26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر مطالعہ قرآن

Ayah 26:41

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

جب جادوگر میدان میں آ گئے تو انہوں نے فرعون سے کہا "ہمیں انعام تو ملے گا اگر ہم غالب رہے؟"

فَلَمَّا [ پھر جب ] جَاۗءَ [ آئے ] السَّحَرَةُ [ جادوگر لوگ ] قَالُوْا [ انھوں نے کہا ] لِفِرْعَوْنَ [ فرعون سے ] اَىِٕنَّ [ کیا بیشک (یعنی کیا واقعی)] لَنَا [ ہمارے لئے ] لَاَجْرًا [ ضرور کوئی اجر ہے ] اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِيْنَ [ اگر ہم ہی غالب ہوں ]
Ayah 26:42

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

اس نے کہا "ہاں، اور تم تو اس وقت مقربین میں شامل ہو جاؤ گے"

قَالَ [ (فرعون نے) کہا ] نَعَمْ [ ہاں ] وَاِنَّكُمْ [ اور بیشک تم لوگ ] اِذًا [ تب تو ] لَّمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ [ ضرور ہم ہی غالب ہونے والے ہیں ]
Ayah 26:43

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا "پھینکو جو تمہیں پھینکنا ہے"

[ قَالَ : کہا [ لَهُمْ : ان سے [ مُّوْسٰٓي : موسیٰ نے ][ اَلْقُوْا : تم لوگ ڈالو ] مَآ : اس چیز کو ][ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ : تم لوگ ڈالنے والے ہو ]
Ayah 26:44

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

انہوں نے فوراً اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے "فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے"

[ فَاَلْـقَوْا : تو انہوں نے ڈالیں ][ حِبَالَهُمْ : اپنی رسیاں ][ وَعِصِيَّهُمْ : اور اپنی لاٹھیاں ][ وَقَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ : اور انہوں نے کہا فرعون کی عزت کی قسم ][ اِنَّا : بیشک ہم ][ لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ : ضرور ہم ہی غالب ہونے والے ہیں ] نوٹ۔ 1: بعزۃ فرعون۔ یہ کلمہ ان جادوگروں کی قسم ہے جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھی۔ افسوس کہ مسلمانوں میں بھی اب ایسی قسمیں رائج ہوگئی ہیں جو اس سے زیادہ شنیع اور قبیح ہیں مثلا بادشاہ کی قسم ، تیرے سر کی قسم ، میری داڑھی کی قسم، تیرے باپ کی قبر کی قسم وغیرہ۔ اس قسم کی قسمیں کھانا شرعا جائز نہیں ہے بلکہ ان کے متعلق یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ خدا کے نام کی جھوٹی قسم کھانے میں جو گناہ عظیم ہے، ان ناموں کی سچی قسم بھی گناہ میں اس سے کم نہیں۔ (معارف القرآن)
Ayah 26:45

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

پھر موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جا رہا تھا

فَاَلْقٰى [ پھر ڈالا ] مُوْسٰي [ موسیٰ (علیہ السلام) نے ] عَصَاهُ [ اپنا عصا ] فَاِذَا [ تو جب ہی ] هِىَ [ وہ ] تَلْقَفُ [ نگلنے لگا ] مَا [ اس کو جو ] يَاْفِكُوْنَ [ وہ لوگ جھوٹی بناوٹ کرتے تھے ]
Ayah 26:46

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

اس پر سارے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر پڑے

فَاُلْقِيَ [ پھر ڈالدئیے گئے ] السَّحَرَةُ [ جادو گر لوگ ] سٰجِدِيْنَ [ سجدہ کرنے والوں کی حالت میں ]
Ayah 26:47

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

اور بول اٹھے کہ "مان گئے ہم رب العالمین کو

قَالُوْٓا [ انھوں نے کہا ] اٰمَنَّا [ ہم ایمان لائے ] بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے رب پر ] نوٹ۔ 2: آیت نمبر 7/115 کے نوٹ۔ 1 ۔ میں جادوگروں کے ایمان لانے کا جو پس منظر بیان ہوا ہے اسے دوبارہ پڑھ کر اپنے ذہن میں تازہ کرلیں۔ پھر لاضیر پر غور کریں جس میں لائے نفی جنس استعمال ہوا ہے ، تو پھر ان شاء اللہ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے گی کہ آبا و اجداد کے کسی نظریہ یا عقیدے (Dogma) کی کیفیت انسان کے قلب و ذہن میں ایسی ہی ہوتی ہے جیسے زمین پر پھیلی ہوئی کوئی بیل بوٹی جس کی جڑ زمین میں گہری نہیں ہوتی اور جس کو آسانی سے اکھیڑا جاسکتا ہے۔ لیکن انسان اپنے علم کی بنیاد پر سوچ سمجھ کر جب کوئی نظریہ یا عقیدہ اپناتا ہے تو وہ اس کے قلب و ذہن میں رچ بس جاتا ہے ۔ اس کو اکھاڑنا آسان نہیں ہے۔ انسان جان دینا گوارہ کرلیتا ہے لیکن اس سے دستبردار ہونے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک بالکل نئی کیفیت ہے۔ ایک بالکل الگ نشہ ہے۔ یہ وہ نشہ نہیں جسے تلخی ایام کی ترشی اتار دے۔
Ayah 26:48

