Ayah 26:139قوم نے ہود کو جھٹلایا ہم نے ان کو ہلاک کردیا ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے :
139۔ دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کرو تم دیکھو گے کہ کوئی دور ایسا نہیں گزرا جس میں غافلوں کو غفلت سے بیدار نہ کیا گیا ہو اور قیامت سے ان کو ڈرایا نہ گیا ہو لیکن غافلوں نے ہمیشہ یہی روش اختیار کی جو قوم ہود نے اختیار کی قیامت کو انہوں نے ایک افسانہ قرار دیا کیوں ؟ اس لئے ہم باپ دادا سے اس کا ذکر ہوتا آیا دیکھ اور سن رہے ہیں آخر وہ آ کیوں نہیں گئی اس سے انہوں نے یہ نتیجہ نکال لیا کہ وہ نہ آئی اور نہ ہی کبھی آئے گی ، یہی کام قوم ہود نے کیا کہ ہود (علیہ السلام) کو جھٹلایا ‘ ان سے مذاق کیا ‘ ان کو استہزاء کا نشانہ بنایا ‘ ان کو گالیاں اور جھڑکیاں دیں جب وہ اپنی سابق قوموں کی طرح ایک ایک کام کرچکے تو ہم نے بھی ان کو سابق قوموں کی طرح ہلاک کر کے رکھ دیا ۔ ان کے عذاب کی صورت کیا ہوئی اور کون سا عذاب ان پر مسلط کیا گیا اسکی تفصیل ہم نے سورة ہود میں ہود (علیہ السلام) کی سرگزشت میں بیان کردی ہے ایک جگہ قرآن کریم نے ان کے عذاب کا ذکر اس طرح کیا ہے کہ
(آیت) ” فارسلنا علیھم ریحا صرصرا فی ایام نحسات لنذیقنھم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا ول عذاب الاخرۃ اخزی وھم لا ینصرون “۔ (فصلت : 16)
” ہم نے چند منحوس دنوں میں سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی تاکہ انہیں دنیا ہی کی زندگی میں ذلت ورسوائی کے عذاب کا مزہ چکھائیں اور آخرت کا عذاب تو اس بھی زیادہ رسوا کن ہے وہاں کوئی ان کی مدد کرنے والا نہیں ہوگا “ جب ان کی تباہی کا وقت آیا تو افق پر ایک کالی گھٹا نمودار ہوئی ‘ اسے دیکھ کر ان کے دل باغ باغ ہوگئے سمجھے کہ موسلادھار مینہ برسے گا اور خوشحالی کا دور دورہ ہوگا کیونکہ ایک عرصہ سے بارش نہیں ہورہی تھی لیکن وہ گھٹا ان کو خوش حال کرنے کے لئے نہیں بلکہ قہر الہی بن کر ان کو تباہ وبرباد کرنے کے لئے آئی تھی ۔ آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل آندھی چلتی رہی جو اتنی تندوتیز تھی کہ ان کی مضبوط عمارتیں بنیادوں سے اکھڑ گئیں اور ان کے باغات اور کھیت خاکستر بن کر رہ گئے تناور درخت یوں بوسیدہ ہوگئے جیسے صدیوں پرانے ٹنڈ منڈ کھڑے ہیں اور اس آندھی کے زور سے یہ لوگ اس طرح گر گر کر مرے اور مر مر کر گرے جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے گر پڑتے ہوں اور یہ سب کے سب ملیا میٹ ہو کر رہ گئے بلاشبہ ان لوگوں کی ہلاکت بھی بعد میں آنے والوں کے لئے ایک زبردست نشانی تھی لیکن کسی نے بھی اس نشانی پر دھیان نہ دیا گزشتہ قوموں کی طرح آنے والے بھی نشانیاں ہی طلب کرتے رہے اور جو نشانی انہوں نے چھوڑی تھی اس کو کسی نے بھی دیکھنے کی کوشش نہ کی بلاشبہ ان کا دور تو گزر گیا لیکن بعد میں آنے والوں نے انکی حالت سے بھی کوئی عبرت حاصل نہ کی اور اس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ لوگوں کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں ۔ اس لئے ایک طرف تو یہ ہے کہ ” لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے “ اور دوسری طرف یہ کہ ” دوپیاں وسرگیاں یاراں دیادوربلائیں “ ہر آنے والی قوم کا انجام ہلاکت ہوا لیکن اس طرح ہلاک ہونے والوں سے کسی نے بھی درس عبرت حاصل نہ کیا ۔
Ayah 26:140بلاشبہ آپ کا رب بڑے غلبے والا اور بہت پیار کرنے والا ہے :
140۔ زیر نظر آیت آیت تیسری بار اس سورت میں بیان ہوئی ہے۔ آیت 104 ‘ 122 اور 140 میں یہاں بیان کی جارہی ہے اور ابھی مزید آگے آئے گی ، اس آیت سے بار بار نصیحت دی جا رہی ہے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام اگر چاہتا تو کوئی قوم یا کوئی شخص جبھی جہالت کی کوئی بات کرتا پکڑ لیا جاتا اس کو پکڑتے کچھ دیر نہیں لگتی کہ وہ دم بھر میں ان کی ساری نخوتوں کو پامال کر کے رکھ دے اسئے کہ وہ عزیز ہے لیکن وہ تو عزیز ہونے ساتھ ساتھ رحیم بھی ہے اس لئے وہ ہر ایک کو ایک وقت تک مہلت دیتا آیا ہے ‘ دے رہا ہے اور دیتا رہے گا پھر جو کوئی اس مہلت سے فائدہ اٹھانا چاہئے اٹھا سکتا ہے اور جو فائدہ اٹھانا نہیں چاہتا انجام کار اس کو ہلاک کرکے رکھ دیا جاتا ہے غور کرو کہ کتنی قوموں کو ہم نے انکو دی گئی مہلت کے پورا ہوجانے کے بعد ہلاک کردیا ۔
Ayah 26:141ثمود قوم نے بھی ہمارے رسولوں کو جھٹلایا :
141۔ قوم عاد کے بعد قوم ثمود کی باری آگئی یہ لوگ قوم عاد ہی کا بقیہ تھے یا اس سے کوئی الگ تھلک قوم تھی ۔ مؤرخیں ومفسرین نے مختلف رائیں قائم کی ہیں بہرحال یہ بات واضح ہے کہ ثمود کا زمانہ عاد کے بعد ہے ۔ یہ بستیاں کہاں تھیں اور یہ لوگ کونسا مسکن رکھتے تھے ؟ قرآن کریم سے جو معلوم ہے وہ تو بالکل واضح ہے کہ ان کی آبادیاں حجر میں تھیں اور یہ بھی معلوم ہے کہ حجاز اور شام کے درمیان کی وادی قری تک جو میدان نظر آتا ہے یہ سب ان کا مقام سکونت ہے اور یہ علاقہ آج کل ” فج الناقہ “ کے نام سے معروف کیا گیا ہے ، قوم ثمود کے نبی ورسول صالح (علیہ السلام) تھے لیکن قوم عاد کی طرح یہ قوم بھی قوم ثمود کے نام سے زیادہ معروف ہوئی اور یہ بھی ظاہر ہے کہ عاد کی طرح ثمود بھی اس قوم کے کسی بڑے آدمی کا نام تھا اور یہ قوم اسی نام سے معروف ہوگئی ۔ اس سورت میں جتنی اقوام کا ذکر کیا گیا ہے سب کے لئے تقریبا ایک ہی جیسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں اور ایک ہی طرح کے حالات ان کو پیش آئے اس لئے آیات قرآنی میں بھی فقط نام بدلے گئے الفاظ تقریبا ایک ہی جیسے استعمال ہوئے ۔
Ayah 26:142ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) نے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں ؟
142۔ ثمود قوم کے لوگ بھی اپنے پیش روؤں کی طرح بت بناتے اور ان کی پرستش کرتے تھے اور یہ بات پہلے سمجھائی جا چکی ہے کہ بت صرف ایک نشان کے طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں دراصل عبادت جو کچھ بھی ہوئی وہ صاحب بت اللہ کے نیک بندوں ہی کی تھی اور آج کل ہمارے بھائیوں نے بت بنانے کی بجائے وہ کام قبروں اور روضوں سے نکالا اور بت اور قبر میں اتنا ہی فرق ہے جتنا کہ بظاہر نظر آتا ہے کہ ایک کے نقش ونگار بنا لئے گئے ہیں اور دوسرے کو ان گھڑا رکھا گیا ہے کہ ایک مٹی کے ڈھیر کو پختہ کرلیا گیا ہے لیکن جس طرح بت ایک شخصیت کا تصور پیش کرتا ہے بالکل اسی طرح قبر بھی ایک شخصیت کا تصور پیش کرتی ہے ہر رسول کا اپنی امت کو یہ کہنا کہ (الا تتقون) تم اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے ؟ اس سے یہی واضح ہوتا ہے کہ تم شرک سے باز کیوں نہیں آتے اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہو ۔ سورة ہود میں ان ساری دعوتوں کا بیان تقریبا اسی ترتیب سے کیا گیا ہے اور ہر ایک قوم کو رسول نے سب سے پہلے جس بات کی دعوت دی ہے وہ یہی ہے کہ ” اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں یقین کرو تم اس کے سوا کچھ نہیں ہو کہ افتراپردازیاں کر رہے ۔ “ اور اس سورت میں یہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جو اوپر ذکر کئے گئے کہ ” تم اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے ؟ ’ جس سے یہی واضح ہوتا ہے کہ ” تم شرک سے باز کیوں نہیں آتے “ کیونکہ شرک ہی ساری برائیوں کی جڑ ہے اور ساری برائیوں سے بڑی برائی ہے ۔
