26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 26:161

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:161 in the Quran reader

یاد کرو جبکہ ان کے بھائی لوطؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟

اِذْ قَالَ [ جب کہا ] لَهُمْ [ ان سے ] اَخُوْهُمْ [ ان کے بھائی ] لُوْطٌ [ لوط (علیہ السلام) نے ] اَلَا تَتَّقُوْنَ [ کیا تم لوگ تقوی اختیار نہیں کرو گے ]
Ayah 26:162

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:162 in the Quran reader

میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

اِنِّىْ [ بیشک میں ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ [ ایک امانتدار رسول ہوں ]
Ayah 26:163

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:163 in the Quran reader

لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

فَاتَّــقُوا [ پس تقوی اختیار کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کا ] وَاَطِيْعُوْنِ [ اور اطاعت کرو میری ]
Ayah 26:164

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:164 in the Quran reader

میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے

وَمَآ اَسْـَٔــلُكُمْ [ اور میں نہیں مانگتا تم سے ] عَلَيْهِ [ اس پر ] مِنْ اَجْرٍ ۚ[ کوئی بھی اجرت ] اِنْ اَجْرِيَ [ نہیں ہے میری اجرت ] اِلَّا [ مگر ] عَلٰي رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے رب پر ]
Ayah 26:165

اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:165 in the Quran reader

کیا تم دنیا کی مخلوق میں سے مَردوں کے پاس جاتے ہو

اَتَاْتُوْنَ [ کیا تم لوگ آتے ہو ] الذُّكْرَانَ [ مردوں کے پاس ] مِنَ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں میں سے ]
Ayah 26:166

وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ Open ayah 26:166 in the Quran reader

اور تمہاری بیویوں میں تمہارے رب نے تمہارے لیے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو؟ بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزر گئے ہو"

وَتَذَرُوْنَ [ اور چھوڑتے ہو ] مَا [ اس کو جو ] خَلَقَ [ پیدا کیا ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] رَبُّكُمْ [ تمہارے رب نے ] مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ ۭ[ تمہاری بیویں میں سے ] بَلْ اَنْتُمْ [ بلکہ تم لوگ ] قَوْمٌ عٰدُوْنَ [ حد سے بڑھنے والی قوم ہو ]
Ayah 26:167

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ Open ayah 26:167 in the Quran reader

انہوں نے کہا “اے لوطؑ، "اگر تو اِن باتوں سے باز نہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں اُن میں تو بھی شامل ہو کر رہے گا"

قَالُوْا [ ان لوگوں نے کہا ] لَىِٕنْ [ بیشک اگر ] لَّمْ تَنْتَهِ [ تو باز نہ آیا ] يٰلُوْطُ [ اے لوط (علیہ السلام) ] لَتَكُوْنَنَّ [ تو لازما تو ہوجائے گا ] مِنَ الْمُخْرَجِيْنَ [ نکالے جانے والوں میں سے ]
Ayah 26:168

قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ Open ayah 26:168 in the Quran reader

اس نے کہا "تمہارے کرتوتوں پر جو لوگ کُڑھ رہے ہیں میں اُن میں شامل ہوں

قَالَ [ (لوط (علیہ السلام) نے) کہا ] اِنِّىْ [ بیشک میں ] لِعَمَلِكُمْ [ تمہارے عمل کے لئے ] مِّنَ الْقَالِيْنَ [ بغض رکھنے والوں میں سے ہوں ] ق ل و (ن) قلوا کسی سے بغض رکھنا۔ بیزار ہونا۔ مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰى (نہیں چھوڑا آپ ﷺ کو آپ ﷺ کے رب نے اور نہ وہ بیزار ہوا) 93/3 ۔ قال اسم الفاعل ہے۔ بغض رکھنے والا۔ بیزار ہونے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 168 ۔
Ayah 26:169

رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:169 in the Quran reader

اے پروردگار، مجھے اور میرے اہل و عیال کو ان کی بد کرداریوں سے نجات دے"