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

موسیٰؑ اور ہارونؑ کے رب کو"

رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ [ جو ہارون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا رب ہے ]
Ayah 26:49

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

فرعون نے کہا "تم موسیٰؑ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے اچھا، ابھی تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے، میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں میں کٹواؤں گا اور تم سب کو سولی چڑھا دوں گا"

قَالَ [ (فرعون نے) کہا ] اٰمَنْتُمْ [ تم لوگوں نے بات مان لی ] لَهٗ [ اس کی ] قَبْلَ اَنْ [ اس سے پہلے کہ ] اٰذَنَ [ میں اجازت دینا ] لَكُمْ ۚ [ تم لوگوں کو ] اِنَّهٗ [ بیشک یہ ] لَكَبِيْرُكُمُ الَّذِيْ [ تم لوگوں کا وہ بڑا ہے جس نے ] عَلَّمَكُمُ [ سکھایا تم لوگوں کو ] السِّحْرَ ۚ [ جادو کرنا ] فَلَسَوْفَ [ تو یقینا عنقریب ] تَعْلَمُوْنَ ڛ [ تم لوگ جان لوگے ] لَاُقَـطِّعَنَّ [ میں لازما کاٹوں گا ] اَيْدِيَكُمْ [ تمہارے ہاتھوں کو ] وَاَرْجُلَكُمْ [ اور تمہارے پیروں کو ] مِّنْ خِلَافٍ [ مخالف (طرف) سے ] وَّلَاُوصَلِّبَنَّكُمْ [ اور میں لازما پھانسی دوں گا تم لوگوں کو ] اَجْمَعِيْنَ [ سب کے سب کو ]
Ayah 26:50

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا "کچھ پرواہ نہیں، ہم اپنے رب کے حضور پہنچ جائیں گے

قَالُوْا [ انھوں نے کہا ] لَا ضَيْرَ ۡ [ کسی قسم کی کوئی بھی تکلیف نہیں ہے ] اِنَّآ [ بیشک ہم ] اِلٰى رَبِّنَا [ اپنے رب کی طرف ] مُنْقَلِبُوْنَ [ لوٹنے والے ہیں ] ض ی ر (ض) ضیرا نقصان دینا۔ تکلیف پہنچانا۔ ضیر اسم ذات بھی ہے۔ نقصان ۔ تکلیف۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 50 ۔
Ayah 26:51

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

اور ہمیں توقع ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہ معاف کر دے گا کیونکہ سب سے پہلے ہم ایمان لائے ہیں"

اِنَّا [ بیشک ہم ] نَــطْمَعُ [ آرزو کرتے ہیں ] اَنْ [ کہ ] يَّغْفِرَ [ بخش دے ] لَنَا [ ہمارے لئے ] رَبُّنَا [ ہمارا رب ] خَطٰيٰنَآ [ ہماری خطاؤں کو ] اَنْ [ (اس سبب سے) کہ ] كُنَّآ [ ہم ہوئے ] اَوَّلَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں کے پہلے ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 51 اور 52 ۔ کے درمیان سرگزشت کا کچھ حصہ محذوف ہے۔ قرآن اور تورات ، دونوں کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ اس مقابلہ میں شکست کھانے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ایک عرصے تک کشمکش چلتی رہی۔ اس دوران میں مصر پر بہت سی آفتیں نازل ہوئیں جن سے ملک تباہی کے کنارے آلگا۔ مجبور ہوکر فرعون نے بنی اسرائیل کو جانے کی اجازت تو دے دی لیکن جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پوری قوم کو لے کر نکلے تو اس کی رائے بدل گئی اور اس نے تعاقب کا فیصلہ کیا۔ آیت۔ 52 ۔ میں اسی صورت حال کی طرف اشارہ ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی ہدایت کردی کہ تم راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر نکل جاؤ اور ساتھ ہی اس بات سے بھی آگاہ کردیا کہ اگرچہ فرعون نے تم کو جانے کی اجزت دے دی ہے لیکن اس کے باوجود تعاقب کیا جائے گا۔ (تدبر قرآن)
Ayah 26:52