Ayah 26:143صالح (علیہ السلام) نے کہا کہ میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں :
143۔ یہ بات بھی تقریبا ہر داعی نے آکر کہی کہ میں ایک رسول امین ہوں اور یہ بات ہر داعی نے اس لئے کہی کہ ہر داعی کو جھٹلایا گیا کہ اس نے جو رسول ہونے کا دعوی کیا ہے تو وہ اس دعوی میں بالکل جھوٹا ہے کیوں ؟ سب سے بڑا اعتراض ہر امت کو یہی تھا کہ کبھی انسان وبشر بھی رسول ہو سکتا ہے گویا یہ گمراہی بھی ہر ایک قوم میں یکساں چلی آرہی تھی کہ رسول بشر نہیں ہوتا یہی وجہ ہوئی کہ جنہوں نے رسالت کا دعوی کرنے والے کو دیکھا انہوں نے بشر کو دیکھا لہذا انہوں نے اس کی رسالت سے انکار کردیا اور جن لوگوں نے رسالت کا دعوی کرنے والے کو نہیں دیکھا انہوں نے اس کی رسالت کو تو مان لیا لیکن اس کی بشریت سے انکار کردیا اور یہ بیماری آج تک موجود ہے یہاں تک کہ ہم مسلمان قوم میں بھی سواد اعظم کے دعویداروں کا عقیدہ یہی ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ کو بشر کہنا پرلے درجے کی گستاخی اور بےادبی ہے کیونکہ بشر کبھی رسول نہیں ہو سکتا چونکہ انہوں نے نبی اعظم وآخر ﷺ کو ان آنکھوں نہیں دیکھا اور نہ ہی ان میں سے کوئی دیکھ سکتا ہے تو انہوں نے آپ ﷺ کی رسالت کا تو اقرار کیا لیکن آپ ﷺ کی بشریت کا انکار کردیا حالانکہ انسانوں میں سے رسول کے آنے کیلئے جس طرح رسالت کا ماننا لازم وضروری ہے اسی طرح اس کی بشریت کو ماننا اور تسلیم کرنا بھی ضروری ہے ایک کا انکار ہی دوسری کا انکار متصور ہوتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” اللہ یصطفی من الملئکۃ رسلا ومن الناس “۔ (الحج : 75) ” اللہ ملائکہ سے بھی پیغام رساں منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی “ فرشتوں میں سے رسول مانند جبرئیل (علیہ السلام) کی اور انسانوں میں سے رسول مانند حضرت ابراہیم (علیہ السلام) وحضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ، اس پر شاہ احمد رضا خاں بریلوں کے مرید خاص مفتی نعیم الدین صاحب مراد آبادی حاشیہ تحریر کرتے ہیں کہ ” یہ آیت ان کفار کے رد میں نازل ہوئی جنہوں نے بشر کے رسول ہونے کا انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ بشر کیسے رسول ہو سکتا ہے ۔ “ (تفسیر سورة الحج ص 493) بات صاف اور واضح ہوگئی کہ انسانوں میں سے جو رسول آئے ان میں سے کسی رسول کی بشریت سے انکار کفر ہے ۔ لاریب مسلمانوں کا انسانوں میں سے آنے والے رسولوں کے متعلق یہی عقیدہ ہے ۔ جس شخص نے اس عقیدہ کو مانا اور تسلیم کیا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہر رسول کو امین مانا اور یہی بات صالح (علیہ السلام) زیر نظر آیت میں فرما رہے ہیں ۔ فافھم یا اخی ۔
Ayah 26:144صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ لوگو ! اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو :
144۔ قرآن کریم کے بیان کے مطابق ہر آنے والے رسول کی مخالفت سب سے پہلے قوم کے مذہبی پیشواؤں اور سیاسی لیڈروں نے کی ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہی دونوں گروہ ہر قوم میں کھاتے پیتے اور خوشحال ہوتے ہیں اور انہیں لوگوں کی بات زیادہ چلتی ہے ، چناچہ قرآن کریم میں بھی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ
(آیت) ” وما ارسلنا فی قریۃ من نذیر الا قالوا مترفوھا انا بما ارسلتم بہ کفرون “۔ (سبا 34 : 34)
” کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں ایک خبردار کرنے والا بھیجا ہو اور اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہ نہ کہا ہو کہ جو پیغام تم لے کر آئے ہو اس کو ہم نہیں مانتے ۔ “
اگر اس کی مزید تفصیل چاہتے ہوں تو سورة الانعام کی آیت 123 ‘ سورة الاعراف کی آیت 60 ‘ 66 ‘ 75 ‘ 88 ‘ 90 ‘ سورة ہود کی آیت 27 ‘ سورة بنی اسرائیل کی آیت 16 ‘ سورة المومنون کی آیت 44 ‘ 33 ‘ تا 38 ‘ 46 ‘ 47 ‘ کی تفسیر دیکھ لیں ۔
Ayah 26:145صالح (علیہ السلام) نے کہا میں تم سے اجر نہیں چاہتا میرا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے :
145۔ یہ اعلان بھی ان اعلانات میں سے ہے جو ہر نبی ورسول کی طرف سے کیا گیا ‘ دنیا میں کوئی کام ایسا نہیں جو انسان مفت سرانجام دے اور پھر دیتا ہی چلا جائے اور یہ بھی کہ جن لوگوں کے لئے سرانجام دے ان پر کچھ احسان بھی نہ رکھے اور اگر وہ کام لوگ اس کو سرانجام دے لینے دیں تو وہ ان کا مشکور بھی ہو ۔ انبیاء ورسل کے ذمہ ایک ایسا ہی کام لگایا گیا جس کو وہ ہمیشہ مفت سرانجام دیتے رہے اور اس پر تعجب کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے لئے انہوں نے وہ کام سرانجام دیا وہ ہمیشہ ہی ان سے ناخوش رہے اور نہ صرف یہ کہ ناخوش رہے بلکہ ان کے پئے آزار بھی رہے اور ان کو ساری زندگی سکھ کا سانس انہوں نے نہیں لینے دیا جیسا کہ پیچھے آپ پڑھتے چلے آرہے ہیں ، یہی اعلان صالح (علیہ السلام) نے بھی کیا کہ لوگوں میں جو کچھ تم کو دے رہا ہوں باوجود اس کے کہ وہ اتنی قیمتی چیز ہے کہ نہ صرف اس دنیا میں تمہارے کام آنے کی چیز ہے بلکہ تمہاری آخرت کو بھی سنوار دینے کی چیز ہے لیکن اس کے باوجود میں تم کو مفت پیش کر رہا ہوں نہ اس چیز کی کوئی قیمت وصول کر رہا ہوں اور نہ اس کے پیش کرنے کی کوئی مزدوری طلب کر رہا ہوں یہ بات کہ پھر میں آخر اس کو کیوں پیش کر رہا ہوں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس لئے پیش کر رہا ہوں کہ اس کے پیش کرنے کی ذمہ داری مجھ پر اللہ نے ڈالی ہے اور اس نے مجھے کہا ہے کہ میرے بندوں تک میرا پیغام پہنچا دو اس طرح میں صرف اور صرف اسی کا آجر ہوں اور میری اجرت بھی اسی کے ذمہ ہے گویا تم کو جو مفت پیش کر رہا ہوں تو وہ محض اس کے حکم پر ورنہ میری اجرت اور مزدوری تو اس کے ذمہ ہے جو یقینا مجھے وصول ہوگی ، اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ دین کی دعوت کو کوئی مفت بھی سننے کے لئے تیار نہیں چہ جائیکہ کوئی تنخواہ دے کر دین کی دعوت کو سنے یہی وجہ ہے کہ آج کسی جگہ سے بھی دین کی دعوت کا صحیح کام ہوتا نظر نہیں آتا اور دین کے نام پر جتنے ملازم ملازمت کر رہے ہیں وہ بڑے ہوں یا چھوٹے وہ دین کا کام نہیں کر رہے بلکہ لوگوں کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں جن کو انہوں نے دین کی ضروریات سمجھ لیا ہے ۔ غور کرو کہ اس وقت بڑے بڑے شہروں ‘ قصبوں ‘ گاؤں اور دیہات میں جو دین کا کام ہو رہا ہے وہ کس جگہ ہو رہا ہے ظاہر ہے کہ مساجد میں کیونکر مسجدوں کو عبادت خانوں کی حیثیت دی گئی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ اللہ کے گھر ہیں حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے جس میں ایک رتی برابر بھی سچ نہیں کیوں ؟ اس لئے کہ اس وقت ہم مختلف مکاتب فکر میں تقسیم ہوچکے ہیں اور ہر گروہ کا دعوی ہے کہ وہ مسلمان ہے اور پھر سارے گرہوں کی اپنی اپنی مساجد ہیں اگر ہم سارے مسلمان ہیں تو یہ مساجد بھی اسب کی ہونی چاہئے تھیں لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایسا نہیں معلوم ہوا کہ مساجد اسلام کی نہیں بلکہ مسجد ان کی ہے جس مسلک کے لوگوں نے اس کو تعمیر کرایا ہے اس لئے جتنے گروہ ہیں اتنی ہی قسم کی مسجدیں ہیں جو ہر گروہ کے نام سے معروف ہیں ۔ اس طرح ان کی وہ حیثیت جس حیثیت سے وہ اللہ کا گھر کہلاتی تھیں وہ ختم ہوگئی ۔ اس طرح وہ لوگ جو ان مساجد کے متعلق سمجھے گئے وہ اللہ کا کام کرنے والے نہ رہے بلکہ اس گروہ کا کام وہ کر رہے ہیں جس گروہ کی مسجد کے اندر وہ ملازم ہیں اب غور کرو کہ شہر سے لے کر دیہات تک یہی حال ہے یا نہیں ؟ پھر جس دین کی ساری قدریں بدل گئیں اسی طرح دین کے کام کی نوعیت بھی بدل گئی چونکہ ہر ایک فرقے کے لوگ مرتے ہیں اور پیدا ہوتے ہیں اور پھر ہر گروہ نے پیدا ہونے اور مرنے کے ساتھ کچھ رسومات اپنے اپنے طریقہ کے مطابق بنا رکھی ہیں محلہ میں جس ملک کے لوگ ہیں یا جس فکر کے لوگوں کا کنٹرول ہے یہ مسجد ہے ان کی یہ پیدا ہونے اور مرنے کی جتنی رسومات ہیں وہ سب اس آدمی کے ذمہ ہیں جو اس مسجد کے اندر خطیب ‘ امام یا خادم ہے ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے لوگوں نے ملازم رکھے ہوئے ہیں اور ان کے ذمہ اس طرح کی ساری ڈیوٹیاں اور رسومات کو اسی طریق سے ادا کریں گے اور ان لوگوں سے تنخواہ وصول کریں گے اور ان کی یہ مکمل خدمات سرانجام دیں گے اگر یہ لوگ اللہ کا کام کریں تو نہ ان کو کوئی تنخواہ دے اور نہ ہی یہ لوگوں کی ان رسومات کی ادائیگی کریں ۔ اب تمہاری سمجھ میں شاید آجائے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی ورسول سے یہ اعلان کیوں کرایا کہ ” لوگو ! میں تم سے کوئی صلہ نہیں چاہتا میرا صلہ واجر تو میرے رب کے ذمہ ہے جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے “ گویا جس کا کام اس سے صلہ بالکل صحیح یہی وجہ ہے کہ ہم نے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرکے ان کا کام کیا اور ہمارا صلہ بھی انہیں کے ذمہ اور وہی ادا کرتے ہیں اگر ہم کام اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا کرتے تو یہ لوگ ہم کو کیسے صلہ دے سکتے تھے صلہ تو وہی دیتا ہے جس کا کام کیا گیا ہو ۔
Ayah 26:146کیا تم ان چیزوں کے درمیان ویسے ہی اطمینان سے رہنے دیئے جاؤ گے ؟ ۔
146۔ صالح (علیہ السلام) اب قوم کے لیڈروں اور مذہبی پیشواؤں سے پوچھ رہے ہیں کہ صاحبو ! اتنی بات تو بتاؤ کہ یہ جو اللہ تعالیٰ نے تم کو دنیوی انعامات دے رکھے ہیں کیا یہ سب ہمیشگی ہیں ؟ کیا انکو کبھی زوال نہیں آنے والا ؟ مقصود یہ ہے کہ آج جن چیزوں کے تم مالک اور لوگ تھے گویا یہ چیزیں موجود تھیں اور ان چیزوں کو ہماری ‘ ہماری کہنے والے کچھ اور لوگ تھے آج جب کہ ان کا نام ونشان بھی نہیں رہا اور یہ چیزیں تمہاری کہلاتی ہیں اور تم ان چیزوں کو ہماری ‘ ہماری کہہ رہے ہو تو آنے والے کل میں ان سب چیزوں کی ملکیت تبدیل ہوچکی ہوچکی ہوگی اور ان کا انتقال دوسروں کے نام ہوگا اور تمہارا نام ونشان بھی موجود نہیں ہوگا کیونکہ چیزیں تو اسی طرح منتقل ہوتی آرہی ہیں اور اسی طرح منتقل ہوتی چلی جائیں گی ، اب تم بھی بتاؤ کہ تمہیں انکو چھوڑنا ہے یا نہیں ؟
Ayah 26:147ہاں ہاں ! انہیں باغات اور چشموں کی بات میں کر رہا ہوں :
147۔ صالح (علیہ السلام) نے قوم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میری قوم کے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے جو تم پر انعامات کئے ہیں ان میں سے ایک انعام یہ بھی ہے کہ اس نے تم کو باغات اور چشموں کا مالک بنا دیا ہے تم کو معلوم ہے کہ تم ان باغوں اور چشموں کے مالک کیسے بن گئے ہو ؟ ایسے ہی کہ ان کے مالک ومکین یہاں سے رخصت ہوگئے اور یہ باغات اور چشمے تمہارے ناموں پر منتقل کردیئے گئے اور بالکل اسی طرح یہ بھی ہوگا کہ یہ باغات اور چشمے یہیں رہیں گے اور انکی ملکیت بدل جائے گی اور ان کے مالک کچھ اور لوگ قرار پائیں گے معلوم ہوا کہ اس دنیا کی ساری چیزیں عارضی ہیں اور عارضی چیزوں پر اس طرح مفتوں تو نہیں ہونا چاہئے جس طرح تم مفتوں ہوگئے ہو ۔ تمہارے لئے اچھا ہے کہ تم سمجھ جاؤ کہ یہ جو کچھ ہے سب عارضی ہے اور اللہ نے تم پر انعام کیا ہے اس لئے اس کا شکریہ ادا کرو اور اس طرح کفران نعمت نہ کرو جس طرح تم کر رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات استعمال کرنے کے باوجود غیر اللہ کا شکریہ ادا کرتے ہو اور یہ انعامات کرنے والے کو تم نے بالکل بھلا دیا ہے اور ان فانی چیزوں پر اس طرح ریجھ گئے ہو کہ شاید تم سے یہ واپس لی ہی نہیں جائیں گی ۔
Ayah 26:148ہاں ہاں ! ان کھیتوں اور نخلستانوں ہی کی بات کر رہا ہوں جو پھلوں سے لدے ہوئے ہیں :
148۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے یہ کھیتیاں بھی ہیں اور نخلستان بھی یعنی کھجوروں کے باغات جن کے پھلوں کے باعث وہ جھکے جھکے نظر آرہے ہیں دراصل صالح (علیہ السلام) ان انعامات کو گنوا رہے ہیں جن انعامات کے باعث وہ آپے سے باہر ہوچکے تھے اور کسی کو کچھ سمجھنے کے لئے تیار ہی نہ تھے اور وہ اس مادی دور کو جو ایک خوشحالی کا دور تھا ہمیشگی کی خوشحالی سمجھ رہے تھے اور صالح (علیہ السلام) ان کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ اس دنیا کی نعمتیں عارضی ہیں ‘ ان کو ہمیشگی ہے ہی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ جس قوم وفرد پر یہ نعمتیں وافر کر دے اس کو ان کا شکریہ ادا کرتے رہنا چاہئے اور اللہ رب العزت کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق ان کا استعمال کرنا چاہئے ‘ اپنی من مانیاں نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ جس قوم پر ان انعامات کا وافر ہونا دیکھا گیا اس قوم کی شامت بس آئی کہ آئی کیونکہ ہر کمالے راز والے کا اصول نہایت پکا اصول ہے تم پر اللہ تعالیٰ کا جس قدر انعام ہے تم کو پھل دار ٹہنی کی طرح جھک جانا چاہئے تھا لیکن تمہارا اترانا اور اپنے آپے سے باہر ہونا ان انعامات کا کفران کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ کچھ ہونے والا ہے جیسا کہ پیچھے سے ہوتا چلا آیا ہے ۔ (ھضیم) وہ ہے جو پھل رس سے خوب بھر جائے اور پک کر تیار ہونے کے باوجود ابھی تک اپنے مقام پر بالکل محفوظ ہو یہ اشارہ ان باغات کے پھلوں سے لدے ہونے اور پک کر تیار ہونے کی طرف ہے کہ اس کے پھل پکے ہوئے ہیں کمزور بھی نہیں ہیں اور اپنی جگہوں پر لٹک بھی رہے ہیں ۔ اس سے باغات کی خوبصورتی کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے ۔
