ [ مومن ]
Ayah 24:18وَيُبَيِّنُ [ اور واضح کرتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] لَكُمُ [ تم لوگوں کے لئے ] الْاٰيٰتِ ۭ [ ان آیات کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ]
Ayah 24:19اِنَّ الَّذِيْنَ [ بیشک جو لوگ ] يُحِبُّوْنَ [ پسند کرتے ہیں ] اَنْ [ کہ ] تَشِيْعَ [ پھیلے ] الْفَاحِشَةُ [ فحاشی ] فِي الَّذِيْنَ [ ان لوگوں میں جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] لَهُمْ [ ان کے لئے ہے ] عَذَابٌ اَلِيْمٌ ۙ [ ایک دردناک عذاب ] فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۭ [ دنیا اور آخرت میں ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يَعْلَمُ [ جانتا ہے ] وَاَنْتُمْ [ اور تم لوگ ] لَا تَعْلَمُوْنَ [ نہیں جانتے ]
Ayah 24:20وَلَوْلَا [ اور اگر نہ ہوتا ] فَضْلُ اللّٰهِ [ اللہ کا فضل ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] وَرَحْمَتُهٗ [ اور اس کی رحمت ] وَاَنَّ اللّٰهَ (اور یہ کہ اللہ) رَءُوْفٌ [ بےانتہا نرمی کرنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
نوٹ۔ 1: اعلی اخلاقی اقدار کے رواج کی وجہ سے مدینہ میں اخوت و محبت پر مبنی جو مسلم معاشرہ پروان چڑھ رہا تھا وہ مخالفین اسلام خصوصا منافقین کو سخت ناگوار تھا۔ ان کی یہ خواہش تھی مسلمان بھی انہی اخلاقی پستیوں کے مکین رہیں جن میں وہ خود مبتلا تھے تاکہ ان کی اخلاقی گراوٹ نمایاں نہ ہو۔ واقعہ افک ان کی اسی دبی ہوئی خواہش کا ایک حقیر سا مظہر یعنی Tip of the lceberg تھا۔ اللہ تعالیٰ اس حقیقت کو جانتا تھا جبکہ عام مسلمان اس سے بیخبر تھے۔ آیت ۔ 19 ۔ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کیا تاکہ اس سورة میں دئیے جانے والے احکام کی گہرائی اور گیرائی مسلمانوں کے ذہنوں میں پوری طرح واضح ہوجائے۔
آج کے دور میں ایک عالمی تہذیب (Globalization) رائج کرنے کا جو طوفان برپا ہے وہ مخالفین اسلام کی اس خواہش کا مظہر ہے کہ وہ مسلم معاشروں میں اسی فحاشی اور اخلاقی پستیوں کو رواج دینا چاہتے ہیں جنہیں وہ اپنی ” اعلیٰ تہذیب “ کا طرۂ امتیاز سمجھتے ہیں۔ فحاشی اور بےحیائی کے اس سیلاب کے آگے بند باندھنے کی کوششیں فی الحال ہر جگہ ناکام ہوتی نظر آرہی ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مسلمانوں کی یہ جدوجہد بےسود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ وہ کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کرتا۔ (آل عمران۔ 195) ۔ ہمیں یقین ہے کہ ہماری اس بظاہر ناکام جدوجہد کا نتیجہ ایک دن ضرور نکلے گا۔ اگر ہماری زندگی میں نہیں تو ہمارے بعد نکلے گا مگر ان شاء اللہ نکلے گا ضرور۔
ہمیں خبر ہے ہم ہیں چراغ آخر شب
ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے (ظہیر کا شمیری)
Ayah 24:21يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ [ اے لوگو جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] لَا تَتَّبِعُوْا [ تم لوگ پیروی مت کرو ] خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۭ [ شیطان کے نقوش قدم کی ] وَمَنْ [ اور جو ] يَّتَّبِعْ [ پیروی کرے گا ] خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ [ شیطان کے نقوش قدم کی ] فَاِنَّهٗ [ تو بیشک وہ (تو)] يَاْمُرُ [ ترغیب دیتا ہے ] بِالْفَحْشَاۗءِ [ فحاشی کی ] وَالْمُنْكَرِ ۭ [ اور برائی کی ] وَلَوْلَا [ اور اگر نہ ہوتا ] فَضْلُ اللّٰهِ [ اللہ کا فضل ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] وَرَحْمَتُهٗ [ اور اس کی رحمت ] مَا زَكٰي [ تو پاک نہ ہوتا ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ] مِّنْ اَحَدٍ [ کوئی ایک بھی ] اَبَدًا ۙ [ کبھی بھی ] وَّلٰكِنَّ [ اور لیکن ] اللّٰهَ [ اللہ ] يُزَكِّيْ [ پاک کرتا ہے ] مَنْ [ اس کو جس کو ] يَّشَاۗءُ ۭ [ وہ چاہتا ہے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] سَمِيْعٌ [ سننے والا ہے ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ]