رَبِّ [ اے میرے رب ] نَجِّنِيْ [ تو نجات دے مجھ کو ] وَاَهْلِيْ [ اور میرے گھر والوں کو ] مِمَّا [ اس سے جو ] يَعْمَلُوْنَ [ یہ لوگ کرتے ہیں ]
Ayah 26:170

فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 26:170 in the Quran reader

آخرکار ہم نے اسے اور اس کے سب اہل و عیال کو بچا لیا

فَنَجَّيْنٰهُ [ تو ہم نے نجات دی ان کو ] وَاَهْلَهٗٓ [ اور ان (علیہ السلام) کے گھر والوں کو ] اَجْمَعِيْنَ [ سب کو ]
Ayah 26:171

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ Open ayah 26:171 in the Quran reader

بجز ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی

اِلَّا عَجُوْزًا [ سوائے ایک بڑھیا کے ] فِي الْغٰبِرِيْنَ [ پیچھے رہ جانے والوں میں ]
Ayah 26:172

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:172 in the Quran reader

پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے تباہ کر دیا

ثُمَّ [ پھر ] دَمَّرْنَا [ ہم نے ہلاک کیا ] الْاٰخَرِيْنَ [ دوسروں کو ]
Ayah 26:173

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 26:173 in the Quran reader

اور ان پر برسائی ایک برسات، بڑی ہی بُری بارش تھی جو اُن ڈرائے جانے والوں پر نازل ہوئی

وَاَمْطَرْنَا [ اور ہم نے برسائی ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] مَّطَرًا ۚ [ ایک برسنے والی چیز ] فَسَاۗءَ [ تو برا تھا ] مَطَرُ الْمُنْذَرِيْنَ [ خبردار کئے ہوؤں کا برساؤ]
Ayah 26:174

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:174 in the Quran reader

یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر اِن میں سے اکثر ماننے والے نہیں

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [ بیشک اس میں ] لَاٰيَةً ۭ [ یقینا ایک نشانی ہے ] وَمَا كَانَ [ اور نہیں تھے ] اَكْثَرُهُمْ [ ان کے اکثر ] مُّؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]
Ayah 26:175

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:175 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

وَاِنَّ رَبَّكَ [ اور بیشک آپ ﷺ کا رب ] لَهُوَ [ یقینا وہی ] الْعَزِيْزُ [ بالادست ہے ] الرَّحِيْمُ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ] نوٹ۔ 1: بحیرہ مردار کے جنوب اور مشرق میں جو علاقہ آج انتہائی ویران اور سنسان حالت میں پڑا ہوا ہے، اس میں بکثرت پرانی بستیوں کے کھنڈروں کی موجودگی پتہ دیتی ہے کہ یہ کسی زمانے میں نہایت آباد رہا تھا۔ آج وہاں سینکڑوں برباد شدہ بستیوں کا آثار ملتے ہیں۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس علاقے کی آبادی کی خوشحالی کا دور 2300 قبل مسیح سے 1900 قبل مسیح تک رہا ہے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق مؤرخین کا اندازہ یہ ہے کہ وہ دو ہزار برس قبل مسیح کے زمانے میں گزرے ہیں۔ اس لحاظ سے آثار کی شہادت اس بات کی تائید کرتی ہے کہ یہ علاقہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) کے عہد ہی میں برباد ہوا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 26:176

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

اصحاب الاَیکہ نے رسولوں کو جھٹلایا

كَذَّبَ [ جھٹلایا ] اَصْحٰبُ لْــــَٔــيْكَةِ [ گھنے درخت والوں نے ] الْمُرْسَلِيْنَ [ بھیجے ہوؤں کو ]
Ayah 26:177

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:177 in the Quran reader

یاد کرو جبکہ شعیبؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں؟

اِذْ قَالَ [ جب کہا ] لَهُمْ [ ان سے ] شُعَيْبٌ [ شعیب (علیہ السلام) نے ] اَلَا تَتَّقُوْنَ [ کیا تم لوگ تقوی اختیار نہیں کرو گے ]
Ayah 26:178