Ayah 26:149تم پہاڑوں کو کھود کر ان کے اندر محلات تیار کر رہے ہو اور کتنے خوش ہو :
149۔ قوم عاد کی ترقی کا سارا دارومدار عمارتیں تھیں کہ وہ لوگ بہت اونچی اونچی عمارتیں تعمیر کرنے میں ماہر تھے اور ہزاروں بلکہ لاکھوں سال گزر جانے کے بعد آج بھی ان کے گھنڈرات سے ان کی بلندی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کتنی کتنی منزلیں ہوں گی اور عاد کی جگہ جب ثمود کی آبادی کا وقت آیا تو انہوں نے بھی اسی صنعت میں ترقی کی لیکن یہ لوگ زیادہ بلند وبالا عمارات کی بجائے پہاڑوں کو کھود کھود کر اندر ہی اندر محلات تعمیر کرتے تھے اور اس فن میں انہوں نے بہت مہارت حاصل کرلی تھی ‘ عمارت کی بلندی بھی قابل فخر تھی لیکن پہاڑوں کے اندر محلات کا تیار کرنا اپنی جگہ ایک انوکھا فن تھا ۔ صالح (علیہ السلام) نے ان کو کہا کہ رہنے کے لئے ایک گھر تو اپنی جگہ افادیت رکھتا ہے لیکن اس طرح کے محلات کا پہاڑوں کا پہاڑوں کے اندر ہی اندر تعمیر کرتے جانا وہ بھی جب ضرورت کے مطابق نہ ہو بلکہ بطور فخر ایک دوسرے پر فوقیت لے جانے کی خاطر ہو کہاں تک درست ہو سکتا ہے پھر یہ بھی کہ تم نے اس صنعت کو اس لئے ترقی دی ہے کہ تم نے عاد کی عمارتوں کو زمین بوس ہوتے دیکھا ہے تو تم نے اس کا توڑ نکالا ہے کہ چلو عاد کے گھروں کو تو اس آندھی اور طوفان نے تباہ وبرباد کر کیا جو ان لوگوں پر سات دن اور آٹھ راتیں برابر چلتی رہی اب ہمارے گھروں کو ایسا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا حالانکہ یہ تمہاری نادانی ہے جب ان کے منہدم کرنے کا وقت آئے گا تو یہ محلات ایک جھٹکا بھی برداشت نہ کرسکیں گے اور نہ پہاڑ نظر آئیں گے اور نہ ان کے اندر کھود کو بنائے ہوئے تمہارے یہ مکانات ۔
Ayah 26:150صالح (علیہ السلام) نے کہا کہ تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو :
150۔ وہی تنبیہہ جو گزشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) نے اپنی اپنی قوموں کو کی تھی وہی صالح (علیہ السلام) بھی اپنی قوم کو کر رہے ہیں کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے ڈرنے کی بجائے تم اپنے ان مذہبی اور سیاسی لیڈروں کے خوف سے میری مخالفت میں ڈٹے ہوئے ہو حالانکہ تم کو اللہ تعالیٰ کا ڈر اختیار کرنا چاہئے تھا اور میری فرمانبرداری کرنی چاہئے تھی کیونکہ میں تم کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کا پیغام پہنچا رہا ہوں پھر تم سے ایک ایک بات وہی کہی جا رہی ہے جو میرے سے پہلے اللہ کے فرستادہ تمہارے سے پہلی قوموں کو کہتے رہے ان کا انجام تم نے سنا لیکن اس کے باوجود تم کو ڈرا احساس نہ ہوا کہ جو حال ان قوموں کا ہوا وہی حال کہیں ہمارا نہ ہوجائے کیا تم لوگ اتنی جلدی بھول جانے والے ہو حق تو یہ تھا کہ تمہارے یہ سارے مذہبی اور سیاسی لیڈر بھی اپنی اپنی حرکتوں سے باز آجائے ‘ نہ خود بھٹکتے اور نہ تم کو راہ سے بھٹکنے دیتے لیکن انہوں نے بھی اپنے پیش روؤں کی سنت کو اپنایا اور اسی طرح نافرمانیاں کرنے لگے جس طرح ان سے پہلے کرتے رہے تھے کی کیا پھر ضروری نہیں ہے کہ ان کا انجام بھی وہی ہو جو ان کا ہوا ۔
Ayah 26:151میں تم سے کہتا ہوں کہ تم ان بےلگام لوگوں کی اطاعت نہ کرو :
151۔ صالح (علیہ السلام) نے اپنے پیش روؤں سے زیادہ کھل کر بات اس طبقہ کے لوگوں کے خلاف کہہ دی جو خدایاں دہ وملک تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت اور اہل اولاد میں کشائش دی تھی اور یہ لوگ صاحب ثروت تھے اور کچھ ان میں سے وہ تھے جو مذہب کے نام پر اپنی بڑائی لوگوں سے تسلیم کرا چکے تھے جیسا کہ پہلے بھی ذکر کا جا چکا کہ یہ دونوں گروہ اس قدر بےلگام ہوتے ہیں کہ جو ان کے جی میں آئے کہہ دیتے ہیں اور پھر ان کو کوئی نہیں پوچھ سکتا انہوں نے یہ بات کس دلیل کی بنا پر کہی ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کی شخصیت قوم میں خود ایک دلیل کے طور پر تسلیم ہوتی ہے اگر یہ لوگ ہر دور میں نہ ہوتے یا کم از کم اس موجودہ زمانہ میں نہ ہوتے تو ان کی حیثیت کو سمجھنا مشکل ہوتا لیکن چونکہ یہ دونوں طبقے اس وقت بھی موجود ہیں اور جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے اس کے مطابق وہ آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں اس لئے ان کی حیثیت کو سمجھنا کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے ، عوام کو یہ موم کی ناک سمجھتے ہیں اور جس طرف چاہتے ہیں موڑ لیتے ہیں اور خود اس قدر بےلگام ہیں کہ جو ان کے جی میں آئے وہ کر کے دکھا دیتے ہیں اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے والوں کی کوئی کمی موجود نہیں یہ چاہیں تو دن کو رات اور رات کو دن کہہ دیں اور لوگ بھی اسی طرح ساتھ ساتھ کہتے چلے جاتے ہیں ، یہ لوگ ہمیشہ ہوا کا رخ دیکھ کر چلتے ہیں اور جونہی ہوا بدلتی ہے یہ بھی ساتھ ہی بدل جاتے ہیں ، ان کا کام ہی یہ ہے کہ عوام کو آپس میں لڑاتے رہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ متحارب رکھیں یہ خود ہی فساد کراتے ہیں اور پھر خود ہی اس کی اصلاح کی کوشش شروع کردیتے ہیں لوگ آپس میں الجھ نہ رہے ہوں تو یہ بےچین ہوجاتے ہیں اور کوئی نہ کوئی اسکیم ایسی کرتے ہیں جس سے لوگ آپس میں الجھ جائیں کیونکہ اسی میں ان کی ساری بڑائی کا راز ہے ۔ خیال رہے کہ یہ لوگ اس دھرتی پر خدائی قانون نافذ ہوتا کبھی برداشت نہیں کرسکتے یہ زیادہ سے زیادہ مذہب کا نام لیتے ہیں اور جس قدر نام لیتے ہیں حقیقت میں یہ اتنے ہی مذہب سے بیزار ہوتے ہیں ان کی زبانیں کچھ کہہ رہی ہوتی ہیں اور ہاتھ کچھ کر رہے ہوتے ہیں ان کے دلوں کے اندر کچھ ہوتا ہے اور ان کی زبانیں کچھ اور کہتی ہیں ۔ اس وقت بھی آپ کسی ایک مذہبی یا سیاسی لیڈر کا دیانتداری کے ساتھ تجزیہ کرکے دیکھیں یہ ساری صفات ان میں آج بھی بدرجہ اتم موجود ہوں گی ، ہم نے اپنی اس تفسیر میں اکثر جگہ پر ان لوگوں کو ” دوہری پوزیشن کے لوگ “ کے نام سے موسوم کیا ہے اس لئے جہاں بھی اس لفظ کا استعمال دیکھیں اس سے ہماری مراد انہی دونوں طبقہ کے لوگوں سے ہے ، صالح (علیہ السلام) نے نہایت وضاحت سے ارشاد فرمایا کہ ” میری قوم کے لوگوں ان بیباک لوگوں کا کہنا نہ مانو “ کیونکہ یہ مسرفین ہیں یعنی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔ اسراف کرنے والے خواہ وہ مال میں یا کسی اور چیز میں یہ لوگ دراصل پابندی سے گھبراتے ہیں اور کسی حال میں بھی یہ پابند نہیں ہونا چاہتے اس لئے ہم نے انکو بےلگام کے لفظ سے یاد کیا ہے اور انہی لوگوں کو ہماری زبان میں ” چھوٹ “ بھی کہا جاتا ہے ۔
Ayah 26:152ان کا کام اصلاح کے نام پر افساد پھیلانا ہے :
