24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 24:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

(اس کے برعکس) جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بے آب میں سراب کہ پیاسا اُس کو پانی سمجھے ہوئے تھا، مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا، بلکہ وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا، جس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا، اور اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جنہوں نے ] كَفَرُوْٓا [ انکار کیا (معرفت رب کا)] اَعْمَالُهُمْ [ ان کے اعمال ] كَسَرَابٍۢ بِقِيْعَةٍ [ ریتیلے میدانوں میں ایک سراب کی مانند ہیں ] يَّحْسَبُهُ [ سمجھتا ہے اس کو ] الظَّمْاٰنُ [ پیاسا ] مَاۗءً ۭ [ پانی ] حَتّيٰٓ [ یہاں تک کہ ] اِذَا جَاۗءَهٗ [ جب وہ آتا (یعنی پہنچتا ( ہے اس کے پاس ] لَمْ يَجِدْهُ [ تو وہ نہیں پاتا اس کو ] شَـيْــــًٔـا [ کوئی چیز ] وَّ وَجَدَ [ اور وہ پاتا ہے ] اللّٰهَ [ اللہ کو ] عِنْدَهٗ [ اس کے پاس (یعنی وہاں)] فَوَفّٰىهُ [ تو وہ پورا پورا چکا دیتا ہے اس کو ] حِسَابَهٗ ۭ [ اس کا حساب ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] سَرِيْعُ الْحِسَابِ [ حساب لینے کا تیز ہے ] نوٹ۔ 1: کچھ لوگ انکار حق اور غلط عقائد کے باوجود یہ کہتے ہیں کہ اگر آخرت ہوئی بھی تو ہماری یہ نیکیاں وہاں ہمارے کام آئیں گی۔ آیت۔ 39 ۔ کی مثال ایسے ہی لوگوں کے لئے ہے۔ ایمان صادق و کامل کے بغیر دنیا میں کی گئی نیکیاں دنیا میں تو کچھ فائدہ دے سکتی ہیں لیکن آخرت میں ان کی حقیقت ایک سراب سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ وہاں پر اللہ تعالیٰ ان کے کفر و نفاق کا ان کو پورا پورا بدلہ دے گا اور ان کے نیک اعمال آخرت میں ان کے کچھ بھی کام نہیں آئیں گے۔
Ayah 24:40

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا، کہ اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے، اُس پر ایک اور موج، اور اس کے اوپر بادل، تاریکی پر تاریکی مسلط ہے، آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے جسے اللہ نور نہ بخشے اُس کے لیے پھر کوئی نور نہیں

اَوْ كَظُلُمٰتٍ [ یا (ان کے اعمال) اندھیروں کی مانند ہیں) فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ [ ایک ایسے بےپایاں سمندر میں ] يَّغْشٰـىهُ [ چھاتی ہے جس پر ] مَوْجٌ [ ایک موج ] مِّنْ فَوْقِهٖ [ اس کے اوپر سے ] مَوْجٌ [ ایک (اور) موج ] مِّنْ فَوْقِهٖ [ اس کے اوپر سے ] سَحَابٌ ۭ [ بادل ] ظُلُمٰتٌۢ [ اندھیرے ہیں ] بَعْضُهَا [ ان کے بعض ] فَوْقَ بَعْضٍ ۭ [ بعض کے اوپر ] اِذَآ [ جب ] اَخْرَجَ [ وہ نکالتا ہے ] يَدَهٗ [ اپنا ہاتھ ] لَمْ يَكَدْ [ تو لگتا نہیں کہ ] يَرٰىهَا ۭ [ وہ دیکھے اس کو ] وَمَنْ [ اور وہ ] لَّمْ يَجْعَلِ [ بنایا ہی نہیں ] اللّٰهُ [ اللہ ] لَهٗ [ جس کے لئے ] نُوْرًا [ کوئی نور ] فَمَا لَهٗ [ تو نہیں ہے اس کے لئے ] مِنْ نُّوْرٍ ]
Ayah 24:41

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلا ئے اڑ رہے ہیں؟ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے، اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے

اَلَمْ تَرَ [ کیا تو نے غور نہیں کیا ] اَنَّ اللّٰهَ [ کہ اللہ (وہ ہے)] يُسَبِّحُ لَهٗ [ تسبیح کرتے ہیں جس کی ] مَنْ [ وہ سب جو ] فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ آسمانوں اور زمین میں ہیں ] وَالطَّيْرُ [ اور پرندے (بھی)] صٰۗفّٰتٍ ۭ [ قطار بنانے والے ہوتے ہیں ] كُلٌّ [ ہر ایک نے ] قَدْ عَلِمَ [ جان لیا ہے ] صَلَاتَهٗ [ اپنی نماز کو ] وَتَسْبِيْحَهٗ ۭ [ اور اپنی تسبیح ] وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ [ اور اللہ جاننے ولا ہے ] بِمَا [ اس کو جو ] يَفْعَلُوْنَ [ وہ سب کرتے ہیں ]
Ayah 24:42

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے

وَلِلّٰهِ [ اور اللہ ہی کی ہے ] مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ [ آسمانوں اور زمین کی حکومت ] وَاِلَى اللّٰهِ [ اور اللہ ہی کی طرف ] الْمَصِيْرُ [ لوٹنا ہے ]
Ayah 24:43

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے، پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے، پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں اور وہ آسمان سے، اُن پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں، اولے برساتا ہے، پھر جسے چاہتا ہے ان کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان سے بچا لیتا ہے اُس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کیے دیتی ہے