Ayah 24:22وَلَا يَاْتَلِ [ اور قسم نہ کھائیں ] اُولُوا الْفَضْلِ [ فضل والے ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ] وَالسَّعَةِ [ اور وسعت والے ] اَنْ [ کہ ] يُّؤْتُوْٓا [ وہ (نہ) دیں ] اُولِي الْقُرْبٰى [ قرابی والوں کو ] وَالْمَسٰكِيْنَ [ اور مسکینوں کو ] وَالْمُهٰجِرِيْنَ [ اور مہاجروں کو ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ډ [ اللہ کی راہ میں ] وَلْيَعْفُوْا [ اور چاہیے کہ وہ معاف کردیں ] وَلْيَصْفَحُوْا ۭ [ اور چاہیے کہ وہ درگزر کریں ] اَلَا تُحِبُّوْنَ [ کیا تم لوگو پسند نہیں کرتے ] اَنْ [ کہ ] يَّغْفِرَ [ بخش دے ] اللّٰهُ [ اللہ ] لَكُمْ ۭ [ تم لوگوں کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] غَفُوْرٌ [ بےانتہاء بخشنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
نوٹ۔ 1: جو لوگ دوسروں کے عزت و ناموس کے معاملہ میں ہر قسم کی باتیں بےپروائی سے قبول کرلیتے ہیں اور ان سے بدگمانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ان کا یہ رویہ غمازی کرتا ہے کہ وہ اپنے باپ میں ضرورت سے زیادہ حسن ظن رکھتے ہیں اور ایک قسم کے ادعائے تزکیہ میں مبتلا ہیں خواہ ان کو اپنے اس باطن کا شعور ہو یا نہ ہو۔ اسی مخفی چور سے آیت ۔ 20 ۔ میں ان لوگوں کو آگاہ کیا کہ وہ شخص یاد رکھے کہ جن کو بھی کوئی پاکی و پاکیزگی حاصل ہوتی ہے تو وہ محض اللہ کے فضل سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر اس کی توثیق شامل حال نہ ہو تو کوئی پاک نہیں ہوسکتا۔ تو کسی کو اپنے تقویٰ و تزکیہ کا اتنا غرہ نہ ہونا چاہیے کہ وہ دوسروں کے معاملہ میں ہر قسم کی باتیں بےتحقیق قبول کرلے۔ (تدبر قرآن)
نوٹ۔ 2: بی بی عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے میری برأت نازل فرما دی تو حضرت ابوبکر ؓ نے قسم کھالی کہ وہ آئندہ مسطح ؓ کی مدد نہیں کریں گے۔ کیونکہ انھوں نے نہ رشتہ داری کا لحاظ کیا اور نہ ان احسانات کی ہی کچھ شرم کی جو وہ ساری عمر ان پر اور ان کے خاندان پر کرتے رہے۔ جب آیت۔ 21 ۔ نازل ہوئی تو ابوبکر ؓ نے فورا کہا کہ واللہ ہم ضرور چاہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو ہمای خطائیں معاف فرمائے۔ چناچہ انھوں نے پھر مسطح ؓ کی مدد شروع کردی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی رایت ہے کہ یہ قسم کچھ اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے کھالی تھی کہ جب لوگوں نے اس بہتان میں حصہ لیا ہے ان کی وہ کوئی مدد نہ کریں گے۔ اس آیت کے نزول کے بعد سب نے اس عہد سے رجوع کرلیا۔ اس طرح وہ تلخی آنا فانا دور ہوگئی جو اس فتنہ نے معاشرے میں پھیلا دی تھی ۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 24:23اِنَّ الَّذِيْنَ [ بیشک جو لوگ ] يَرْمُوْنَ [ الزام دیتے ہیں ] الْمُحْصَنٰتِ [ پاکدامن ] الْغٰفِلٰتِ [ بیخبر (بھولی بھالی)] الْمُؤْمِنٰتِ [ مومن خواتین کو ] لُعِنُوْا [ ان پر لعنت کی گئی ] فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۠ [ دنیا اور آخرت میں ] وَلَهُمْ [ اور ان کے لئے ہے ] عَذَابٌ عَظِيْمٌ [ ایک عظیم عذاب ]
نوٹ۔ 1: بہتان طرازی اور الزم تراشی کرنے والے مجرم قیامت کے دن نہ تو خود کوئی عذر پیش کرسکیں گے اور نہ ان کے جرم کو ثابت کرنے کے لئے کسی خارجی شہادت کی ضرورت ہوگی۔ اس دن ان کی زبانیں اور ہاتھ پاؤں خود ان کے خلاف گواہی دیں گے کہ انھوں نے کیا کیا تہمتیں تراشیں اور کیسے کیسے فساد برپا کئے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کا واجبی بدلہ پورا پورا چکا دے گا اور ان کے ساتھ نہ کوئی رعایت ہوگی نہ کوئی زیادتی۔ اس دنیا میں تو حالات پر بہت کچھ پردہ پڑا ہوا ہے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام حقائق کو آشکارا کرنے والا ہے۔ اسی طرح اس دنیا میں اچھے برے لوگ باہم جوڑ دیئے جائیں گے اور پاکیزہ مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کی رفاقت نصیب ہوگی۔ اور اس دن یہ لوگ ان خرافات اور بکواسوں سے بری کر دئیے جائیں گے جو اس دنیا میں ان کے خلاف کی جاتی ہیں۔ (تدبر قرآن)
