25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 25:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

کیا ہی پاک اور برکتوں کا سرچشمہ ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر { الفرقان } نازل کیا تاکہ وہ دنیا جہان والوں کے لیے ڈرانے والا ہو ؟

نہایت برکت والی ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر ” الفرقان “ نازل فرمایا : 1۔ (تبارک) کی اصل ب ر ک ہے اور یہ لفظ قرآن کریم میں نور بار راستعمال ہوا ہے ۔ الاعراف 54 میں اور المومنون کی آیت 14 میں پیچھے گزر چکا ہے زیر نظر سورة الفرقان میں تین بار آیا ہے آیت اول ‘ آیت 10 اور آیت 61 میں اور سورة غافر کی آیت 64 ‘ سورة الزخرف کی آیت 85 ‘ سورة الرحمن کی آیت 78 اور سورة الملک کی آیت 1 میں آگے آئے گا ۔ ” تبارک “ باب تفاعل کا ماضی ہے لیکن اس کی صرف گردان نہیں آتی اور کہا گیا ہے کہ اس کا استعمال صرف اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے یہ لفظ برکت سے بنایا گیا ہے اور برکت کے معنی کثرت غیر کے کئے گئے ہیں اس لفظ کے مختلف تراجم کئے گئے ہیں ” وہ ہرچیز سے بڑھ چڑھ کر ہے “ ” وہ اپنی صفات اور افعال میں سب سے اعلی وبالا ہے “ ” وہ عظمت والا ہے ۔ “ (الفرقان) قرآن کریم کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اسی طرح توراۃ کے ناموں میں سے بھی ایک نام ہے یوم بدر کو بھی ” الفرقان “ کہا گیا ہے اور یہ لفظ قرآن کریم میں 6 بار استعمال ہوا ۔ اس جگہ قرآن کی بجائے فرقان کا لفظ اختیار کرنے میں اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ حق و باطل میں عملی طور پر فرق کر دکھائے گا اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم حق و باطل کے لئے بطور کسوٹی ہے جس سے حق و باطل کی پہچان کی جاسکتی ہے اور یہ بھی کہ وہ الگ الگ اجزا سے مل کر ایک کتاب کی شکل میں موجود ہے اور یہ بھی کہ وہ الگ الگ اوقات میں آنے والے اجزا پر مشتمل ہے کیونکہ قرآن کریم نجا نجا ہی نازل ہوا ہے ۔ ” علی عبدہ “ سے مراد نبی اعظم وآخر ﷺ ہی مراد ہیں اور ” عبدہ “ کا لفظ قرآن کریم میں سات بار استعمال ہوا ہے جس میں سے چھ بار محمد رسول اللہ ﷺ ہی کے لئے بولا گیا ہے اور ایک بار سیدنا زکریا (علیہ السلام) کے لئے استعمال ہوا ہے ، کسی کی تحقیر کے لئے عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ” بھلا وہ بھی کوئی انسان ہے “ یا یہ کہ ” بھلا وہ بھی کوئی بندہ ہے “ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا کہنے والے جس کے متعلق ایسا کہتے ہیں وہ انسان یا بندہ نہیں ہوتا بلکہ ان کی مراد تحقیر ہوتی ہے بعینہ نبی اعظم وآخر ﷺ کی تحقیر کرنے والے آپ ﷺ کے متعلق کہا کرتے تھے ‘ کیوں ؟ اس لئے بڑے لوگ جن کے پاس مل و دولت کی کثرت ہوتی ہے ، بڑا خاندان ہوتا ہے ‘ بڑے زمیندار ہوتے ہیں ان کو لوگ باپ دادا والے کہتے ہیں حالانکہ باپ دادا کے بغیر تو کوئی بھی نہیں ہوتا اصل بات وہی ہے کہ نامور لوگ دوسروں کو حقیر ثابت کرنے کے لئے اس طرح کی باتیں کرتے ہیں اور یہی صورت حال اس وقت بھی تھی کہ طائف اور مکہ کے و ڈیرے آپ کو حقیر خیال کرتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو خاص اپنا بندہ قرار دے کر مخاطب کیا اور پھر ان سب پر ثابت کردیا کہ اس دنیا میں دراصل بڑا وہی ہے جو اللہ کا بندہ ہو اور انسان تو پہلے ہی اشرف المخلوقات ہے کہ اس کے مقابلہ میں کسی دوسری مخلوق کو پیش ہی نہیں کیا جاسکتا اور پھر انسانوں میں سے جس کو اللہ تعالیٰ اپنے لئے خاص کرلے اس کی بزرگی کا کون مقابلہ کرسکتا ہے اس لئے آپ ﷺ کو ” عبدہ “ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے سارے متکبرین کے منہ پر چانٹا رسید کردیا ہے جو اپنے تکبر کے باعث محمد رسول اللہ ﷺ کو ایک حقیر انسان کہتے تھے بلاشبہ اس سے بڑا کوئی اور اعزاز نہیں ہو سکتا لیکن افسوس کہ اس حقیقت کو بعض مسلمانوں نے بھی نہیں سمجھا اور وہ آج تک نبی اعظم وآخر ﷺ کو ایک انسان یا ایک بشر تسلیم کرنے میں تحقیر سمجھتے ہیں حالانکہ اس سے بڑا کوئی اعزاہو ہی نہیں سکتا کہ آپ ﷺ سارے انسانوں میں سے ایک بہتر انسان ہیں کہ آپ ﷺ سے بہتر کوئی انسان ہو ہی نہیں سکتا بلاشبہ بندوں میں سے اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ” فرقان “ کی نعمت عطا فرما کر آپ ﷺ کو کسی چیز کا محتاج نہیں رہنے دیا ، اس کی وضاحت مزید بھی اس سورت میں کی گئی ہے جو آگے آئے گی ۔ ” للعلمین نذیرا “ ” تاکہ وہ دنیا جہاں والوں کے لئے ڈرانے والا ہو “ اس سے مراد ” الفرقان “ بھی ہو سکتا ہے اور ” عبدہ “ وہ بندہ خاص یعنی محمد رسول اللہ ﷺ بھی مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ اس کا اطلاق دونوں پر ہو سکتا ہے اور فی نفسہ دونوں ایک ہی چیز ہیں کیونکہ آپ ﷺ بھی بلاشبہ کتاب اللہ اور ” الفرقان “ ہی ہیں کیونکہ ” الفرقان “ کا نزول آپ ﷺ ہی کے قلب پر ہوا ہے اور آپ ﷺ ہی کی زبان کی حرکت سے ظاہر ہوا ہے جس طرح ” الفرقان “ اللہ کا کلام ہے اسی طرح آپ ﷺ اللہ کے خاص بندہ اور رسول ہیں اور جس طرح ” الفرقان “ پوری دنیا والوں کے لئے ہے آپ ﷺ بھی پوری دنیا کے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ‘ جس طرح اللہ کا کلام ” الفرقان “ کے بعد نہیں ہو سکتا اسی طرح کوئی نیا یا پرانا اللہ کا رسول بھی محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نہیں ہوسکتا اور نبوت و رسالت ایسی چیز نہیں جو ایک بار عطا کرنے کے بعد سلب بھی کی جاسکتی ہو کیونکہ اس سے براہ راست اللہ رب ذوالجلال والاکرام میں نقص ثابت ہوتا ہے حالانکہ اللہ رب العزت ہر نقص سے پاک ہے ، دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے خود نبی اعظم وآخر ﷺ کی زبان اقدس سے اعلان کرا دیا ہے چناچہ ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” قل یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا “۔ (الاعراف 7 : 158) اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کہہ دیں کہ اے انسانو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں ‘ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا (آیت) ” وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین “۔ (الانبیاء 21 : 107) ” اور ہم نے آپ ﷺ کو اے پیغمبر اسلام ! ﷺ تمام دنیا والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہیں “ ایک جگہ ارشاد فرمایا (آیت) ” وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا ونذیرا “۔ (سبا 34 : 28) ” ہم نے آپ ﷺ کو سارے ہی انسانوں کے لئے بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا (آیت) ” واوحی الی ھذا القران لانذرکم بہ ومن بلغ “۔ (الانعام 6 : 19) ” میری طرف یہ قرآن کریم بھیجا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے میں تم لوگوں کو خبردار کروں اور جس جس کو بھی یہ پہنچے ۔
Ayah 25:2

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہی ذات جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ و جہاندار ہے اور جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور جس کی جہانداری میں کوئی شریک نہیں اور اس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا پھر ہرچیز کے لیے اس کی ضرورت اور حالت کے مطابق ایک اندازہ ٹھہرا دیا

بادشاہ حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس نے کسی کو اولاد نہیں بنایا : 2۔ ” الفرقان “ کا نازل کرنے والا کون ہے ؟ وہی ذات جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی حکومت و بادشاہی ہے اور ہرچیز کا وہی اصل مالک ہے ۔ ” ملک “ کے معنی ہیں جس شے میں تصرف حاصل ہے حکم کے ساتھ اس کو ضبط میں رکھنا اور ” ملک “ اس سے بمنزلہ جس کے ہے یعنی ہر ملک ملک ہے مگر ہر ملک ملک نہیں اور یہ بھی تحریر ہے کہ ملک اور ملکوت جب اللہ تعالیٰ کی طرف مضاف ہوں تو ایک ہی معنی دیتے ہیں ” سلطانہ وعظمتہ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا تسلط اور اس کی عظمت زیر نظر آیت میں اس کی مناسبت یہی ہے کہ ” الفرقان “ کا نزول کسی سائل کی درخواست کے باعث نہیں بلکہ خالق کائنات کا فرمان واجب الاذعان ہے اور اس نے اپنی مخلوق کے انذار وتذکیر کے لئے اس کو نازل فرمایا ہے اور اگر اس کی تکذیب کی گئی تو جس نے اس کو اتارا ہے وہ اس کی تکذیب کا انتقام لینے کے لئے کوئی کمزور ہستی نہیں ہے وہ یقینا اس کا انتقام لے گا اور یہ بھی کہ اگر وہ تکذیب کرنے والوں سے انتقام لے گا تو یقینا وہ تسلیم کرنے والوں کو بھی ضرور انعام دے گا کہ وہ مالک الملک ہے اور سارا نظام اس کے قانون مشیت کے تحت چل رہا ہے ۔ ” اس نے کسی کو اولاد نہیں بنایا “ اولاد جننا اور اولاد پکڑنا دونوں ہی کمزوری کی علامت ہیں اور اللہ تعالیٰ کمزور نہیں ۔ زوجین میں احتیاج ہے اور اس احتیاج کے نتیجہ میں اولاد رکھی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ ہر طرح کی احتیاج سے پاک ہے اس لئے لازم ہے کہ اس کی کوئی اولاد نہ ہو ۔ زوجین میں جو احتیاج ہے بلاشبہ اس کے نتیجہ میں اولاد ہے لیکن بعض اوقات حاجت پورا کرنے کے باوجود اولاد نہیں ہوتی کہ اطراف میں سے کسی طرف میں کوئی کمزوری لاحق ہے جو علم نہیں آرہی ہے یا کمزوری دور نہیں کی جا رہی یا دور نہیں ہو سکتی تو پھر نتیجہ نہیں نکلتا جو ایک فطری کمزوری ہے تاہم اولاد کی احتیاج جو نسل کے باقی رکھنے یا میراث دینے یا بڑھاپے کی احتیاجات کو پورا کرنے کی غرض سمجھ لی گئی ہے جب پوری ہوتی نظر نہیں آتی تو انسان کسی دوسرے سے بچہ طلب کرلیتا ہے تاکہ زوجین اپنی احتیاج کا ازالہ کرسکیں تو وہ جو کسی دوسرے سے اولاد حاصل کرلی جاتی ہے اس کو متبنی یعنی اولاد پکڑنا کہا جاتا ہے ظاہر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی طرح کی احتیاج کی نفی ہے تو آخر اس کی اللہ تعالیٰ کو ضرورت کیا ہے ؟ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ کی اولاد ہونے یا کسی کو اولاد پکڑنے دونوں کی نفی کی گئی ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ اولاد ہونے یا اولاد پکڑنے سے پاک ہے کہ وہ حی لا یموت “ ہے نہ تو اس کو موت ہے کہ اس کو اپنی جنس چھوڑنے کی ضرورت ہو نہ اس کو بڑھاپا آئے گا کہ اس کو کسی کے سہارے کی ضرورت ہو ، دوسری جگہ اس نے ان لوگوں سے مطالبہ کیا ہے جنہوں نے اللہ کی اولاد قرار دی ہے کہ بتاؤ اللہ کی بیوی کون ہے ؟ گویا ان سے کہا گیا ہے کہ اولاد ہونے کے لئے زوجین کا ہونا ضروری ہے جب تم نے اللہ کی اولاد قرار دی ہے تو ظاہر ہے کہ اللہ کو تم نے والد بنادیا ہے اور بقول تمہارے اگر اللہ والد ہے تو اس ولد کی والدہ بھی تم کو بتانا ہوگا جب تم وہ نہیں بتا سکتے تو تم اللہ کی اولاد ہونے کے نظریہ میں خود بخود جھوٹے ہو کہ احد الزوجین سے اولاد نہیں ہوتی ، چناچہ قرآن کریم میں ہے کہ : (آیت) ” وَجَعَلُواْ لِلّہِ شُرَکَاء الْجِنَّ وَخَلَقَہُمْ وَخَرَقُواْ لَہُ بَنِیْنَ وَبَنَاتٍ بِغَیْْرِ عِلْمٍ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یَصِفُونَ (100) بَدِیْعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ أَنَّی یَکُونُ لَہُ وَلَدٌ وَلَمْ تَکُن لَّہُ صَاحِبَۃٌ وَخَلَقَ کُلَّ شَیْْء ٍ وہُوَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ (الانعام 6 : 100 ‘ 101) ” اور دیکھ ان لوگوں نے خدا کے ساتھ جنوں کو شریک ٹھہرایا ہے حالانکہ انہیں بھی اللہ نے پیدا کیا ہے اور انہوں نے بغیر اس کے کہ علم کی کوئی روشنی اپنے سامنے رکھتے ہوں اللہ کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بھی تراش لی ہیں ‘ اللہ کی پاکیزگی ہو اس کی ذات تو ان تمام باتوں سے پاک اور بلند ہے جو یہ لوگ اس کی نسبت بیان کرتے ہیں وہ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو جب کہ کوئی اس کی بیوی نہیں ‘ اس نے تمام چیزیں پیدا کی ہیں اور وہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے ۔ “ اس کی تفصیل اس کے مقام پر گزر چکی ہے ۔ ” اس کی جہانداری میں کوئی شریک نہیں ہے “ بلاشبہ یہ حقیقت ہے لیکن لوگ شرک سے باز کب آتے ہیں ؟ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ : (آیت) ” ایشرکون مالا یخلق شیئا وھم یخلقون ولا یستطیعون لھم نصرا ولا انفسھم ینصرون “۔ (الاعراف 7 : 191 ‘ 192) ” کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرسکتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں ۔ “ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو اس بات پر ڈانٹ پلائی ہے کہ وہ انکی عبادت کرتے ہیں جو کسی کو پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں اور مخلوق اپنے خالق کی عبادت میں شریک نہیں گنا جاسکتا ۔ اس بات کی وضاحت کردی گئی کہ جن کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں وہ اپنے آپ کو نصرت واعانت سے قاصر ہیں یہ بھلا دوسروں کی مدد کیا کریں گے ؟ مشرکین کو کیا ہوگیا ہے کہ جو اپنی بھی مدد نہیں کرسکتا یہ اس سے استمداد کرتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ غیر اللہ کی عبادت کے بطلان پر یہ آیت واضح دلیل ہے اور قاطع برہان ہے اور تمام مخلوق کی یہی حالت ہے حتی کہ فرشتے ‘ صالحین واولیاء اللہ اور انبیاء کرام (علیہ السلام) سب کے سب اللہ کے محتاج ہیں اور پھر اور تو اور خود اشرف المخلوقات حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بھی مشرکین پر غلبہ اور فتح حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کرتے تھے جیسا کہ نبی اعظم وآخر ﷺ فرماتے ہیں اللھم انت عضدی ونصیری بک احول وبک اصول وبک اقاتل۔ ” اے اللہ تو ہی میرا دوست وبازو ہے اور مددگار ہے ، تیرے ہی بل پر میں بڑھتا ‘ حملہ کرتا اور قتال کرتا ہوں۔ “ اس کی تفصیل دیکھنا ہو تو سورة الاعراف کی آیت 188 سے 192 تک کا تفسیر عروۃ الوثقی سے مطالعہ کریں ۔ ہرچیز کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے ایک انسان ہی کیا چیز ہے ؟ اس دنیا کی مخلوق کو اگر کوئی گننا چاہے تو شاید آسانی سے نہ گنی جائے اور ہر مخلوق کا خالق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اس نے ہر مخلوق کو پیدا فرما کر ان کی پیدائش کا ایک ضابطہ مقرر کردیا ہے اور ہرچیز اس ضابطہ کے تحت پیدا ہوتی چلی جا رہی ہے اور جب تک یہ نظام قائم ہے یہ مخلوق پیدا ہوتی رہے گی اور اس ضابطہ کے تحت پیدا ہوتی رہے گی جو ضابطہ اللہ تعالیٰ نے اس مخلوق کے لئے طے کردیا ہے ۔ ” ہرچیز کے لئے اس کی ضرورت کے مطابق ایک اندازہ ٹھہرا دیا ہے “ کیا مجال ہے کہ کوئی چیز اس کے ٹھہرائے ہوئے اندازہ سے سرمو کم وبیش یا آگے پیچھے ہو سکے غور کرو کہ یہ سورج جو تمہارے زمین سے بھی کئی گنا بڑا ہے تم سال میں ایک دن مقرر کرلو اور آنے والے سال کے اس دن کا انتظار کرو کبھی نہیں دیکھو گے کہ ایک سال گزرنے کے باوجود بھی ایک لمحہ کی کمی بیشی کرے ، چاند ستاروں پر غور کرتے جاؤ اور افلاک کی ایک ایک چیز کو گن جاؤ تم کو کبھی بھی کوئی چیز اپنے اصول سے ہٹی ہوئی نظر نہیں آئے گی اس طرح انسان کو پیدا کیا تو اس کی زندگی اور موت کے لئے ایک میعاد مقرر کردی اور کوئی انسان اپنی اس میعاد میں ایک ساعت کی کمی وبیشی نہیں پائے گا ، اس کی مزید وضاحت دیکھنا مقصود ہو تو سورة الحجر کی آیت 21 کی تفسیر دیکھیں سورة الحجر عروۃ الوثقی کی پانچویں جلد کی پہلی سورت ہے ۔
Ayah 25:3

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور لوگوں نے اللہ کے سوا ایسے معبود ٹھہرا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں اور جو اپنے لیے بھی کسی قسم کا نفع و ضرر کا اختیار نہیں رکھتے اور نہ کسی کی موت اور زندگی اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندگی بخشنے کا اختیار رکھتے ہیں

گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت فرمائی جا رہی ہے کہ یہ لوگ کن کن کو معبود بنا رہے ہیں : 3۔ اظہار تعجب کے طور پر کہا جا رہا ہے ان لوگوں پر کہ وہ جن کو خود مخلوق مانتے اور جانتے ہیں پھر ان کو خالق بھی قرار دیتے ہیں اور اتنی واضح اور صاف بات کو بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ جو خود مخلوق ہے وہ خالق کیسے ہو سکتا ہے ؟ مدد چاہنے والا تو اس لئے کسی بالاتر طاقت کی طرف استمداد کے لئے ہاتھ پھیلاتا ہے کہ وہ کمزور ہے مگر اس غرض کے لئے یہ لوگ جن کے آگے ہاتھ پھیلا رہے ہیں ان کی کمزور کا حال یہ ہے کہ وہ ایک مکھی کو پیدا نہیں کرسکتے تو ان کو بیٹے وہ کیونکر دے لیں گے ہاں ! مکھی پیدا کرنا تو درکنار اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے بلاشبہ مدد چاہنے والے بھی کمزور ہیں اور جن سے مددچاہی جا رہی ہے وہ بھی کمزور ہیں اور مخلوق ہونے کے ناطے سے دونوں یکساں اور برابر ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو بزرگوں ‘ ولیوں اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ان کی وفات کے بعد بھی اپنا حاجت روا اور مشکل کشا جانتے ہیں اور ان کی سمجھ میں اتنی عام بات بھی نہیں آتی کہ مرا ہوا اور زندہ کبھی دونوں برابر نہیں ہوتے کیونکہ زندہ دیکھتا ہے ‘ سمجھتا ہے ‘ سنتا ہے اور چلتا پھرتا ہے لیکن مردہ تو اس سے معذور ہوتا ہے پھر یہ لوگ مرے ہوؤں کو بھی اپنے حاجت روا اور مشکل کشا قرار دیتے ہیں ان کی مت ماری نہیں گئی تو اور کیا ہے ؟ مرنے والے اپنے مدد آپ نہیں کرسکتے اگر کرسکتے ہوتے تو آخر مرتے کیوں ؟ وہ اپنا دکھ درد تو دور کر نہیں سکتے دوسروں کا دکھ درد کیوں دور کریں گے ؟ جن کو نہ موت پر کوئی اختیار ہے اور نہ زندگی پر وہ دوسروں کو نفع ونقصان کیا دیں گے ؟ حالانکہ وہ تو اپنے نفع ونقصان کے بھی مالک نہیں ہیں ۔ بلاشبہ اس معاملہ میں ساری مخلوق بےبس ہے خواہ کوئی نبی ہے یا رسول ‘ کوئی اللہ کا کتنا ہی نیک اور صالح انسان کیوں نہ ہو فرمایا اللہ کے ان نیک بندوں کو تو اتنا بھی علم نہیں کہ وہ دوبارہ کب اٹھائے جائیں گے اور کسی کو ان میں سے یہ بھی معلوم نہیں کہ خود ان کے ساتھ کیا کچھ معاملہ پیش آنے والا ہے چناچہ قرآن کریم نے خاتم النبین ﷺ کو مخاطب کر کے اس مسئلہ کو صاف کردیا ہے جہاں ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” قل ما کنت بدعا من الرسل وما ادری مایفعل بی ولا بکم ان اتبع الا ما یوحی الی وما انا الا نذیر مبین “۔ (الاحقاف 46 : 9) ” اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان لوگوں سے کہو کہ میں کوئی نرالا رسول نہیں ہوں دوسرے رسولوں کی طرح میں بھی نہیں جانتا کہ کل میرے ساتھ کیا ہونا ہے اور تمہارے ساتھ کیا ‘ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا کچھ نہیں ہوں “ آخر و کونسا رسول تھا جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے بھیجا تھا اور اس کو یہ حکم دیا تھا کہ تم جا کر لوگوں سے کہہ دو کہ جب تم کسی مصیبت میں مبتلا ہو تو مجھے پکار لیا کرو اور اگر اللہ کی طرف سے تم کو اولاد نہ ملے تو مجھ سے طلب کرلیا کرو ۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ سے اس بات کا اعلان کرایا گیا کہ آپ ﷺ لوگوں کو صاف صاف سنا دیں کہ لوگو ! میں تم کو اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت دینے کے لئے آیا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ‘ وہی معبود حقیقی ہے جو کچھ طلب کرنا ہے اسی سے کرنا ہے آنے والے کل کے بارے میں ‘ میں تم کو کچھ نہیں بتا سکتا کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور تمہارے ساتھ کیا ؟ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھے بھیجی جاتی ہے میں کوئی عالم الغیب “ نہیں ہوں کہ ماضی ‘ حال اور مستقبل سب مجھ پر روشن ہوں اور دنیا کی ہرچیز کا مجھے علم ہو تمہارے مستقبل تو درکنار مجھے تو اپنا مستقبل بھی معلوم نہیں ہے جس چیز کا وحی کے ذریعہ سے مجھے علم دے دیا جاتا ہے بس اس کو میں جانتا ہوں اس سے زائد کا میں نے کب دعوی کیا ہے ؟ کونسا رسول ہے جو یہ دعوی لے کر آیا ہے ؟ کونسا رسول ہے جس کو اللہ نے ظاہری زندگی اور موت کا اختیار دیا تھا کہ تم میرے اذن سے لوگوں کو زندہ کرتے رہو اور مارتے رہو ؟ ظاہر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے کسی نبی ورسول کو بھی یہ اختیار نہیں دیا تو دوسرے کون ہیں جو لوگوں کی قسمتوں کے فیصلے کرسکتے ہیں اور لوگوں کے حاجت روا اور مشکل کشا ہو سکتے ہیں ؟ بات کی جتنی بھی وضاحت کرتے جاؤ گے اختصار اس کا اتنا ہی ہے جتنا کہ قرآن کریم نے بیان کردیا کہ لوگوں نے اللہ کے سوا جن جن کو معبود ٹھہرایا ہے وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں اور وہ سب کے سب اپنے لئے بھی یہ اختیار نہیں رکھتے کہ اپنا نفع ونقصان کرسکیں نہ کسی کی موت وزندگی ان کے اختیار میں ہے اور نہ دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت سے ہی وہ آگاہ ہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے ؟
Ayah 25:4

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

کافر کہتے ہیں کہ یہ قرآن اختراع ہے ، اللہ کی طرف سے نہیں اس (محمد رسول اللہ ﷺ نے خود گھڑا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اسے مدد دی ہے اور یہ (کافر) بڑے ہی ظلم اور جھوٹ پر اتر آئے ہیں

قرآن کریم سے لوگوں کو بدگمان کرنے کے لئے قریش کے لیڈروں کا کردار : 4۔ جب قرآن کریم کی آیات کفار مکہ کے سامنے پڑھی جاتی تھیں تو وہ صاف یہ محسوس کرتے تھے کہ اس کلام کی شان انسانی کلام سے بدرجہا بلند ہے ، اس سلسلہ میں وہ کئی مجلسیں منعقد کرچکے تھے کہ اس کلام کو کیا قرار دیں ؟ وہ بارہا یہ سوچ چکے تھے کہ اگر اس کو کسی شاعر کا کلام قرار دیں تو کیسے اور کسی ادیب کی طرف اس کی نسبت کریں تو کیونکر ؟ وہ سمجھتے تھے کہ قرآن کریم کے مضامین لوگوں کے دلوں کو جس طرح گرما دیتے ہیں دوسرا کوئی مضمون بھی اس طرح کی گرمی پیدا نہیں کرسکتا ان کو معلوم تھا کہ اور تو اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ خود اس یعنی محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کلام بھی وہ شان نہیں رکھتا جو قرآن کریم کی شان ہے جو لوگ بچپن سے آپ کو دیکھتے چلے آرہے تھے وہ خوب جانتے تھے کہ آپ ﷺ کی زبان اور قرآن کریم کی زبان میں کتنا فرق ہے ، بلاشبہ ان کے لئے بھی یہ ممکن نہ تھا کہ ایک آدمی جو چالیس پچاس برس سے شب روز ان کے درمیان رہتا ہے وہ یکایک کسی وقت بیٹھ کر ایسا کلام کیسے گھڑ لیتا ہے جس کی زبان میں اس کی اپنی جانی پہچانی زبان سے قطعا کوئی مشابہت نہیں پائی جاتی ، یہ چیز ان کے سامنے حق بالکل بےنقاب کر کے لے آئی تھی مگر چونکہ وہ نہ ماننے کا فیصلہ کرچکے تھے اس لئے بڑی ڈھٹائی سے کہتے تھے کہ یہ قرآن اس کی اختراع ہے یہ اللہ کی طرف سے نہیں بلکہ خود محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھڑا ہے پھر جب سوچتے کہ یہ بات ہماری تسلم نہیں ہوگی تو ساتھ ہی طرح مصرع یوں لگاتے کہ ” کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اسے مدد دی ہے “ صاف بات ہے کہ یہ لوگ اتنے بےحیا ہیں کہ آپ ﷺ پر قرآن کریم خود گھڑ لانے کا الزام عائد کرتے ہیں حالانکہ ان کو خوب معلوم ہے کہ یہ ان کا تصنیف کردہ کلام نہیں ہوسکتا پھر دوسری جگہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کلام کچھ نہیں مگر سحر ہے حالانکہ ان کا اس کلام کو سحر قرار دینا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کلام غیر معمولی ہے جس کا کسی انسان کی تصنیف ہونا ان کے اپنے نزدیک بھی ممکن نہیں ہے ، ان کی چالاکی کا آپ لوگ اندازہ کریں کہ انہوں نے یہ فقرہ ” واعانہ علیہ قوم اخرون “ کہہ کر کس طرح دھوکادینا چاہا چونکہ قرآن کریم میں سابق انبیاء کرام (علیہ السلام) کے تذکار تھے اور وہ جانتے تھے کہ ان سرگزشتوں کے جاننے کا کوئی ذریعہ بظاہر محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہیں تھا اس لئے انہوں نے اس اعتراض کا دفاع یہ تلاش کیا کہ اس کی مدد بہت سے دوسرے لوگوں نے بھی کی ہے تاکہ وہ اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لئے ایک عذر پیش کرسکیں اور کوئی شخص اس طرح کا اعتراض کرے تو وہ اس کا جواب دے سکیں گویا یہ ان کی ایک شاطرانہ چال تھی جو انہوں نے قبل از وقت ہی چل دی ، مخالف اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے آئے ہیں اور آج بھی استعمال کر رہے ہیں اور ہمیشہ استعمال کرتے رہیں گے ، بات کرنے اور کہنے کا جب تک کوئی اصول مقرر نہ کیا جائے تو اس وقت اکثر یہی ہوتا ہے کہ انسان دفع الوقتی کے لئے جو بات اس کے ذہن میں آتی ہے کہہ دیتا ہے اور نہیں سمجھتا کہ اس نے پہلے کیا کہا تھا اور اب کیا کہہ رہا ہے یہی بات ان معترضین کی تھی کہ جب نہ ماننے کی قسم کھالی تو اب اپنے مؤقف کو تقویت دینے کے لئے جو بات اس وقت سمجھ میں آئی کہہ دی تاکہ وقت چل جائے اس وقت ہمارے پورے معاشرے کا یہی حال ہے خواہ وہ حکمران ہوں یا رعایا وعوام ہوں یا خواص مذہبی پیشوا ہوں یا سیاسی لیڈر سب کے سب دفع الوقتی کے لئے بیان بازی کرتے ہیں اور ان کے بیان میں کفار مکہ کی طرح کوئی صداقت نہیں ہوتی اور یہ مرض اتنا بڑھ چکا ہے کہ سب اس میں مبتلا ہیں اس لئے کوئی کسی کو کچھ نہیں کہہ سکتا اللہ تعالیٰ اس بیماری سے بچائے ۔
Ayah 25:5

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تو پہلوں کی کہانیاں ہیں جسے اس نے لکھ لیا ہے اور صبح و شام اسے پڑھ کر سنایا جاتا ہے

انہوں نے کہا کہ قرآن کیا ہے ؟ پہلوں کی کہانیاں ہی تو ہیں : 5۔ پیچھے ہم نے بیان کیا ہے کہ انسان جب کسی ضابطہ کا پابند نہ رہے تو وہ جو اس کے منہ میں آتا ہے کہتا جاتا ہے اور لوگوں کی اکثریت بھی کچھ اس قسم کی ہے کہ وہ ہر اس شخص کو اہمیت دینے لگتے ہیں جو بےلگام ہو کر بولتا جاتا ہے اور جو بول کسی کو پسند آیا وہی اس نے جذب کرلیا ، بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی دعوی کرنے والے کے متعلق یہ بھی سوچا جائے کہ آیا اس کا دعوی کیا ہے ، آپ پورا قرآن کریم پڑھ جائیں آپ کو ایک جگہ بھی اس کا اشارہ تک نہیں ملے گا کہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن کریم میں کہیں یہ دعوی کیا ہے کہ میں نے جو کچھ تمہارے سامنے پیش کیا ہے یہ مجھ سے پہلے کسی نے پیش نہیں کیا اور میری دعوت گزشتہ دعوتوں کی طرح نہیں بلکہ ایک بالکل نئی دعوت ہے ، اگر آپ ﷺ کا یہ دعوی ہوتا تو ان کو حق تھا کہ وہ کہتا کہ یہ تو سراسر جھوٹ ہے اس میں تو گزشتہ لوگوں کی سرگزشتیں بیان کی گئی ہیں جو آپ ﷺ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) پیش کرچکے ہیں ، بلکہ قرآن کریم کا اعلان تو یہ ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ (علیہ السلام) اعلان کر دیجئے کہ ” میں کوئی نرالا رسول نہیں “ مجھ سے پہلے بھی رسول بھیجے گئے اور میں جو کچھ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں وہ وہی ہے جو مجھ سے پہلے ان گنت نبی ورسول پیش کرچکے لیکن لوگوں نے اس کا بھلا دیا اور میں اسی بھولے ہوئے سبق کو یاد کرنے کے لئے آیا ہوں ۔ لیکن نادان لوگوں کا عموما یہ قاعدہ ہے کہ جب کوئی شخص انہیں حق کی طرف دعوت دیتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ تم نے نئی بات آخر کیا کہی ہے یہ تو سب وہی پرانی باتیں ہیں جو ہم پہلے سے سنتے چلے آ رہے ہیں گویا ان احمقوں کا نظریہ یہ ہوا کہ کسی بات کے حق ہونے کے لئے اس کا نیا ہونا بھی ضروری ہے اور ہر وہ بات جو پرانی ہے وہ حق نہیں ہے ، حالانکہ حق ہر زمانہ میں ایک ہی رہا ہے اور ہمیشہ ایک ہی رہے گا ۔ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم کی بنا پر لوگ انسانوں کی راہنمائی کے لئے آگے بڑھے ہیں وہ سب کے سب قدیم ترین زمانہ سے ایک ہی امر حق کو پیش کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی جو اس منبع علم سے فائدہ اٹھا کر کچھ پیش کرے گا تو انہیں پرانی باتوں کو دہرائے گا ، بلاشبہ قرآن کریم میں گزشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور صلحاء عظام کی سرگزشتیں بیان کی گئی ہیں لیکن کیا یہ لوگ ان گزشتوں کو اسی طرح مانتے ہیں جس طرح قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں یا یہ لوگ اپنی طرف سے باتیں گھڑ کر انبیاء کرام (علیہ السلام) کے نام سے منسوب کرنے میں ماہر ہیں پھر جب نبی اعظم وآخر ﷺ نے ان کی گھڑی ہوئی باتوں کا رد کیا تو انہوں نے برملا الزام لگایا کہ آپ ﷺ ہم کو ہمارے باپ دادا کے دین سے ہٹانا چاہتے ہیں اور نئی باتوں کی طرف دعوت دیتے ہیں جو آج تک ہم نے اپنے آباد اجداد سے کبھی نہیں سنی گویا یہ وہی بات ہے جو ہم نے پہلے عرض کی کہ جو منہ میں آیا وہی کہہ دیا ۔ انہوں نے دوسرا الزام زیر نظر آیت میں یہ لگایا کہ یہ باتیں جو ہم پر پیش کی جا رہی ہیں یہ تو وہی ہیں جو کوئی پڑھنے والا اس رسول پر صبح وشام پڑھ دیتا ہے ، وہ کون ہے ؟ ان کی بلا سے انہوں نے تو ایک شوشہ چھوڑنا تھا چھوڑ دیا وہ کسی کا نام نہ لے سکتے تھے اور نہ ہی لیا کیونکہ وہ جس کا نام لیتے اس کی زبان اور اس کے نظریات کو دیکھ لیا جاسکتا تھا لیکن جب ان کو یہ بات کئے ہوئے مدت گزر گئی اور اس وقت کے لوگوں میں سے کوئی بھی موجود نہ رہا تو ہمارے قریب زمانہ کے بعض مستشرقین مغرب نے نبی کریم ﷺ پر یہی اعتراض نہایت شدت سے پیش کیا اور دلائل میں ایک دو باتیں بھی گھڑ لی گئیں ان میں سے ایک تو بحیرہ راہب کی ملاقات کا قصہ ہے جو ان کے ہاتھ لگ گیا اور پھر اس کے ساتھ آپ ﷺ کی جوانی کی تجارت کی داستانیں اور عیسائی راہبوں اور یہودی راہبوں سے معلومات حاصل کرنے کا الزام انہوں نے لگایا لیکن غور طلب بات تو یہ تھی کہ آخر یہ الزام قریش مکہ کو کیوں نہ سوجھا ؟ ظاہر ہے کہ معاصرین کو آپ ﷺ کے سارے سفروں کا حال معلوم تھا کیونکہ آپ ﷺ کے یہ سفر اکیلے نہیں ہوئے تھے بلکہ قریش مکہ کے قافلوں کے ساتھ ہوئے تھے اور وہ جانتے تھے کہ اگر ان سے سیکھ آنے کا الزام ہم لگائیں گے تو ہمارے اردگرد سینکڑوں زبانیں کھل جائیں گی جو ہم کو جھٹلا دیں گی اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ بحیرہ کا قصہ جو گھڑا گیا ہے وہ بھی اس وقت کا ہے جب آپ ﷺ کی عمر 12 ‘ 13 سال بمشکل ہوگی اور 25 سال کی عمر جو جوانی کی عمر ہے اگر اس وقت کچھ سیکھا ہوتا تو آخر پندرہ سال تک کیوں بالکل خاموش رہے اور چالیس سال کی عمر ہوتے ہیں آپ ﷺ نے وہ سب کچھ کہنا شروع کردیا پھر جب ان کو اس قرآن کریم کی مثل لانے کی دعوت عام دی گئی تو ان کے اس جھوٹ کی ساری کلی کھل گئی اور وہ بوکھلا کر رہ گئے ۔ چونکہ انکے الزام کا محض بےاصل اور سرا سرہٹ دھرمی پر مبنی ہونا بالکل ظاہر تھا اس لئے اس کی تردید میں دلائل پیش کرنے کی کوئی حاجت نہ تھی اس لئے قرآن کریم میں دوسری جگہ یہ کہنے پر اکتفا کرلیا کہ اگر واقعی میں نے خود ایک کلام تصنیف کرکے اللہ کی طرف منسوب کرنے کا جرم عظیم کیا ہے جیسا کہ تم الزام رکھتے ہو تو مجھے اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچانے کے لئے تم نہ آؤگے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور تم جھوٹے الزامات رکھ رکھ کر اسے روک رہے ہو تو اللہ تعالیٰ تم سے نمٹ لے گا بلاشبہ حقیقت اللہ تعالیٰ سے چھپی ہوئی نہیں ہے اور جھوٹ سچ کا فیصلہ کرنے کے لئے وہ بالکل کافی ہے ساری دنیا اگر ایک شخص کو جھوٹا کہے اور اللہ کے علم میں وہ سچا ہو تو آخری فیصلہ لازما اس کے حق میں ہوگا اور ساری دنیا اگر کسی کو سچا کہہ دے مگر اللہ کے علم میں وہ جھوٹا ہو تو آخر کار وہ جھوٹا ہی قرار پائے گا اور اس بات کا فیصلہ مکافات عمل سے ثابت ہوجائے گا لہذا تم کام کئے جاؤ ہم کو بھی اپنا کام کرنے دو پھر دنیا نے دیکھا کہ چند ہی سالوں میں اس حق و باطل کا فیصلہ ان لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا جو اس طرح کی ہٹ دھرمیاں کر رہے تھے ۔
Ayah 25:6

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اس کو تو اس ذات نے نازل فرمایا ہے جو آسمانوں اور زمین میں تمام چھپی چیزوں کو جانتا ہے بلاشبہ وہ بڑا بخشنے والا اور بہت پیار کرنے والا ہے

معترضین کے اعتراض کا جواب جو خود اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : 6۔ معترضین کا کہنا کیا تھا ؟ یہی کہ آخر اس کلام میں رکھا کیا ہے یہی چند من گھڑت قصے اور پرانے لوگوں کی داستانیں ہیں جو اس نے قصہ گوؤں سے صبح وشام سنیں اور پھر انہیں مرچ نما لگایا اور ہمیں آکر سنا دیا کیا ایسی کتاب بھی اس قابل ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے جو کسی سے لکھوا لی گئی ہے اس کے جواب میں ارشاد ہو رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ یہ سنے سنائے قصے نہیں ہیں بلکہ یہ تو اس علیم وخبیر کا کلام ہے جو زمین و آسمان کے ہر راز سے واقف ہے ، اگر تم اب بھی اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ دو اور حق کو قبول کرلو تو وہ اپنی مغفرت کی چادر سے تم کو ڈھانپ لے گا اور اپنی رحمت کا دروازہ تمہارے لئے کھول دے گا اور اس پر انعام مزید یہ کہ تمہاری سابقہ کل خطائیں معاف کردی جائیں گی اس طرح ان کو بتایا جا رہا ہے کہ کہ شان ہے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی غفاری ورحیمی کی کہ جو لوگ حق کو نیچا دکھانے کے لئے ایسے جھوٹ کے طوفان اٹھاتے رہے ان کو بھی وہ مہلت دیتا ہے اور سنتے ہی عذاب کا کوڑا ان پر نہیں چلا دیتا اس طرح یہ سب کچھ سن لینے کے بعد اس کو برداشت کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے تو فقط یہ کہ اب بھی وقت ہے مان لو گے تو اس کی رحمت کی چادر تم کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور تم کو عذاب سے بچالیا جائے گا لیکن ان کی سوچ کب بدلنے والی تھی انہوں نے اپنے اعتراضات کا ایک بالکل نیا پیرایہ اختیار کرلیا جیسا کہ آگے ذکرآرہا ہے ۔
Ayah 25:7

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا بھی ہے اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا جو اس کے پاس رہ کر لوگوں کو ڈراتا

معترضین کے اعتراضات کا ایک نیا اور اچھوتا ڈھنگ : 7۔ جب کسی کے پاس طاقت موجود ہو تو وہ جو کچھ کرتا ہے صرف طاقت کے بل بوتے کرتا جاتا ہے اس کے نزدیک حق ناحق کی کوئی بحث نہیں ہوتی ۔ حق کیا ہے ؟ وہی جو زور آور کے منہ سے نکل گیا ہے اور واہ واہ کرنے والوں نے اس پر واہ واہ کردی ہے غور کرو کہ انہوں نے پہلے کیا کہا اور اب کیا کہہ رہے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ اپنی باتوں کی بےسروپائی ان پر بھی عیاں تھی وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں خوب جانتے تھے کہ ان کی یہ بہتان تراشیاں کسی خرد مند کو متاثر نہیں کرسکیں گی اور ان کی اس غوغا آرائی سے لوگ اس دین سے متنفر نہیں ہوں گے اس لئے انہوں نے اپنے زور کے بل پر ایک نیا پینترا بدلا اور کہنے لگے کہ یہ عجیب رسول ہے جو ہماری طرح کھاتا ‘ پیتا اور بازاروں سے سودا سلف خریدتا پھرتا ہے نہ اس کے آگے پیچھے کوئی فرشتہ ہے کہ اس کی طرف سے لوگوں کو دوڑائے تاکہ وہ اس کی طرف رخ کریں یہ اور اس طرح کی بہت سی باتیں انہوں نے بنائیں اور ایک سے بڑھ کر ایک اپنی طرف سے اعتراضات کرنے شروع کردیئے اور رسول کے متعلق جو تخیل ان کے بزرگوں نے ان کو دیا تھا اس کا اظہار انہوں نے کھل کر کردیا کہ رسول انسان کب ہوتا ہے ؟ اور وہ اس طرح کھاتا پیتا کب ہے ؟ اور بازاروں میں سودا سلف خریدنے کے لئے کب جاتا ہے ؟ انہوں نے تو بزرگوں سے یہی کچھ سنا تھا کہ رسول کو بشر کہنا تو نہایت ہی گستاخی کی بات ہے رسول کا کام تو مردوں کو زندہ کرنا اور لوگوں کو طرح طرح کے اعجوبے دکھانا ہے بلکہ ان کو بتایا گیا تھا کہ رسول جس طرف کو چلتا جاتا ہے روشنی ہی روشنی ہوتی جاتی ہے ‘ وہ مٹی کو ہاتھ لگاتا ہے تو سونا بن جاتا ہے ‘ وہ پھونک لگائے تو اس کے سامنے باغات ہی باغات ہوجاتے ہیں ، وہ جس چیز کا ارادہ کرے وہ چل کر اس تک پہنچ جاتی ہے ‘ جہاں جانا چاہئے ایک تخت پر بیٹھتا ہے اور وہ تخت اڑ کر وہاں پہنچ جاتا ہے ، کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے سامنے رام ہوتا ہے ۔ وہ دیکھتا ہے تو لوگوں کی کایا پلٹ جاتی ہے ‘ وہ جس چیز کو ہاتھ لگا دے وہ کبھی ختم ہی نہیں ہوتی ‘ وہ بیماروں کو صحت دیتا ہے ، اس کے فضلات تک سب پاک ہوتے ہیں ، اس کے پیشاب اور تھوک میں برکت ہوتی ہے ‘ وہ نہ کبھی سوتا ہے اور نہ جاگتا ہے ‘ وہ سوکھے درخت کو دیکھے تو وہ ہرا ہوجاتا ہے ‘ وہ پتھروں پر ہاتھ رکھے تو وہ کلمہ پڑھنے لگتے ہیں دنیا کی ہرچیز اس کو سجدہ کرتی ہے ‘ وہ دن کو رات کہے تو وہ رات ہوجاتا ہے اور اسی طرح وہ رات کو دن کہہ دے تو رات بدل کر دن ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح کے تخیلات ان کے اندر موجزن تھے انہوں نے جبنبی اعظم وآخر ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ کھانا کھاتے ہیں ‘ بھوک انکو لگتی ہے ‘ بازاروں میں وہ خود جاتے اور اپنے لئے اپنے گھر والوں کے لئے سودا سلف خریدتے ہیں اور پھر خود ہی اٹھا کر اس کو گھر تک لے آتے ہیں فرشتے ان کے آگے پیچھے نظر نہیں آتے ‘ وہ سوتے ہیں ‘ جاگتے ہیں ‘ دکھ سکھ میں مبتلا ہوتے ہیں ‘ گرمی سردی ان کو لگتی ہے ‘ قضائے حاجت کو وہ جاتے ہیں اور اپنے سارے کام اسی طرح سرانجام دیتے ہیں جیسے دنیا کے دوسرے لوگ سرانجام دیا کرتے ہیں تو انہوں نے آپ کی نبوت سے انکار کردیا اور تعجب سے کہنے لگے کہ بھلا یہ رسول کیسے ہو سکتا ہے ؟
Ayah 25:8

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یہ کہ اس کی طرف کوئی خزانہ ہی ڈال دیا جاتا اس کے پاس کوئی باغ ہوتا جس سے وہ کھایا کرتا اور یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک سحر زدہ آدمی کے پیچھے لگ گئے ہو

ان کے مطالبات کی فہرست کی بقیہ چیزیں اس طرح بیان کی گئیں : 8۔ انہوں نے اپنے مطالبات کی فہرست پیش کرتے ہوئے کہ چلو اور کچھ نہیں تو اس کے لئے ایک خزانہ تو ہوتا یا کم از کم کوئی باغ ہی اس کے پاس ہوتا جس سے وہ جب چاہتا پھل کھالیتا جب ان باتوں میں سے ایک بات بھی اس کو میسر نہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ رسول نہین البتہ سحرزدہ ایک انسان ضرور ہو سکتا ہے کہ کسی نے اس پر جادو کردیا ہے اس لئے وہ بہکی بہکی باتیں کرتا ہے اور اس کا یہ دعوی بھی اسی قبیل سے ہے ہمیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی دیوانہ ہے ، اہل عرب میں دیوانگی کی دو صورتیں عام طور پر تسلیم تھیں ایک یہ کہ کسی جن کا اس پر سایہ ہوگیا ہو اور دوسرا یہ کہ کسی کی دشمنی نے جادو کر کے اس کو پاگل بنادیا ہو اور یہ دونوں باتیں آج بھی لوگوں میں اسی طرح تسلیم ہیں اور اس سے مزید لوگوں کو جو زیادہ متاثر کرنے والی بات ہے وہ یہ ہے کہ اس کو بزرگوں کی مار لگ گئی یعنی کسی بزرگ ‘ پیر فقیر نے اس کو بددعا دے دی ہے کہ اس نے کسی کی گستاخی کی ہوگی اور کی بزرگ کے منہ سے اس کے متعلق اس طرح کی باتیں کرتے ہیں اس کے متعلق متضاد باتیں کرتے ہیں ‘ کبھی سحر زدہ کہتے ہیں اور کبھی جادوگر اسی طرح گویا مت تو ان کی اپنی ماری ہوتی ہے اور کہتے اس کو ہیں اور یہی حال اس وقت ان لوگوں کا تھا جو اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کے متعلق اس طرح کی باتیں بیان کرتے تھے ، تفصیل دیکھنا ہو تو تفسیر عروۃ الوثقی میں سورة بنی اسرائیل کی آیت 90 تا 97 کی تفسیر دیکھیں ‘ وضاحت وہاں کردی گئی ہے ۔
Ayah 25:9

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) دیکھئے تو یہ لوگ آپ ﷺ کے سامنے کیسی کیسی باتیں کر رہے ہیں ، سو یہ لوگ گمراہ ہوگئے اور اب یہ کوئی راہ نہیں پا سکتے

معترضین کی حواس باختگی کا ذکر جو قبل ازیں کیا جا چکا ہے : 9۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام ارشاد فرماتا ہے کہ دیکھو اے میرے رسول ! کہ یہ معترضین کس قدر حواس باختہ ہوچکے ہیں کہ آپ ﷺ کے دعوی نبوت کا انکار کرکے کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور آپ کے متعلق کس طرح کی بےجوڑ باتیں کر رہے ہیں ؟ کبھی کہتے ہیں کہ یہ تو سراسر افتراء برداز ہے کہ بیہودہ قصے بیان کرتا ہے اور مفتری افسانے لکھنے والا یا لکھوانے والا قرار دیتے ہیں ‘ کبھی مجنون کی رٹ لگاتے ہیں اور جادوگر بیان کرتے ہیں اور کبھی یہ لوگ اسی منہ سے اس طرح بکنے لگتے ہیں کہ ہو نہ ہو یہ سحر زدہ ہے اور کسی بزرگ کی اس کو مار لگ گئی ہے فرمایا دیکھو اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کہ یہ لوگ کس طرح گمراہ ہوگئے اور حق تک پہنچنے والا راستہ ان پر کس طرح بند ہوگیا ۔ آپ ﷺ ان کو توحید کا درس دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ لوگو ! یہ شرک جس پر تمہارے مذہب و تمدن کی بنیاد قائم ہے ایک غلط اور فضول عقیدہ ہے اس کائنات کے ذرہ ذرہ پر نظر دوڑاؤ تم کو ہر ذرہ توحید الہی کا درس دے گا تم اجرام فلکی کی طرف نگاہ دوڑؤ تو وہ پکار پکار کر اللہ رب کریم کی وحدانیت کا اعلان کرتے دکھائی دیں گے غور کرو کہ ہر طرف توحید الہی کے دلائل ہی دلائل ہیں اور اس کائنات کا باقاعدہ چلنے والا نظام واضح کر رہا ہے کہ یہاں کا نظام چلانے والا ایک اور صرف ایک ہی ہے اور ہرچیز اس کے بندھن میں کسی طرح بندھی ہوئی ہے یہ لوگ جب ان دلائل کو اپنے کانوں سے سنتے اور آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو ان کو جھٹلا نہیں سکتے اور شرک کے برحق ہونے پر کوئی دلیل نہیں رکھتے تو آوازیں کسنے لگتے ہیں اور شور مچانے لگتے ہیں کہ یہ آدمی تو سحر زدہ ہے ‘ اس کو تو ہمارے بزرگوں میں سے کسی کی مار لگ گئی ہے فرمایا اس طرح ان کی گمراہی کا یہ عالم ہے کہ کوئی بات بھی ان کے منہ سے ٹھکانے کی نہیں نکلتی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دلائل نے انکو فی الواقع بہکا دیا ہے اور مبہوت ہو کر اس طرح کی متضاد باتیں بکتے چلے جا رہے ہیں ، یہ آیت پیچھے سورة بنی اسرائیل کی آیت 48 کے طور پر بھی گزر چکی ہے اس لئے اس کی تفسیر کو وہاں سے بھی ملاحظہ کرلیں حاشیہ نمبر 62 کا عنوان ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کی نسبت ان لوگوں نے کیا کچھ ہے جو نہیں کہا ؟ “ عروۃ الوثقی جلد پنجم ص 375۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کے مقام کو نہ پہچان کر تیری عظمت سے بیخبر رہ کر ‘ تیری حیثیت کا انکار کر کے وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور لوگوں کو بھی گمراہ کیا کاش انہیں صدیق کی آنکھ اور بلال کا دل نصیب ہوتا تو انہیں تیرے حسن سرمدی اور تیری محبوبیت کا پتہ چلتا ، بارگاہ رسالت محمدی ﷺ کا ایک شاعر آپ ﷺ کی شان میں کیا کہتا ہے ذرا اس کو سنو ! واجمل منک لم ترقط عین واحسن منک لم تلد النسا۔ خلقت مبرا من کل عیب کانک قد خلقت کما تشا۔ چشم فلک نے اے پیارے رسول ! کہیں بھی اور کبھی بھی تجھ سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں دیکھا اور کسی عورت نے کسی زمانہ میں آپ ﷺ سے زیادہ حسین بچہ نہیں جنا ، پیدا کرنے والے نے تجھے ہر عیب سے پاک پیدا کیا ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ تیری تخلیق اس طرح کی گئی ہے جیسے تیری مرضی تھی ، یہ کہنے والے حضرت حسان بن ثابت ؓ بھی تو آخر انہی لوگوں میں سے ایک تھے وہ اللہ کا بندہ نبی اعظم وآخر ﷺ کی محبت کی راہ پر چلا اور اسے نبی کی معرفت نصیب ہوئی لیکن دوسرے کتنے ہی بدنصیب تھے جو اعتراضات والزامات کے خارزاروں میں سرپٹخ پٹخ کر رہ گئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کبھی وہ آپ ﷺ کو جادوگر کہتے اور کبھی کہتے کہ آپ ﷺ پر کسی نے جادو کردیا ہے ‘ کبھی کہتے کہ آپ ﷺ کلام گھڑتے ہیں اور اللہ کا ذمہ لگا دیتے ہیں ‘ کبھی کہہ دیتے کہ بہت سے لوگ اس پر صبح وشام ایسا کلام پڑھتے ہیں اور وہی سے یہ یاد کرکے دوسرے لوگوں کو سناتا رہتا ہے۔ مختصر یہ کہ جو ان کے منہ میں آتا کہہ دیتے ہیں اس لئے انہیں ٹامک ٹوئیوں میں ایمان کی دولت سے محروم رہے اور انجام کار دوزخ کا ایندھن بن گئے ۔
Ayah 25:10

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

اس کی ذات تو بڑی ہی بابرکت ہے اگر وہ چاہے تو ان کی تجویز کردہ چیزوں سے بھی آپ ﷺ کو بہتر چیزیں عطا کر دے اور آپ ﷺ کو باغات عطا کر دے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں اور آپ ﷺ کو بڑے بڑے محل دے دے

اگر مشیت ایزدی میں طے ہوتا تو ایک کیا کہتے ہی محل آپ ﷺ کو مل جاتے : 10۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ کافر جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ہمارے علم میں ہے اگر ہماری مشیت میں آپ ﷺ کو محل اور باغ دینا ہوتا تو ایک کیا کتنے ہی محلات اور باغات آپ ﷺ کو دے دیئے جاتے لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا اس وقت یہ لوگ آپ ﷺ کو نبی ورسول مان لیتے ؟ ہرگز نہیں اس لئے کہ ماننے والوں کے لئے ہم نے یہ معیار کب مقرر ہے کہ جس کے پاس باغات اور محلات ہوں وہ نبی ورسول ہوتا ہے اور پھر یہ بھی کہ اگر آپ ﷺ کے پاس محلات و باغات ہوتے اور لوگ آپ ﷺ کو نبی مان لیتے کیا جن لوگوں کے پاس محلات و باغات ہیں ان کو ان لوگوں نے نبی ورسول مان لیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ محلات و باغات کا تعلق نبوت سے نہیں اس کے نہیں اس کے لئے ہماری مشیت میں الگ قانون موجود ہے اور اس قانون کے مطابق محلات و باغات اور دنیا کے رزق کی تقسیم ہو رہی ہے نبوت اور رسالت کے لئے ہم نے یہ معیار مقرر ہی نہیں کیا کہ اتنے باغات ومحلات اور اس طرح کی جائیداد ہوگی تب اس کو نبوت دی جائے گی ‘ نبوت و رسالت کیلئے ایسا کوئی معیار نہیں بلکہ نبوت و رسالت کے لئے ہمارے قانون میں طے ہے کہ فلاں آدمی کو ہم نبی ورسول بنائیں گے تو اس کو پہلے ہی روز سے ایسا دیا گیا ہوتا ہے اور جب نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم نہیں کیا گیا تھا ان لوگوں کو جن کو ہماری مشیت میں نبی ورسول بننا طے تھا وہ نبی ورسول ہوئے پھر جس نبی ورسول کو نبوت و رسالت کو جس جس نے ماننا اور تسلیم کرنا تھا اس اس نے مانا اور تسلیم کیا اور جن لوگوں نے ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لینا تھا وہ لیتے رہے اب جبکہ نبوت و رسالت کا باب لاک کردیا گیا ہے ، اب کوئی نیا اور پرانا رسول نہیں آسکتا اور اب جو بھی اور جہاں بھی اور جیسا بھی کوئی دعوی نبوت و رسالت کرے گا اس کو رسوا کرنا ہمارے قانون میں داخل ہے اور ایک بھی ایسا نہیں جس نے ختم نبوت کے بعد نبوت کا دعوی کیا ہو اور ہم نے اس کو رسوا نہ کیا ہو اور رہتی دنیا تک ہمارا یہ قانون جاری وساری رہے گا اور جو بھی اور جہاں بھی کوئی شخص اس کا عہد دار بنے گا ہم یقینا اس کو ذلیل ورسوا کریں گے یہ وعدہ ہمارے ذمہ ہے جس طرح پہلے وعدے ہم نے پورے کئے اس کو بھی ساتھ ساتھ کر رہے ہیں اگر کسی بھی ہمت ہے تو آگے بڑھے اور نتیجہ دیکھ لے اور بہتر ہے کہ وہ اعلان ختم نبوت کے بعد جن لوگوں نے بھی اس کا دعوی کیا ہے ان کا حال اچھی طرح دیکھ لیں کہ کیا ہوا ؟ ایک ایک کا حال تاریخ تمہارے سامنے پیش کرتی جائے گی ، قادیانی شاطر سے پہلے بھی جن لوگوں نے ایسا دعوی کیا باوجود اس کے کہ وہ بڑے بڑے اعلی خاندانوں کے افراد تھے لیکن ہم نے ان کو شاہ رگ سے ایسا پکڑا کہ ان کی وتین قطع کرکے رکھ دی ، قادیانی ساری زندگی مخمصہ ہی میں رہا اور آئیں بائیں شائیں سے کام لیتا رہا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے ماننے والوں کے ایک گروہ نے اس کو مجدد مانا اور ایک نے نبی پھر جس نے نبی مانا اس کی اللہ نے وتین قطع کردی اور جس نے مجدد مانا اس کا رگڑا بھی ساتھ ہی نکال دیا تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری اور اس طرح ثابت کردیا کہ دوہری پوزیشن کا آدمی جو دونوں فریقوں کو خوش کرنے کی سیاست کھیلتا ہے وہ کبھی مجدد نہیں ہو سکتا ، یہ تو ان کا حال ہے جن کی انتظار پوری ہوگئی اور جن کو ابھی تک انتظار ہے ان کی انتظار کبھی پوری نہیں ہوگی اور جب بھی کسی کی انتظار پوری ہوگی اس کا یہی حال ہوگا جو گزشتہ لوگوں کا ہوا کیونکہ ایسی انتظار کے لئے موہوم خیالات کے سوا کوئی شئے موجود نہیں ہے ۔
Ayah 25:11

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

(حقیقت یہ ہے کہ) یہ لوگ قیامت کے منکر ہیں اور قیامت سے انکار کرنے والوں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے

ان کی ہٹ دھرمی کا اصل باعث ان کا قیامت کے روز سے انکار ہے : 11۔ جن لوگوں نے دنیوی سروسامان ‘ زمینوں ‘ محلات کو ٹھیوں ‘ کارخانوں اور فیکٹریوں کو حق کا معیار سمجھا ہے ان کے پاس کوئی دلیل کتاب وسنت سے موجود نہیں تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں پر ان اشیاء کی کثرت پائی گئی وہ سوئے چند معدودے آدمیوں کے حق سے ہمیشہ دور ہی رہے ‘ ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ یہ چیزیں حق کا معیار مقرر نہ کی گئی تھیں بلکہ حق کا معیار ہمیشہ امانت ‘ حسن اخلاق اور اچھا کردار ہی قرار پایا ۔ جن لوگوں نے انبیاء کرام (علیہ السلام) سے ان دنیوی چیزوں کو طلب کیا ان کی اس طلب نے یہ بات واضح کردی کہ ان لوگوں کا آخرت پر کوئی یقین نہیں اور قانون الہی میں یہ بات طے اور واضح ہے کہ جو شخص بھی آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتا دین اسلام کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں اور ایسے لوگوں کے لئے اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے دوزخ کا ایندھن بنانے کا اعلان کیا ہے اگرچہ دنیا کے مال میں سے ان کے پاس کتنی ہی کثرت ہو ‘ وہ کتنی زمینوں کے مالک ہوں ‘ کو ٹھیوں اور محلات میں رہتے ہوں ‘ کارخانوں اور فیکٹریوں کے مالک ہوں ان کا ٹھکانا بلاشبہ دوزخ ہی قرار پائے گا کیونکہ یہ وعدہ الہی ہے اور اس کا وعدہ کبھی خطا نہیں ہوتا اور کون ہے جو اس سے بڑھ کر وعدہ کا پابند ہو ۔
Ayah 25:12

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جب وہ آگ ان کو دور سے دیکھے گی تو وہ اس کے غضب اور جوش کی آوازیں سنیں گے

دوزخ اور اہل دوزخ کا نقشہ قرآن کریم کی نظر میں : 12۔ (تغیظ) غیظ وغضب ‘ غصہ سے بپھرنے پر بولا جاتا ہے اور بھڑکتی ہوئی آگ پر جب مزید ایندھن پڑتا ہے اور آگ اس سے مزید بپھر جاتی ہے تو اس پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے اس طرح (زفیر) کے معنی بھی چیخنے اور چلانے بلکہ دھاڑنے کے ہیں اور اس جگہ یہ لفظ بھی آگ کے بھڑکنے کی آواز پر ہی بولا گیا ہے اور عین ممکن ہے کہ اس میں گرائے جانے والوں کی حالت کا یہ بیان ہو رہا ہے اور اس روز کفار ومشرکین پر جو گزرے گی یہ اس کا حال بیان کیا جارہا ہے تاکہ اس کی سختی کا سن کر شاید وہ اب بھی اپنی غوایت وضلالت اور ہٹ دھرمی سے باز آجائیں اور دوزخ کی ان تکلیفوں سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کریں جن کا ذکر ہی سن کر کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے لیکن جو بھی بیان کیا جائے اور جس طرح بھی کہا جائے جن کو نہیں ماننا ان کے لئے سب بےاثر ہے بلکہ وہ ان باتوں کا مزید مذاق اڑاتے ہیں اور اس وقت تک جب وہ اس عذاب سے دوچار نہیں ہوں گے اسی طرح اس کو مذاق میں ٹالتے رہے گے ۔ بہرحال ماننا نہ ماننا ان کا کام ہے اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اپنا کرنا ہے اور انہوں نے بےجھجھک اللہ پیغام ان تک پہنچا دیا اور اب بھی اللہ کے نیک بندے پہنچا رہے ہیں اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری وساری رہے گا ۔
Ayah 25:13

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب وہ ہاتھ پاؤں جکڑے ہوئے دوزخ کی تنگ جگہ میں ڈالے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت کو پکاریں گے

بعض دوزخیوں کو دوزخ میں گرائے جانے کے طریقہ کی وضاحت : 13۔ نبی اعظم وآخر ﷺ پر کٹ حجتیاں کرنے والوں کو دوزخ میں گرائے جانے کے طریقہ کی وضاحت فرمائی جارہی ہے فرمایا وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ ﷺ پر اعتراض کرکے اپنی طرف سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ نبی اعظم وآخر ﷺ اپنی طرف سے قرآن کریم کو گھڑ کر بیان کرتا ہے اور اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے کہ یہ کلام اللہ رب العزت نے ایک تنگ دروازہ کی طرف سے دوزخ میں گرایا جائے گا یہ وہی لوگ ہوں گے جو رسول اللہ ﷺ پر اسی طرح کے اعتراضات کرتے جن اعتراضات والزامات کا اوپر کی آیات میں ذکر کیا گیا ہے ، اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوگی وہ چیخ چیخ کر موت اور ہلاکت کا پکاریں گے حالانکہ موت کو موت دی جا چکی ہوگی اب وہ کہاں سے آئے گی اور وہ اسی طرح چیختے چلاتے رہیں گے اور ان کو بار بار دوزخ میں اس طرح سے نکال کر پھینکا جائے گا تاکہ ان کو عذاب پر عذاب دیا جائے جس طرح وہ ایک بات کو مختلف طریقوں سے جھٹلانے کے عادی تھے لہذا ان کو عذاب بھی ان کی عادت ہی کے موافق دیا جائے گا ۔
Ayah 25:14

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

تم آج ایک موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں کو پکارو

کہا جائے گا ایک ہلاکت کو نہیں بہت ہی ہلاکتوں کو پکارو لیکن تمہاری شنوائی ہونے والے نہیں : 14۔ دنیا میں تم دہائی دیتے تھے کہ یہ رسول ‘ اللہ کا رسول نہیں کوئی پاگل ومجنون ہے ‘ اس پر جادو کیا گیا ہے یا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید وہ خود جادوگر ہے ہاں ! یہ کلام جو وہ پیش کرتا ہے اس نے خود گھڑ لیا ہے اور اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے تم اس طرح کی دہائی دیتے رہے اب اس کے صلہ میں تم کو عذاب میں مبتلا دیا گیا ہے اور اب تم موت کے لئے دہائی دے رہے ہو جس طرح جھٹلانے کے تم نے مختلف پیرائے اختیار کئے اسی طرح مختلف طریقوں سے موت کے لئے دہائی دو لیکن تمہاری اس دہائی کی کوئی قیمت نہیں ‘ تمہاری طرف کوئی آنکھ دیکھنے والی نہیں کہ اس کو تم پر رحم آجائے اور تم پر جو اور جس طرح کا عذاب مسلط کیا گیا ہے اس سے تم کبھی نکلنے والے نہیں یہ بات ان سے عملا بھی کی جائے گی اور قولا بھی دربان دوزخ ان کو چیختے اور پکارتے دیکھ کر بحکم الہی انکو یہی جواب دیں گے ۔
Ayah 25:15

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

آپ ﷺ ان سے کہیے کیا دوزخ کا عذاب اچھا ہے یا وہ دائمی جنت اچھی ہے جس کا متقی اور پرہیزگار لوگوں سے وعدہ کیا گیا ہے ؟

پوچھا جائے گا کہ بتاؤ یہ معاملہ اچھا ہے یا جنت الخلد جس کا وعدہ متقین سے تھا ؟ 15۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ وہی طعنہ زنی کرنے والے اور اے پیغمبر اسلام ! ﷺ سے سوال کرنے والے کہ اگر آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو اللہ سے ایک محل ہی اپنے لئے طلب کرلو کوئی باغ باغیچہ ہی مان لوگ اور بلاشبہ ان کا یہ کہنا بطور استہزاء اور مذاق ہی ہوا کرتا تھا اب ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ اچھا بتاؤ یہ طریقہ جو تمہارے ساتھ کیا جارہا ہے اور تم اس میں مزے لے رہے ہو یہی اچھا ہے یا وہ جنت الخلد جس کا وعدہ متقین کو دیا گیا تھا اور تم اس وعدہ کو سن کر ٹھٹھہ لگاتے تھے اور کہتے تھے کہ اچھا یہ لوگ متقین کی جماعت ہے جو ہمارے کمین وکمزور بےطاقت وبے وقعت لوگ ہیں یہ سارے کے سارے جنت ہی کے بھکاری ہیں اگر جنت ایسے لوگوں کے لئے ہے تو ہم ایسی جنت کو سات سلام کرتے ہیں ان میں تو جینا بھی دوبھر ہوجائے گا اس سے تو ہمارے لئے دوزخ ہی بہتر ہے اب بتاؤ کیا واقعی دوزخ بہتر ہے ؟ بلاشبہ اس وقت ان بھکاریوں کو دیکھ کر ان کی رال بھی ٹپکے گی لیکن اب ان کے لئے یہ مقام آخر ان کو بھکاریوں کے ساتھ کیوں رکھا جائے گا ؟ اس جگہ ان کو پوری پوری جزاء مل کر رہے گی جس کے وہ اہل قرار پائیں گے ۔
Ayah 25:16

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

جس چیز کی وہ خواہش کریں گے وہ اس میں ان کیلئے موجود ہوگی وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور آپ ﷺ کے رب کے ذمہ وعدہ لازم ہے

جنت والوں کو کیا ملے گا ؟ وہی جو وہ چاہیں گے : 16۔ جنت کن لوگوں کے حصہ میں آئے گی ؟ فرمایا متقین کے حصہ میں جن کو یہ اہل دنیا بھکاری سمجھ کر ان کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا بھی توہین خیال کیا کرتے تھے اور یہی وہ لوگ ہیں جو عند اللہ اہل ایمان قرار پائے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی قربانیاں اب رنگ لائی ہیں اور جنت کے حق دار قرار پائے ہیں ، خیال رہے کہ اب یہ مقام انکی ابدی قیام گاہ ہے اس سے محروم ہونے یا اس مقام کے چھن جانے کا ان کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا ۔ ان کو اس مقام یعنی جنت الخلد میں وہ سب کچھ ملے گا جس کی ان کیو چاہت ہوگی رہی یہ بات کہ اس وقت ان کی چاہت کیا ہوگی ؟ تو بلاشبہ یہ اسی وقت صحیح معلوم ہوگا کیونکہ اس وقت جو کچھ کہیں وہ ایک تعبیر ہی ہوگی اور پھر وضاحت فرما دی کہ جنت کا اہل ایمان اور متقین سے اللہ نے حتمی طور پر وعدہ فرمایا ہے اور انہوں نے خود اس وعدہ کو اپنے اوپر لازم ٹھہرایا ہے اور اپنے بندوں کے سامنے اس کے لئے اپنے کو ذمہ دار اور معقول قرار دیا ہے اور بلاشبہ جو اس نے کہا ہے وہ پتھر پر لکیر ہے ۔