اَلَمْ تَرَ [ کیا تو نے دیکھا ہی نہیں ] اَنَّ اللّٰهَ [ کہ اللہ ] يُزْجِيْ [ ہانکتا ہے ] سَحَابًا [ بادل کو ] ثُمَّ يُؤَلِّفُ [ پھر وہ جمع کرتا ہے ] بَيْنَهٗ [ آپس میں اس کو ] ثُمَّ يَجْعَلُهٗ [ پھر وہ کرتا ہے اس کو ] رُكَامًا [ تہہ در تہہ ] فَتَرَى [ پھر تو دیکھتا ہے ] الْوَدْقَ [ بارش (کے قطرے) کو ] يَخْرُجُ [ وہ نکلتا ہے ] مِنْ خِلٰلِهٖ ۚ [ اس کی دراڑوں سے ] وَيُنَزِّلُ [ اور وہ اتارتا ہے ] مِنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] مِنْ جِبَالٍ [ کچھ ایسے پہاڑوں میں سے ] فِيْهَا [ جن میں ہیں ] مِنْۢ بَرَدٍ [ کچھ اولے ] فَيُصِيْبُ بِهٖ [ پھر وہ لگاتا ہے انہیں ] مَنْ [ اس کو جسے ] يَّشَاۗءُ [ وہ چاہتا ہے ] وَيَصْرِفُهٗ [ اور وہ پھیر دیتا ہے انہیں ] عَنْ مَّنْ [ اس سے جس سے ] يَّشَاۗءُ ۭ [ وہ چاہتا ہے ] يَكَادُ [ قریب ہوتا ہے کہ ] سَـنَابَرْقِهٖ [ اس کی بجلی کی چمک ] يَذْهَبُ [ لے جائے ] بِالْاَبْصَارِ [ آنکھوں کو ] ودق (ض) ودقا پانی ٹپکنا۔ بارش کا گرنا۔ ودق اسم ذات بھی ہے۔ بارش۔ زیر مطالعہ آیت۔ 43 نوٹ۔ 1: وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ جِبَالٍ فِيْهَا مِنْۢ بَرَدٍ سے مراد سردی سے جمے ہوئے بادل بھی ہوسکتے ہیں جنہیں مجازا آسمان کے پہاڑ کہا گیا ہو۔ اور زمین کے پہاڑ بھی ہوسکتے ہیں جو آسمان میں بلند ہیں۔ جن کی چوٹیوں پر جمی ہوئی برف کے اثر سے بسا اوقات ہوا اتنی سرف ہوجاتی ہے کہ بادلوں میں انجماد پیدا ہونے لگتا ہے اور اولوں کی شکل میں بارش ہونے لگتی ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 24:44

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

رات اور دن کا الٹ پھیر وہی کر رہا ہے اِس میں ایک سبق ہے آنکھوں والوں کے لیے

يُقَلِّبُ [ باربار پلٹتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] الَّيْلَ [ رات کو ] وَالنَّهَارَ ۭ [ اور دن کو ] اِنَّ [ بیشک ] فِيْ ذٰلِكَ [ اس میں ] لَعِبْرَةً [ یقینا ایک عبرت ہے ] لِّاُولِي الْاَبْصَارِ [ بصیرت والوں کیلئے ]
Ayah 24:45

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور اللہ نے ہر جاندار ایک طرح کے پانی سے پیدا کیا، کوئی پیٹ کے بل چل رہا ہے تو کوئی دو ٹانگوں پر اور کوئی چار ٹانگوں پر جو کچھ وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے

وَاللّٰهُ [ اور اللہ نے ] خَلَقَ [ پیدا کیا ] كُلَّ دَاۗبَّةٍ [ ہر ایک چلنے والے جاندار کو ] مِّنْ مَّاۗءٍ ۚ[ ایک پانی سے ] فَمِنْهُمْ مَّنْ [ تو ان میں وہ ابھی ہیں جو ] يَّمْشِيْ [ چلتے ہیں ] عَلٰي بَطْنِهٖ ۚ[ اپنے پیٹ پر ] وَمِنْهُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] يَّمْشِيْ [ چلتے ہیں ] عَلٰي رِجْلَيْنِ ۚ [ وہ ٹانگوں پر ] وَمِنْهُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] يَّمْشِيْ [ چلتے ہیں ] عَلٰٓي اَرْبَعٍ ۭ[ چار پر ] يَخْلُقُ [ پیدا کرتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] مَا [ وہ جو ] يَشَاۗءُ ۭ[ وہ چاہتا ہے ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز پر ] قَدِيْرٌ [ قدرت رکھنے والا ہے ]
Ayah 24:46

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم نے صاف صاف حقیقت بتانے والی آیات نازل کر دی ہیں، آگے صراط مستقیم کی طرف ہدایت اللہ ہی جسے چاہتا ہے دیتا ہے

لَقَدْ اَنْزَلْنَآ [ بیشک ہم نے اتاری ہیں ] اٰيٰتٍ مُّبَيِّنٰتٍ ۭ [ خوب واضح کرنے والی نشانیاں ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يَهْدِيْ [ ہدایت دیتا ہے ] مَنْ [ اس کو جسے ] يَّشَاۗءُ [ وہ چاہتا ہے ] اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ [ ایک سیدھے راستے کی طرف
Ayah 24:47

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسولؐ پر اور ہم نے اطاعت قبول کی، مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے) منہ موڑ جاتا ہے ایسے لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں

وَيَقُوْلُوْنَ [ اور وہ لوگ کہتے ہیں ] اٰمَنَّا [ ہم ایمان لائے ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَبِالرَّسُوْلِ [ اور ان رسول پر ] وَاَطَعْنَا [ اور ہم نے اطاعت کی ] ثُمَّ [ پھر ] يَتَوَلّٰى [ روگردانی کرتا ہے ] فَرِيْقٌ [ ایک فریق ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ ۭ [ اس (اقرار) کے بعد ] وَمَآ اُولٰۗىِٕكَ [ اور وہ لوگ نہیں ہیں ] بِالْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 47 ۔ سے معلوم ہوگیا کہ کلمہ پڑھ لینے اور ایمان کا دعوی کرنے سے ایمان کا حق پورا نہیں ہوجاتا۔ بلکہ اس کے لئے شرط لازم ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بےچون و چرا اطاعت کی جائے۔ اگر کوئی شخص یہ شرط پوری نہیں کرتا تو وہ اللہ کے نزدیک مومن نہیں ہے۔ پھر آیت ۔ 48 ۔ 49 ۔ میں اس قاعدہ کلمہ کی وضاحت منافقوں کے ایک مخصوص طرز عمل کے حوالہ سے کی گئی ہے۔ ابتداء جب تک اطراف مدینہ میں یہود بھی اپنے اپنے حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے تھے ، منافقین کی یہ روش رہی کہ وہ اپنے مقدمے ان ہی کی عدالتوں میں لے جاتے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہود نے شریعت الٰہی میں تحریف کرکے اس کو خواہشات نفس کے سانچے میں ڈھال لیا تھا۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ان کے حکام کو رشوت دے کر خریدا جاسکتا تھا۔ اس صورت حال سے منافقین یہ فائدہ اٹھاتے تھے کہ اگر ان کو رسول اللہ ﷺ کی عدالت سے حسب منشاء فیصلہ حاصل کرنے کی توقع ہوتی تب تو اپنے ایمان و اسلام کی نمائش کرتے ہوئے آپ ﷺ کی عدالت میں مقدمہ لاتے اور اگر یہ توقع نہ ہوتی تو یہود کی عدالتوں سے رجوع کرتے۔ (تدبر قرآن سے ماخوذ) یہ سوچنا درست نہیں ہے کہ مدینہ کے منافقوں کے خاتمے کے ساتھ یہ روش بھی ختم ہوگئی ۔ یہ ذہنیت ہر دور میں سرگرم عمل رہی ہے اور آج بھی ہے۔ ہمارے درمیان ایسے مسلمان بھی ہیں جو اسلامی قوانین کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو وحشیانہ قانون ہے۔ یہ تو عورتوں پر ظلم ہے، یہ تو مزدروں کے ساتھ بڑی زیادتی ہے وغیرہ۔ اور اسلامی قوانین میں جب کوئی ان کے مطلب کی بات سامنے آتی ہے تو پھر یہی لوگ اسلام کا ڈھنڈھورا پیٹتے ہیں کہ دیکھو اسلام یہ کہتا ہے۔ شریعت کا یہ تقاضہ ہے کہ اس پر عمل ہونا چاہیے۔ (حافظ احمد یار صاحب کے کیسٹ سے ماخوذ)
Ayah 24:48

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

جب ان کو بلایا جاتا ہے اللہ اور رسول کی طرف، تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے

وَاِذَا [ اور جب ] دُعُوْٓا [ ان کو بلایا جاتا ہے ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ] وَرَسُوْلِهٖ [ اور اس کے رسول کی طرف ] لِيَحْكُمَ [ تاکہ وہ فیصلہ کریں ] بَيْنَهُمْ [ ان کے درمیان ] اِذَا [ تب ہی ] فَرِيْقٌ [ ایک فریق ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] مُّعْرِضُوْنَ [ اعراض کرنے والا ہوتا ہے ]
Ayah 24:49

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسول کے پاس بڑے اطاعت کیش بن کر آ جاتے ہیں

وَاِنْ [ اور اگر ] يَّكُنْ [ ہوتا ہے ] لَّهُمُ [ ان کے لئے ] الْحَقُّ [ حق ] يَاْتُوْٓا [ تو وہ آتے ہیں ] اِلَيْهِ [ اس (فیصلہ) کی طرف ] مُذْعِنِيْنَ [ ماننے والے ہوتے ہوئے ] (س) ذعنا مطیع و فرمانبردار۔ حق ماننا۔ (افعال) اذعانا ثلاثی مجرد کا ہم معنی ہے۔ مذعن اسم الفاعل ہے۔ مطیع ہونے والا۔ ماننے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 49
Ayah 24:50

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں کو (منافقت کا) روگ لگا ہوا ہے؟ یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں؟ یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کرے گا؟ اصل بات یہ ہے کہ ظالم تو یہ لوگ خود ہیں

اَ [ کیا ] فِيْ قُلُوْبِهِمْ [ ان کے دولوں میں ] مَّرَضٌ [ کوئی مرض ہے ] اَمِ [ یا ] ارْتَابُوْٓا [ وہ شبہ میں پڑگئے ] اَمْ [ یا ] يَخَافُوْنَ [ وہ ڈرتے ہیں ] اَنْ [ کہ ] يَّحِيْفَ [ ناانصافی کرے گا ] اللّٰهُ [ اللہ ] عَلَيْهِمْ [ ان کے خلاف ] وَرَسُوْلُهٗ ۭ [ اور اس کا رسول ] بَلْ [ بلکہ ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] هُمُ الظّٰلِمُوْنَ [ ہی ظلم کرنے والے ہیں ] ح ی (ض) حیفا کسی پر زیادتی کرنا۔ ناانصافی کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 50 ۔
Ayah 24:51