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

ہم نے موسیٰؑ کو وحی بھیجی کہ "راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ، تمہارا پیچھا کیا جائے گا"

وَاَوْحَيْنَآ[ اور ہم نے وحی کی ] اِلٰى مُوْسٰٓي [ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ] اَنْ اَسْرِ [ کہ آپ (علیہ السلام) رات میں لے کر نکلیں ] بِعِبَادِيْٓ [ میرے بندوں کو ] اِنَّكُمْ [ بیشک تم لوگ ] مُّتَّبَعُوْنَ [ پیچھا کیے جانے والے ہو ]
Ayah 26:53

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

اس پر فرعون نے (فوجیں جمع کرنے کے لیے) شہروں میں نقیب بھیج دیے

فَاَرْسَلَ [ تو بھیجا ] فِرْعَوْنُ [ فرعون نے ] فِي الْمَدَاۗىِٕنِ [ شہروں میں ] حٰشِرِيْنَ [ اکٹھا کرنے والوں کو ]
Ayah 26:54

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

(اور کہلا بھیجا) کہ "یہ کچھ مٹھی بھر لوگ ہیں

اِنَّ [ بیشک ] هٰٓؤُلَاۗءِ [ یہ لوگ ] لَشِرْذِمَةٌ قَلِيْلُوْنَ [ یقینا ایک تھوڑی سی جماعت ہیں ]
Ayah 26:55

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

اور انہوں نے ہم کو بہت ناراض کیا ہے

وَاِنَّهُمْ [ اور بیشک وہ لوگ ] لَنَا [ ہمارا ] لَغَاۗىِٕظُوْنَ [ یقینا خون کھولا نے والے ہیں ]
Ayah 26:56

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور ہم ایک ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہر وقت چوکنا رہنا ہے"

وَاِنَّا [ اور بیشک ہم ] لَجَمِيْعٌ [ یقینا سب کے سب ] حٰذِرُوْنَ [ بچاؤ کی تیاری کرنے والے ہیں ]
Ayah 26:57

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

اِس طرح ہم انہیں ان کے باغوں اور چشموں

فَاَخْرَجْنٰهُمْ [ پھر ہم نے نکالا ان کو ] مِّنْ جَنّٰتٍ [ باغوں سے ] وَّعُيُوْنٍ [ اور چشموں سے ]
Ayah 26:58

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے نکال لائے

وَّكُنُوْزٍ [ اور خزانوں سے ] وَّمَقَامٍ كَرِيْمٍ [ اور باعزت مقام سے ]
Ayah 26:59

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

یہ تو ہوا اُن کے ساتھ، اور (دوسری طرف) بنی اسرائیل کو ہم نے ان سب چیزوں کا وارث کر دیا

كَذٰلِكَ ۭ [ اسی طرح ہے ] وَاَوْرَثْنٰهَا [ اور ہم نے وارث بنایا ان (چیزوں) کا ] بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ نبی اسرائیل کو ] نوٹ۔ 2: واورثنھا میں ضمیر مفعولی ھا سے مراد بعینہ وہی نعمتیں نہیں ہیں جن سے فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے نکالا بلکہ اسی نوع کی وہ نعمتیں ہیں جو بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کے بعد فلسطین میں حاصل ہوئیں۔ چناچہ الاعراف کی آیت ۔ 137 ۔ میں اس کی تصریح بھی ہے۔ اس آیت میں ارض مبارک سے مراد فلسطین ہے۔ مصر سے نکلنے اور صحرا نور دی کا دور ختم ہونے کے بعد یہی زرخیز علاقہ بنی اسرائیل کے قبضے میں آیا ہے ۔ مصر کے کسی علاقے پر بنی اسرائیل کا قبضہ تاریخ سے ثابت نہیں ہے۔ واضح رہے کہ عربی میں ضمیروں کا اس طرح کا استعمال معروف ہے۔ قرآن مجید میں اس کی متعدد مثالیں ہیں۔ سورة مائدہ کی آیت۔ 102 ۔ اس کی نہایت واضح مثال ہے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو بنی اسرائیل کے سوالات کی نوعیت کے سوالات کرنے سے روکا گیا ہے۔ اس میں الفاظ آئے ہیں قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ (پوچھ چکی ہے ان کو ایک قوم تم لوگوں سے پہلے) ۔ ظاہر ہے کہ یہاں مفعولی ضمیر ھا جن سوالات کے لئے ہے بعینہ وہی سوالات بنی اسرائیل نے نہیں کئے تھے۔ بلکہ اسی قبیل کے سوالات کئے تھے۔ اسی طرح آیت زیر بحث میں بھی بعینہ وہی باغ چشمے اور خزانے مراد نہیں ہیں جن کا سابق آیت میں ذکر ہے بلکہ اسی نوع کی وہ نعمتیں اور برکتیں مراد ہیں جو بنی اسرائیل کو مصر سے ہجرت کے بعد فلسطین میں حاصل ہوئیں۔ (تدبر قرآن)
Ayah 26:60