152۔ مختصر لفظوں میں ان کی تعریف اس طرح ہی کی جاسکتی ہے کہ یہ مفسد ہیں مگر اپنے آپ کو مصلح سمجھتے ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ ان کا ہر فساد اصلاح کے نام پر ہوتا ہے گویا یہ اس قدر پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ فی الواقع انسان افساد کو اصلاح سمجھنے لگتا ہے اور اس فن کے وہ ماہر ہوتے ہیں ، پھر لطف کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ انہیں دو گروہوں میں سے کسی ایک گروہ کے آدمی ہوتے ہیں یعنی سیاست سے ان کی وابستگی ہوتی ہے جو سیاست دین سے الگ کردی گئی ہو یا مذہبی پیشواؤں میں سے ایک ہوں گے جو مذہب سیاست سے الگ کرلیا گیا ہو۔ آج سے نہیں جب سے انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا دین وسیاست کو ایک بنانے کے لئے انبیائیکرام (علیہ السلام) کا سلسلہ جاری ہوا لیکن ہر دور میں ان لوگوں نے دین وسیاست کو الگ کیا تاکہ ایک طبقہ کا دین پر ہولڈ قائم رہے اور دوسرے کا سیاست پر اور اس طرح عوام کو بیوقوف بنا کر انہوں نے اپنا الو سیدھا کیا ہے چونکہ ایسے لوگوں کی فی زماننا کوئی کمی موجود نہیں ہے اس لئے اس کی زیادہ وضاحت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی پھر ہم ان کی شناخت کے لئے دوہری پوزیشن کے نام سے موسوم کردیا ہے یہ وہ لوگ ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ راست بازی کو بیوقوفی اور نفاق کو دانشمندی سمجھا اور بیان کیا ہے ۔ انہوں نے ہمیشہ راست بازوں کی تحقیر کی ہے اور ایمان والوں کا تمسخر اڑایا ہے یہی ان کی شناخت ہے اور یہی ان کاشیوہ ہے ۔ گرگٹ کی طرح ان کا رنگ بھی اکثر بدلتا رہتا ہے جب لوگ ان کو الگ الگ سمجھتے ہیں تو یہ اکٹھے ہوتے ہیں اور جب لوگ ان کو اکٹھا سمجھتے ہیں تو اس وقت یہ الگ الگ ہوتے ہیں ، اس لئے ان کی پہچان اتنی آسان بھی نہیں کہ ہر کوئی ان کو پہچان سکے ۔ صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے عوام کو صاف صاف لفظوں میں ہدایت دی اور فرمایا کہ ” وہ لوگ جو زمین میں اصلاح کے نام پر فساد بپا کرتے ہیں یعنی حقیقت میں فساد پھیلاتے ہیں اصلاح نہیں کرتے ‘ ان لوگوں کی پیروی مت کرو۔ “
Ayah 26:153قوم کے لوگوں نے کہا کہ اے صالح تو ایک سحر زدہ آدمی ہے :
153۔ ہر قوم نے اپنے نبی ورسول کو یہ الزام دیا ہے اور اگر ہر قوم نے نہیں تو بہرحال اکثر اقوام نے ، ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ جب ہر نبی ورسول نے یہ اعلان کیا کہ لوگوں میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا تم بات کو کم از کم سن لو چونکہ انہوں نے ایک بھی ایسا نہیں دیکھا تھا جو بغیر کسی معاوضہ کے کسی کا کام کرے اس لئے انہوں نے یہ اعلان سنتے ہی جھٹ یہ الزام دیا کہ ہو نہ ہو یہ کوئی پاگل ہے کیونکہ اس نے جو اعلان کیا ہے یہ عقل مندوں کا سا نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قوم تقریبا یہ اعلان سن کر بوکھلا جاتی کوئی تو یہ کہتا کہ یہ سحرزدہ ہے اور کوئی یہ ثابت کرتا کہ نہیں دراصل یہ خود ساحر ہے اور کوئی کہتا کہ نہیں ساحر تو نہیں بلکہ اس کو کسی کی مار لگ گئی ہے کیونکہ یہ ہمارے کا گستاخ ہے اور اس کو انہیں میں سے کسی کی یہ بددعا لگ گئی ہے اور پھر اگر ایسا نہیں تو پاگل ہے کہ ہر وہ بات کرتا ہے جو باقی لوگ نہیں کرتے بہرحال قوم ثمود کی طرف جو الزام صالح (علیہ السلام) کو دیا گیا وہ سحر زدہ ہونے ہی کا تھا جو ان کے خیال میں کسی جن کے اثر سے ہوتا تھا یا جادو کے اثر سے ، وہ جسے پاگل یا مجنون کہنا چاہتے تھے اس کو یا تو مسحور کہتے تھے یا ساحر اور یہی قوم ثمود نے کہا ۔
Ayah 26:154تو ہمارے جیسا انسان ہی تو ہے کوئی نشانی دکھا دے اگر تو سچا ہے :
154۔ زیر نظر آیت میں قوم نے صالح (علیہ السلام) پر دو مزید لگائے ہیں ایک تو یہ کہ ” تو ہماری ہی طرح کا ایک بشر ہے “ اور دوسرا یہ کہ ” اگر تو سچا ہے تو کوئی نشانی ہم کو دکھا “ گویا ان کے خیال کے مطابق ایک تو کسی نبی ورسول کا بشر ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ نبی ورسول نہیں کیونکہ رسول بھی بشر نہیں ہو سکتا اور جب یہ بشر ہے تو رسول کیونکر ہوا اور دوسرا یہ کہ صالح (علیہ السلام) ان کے پاس ابھی تک کوئی نشانی نہیں پیش کرسکا تھا حالانکہ وہ خود بذاتہ اور اس کا کلام جو وہ کہہ رہا تھا اتنی بڑی نشانی تھی کہ اس کے ہوتے ہوئے انکو مزید کسی نشانی کی لطب کی حاجت ہی کب رہنی چاہئے تھی پھر صالح (علیہ السلام) کا بغیر کسی معاوضہ کے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا بھی ایک نشانی تھا اگر وہ کسی نشانی کو ماننا چاہتے ، ان کے نزدیک تو نشانی فقط یہ تھی کہ یہ جو ہم کو بار بار دھمکیاں سناتا ہے اگر تم باز نہ آئے اور میری نافرمانی کرتے رہے تو تم کو عذاب الہی آلے گا جب ہم اس کی مسلسل نافرمانی کئے جا رہے ہیں جس کا یہ خود گواہ رہے تھے کہ جب عذاب الہی نے انکو لپیٹ میں لے ہی لیا تو یہ کہنے والا کون ہوگا کہ صالح سچا ہے اور جو اس نے کہا وہ ہو کر رہا ہے جب کہ ایسا کہنے والوں کو تیا پانچا ہوگیا تاہم صالح (علیہ السلام) نے بحکم الہی ان کے لئے اس طرح کی ایک نشانی بھی پیش کردی جس طرح کی وہ مانگ رہے تھے ۔
Ayah 26:155صالح (علیہ السلام) نے کہا یہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی ہے پانی اس کو بھی پینا ہے اور تم کو بھی :
155۔ صالح (علیہ السلام) نے اس اونٹنی کو جس پر چل پھر کر اپنی بستیوں میں وعظ کرتے تھے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اللہ کا نشان قرار دے دیا اور فرمایا کہ یہ اللہ کی اونٹنی ہے کیونکہ اللہ کے نام پر واقف ہے اور اس کے کام کے سوا میں اس سے اور کوئی کام نہیں لیتا چونکہ میری وجہ سے آپ لوگ پہلے ہی اس سے دشمنی رکھتے ہیں آج سے میں تم کو کہتا ہوں کہ اس کو بھی پینا ہے اور تمہارے جانوروں کو بھی تم جب کہ اس کے چرنے اور پینے سے پہلے بھی دشمنی رکھتے ہو آج کے بعد اگر تم میں سے کسی نے بھی اس کو کوئی گزند پہنچایا تو بس وہی دن ہوگا کہ تمہارے لئے عذاب الہی آدھمکے گا بس یہ تمہارے لئے ایک نشان ہے جس کا اعلان میں نہیں کر رہا بلکہ مجھ سے کروایا جا رہا ہے اس طرح اب گویا وہ چیز جس کی تم کو طلب ہے وہ بھی تم کو تفویض کردی گئی اس لئے میں نہیں بلکہ تم خود جب چاہو اور جس وقت چاہو اپنے آپ کو عذاب الہی میں گرفتار کرلو اور اپنا مطلوبہ نشان حاصل کرلو ۔
Ayah 26:156صالح (علیہ السلام) نے کہا کہ اس اونٹنی کو نہ چھیڑو اگر تم نے چھیڑا تو بس عذاب آیا :