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول کی طرف بلا ئے جائیں تاکہ رسول ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] كَانَ [ (یہی) ہوتی ہے ] قَوْلَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں کی بات ] اِذَا [ جب بھی ] دُعُوْٓا [ ان کو بلایا جائے ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ] وَرَسُوْلِهٖ [ اور اس کے رسول کی طرف ] لِيَحْكُمَ [ تاکہ وہ فیصلہ کریں ] بَيْنَهُمْ [ ان کے درمیان ] اَنْ يَّقُوْلُوْا [ کہ وہ لوگ کہیں ] سَمِعْنَا [ ہم نے سنا ] وَاَطَعْنَا ۭ [ اور ہم اطاعت کی ] وَاُولٰۗىِٕكَ [ اور وہ لوگ ] هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ [ ہی فلاح پانے والے ہیں ] ترکیب : (آیت۔ 51) قول المؤمنین کے مضاف قوم کی نصب بتارہی ہے کہ یہ کان کی خبر ہے جبکہ آگے پورا فقرہ اَنْ يَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا اس کا اسم ہے۔ یہاں کان آفاقی صداقت کا بیان ہے اس لئے اس کا ترجمہ حال میں ہوگا۔ دیکھیں آیت۔ 2/49 ۔ نوٹ۔ 2: (آیت۔ 51) ۔ من شرطیہ ہے۔ اس لئے یطیع ۔ یخش اور یتق، یہ سب مضارع مجزوم ہیں۔ نوٹ کریں کہ مجزوم ہونے کی وجہ سے مضارع یتقی کی جب یا گرتی ہے تو یتق باقی بچتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ دراصل یتقہ ہے لیکن یہاں قاف کو ساکن کرکے یتقہ پڑھنا قرآن مجید کی مخصوص قرأت ہے (آیت ۔ 53) طاعۃ معروفۃ خبر ہے اس کا مبتدا محذوف ہے جو کہ المطلوب ہوسکتا ہے
Ayah 24:52

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور کامیاب وہی ہیں جو اللہ اور رسول کی فرماں برداری کریں اور اللہ سے ڈریں اور اس کی نافرمانی سے بچیں

وَمَنْ [ اور جو ] يُّطِعِ [ اطاعت کرتا ہے ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] وَرَسُوْلَهٗ [ اور اس کے رسول ﷺ کی ] وَيَخْشَ [ اور ڈرتا ہے ] اللّٰهَ [ اللہ ] وَيَتَّقْهِ [ اور تقوی کا زور لگاتے ہوئے ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ] هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ [ ہی کامیاب ہونے والے ہیں ] نوٹ۔ 1: حضرت عمر ؓ ایک روز مسجد نبوی میں کھڑے تھے۔ اچانک ایک رومی دہقانی آدمی آپ کے برابر آکر کھڑا ہوگیا اور اس نے کلمہ پڑھا۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا کیا بات ہے تو اس نے کہا میں اللہ کے لئے مسلمان ہوگیا ہوں۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا کیا اس کا کوئی سبب ہے تو اس نے کہاں۔ بات یہ ہے کہ میں نے تورات ، انجیل، زبور اور انبیاء سابقین کی بہت سی کتابیں پڑھی ہیں۔ مگر حال میں ایک مسلمان قیدی قرآن کی ایک آیت پڑھ رہا تھا، وہ سنی تو معلوم ہوا کہ اس چھوٹی سی آیت نے تمام کتب قدیمہ کو اپنے اندر سمو لیا ہے تو مجھے یقین ہوگیا کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ حضرت عمر ؓ نے پوچھا وہ کون سی آیت ہے تو اس رومی نے زیر مطالعہ آیت۔ 52 ۔ تلاوت کی اور اس کے ساتھ اس کی تفسیر اس طرح بیان کی کہ من یطع اللّٰہ فرائض الٰہیہ کے متعلق ہے۔ ورسولہ سنت نبوی کے متعلق ہے۔ ویخش اللّٰہ گزشتہ عمر کے متعلق ہے۔ ویتقہ آئندہ باقی عمر کے متعلق ہے۔ جب انسان ان چار چیزوں کا عامل ہوجائے تو اس کو اولئک ہم الفائزون کی بشارت ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 24:53

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

یہ (منافق) اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ "آپ حکم دیں تو ہم گھروں سے نکل کھڑے ہوں" اِن سے کہو "قسمیں نہ کھاؤ، تمہاری اطاعت کا حال معلوم ہے، تمہارے کرتوتوں سے اللہ بے خبر نہیں ہے"

وَاَقْسَمُوْا [ اور انھوں نے قسم کھائی ] بِاللّٰهِ [ اللہ کی ] جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ [ اپنی قسموں کا زور لگاتے ہوئے ] لَىِٕنْ [ بیشک اگر ] اَمَرْتَهُمْ [ آپ ﷺ حکم دیں گے ان کو ] لَيَخْرُجُنَّ ۭ [ تو وہ لوگ لازما نکلیں گے ] قُلْ [ آپ ﷺ کہیے ] لَّا تُقْسِمُوْا ۚ [ تم لوگ قسم مت کھاؤ] طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ ۭ [ (اصل مطلوب) جانی پہچانی اطاعت ہے ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] خَبِيْرٌۢ [ باخبر ہے ] بِمَا [ اس سے جو ] تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگو کرتے ہو ]
Ayah 24:54

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

کہو، "اللہ کے مطیع بنو اور رسولؐ کے تابع فرمان بن کر رہو لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ رسولؐ پر جس فرض کا بار رکھا گیا ہے اُس کا ذمہ دار وہ ہے اور تم پر جس فرض کا بار ڈالا گیا ہے اُس کے ذمہ دار تم ہو اُس کی اطاعت کرو گے تو خود ہی ہدایت پاؤ گے ورنہ رسول کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ صاف صاف حکم پہنچا دے"

قُلْ [ آپ ﷺ کہیے ] اَطِيْعُوا [ تم لوگ اطاعت کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کی ] وَاَطِيْعُوا [ اور اطاعت کرو ] الرَّسُوْلَ ۚ [ ان رسول کی ] فَاِنْ [ پھر اگر ] تَوَلَّوْا [ تم لوگ روگردانی کرتے ہو ] فَاِنَّمَا [ تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] عَلَيْهِ [ ان پر (ذمہ داری) ہے ] مَا [ اس کی جو ] حُمِّلَ [ ان پر لازم کیا گیا ] وَعَلَيْكُمْ [ اور تم لوگوں پر (ذمہ داری) ہے ] مَّا [ اس کی جو ] حُمِّلْتُمْ ۭ [ تم پر لازم کیا گیا ] وَاِنْ [ اور اگر ] تُطِيْعُوْهُ [ تم لوگ اطاعت کرو گے ان کی ] تَهْتَدُوْا ۭ [ تو ہدایت پاؤ گے ] وَمَا [ اور نہیں ہے ] عَلَي الرَّسُوْلِ [ ان رسول ﷺ پر (کوئی ذمہ داری)] اِلَّا [ مگر ] الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ [ واضح طور پر پہنچانا ]
Ayah 24:55

