26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 26:1

طٰسٓمّٓ Open ayah 26:1 in the Quran reader

طا۔ سیم۔ میم

طا۔۔۔۔۔۔ سی ۔۔۔۔۔۔۔ می ۔۔۔۔۔۔۔ م حروف مقطعات میں سے ہیں : 1۔ حروف مقطعات قرآن کریم کی انتیس سورتوں کے شروع میں آئے ہیں ، یہ کل 14 حروف ہیں ، ان کو حروف ہی کی صورت میں پڑھا گیا ہے الفاظ کی صورت میں نہیں ۔ یہ حروف صرف بطور آگاہی بیان ہوئے ہیں اور انہی سورتوں پر آئے ہیں جن کے مضمون میں کوئی خاص چونکا دینے والی بات بیان کی گئی ۔ اس کے متعلق سورة البقرہ کے شروع میں مفصل بحث گزر چکی ہے تفصیل وہاں سے معلوم کرلیں ، اس جگہ مسلسل تین سورتیں (طسم) کے حروف سے شروع ہو رہی ہیں اور تینوں کا مضمون ایک ہی جیسا ہے ۔
Ayah 26:2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ آیتیں ہیں کتاب روشن کی

یہ واضح کردینے والی کتاب کی آیتیں ہیں : 2۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سورت بھی اس کتاب مبین کی آیات ہیں جس کے مضامین نہایت وضاحت سے صاف صاف بیان کئے گئے ہیں اور وہ اپنا مدعا بھی صاف صاف اور کھول کھول کر بیان کرتی ہیں کوئی بات ان میں مبہم نہیں بیان کی گئی اور اس کا کتاب الہی ہونا روز روشن کی طرح عیاں ہے اور ان کے اس طرح نزول کی ایک ضرورت آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی ہے تاکہ آپ ﷺ اپنا کام پوری تندہی سے جاری رکھیں ۔
Ayah 26:3

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

شاید اس وجہ سے کہ وہ ایمان نہیں لاتے آپ اپنے کو ہلاک ہی (نہ) کر لیں

آپ ﷺ اس فکر میں مبتلا نہ ہوں کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے : 3۔ بخ نفسہ ، کفتح ۔ یبخعھا ، بخھا وبخوعا : قتلھا غیظا اوغمافھو باخع ۔ باخع کا لفظ قرآن کریم میں دوبارہ استعمال ہوا ہے ایک بار اس جگہ اور ایک بار اس سے پہلے سورة الکہف کی آیت 6 میں اور دونوں جگہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ اپنے آپ کو ہلاک کیوں کر رہے ہیں یعنی آپ ﷺ اس غم میں کیوں گھل رہے ہیں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ، یہ بات اس وقت آپ ﷺ کو کہی گئی جب آپ ﷺ شبانہ روز ان کوششوں میں مصروف تھے کہ قریش کی سمجھ میں وہ بات آجائے جس کی طرف میں ان کو دعوت دے رہا ہوں اور وہ لوگ تھے کہ روز بروز اپنی ضد اور عناد میں بڑھتے ہی جا رہے تھے گویا آپ ﷺ ان سے جتنی محبت کرتے تھے وہ آپ ﷺ سے اس سے دس گنا زیادہ نفرت رکھتے تھے جس کے نتیجہ میں نبی اعظم وآخر ﷺ کو جو رنج اور قلق ہوتا ہوگا اس کا اندازہ آپ اور میں نہیں لگا سکتے ، اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرما رہے ہیں کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ 6 ان کفار کے غم میں کیوں نڈھال ہوئے جا رہے ہیں آخر اتنا دل گیر اور غم زدہ ہونے کیا ضرورت ہے ۔ آپ ﷺ اپنا فرض منصبی خوب نباہ رہے ہیں اگر وہ تسلیم کرتے ہوئے آپ کی تعلیمات کے مطابق عمل کرتے ہیں تو ان کا اپنا فائدہ ہے اور اگر وہ اپنی رعونت اور نخوت میں رہتے ہوئے عمل نہیں کرتے تو نقصان بھی ان کا اپنا ہے باوجود آپ ﷺ کے بتانے کے اگر وہ آپ ﷺ کی دعوت قبول نہیں کرتے تو یقینا اس کے انجام کو وہ پہنچ جائیں گے آپ ﷺ اس غم میں گھلنا اور مرنا چھوڑ دیں اس تسلی کا مقصد صرف یہ ہے کہ رسول یہ نہ سمجھے کہ شاید میری کسی کوتاہی کے باعث وہ نہیں مان رہے ، تفصیل کے لئے سورة الکہف کی آیت 6 کی تفسیر کو دیکھ لیں کہ وہاں مزید وضاحت ملے گی ۔
Ayah 26:4

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ان پر ایسی نشانی اتار دیں کہ ان کی گردنیں اس کے سامنے جھکی (کی جھکی) رہ جائیں

اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ان پر کوئی نشان اتار دیں تاکہ ان کی گردنیں جھک جائیں : 4۔ (اعناق) عنق کی جمع ہے جس کے معنی گردن کے ہیں اور عام بول چال میں (اعناق) ان لوگوں کو بھی کہا جاتا ہے جو قوم میں سربرآوردہ لوگ ہوں چوہدری یا سردار ‘ قوم کے و ڈیرے ‘ مذہبی اور سیاسی لیڈر اور راہنما۔ ہاں ! اگر گردنیں ہی مراد لی جائیں تو بھی مفہوم میں کوئی فرق نہیں فرق نہیں پڑتا کیونکہ ایسا ممکن نہیں کہ گردنیں تو جھک جائیں لیکن گردنوں والے نہ جھکیں حالانکہ ظاہر ہے کہ گردنیں جھکنے کا مطلب ہی دراصل ان لوگوں کا جھکنا ہے جن کی گردنوں کی بحث ہے ۔ آیت زیر نظر کا مطلب یہ ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اگر ہم ان لوگوں کو مجبور کرکے ہی منوانا چاہیں تو ایسا کرتے ہم کو کوئی دیر نہیں لگتی لیکن فی الوقت ہم ایسا نہیں چاہتے کیوں ؟ اس لئے کہ ہم نے انکو عقل وفکر اور سوچ سمجھ دی ہے اور پھر آزمانا چاہا کہ وہ اس کا استعمال کس طرح کرتے ہیں اور ان کو مکلف بنایا ہے ظاہر ہے کہ انکو ایک حد تک ہم نے اختیار دیا ہے کہ وہ جو کچھ چاہیں کریں اور جب ہماری قدرت کا فیصلہ ہے اور ہم جو فیصلہ کرتے ہیں وہ بےمقصد نہیں ہوتا نہ ایسا ہوتا ہے کہ آج ایک فیصلہ کیا اور اس کے خلاف دوسرا فیصلہ کردیا ہرگز نہیں ہم نے جو فیصلہ کیا اس میں ان کو آزادی دی ہے اور اس آزادی کو ہم ان سے سلب کرنے والے نہیں ‘ یہ ان کا کام ہے کہ وہ ہمارے اس اختیار سے اپنی آخرت کو سنوار لیں یا انکو بالکل برباد کرکے رکھ دیں اگر انہوں نے اپنی آخرت کو برباد کرنے ہی کا فیصلہ کیا ہے تو ہم انکو مجبور نہیں کریں گے ورنہ اگر مجبور کرنا چاہتے تو زیادہ دیر نہ لگتی کہ انکی گردنیں ہمارے قانون کے سامنے جھکی ہوئی ہوتیں ، غور کرو کہ فرعون نے کتنی ضد کی اور کس طرح اکڑتا اور اتراتا رہا لیکن آخر کب تک ؟ جب تک ہم نے اس کو ڈھیل دے رکھی تھی اور جب اس کی پکڑ کر وقت آیا تو اس نے ایمان لانے میں کتنی دیر کی ؟ وہ تو پکار پکار کر کہنے لگا تھا کہ میں بنی اسرائیل کے رب کو مان گیا ہوں لیکن اس ماننے نے اس کو کچھ فائدہ نہ دیا اس لئے کہ اب وہ ماننے پر مجبور ہوگیا تھا اور مجبور ہو کر کئے گئے کام کی عنداللہ کوئی قدروقیمت نہیں ۔ اس لئے آپ ﷺ کے مخاطبین کو بھی ہم ایک وقت تک مجبور کرنا چاہتے جس وقت تک ہم نے ان کو اختیار دیا ہے ۔
Ayah 26:5

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

اور ان کے پاس خدائے رحمن کی طرف سے کوئی نئی نصیحت نہیں آئی مگر وہ اس سے منہ پھیرتے ہیں

جب بھی ان کو کوئی نیا پیغام پہنچتا ہے تو یہ لوگ منہ پھیر جاتے ہیں : 5۔ ان ناحق شناسوں کا آج نہیں مدت سے یہی رویہ چلا آرہا ہے کہ جب بھی اللہ رحمن ورحیم کی طرف سے کوئی نئی نصیحت اور خیر خوائی کی بات نازل ہوتی ہے تو اس کو ماننے کی بجائے اس سے فورا منہ موڑ جاتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک باپ دادا کی رسم و رواج کی حیثیت زیادہ ہے اور ہماری ہدایت و راہنمائی کی کم ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ باپ دادا کے رسم و رواج کے خلاف کرنے میں انکو سبکی محسوس ہوتی ہے اور ہماری طرف سے آئی ہوئی بات کی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں اس لئے کہ ع ” چلوتم ادھر کو جدھر کی ہوا ہو “ کا جملہ انہوں نے اچھی طرح سن رکھا ہے اور اس رخ پر وہ چلے جا رہے ہیں پھر تیری باتوں سے اعراض نہ کریں تو اور کیا کریں ؟ لہذا آپ ﷺ کو پیغام پہنچانا تھا وہ آپ ﷺ نے پہنچا دیا اور انہوں نے اس کو سمجھ بھی لیا اس لئے اگر وہ اعراض کرتے ہیں تو آپ ﷺ کے ذمہ ان کو سیدھے راستے پر چلانا نہیں ہے کیونکہ یہ آپ ﷺ کی اختیار کی بات نہیں ۔
Ayah 26:6

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) بلاشبہ یہ جھٹلا چکے ، پس عنقریب ان کو اس بات کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے تھے

اگر وہ جھٹلا رہے ہیں تو ہم نے جھٹلانے والوں کی خبریں بھی ان کو بتا دیں ہیں : 6۔ جب انہوں نے دین حق کو معقولیت کے ساتھ سمجھانے کے باوجود اسے جھٹلادیا ہے اور اس کا مذاق اڑایا ہے عنقریب جزاوسزا کے روز انہیں قرآن کریم اور نبی اعظم وآخر ﷺ کی تکذیب کی حقیقت مختلف طریقوں سے معلوم ہوجائے گی ۔ کیونکہ نہ تو آپ ﷺ رسول کوئی نئے رسول ہیں اور نہ وہ امت کوئی نئی امت ہے جو آپ ﷺ سے پہلے رسولوں کے ساتھ ہوا وہی آپ ﷺ کے ساتھ بھی ہوگا اور جو پہلی امتیں کرتی رہی ہیں وہی یہ لوگ بھی کر رہے ہیں اس لئے یقینی بات ہے کہ نتیجہ بھی وہی نکلے گا جو گزشتہ دعوت کا نکل چکا ہے ، آپ ﷺ سے کوئی نئی بات نہیں کہی جارہی یہ تو ان کا پرانا شیوہ ہے کہ جب بھی کوئی نبی اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر ان کے پاس آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلایا اور اس کی بات سننے ہی سے انکار کردیا اب جو ان کو ہماری طرف سے مہلت دی جا چکی ہے وہ گزرتے ہی اس کا نتیجہ پالیں گے جو استہزاء کرنے والوں کے لئے ہمارے قانون میں طے ہے ۔
Ayah 26:7

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین کو نہیں دیکھتے کہ ہم نے اس میں اچھی قسم کی کس قدر چیزیں اگائی ہیں

ان کو نشانی دیکھنے کا بہت شوق ہے کیا اس زمین سے طرح طرح کی نباتات اگانا نشانی نہیں ؟ : 7۔ ان اندھوں کا بار بار مطالبہ ہے کہ اگر وہ اللہ کا رسول ہے تو ہم کو کوئی نشانی دکھائے جس کو دیکھ کر ہم اس کو اللہ کا رسول مان لیں اگر وہ اپنے اس مطالبہ میں سچے ہیں تو نشانیاں تو ان کے آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور بائیں ہر طرف موجود ہیں اگر وہ بینا آنکھ رکھتے تو انکو وہ نظر آتیں ، کبھی انہوں نے اپنے اردگرد ان سرسبز مرگزاروں ‘ لہلہاتے ہوئے کھیتوں اور شاداب باغوں کو نہیں دیکھا ‘ انکے پتے پتے پر قدرت الہی کی اتنی کھلی اور واضح نشانیاں موجود ہیں اگر انکو نشانیاں ہی ماننا ہوتیں تو ان پر وہ ایک نگاہ ڈال لیتے تو انکا سارا معاملہ حل ہوجاتا ، بات بالکل واضح ہے کہ وہ ہدایت کے خواہش مند نہیں بلکہ کٹ حجتیاں کرتے ہیں اور حقیقت کو مذاق کا رنگ دیتے ہیں ، نشانی سے ان کا مطالبہ دراصل عذاب ہے جو منکرین پر نازل ہوتا ہے اور ان کو تہس نہس کرکے رکھ دیتا ہے لیکن اس کا انحصار نہ پہلوں کی مرضی پر تھا اور نہ ان کی مرضی پر ہے اس کا وقت آئے گا تو ان کا تیاپانچا کردیا جائے گا اور بلاشبہ اس کے وقت سے ہم واقف ہیں ۔
Ayah 26:8

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں لیکن ان میں سے اکثر ایمان نہیں لائے

ان کو ایمان لانا ہے تو ان کے پاس یہی نشانی کافی ہے : 8۔ یقینا اس میں قدرت الہی کی نشانی ہے کہ وہ قادر مطلق ہے جو زمین سے مختلف انواع و اقسام کے پھل پھول غلہ جات اور سبزیاں پیدا کرسکتا ہے اس طرح مرنے کے بعد دوبارہ زندگی بھی بخش سکتا ہے ایسے واضح ‘ معقول دل نشیں دلائل کی موجودگی میں بھی جو لوگ ماننے والے نہیں وہ کسی بڑی سے بڑی نشانی کو بھی دیکھ کر ایمان نہیں لائیں گے بلکہ کوئی نئی حجت اور نئی شرارت پیش کردیں گے بھلا نہ ماننے والوں کے لئے بھی کوئی نشانی ‘ نشانی ہوتی ہے ؟
Ayah 26:9

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ کا رب تو غالب (ہے) بہت ہی پیار کرنے والا ہے

بلاشبہ تیرے رب غالب آنے والا نہایت ہی مہربان ہے : 9۔ تیرا پروردگار بہت ہی غالب آنے والا اور بہت ہی قوت والا ہے جسے چاہے پل بھر میں نیست نابود کردے اور جسے چاہے برس ہابرس ڈھیل دیتا چلا جائے بلاشبہ اس نے نیست ونابود کرنے اور ڈھیل دینے کے لئے قانون بنایا ہے اور اس قانون کے تحت سب کچھ عمل میں آتا ہے ہمارا ایمان ہے کہ نیست ونابود وہی ہوتا ہے جس کے لئے اس کا مقررہ وقت آجاتا ہے اور ڈھیل پر ڈھیل اسی کو ملتی ہے جس کے لے ڈھیل دینا اس کے حکم میں طے ہے اور دونوں ہی صورتیں اس کی رحمت بےپایاں کا فیضان ہیں ۔ اسی بات پر غور وفکر کرنے والوں کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت اختصار کے ساتھ سنائی جاتی ہے ۔
Ayah 26:10

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرو) جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ندا دی کہ تم ان ظالم لوگوں کے پاس جاؤ

وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک ظالم قوم کی طرف بھیجا گیا : 10۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت پیچھے مختلف مقامات پر گزر چکی ہے اس سرگزشت میں سے اے پیغمبر اسلام ! ﷺ موسیٰ (علیہ السلام) کا وہ واقعہ یاد کریں جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو منصب رسالت عطا فرما کر حکم دیا کہ اے موسیٰ ! فرعون کی قوم جو ظلم و زیادتی اور زمین میں فساد پھیلا رہی ہے اس کے پاس جا کر پیغام حق سنا دو ، اب گویا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کے کچھ واقعات بیان فرما کر بتایا جارہا ہے کہ جس طرح انہیں قوی اور جابر دشمنوں سے واسطہ پڑا اور ہماری تائید ونصرت سے وہ اپنی بےسروسامانی کے باوجود کامیاب وکامران ہوا اور اس کے اعداء وبدخواہ تباہ ویران ہوئے اسی طرح نصرت الہی آپ ﷺ کی بھی پشت پناہی کر رہی ہے اس لئے دنیا کی کوئی طاغوتی طاقت بھی آپ ﷺ کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکے گی اور ان کو کوئی کوشش اسلام کے سیل رواں کو روک نہیں سکے گی ‘ سارے شکوک و شبہات کا غبار چھٹ جائے گا اور نورتوحید سے دشت وجبل ‘ کوہ ودمن جگمگانے لگیں گے ۔ آپ ﷺ تسلی رکھیں اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ کا ایک حصہ لوح قلب پر نقش کریں اور اپنی سرگزشت کو اس پر منطبق کرتے جائیں ۔
Ayah 26:11

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

قوم فرعون کے پاس ، کیا وہ (قانونِ الٰہی سے) ڈرتے نہیں ؟

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے پاس جائیں کہ وہ سرکش ہوچکا ہے : 11۔ ہاں ! فرعون کے پاس کہ وہ لوگ اپنے آپ کو مختار مطلق سمجھے بیٹھے ہیں اور ظلم وستم ڈھاتے جا رہے ہیں کیا انہیں عذاب الہی کا خوف نہیں ہے اچھا جاؤ انہیں خبردار کر دو کہ اس نے اور اس کی قوم نے ظلم کی انتہا کردی ہے کہ ان کے مظالم کو گننے لگیں تو گنے ہی نہیں جاسکتے اور پھر ہر ظلم ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے غو رکرو کہ انہوں نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو چھوڑ کر خود فرعون کی اور کو اکب کی پرستش شروع کردی ہے اور بنی اسرائیل کو انہوں نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑدیا ہے اور کتنی بےرحمی سے انکی نرینہ اولاد کو وہ قتل کر رہے ہیں اور جو زندہ ہیں ان سے مشتقتیں لے رہے ہیں ‘ کیا معصوم بچوں کا قتل اور ان کے دوسرے مظالم معمولی مظالم ہیں ؟ موسیٰ (علیہ السلام) کو جب فرعون کے پاس جانے کا حکم ہوا تو وہ ایک مدت پرانے واقعات کے تانے بانے میں گم ہوگئے ۔
Ayah 26:12

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

موسیٰ نے عرض کی اے میرے رب ! مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے

موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی کہ اے میرے رب ! مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے : 12۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ارشاد الہی سنا تو عرض کی کہ اے میرے پروردگار مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے ؟ اور میری دعوت کو قبول نہیں کریں گے ، موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کی تفصیلات پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہیں مثال کے طور پر ملاحظہ کریں سورة الاعراف کی آیات 102 سے 156 تک ‘ سورة یونس کی آیات 75 تا 92 تک سورة بنی اسرائیل کی آیات 101 تک ‘ سورة طہ 9 سے 79 تک تفصیلی واقعات بیان کئے گئے ہیں اور قوم بنی اسرائیل کے ضمنی واقعات سورة بقرہ میں بھی کثرت سے بیان کئے ہیں اور آل عمران اور المائدہ میں بھی اسی طرح کوئی سورت بھی ان ضمنی حالات سے خالی نہیں۔
Ayah 26:13

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

اور (یہ کہ) میرا دل تنگ ہوتا ہے اور میری زبان نہیں کھلتی ، پس ہارون کو بھی (میرے ساتھ نبی بنا کر) بھیج دے

اے میرے رب ! میرا سینہ گھٹتا ہے اور میری زبان نہیں بولتی : 13۔ یہ سینہ کی گھٹن اور زبان میں بولنے کی ہمت نہ ہونے کی شکایت کیوں پیدا ہوئی ؟ مفسرین نے بڑی بڑی عجیب توجیہات بیان کی ہیں اور اس کے لئے کہانیوں کے خوب طومار باندھے ہیں لیکن سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نبوت سے پہلے ایسے واقعات سے دو چار ہوچکے تھے کہ ان واقعات کو نگاہ میں رکھتے ہوئے ایک انسان پر ایسے عوارضات وارد ہو سکتے تھے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک سوچی سمجھی سکیم الہی کے تحت محلات فرعونی میں پرورش پائی تھی اور بڑے ہو کر جب آپ کو اپنی قوم اور اس پر ڈھائے گئے مظالم کا علم ہوا اور خود آنکھوں سے دیکھا تو برداشت نہ کرسکے اور اس سلسلہ میں ایک اتفاقی قتل بھی آپ سے منسوب ہوگیا فرعون نے آپ کو پکڑنے اور پیش کئے جانے کا حکم دیا تو اس کی خبر پا کر آپ مصر سے ہجرت کر کے مدین کی طرف نکل گئے وہاں ایک عرصہ گزارنے کے بعد جب واپس مصر آرہے تھے تو راستہ ہی میں نبوت کے لئے چن لئے گئے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے جب فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جانے میں جھجھک محسوس کی کہ وہ لوگ تو مجھے دیکھتے ہی مجھ پر پل پڑیں گے اور مجھے سزا دینے کے لئے تگ ودو شروع کردیں گے ان خیالات کا آنا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر وہ حالت طاری ہونا شروع ہوگئی جس کا اوپر ذکر ہوا اور تفصیل اس کی سورة طہ میں مفصل گزر چکی ہے اور آگے سورة القصص میں بھی آئے گی ، لیکن آپ تفصیل چاہتے ہیں تو سورة طہ کا مطالعہ کریں لیکن مفسرین نے جو ” میرا سینہ تنگ ہوتا ہے اور میری زبان نہیں کھلتی “ کی تعبیر کی ہے وہ کسی حال میں بھی صحیح نہیں ہے اور اس کی وضاحت ہم پیچھے سورة طہ میں کرچکے ہیں وہاں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نبوت کوئی سفارشی چیز نہیں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی درخواست پر ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبی بنایا گیا ہو بلکہ حقیقت اس کی یہ ہے کہ جس کو نبی ورسول بنانا مقصود تھا اس کی نبوت و رسالت کی اپیل موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی کردی اور مشیت ایزدی کے فیصلوں میں یہ اتفاقات پیش آتے رہے ہیں ، مقصود اس کے اظہار سے صرف یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے ایک عرصہ غائب رہنے کے باوجود مصر کے حالات سے مکمل طور پر باخبر تھے اور اپنی قوم اور خاندان سے آپ کا رابطہ موجود تھا اور سمجھنے والوں کے لئے اس میں بہت نشانیاں موجود ہیں ، کلام الہی کا یہی معجزانہ رنگ ہے کہ وہ اس طرح بات کرتا ہے کہ سب کچھ کہہ بھی دیتا ہے اور کچھ کہتا بھی نظر نہیں آتا ۔
Ayah 26:14

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور ان کا مجھ پر ایک الزام (قتل) بھی ہے ، پس مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے

ان کا ایک گناہ میرے ذمہ ہے جس کے بدلہ میں وہ مجھے قتل کردیں گے اسکا مجھے اندیشہ ہے : 14۔ ” ان کا مجھ پر ایک الزام قتل بھی ہے اس لئے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے اس کے عوض مار ہی ڈالیں “۔ یہ ایک وہ قبطی کا اتفاقی قتل تھا جو نبوت سے پیشتر اتفاقا معرض وجود میں آیا تھا جو زیادہ سے زیادہ قتل خطا کے ضمن میں آتا تھا اور پھر یقینا اس قتل خطا کا عوض بھی ہارون (علیہ السلام) نے چکایا ہوگا جو ایک فطری اور قانونی بات ہے ، قتل خطا کی سزا کسی قانون میں بھی قتل کے بدلہ قتل نہیں ہے تاہم مخالفت میں اس طرح کے احتمالات ہوتے رہتے ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی یہ بات اسی ضمن میں ارشاد فرمائی ہے تاکہ علم الہی کے ذریعہ وہ بات معلوم ہوجائے جو کل کو ہونا ہے کیونکہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا ارشاد تو پتھر پر لکیر ہے اور ہونے والی بات کو معلوم کرنے کی کوشش ایک فطری امر ہے اور یہی بات اس میں سمجھائی گئی ہے اور بلاشبہ عاقل کے لئے اشارہ کافی ہے ۔
Ayah 26:15

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

فرمایا ہرگز (ایسا) نہیں (ہو گا) پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ ، ہم تمہارے ساتھ ہیں اور سنتے ہیں (جو کچھ وہ کہیں گے)

ہرگز ایسا نہیں ہوگا تم دونوں جاؤ اور پیغام پہنچاؤ میں بھی سنتا اور دیکھتا ہوں : 15۔ فرمایا اے موسیٰ تیری بات ہم نے سن لی جاؤ ہارون کو ہم نے تیرا شریک کار بنا دیا اور بےفکر ہوجاؤ فرعون ایسی کوئی حرکت نہیں کرے گا اور نہ ہی وہ کرسکتا ہے کیونکہ اس کا فیصلہ تمہاری عدم موجودگی میں ہوچکا ہے اب فرعون کے لئے ایسی سزا کے اٹھانے کا کوئی اندیشہ باقی نہیں تم پیغام پہنچاؤ جو کچھ تم اس کو کہو گے اور جو کچھ وہ تم دونوں کو جواب دے گا ہم بھی اس کو سنیں گے اور اس کا نتیجہ بھی ہم سے پوشیدہ نہیں۔ قرآن کریم کا نزول چونکہ انسانوں ہی کی زبان میں ہے اس لئے وہ سارے خدشات جو انسان کو پیش آتے رہتے ہیں وہ ان کا ذکر کرتا ہے اور اس سے تفہیم یہ کرانا مقصود ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) بھی انسان ہی ہوتے ہیں اور انسانی خدشات انکے اندر بھی موجود ہوتے ہیں اس لئے جو کرنے کا کام ہے وہ سارے خدشات کے باوجود کرنا ہی چاہئے سارے خدشات دور کرنے کے بعد کوئی کام نہیں کیا جاسکتا ، انسان اگر سارے خدشات دور کرکے کوئی کام کرنا چاہے تو وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا اور سارے خدشات کے باوجود جو کرنا چاہے اس کے لئے قدم اٹھا دے تو اس کا پایہ تکمیل تک پہنچنا عین ممکن ہے مصلحت اندیش ہمیشہ مصلحتیں ہی سوچتے رہتے ہیں اور جو ہونا ہوتا ہے وہ وہ چکا ہوتا ہے صاحب نظر کی نظر صرف کام پر چاہئے کہ کام کرنے کا ہے یا نہیں اگر کام کرنے کا ہے تو اس کا کرنا ہی عقلمندی ہے یہی بات موسیٰ (علیہ السلام) کو اور آپ کے ذریعہ سے ساری انسانیت کو سمجھائی جا رہی ہے ہر نیک کام میں معیت الہی کا یقین کامل ہی کام کے ہوجانے کی اصل کلید ہے۔
Ayah 26:16

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

پس تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ ہم پروردگار عالم کے رسول ہیں

تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اس کو کہو کہ ہم رب العلمین کے بھیجے ہوئے ہیں : 16۔ اے موسیٰ اور ہارون تم دونوں بھائی فرعون کے پاس جاؤ اور بلاتردد اس سے کہہ دو کہ اے فرعون ! رب کائنات نے ہمیں تمہاری طرف اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہے ۔ اندازہ کیجئے الہی پروگراموں کا کہ ایک پروگرام تشکیل دیا جاتا ہے اور وہ کہاں سے کہاں ہوتا ہوا کہاں جا پہنچتا ہے وہیں جہاں سے اس کو شروع کیا گیا تھا ۔ آپ سورة قصص میں پڑھیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قوم بنی اسرائیل کو جو ایک مدت سے فرعون کے ظلم وستم کا شکار چلی آرہی تھی گویا کہ وہ مر چکی تھی جب اس کو زندہ کرنے کا ارادہ کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور فرعون کی ساری دفاعی سکیموں کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کی گود میں پرورش کرا دیا ‘ ایسا کیوں ہوا ؟ اس کی تفصیل ہم سورة طہ میں بیان کر آئے ہیں پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر سے نکالنے کی کیا صورت پیدا کی اور واپس لانے کا کیا طریقہ کیا اس میں کتنی مدت خرچ ہوئی اس معاملہ میں کس طرح (کن) ہوا اور کیونکر (فیکون) اور اب بات اس مقصد کے قریب آلگی جس مقصد کے لئے یہ سارا سوانگ رچایا گیا تھا ، موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) فرعون کے دربار میں پہنچے اپنا تعارف کرایا اور یہ وہ تعارف تھا جس تعارف کو وہ اس سے پہلے کبھی نہیں جانتا تھا باوجود اس کے کہ وہ ہارون اور موسیٰ دونوں بھائیوں سے اچھی طرح واقف تھا لیکن آج وہ پہلے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نہیں ہیں بلکہ آج ان کا تعارف اللہ تعالیٰ کے فرستگان کی صورت میں کرایا جا رہا ہے ۔ اس پر فرعون پر کیا گزری ہوگی یہ وہی بتائے گا اللہ تعالیٰ کے دونوں رسولوں نے اپنا تعارف بےدھڑک کرا دیا کیونکہ ابھی ابھی ان کی دھڑکن درست کی گئی تھی اور دونوں نے اپنے آنے کی وجہ بھی بیک زبان کہہ دی کہ ہم کیوں آئے ہیں ۔
Ayah 26:17

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

(اس کو کہو) کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے

ہمارے آنے کا مقصد یہ ہے کہ قوم بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دے دے : 17۔ فرعون کو مخاطب کرکے جب دونوں بھائیوں نے (آیت) ” انا رسول رب العلمین “ کے الفاظ کہے اس وقت جو فرعون پر گزری ہوگی وہ آپ اور میں نہیں سمجھ سکتے کیونکہ (انا ربکم الاعلی) کی صدا اس نے بلند کی تھی اور اس بات کو موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) بھی اچھی طرح جانتے تھے جب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے اس جملہ کو سنا تو اس کے یقینا طوطے اڑ گئے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ دونوں بھائی قوم بنی اسرائیل کے ہونے والے لیڈر ہیں آج انہوں نے رب العلمین کا نام لے کر دراصل میری ربوبیت سے نکل جانے کا اعلان کردیا ہے جو سیاست کے میدان میں بغاوت کا اعلان عام ہے اور پھر انہوں نے جو مطالبہ پیش کیا ہے وہ بھی اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ بنی اسرائیل میری حکومت کا پٹا اتانے پر تل گئے ہیں بلاشبہ فرعون ان دونوں بھائیوں کا مطالبہ سنتے ہی بوکھلا گیا اور جو جواب اس نے دیا اس کا ایک ایک لفظ بتا رہا ہے کہ گھبراہٹ کا کیا حال ہے اور اس نے کس طرح اپنی کمزوری کا حال بیان کردیا ہے ۔
Ayah 26:18

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

فرعون نے کہا کیا ہم نے تجھ کو لڑکپن میں پرورش نہیں کیا اور تو اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ساتھ نہیں رہا ؟

اے موسیٰ ! کیا ہم نے بچپنے میں تیری پرورش نہیں کی اور تو ایک مدت ہم میں نہیں رہا : 18۔ غور کیجئے کہ یہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے پیغام کا جواب ہے ؟ کیا یہ وہی بات نہیں کہ سوال گندم جواب چنے ؟ جیسا کہ آپ نے پیچھے پڑھا موسیٰ (علیہ السلام) نے اطلاعا اس سے کہا تھا کہ ہم دونوں رب العالمین کے بھیجے ہوئے آئے ہیں اور آنے کا مقصد یہ بتایا تھا کہ قوم بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دے دے چونکہ دونوں ہی باتیں اس کے لئے ناقابل برداشت تھیں پہلی بات سے براہ راست اس کی اپنی ربوبیت پر زد پڑتی تھی کیونکہ اس کا دعوی تو رب اعلی ہونے کا تھا اس لئے دوسری جگہ اس نے کہا بھی کہ ” میں تو اپنے سوا تمہارا کوئی رب نہیں جانتا “ اور اب وہ کیسے گوارا کرتا کہ مجمع عام میں کوئی بات کہہ دے جو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہہ دی ہے اور دوسری قوم بنی اسرائیل کی رہائی کی تھی کہ ان کو آزادی ملے اور وہ آزاد ہو کر اپنے معاملہ کو سوچ سکیں اور کوئی قدم اٹھا سکیں ایک مدت تک غلامانہ زندگی بسر کرنے والی قوم میں آزادی کی روح پھونکنا اتنا آسان مسئلہ نہیں اس لئے جب تک وہ فرعون کے تسلط سے آزازد نہ ہوں وہ کسی بات پر کان نہیں دھریں گے ادھر فرعون بھی بنی اسرائیل کو ہجرت کی اجازت دے اپنی قوم کو ایسے جفاکش مزدوروں کی خدمات سے محروم نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ اس طرح اس کا دہرا نقصان تھا ایک تو وہ خود اور اس کی پوری قوم قبطی ان خدمات سے محروم ہوجاتی جو بنی اسرائیل سرانجام دے رہے تھے اور دوسری طرف اگر ان میں جذبہ جہاد پیدا ہوجاتا تو وہ فرعون اور اس کی پوری قوم کو یکدم نگل سکتے تھے کیونکہ ہو سب کے سب جفاکش بھی تھے اور تعداد میں بھی زیادہ تھے اور فرعون نے اپنی مختلف سکیموں کے تحت ان پر قبضہ جما رکھا تھا ، ذرا غور کریں کہ آپ کے اس ملک عزیز میں کتنے و ڈیرے ہیں ؟ بلاشبہ آج بھی وہ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں لیکن متوسط درجے کے لوگوں کو اور ان کے ذریعہ سے پوری عوام کو وہ کسی طرح انگلیوں پر نچا رہے ہیں اگر یہ متوسط درجہ کے لوگ بپھر جائیں اور عوام بھی ان کا ساتھ دیں تو نتیجہ کیا ہوگا ؟ اس ملک عزیز کے و ڈیرے یعنی فراعنہ بھی سمجھتے ہیں اور اس وقت کا فرعون موسیٰ بھی اس حقیقت کو سمجھتا تھا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو احسان فراموش ثابت کرنے کے لئے جواب دیا کہ اے موسیٰ تو وہی شخص تو نہیں ہے جس کی ماں نے تابوت میں ڈال کر دریا میں ڈال دیا تھا اور ہم نے وہاں سے پکڑ کر تیری پرورش شروع کردی اور ایک مدت تیری پرورش میں لگے رہے اور حتی الامکان تیری تربیت میں کوئی اٹھا نہ رکھی اور اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے اس نے مزید کہا کہ :
Ayah 26:19

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور (فرعون نے کہا) تو نے اپنا وہ کام کیا جو کیا تھا اور (اے موسیٰ ! ) تُو تو بہت ہی ناشکر گزار نکلا

تجھے معلوم ہے کہ تو نے کیا کیا اور جو تو نے کیا وہ تو ہی کرسکتا تھا کیونکہ تو احسان فراموش ہے : 19۔ اے موسیٰ تو جانتا ہے کہ پھر تو نے کیا کیا ہاں ! تو جو نے کیا وہ تو ہی تھا جو ایسا کر گیا اس لئے کہ تو احسان فراموشوں میں سے تھا “ یہ فرعون وہی تھا یا اس کا کوئی جانشین بہرحال اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو خطاء قتل ہوگیا تھا کی طرف اشارہ کیا جو نبوت سے پہلے آپ سے ہوا تھا جس کی تفصیل پیچھے موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں گزر چکی اور آئندہ سورة القصص میں مزید آئے گی ۔ یہ بات اس نے غصہ اور طنز کے ساتھ کہی جیسا کہ اس کے بات کرنے کے انداز سے ظاہر ہے ، دراصل اس کا یہ بات کہنے سے مقصد یہ ہے کہ تم تو وہ انسان ہو جو شروع سے اپنے محسنوں کے ساتھ ایسا کرتے آرہے ہو اور اب تم کو کوئی نہ کوئی نئی الجھن کھڑی کرنا ہے ۔
Ayah 26:20

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا میں نے اس وقت وہ کام کیا تھا (لیکن بےارادہ) اور مجھ سے بھول ہو گئی

موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو جواب دیا کہ ہاں جو کچھ مجھ سے بیخبر ی میں ہوگیا : 20۔ (ضال) ناواقف ‘ حیران ‘ بیخبر (ضلال) سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر اس کی (ضالون) ہے گمراہ ‘ بھولے ہوئے ‘ بہکے ہوئے ، (ضال) کے معنی جو گمراہی کے کئے جاتے ہیں وہ بھی اسی نسبت سے کئے جاتے ہیں اصل معنی اس کے بیخبر ی اور بھول کے ہیں اور ظاہر ہے کہ جو شخص کسی چیز کو گم کرتا ہے وہی تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے اسی لئے (ضال) کے معنی ” متلاشی “ کے بھی ہیں اور (ووجدک ضالا) میں یہی معنی مراد ہیں مطلب ہے کہ آپ گم گشتہ راہ تھے اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے آپ کو ” متلاشی “ پایا اور تم کو سیدھا راستہ بتا دیا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو بغیر کسی جھجھک کے جواب دیا کہ ہاں ! بلاشبہ جو تو کہتا ہے یعنی قبطی کا قتل مجھ سے سرزد ہوا لیکن حقیقت یہ ہے میرا ارادہ اس کو قتل کرنے کا نہیں تھا بلکہ وہ جو زیادتی کر رہا تھا اس سے روکنے کا تھا لیکن وہ اپنی کارستانیوں کی وجہ سے اندر سے کھائی ہوئی لکڑی کی طرح کھوکھلا ہوچکا تھا کہ میں نے اس کو پیچھے ہٹانے کے لئے صرف ایک دھکا دیا لیکن وہ گرتے ہی ڈھیر ہوگیا میں تو اس کے اس طرح مرنے سے بالکل بیخبر تھا ‘ پھر نہ اس پر کوئی کلہاڑی چلائی اور نہ ڈنڈا مارا صرف ہاتھ سے اس کو پیچھے ہٹایا تھا اور ظاہر ہے کہ اس طرح سے تو آدمی کبھی نہیں مرا بس وہ تو ایک بہانہ ہی تھا کہ ہوگیا اور ظاہر ہے کہ بہانہ جب ہونے پر آتا ہے تو ایسے ہی ہوجاتا ہے ۔ فرعون نے دو باتیں کی تھیں جیسا کہ اوپر آپ نے پڑھا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے اس کی دوسری بات کا جواب دیا اور پہلی بات کو مؤخر کردیا کیوں ؟ اس لئے کہ اس کا یہ دوسرا سوال زیادہ حساس تھا جس سے انار کی پھیلنے کا اندیشہ بھی ہوسکتا تھا اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت دانش مندی سے جس آگ کو وہ جلانا چاہتا تھا اس پر فورا پانی ڈال دیا اور پھر اس کے نتیجہ میں جو آپ نے کلفت اٹھائی ساتھ ہی اس کا بھی ذکر کردیا ۔
Ayah 26:21

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

چناچہ مجھ کو ڈر لگا تو میں تمہارے ہاں سے بھاگ گیا پھر میرے پروردگار نے مجھ کو علم عطا فرمایا اور مجھے رسولوں میں شامل کر دیا

اسی ڈر کی وجہ سے تو میں بھاگ گیا تھا اور اب اللہ نے مجھے رسول بنا کر بھیج دیا : 21۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ بات تو مجھے اس وقت بھی معلوم تھی کہ یہ اتفاقیہ بات بھی میرے لئے انتقام کا ایک بہت بڑا بہانہ بن جائے گی اور حکومت مجھ پر غداری کا الزام لگائے گی اندریں وجہ ہی تو مصر سے بھاگ گیا تھا اور ایک مدت تک واپس نہیں آیا اور جب کہ میرے خاندان خصوصا میرے بھائی نے اس قضیہ کا حل کرلیا ہے تب ہی میں نے مصر کا ارادہ کیا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے مجھے قوت فیصلہ عطا کی ہے اور پنے رسولوں میں سے ایک رسول بنایا ہے اور اس نے مجھے یہ پیغام دے کر تمہاری طرف بھیجا ہے اور میں اس کا پیغام تم کو پہنچا رہا ہوں اور ظاہر ہے کہ قتل خطا کوئی پیغمبری کے منافی چیز نہیں کیونکہ وہ ایک اتفاقی غلطی اور بھول کے سوا کچھ نہ تھا پھر یہ بات دلائل سے ثابت ہوگئی اور چاہے میری عدم موجودگی میں ہوا لیکن اس کا فیصلہ دلائل کی بنا پر ہوگیا اور میرے خاندان خصوصا میرے بھائی نے اس کا مکمل عوض چکا دیا اور اب جب کہ ایک بات ختم ہوگئی تو دوبارہ اس کو اس طرح چھیڑنا بجائے خود شرارت ہے ۔ کہاں وہ اتفاقی غلطی اور کہاں رب ذوالجلال والاکرام کا یہ پیغام جو میں تمہیں پہنچا ہوں اور جو بات میں نے تمہیں پہنچائی یہ کوئی اس کا جواب نہیں بلکہ ایک دیکھتی رگ کو خواہ مخواہ چھیڑنا ہے تاکہ کسی نہ کسی طرح یہ رسنا شروع ہوجائے یہ تو ” حلوے مانڈے سے کام رکھنے “ والی بات ہے جو اتنے بڑے آدمی کو زیب نہیں دیتی ۔
Ayah 26:22

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور کیا وہ احسان ہے جس کو تو (مجھے) جتا رہا ہے جب کہ تو نے (پوری) قوم بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا رکھا ہے

رہا تیرا پہلا احسان جتانا تو اس کے عوض بنی اسرائیل کو غلام بنائے رکھنا کہاں کا انصاف ہے ؟ : 22۔ گزشتہ سے پہلی آیت میں فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دو احسان جتلائے تھے ان میں پہلا احسان یہ تھا کہ ” ہم نے تیری بچپنے میں پر وش کی “ اب موسیٰ (علیہ السلام) اس کا جواب دے رہے ہیں کہ حکومت نے مجھے پالا ہے یعنی پرورش کیا ہے تو یہ میرے حقیقی پروردگار کی کرشمہ سازی ہے کہ تو نے میری قوم کو غلامی کی بیڑیاں پہنا رکھی تھیں ‘ تیری قوم ان سے جسمانی مشقت لیتی تھی اور وہ مشقت اتنی سخت تھی کہ اس کا نام سن کر بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں پھر تم لوگوں نے میری قوم کے بچوں کو قتل کرانا شروع کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کرشمہ سازی سے میری پرورش تم سے کروا دی ‘ تمہارے علم میں ہوتا کہ اپنی قوم کا نجات دہندہ یہی ہوگا تو تم ایسا کیوں کرتے یہ تو اللہ کی لاٹھی میں آواز نہیں والی بات ہے اور اللہ رب العزت نے جب کوئی کام لینا ہوتا ہے تو اس کے لئے وہ کوئی ایسی خفیہ تدبیر کرتا ہے کہ کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا اور جو ہونا ہوتا ہے وہ بھی ہوجاتا ہے ، اللہ نے تیرے اس ظلم سے بچانے کے لئے مجھے میری ماں نے کلیجہ تھام کر نیلی لہروں کے سپرد کردیا اور اللہ نے اپنی ایک بندی جو تیرے ہی گھر میں رکھی تھی اس کی توجہ سے تجھ ہی سے پرورش کرا دیا اور تجھ کو دکھا دیا کہ یہ وہ بچہ ہے جس کو ہم تیرے محل میں لے آئے ہیں اور تجھے اس کی خدمت پر مامور کردیا ہے تاکہ تیری خدائی کا دعوی خود بخود غلط ہو کر رہ جائے اگر تو خدا ہوتا تو تیرے ہاتھ سے ایسا کام کیوں ہوتا اور جب تو اتنی بات کو بھی نہیں جانتا کہ جس کی پرورش میں اپنے ہاتھوں ‘ اپنی گود میں رکھ کر کر رہا ہوں یہی وہ بچہ ہے جس کے تصور سے ڈر کر میں بنی اسرائیل کے بچوں کو مروا رہا ہوں اتنی واضح اور صاف بات بھی جس رب کریم نے تیری سمجھ میں نہ آنے دی دراصل اب تو نہیں بلکہ حقیقی رب تو وہی ہے تو ہی بتا کہ کیا ایک بیخبر انسان کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ رب ہونے کا دعوی کر بیٹے ۔
Ayah 26:23

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعون نے کہا اور وہ پروردگار عالم کیا (کون) ہے ؟

موسیٰ (علیہ السلام) کے دعوی رسالت کا فرعون نے مذاق اڑا دیا : 23۔ پیچھے ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ تم فرعون کے پاس جاؤ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کے آنے اور دعوت پیش کرنے کی حکایت کو محض اس لئے چھوڑ دیا گیا کہ یہ بات خود بخود ظاہر ہوگئی کہ جس مقصد کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا گیا تھا وہ پورا ہوگیا یعنی حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو وہ پیغام پہنچا دیا اور اب فرعون کی طرف سے سوال کیا جا رہا ہے کہ وہ پروردگار عالم کیا چیز ہے ؟ یہ سوال اس لئے پیدا ہوا کہ اس وقت مصری عقیدہ میں سورج دیوتا ہی سب سے بڑا دیوتا سمجھا جاتا تھا اور فرعون وقت ہی اس کا اوتار یا مظہر خیال کیا جاتا تھا اس لئے اس کو یہ حیرت ہوئی کہ موسیٰ یہ انوکھا لفظ رب العالمین کا کیا بول رہا ہے ؟ اور یہ بات تو ظاہر ہے کہ عالمگیر ربوبیت کا تخیل تو ویسے ہی مشرکانہ دماغ کی گرفت سے باہر ہے اور جاہل دماغ الگ الگ اصناف ‘ موجودات کے دیوی دیوتا تو سمجھ لیتے ہیں لیکن اس حقیقت کو قبول کرنے میں وہ اپنے آپ کو تنگ پاتے ہیں کہ کوئی ایک پروردگار ساری کائنات کا ہے چناچہ تورات میں ہے کہ ” فرعون نے کہا کہ خداوند کون ہے کہ میں اس کی آواز کو سنوں کہ بنی اسرائیل کو جانے دوں ؟ میں خداوند کو نہیں جانتا اور نہ ہی بنی اسرائیل کو جانے دوں گا ۔ “ (خروج 5 : 3) اور اس سے ملتی جلتی بات سورة القصص کی آیت 28 میں بھی بیان کی گئی ہے ۔
Ayah 26:24

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا وہی جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے (ان سب کا بھی) اگر تم یقین کرو

دعوت کی راہ میں ایک قدم مزید اٹھاتے ہوئے حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا : 24۔ حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سوال کا جواب دیتے ہوئے زیادہ زور دار طریقہ سے پروردگار عالم کی صفت ہمہ گیری پر دلیل دے دی کہ وہی تو رب العالمین ہے جو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کا رب ہے کہ دائرہ امکان میں کوئی شے بھی اس کی خالقیت ومالکیت اور ربوبیت سے باہر نہیں ہے اور یہ بات مصریوں کے لئے تعجب خیز تھی کیوں ؟ اس لئے کہ وہ آسمان ‘ زمین اور فضائے درمیانی تینوں کے الگ الگ خدا متصور کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ کسی قوم کے قومی نظریہ کے خلاف بات کرنا ان کو تعجب میں ڈالنا ہی ہوتا ہے اگرچہ ان کا اپنا عقیدہ کتنا ہی تعجب خیز ہو لیکن جو عقیدہ من حیث القوم مان لیا گیا ہو اس کا تعجب کسی کو نظر نہیں آتا ۔ آج باقی اقوام کو چھوڑ کر صرف قوم مسلم ہی کو لے لیجئے کہ ان میں کتنے عقائد ہیں جو من حیث القوم یا من حیث الخاندان وقبیلہ یا من حیث العلاقہ تسلیم کر لئے گئے ہیں لیکن اس پر کسی قوم ‘ کسی خاندان وقبیلہ یا علاقہ کو تعجب کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ ایک دوسرے کے دیکھا دیکھی سب کئے جاتے ہیں اور کسی کو ان کی برائی اور حقیقت نظر نہیں آتی بلکہ اس کا خلاف شاق گزرتا ہے اور اب سب لوگ اس کو اندھا دھند کئے جاتے ہیں اور کسی کے بس کی بات نہیں کہ اس سے کنارہ کشی اختیار کر جائے اور ایسی باتیں دین میں پائی جاتی ہیں اور دنیوی زندگی کا بھی ایک حصہ بن کر رہ گئی ہیں اور اس تعجب پر مزید تعجب یہ ہے کہ اس کے خلاف کرنے والا حقیقت کے لحاظ سے کتنا ہی صحیح اور حق پر ہو لیکن اس کو کوئی شخص بھی صحیح کہنے کے لئے تیار نہیں اس لئے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے خلاف کرنے والا خود مضحکہ ہو کر رہ جاتا ہے ، اس لئے کوئی آدمی اس کو صحیح نگاہ سے دیکھنے کے لئے تیار نہیں یہی حال حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا ہوا ہوگا جیسا کہ آنے والی آیات بتا رہی ہیں ۔
Ayah 26:25

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

فرعون نے اپنے ارد گرد کے لوگوں سے کہا کیا تم سنتے نہیں ہو ؟ (جو موسیٰ کہہ رہا ہے)

فرعون نے حاشیہ نشینوں سے کہا کہ سن رہے ہو جو موسیٰ (علیہ السلام) کہہ رہے ہیں : 25۔ فرعون نے درباریوں کو مخاطب کرکے کہا کہ سن رہے ہو جو موسیٰ (علیہ السلام) کہہ رہا ہے ؟ ظاہر ہے کہ جو بات موسیٰ (علیہ السلام) نے کہی وہ پورے اس معاشرہ کے عقیدہ کے خلاف تھی اور جہالت کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کے خلاف بات کبھی نہیں سن سکتے لہذا وہ سنتے ہی بےاختیار کوئی قدم اٹھا دیتے ہیں اور قوم کے مذہبی ٹھیکیدار اور سیاسی لیڈر ان کی حوصلہ افزائی کے لئے ان کی پشت پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں اور جذبات کی اس لہر میں وہ ان سے جو کچھ کرانا چاہتے ہیں کرا لیتے ہیں ، فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بات سن کر اپنے درباریوں کی طرف دیکھا اور تعجب و استہزاء کے ملے جلے لہجے میں اس نے ان سے پوچھا کہ سن لیا ہے تم لوگوں نے جو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ۔
Ayah 26:26

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

موسیٰ نے (پھر) کہا (ہاں ! ) تم سب کا پروردگار اور تمہارے باپ دادوں کا پروردگار (بھی وہی) ہے

حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا ایک قدم مزید آگے بڑھا دیا : 26۔ حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے غیظ وغضب کی کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک قدم مزید آگے کو بڑھا دیا اور بولے کہ اس میں تعجب کی بات کوئی نہیں میں تو اس رب کی بات کر رہا ہوں جو تم سب کا بھی رب ہے اور تمہارے باپ دادوں اور پہلوں کا بھی وہی اکیلا رب ہے گویا یہ جواب حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے براہ راست سارے درباریوں کو مخاطب کرکے سنا دیا کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ تو بالکل صاف اور سیدھی بات ہے کہ وہی رب ہے جو ساری کائنات کا رب ہے اور ساری نوع انسانی بھی حاجت روا اور مشکل کشا ہے اور یہ بھی کہ وہ ہمیشہ ہے اور ہمیشہ رہے گا حالانکہ اس وقت مصری مختلف علاقوں میں تقسیم ہو کر اپنے اپنے علاقائی دیوی دیوتاؤں کو مانتے اور تسلیم کرتے تھے اور ان میں سے بعض مصریوں کا عقیدہ یہ بھی تھا کہ ہمارے بعض مردہ اسلاف مردہ نہیں ہیں بلکہ معبودیت کے درجہ تک پہنچے ہوئے ہیں اور وہ اپنے اپنے علاقوں اور اپنے اپنے مریدوں کی خود حاجت روائی کرتے ہیں ۔ یہ تو اس وقت کی بات ہے لیکن اگر آپ غور کریں گے تو آج بھی قوم مسلم کے کتنے ہی لوگوں کا عقیدہ یہ پائیں گے کہ اولیاء کرام کبھی مرتے نہیں بلکہ ان میں سے ہر ایک ولی اللہ بیسیوں نہیں بلکہ سینکڑوں جسم مل جاتے ہیں اور وہ مختلف علاقوں میں اپنے مریدوں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرتے ہیں اور اپنے اس عقیدہ کے خلاف توحید کی تعلیم دینے والوں کو وہ اس نگاہ سے دیکھتے ہیں جس سے فرعون اور اس کے حواریوں نے حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا اس لئے مشرکین کی قدریں شروع سے لے کر آج تک مشترک ہی چلی آرہی ہیں ۔
Ayah 26:27

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

فرعون نے کہا (لوگو ! ) یہ تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور عقل و فکر سے خالی ہے

فرعون نے درباریوں کو مخاطب کرکے کہا کہ تمہارا رسول تو سراسر پاگل ہے : 27۔ حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جب صرف ایک فرعون ہی کو نہیں بلکہ اس کے سارے درباریوں کو مخاطب کرکے فرما دیا کہ صرف تم ہی نہیں اس سلسلہ میں تو تمہارے آباء و اجداد بھی گمراہی میں مبتلا تھے تو وہ غصہ سے جھنجھلا کر بولا کہ لوگو ! کان کھول کر سن لو کہ تمہاری طرف سے رسول بن کر آنے والا ایک بےعقل وخرد آدمی ہے ۔ بےعقل وخرد کون ہوتا ہے ؟ وہی جو دریا میں رہ کر مگرمچھ سے بیر ڈال لے اور یہی بات موسیٰ (علیہ السلام) کر رہا ہے اس لئے مجھے تو یہ بالکل ایک دیوانہ محسوس ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ جو شخص کھڑا ہو کر اس طرح کی باتیں کر دے جو اس کے پورے معاشرہ کے خلاف ہوں اور اس کے ہاں میں ہاں ملانے والا ایک بھی نہ رہے اور جب بات کرے تو سب کے سب لوگوں کے خلاف کرے اس کو پاگل نہیں کہا جائے گا اور کیا کہا جائے گا کیونکہ یہ تصور آج کا نہیں بلکہ بہت پرانا ہے کہ اکثریت کی کہی ہوئی بات کبھی غلط نہیں ہوتی جب ایک بات ساری دنیا کے لوگ کہیں گے تو ایک دو کے نہ کہنے سے کیا فرق پڑے گا ” تمہارے یہ رسول صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں “ کے الفاظ فرعون کے طنز کو بالکل واضح کر رہے ہیں اور فرعون کا ان لوگوں کو حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف بھڑکانا بھی اس میں واضح طور پر نکل رہا ہے کہ اگر اس طرح آگ بھڑک جائے اور موسیٰ کا کام تمام کردیا جائے تو زیادہ بہتر ہے ۔ لیکن حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) بھی جانتے تھے کہ ” گربہ کشتن را روز اول “ کہ آج جو کچھ کہہ دیا وہی کل آنے والے میں کام دے گا اور جو کل ہوتا ہے وہ آج ہوجائے تو زیادہ بہتر ہے اس لئے حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) بھی ضرب پر ضرب لگاتے چلے جا رہے ہیں ۔
Ayah 26:28

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

موسیٰ نے فرمایا وہ تو مشرق و مغرب کا اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے اگر تم عقل رکھتے ہو

حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی ربوبیت پر آخری ضرب بھی لگا دی : 28۔ حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ چلو میں تو پاگل ہی سہی کہ تم لوگ ایسا کہہ رہے ہو لیکن عقل اگر تمہارے پاس ہے تو غور کرو کہ رب تمہارا فرعون بھی ہوسکتا ہے جو زمین کے اس ایک حصہ کا رب بنا بیٹھا ہے اور جو آسمان و زمین اور مشارق ومغارب کا رب ہے اس کو تم نے پس پشت ڈال رکھا ہے اگر تمہارے اندر عقل نام کی کوئی شے ہوتی تو تم اس فرعون کو رب مان لیتے ؟ اس طرح حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی خدائی پر گویا آخری ضرب لگا دی کہ ” آنکھوں نظر نہ آئے اور نام نور بھری “ اور جیسا کہا جاتا ہے کہ ” کیا پدی اور کیا پدی کا شوربا “ فرعون نے اپنی طرف کبھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا کہاں پوری کائنات کا نظام اور کہاں مصر کی ایک چھوٹی سی حکومت کیا وہ رب ذوالجلال والاکرام جو پوری دنیا اور دنیا کی ہرچیز پر خدائی کر رہا ہے وہ اس ملک مصر کا خدا نہیں ہو سکتا اتنے حصہ پر فرعون کو اس نے خدا بنادیا ہے کیا خدائی بھی کوئی بانٹنے والی شے ہے ؟ اگر تم لوگ ذرا عقل سے کام لیتے تو تم کبھی فرعون کو خدا نہ مانتے معلوم ہوتا ہے عقل کا نام ونشان تو تم میں نہیں اور تم ہو کہ مجھے پاگل ومجنون قرار دے رہے ہو ۔ فرعون نے جب حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ بات سنی تو اس نے بڑھک مار کر کہا ۔
Ayah 26:29

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

فرعون نے کہا اگر تو نے (اے موسیٰ ! ) میرے سوا کسی اور کو معبود ٹھہرایا تو میں تجھ کو قید کر دوں گا

فرعون نے دھمکی دیتے ہوئے حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا : 29۔ فرعون کو خیال ہوگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگے ہی آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے اس دفعہ اس نے بڑھک مار کر کہا کہ اگر اے موسیٰ تو باز نہ آیا تو تجھے قید میں ڈال دیا جائے گا لیکن حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی اس دھمکی کی ذرا پرواہ نہ کی اور بےدھڑک ہو کر بولے کہ کیا تیرا فیصلہ اس وقت بھی یہی ہوگا جب میں واضح کر دوں کہ رب تو نہیں ہے بلکہ رب تو وہ ہے جس نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف مبعوث کیا ہے ۔
Ayah 26:30

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا ہر چند کہ میں تیرے پاس (اے فرعون ! ) کوئی کھلی دلیل پیش کروں (کہ تو معبود نہیں)

حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اگر میں تیرے پاس کوئی دلیل لاؤں تو بھی ؟ : 30۔ فرعون کو خیال ہوگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگے ہی آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے اس دفعہ اس نے بڑھک مار کر کہا کہ اگر اے موسیٰ تو باز نہ آیا تو تجھے قید میں ڈال دیا جائے گا لیکن حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی اس دھمکی کی ذرا پرواہ نہ کی اور بےدھڑک ہو کر بولے کہ کیا تیرا فیصلہ اس وقت بھی یہی ہوگا جب میں واضح کر دوں کہ رب تو نہیں ہے بلکہ رب تو وہ ہے جس نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف مبعوث کیا ہے ۔
Ayah 26:31

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

فرعون نے کہا ہاں ! تو وہ پیش کر دے اگر تو سچا ہے

فرعون نے کہا کہ اچھا تو اپنی وہ نشانی بھی دکھا دے جس کا تو نے ذکر کیا ہے : 31۔ سیاسی لیڈروں کا یہ کمال آج سے نہیں بلکہ شروع سے چلا آ رہا ہے کہ وہ حتی المقدور اور خود بنفس نفیس ایک دوسرے کے سامنے نہیں آتے بلکہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے مخالفین کو دوسروں کے ساتھ الجھائے رکھیں اور خود الگ تھلک رہ کر تماشا دیکھیں اس لئے وہ رو در رو بڑی بڑی باتیں برداشت کر جاتے ہیں اور پھر اس کا انتقام لینے کے لئے دوسری راہ اختیار کرتے ہیں یہی کچھ فرعون نے کہا موسیٰ (علیہ السلام) کی ساری باتوں کو جو رو در رو ہوئیں ان کو برداشت کیا اور انتقام کے لئے ہمیشہ اس نے اپنے اردگرد کے حواریوں اور درباریوں ہی کو دیکھا جب موسیٰ (علیہ السلام) نے واضح دلیل دینے کی بات کی تو کہنے لگا کہ ہاں ! وہ سانپ بھی نکال دکھاؤ جو تم نے آج تک چھپا رکھا ہے یعنی کر گزرو یا کہہ دو جو کچھ تم کر گزرنا یا کہہ دینا چاہتے ہو ۔
Ayah 26:32

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا پس وہ صاف صاف اژدہا ہو گیا

موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی پھینکی تو وہ اژدھا بن گئی : 32۔ قرآن کریم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے اس نشان کو کہیں (حیۃ) اور کہیں (جان) اور کہیں (ثعبان) کہا ہے اور عربی زبان میں (حیۃ) ہر سانپ کو اور (جان) پھرتیلے اور چھوٹے سانپ کو اور (ثعبان) ایک بہت بڑے سانپ کو کہا جاتا ہے اور اس کو اژدھا کا نام بھی دیا جاتا ہے ۔ زیر نظر آیت میں اژدھا بن جانے کا ذکر کیا گیا ہے ۔
Ayah 26:33

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور جب اپنا ہاتھ نکالا تو ناگہاں دیکھنے والوں کے لیے سفید تھا

موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے ساتھ ہی ایک دوسرا نشان بھی دکھا دیا : 33۔ اس دوسرے نشان کا ذکر جہاں بھی کہا گیا وہ انہی الفاظ (بیضآئ) سے کیا گیا اور ہاتھ کے سفید ہونے اور لاٹھی کے سانپ بننے کے مفہوم کو ہم سورة طہ میں بڑی وضاحت سے بیان کرچکے ہیں اس لئے بار بار اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ، سورة طہ کی آیات 17 تا 22 اور 65 تا 70 میں پوری وضاحت گزر چکی ہے اس پر ایک بار دوبارہ نظر ڈال لیں ۔ فرعون نے اوپر جو سانپ نکالنے کی دعوت دی تھی وہ اس کے گلے کا ہار بن کر رہ گئی بات تو وہ کر بیٹھا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اس کو ایسا شکنجہ چڑھایا کہ جس سے یقینا مر کر ہی اس نے جان چڑھائی ۔ یہ دونوں دلائل اتنے وزنی تھے کہ ان کے سامنے فرعونی حکومت کا سارا بھرم کھل کر سامنے آگیا اور اب فرعون کے پاس صرف اور صرف ایک ہی راہ رہ گئی کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو حکومت کا غدار قرار دے کر گلو خلاصی کرائے کیونکہ وہ سمجھ گیا کہ دلائل کے لحاظ سے اس کا کوئی جواز موجود نہیں کہ اس طرح کی حکومت وہ کرسکے بلکہ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ حکومت کا حق بنی اسرائیل کو ہے فرعونیوں کو نہیں اور ظاہر ہے کہ جب کوئی شخص دلائل سے کام نہ چلا سکے تو اس کے پاس ایک رہ باقی رہ جاتی ہے کہ اگر اس کے پاس طاقت ہے تو وہ طاقت استعمال کرے اور اس کے بعد فرعون نے بھی یہی پالیسی اختیار کی اور اس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر ماہر جادوگر کا الزام دیا یعنی یہ دونوں بہت ماہر اور چالاک دھوکا باز ہیں ‘ جادو کیا ہے ؟ دھوکا اور فریب کا دوسرا نام جادو یا سحر ہے ۔
Ayah 26:34

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

فرعون نے اپنے ارد گرد کے لوگوں سے کہا کہ یہ تو کوئی بڑا (ماہر) جادوگر ہے (جس کی دلیل اتنی پختہ ہے)

فرعون نے اپنے سرداروں کو اکٹھا کیا اور ان کو بتایا کہ یہ دونوں ماہر جادوگر ہیں : 34۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل اتنے وزنی تھے کہ فرعون اور فرعون والوں کے پاس اس کا کوئی توڑ موجود نہیں تھا اور اس سانپ کا سروہ دلائل کے ساتھ نہیں کچل سکتا تھا اسی لئے فرعون نے نہایت چالاکی اور ہوشیاری سے لوگوں کو اس مرعوبیت سے بچانے کی کوشش کی اور کہا کہ دیکھو یہ دونوں تو بہت ہی ماہر جادوگر ہیں کہ انہوں نے اپنے من گھڑت دلائل سے ہمیں کچھ آنے جانے ہی نہیں دیا اور لوگوں کی آنکھوں میں دھول ڈال دی ہے ۔
Ayah 26:35

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

وہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے اپنے جادو کے زور سے نکال دے پس تمہاری کیا رائے ہے ؟

فرعون نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دراصل یہ ملک مصر پر قبضہ چاہتے ہیں : 35۔ فرعون نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دراصل یہ دونوں بھائی چاہتے ہیں کہ تم کو تمہاری زمین سے نکال باہر کریں یعنی تم سے حکومت چھین لیں اور خود اس علاقے کے حکمران بن جائیں اگر ان کا یہ جادو چل جائے یعنی جن دلائل کو انہوں نے پیش کیا ہے ان کو مان لیا جائے تو ملک کا حکمران طبقہ کسی حال بھی حکمران نہیں رہ سکتا اس طرح اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے خلاف ایک سیاسی بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کی تاکہ اس وقت کے حکمران لوگوں کے حاشیہ بردار ہی ان کا سانس پی جائیں اور اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) اس سے آگے تجاوز نہ کرسکیں ، دراصل جس فریب پر فرعون کی اپنی حکومت چل رہی تھی اس فریب کا الزام اس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر دھرنے کی کوشش کی کیونکہ ہر انسان اکثر اپنے تانے بانے اپنی طبیعت کے بنتا ہے اسی طرح دراصل فرعون اور اس کے حواریوں نے جو فریب خود لگا رکھا تھا اس کا الزام موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا اور پھر اپنی حکومت کے اعوان وانصار سے مشورہ طلب کیا کہ موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے ؟ جو آپ کہیں گے میں وہی کروں گا ۔
Ayah 26:36

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

(حاشیہ برداروں نے) کہا اس کے اور اس کے بھائی (کے معاملہ) کو ملتوی رکھو اور (مملکت کے) شہروں میں نقیب بھیج دو

درباریوں کا فرعون کو مشورہ کہ ان کو کچھ مہلت دے کر اس کے جادو کا توڑ کرنا چاہئے : 36۔ حکمران کا سارا انحصار اس کے مشیروں پر ہوتا ہے اور مشیر جو چاہیں اس کو کرنا پڑتا ہے ۔ درباریوں نے مشورہ دیا کہ ہمارے خیال میں تو بہتر چیز یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو کچھ دیر مہلت دے کر اس کے پیش کئے گئے دلائل کا سر کچلنا چاہئے اور اس کے ظاہر کردہ سانپ اور یدبیضاء کا واضح توڑ جب تک نہیں ہوگا یہ قضیہ ختم نہیں ہوگا کسی تحریک کو بزور دبانے کا نتیجہ دبانے والے کے حق میں کبھی اچھا نہیں نکلا اس لئے ہم تو یہی کہیں گے کہ اپنے ملک سے ماہرین بلا کر اس کے جادو کا مکمل طور پر توڑ کرا دو تاکہ آئندہ کسی کو نبوت و رسالت پیش کرنے کی جرات ہی نہ ہو شاید اس کے خیال میں نبوت و رسالت بھی ایک تحریک ہی کا رنگ رکھتی ہوگی یا موسیٰ (علیہ السلام) کے پیش کردہ مسئلہ کو وہ دینی نہیں بلکہ سیاسی سمجھتے ہوں گے کیونکہ آج کل کے معاشرہ کی طرح اس معاشرہ میں بھی دین اور سیاست دونوں کو الگ الگ ہی سمجھا جاتا تھا بہرحال ان سے مشورہ طلب کیا گیا تھا اور انہوں نے مشورہ واضح الفاظ میں دے دیا ۔
Ayah 26:37

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

وہ بڑے بڑے کاملین فن جادوگروں کو تیرے پاس لے آئیں گے (جو موسیٰ کے دلائل کے جواب دے دیں گے)

درباریوں نے یہ بھی کہا کہ تو اشارہ کرے گا تو اس فن کے ماہر لوگ اکھٹے ہوجائیں گے : 37۔ درباریوں نے خاص خاص لوگ جمع کرنے کا جو مشورہ دیا تھا وہ اس لئے ہی تھا کہ ان کو نظر آرہا تھا کہ ان دلائل کا توڑ معمولی قسم کے لوگ نہی کرسکتے اس کے لئے تو نہایت ہی تجربہ کار اور ماہر فن لوگوں کی ضرورت ہے ورنہ جگ ہنسائی ہوگی اور موسیٰ (علیہ السلام) کسی کو کچھ آنے جانے نہیں دے گا کیونکہ اس کے دلائل میں پھرتی اور تیزی بھی ہے اور خاص قسم کی جان بھی وہ رکھتے ہیں اور وزن کے لحاظ سے بھی بہت وزن رکھتے ہیں ان کا ٹالنا بچوں کا کھیل نہیں یہ ملک کے ماہر اور خرانٹ آدمیوں کا کام ہی ہو سکتا ہے جو حالات کے ساتھ اپنا بھیس بدل سکتے ہوں اگر موسیٰ ایک صاحب فن ہے تو بلاشبہ اس فن کے ماہر اور لوگ بھی ہوں گے ۔
Ayah 26:38

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

چناچہ (ایسا ہی کیا گیا) جادوگر ایک معین دن (مقرر وقت) پر جمع کیے گئے

ماہرین فن کی خدمات حاصل کرلی گئیں اور ان کو ایک مقررہ وقت پر طلب کرلیا گیا : 38۔ فرعون درباریوں کی بات پر لگ گیا اور اس طرح اس نے ان کا مشورہ قبول کرتے ہوئے یوم الزینۃ کا جو قبطیوں کے ہاں ایک جشن کا دن مقرر تھا اسی دن کو جمع ہونا طے کرلیا معلوم ہوتا ہے کہ جو دلائل موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے دربار میں درباریوں کے سامنے دیئے تھے ان کا چرچا لوگوں میں چل نکلا تھا اور لوگ بھی اس میں دلچسپی لینے لگے تھے اور فرعون نے بھی ماہر فن طلب کئے تھے جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دندان شکن جواب دے کر خاموش کردیں اس واقعہ کی تفصیل پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہیں خصوصا سورة الاعراف آیت 115 تا 120 ‘ سورة طہ آیت 65 تا 70 میں اس مظاہرہ کی مکمل رواداد بیان کی گئی ہے جو دن کے وقت سب کی آنکھوں کے سامنے ہوا اور اس کا نتیجہ بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں رہا ۔ جس کی صورت حال اس طرح ہوئی جیسا کہ آگے ذکر آرہا ہے ،
Ayah 26:39

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور لوگوں سے کہا گیا کہ کیا تم سب جمع ہوجاؤ گے ؟

فرعون نے لوگوں کو اجتماع میں پہنچنے کا حکم دیا : 39۔ مثل ہے کہ سانپ کی موت آتی ہے تو وہ نکل کر راستے میں بیٹھ جاتا ہے اور گیڈر کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا منہ کرتا ہے فرعون کی بدقسمتی کے دن آ چکے تھے اس نے مآل پر نظر نہ ڈالی اور حاشیہ نشینوں کے کہنے پر جو وہ کہتے گئے وہ کرتا چلا گیا ، لوگوں کو اس نے جمع کرنے بہت محنت کی اور زیادہ سے زیادہ لوگ جمع کرنے کے لئے سارے طریقے اختیار کئے شاید اس کا خیال ہوگا کہ اس طرح میں ہلڑ بازی کرا کر کامیاب ہوجاؤں گا چونکہ دلائل کا جواب دلائل سے تو ممکن ہی نہیں ایک طاقت کا مظاہرہ کر کے میدان مار لیں گے ، موسیٰ نے ایک لاٹھی سے ایک سانپ بنا دکھایا اور ہم اس طرح کے بیسیوں کیا سینکڑوں سانپ بنا کر دکھا سکتے ہیں موسیٰ کی دلیل کا سارا بھرم میدان میں کھل جائے گا ، اس کو یہ معلوم ہی کب تھا کہ یہ دلائل موسیٰ (علیہ السلام) کے نہیں بلکہ رب ذوالجلال والاکرام کے عطا کردہ ہیں ۔