156۔ صالح (علیہ السلام) نے اس اونٹنی کو بحکم الہی بطور نشان مقرر کرتے ہوئے قوم کے لوگوں میں اعلان کروا دیا کہ آج سے یہ اونٹنی جس کو تمہاری آنکھوں کے سامنے آج تک میں تبلیغ کے کام میں استعمال کرتا رہا ہوں اور جس کے متعلق تم کو کوئی شک وشبہ بھی نہیں کہ یہ اونٹنی کس کی ہے بلکہ تمہارا ہر ایک فرد جانتا اور پہچانتا ہے ‘ تمہارے لئے وہی نشان ہے جس کے تم طلب گر تھے ‘ تمہارے لئے بہتر ہے کہ اس کو کسی طرح کی کوئی گزند نہ پہنچاؤ اور نہ اس کے ساتھ برا سلوک کرو۔ ہاں ! اگر تم نے اس کے ساتھ کوئی ایسا برا سلوک کیا تو سمجھو کہ تمہیں عذاب الہی نے آلیا ۔ اس اونٹنی کے متعلق لوگوں نے بہت کچھ مبالغہ آرائی سے کام لیا اور اس کی پیدائش ‘ اس کی خوراک ‘ اس کی عبادت اور ہئیت ‘ اس کی شکل و صورت میں عجیب طرح کی کہانیاں گھڑی گئیں جن کی نہ کوئی اصل اور نہ کوئی حقیقت جس طرح رسول انسانوں میں سے ایک انسان ہوتا ہے ‘ انہیں میں پیدا ہوتا ہے ‘ انہیں میں پرورش پاتا ہے لیکن چونکہ اس کو اللہ تعالیٰ نبوت و رسالت کے لئے مختص کردیتا ہے اور پھر اس کی زندگی اور لوگوں کی زندگی میں ایک خاص طرح کا فرق پایا جاتا ہے لیکن وہ کھاتا بھی ہے ‘ پیتا بھی ہے ‘ کماتا بھی ہے اور اسی طرح شادی بیاہ بھی کرتا ہے ‘ لوگوں ہی میں سے ہونے کے باوجود ایک خاص امتیاز اس کو حاصل ہوجاتا ہے لیکن لوگوں کے تخیل میں یہ بات چونکہ نسلا بعد نسل سرایت کرچکی ہے کہ نبی ورسول بشر نہیں ہوتا اس لئے ہر قوم نے یہ اعتراض کیا کہ تم تو بشر نظر آ رہے ہو تم کیسے رسول ہو سکتے ہو ؟ چناچہ یہی بات دوسرے انبیاء ورسل کی طرح صالح (علیہ السلام) سے بھی کہی گئی ۔ اس طرح اس اونٹنی کے متعلق یہ مشہور ہوگیا کہ ہو نہ ہو اس اونٹنی میں کوئی نہ کوئی اچنبھا کی بات تو ضرور ہوگی اور اس تخیل نے اس اونٹنی کا ایک خیالی وجود لوگوں میں قائم کردیا اور پھر جب ایک بات تحریر میں آگئی اور جو آیا اس نے مکھی پر مکھی ماری تو اب اس کو عام اونٹنی قرار دینا گویا کفر ہوگیا اور جب بھی کسی نے اس اونٹنی کے بارے میں عام اونٹنی یا صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کے الفاظ کہے تو وہ فتوی کی زد میں آگیا کہ لو دیکھو اس نے تو معجزہ ہی کا انکار کردیا تعجب ہے یہ تو کتاب وسنت کا بھی منکر ہے اور یہ ایسا اور ویسا ہے گویا جو کچھ نبی ورسول کو بشر ماننے والوں کو کہا جاتا تھا وہ سب کچھ انہوں نے جو نبی ورسول کو بشر مانتے تھے اس اونٹنی کو عام اونٹنی کہنے والوں کو کہہ دیا اس طرح گویا جو پتھر ان پر پھینکا گیا تھا وہی انہوں نے اٹھا کر دوسروں پر پھینک دیا ، یہاں تک کہ مودودی صاحب جیسے منجھے ہوئے لوگوں کو بھی یہ کہنا پڑا کہ ” معجزے کے مطالبے پر اونٹنی پیش کرنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ محض ایک عام اونٹنی نہ تھی جیسی ہر عرب کے پاس وہاں پائی جاتی تھی بلکہ ضرور اس کی پیدائش اور اس کے ظہور میں اور اس کی خلقت میں کوئی ایسی چیز تھی جسے معجزہ کی طلب پر پیش کرنا معقول ہوتا ۔ “ (تفہیم القرآن جلد سوم ص 524) ہم چونکہ اس کی وضاحت ایک سے زیادہ مقامات پر کرچکے ہیں اس لئے اس بحث کو نہیں چھیڑتے تفصیل مطلوب ہو تو سورة الاعراف آیت 77 ‘ 78 ‘ سورة ہود کی آیات 64 ‘ 65 ‘ صالح (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت عروۃ الوثقی جلد چہارم ص 624 ‘ سورة بنی اسرائیل کی آیت 59 کی تفسیر ملاحظہ کریں ۔
Ayah 26:157انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور پھر پچھتاتے ہی رہ گئے :
157۔ انہوں نے جب صالح (علیہ السلام) کی بات سنی تو شامت اعمال کے باعث ان کا فیصلہ یہی ہوا کہ اگر یہی اونٹنی ہمارے لئے بارود کا گولہ ہے تو ہم اس کو ضرور آگ لگائیں گے اور اس کام کو انہوں نے اپنے لوگوں میں سے ایک بدبخت کے سپرد کردیا گویا صالح (علیہ السلام) کے اس اعلان کے بعد وہ ایک عرصہ تک آپس میں یہ صلاحیں اور مشورے کرتے رہے اور انجام کار ایک شخص پر انہوں نے اتفاق کیا کہ اس آگ کے گولے کو آگ لگانا ہی ہے تو یہ شخص لگائے گا ، جب انہوں نے یہ اپنے ایک بدبخت کے سپرد کیا تو وہ اٹھا اور اس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور انجام کار اس کو قتل کردیا ، اس طرح اس نے قوم کو للکار کر کہا کہ لو آگ تو میں نے لگا دی کیا کسی نے ٹھاہ کی آواز بھی سنی ، یہ کام جب ہو گا تو صالح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بار پھر اعلان کردیا کہ لوگو ! اچھی طرح ایک بات سن لو کہ جس سے تم کو منع کیا گیا تھا وہ تم نے کردیا اب اللہ کے حکم سے تمہارے لئے تین دن انتظار کے مقرر کردیئے گئے تاکہ جو جو ٹھٹھہ تمہارا باقی رہ گیا ہے وہ بھی اچھی طرح کرلو اور تین دن کے بعد تم پر عذاب مسلط کردیا جائے گا ۔
Ayah 26:158عذاب نے ان کو آلیا بلاشبہ اس میں ایک نشانی ہے لیکن اکثر ماننے والے کب ہیں ؟ :
158۔ اس طرح جو عذاب کا نشان انہوں نے طلب کیا تھا وہ ان کے سروں پر کھڑا کردیا گیا اور صالح (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ تم اپنے لوگوں کو لے کر یہاں سے ہجرت کر جاؤ چناچہ صالح (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے وہاں سے ہجرت کر گئے اور اس اعلان کی مدت جب ختم ہونے پر آئی تو رات کے پچھلے حصہ میں ایک زبردست دھماکہ ہوا یعنی آتش فشاں پھٹا اور اس کے ساتھ ہی ایک سخت زلزلہ آیا جس نے آن کی آن میں پوری قوم کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا اور صبح ہوئی تو ہر طرف کچلی اور مسلی ہوئی لاشیں ہی لاشیں پڑی تھیں اور ان کے نقش ونگار بھی بدلے پڑے تھے معلوم ہی نہ ہوتا تھا کہ یہ انسانوں کی لاشے ہیں یا روندی ہوئی باڑھ کے ڈھیر جو چورا چورا ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ دیہاتی لوگ اس سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں کیونکہ وہ جب جانوروں کو پالتے ہیں تو جانوروں کے لئے وہ باڑے بھی بناتے ہیں جو جھاڑیاں اور ڈھینگر اکھٹے کرکے بنائے جاتے ہیں اور پھر ایک مدت گزرنے کے بعد زمین اور آسمانی اثرات سے ناکارہ ہوجاتے ہیں اور وہی جانور انکو پامال کردیتے ہیں اور ان کا چورا ادھر ادھر اکٹھا ہوجاتا ہے قوم ثمود کی ان لاشوں کو اس چورے سے تشبیہ دی گئی ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس پوری قوم کی حالت ایسی ہو کر رہ گئی اور ان کی نعشوں کو دبانے والا بھی کوئی نہ رہا اور یہ پڑی پڑی ہی گل سڑگئیں ۔ اس کا نقشہ سورة الحجر کی آیات 83 ‘ 84 میں بھی کھینچا گیا ہے اور مطلب ومفہوم دونوں کا ایک ہی ہے کہ ان اترانے والوں کی پکڑ کا جب وقت آیا تو ان کو بعد آنے والوں کے لئے ایک نشان بنا کر رکھ دیا گیا لیکن بعد میں آنے والوں نے بھی اس بہت بڑے نشان کو نشان ماننے سے انکار کردیا اور مزید کسی نشانی کے طلب گار ہوئے اور بعد میں آنے والے انکی داستان سننے اور سمجھنے کے باوجود اس پر ایمان نہیں لائے بلکہ ” ہوتا آیا ہے “ کہہ کر اس سے سرپھیر دیا اور وہی کچھ کرنے لگے جو پہلے کرتے رہے تھے ۔
Ayah 26:159بلاشبہ آپ کا رب بڑے غلبہ والا اور بہت ہی پیار کرنے والا ہے :
159۔ زیر نظر آیت چوتھی بار اس سورت میں بیان کی جا رہی ہے اور ایک ہی سبق ہے جو بار بار ہر قوم کے ناطے اور ورطے سے یاد کرایا جا رہا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس طرح کے ڈھیٹ لوگوں کو ایک ہی بار دھٹائی کرتے دیکھ کر پکڑلیتا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا کیونکہ یہ اس کے قانون کے خلاف ہے اور اپنے قانون کے خلاف وہ نہیں کرتا اور نہ ہی ہونے دیتا اور اسی قانون کے تحت آج وہ تم کو مہلت پر مہلت دئیے جا رہا ہے ورنہ اس سے تمہارے کارہائے نمایاں بھی پوشیدہ نہیں ‘ بہتر ہے کہ اس کی عطا کردہ اس ڈھیل سے فائدہ حاصل کرلو اور اپنی ان بداعتدالیوں سے باز آجاؤ اور اس کی اس رحمت بےپیایاں سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے اپنی زندگی کو سنوارنے کی کوشش کرو ایسا نہ ہو کہ اس کی طرف سے تم پر کسی آزمائش کا وقت آجائے اور تمہارے ساتھ بھی وہی ہو جو گزشتہ قوموں کے ساتھ ہوتا آیا ہے ۔
Ayah 26:160دیکھو قوم لوط نے بھی ہمارے بھیجے ہوؤں کو جھٹلایا :
160۔ لوط (علیہ السلام) ‘ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے برادر زادہ ہیں ان کے والد کا نام حاران تھا ، لوط (علیہ السلام) کا بچپن سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے زیر سایہ گزرا اور ان کی نشو ونما حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی آغوش تربیت کی رہین منت ہے ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ ہی ہجرت کی تھی اور اس وقت تک وہ ابھی مبعوث نہیں ہوئے تھے جب ہجرت کرکے مصر کی طرف آئے تو دونوں بزرگوں کے پاس بہت ساسازوسامان بھی تھا جس میں بڑے بڑے ریوڑ تھے اس لئے دونوں کے مشورہ سے طے پایا کہ دونوں الگ الگ علاقوں کی طرف بڑھ جائیں اس لئے لوط (علیہ السلام) مصر سے شرق اردن کے علاقہ سدوم اور عامورہ کی طرف چلے گئے اور وہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی نبوت سے نوازا اور انہوں نے دین حنیف کی تبلیغ شروع کردی ، سدوم اردن کی وہ جانب جہاں آج بحر میت اور بحر لوط واقع ہے اس علاقہ میں سدوم وعامورہ کی بستیاں کبھی آباد تھیں ۔ لوط (علیہ السلام) نے جب اپنی نبوت کا اعلان کیا تو ان کی بستی بعض متفرد قسم کی برائیوں میں مبتلا تھی جن میں باہر سے آنے والوں کو پریشان کرنا اور ان کے مال پر نہایت برے طریقہ سے قبضہ کرلینا ان کا شیوہ تھا اور یہ لوگ ہم جنسی کے فعل میں بھی اپنی مثال نہیں رکھتے تھے ، لوط (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو اس برائی سے باز آنے کی تلقین کی تو وہ لوط (علیہ السلام) کے مخالف ہوگئے اور آپ کی بعثت کو انہوں نے جھٹلایا ۔ عروۃ الوثقی میں سورة الاعراف کی آیت 80 تا 84 ‘ سورة ہود کی آیات 77 تا 83 میں ان کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے اور سورة ہود میں لوط (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت کے تحت بھی ان کا تفصیل کے ساتھ ذکر گزر چکا ہے ۔
Ayah 26:161سیدنا لوط (علیہ السلام) نے کہا کہ بھائیوں تم اللہ تعالیٰ سے کیوں نہیں ڈرتے :
161۔ برائیوں سے باز رہنا ہی اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ہے اس لئے مطلب واضح ہے کہ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے جب ان کی مخصوص برائیوں سے ان کو منع کیا اور وہ بپھر گئے اور برائیوں سے باز نہ آئے تو ان کو یہی کہا جاسکتا تھا کہ تم برائیوں سے کیوں نہیں بچتے اور اللہ تعالیٰ کا ڈر کیوں اختیار نہیں کرتے ان کی ایک برائی جو زیادہ معروف تھی جس کو بدقسمتی سے آج بھی ہمارے بھائی لواطت کے نام سے موسوم کرتے ہیں جس کو دراصل سدومیت کہنا چاہئے کیونکہ وہ سدومیوں میں پائی جاتی تھی اور سیدنا لوط (علیہ السلام) تو اس سے ان کو روکتے تھے اور منع کرتے تھے ، اس لئے سیدنا لوط (علیہ السلام) کی طرف اس کی نسبت کسی صورت میں بھی صحیح نہیں ہے ۔ گزشتہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تعلق فی الواقعہ ان القوام سے تھا یعنی حسب ونسب کے لحاظ سے لیکن لوط (علیہ السلام) کا حسب ونسب تو ان لوگوں کے ساتھ نہیں ملتا تھا تاہم اللہ تعالیٰ نے ان کو قوم کا بھائی ہی قرار دیا ہے جس سے اس کی وضاحت بھی ہوجاتی ہے کہ من حیث الجنس سارے انسان ہی ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ قوم کا تعلق فقط خاندان ہی کی نسبت سے نہیں ہوتا جنس انسانی کی حیثیت سے بھی ہوتا ہے رہا زبان کا مسئلہ تو اس میں یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ سدومیوں کی زبان اور سیدنا لوط (علیہ السلام) کی زبان ایک ہی تھی کیونکہ نبوت و رسالت کے لئے اہل زبان ہونا بھی ضروریات دین سے ہے ۔
Ayah 26:162سیدنا لوط (علیہ السلام) نے کہا کہ میں تمہارے پاس ایک امانت دار رسول بن کر آیا ہوں :
162۔ مطلب یہ ہے کہ میں جو پیغام لایا ہوں وہ نہایت معتبر پیغام ہے کیونکہ رب العالمین کی طرف سے ہے چونکہ ہر نبی رسول کو اس کے دعوی کے ساتھ ہی لوگوں نے اس کو جھٹلانا شروع کردیا اس لئے ہر نبی ورسول ہی کو یہ بات کہنا پڑی کہ جو کچھ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں اپنی طرف سے نہیں پیش کر رہا بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کا پیغام تم کو پہنچا رہا ہوں اور وہ بھی نہایت دیانت وامانت کے ساتھ۔
Ayah 26:163سیدنا لوط (علیہ السلام) نے کہا کہ تم اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو :
163۔ جیسا کہ پہلے بھی دعوی کیا جا چکا ہے کہ ہر ایک نبی ورسول کی مخالفت میں قوم کے سربرآوردہ لوگ پیش پیش رہے ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ یہی وہ طبقہ ہے جو اپنے آپ کو کسی ضابطہ کا پابند تصور نہیں کرتا اور اتنا چھوٹ ہوتا ہے کہ جو اس کے منہ میں آئے وہ کہہ دیتا ہے ۔ پھر یہ لوگ اپنے مزاج کے خلاف کسی کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے دلیل کو یہ لوگ کبھی نہیں سنتے ‘ دھونس اور دھاندلی ان کا کام ہوتا ہے اور پھر ان کی ہاں میں ہاں ملانے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہوتی ‘ ان کے منہ سے نکلی ہوئی بات ہی سند ہوتی ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کی بات میں کوئی صداقت نہیں ہے ان کے منہ سے نکلی ہوئی بات ہی سند ہوتی ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کی بات میں کوئی صداقت نہیں ہے ان کے منہ پر کوئی شخص کہنے کی جرات نہیں رکھتا یہ لوگ جب نبی ورسول کے مخالف کھڑے ہوجاتے ہیں تو ہر نبی ورسول ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے ہی کی ہدایت کرتا ہے اور عوام کو یہی کہتا ہے کہ اللہ سے ڈرو اور ان لوگوں کی پیروی کرنے کی بجائے تم اللہ کے رسول ہی پیروی کرو اور چونکہ رسول وہ خود ہی ہوتا ہے اس لئے اس کو یہ کہنا ہوتا ہے کہ لوگو ! میری پیروی کرو اور ان لوگوں کی فرمانبرداری کرکے اپنے آپ کو دوزخ کا ایندھن مت بناؤ اور یہی وہ بات ہے جو ہر آن برسرآوردہ لوگوں کو برداشت نہیں ہوتی اور ایسی بات ان کو کیونکر برداشت ہوسکتی ہے جبکہ اکثریت ان کی ہاں میں ہاں ملا رہی ہو اور ایک آدمی ان کے مقابلہ میں کھڑا ہوجائے اور ان کی باتوں کو ماننے سے وہ لوگوں کو بآواز بلند منع کرنا شروع کردے تو ظاہر ہے کہ اس طرح وہ خود ہی اپنی موت کو دعوت دے گا اور جیسا کہ اوپر سے آپ پڑھتے چلے آ رہے ہیں یہی کچھ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام کے ساتھ ہوا اور قوم کے ان وڈیروں نے مخالفت انبیاء ورسل میں ایک سے زیادہ طریقے استعمال کئے اور اللہ کے ان بندوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا اور انجام کار اسی ظلم کی پاداش میں ان کو اس دھرتی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا ۔
Ayah 26:164میں تم سے اس پر کچھ اجر نہیں چاہتا اجر رب العالمین کے ذمہ ہے :
164۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) کا یہ اعلان بھی انہی اعلانوں میں سے ہے جن کو ہر گزشتہ نبی نے قوم کے سامنے کیے بات بالکل واضح اور صاف لیکن ایسی بات سن کر بہت سے لوگوں کے تیور بدل جاتے ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ وہ خود تو مفت میں کچھ کر نہیں سکتے اور جو ایسی بات کہتا ہے اس کے پے آزار ہوجاتے ہیں اور اس پر طرح طرح کے الزامات رکھتے ہیں اور اس ٹوہ میں بھی رہتے ہیں کہ کوئی ایسی بات ثابت ہو جس سے اس کے اس دعوی کو ہم غلط کہہ سکیں ، بلاشبہ ہر نبی ورسول نے یہ اعلان کیا اور ہر نبی ورسول کی مخالفت بھی کی گئی ، بلاشبہ حضرت سیدنا لوط (علیہ السلام) نے یہاں تک غیرت دلائی کہ اے لوگو ! تم اس بات کو نہیں سوچتے کہ میں رات دن جو اسلام اور صراط مستقیم کی دعوت وپیغام کے لئے تمہارے ساتھ حیران وسرگردان ہوں کیا میں نے تم سے اس سعی و کوشش کا کبھی کوئی ثمرہ طلب کیا ہے ؟ کیا کوئی اجرت مانگی ہے ؟ یا کسی نذر ونیاز کا طالب ہوا ہوں ؟ میرے پیش نظر تو تمہاری دینی ودنیوی سعادت و فلاح کے سوائے اور کچھ بھی نہیں ہے مگر تم ہو کہ مطلق توجہ ہی نہیں کرتے ۔
Ayah 26:165کیا تم تمام جہانوں میں لڑکوں پر مائل ہوتے ہو :
165۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے بھری محفل میں ان کو نصیحت کی اور فرمایا کہ تم کو اتنا بھی احساس نہیں رہا کہ یہ سمجھ سکو کہ مردوں کے ساتھ بےحیائی لوٹ مار اور اسی قسم کی بداخلاقیاں بہت ہی برے اعمال ہیں تم یہ سب کچھ کرتے ہو اور بھری محفلوں اور مجلسوں میں کرتے ہو اور پھر شرمندہ ہونے کی بجائے بعد میں ان کا ذکر اس طرح فخریہ طور پر سناتے ہو کہ گویا یہ کارہائے نمایاں ہیں جو تم نے انجام دیئے ہیں ۔ قوم نے اس نصیحت کو سنا تو غم وغصہ سے تلملا اٹھی اور کہنے لگی ‘ لوط بس یہ نصیحتیں اور عبرتیں ختم کرو اور اگر ہمارے ان اعمال سے تیرا رب ناراض ہے تو وہ عذاب لا کر دکھا جس کا ذکر کرکے تو بار بار ہم کو ڈراتا ہے اور اگر تو واقعی اپنے قول میں سچا ہے تو ہمارا تیرا فیصلہ ہوجانا ہی ضروری ہے ۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے ان کی بات سنی لیکن اس کا جواب نہ دیا اور دوبارہ ان سے فرمایا :
Ayah 26:166جو کچھ تمہاری بیویوں میں اللہ نے تمہارے لئے پیدا کیا اس کی تلاش نہیں کرتے ؟
166۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے قوم کے اندھے پن پر اس کی سرزنش شروع کردی اور فرمایا کہ تم عجیب قوم ہو کہ دنیا کی کوئی برائی ایسی نہیں جو تم میں موجود نہیں اور دنیا کی کوئی خوبی ایسی نہیں جو تم میں پائی جاتی ہو ۔ تم کیسے لوگ کہ دنیا کی سرکش ‘ متمرد اور بداخلاق وبداطوار قوم کے دوسرے عیوب و فواحش کے علاوہ تم ایک ایسے خبیث عمل میں مبتلا ہو یعنی یہ کہ تم اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے عورتوں کی بجائے مرد لڑکوں سے اختلاط رکھتے ہو دنیا کی قوموں میں اس عمل کا اس وقت تک کہیں رواج نہیں تم ہی ایسی بدبخت اور بدتمیز قوم ہو کہ عورتوں کو چھوڑ کر اس ناپاک عمل کے درپے ہو حالانکہ اس طرح بیج کو خواہ مخواہ ضائع کرکے اپنا بھی ستیاناس کرتے ہو اور عورتوں میں جو تم کو اس کے عوض مل سکتا ہے اس کی تلاش بھی تم نے چھوڑ دی ہے جس کے نقصان سے بھی تم دو چار ہوتے ہو اس طرح تم حد سے بہت تجاوز کرچکے ہو ۔ یہ عمل چونکہ نہایت ہی برا تھا اور پھر اس میں ساری قوم مبتلا تھی اس لئے اس پر اس کا نام لے کر سرزنش کی گئی ورنہ سچی بات ہے کہ اس قوم کے بگاڑ کی کوئی انتہا ہی نہ تھی ۔
تحریر ہے کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک مرتبہ سیدنا لوط (علیہ السلام) کی عافیت وخیر معلوم کرنے کے لئے اپنے خانہ زاد الیعزر دمشقی کو سدوم روانہ کیا وہ جب بستی کے قریب پہنچا تو اجنبی سمجھ کر ایک سدومی نے اس کے سر پر پتھر کھینچ مارا اور اس طرح الیعزر کے سر سے خون جاری ہوگیا تب آگے بڑھ کر وہ سدومی کہنے لگا کہ میرے پتھر کی وجہ سے یہ تیرا سر سرخ ہوا ہے لہذا مجھے اس کا معاوضہ ادا کر دے اور لیت ولعل میں اس مطالبہ کے لئے کھنیچتا ہوا اس کو سدوم کی عدالت میں لے گیا ۔ حاکم سدوم نے مدعی کا بیان سن کر کہا کہ بلاشبہ الیعزر کو سدومی کے پتھر مارنے کی اجرت دینی چاہئے الیعزر یہ سن کر غصہ میں آگیا اور ایک پتھر اٹھا کر حاکم کے سر پر دے مارا اور کہنے لگا کہ میرے پتھر مارنے کی جو اجرت ہے وہ تو اس سدومی کو دے دے اور یہ کہتا ہوا وہاں سے بھاگ گیا ۔
یہ اور اس طرح کے بہت سے دوسرے واقعات سے یہ روشنی ضرور پڑتی ہے کہ اہل سدوم اس قدر ظلم ‘ فحش ‘ بےحیائی اور فسق وفجور میں مبتلا تھے کہ اس زمانہ کی قوموں میں اس کی جانب اس قسم کے واقعات عام طور پر منسوب کئے جاتے ہیں ، لیکن افسوس کہ ہمارے مفسرین نے اس سرزنش کو جو سیدنا لوط (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو کی اور جس طرح ان کو شرم وعار دلائی بڑی عجیب تصویر پیش کی اور آپ کے لفظ (آیت) ” ھؤلآء بنتی ھن اطھرلکم “۔ کی تفسیر کو اس قدر لچر بنا دیا کہ آدمی اس کو سن کر بجائے اس کے کہ وہ ان سدومیوں کو برا بھلا کہے ان مفسرین کا ماتم شروع کردیتا ہے اور اس کو ایسا کرنا ہی چاہئے کہ ان کا معاملہ تو گزر گیا جیسا گزر گیا لیکن اس تفسیر نے تو ہماری قدروں کا بیڑا غرق کردیا اور ہم کو دوسری قوموں میں منہ دکھانے کا نہ چھوڑا اور ایک اللہ کے نبی پر وہ اتہام باندھا جو بڑے بڑے متہم کرنے والے بھی نہ باندھ سکے اور یہودیوں کی تاریخ سے اٹھا کر ساری کالک سیدنا لوط (علیہ السلام) پر مل دی ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون “۔
Ayah 26:167قوم نے کہا اے اگر تم اس نصیحت سے باز نہ آئے تو شہر بدر کردیئے جاؤ گے :
167۔ قوم کے لوگوں نے سیدنا لوط (علیہ السلام) کی نصیحتوں کو برداشت نہ کیا اور اپنے آپے سے باہر نکل گئے اور الٹا چور کو توال کو ڈانٹے کے محاورہ کے مطابق سیدنا لوط (علیہ السلام) کو کہنے لگے کہ اے لوط ! اگر تم اپنی نصیحتوں سے باز نہ آئے تو ہم آپ کو اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے ، یہ کارنامہ تھا اس جمہوریت کا جس پر آج بھی لوگ مفتون ہیں کہ ایک بات اکثریت چاہتی ہے تو ایک آدھ آدمی کون ہوتا ہے جو ان کے راستے کا روڑا بنے ایسے آدمی کو فی الواقعہ باہر ہی کرنا چاہئے اور آج کل بھی لوگ یہی کر رہے ہیں جو اس وقت سدومیوں نے صرف کہا تھا کر نہیں سکے تھے ، غور کرو کہ سدومیوں نے کس دھڑلے سے دو ٹوک فیصلہ سنا دیا کہ لوط اپنی زبان بند کرو بہت کچھ تم نے کہہ سن لیا اور ہماری عیش و آرام میں بہت حد تک داخل اندازی کرچکے تیری اس ملامت کا نتیجہ تجھے بھگتنا پڑے گا فی الواقعہ آپ کو اس بستی سے نکال باہر کیا جائے گا کافی عرصہ ہوا کہ ہم آپ کو برداشت کئے چلے آرہے ہیں ۔