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:178 in the Quran reader

میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

اِنِّىْ لَكُمْ [ بیشک میں تمہارے لئے ] رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ [ ایک امانتدار رسول ہوں ]
Ayah 26:179

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:179 in the Quran reader

لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

فَاتَّقُوا [ تو تقوی اختیار کرو ] اللّٰهَ [ اللہ کا ] وَاَطِيْعُوْنِ [ اور اطاعت کرو میری ]
Ayah 26:180

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:180 in the Quran reader

میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے

وَمَآ اَسْـَٔــلُكُمْ [ اور میں نہیں مانگتا تم سے ] عَلَيْهِ [ اس پر ] مِنْ اَجْرٍ ۚ [ کوئی بھی اجرت ] اِنْ اَجْرِيَ [ نہیں ہے میری اجرت ] اِلَّا عَلٰي رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ مگر تمام جہانوں کے رب پر ]
Ayah 26:181

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو

اَوْفُوا [ تم لوگ پورا بھرو ] الْكَيْلَ [ پیمانے کو ] وَلَا تَكُوْنُوْا [ اور تم لوگ مت ہو ] مِنَ الْمُخْسِرِيْنَ [ خسارہ دینے والوں میں سے ]
Ayah 26:182

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

صحیح ترازو سے تولو

وَ [ اور ] زِنُوْا [ تم لوگ وزن کرو ] بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْـتَقِيْمِ [ سیدھی ترازو سے ]
Ayah 26:183

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو

وَلَا تَبْخَسُوا [ اور حق سے کم مت دو ] النَّاسَ [ لوگوں کو ] اَشْيَاۗءَهُمْ [ ان کی چیزیں ] وَلَا تَعْثَوْا [ اور انتشار مت پھیلاؤ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] مُفْسِدِيْنَ [ نظم بگاڑنے والے ہوتے ہوئے ] نوٹ۔ 1: وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْيَاۗءَهُمْ کی ایک صورت اشیاء میں ملاوٹ بھی ہے کہ کوئی شخص گندم میں جو ، گھی میں چربی اور دودھ میں پانی ملا کر فروخت کرے۔ اس طرح وہ بظاہر خریدار کو وزن یا پیمانہ کے اعتبار سے تو چیز پوری کردیتا ہے لیکن اس کے اندر اصل شے کم ہوتی ہے۔ (تدبر قرآن)
Ayah 26:184

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

اور اُس ذات کا خوف کرو جس نے تمہیں اور گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا ہے"

وَاتَّقُوا [ اور تم لوگ تقویٰ اختیار کرو ] الَّذِيْ [ اس کا جس نے ] خَلَقَكُمْ [ پیدا کیا تم لوگوں کو ] وَالْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِيْنَ [ اور پہلی خلقت کو ]
Ayah 26:185

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

انہوں نے کہا "تو محض ایک سحرزدہ آدمی ہے

قَالُوْٓا [ ان لوگوں نے کہا ] اِنَّمَآ [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] اَنْتَ [ تو ] مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ [ جادو کئے ہوؤں میں سے ہے ]
Ayah 26:186

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

اور تو کچھ نہیں مگر ایک انسان ہم ہی جیسا، اور ہم تو تجھے بالکل جھوٹا سمجھتے ہیں

وَمَآ اَنْتَ [ اور تو نہیں ہے ] اِلَّا بَشَرٌ [ مگر ایک بشر ] مِّثْلُنَا [ ہمارے جیسا ] وَاِنْ [ اور بیشک ] نَّظُنُّكَ [ ہم گمان کرتے ہیں تجھ کو ] لَمِنَ الْكٰذِبِيْنَ [ یقینا جھوٹ کہنے والوں میں سے ]
Ayah 26:187

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے"