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

صبح ہوتے ہی یہ لوگ اُن کے تعاقب میں چل پڑے

فَاَتْبَعُوْهُمْ [ پھر وہ لوگ پیچھے لگے ان کے ] مُّشْرِقِيْنَ [ سورج نکلتے ہی ]
Ayah 26:61

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰؑ کے ساتھی چیخ اٹھے کہ "ہم تو پکڑے گئے"

فَلَمَّا [ پھر جب ] تَرَاۗءَ [ ایک دوسرے کو دیکھا ] الْجَمْعٰنِ [ دو جماعتوں نے ] قَالَ [ تو کہا ] اَصْحٰبُ مُوْسٰٓي [ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے ] اِنَّا [ بیشک ہم ] لَمُدْرَكُوْنَ [ یقینا پکڑے جانے والے ہیں ]
Ayah 26:62

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

موسیٰؑ نے کہا "ہرگز نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا"

قَالَ [ (موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا ] كَلَّا ۚ [ ہرگز نہیں ] اِنَّ [ یقینا ] مَعِيَ [ میرے ساتھ ] رَبِّيْ [ میرا رب ہے ] سَيَهْدِيْنِ [ وہ راہ سمجھائے گا مجھ کو ]
Ayah 26:63

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

ہم نے موسیٰؑ کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ "مار اپنا عصا سمندر پر" یکایک سمندر پھَٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح ہو گیا

فَاَوْحَيْنَآ [ تو ہم نے وحی کی ] اِلٰى مُوْسٰٓي [ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ] اَنِ [ کہ ] اضْرِبْ [ آپ (علیہ السلام) ماریں ] بِّعَصَاكَ [ اپنی لاٹھی سے ] الْبَحْرَ ۭ[ سمندر کو ] فَانْفَلَقَ [ پھر وہ پھٹ گیا ] فَكَانَ [ تو ہوگیا ] كُلُّ فِرْقٍ [ ہر ٹکڑا ] كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِ [ بڑے تودے کے مانند ] ط و د (ن) طودا ثابت قدم ہونا۔ جما ہوا ہونا۔ طود اسم ذات بھی ہے۔ ٹیلہ۔ پہاڑ کا بڑا ٹکڑا۔ تو وہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 63 ۔
Ayah 26:64

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

اُسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے

وَاَزْلَفْنَا [ اور ہم نے نزدیک کیا ] ثَمَّ [ وہیں پر ] الْاٰخَرِيْنَ [ دوسروں کو ]
Ayah 26:65

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

موسیٰؑ اور اُن سب لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، ہم نے بچا لیا

وَاَنْجَيْنَا [ اور ہم نے نجات دی ] مُوْسٰي [ موسیٰ (علیہ السلام) کو ] وَمَنْ [ اور ان کو جو ] مَّعَهٗٓ [ ان کے ساتھ تھے ] اَجْمَعِيْنَ [ سب کو ]
Ayah 26:66

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

اور دوسروں کو غرق کر دیا

ثُمَّ [ پھر ] اَغْرَقْنَا [ ہم نے غرق کیا ] الْاٰخَرِيْنَ [ دوسروں کو ]
Ayah 26:67

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

اس واقعہ میں ایک نشانی ہے، مگر اِن لوگوں میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [ بیشک اس میں ] لَاٰيَةً ۭ [ یقینا ایک نشانی ہے ] وَمَا كَانَ [ اور نہیں تھے ] اَكْثَرُهُمْ [ ان کے اکثر ] مُّؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]
Ayah 26:68

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

وَاِنَّ رَبَّكَ [ اور بیشک آپ ﷺ کا رب ] لَهُوَ الْعَزِيْزُ [ یقینا وہی بالادست ہے ] الرَّحِيْمُ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Ayah 26:69