Ayah 24:24يَّوْمَ [ جس دن ] تَشْهَدُ [ گواہی دیں گے ] عَلَيْهِمْ [ ان کے خلاف ] اَلْسِنَتُهُمْ [ ان کی زبانیں ] وَاَيْدِيْهِمْ [ اور ان کے ہاتھ ] وَاَرْجُلُهُمْ [ اور ان کے پیر ] بِمَا [ اس کی جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ وہ لوگ کیا کرتے تھے ]
Ayah 24:25يَوْمَىِٕذٍ [ اس دن ] يُّوَفِّيْهِمُ [ پورا پورا دے گا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] دِيْنَهُمُ الْحَقَّ [ ان کا برحق بدلہ ][ وَيَعْلَمُوْنَ : اور وہ لوگ جان لیں گے ] اَنَّ اللّٰهَ : کہ اللہ ][ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِيْنُ : ہی واضح حق ہے ][
Ayah 24:26اَلْخَبِيْثٰتُ [ گندی عورتیں ] لِلْخَبِيْثِيْنَ [ گندے مردوں کے لئے ہیں ] وَالْخَبِيْثُوْنَ [ اور گندے مرد ] لِلْخَبِيْثٰتِ ۚ [ گندی عورتوں کے لئے ہے ] وَالطَّيِّبٰتُ [ اور پاک عورتیں ] لِلطَّيِّبِيْنَ [ پاکیزہ مردوں کے لئے ہیں ] وَالطَّيِّبُوْنَ [ اور پاکیزہ مرد ] لِلطَّيِّبٰتِ ۚ [ پاکیزہ عورتوں کے لئے ہے ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] مُبَرَّءُوْنَ [ بری کئے ہوئے ہیں ] مِمَّا [ اس سے جو ] يَقُوْلُوْنَ ۭ [ یہ لوگ کہتے ہیں ] لَهُمْ [ ان کے لئے ہے ] مَّغْفِرَةٌ [ مغفرت ] وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ [ اور باعزت روزی ]
Ayah 24:27يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ [ اے لوگو جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] لَا تَدْخُلُوْا [ تم لوگ داخل مت ہو ] بُيُوْتًا [ ایسے گھروں میں جو ] غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ [ تمہارے گھروں کے علاوہ ہیں ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] تَسْتَاْنِسُوْا [ تم لوگ اجازت مانگ لو ] وَتُسَلِّمُوْا [ اور تم لوگ سلامتی کی دعا دے لو ] عَلٰٓي اَهْلِهَا ۭ [ اس (گھر) کے لوگوں پر ] ذٰلِكُمْ [ یہ ] خَيْرٌ [ بہتر ہے ] لَّكُمْ [ تمہارے لئے ] لَعَلَّكُمْ [ شاید تم لوگ ] تَذَكَّرُوْنَ [ نصیحت حاصل کرو ]
Ayah 24:28فَاِنْ [ پھر اگر ] لَّمْ تَجِدُوْا [ تم لوگ نہ پاؤ] فِيْهَآ [ اس (گھر) میں ] اَحَدًا [ کسی ایک کو ] فَلَا تَدْخُلُوْهَا [ تو مت داخل ہو اس میں ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] يُؤْذَنَ [ اجازت دی جائے ] لَكُمْ ۚ [ تمہیں ] وَاِنْ [ اور اگر ] قِيْلَ [ کہا جائے ] لَكُمُ [ تم لوگوں سے ] ارْجِعُوْا [ کہ واپس جاؤ] فَارْجِعُوْا [ تو واپس ہو جاؤ] هُوَ [ یہ ] اَزْكٰى [ زیادہ پاکیزہ ہے ] لَكُمْ ۭ [ تمہارے لئے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] بِمَا [ اس کو جو ] تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ کرتے ہو ] عَلِيْمٌ [ ہمیشہ جاننے والا ہے
Ayah 24:29لَيْسَ [ نہیں ہے ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] جُنَاحٌ [ کوئی گناہ ] اَنْ [ کہ ] تَدْخُلُوْا [ تم لوگ داخل ہو ] بُيُوْتًا [ ایسے گھروں میں جو ] غَيْرَ مَسْكُوْنَةٍ [ بغیر سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں ] فِيْهَا [ ان میں ] مَتَاعٌ [ کچھ سامان ہے ] لَّكُمْ ۭ [ تمہارے لئے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يَعْلَمُ [ جانتا ہے ] مَا [ اس کو جو ] تُبْدُوْنَ [ تم لوگ ظاہر کرتے ہو ] وَمَا [ اور اس کو جو ] تَكْتُمُوْنَ [ تم لوگ چھپاتے ہو ]
نوٹ۔ 1: اس سورة کے آغاز میں آیت ۔ 26 ۔ تک جو احکام دئیے گئے ہیں وہ اس لئے ہیں کہ معاشرے میں برائی رونما ہوجائے تو اس کا تدارک کیسے کیا جائے۔ اب وہ احکام دئیے جا رہے ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ تمدن کے طور طریقوں کی اصلاح کر کے ان اسباب کا سدباب کردیا جائے جن سے اس طرح کی خرابیاں رونما ہوتی ہیں۔ اسلامی شریعت جرم کے ساتھ اسباب جرم ، محرکات جرم اور رسائل ، ذرائع جرم پر بھی پابندی لگاتی ہے تاکہ آدمی کو اصل جرم کی عین سرحد پر پہنچنے سے پہلے کافی عرصے پر ہی روک دیا جائے۔ وہ اسے پسند نہیں کرتی کہ لوگ روز پکڑے جائیں اور سزائیں پایا کریں۔ (تفہیم القرآن) ۔ آج کے دور میں سعودی عرب میں ایسے جرائم کے ریکارڈ کا موازنہ مہذب دینا میں ایسے جرائم کے ریکارڈ سے کرلیا جائے تو ان احکام کی حکمت اور افادیت پوری طرح واضح ہوجائے گی۔