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اُسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، اُن کے لیے اُن کے اُس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے، اور اُن کی (موجودہ) حالت خوف کو امن سے بدل دے گا، بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں

وَعَدَ [ وعدہ کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] الَّذِيْنَ [ ان سے جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ] وَعَمِلُوا [ اور انھوں نے عمل کئے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیکیوں کے ] لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ [ کہ وہ لازما جانشین بنائے گا ان کو ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] كَمَا [ جیسے کہ ] اسْتَخْلَفَ [ اس نے جانشین بنایا ] الَّذِيْنَ [ ان کو جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ ۠ [ ان سے پہلے تھے ] وَلَيُمَكِّنَنَّ [ اور وہ لازما جما دے گا ] لَهُمْ [ ان کے لئے ] دِيْنَهُمُ الَّذِي [ ان کے اس دین کو جس سے ] ارْتَضٰى [ وہ راضی ہوا ] لَهُمْ [ ان کے لئے ] وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ [ اور وہ لازما بدلہ دے گا ان کو ] مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ [ ان کے خوف کے بعد ] اَمْنًا ۭ [ امن ] يَعْبُدُوْنَنِيْ [ وہ لوگ بندگی کریں گے میری ] لَا يُشْرِكُوْنَ [ شریک نہیں کریں گے ] بِيْ [ میرے ساتھ ] شَـيْــــًٔـا ۭ [ کچھ بھی ] وَمَنْ [ اور جو ] كَفَرَ [ ناشکری کرے گا ] بَعْدَ ذٰلِكَ [ اس کے بعد ] فَاُولٰۗىِٕكَ [ تو وہ لوگ ] هُمُ الْفٰسِقُوْنَ [ ہی نافرمانی کرنے والے ہیں ]
Ayah 24:56

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، اور رسولؐ کی اطاعت کرو، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا

وَاَقِيْمُوا [ اور تم لوگ قائم کرو ] الصَّلٰوةَ [ نماز کو ] وَاٰتُوا [ اور پہنچاؤ] الزکوٰۃ [ زکوٰۃ کو ] وَاَطِيْعُوا [ اور اطاعت کرو ] الرَّسُوْلَ [ ان رسول ﷺ کی ] لَعَلَّكُمْ [ شاید تم لوگوں پر ] تُرْحَمُوْنَ [ رحم کیا جائے ]
Ayah 24:57

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

جو لوگ کفر کر رہے ہیں ا ن کے متعلق اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ وہ زمین میں اللہ کو عاجز کر دیں گے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے

لَا تَحْسَبَنَّ [ ہزگز گمان مت کرو ] الَّذِيْنَ [ ان کو جنہوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] مُعْجِزِيْنَ [ عاجز کرنے والے ] فِي الْاَرْضِ ۚ [ زمین میں ] وَمَاْوٰىهُمُ [ اور ان کا ٹھکانہ ] النَّارُ ۭ [ آگ ہے ] وَلَبِئْسَ [ اور یقینا بری ہے (وہ)] الْمَصِيْرُ [ لوٹنے کی جگہ ] نوٹ۔ 1: یہ خطاب فرمایا رسول اللہ ﷺ کے وقت کے لوگوں کو یعنی جو ان میں اعلیٰ درجہ کے نیک اور رسول ﷺ کے کامل متبع ہیں رسول اللہ ﷺ کے بعد ان کو زمین کی حکومت دے گا اور جو دین اسلام خدا کو پسند ہے، ان کے ہاتھوں سے دنیا میں اس کو قائم کرے گا۔ گویا جیسا کہ لفظ استخلاف میں اشارہ ہے وہ لوگ محض دنیوی بادشاہوں کی طرح نہ ہوں گے بلکہ پیغمبر کے جانشین ہوکر آسمانی بادشاہت کا اعلان کریں گے اور دین حق کی بنیادیں جما دیں گے۔ الحمد للہ یہ وعدۂ الٰہی چاروں خلفاء ؓ کے ہاتھوں پر پورا ہوا اور دنیا نے اس پیشنگوئی کے ایک ایک حرف کا مصداق اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ خلفائے اربعہ کے بعد بھی کچھ بادشاہان اسلام وقتا فوقتا اس نمونے کے آتے رہے اور جب اللہ چاہے گا آئندہ بھی آئیں گے۔ احادیث سے معلوم ہوا کہ آخری خلیفہ حضرت امام مہدی ہوں گے۔ (ترجمہ شیخ الہند (رح) سے ماخوذ ہے) رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ خلافت میرے بعد تیس سال ہے پھر ملک ہوگا (یعنی بادشاہت ہوگی) ۔ چناچہ حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت دو برس تین ماہ ، حضرت عمر ؓ کی خلافت دس سال چھ مال ، حضرت عثمان ؓ کی خلافت بارہ سال ، حضرت علی ؓ کی خلافت چار سال نو مال اور حضرت حسن ؓ کی خلافت چھ ماہ ہوئی۔ (تفسیر نعیمی)
Ayah 24:58

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، لازم ہے کہ تمہارے مملوک اور تمہارے وہ بچے جو ابھی عقل کی حد کو نہیں پہنچے ہیں، تین اوقات میں اجازت لے کر تمہارے پاس آیا کریں: صبح کی نماز سے پہلے، اور دوپہر کو جبکہ تم کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہو، اور عشاء کی نماز کے بعد یہ تین وقت تمہارے لیے پردے کے وقت ہیں اِن کے بعد وہ بلا اجازت آئیں تو نہ تم پر کوئی گناہ ہے نہ اُن پر، تمہیں ایک دوسرے کے پاس بار بار آنا ہی ہوتا ہے اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنے ارشادات کی توضیح کرتا ہے، اور وہ علیم و حکیم ہے