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 26:69 in the Quran reader

اور اِنہیں ابراہیمؑ کا قصہ سناؤ

وَاتْلُ [ اور آپ ﷺ پڑھ کر سنائیے ] عَلَيْهِمْ [ ان لوگوں کو ] نَبَاَ اِبْرٰهِيْمَ [ ابراہیم (علیہ السلام) کی خبر ]
Ayah 26:70

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 26:70 in the Quran reader

جبکہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا تھا کہ "یہ کیا چیزیں ہیں جن کو تم پوجتے ہو؟"

اِذْ قَالَ [ جن ابھوں نے کہا ] لِاَبِيْهِ [ اپنے والد سے ] وَقَوْمِهٖ [ اور اپنی قوم سے ] مَا [ کسی کی ] تَعْبُدُوْنَ [ تم لوگ عبادت کرتے ہو ]
Ayah 26:71

قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ Open ayah 26:71 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا "کچھ بت ہیں جن کی ہم پوجا کرتے ہیں اور انہی کی سیوا میں ہم لگے رہتے ہیں"

قَالُوْا [ ان لوگوں نے کہا ] نَعْبُدُ [ ہم عبادت کرتے ہیں ] اَصْنَامًا [ کچھ مورتیوں کی ] فَنَظَلُّ [ پھر ہم ہوجاتے ہیں ] لَهَا [ ان کے لئے ] عٰكِفِيْنَ [ اعتکاف کرنے والے ]
Ayah 26:72

قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ Open ayah 26:72 in the Quran reader

اس نے پوچھا "کیا یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو؟

قَالَ [ (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] هَلْ [ کیا ] يَسْمَعُوْنَكُمْ [ وہ (مورتیاں) سنتی ہیں تم کو ] اِذْ تَدْعُوْنَ [ جب تم لوگ پکارتے ہو ]
Ayah 26:73

اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ Open ayah 26:73 in the Quran reader

یا یہ تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں؟"

اَوْ [ یا ] يَنْفَعُوْنَكُمْ [ وہ فائدہ دیتی ہیں تم کو ] اَوْ يَضُرُّوْنَ [ یا نقصان پہنچاتی ہیں ]
Ayah 26:74

قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 26:74 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا "نہیں، بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے"

قَالُوْا [ ان لوگوں نے کہا ] بَلْ وَجَدْنَآ [ بلکہ ہم نے پایا ] اٰبَاۗءَنَا [ اپنے آباؤ اجداد کو ] كَذٰلِكَ [ (کہ) اس طرح ] يَفْعَلُوْنَ [ وہ لوگ کرتے تھے ]
Ayah 26:75

قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:75 in the Quran reader

اس پر ابراہیمؑ نے کہا "کبھی تم نے (آنکھیں کھول کر) اُن چیزوں کو دیکھا بھی جن کی بندگی تم

قَالَ [ (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا ] اَفَرَءَيْتُمْ [ تو کیا تم لوگوں نے غور کیا ] مَّا [ ان پر جن کی ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ] تَعْبُدُوْنَ [ عبادت کرتے ہو ]
Ayah 26:76

اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ Open ayah 26:76 in the Quran reader

اور تمہارے پچھلے باپ دادا بجا لاتے رہے؟

اَنْتُمْ [ تم ] وَاٰبَاۗؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ [ اور تمہارے اگلے باپ دادا ]
Ayah 26:77

فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:77 in the Quran reader

میرے تو یہ سب دشمن ہیں، بجز ایک رب العالمین کے

فَاِنَّهُمْ [ تو بیشک وہ سب ] عَدُوٌّ [ دشمن ہیں ] لِّيْٓ [ میرے ] اِلَّا [ سوائے ] رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے رب کے ]
Ayah 26:78

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ Open ayah 26:78 in the Quran reader

جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے

الَّذِيْ [ وہ جس نے ] خَلَقَنِيْ [ پیدا کیا مجھ کو ] فَهُوَ [ تو وہ ہی ] يَهْدِيْنِ [ ہدایت دیتا ہے مجھ کو ]
Ayah 26:79

وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ Open ayah 26:79 in the Quran reader

جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے

وَالَّذِيْ [ اور وہ جو (کہ)] هُوَ [ وہ ہی ] يُطْعِمُنِيْ [ کھلاتا ہے مجھ کو ] وَيَسْقِيْنِ [ اور پلاتا ہے مجھ کو ]
Ayah 26:80

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ Open ayah 26:80 in the Quran reader

اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے

وَاِذَا [ اور جب کبھی ] مَرِضْتُ [ میں بیمار ہوتا ہوں ] فَهُوَ [ تو وہ ہی ] يَشْفِيْنِ [ شفا دیتا ہے مجھ کو ]