نوٹ۔ 2: زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ” صبح بخیر یا شام بخیر “ کہتے ہوئے بےتکلف ایک دوسرے کے گھروں میں داخل ہوجاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی اصلاح کیلئے یہ اصول مقرر کیا کہ ہر شخص کو اپنے رہنے کی جگہ میں تخلیے (Privacy) کا حق حاصل ہے اور کسی دوسرے شخص کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اس کے تخلیے میں اس کی مرضی اور اجازت کے بغیر خلل انداز ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے تخلیے کے اس حق کو صرف گھروں میں داخل ہونے کے سوال تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک عام حق قرار دیا جس کی رو سے دوسرے کے گھر میں جھانکنا، باہر سے نگاہ ڈالنا۔ حتی کی دوسرے کا خط اس کی اجازت کے بغیر پڑھنا بھی ممنوع ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جس نے اپنے بھائی کی اجازت کے بغیر اس کے خط میں نظر دوڑائی وہ گویا آگ میں جھانکتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 24:30قُلْ [ آپ ﷺ کہہ دیجئے ] لِّلْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں سے ] يَغُضُّوْا [ تو وہ نیچی رکھیں گے ] مِنْ اَبْصَارِهِمْ [ اپنی بصارتوں کو ] وَيَحْفَظُوْا [ اور حفاظت کریں گے ] فُرُوْجَهُمْ ۭ [ اپنی شرمگاہوں کی ] ذٰلِكَ [ یہ ] اَزْكٰى [ پاکیزہ تر ہے ] لَهُمْ ۭ [ ان کے لئے ] اِنَّ اللّٰهَ [ یقینا اللہ ] خَبِيْرٌۢ [ با خبر ہے ] بِمَا [ اس سے جو ] يَصْنَعُوْنَ [ یہ لوگ کاریگری کرتے ہیں
غ ض ض :
(ن) غضا پست کرنا۔ نیچا کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 30 ۔
اغضض فعل امر ہے۔ تو پست کر۔ تو نیچا رکھ۔ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ (اور تو نیچا رکھ اپنی آواز سے) 31/19
ترکیب : (آیت ۔ 30) یغضوا اور یحفظوا فعل امر غائب نہیں ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو لیغضوا اور لیحفظوا آتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دراصل فعل امر قل کا جواب امر ہونے کی وجہ سے مضارع مجزوم ہیں۔ ترجمہ میں اس فرق کو ظاہر کیا جائے گا۔
Ayah 24:31وَقُلْ [ آپ ﷺ کہہ دیجئے ] لِّلْمُؤْمِنٰتِ [ مومنات سے ] يَغْضُضْنَ [ تو وہ نیچی رکھیں گی ] مِنْ اَبْصَارِهِنَّ [ اپنی بصارتوں کو ] وَيَحْفَظْنَ [ اور حفاظت کریں گے ] فُرُوْجَهُنَّ [ اپنی شرمگاہوں کی ] وَلَا يُبْدِيْنَ [ اور (یہ کہ) وہ ظاہر مت کریں ] زِيْنَتَهُنَّ [ اپنے بناؤ سنگھار کو ] اِلَّا مَا [ سوائے اس کے جو ] ظَهَرَ [ (خود ہی) ظاہر ہوا ] مِنْهَا [ اس میں سے ] وَلْيَضْرِبْنَ [ اور چاہیے کہ وہ لپیٹ لیں ] بِخُمُرِهِنَّ [ اپنی اوڑھنیوں کو ] عَلٰي جُيُوْبِهِنَّ ۠ [ اپنے گریباں پر ] وَلَا يُبْدِيْنَ [ اور ظاہر مت کریں ] زِيْنَتَهُنَّ [ اپنے بناؤ سنگھار کو ] اِلَّا [ مگر ] لِبُعُوْلَتِهِنَّ [ اپنے شوہروں کے سامنے ] اَوْ اٰبَاۗىِٕهِنَّ [ یا اپنے باپوں کے سامنے ] اَوْ اٰبَاۗءِ بُعُوْلَتِهِنَّ [ یا اپنے شوہروں کے باپوں کے سامنے ] اَوْ اَبْنَاۗىِٕهِنَّ [ یا اپنے بیٹوں کے سامنے ] اَوْ اَبْنَاۗءِ بُعُوْلَتِهِنَّ [ یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے سامنے ] اَوْ اِخْوَانِهِنَّ [ یا اپنے بھائیوں کے سامنے ] اَوْ بَنِيْٓ اِخْوَانِهِنَّ [ یا اپنے بھائیوں کے بیٹوں کے سامنے ] اَوْ بَنِيْٓ اَخَوٰتِهِنَّ [ یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے سامنے ] اَوْ نِسَاۗىِٕهِنَّ [ یا اپنی عورتوں کے سامنے ] اَوْ مَا [ یا اس کے سامنے جس کے ] مَلَكَتْ [ مالک ہوئے ] اَيْمَانُهُنَّ [ ان کے داہنے ہاتھ ] اَوِ التّٰبِعِيْنَ [ یا تابع لوگ (یعنی نوکر) کے سامنے ] غَيْرِ اُولِي الْاِرْبَةِ [ جو بغیر (جنسی) حاجت والے ہوں ] مِنَ الرِّجَالِ [ مردوں میں سے ] اَوِ الطِّفْلِ الَّذِيْنَ [ یا ایسے بچوں کے سامنے جنہوں نے ] لَمْ يَظْهَرُوْا [ (ابھی) نہیں جانا ] عَلٰي عَوْرٰتِ النِّسَاۗءِ ۠ [ خواتین کے بھیدوں کو ] وَلَا يَضْرِبْنَ [ اور وہ مت ماریں (زمین پر)] بِاَرْجُلِهِنَّ [ اپنے پیروں کو ] لِيُعْلَمَ [ کہ جانا جائے ] مَا [ وہ جس کو ] يُخْفِيْنَ [ وہ چھپاتی ہیں ] مِنْ زِيْنَتِهِنَّ ۭ [ اپنے سنگھار (یعنی زیورات) میں سے ] وَتُوْبُوْٓا [ اور تم لوگ توبہ کرو ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ سے ] جَمِيْعًا [ سب کے سب ] اَيُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ [ اے ایمان لانے والو ] لَعَلَّكُمْ [ شاہد تم لوگ ] تُفْلِحُوْنَ [ فلاح پاؤ]
ج ی ب :
(ض) جیبا قمیص میں گریبان بنانا۔
جیب ج جیوب۔ اسم ذات ہے۔ گریبان۔ وادخل یدک فی جیبک (اور آپ (علیہ السلام) داخل کریں اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں) 27/12 ۔ اور زیر مطالعہ آیت۔ 31
ع و ر :
(ن) عورا کسی چیز کو لے جانا اور تلف کردینا۔ پانی کے چشمہ یا کنویں کو بند کردینا یا بند ہوجانا۔
(افعال) اعوارا سوار میں نیزہ کی جگہ کا واضح ہونا۔ کسی چھپائی ہوئی چیز کا ظاہر ہوجانا۔
عورۃ ج عورات۔ ہر وہ چیز جس کا نمایاں ہونا نا گوار یا ناپسندیدہ ہو۔ اس بنیادی مفہوم کے ساتھ متعدد معانی میں آتا ہے۔ (1) غیر محفوظ (Vulnerable) جگہ۔ (2) بھید۔ راز۔ ان بیوتنا عورۃ (بیشک ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں) ۔ (33 /13) ۔ اور زیر مطالعہ آیت۔ 31 ۔
(آیت۔ 31) ۔ یغضن اور یحفظن بھی فعل امر قل کا جواب امر ہونے کی وجہ سے مضارع مجزوم ہیں جبکہ لا یبدین فعل نہی ہے۔ اس آیت میں ایھا المؤمنون کے بجائے ایہ المؤمنون لکھنا قرآن کا مخصوص املا ہے۔
نوٹ۔ 1: غض بصر کے حکم کا مطلب ہر وقت نیچے ہی دیکھتے رہنا نہیں ہے بلکہ پوری طرح نگاہ بھر کر نہ دیکھنا ہے۔ من ابصارھم میں من تبعیض کا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا منشا یہ نہیں ہے کہ کسی چیز کو بھی نگاہ بھر کر نہ دیکھا جائے۔ بلکہ وہ صرف ایک مخصوص دائرے میں نگار پر یہ پابندی عائد کرتا ہے۔ اب یہ بات سیاق وسباق سے معلوم ہوتی ہے کہ یہ پابندی جس چیز پر عائد کی گئی ہے وہ ہے مردوں کا عورتوں کو دیکھنا۔ دوسروں کے ستر پر نگاہ ڈالنا یا فحش مناظر پر نگاہ جمانا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ نگاہ ابلیس کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔ جو شخص مجھ سے ڈر کر اس کو چھوڑ دے گا میں اس کے بدلے ایسا ایمان دوں گا جس کی حلاوت وہ اپنے دل میں پائے گا۔ ایک اور حدیث میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس مسلمان کی نگاہ کسی عورت کے حسن پر پڑے اور وہ نگاہ ہٹالے تو اللہ اس کی عبادت میں لطف اور لذت پیدا کردیتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 24:32وَاَنْكِحُوا [ اور تم لوگ نکاح کر دو ] الْاَيَامٰى [ بےنگاحوں کا ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ] وَالصّٰلِحِيْنَ [ اور نیکوں کا ] مِنْ عِبَادِكُمْ [ تمہارے غلاموں میں سے ] وَاِمَاۗىِٕكُمْ ۭ [ اور اپنی کنیزوں میں سے ] اِنْ يَّكُوْنُوْا [ اگر وہ لوگ ہوں ] فُقَرَاۗءَ [ مفلس ] يُغْنِهِمُ [ تو غنی کردے گا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] مِنْ فَضْلِهٖ ۭ [ اپنے فضل سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] وَاسِعٌ[ وسعت والا ہے ] عَلِيْمٌ[ جاننے والا ہے ]
ء ی م :
(ض) ایما مرد کار انڈیا عورت کا بیوہ ہوجانا۔
ایم ج ایامی۔ صفت ہے۔ رانڈ۔ بیوہ ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 32