فَاَسْقِطْ [ پس تو گرا ] عَلَيْنَا [ ہم پر ] كِسَفًا [ کوئی ٹکڑا ] مِّنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] اِنْ كُنْتَ [ اگر تو ہے ] مِنَ الصّٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والوں میں سے ]
Ayah 26:188

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

شعیبؑ نے کہا "میرا رب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو"

قَالَ [ (شعیب (علیہ السلام) نے) کہا ] رَبِّيْٓ [ میرا رب ] اَعْلَمُ [ سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] بِمَا [ اس کو جو ] تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ کو تے ہو ]
Ayah 26:189

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

انہوں نے اسے جھٹلا دیا، آخرکار چھتری والے دن کا عذاب ان پر آ گیا، اور وہ بڑے ہی خوفناک دن کا عذاب تھا

فَكَذَّبُوْهُ [ پھر ان لوگوں نے جھٹلایا ان کو ] فَاَخَذَهُمْ [ تو پکڑا ان لوگوں کو ] عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ ۭ [ سائبان کے دن کے عذاب نے ] اِنَّهٗ [ حقیقت یہ ہے کہ ] كَانَ [ وہ تھا ] عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ [ ایک عظیم دن کا عذاب ]
Ayah 26:190

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [ بیشک اس میں ] لَاٰيَةً ۭ[ یقینا ایک نشانی ہے ] وَمَا كَانَ [ اور نہیں تھے ] اَكْثَرُهُمْ [ ان کے اکثر ] مُّؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]
Ayah 26:191

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

وَاِنَّ رَبَّكَ [ اور بیشک آپ ﷺ کا رب ] لَهُوَ [ یقینا وہی ] الْعَزِيْزُ [ بالادست ہے ] الرَّحِيْمُ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 26:192

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے

وَاِنَّهٗ [ اور بیشک یہ (قرآن)] لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ یقینا تمام جہانوں کے رب کا اتارنا ہے ]
Ayah 26:193

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

اسے لے کر تیرے دل پر امانت دار روح اتری ہے

نَزَلَ بِهِ [ اتارا اس کو ] الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ [ روح الامین نے ]
Ayah 26:194

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

تاکہ تو اُن لوگوں میں شامل ہو جو (خدا کی طرف سے خلق خدا کو) متنبّہ کرنے والے ہیں

عَلٰي قَلْبِكَ [ آپ ﷺ کے دل پر ] لِتَكُوْنَ [ تاکہ آپ ﷺ ہوجائیں ] مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ [ خبردار کرنے والوں میں سے ]
Ayah 26:195

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

صاف صاف عربی زبان میں

بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ [ واضح عربی زبان میں ]
Ayah 26:196

وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:196 in the Quran reader

اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے

وَاِنَّهٗ [ اور بیشک یہ ] لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ [ یقینا پہلوں کے صحیفوں میں ہے ] نوٹ۔ 1: وانہ لفی زبر الاولین۔ یہ قرآن کے حق میں میں سابق صحیفوں کی شہادت کا حوالہ ہے کہ اس کا ذکر اور اس کی پشین گوئی انبیاء سابقین کے صحیفوں میں موجود ہے۔ آیت کا یہ مفہوم نہایت واضح ہے۔ لیکن معلوم نہیں کس طرح بعض فقہاء کی طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ انھوں نے اس آیت سے یہ استباط کیا ہے کہ قرآن کسی عجمی زبان میں بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ یہ بات کسی طرح ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ کسی دوسری زبان میں اگر قرآن کو منتقل کیا جائے تو وہ قرآن نہیں ہوگا بلکہ اس کا ترجمہ ہوگا اور ترجمہ اور اصل میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ پورے قرآن کو تو درکنار قرآن کی کسی ایک سورة بلکہ ایک آیت کے ترجمہ کو قرآن کی سورة یا اس کی آیت کا قائم مقام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ہمارے نزدیک اس آیت سے یہ استنباط بالکل بےجوڑا اور بجائے خود بالکل غلط بلکہ دین کے لئے ایک شدید فتنہ ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ جن فقہاء کی طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے ، کسی غلط فہمی کی بنا پر منسوب کی گئی ہے۔ (تدبر القرآن) نوٹ۔ 2: یہ آیت منجملہ ان دلائل کے ہے جو اس رائے کے حق میں پیش کئے جاتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نماز میں قرآن کا ترجمہ پڑھ لے تو نماز ہوجاتی ہے۔ بنائے استدلال علامہ ابوبکر جصاص کے الفاظ میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں ارشاد فرما رہا ہے کہ یہ قرآن پچھلی کتابوں میں بھی تھا اور ظاہر ہے کہ ان کتابوں میں وہ عربی الفاظ کے ساتھ نہ تھا۔ لہٰذا کسی دوسری زبان میں اس کے مضامین کو نقل کردینا اسے قرآن ہونے سے خارج نہیں کردیتا۔ لیکن اس استدلال کی کمزروی بالکل ظاہر ہے۔ قرآن مجید ہو یا کوئی دوسری آسمانی کتاب ، ہر کتاب جس زبان میں بھی آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معنی اور لفظ دونوں کے ساتھ آئی ہے۔ اس لئے قرآن کی تعلیم جن پچھلی کتابوں میں تھی، انسانی لفظ میں نہیں ، خدائی الفاظ ہی میں تھی اور ان میں سے کسی کے ترجمہ کو بھی کتاب اللہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اصل کا قائم مقام ٹھہرایا جاسکے۔ رہا قرآن تو اس کے متعلق بار بار صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ وہ لفظاً لفظاً عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ مثلاً یوسف۔ 2، الرعد۔ 37، الزمر۔ 28 ۔ اور خود اسی آیت زیر بحث سے پہلے فرمایا جاچکا ہے کہ روح الامین اسے عربی زبان میں لے کر اترے۔ اب اس کے متعلق یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ اس کا کوئی ترجمہ جو کسی انسان نے دوسری زبان میں کیا ہو وہ بھی قرآن ہی ہوگا اور اس کے الفاظ اللہ تعالیٰ کے الفاظ کے قائم مقام ہوں گے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 26:197

اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:197 in the Quran reader

کیا اِن (اہلِ مکہ) کے لیے یہ کوئی نشانی نہیں ہے کہ اِسے علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں؟

اَوَ [ اور کیا ] لَمْ يَكُنْ [ ہوئی ہی نہیں ] لَّهُمْ [ ان کے لئے ] اٰيَةً [ کوئی نشانی ] اَنْ [ (اس میں ) کہ ] يَّعْلَمَهٗ [ علم رکھتے ہیں اس کا ] عُلَمٰۗؤُا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل کے عالم لوگ ]
Ayah 26:198

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ Open ayah 26:198 in the Quran reader

(لیکن اِن کی ہٹ دھرمی کا حال یہ ہے کہ) اگر اہم اسے کسی عجمی پر بھی نازل کر دیتے

وَلَوْ [ اور اگر ] نَزَّلْنٰهُ [ ہم اتارتے اس کو ] عَلٰي بَعْضِ الْاَعْجَمِيْنَ [ غیر عربی لوگوں کے کسی پر ]
Ayah 26:199

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 26:199 in the Quran reader

اور یہ (فصیح عربی کلام) وہ ان کو پڑھ کر سناتا تب بھی یہ مان کر نہ دیتے

فَقَرَاَهٗ عَلَيْهِمْ [ پھر وہ اسے پڑھ کر سناتا ان لوگوں کو ] مَّا كَانُوْا [ تو وہ نہ ہوتے ] بہ [ اس پر ] بِهٖ مُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]
Ayah 26:200

كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 26:200 in the Quran reader

اِسی طرح ہم نے اس (ذکر) کو مجرموں کے دلوں میں گزارا ہے

كَذٰلِكَ [ اس طرح ] سَلَكْنٰهُ [ ہم نے ڈالا اس (انکار) کو ] فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ [ جرم کرنے والوں کے دلوں میں ]