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ [ اے لوگو جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] لِيَسْتَاْذِنْكُمُ [ چاہیے کہ اجازت مانگیں تم سے ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جن کے ] مَلَكَتْ [ مالک ہوئے ] اَيْمَانُكُمْ [ تمہارے داہنے ہاتھ ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جو ] لَمْ يَبْلُغُوا [ (ابھی) نہیں پہنچے ] الْحُلُمَ [ بلوغت کو ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ] ثَلٰثَ مَرّٰتٍ ۭ [ تین مرتبہ ] مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ [ فجر کی نماز کے بعد سے ] وَحِيْنَ [ اور جس وقت ] تَضَعُوْنَ [ تم لوگ رکھتے ہو (اتار کے)] ثِيَابَكُمْ [ اپنے کپڑے ] مِّنَ الظَّهِيْرَةِ [ دوپہر میں ] وَمِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَاۗءِ ڜ [ اور عشاء کی نماز کے بعد سے ] ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ [ (یہ) بےپردگی والے تین (اوقات) ہیں ] لَّكُمْ ۭ [ تمہارے لیے ] لَيْسَ عَلَيْكُمْ [ نہیں ہے تم لوگوں پر ] وَلَا عَلَيْهِمْ [ اور نہ ان لوگوں پر ] جُنَاحٌۢ [ کوئی گناہ ] بَعْدَهُنَّ ۭ [ ان (اوقات) کے بعد ] طَوّٰفُوْنَ [ بار بار چکر لگانے والے ہیں ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] بَعْضُكُمْ [ تمہارے بعض ] عَلٰي بَعْضٍ ۭ [ بعض پر ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] يُبَيِّنُ [ واضح کرتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] لَكُمُ [ تمہارے لئے ] الْاٰيٰتِ ۭ [ آیات کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ]
Ayah 24:59

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب تمہارے بچے عقل کی حد کو پہنچ جائیں تو چاہے کہ اُسی طرح اجازت لیکر آیا کریں جس طرح اُن کے بڑے اجازت لیتے رہے ہیں اِس طرح اللہ اپنی آیات تمہارے سامنے کھولتا ہے، اور وہ علیم و حکیم ہے

وَاِذَا بَلَغَ [ اور جب پہنچیں ] الْاَطْفَالُ [ بچے ] مِنْكُمُ [ تم میں سے ] الْحُلُمَ [ بلوغت کو ] فَلْيَسْتَاْذِنُوْا [ تو چاہیے کہ وہ (ابھی) اجازت مانگیں ] كَمَا [ جیسے کہ ] اسْتَاْذَنَ [ اجازت مانگی ] الَّذِيْنَ [ انھوں نے جو ] مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ [ ان سے پہلے تھے ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] يُبَيِّنُ [ واضح کرتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] اٰيٰتِهٖ ۭ [ اپنی آیات کو ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ]
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور جو عورتیں جوانی سے گزری بیٹھی ہوں، نکاح کی امیدوار نہ ہوں، وہ اگر اپنی چادریں اتار کر رکھ دیں تو اُن پر کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں تاہم وہ بھی حیاداری ہی برتیں تو اُن کے حق میں اچھا ہے، اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

وَالْقَوَاعِدُ [ اور عمر رسیدہ خواتین ] مِنَ النِّسَاۗءِ الّٰتِيْ [ ان عورتوں میں سے جو ] لَا يَرْجُوْنَ [ امید نہیں رکھتیں ] نِكَاحًا [ نکاح کی ] فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ [ تو نہیں ہے ان پر ] جُنَاحٌ [ کوئی گناہ ] اَنْ يَّضَعْنَ [ کہ وہ رکھ دیں ] ثِيَابَهُنَّ [ اپنے کپڑے (یعنی اوڑھنیاں ] غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۢ [ بغیر نمایاں کرنے والیاں ہوتے ہوئے ] بِزِيْنَةٍ ۭ [ زینت کو ] وَاَنْ [ اور یہ کہ ] يَّسْتَعْفِفْنَ [ وہ بچیں (اس سے)] خَيْرٌ [ تو بہتر ہے ] لَّهُنَّ ۭ [ ان کے لئے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] سَمِيْعٌ [ سننے والا ہے ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] نوٹ۔ 1: اس سے پہلے آیات ۔ 27 ۔ 28 ۔ میں اجازت لینے کا حکم بیان ہوا ہے کہ کسی سے ملاقات کو جاؤ تو اجازت لئے بغیر اس کے گھر میں داخل نہ ہو۔ یہ حکم ان کے لئے تھا جو باہر سے ملاقات کے لئے آئے ہوں۔ اب زیر مطالعہ آیت۔ 58 ۔ 59 ۔ میں اجازت لینے کا دوسرا حکم بیان ہوا ہے۔ اس کا تعلق ان لوگوں سے جو ایک گھر میں رہتے ہیں اور ہر وقت آتے جاتے رہتے ہیں۔ اور جن سے عورتوں کا پردہ بھی نہیں ہے۔ ان کے لئے حکم ہوا ہے کہ خلوت کے تین اوقات میں اجازت لے کر اندر داخل ہوں۔ (معارف القرآن)
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

کوئی حرج نہیں اگر کوئی اندھا، یا لنگڑا، یا مریض (کسی کے گھر سے کھا لے) اور نہ تمہارے اوپر اِس میں کوئی مضائقہ ہے کہ اپنے گھروں سے کھاؤ یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے، یا اپنی ماں نانی کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے، یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے، یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے، یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے، یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے، یا اُن گھروں سے جن کی کنجیاں تمہاری سپردگی میں ہوں، یا اپنے دوستوں کے گھروں سے اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھاؤ یا الگ الگ البتہ جب گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو، دعا ئے خیر، اللہ کی طرف سے مقرر فر مائی ہوئی، بڑی بابرکت اور پاکیزہ اِس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے آیات بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو گے