نوٹ۔ 1: آیت ۔ 32 ۔ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جس کا بھی نکاح ہوجائے گا اللہ اس کو مال دار بنا دے گا۔ بلکہ مدعا یہ ہے کہ لوگ اس معاملہ میں بہت زیادہ حسابی بن کر نہ رہ جائیں۔ اس میں لڑکے والوں کو تلقین ہے کہ کسی نوجوان کو محض اس لئے نہ بٹھا رکھیں کہ ابھی وہ زیادہ نہیں کما رہا ہے۔ تھوڑی آمدنی بھی ہو تو اللہ کے بھروسے پر شادی کر ڈالنی چاہیے۔ بسا اوقات خود شادی ہی آدمی کے حالات درست ہونے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ بیوی کی مدد سے اخراجات قابو میں آجاتے ہیں۔ ذمہ داریاں سر پر آجانے کے بعد آدمی پہلے سے زیادہ محنت اور کوشش کرنے لگتا ہے۔ بیوی معاش کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹا سکتی ہے۔ اور سب سے زیادہ یہ کہ مستقبل میں کس کے لئے کیا لکھا ہے۔ اسے کوئی بھی نہیں جان سکتا۔ اچھے حالات برے حالات میں بدل سکتے ہیں اور برے حالات اچھے حالات میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ اس لئے آدمی کو ضرورت سے زیادہ حساب لگانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ (تفہیم القرآن) البتہ اگر تھوڑی بہت آمدنی بھی نہ ہو تو ایسے لوگوں کے لئے اگلی آیت میں ہدایت ہے کہ وہ اللہ کے فضل کا انتظار کریں اور برائیوں سے بچتے رہیں۔
نوٹ۔ 2: مکاتبت کے لفظی معنی تو ہیں ” لکھا پڑھی “ مگر اصلاح میں یہ لفظ اس معنی میں بولا جاتا ہے کہ کوئی غلام یا لونڈی اپنی آزادی کے لئے اپنے آقا کو ایک معاوضہ ادا کرنے کی پیشکش کرے اور جب آقا اسے قبول کرلے تو دونوں کے درمیان شرائط کی لکھا پڑھی ہوجائے۔ اسلام میں غلاموں کی آزادی کے لئے جو صورتیں رکھی گئی ہے ، یہ ان میں سے ایک ہے۔ (تفہیم القرآن)
نوٹ۔ 3: غلامی اسلام کے اپنے نظام کا کوئی جز نہیں تھی بلکہ اس کو اسلام نے اس قوت کے بین الاقوامی اور ملکی حالت کے تحت محض اس لئے گوارہ کرلیا تھا کہ اگر بیک جنبش قلم اس کے خاتمہ کا اعلان کردیا جاتا تو اس سے معاشرے کے اندر سخت قسم کی معاشرتی اور معاشی الجھنیں پیدا ہوجاتیں۔ اس دور میں اول تو جنگی قیدیوں کے مسئلہ کا معروف حل یہی تھا کہ جنگی قیدیوں کو فاتحین غلام بنالیں۔ ثانیا ہر منڈی میں غلاموں اور لونڈیوں کو خریدو فروخت کا کاروبار ہوتا تھا اور ہر ذی استطاعت کے گھر میں ہر سن و سال کی لونڈیاں اور غلام موجود تھے۔ ایسے حالات میں اگر بیک وقت اعلان کردیا جاتا کہ تمام لونڈیاں اور غلام آزاد ہیں تو ان سب کو معاشرے میں کہاں کھپایا جاتا۔ ان میں ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی بھی تھی جو یہ صلاحیت نہیں رکھتے تھے کہ خود اپنی کفالت کا بار اٹھا سکیں۔ غلامی کی صورت میں تو ان کے کفالت کی ذمہ داری قانونا ان کے مالکوں کے اوپر تھی لیکن آزاد ہوجانے کی صورت میں ان کیلئے اس کے سوا کوئی سبیل باقی نہ رہتی کہ بھیک مانگیں اور معاشرے پر ایک بوجھ بنیں۔ بالخصوص لونڈیوں کا مسئلہ اور بھی پیچیدہ تھا۔ ان مصالح کی وجہ سے اسلام نے ان کی آزادی کی ایسی راہ اختیار کی جس سے یہ خطرات بھی پیدا نہیں ہوتے اور بتدریج تمام ذی صلاحیت غلام اور لونڈیاں آزاد ہوکر اسلامی معاشرے کے جزو بھی بن گئے
اسلام نے غلاموں کو آزادوں کی صف میں لانے کے لئے بتدریج ہدایات جاری کی تھیں۔ (1) مکی زندگی کے بالکل انتدائی دور ہی سے غلام آزاد کرنے کو ایک بہت بری نیکی قرار دیا۔ (2) رسول اللہ ﷺ نے واضح الفاظ میں غلاموں اور لونڈیوں کے ساتھ نہ صرف حسن سلوک کی ہدایت کی بلکہ مالکوں پر ان کے انسانی حقوق کو شرعی درجہ سے دیا جس سے ان کے معاملہ میں مالکوں کی وہ خود مخ تیاری ختم ہوگئی جو زمانہ جاہلیت میں ان کو حاصل تھی۔ (3) بعض گناہوں اور کوتاہیوں کی صورت میں غلام آزاد کرنے کو کفارہ قرار دیا۔ (4) ذی صلاحیت لونڈیوں اور غلاموں کے نکاح کردینے کی ہدایت کی تاکہ معاشرے میں ان کا معاشرتی معیار اونچا ہو۔ (5) بیت المال اور اموال زکوۃ کے مصارف میں ایک مستقل مد ” فی الرقاب “ بھی رکھی گئی تاکہ غلاموں اور لونڈیوں کی آزادی کی مہم تیز ہو۔ (6) اسیران جنگ سے متعلق بالعموم یہ پالیسی اختیار کی گئی ہے کہ خاص خاص سرغنوں کو تو بیشک قتل کیا گیا۔ لیکن عام قیدیوں کو فدیہ لے کردیا احسانا چھوڑ دیا گیا۔ (7) آخر میں مکاتبت کو ایک قانونی حیثیت دے دی گئی جس کے بعد ہر ذی صلاحیت غلام اور لونڈی کے لئے آزادی کی ہدایت سے کشادہ راہ کھل گئی۔ اس قانون نے عملا غلامی کا خاتمہ کردیا اور صرف وہ غلام بچ رہے جو ہاتھ پیر مارنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ (تدبر قرآن سے ماخوذ) ۔
