26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 26:81

وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ Open ayah 26:81 in the Quran reader

جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا

وَالَّذِيْ [ اور وہ جو ] يُمِيْـتُـنِيْ [ موت دے گا مجھ کو ] ثُمَّ [ پھر ] يُحْيِيْنِ [ وہ زندگی دے گا مجھ کو ]
Ayah 26:82

وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 26:82 in the Quran reader

اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا"

وَالَّذِيْٓ [ اور وہ جس سے ] اَطْمَــعُ [ میں آرزو کرتا ہوں ] اَنْ [ کہ ] يَّغْفِرَ [ وہ بخش دے ] لِيْ [ میرے لئے ] خَطِيْۗـــــَٔــتِيْ [ میری خطا کو ] يَوْمَ الدِّيْنِ [ بدلے کے دن ]
Ayah 26:83

رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 26:83 in the Quran reader

(اِس کے بعد ابراہیمؑ نے دعا کی) "اے میرے رب، مجھے حکم عطا کر اور مجھ کو صالحوں کے ساتھ ملا

رَبِّ [ اے میرے رب ] هَبْ [ تو عطا کر ] لِيْ [ مجھ کو ] حُكْمًا [ فیصلہ کرنے کی طاقت ] وَّاَلْـحِقْنِيْ [ اور تو ملا دے مجھ کو ] بِالصّٰلِحِيْنَ [ نیک لوگوں کے ساتھ ]
Ayah 26:84

وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 26:84 in the Quran reader

اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کر

وَاجْعَلْ [ اور تو بنا دے ] لِّيْ [ میرے لئے ] لِسَانَ صِدْقٍ [ سچائی کی زبان ] فِي الْاٰخِرِيْنَ [ آخری لوگوں میں ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 84 میں لسان سے مراد ذکر ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا یا مجھے ایسے پسندیدہ طریقے اور عمدہ نشانیاں عطا فرما جس کی دوسرے لوگ قیامت تک پیروی کریں اور مجھے ذکر خیر سے یاد کریں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی۔ آیت۔ 89 میں قلب سلیم سے مراد ایسا دل ہے جس میں شرک و کفر نہ ہو۔ (معارف القرآن)
Ayah 26:85

وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 26:85 in the Quran reader

اور مجھے جنتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما

وَاجْعَلْنِيْ [ اور تو بنا دے مجھ کو ] مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيْمِ [ سدا بہار باغ کے وارثوں میں سے ]
Ayah 26:86

وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 26:86 in the Quran reader

اور میرے باپ کو معاف کر دے کہ بے شک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے

وَاغْفِرْ [ اور تو بخش دے ] لِاَبِيْٓ [ میرے والد کو ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] كَانَ [ تھا ] مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ [ بھٹک جانے والوں میں سے ]
Ayah 26:87

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ Open ayah 26:87 in the Quran reader

اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے

وَلَا تُخْزِنِيْ [ اور تو رسوانہ کرنا مجھ کو ] يَوْمَ [ جس دن ] يُبْعَثُوْنَ [ لوگ اٹھائے جائیں گے ]
Ayah 26:88

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ Open ayah 26:88 in the Quran reader

جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد

يَوْمَ [ جس دن ] لَا يَنْفَعُ [ نفع نہیں دے گا ] مَالٌ [ کوئی مال ] وَّلَا بَنُوْنَ [ اور نہ ہی بیٹے ]
Ayah 26:89

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ Open ayah 26:89 in the Quran reader

بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو"

اِلَّا مَنْ [ سوائے اس کے جو ] اَتَى [ پہنچا ] اللّٰهَ [ اللہ کے پاس ] بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ [ قلب سلیم کے ساتھ ]
Ayah 26:90

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 26:90 in the Quran reader

(اس روز) جنت پرہیزگاروں کے قریب لے آئی جائے گی

وَاُزْلِفَتِ [ اور قریب کی جائے گی ] الْجَنَّةُ [ جنت ] لِلْمُتَّقِيْنَ [ پرہیزگاروں کے لئے ]
Ayah 26:91

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ Open ayah 26:91 in the Quran reader

اور دوزخ بہکے ہوئے لوگوں کے سامنے کھول دی جائے گی

وَبُرِّزَتِ [ اور سامنے لائی جائے گی ] الْجَحِيْمُ [ دوزخ ] لِلْغٰوِيْنَ [ گمراہ ہونے والوں کے لئے ]
Ayah 26:92

وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:92 in the Quran reader

اور ان سے پوچھا جائے گا کہ "اب کہاں ہیں وہ جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے؟

وَقِيْلَ [ اور کہا جائے گا ] لَهُمْ [ ان سے ] اَيْنَ مَا [ کہاں ہیں وہ جن کی ] كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ [ تم لوگ عبادت کرتے تھے ]
Ayah 26:93

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ Open ayah 26:93 in the Quran reader

کیا وہ تمہاری کچھ مدد کر رہے ہیں یا خود اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں؟"

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے علاوہ ] هَلْ [ کیا ] يَنْصُرُوْنَكُمْ [ وہ سب مدد کریں گے تمہاری ] اَوْ يَنْتَصِرُوْنَ [ یا وہ بدلہ لیں گے ]
Ayah 26:94

فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ Open ayah 26:94 in the Quran reader

پھر وہ معبود اور یہ بہکے ہوئے لوگ

فَكُبْكِبُوْا [ پھر پھینکے جائیں گے ] فِيْهَا [ اس میں ] هُمْ [ وہ سب ] وَالْغَاوٗنَ [ اور گمراہ ہونے والے ] ک ب ک ب (رباعی) کبکبۃ الٹا پچھاڑنا۔ گڑھے میں پھینکنا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 94 ۔
Ayah 26:95

وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ Open ayah 26:95 in the Quran reader

اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اُوپر تلے دھکیل دیے جائیں گے

وَجُنُوْدُ اِبْلِيْسَ [ اور ابلیس کے لشکر ] اَجْمَعُوْنَ [ سب کے سب ]
Ayah 26:96

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ Open ayah 26:96 in the Quran reader

وہاں یہ سب آپس میں جھگڑیں گے اور یہ بہکے ہوئے لوگ (اپنے معبودوں سے) کہیں گے

قَالُوْا [ وہ کہیں گے ] وَ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ سب ] فِيْهَا [ اس میں ] يَخْتَصِمُوْنَ [ جھگڑے ہوں گے ]
Ayah 26:97

تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 26:97 in the Quran reader

کہ "خدا کی قسم، ہم تو صریح گمراہی میں مبتلا تھے

تَاللّٰهِ [ اللہ کی قسم ] اِنْ كُنَّا [ یقینا ہم تھے ] لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ [ بیشک ایک کھلی گمراہی میں ]
Ayah 26:98

اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 26:98 in the Quran reader

جبکہ تم کو رب العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے

اِذْ [ جب ] نُسَوِّيْكُمْ [ ہم برابر کرتے تھے تم کو ] بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ رب العالمین کے ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 98 ۔ کی تفسیر میں ابن کثیر (رح) نے لکھا ہے کہ یعنی ہم تمہارے احکام کی اس طرح اطاعت کرتے رہے جس طرح خداوند عالم کے احکام کی اطاعت کرنی چاہیے تھی۔ (منقول از تدبر قرآن) ۔ ضروری ہے کہ آیت کے اس مفہوم کو ذہن میں رکھ کر ہر شخص اپنے گریبان میں منہ ڈالے اور دیکھے کہ موجودہ دور کے تہذیبی تصادم میں وہ کہاں کھڑا ہے اور اس ضمن میں اس کا رویہ قیامت کے دن اس کو کہاں لے جا کے کھڑا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ترقی پسندی کے شرک سے اپنی امان میں رکھے اور ہمیں قلب سلیم عطا فرمائے۔ نوٹ۔ 2: حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے میں نشانی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم دنیا سے مٹ گئی اور ایسی مٹی کہ اس کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ (حالانکہ اس وقت وہ قوم دنیا کی واحد سپر پاور تھی) ۔ اس میں سے اگر کسی کو بقا نصیب ہوا تو صرف ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے مبارک فرزندوں (اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق علیہ السلام) کی اولاد ہی کو نصیب ہوا۔ قرآن میں اگرچہ اس عذاب کا ذکر نہیں کیا گیا جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نکل جانے کے بعد ان کی قوم پر آیا لیکن سورة التوبہ کی آیت ۔ 70 ۔ میں اس کا شمار معذب قوموں ہی میں کیا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 26:99

وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 26:99 in the Quran reader

اور وہ مجرم لوگ ہی تھے جنہوں نے ہم کو اس گمراہی میں ڈالا

وَمَآ اَضَلَّنَآ [ اور گمراہ نہیں کیا ہم کو ] اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ [ مگر مجرموں نے ]
Ayah 26:100

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ Open ayah 26:100 in the Quran reader

اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے

فَمَا لَنَا [ تو نہیں ہیں ہمارے لئے ] مِنْ شَافِعِيْنَ [ کوئی بھی شفاعت کرنے والے ]
Ayah 26:101

وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ Open ayah 26:101 in the Quran reader

اور نہ کوئی جگری دوست

وَلَا صَدِيْقٍ حَمِيْمٍ [ اور نہ کوئی گرمجوش دوست ]
Ayah 26:102

فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:102 in the Quran reader

کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقع مل جائے تو ہم مومن ہوں"

فَلَوْ اَنَّ [ تو کاش کہ ] لَنَا [ ہمارے لئے ہوتی ] كَرَّةً [ ایک اور باری ] فَنَكُوْنَ [ نتیجتاً ہم ہوتے ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں میں سے ]
Ayah 26:103

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:103 in the Quran reader

یقیناً اس میں ایک بڑی نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [ بیشک اس میں ] لَاٰيَةً ۭ [ یقینا ایک نشانی ہے ] وَمَا كَانَ [ اور نہیں تھے ] اَكْثَرُهُمْ [ ان کے اکثر ] مُّؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]
Ayah 26:104

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:104 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

وَاِنَّ رَبَّكَ [ اور بیشک آپ ﷺ کا رب ] لَهُوَ [ یقینا وہی ] الْعَزِيْزُ [ بالادست ہے ] الرَّحِيْمُ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 26:105

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

قوم نوحؑ نے رسولوں کو جھٹلایا

كَذَّبَتْ [ جھٹلایا ] قَوْمُ نُوْحِۨ [ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ] الْمُرْسَلِيْنَ [ بھیجے ہوؤں (یعنی رسولوں) کو ]
Ayah 26:106

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

یاد کرو جبکہ ان کے بھائی نوحؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟

اِذْ قَالَ [ جب کہا ] لَهُمْ [ ان سے ] اَخُوْهُمْ [ ان کے بھائی ] نُوْحٌ [ نوح (علیہ السلام) نے ] اَلَا تَتَّقُوْنَ [ کیا تم لوگ تقویٰ اختیار نہیں کرو گے ]
Ayah 26:107

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

اِنِّىْ [ بیشک میں ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ [ ایک امانتدار رسول ہوں ]
Ayah 26:108

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

فَاتَّقُوا [ پس تم لوگ تقویٰ اختیار کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کا ] وَاَطِيْعُوْنِ [ اور اطاعت کرو میری ]
Ayah 26:109

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے

وَمَآ اَسْـَٔــلُكُمْ [ اور میں نہیں مانگتا تم سے ] عَلَيْهِ [ اس پر ] مِنْ اَجْرٍ ۚ [ کوئی بھی اجرت ] اِنْ [ نہیں ہے ] اَجْرِيَ [ میری اجرت ] اِلَّا [ مگر ] عَلٰي رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے رب پر ]
Ayah 26:110

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

پس تم اللہ سے ڈرو اور (بے کھٹکے) میری اطاعت کرو"

فَاتَّقُوا [ پس تقوی اختیار کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کا ] وَاَطِيْعُوْنِ [ اور اطاعت کرو میری ]
Ayah 26:111

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا "“کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی رذیل ترین لوگوں نے اختیار کی ہے؟"

قَالُـوْٓا [ ان لوگوں نے کہا ] اَنُؤْمِنُ لَكَ [ کیا ہم مان لیں تیری بات ] وَ [ اس حال میں کہ ] ا اتَّبَعَكَ [ تیری پیروی کرتے ہیں ] الْاَرْذَلُوْنَ [ حقیر لوگ ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 111 ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) پر ایمان نہ لانے کی وجہ ان کی قوم نے یہ بیان کی کہ آپ کے ماننے والے سارے رذیل لوگ ہیں ہم عزت دار شریف ان میں کیسے مل جائیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جواب فرمایا کہ مجھے ان کے اعمال کا حال معلوم نہیں ۔ اس میں ارشاد فرما دیا کہ تم لوگ مال و دولت اور عزت وجاہ کو شرافت کی بنیاد سمجھتے ہو تو یہ غلط ہے۔ شرافت ورذالت کا مدار دراصل اعمال و اخلاق پر ہے۔ تم نے جن پر حکم لگا دیا کہ یہ سب رذیل ہیں، یہ تمہاری جہالت ہے۔ ہم کسی شخص کے اعمال و اخلاق کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ اس لئے ہم کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے کہ حقیقتاً کون رذیل ہے اور کون شریف ہے۔ (معارف القرآن)
Ayah 26:112

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

نوحؑ نے کہا "میں کیا جانوں کہ ان کے عمل کیسے ہیں

قَالَ [ نوح (علیہ السلام) نے) کہا ] وَمَا عِلْمِىْ [ اور میں کیا جانوں ] بِمَا [ اس کو جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ یہ لوگ عمل (یعنی پیشہ) کرتے رہتے ہیں ]
Ayah 26:113

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان کا حساب تو میرے رب کے ذمہ ہے، کاش تم کچھ شعور سے کام لو

اِنْ [ نہیں ہے ] ان [ نہیں ہے ] حِسَابُهُمْ [ ان کا حساب ] اِلَّا [ مگر ] عَلٰي رَبِّيْ [ میرے رب پر ] لَوْ [ کاش ] تَشْعُرُوْنَ [ تم شعور رکھتے ہوتے
Ayah 26:114

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

میرا یہ کام نہیں ہے کہ جو ایمان لائیں ان کو میں دھتکار دوں

وَمَآ اَنَا [ اور میں نہیں ہوں ] بِطَارِدِ [ دھتکارنے والا ] الْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں کو ]
Ayah 26:115

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں تو بس ایک صاف صاف متنبہ کر دینے والا آدمی ہوں"

اِنْ اَنَا [ نہیں ہوں میں ] اِلَّا [ مگر ] نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ [ ایک واضح خبردار کرنے والا ]
Ayah 26:116

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

انہوں نے کہا "اے نوحؑ، اگر تو باز نہ آیا تو پھٹکارے ہوئے لوگوں میں شامل ہو کر رہے گا"

قَالُوْا [ ان لوگوں نے کہا ] لَىِٕنْ [ یقینا اگر ] لَّمْ تَنْتَهِ [ تو باز نہ آیا ] يٰنُوْحُ [ اے نوح ] لَتَكُوْنَنَّ [ تو لازما تو ہوجائے گا ] مِنَ الْمَرْجُوْمِيْنَ [ سنگسار کئے ہوئوں میں سے ]
Ayah 26:117

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

نوحؑ نے دعا کی "“اے میرے رب، میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا

قَالَ [ نوح نے کہا ] رَبِّ [ اے میرے رب ] اِنَّ [ بیشک ] قَوْمِيْ [ میرے قوم نے ] كَذَّبُوْنِ [ جھٹلایا مجھ کو ]
Ayah 26:118

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے"

فَافْتَحْ [ پس تو فیصلہ کر دے ] بَيْنِيْ [ میرے درمیان ] وَبَيْنَهُمْ [ اور ان کے درمیان ] فَتْحًا [ جیسے فیصلہ کرنے کا حق ہے ] وَّنَجِّـنِيْ [ اور تو نجات دے مجھ کو ] وَمَنْ [ اور ان کو جو ] مَّعِيَ [ میرے ساتھ ہیں ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں میں سے ]
Ayah 26:119

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

آخرکار ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں بچا لیا

فَاَنْجَيْنٰهُ [ تو ہم نے نجات دی ان کو ] وَمَنْ [ اور ان کو بھی جو ] مَّعَهٗ [ ان کے ساتھ تھے ] فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِ [ بھری ہوئی کشتی ] ش ح ن (ف) شحنا کسی چیز کو کسی چیز سے بھرنا۔ پر کرنا۔ کسی پر کچھ لادنا۔ مشحون اسم المفعول ہے۔ بھرا ہوا۔ پر کیا ہوا۔ لادا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 119 ۔
Ayah 26:120

ثُمَّ اَغْرَقْنَا بَعْدُ الْبٰقِیْنَؕ Open ayah 26:120 in the Quran reader

اور اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیا

ثُمَّ [ بھر ] اَغْرَقْنَا [ ہم نے غرق کیا ] بَعْدُ [ بعد میں ] الْبٰقِيْنَ [ باقی لوگوں کو ]