لَيْسَ [ نہیں ہے ] عَلَي الْاَعْمٰى [ اندھے پر ] حَرَجٌ [ کوئی حرج ] وَّلَا عَلَي الْاَعْرَجِ [ اور نہ لنگڑے پر ] حَرَجٌ [ کوئی حرج ہے ] وَّلَا عَلَي الْمَرِيْضِ [ اور نہ مریض پر ] حَرَجٌ [ کوئی حرج ہے ] وَّلَا عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ [ اور نہ تمہارے اپنے آپ پر ] اَنْ [ کہ ] تَاْكُلُوْا [ تم لوگ کھاؤ] مِنْۢ بُيُوْتِكُمْ [ اپنے گھروں سے ] اَوْ بُيُوْتِ اٰبَاۗىِٕكُمْ [ یا اپنے آباء کے گھروں سے ] اَوْ بُيُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ [ یا اپنی ماؤں کے گھروں سے ] اَوْ بُيُوْتِ اِخْوَانِكُمْ [ یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے ] اَوْ بُيُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ [ یا اپنی بہنوں کے گھروں سے ] اَوْ بُيُوْتِ اَعْمَامِكُمْ [ یا اپنے چاچوں کے گھروں سے ] اَوْ بُيُوْتِ عَمّٰتِكُمْ [ یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے ] اَوْ بُيُوْتِ اَخْوَالِكُمْ [ یا پنے ماموؤں کے گھروں سے ] اَوْ بُيُوْتِ خٰلٰتِكُمْ [ یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے ] اَوْ مَا [ یا اس (گھر) سے ] مَلَكْتُمْ [ تم مالک ہوئے ] مَّفَاتِحَهٗٓ [ جس کی کنجیوں کے ] اَوْ صَدِيْقِكُمْ ۭ [ یا اپنے دوست (کے گھر) سے ] لَيْسَ عَلَيْكُمْ [ نہیں ہے تم لوگوں پر ] جُنَاحٌ [ کوئی گناہ ] اَنْ تَاْكُلُوْا [ کہ تم لوگ کھاؤ] جَمِيْعًا [ سب کے سب (اکٹھا)] اَوْ اَشْـتَاتًا ۭ [ یا الگ الگ ] فَاِذَا [ پھر جب بھی ] دَخَلْتُمْ [ تم لوگ داخل ہو ] بُيُوْتًا [ گھروں میں ] فَسَلِّمُوْا [ تو سلامتی بھیجو (یعنی سلام کرو)] عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ [ اپنے لوگوں پر ] تَحِيَّةً [ ایک ایسی دعا ہوتے ہوئے جو ] مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ [ اللہ کے پاس سے ] مُبٰرَكَةً [ برکت دی ہوئی ہو ] طَيِّبَةً ۭ [ پاکیزہ ہو ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] يُبَيِّنُ [ واضح کرتا ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] لَكُمُ [ تمہارے لئے ] الْاٰيٰتِ [ آیات کو ] لَعَلَّكُمْ [ شاید تم لوگ ] تَعْقِلُوْنَ [ عقل سے کام لو ] نوٹ۔ 1: پہلے یہ سمجھ لیں کہ اس آیت کے دو حصے ہیں ۔ پہلا معذور لوگوں کے بارے میں ہے اور دوسرا عام لوگوں کے بارے میں۔ ابن عباس ؓ علیہ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حکم دیا کہ ایک دوسرے کے مال ناجائز طریقوں سے مت کھاؤ۔ (البقرہ۔ 188) تو لوگ ایک دوسرے کے ہاں کھانا کھانے میں بھی احتیاط کرنے لگے۔ وہ سمجھتے تھے کہ جب تک صاحب خانہ کی دعوت و اجازت نہ ہو، کسی عزیز یا دوست کے ہاں کھانا جائز نہیں ہے ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ جہاں تک معذور لوگوں کا تعلق ہے وہ ہر گھر اور ہر جگہ سے کھا سکتا ہے۔ جہاں تک عام لوگوں کا تعلق ہے تو ان کے لئے ان کے اپنے گھر اور عزیزوں کے گھر یکساں ہیں۔ ان میں سے کسی کے ہاں کھانے کے لئے شرطوں کی ضرورت نہیں ہے۔ آدمی ان میں سے کسی کے گھر جائے اور گھر کا مالک موجود نہ ہو اور اس کے گھر والے کھانے کو کچھ پیش کریں تو بےتکلف کھایا جاسکتا ہے۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ)
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

مومن تو اصل میں وہی ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول کو دل سے مانیں اور جب کسی اجتماعی کام کے موقع پر رسولؐ کے ساتھ ہوں تو اُس سے اجازت لیے بغیر نہ جائیں جو لوگ تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور رسول کے ماننے والے ہیں، پس جب وہ اپنے کسی کام سے اجازت مانگیں تو جسے تم چاہو اجازت دے دیا کرو اور ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے دعائے مغفرت کیا کرو، اللہ یقیناً غفور و رحیم ہے