Ayah 24:33وَلْيَسْتَعْفِفِ [ اور چاہیے کہ (برائیوں سے) بچے رہیں ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] لَا يَجِدُوْنَ [ نہیں پاتے ] نِكَاحًا [ نکاح (کے سامان) کو ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] يُغْنِيَهُمُ [ غنی کر دے ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] مِنْ فَضْلِهٖ ۭ [ اپنے فضل سے ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] يَبْتَغُوْنَ [ چاہتے ہیں ] الْكِتٰبَ [ (آزادی کی) لکھت پڑھت ] مِمَّا [ ان میں سے جن کو ] مَلَكَتْ [ مالک ہوئے ] اَيْمَانُكُمْ [ تمہارے داہنے ہاتھ ] فَكَاتِبُوْهُمْ [ تو لکھ کر دوان کو ] اِنْ عَلِمْتُمْ [ اگر تم جانتے ہو ] فِيْهِمْ [ ان میں ] خَيْرًا ڰ [ کوئی بھلائی ] وَّاٰتُوْهُمْ [ اور تم لوگ دوان کو ] مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِيْٓ [ اللہ کے اس مال میں سے جو ] اٰتٰىكُمْ ۭ [ اس نے دیا تم کو ] وَلَا تُكْرِهُوْا [ اور تم لوگ مجبور مت کرو ] فَتَيٰتِكُمْ [ اپنی کنیزوں کو ] عَلَي الْبِغَاۗءِ [ زیادتی (یعنی بدکاری) پر ] اِنْ اَرَدْنَ [ اگر وہ ارادہ کریں ] تَحَصُّنًا [ برائی سے بچنے کا ] لِّتَبْتَغُوْا [ تاکہ تم لوگ تلاش کرو (یعنی کماؤ)] عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ [ دنیوی زندگی کا سامان ] وَمَنْ [ اور جو کوئی ] يُّكْرِھْهُّنَّ [ مجبور کرے گا ان کو ] فَاِنَّ اللّٰهَ [ تو بیشک اللہ ] مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ [ ان کو مجبور کئے جانے کے بعد ] غَفُوْرٌ [ بےانتہاء بخشنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے
Ayah 24:34وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ [ اور بیشک ہم نے اتارا ہے ] اِلَيْكُمْ [ تم لوگوں کی طرف ] اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ [ خوب واضح کرنے والی نشانیاں ] وَّ مَثَلًا [ اور کچھ مثال (یعنی حال)] مِّنَ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں (کے حالات) میں سے جو ] خَلَوْا [ گزرے ] مِنْ قَبْلِكُمْ [ تم سے پہلے ] وَمَوْعِظَةً [ اور نصیحت (بھی اتاری)] لِّلْمُتَّقِيْنَ [ تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لئے ]
Ayah 24:35اَللّٰهُ [ اللہ ] نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ آسمانوں اور زمین کا نور ہے ] مَثَلُ نُوْرِهٖ [ اس کے نور کی مثال ] كَمِشْكٰوةٍ [ ایک ایسے طاق کی سی ہے ] فِيْهَا [ جس میں ] مِصْبَاحٌ ۭ [ ایک چراغ ہے ] اَلْمِصْبَاحُ [ وہ چراغ ] فِيْ زُجَاجَةٍ ۭ [ ایک شیشے کے برتن (قندیل) میں ہے ] اَلزُّجَاجَةُ [ وہ قندیل ] كَاَنَّهَا [ (ایسے ہے) جیسے کہ وہ ] كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ [ ایک چمکدار ستارہ ہے ] يُّوْقَدُ [ اس کو چمکایا جاتا ہے ] مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ [ ایک ایسے برکت دئیے ہوئے درخت سے جو ] زَيْتُوْنَةٍ [ ایک ایسا زیتون کا درخت ہے جو ] لَّا شَرْقِيَّةٍ [ نہ مشرقی ہے ] وَّلَا غَرْبِيَّةٍ ۙ [ اور نہ مغربی ہے ] يَّكَادُ [ قریب ہے کہ ] زَيْتُهَا [ اس کا تیل ] يُضِيْۗءُ [ روشن ہوجائے ] وَلَوْ [ اور اگرچہ ] لَمْ تَمْسَسْهُ [ چھوا ہی نہیں اس کو ] نَارٌ ۭ [ کسی آگ نے ] نُوْرٌ [ (یہ) ایک نور ہے ] عَلٰي نُوْرٍ ۭ [ نور پر ] يَهْدِي [ ہدایت دیتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] لِنُوْرِهٖ [ اپنے نور کی ] مَنْ [ اس کو جس کو ] يَّشَاۗءُ ۭ [ وہ چاہتا ہے ] وَيَضْرِبُ [ اور بیان کرتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] الْاَمْثَالَ [ مثالیں ] لِلنَّاسِ ۭ [ لوگوں کے لئے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] بِكُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز کو ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ]
زج ج :
(ض) زججا ابروکا دراز اور باریک ہونا۔
زجاج اسم جنس ہے۔ واحد زجاجۃ۔ شیشے کا ٹکڑا ۔ شیشے کا برتن زیر مطالعہ آیت۔ 35 ۔
نوٹ۔ 1: آسمانوں اور زمین کا لفظ قرآن مجید میں بالعموم ” کائنات “ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ البتہ دوسرے الفاظ میں اللہ نور السموت والارض کا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ ساری کائنات کا نور سے مراد وہ چیز ہے جس کی بدولت اشیاء کا ظہور ہوتا ہے۔ (تفہیم القرآن) ۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عرفان وہ نور ہے جس کی بدولت اس کائنات کے اسرار و رموز انسان کی سمجھ میں آنا شروع ہوجاتے ہیں اور اسے اس بنیادی سوال کا جواب مل جاتا ہے کہ ہم کون ہیں ۔ کہاں سے آتے ہیں، کیوں آتے ہیں ۔ پھر کہاں چلے جاتے ہیں اور کیوں جاتے ہیں۔ پھر اسے کائنات کی ہر چیز بالحق یعنی بامقصد اور الی اجل مسمی نظر آنے لگتی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ معرفت الٰہی سے محروم ہوتے ہیں وہ علمی دنگل میں عقلی قلابازیاں کھاتے رہتے ہیں۔ ایک کے بعد ایک فلسفہ بگھارتے ہیں لیکن ان کے پلے کچھ نہیں پڑتا اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ ” سنی جو حکایت ہستی تو درمیان سے سنی +نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم “۔
نوٹ۔ 2: بعض مفسرین نے فی بیوت سے مراد مساجد لی ہیں اور ان کو بلند کرنے سے مراد ان کی تعمیر کرنا اور ان کی تعظیم و تکریم کرنا لیا ہے۔ اور بعض دوسرے مفسرین نے ان سے مراد اہل ایمان کے گھر لئے ہیں اور ان کو بلند کرنے کا مطلب ان کے نزدیک انھیں اخلاقی حیثیت سے بلند کرنا ہے۔ ” ان میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اذن دیا ہے “۔ یہ الفاظ بظاہر مسجد والی تفسیر کی زیادہ تائید کرتے نظر آتے ہیں مگر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوسری تفسیر کی بھی اتنی ہی تائید کرتے ہیں جتنی پہلی تفسیر کی۔ اس لئے کہ اللہ کی شریعت کہانت زدہ مذاہب کی طرح عبادت کو صرف عبادت گاہوں تک ہی محدود نہیں رکھتی جہاں کاہن یا پجاری طبقے کے کسی فرد کی پیشوائی کے بغیر مراسم بندگی ادا نہیں کیے جاسکتے، بلکہ یہاں مسجد کی طرح گھر بھی عبادت گاہ ہے۔ اور ہر شخص اپنا پروہت آپ ہے۔ چونکہ اس سورة میں تمام ترخانگی زندگی کو اعلیٰ وارفع بنانے کے لئے ہدایت دی گئی ہیں۔ اس لئے دوسری تفسیر ہم کو موقع و محل کے لحاظ سے زیادہ موزوں لگتی ہے۔ اگرچہ پہلی تفسیر کو بھی رد کرنے کے لئے کوئی معقول دلیل نہیں ہے۔ کیا مضائقہ ہے اگر اس سے مراد مومنوں کے گھر اور ان کی مسجدیں ، دونوں ہی ہوں۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 24:36فِيْ بُيُوْتٍ [ کچھ ایسے گھروں میں ] اَذِنَ [ اجازت دی ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] اَنْ [ کہ ] تُرْفَعَ [ جن کو بلند کیا جائے ] وَيُذْكَرَ [ اور یاد کیا جائے ] فِيْهَا [ جن میں ] اسْمُهٗ ۙ [ اس کا نام ] يُسَبِّحُ [ تسبیح کرتے ہیں ] لَهٗ [ اس کی ] فِيْهَا [ ان میں ] بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ [ صبح اور شام کو ]
Ayah 24:37رِجَالٌ [ کچھ ایسے مرد ] لَّا تُلْهِيْهِمْ [ غافل نہیں کرتی جن کو ] تِجَارَةٌ [ کوئی تجارت ] وَّلَا بَيْعٌ [ اور نہ کوئی خریدو فروخت ] عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ [ اللہ کی یاد سے ] وَاِقَامِ الصَّلٰوةِ [ اور نماز قائم کرنے سے ] وَاِيْتَاۗءِ الزَّكٰوةِ ۽ [ اور زکوۃ پہنچانے سے ] يَخَافُوْنَ [ وہ لوگ ڈرتے ہیں ] يَوْمًا [ ایک ایسے دن سے ] تَتَقَلَّبُ [ الٹ پلٹ جائیں گے ] فِيْهِ [ جس میں ] الْقُلُوْبُ [ دل ] وَالْاَبْصَارُ [ اور آنکھیں ]
Ayah 24:38لِيَجْزِيَهُمُ [ تاکہ بدلہ دے ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَحْسَنَ مَا [ اس کے بہترین سے جو ] عَمِلُوْا [ انھوں نے عمل کئے ] وَيَزِيْدَهُمْ [ اور تاکہ وہ زیادہ دے ان کو ] مِّنْ فَضْلِهٖ ۭ [ اپنے فضل سے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يَرْزُقُ [ عطا کرتا ہے ] من [ اس کو جس کو ] مَنْ يَّشَاۗءُ [ وہ چاہتا ہے ] بِغَيْرِ حِسَابٍ [ بےحساب ]