اِنَّمَا [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] الْمُؤْمِنُوْنَ [ مومن ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ ہیں جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَرَسُوْلِهٖ [ اور اس کے رسول پر ] وَاِذَا [ اور جب کبھی ] كَانُوْا [ وہ ہوتے ہیں ] مَعَهٗ [ ان کے ساتھ ] عَلٰٓي اَمْرٍ جَامِعٍ [ کسی جمع کرنے والے (یعنی اہم) معاملہ پر ] لَّمْ يَذْهَبُوْا [ تو وہ جاتے ہی نہیں ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] يَسْتَاْذِنُوْهُ ۭ [ وہ اجازت لے لیں ان سے ] اِنَّ الَّذِيْنَ [ بیشک جو لوگ ] يَسْتَاْذِنُوْنَكَ [ اجازت مانگتے ہیں آپ ﷺ سے ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] الَّذِيْنَ [ وہ ہیں جو ] يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان لاتے ہیں ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَرَسُوْلِهٖ ۚ [ اور اس کے رسول پر ] فَاِذَا [ پھر جب بھی ] اسْتَاْذَنُوْكَ [ وہ اجازت مانگیں آپ ﷺ سے ] لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ [ اپنی کسی مصروفیت کے لئے ] فَاْذَنْ [ تو آپ ﷺ اجازت دیں ] لِّمَنْ [ اس کے لئے جس کو ] شِئْتَ [ آپ ﷺ چاہیں ] مِنْهُمْ [ ان میں سے ] وَاسْتَغْفِرْ [ اور آپ ﷺ مغفرت مانگیں ] لَهُمُ [ ان کے لئے ] اللّٰهَ ۭ [ اللہ سے ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] غَفُوْرٌ [ بےانتہا بخشنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ] نوٹ۔ 1: زیر مطالعہ آیت۔ 62 ۔ میں حکم ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کسی دینی جہاد وغیرہ کے لئے لوگوں کو جمع کریں تو ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ سب جمع ہوجائیں اور پھر آپ ﷺ کی اجازت کے بغیر نہ جائیں۔ اور رسول اللہ ﷺ کو یہ ہدایت ہے کہ کوئی خاص حرج نہ ہو تو اجازت دے دیا کریں۔ اسی ضمن میں ان منافقین کی مذمت ہے جو حاضر تو ہوجاتے ہیں مگر پھر کسی کی آڑ لے کر چپکے سے کھسک جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ عام مجلسوں کا حکم نہیں ہے بلکہ اس وقت کا ہے جب آپ ﷺ نے ان کو کسی ضرورت سے جمع کیا ہو جیسا کہ واقعہ خندق میں ہوا۔ اس بات پر فقہاء کا اتفاق ہے کہ چونکہ یہ حکم دینی اور اسلامی ضرورت کے لئے جاری کیا گیا ہے اور ایسی ضرورت ہر زمانے میں ہوسکتی ہے اس لئے یہ حکم آپ ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ مسلمانوں کے ہر امام و امیر جس کے قبضہ میں زمام حکومت ہو۔ اس کا اور اس کی مجلس کا بھی یہی حکم ہے کہ جب وہ جمع ہونے کا حکم دے تو اس کی تعمیل واجب ہوجاتی ہے اور بغیر اجازت واپس جانا ناجائز ہے۔ اور اسلمی آداب معاشرت کے لحاظ سے یہ حکم باہمی اجتماعات اور عام مجلسوں کے لئے مستحب ہے۔ (معارف القرآن سے ماخوذ)
Ayah 24:63

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

مسلمانو، اپنے درمیان رسولؐ کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا سا بلانا نہ سمجھ بیٹھو اللہ اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے چپکے سے سٹک جاتے ہیں رسولؐ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہو جائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آ جائے

لَا تَجْعَلُوْا [ اور تم لوگ مت بناؤ [ دُعَاۗءَ الرَّسُوْلِ [ ان رسول کے بلانے کو [ بَيْنَكُمْ [ تمہارے درمیان سے (کسی کو)][ كَدُعَاۗءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ۭ] تمہارے کسی کے کسی کو بلانے کی مانند [ قَدْ يَعْلَمُ [ جان چکا ہے ][ اللّٰهُ [ اللہ ][ الَّذِيْنَ ][ ان لوگوں کو جو ][ يَتَسَلَّـلُوْنَ [ چپکے سے سٹک جاتے ہیں ][ مِنْكُمْ ][ تم میں سے ][ لِوَاذًا ۚ[ کسی کی آڑ لیتے ہوئے ][ فَلْيَحْذَرِ [ پس چاہیے کہ بچیں ][ الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ][ يُخَالِفُوْنَ [ خلاف کرتے ہیں ][ عَنْ اَمْرِهٖٓ[ ان کے حکم کے ][ اَنْ [ کہ ][ تُصِيْبَهُمْ [ آلگے ان کو ][ فِتْنَةٌ ][ فتنہ ][ اَوْ يُصِيْبَهُمْ [ یا آلگے ان کو ][ عَذَابٌ اَلِيْمٌ[ کوئی دردناک عذاب ] ل و ذ (ن) لوذا کسی چیز میں چھپنا۔ پناہ لینا۔ (مفاعلہ) لواذا ایک دوسرے سے پناہ لیان۔ بچ کر نکل جانا۔ آیت زیر مطالعہ ۔ 63
Ayah 24:64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

خبردار رہو، آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے تم جس روش پر بھی ہو اللہ اُس کو جانتا ہے جس روز لوگ اُس کی طرف پلٹیں گے وہ اُنہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کچھ کر کے آئے ہیں وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے

اَلَآ : (کان کھول کر) سن لو ][ اِنَّ لِلّٰهِ [ بیشک اللہ ہی کا ہے ][ مَا : وہ جو ][ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ[ آسمان اور زمین میں ہے ][ قَدْ يَعْلَمُ : اس نے جان لیا ہے ][ مَآ : اس کو ][ اَنْتُمْ : تم لوگ ][ عَلَيْهِ ۭ: جس پر ہو ][ وَيَوْمَ : اور جس دن ][ يُرْجَعُوْنَ : وہ لوگ لوٹائے جائیں گے ][ اِلَيْهِ فَيُنَبِّئُهُمْ : اس کی طرف تو وہ بتادے گا ان کو ][ بِمَا عَمِلُوْا ۭ: وہ جو انہوں نے عمل کیا ][ وَاللّٰهُ : اور اللہ ][ بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز کا ][ عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے ]