26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 26:168

قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ Open ayah 26:168 in the Quran reader

لوط (علیہ السلام) نے کہا ، میں تمہارے کاموں سے بیزار ہوں

سیدنا لوط (علیہ السلام) نے بھی جواب دیا کہ میں بھی اب تمہارے کاموں سے سخت بیزار ہوں : 168۔ قوم کی دھمکی بلاشبہ بہت سخت تھی لیکن لوطعلیہ السلام بھی ان کی نس نس سے واقف تھے اور ایک عرصہ سے ان کی الٹی سیدھی برداشت بھی کر رہے تھے ‘ انہوں نے بھی انکی دھمکی کی ذرا پروا نہ کی اور ان کی بات سنتے ہی فرمایا کہ اب میں بھی تم سے اور تمہارے اعمال سے سخت بیزار ہوں اس لئے جو دھمکی تم مجھے دیتے ہو اس کی کوئی پروا نہ کرتے ہوئے اپنی تبلیغ کو جاری رکھوں گا اگر تم اپنے برے اعمال وافعال سے باز آنے والے نہیں تو آخر میں اپنے اچھے عمل سے کیوں زبان روک لوں اب جو نتائج بھی اس کے نکلیں ایک بار نہیں سو بار نکلیں میں اپنی جان کی بازی لگا کر بھی اپنے فرض کو پورا کروں گا اور نتیجہ کیا ہوگا اس کے بارے میں نہیں جانتا لیکن میرا پروردگار اس سے خوب واقف ہے اور جو نتیجہ وہ چاہے گا وہی برآمد ہوگا ہاں ! آپ نے لفظ (من القالین) کا استعمال کرکے انکو یہ بتا دیا کہ اس معاملہ میں اب میں اکیلا نہیں تم سمجھو یا نہ سمجھو کچھ آدمی میرے ساتھ بھی ایمان لانے والے ہیں اگرچہ ان کی تعداد کتنی کم ہو اور تم بھی کان کھول کر سن لو کہ اب عقل سلیم رکھنے والے لوگ کبھی آپ لوگوں کے ان اعمال کو اچھا نہیں کہیں گے بلکہ ان سے بیزاری ہی کا اظہار کریں گے ۔ (قالین) کی اصل قلی ہے جس کے معنی بیزاری اور ناراضگی کے ہیں ۔
Ayah 26:169

رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:169 in the Quran reader

اے میرے پروردگار ! مجھے اور میرے لوگوں کو ان کے کاموں (کے وبال) سے نجات عطا فرما

سیدنا لوط (علیہ السلام) نے بدرگاہ خداوندی مناجات کے لئے ہاتھ اٹھائے : 169۔ سیدنا لوط (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی وزاری کے ساتھ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں اپنی اپیل دائر کردی کہ اے میرے رب مجھے اور میرے اہل کو ان لوگوں کے اس عمل سے نجات دے اور ان کے اعمال کی ان کو پوری پوری سزا دے کہ یہ لوگ اب کسی طرح اپنے برے اعمال سے باز آنے والے نہیں ۔ اے اللہ ! اے میرے رب ! جو عذاب ان بدبختوں پر آنے والا ہے اس سے مجھے اور میرے ساتھیوں کو محفوظ فرما جو سچے دل سے تیرے دین کو ماننے والے اور تیری ہدایت کے مطابق عمل کرنے والے ہیں ان واقعات کی مزید تفصیل آپ کو سرگزشت لوط (علیہ السلام) میں ملے گی جو سورة ہود کی آیت 83 کے بعد درج کی گئی ہے عروۃ الوثقی جلد چہارم ص 137 سے 650 تک ملاحظہ کریں ۔
Ayah 26:170

فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 26:170 in the Quran reader

پس ہم نے اس کو اور اس کے لوگوں سب کو نجات دی

فرمان الہی کہ ہم نے لوط (علیہ السلام) اور اس کے لوگوں کو نجات دے دی : 170۔ لوط (علیہ السلام) کی ان بستیوں کے عذاب کی تفصیل سورة ہود میں گزر چکی مختصر یہ کہ جب عذاب الہی کا وقت آپہنچا تو ملائکہ کے اشارہ پر آخر شب میں حضرت لوط (علیہ السلام) اپنے خاندان سمیت دوسری جانب سے نکل کر سدوم سے رخصت ہوگئے اور ان کی بیوی نے ان کی رفاقت سے انکار کردیا اور راستہ ہی سے لوٹ کر سدوم واپس آگئی آخر شب ہوئی تو اول ایک ہیبت ناک چیخ نے اہل سدوم کو تہ وبالا کردیا اور پھر آبادی پر سخت آندھی نے تا بڑ توڑ کنکر پھینکنے شروع کردیئے اور ساتھ ہی سخت بارش کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا اور اس طرح ان کا نام ونشان مٹا دیا اور وہی ہوا جو گزشتہ اقوام کی نافرمانیوں اور سرکشیوں کا انجام ہوا اور اب بھی یہ ہوتا رہتا ہے اور ہو رہا ہے اگرچہ عذاب کی نوعیت ہمیشہ الگ الگ رہی ۔
Ayah 26:171

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ Open ayah 26:171 in the Quran reader

سوائے اس کی بی بی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں ہو گئی

ہاں ! لوط (علیہ السلام) کی بی بی بھی عذاب الہی سے نہ بچ سکی کیونکہ وہ پیچھے رہنے والوں میں تھی : 171۔ لوط (علیہ السلام) کے اہل میں سے آپ کی بیوی کو مستثنی کردیا اور فرمایا کہ ” سوائے اس کی بی بی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگئی “ اس میں کتنی ہی نشانیاں ہیں مگر ان لوگوں کے لئے جو غور وفکر کرتے ہیں ، کسی چیز کے اسثناء کی ضرورت اسی وقت ہوتی ہے جب وہ فی الحقیقت اس کے اندر داخل ہو لوط (علیہ السلام) کے لوگوں میں خواہ کتنے ہی تھے آپ کی زوجہ بھی داخل تھی چونکہ آپ کے اہل کو بچانے کا وعدہ کیا تھا اس لئے وعدہ کے اندر ہی یہ بتا دیا گیا کہ اے لوط آپ کی بیوی ہلاک ہونے والوں میں ہوگی اگرچہ وہ آپ کی اہل ہے اور پھر قرآن کریم میں جہاں بھی لوط کی قوم کی ہلاکت کا ذکر آیا اس کی وضاحت کردی گئی ، اس میں یہ نصیحت بھی تھی کہ نبی ورسول باوجود اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے اپنی اولاد اپنے والدین اور اپنی بیوی تک کے کام نہیں آسکتا جو بہت ہی قریب کے تعلقات ہیں ۔ تیسری بات نصیحت کی یہ ہے کہ اولاد ہو یا بیوی خواہ وہ کتنی نافرمان ہو اس کو دنیوی زندگی میں برداشت کرتے رہنا چاہئے کیونکہ کفر واسلام کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے اگر کوئی فرمانبردار ہے تو وہ اجر کا مستحق ہے اور اگر کوئی نافرمان ہے تو عذاب کا لیکن دنیوی زندگی میں ایسی نفرت جائز نہیں جس سے بالکل تفریق ہوجائے گویا جہاں تک ہو سکے برداشت کو پیدا کرنا ضروری ہے آخرت کا معاملہ سب کا اپنا اپنا ہے کوئی ایک دوسرے کے کام آنے والا نہیں ۔ غور کرتے جاؤ گے تو بہت سی نصیحتیں حاصل ہوتی جائیں گی ۔
Ayah 26:172

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:172 in the Quran reader

پھر ہم نے سب دوسروں کو ہلاک کر دیا

لوط (علیہ السلام) کے مخالفین میں سے ایک کو بھی نہ چھوڑا سب ہلاک کردیئے گئے : 172۔ اس آیت میں واضح کردیا گیا کہ کسی نبی ورسول کی تحدی وچیلنج کے بعد بھی اگر کوئی نافرمان رہا اور وہ نبی ورسول کے ساتھ اس علاقہ سے نکل نہیں گیا جو صورت نبی اور رسول کی نجات کی مقرر کی گئی وہ اس صورت میں شامل نہیں ہوا تو وہ اپنے آپ کو عذاب سے نہیں بچا سکا خواہ وہ کون ہوا لیکن یہ عذاب اس علاقہ ہی میں آیا جس علاقہ میں نبی مبعوث ہوا تھا اور جتنے حصہ پر اس کی قوم آباد تھی اس میں بھی بڑی عبرت اور بہت بڑی نشانی ہے کیونکہ وہ علاقے اتنے ہموار بھی نہ تھے بلکہ ان میں بیحد نشیب و فراز موجود تھے یہی حال حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کا ہوا اور وہی بستیاں آج کل بحرمیت یا بحر لوط کے نام سے معروف ہیں گویا زمین کو اس قدر شق کردیا گیا کہ اس کی گہرائی ہی کا کوئی اندازہ نہ رہا ۔
Ayah 26:173

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 26:173 in the Quran reader

اور ان (عذابِ الٰہی سے نہ ڈرنے والوں) پر ایک مینہ برسایا سو وہ کتنا برا مینہ تھا ان ڈرائے ہوئے لوگوں پر

حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت بارش کے تحت کردی گئی جو ان کے حق میں بڑی ثابت ہوئی : 173۔ الہی گرفت کے مناظر بھی بڑے عجیب ہوتے ہیں کہ وہی چیز جو انسانی زندگی کے لئے ایک بہت بڑی رحمت ہوتی ہے لیکن قانون الہی کے مطابق اس کو پوری قوم کے حق میں یا افراد کے حق میں یا کبھی کسی فرد کے حق میں زحمت بنا دیا جاتا ہے ۔ وہی بارش جس کو لوگ ترس کر رہ جاتے ہیں اور دعائیں کرتے کراتے ہیں کبھی وہی قانون الہی کے مطابق انسانوں کی ہلاکت کا باعث ہوجاتی ہے جیسے لوط (علیہ السلام) کی قوم کے لئے زحمت ہی نہیں بلکہ ہلاکت کا باعث ہوگئی اور اسی طرح کئی دوسری قوموں کو بھی اس نے ہلاک کیا اور آج بھی یہی بارش بعض علاقوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے اسی طرح افراد کی زندگی کے لئے جو چیزیں ضروری ہوتی ہیں مثلا پانی ‘ کھانا ‘ کپڑا ‘ مکان وغیرہ وہی اس کی ہلاکت کا باعث ہو کر رہ جاتی ہیں گویا ہر وہ چیز جو انسان کے لئے نہایت ہی مفید ہوتی ہے وہی بعض اوقات نہایت مضر ثابت ہوتی ہے حتی کہ انسان جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے کہاوت ہے کہ ہارون رشید کو بہت پیاس لگ گئی تو اس نے گھبرا کر کہا جو شخص اس وقت پانی کا ایک پیالہ دے اس کو آدھی حکومت مل سکتی ہے کسی درد دل کے مالک نے پیالہ ہاتھ میں تھاما اور حاضر ہوگیا اور کہا کہ بادشاہی آپ کو مبارک صرف ایک سوال کا جواب چاہتا ہوں ہارون الرشید نے کہا کہ کہو اس نے سوال کیا کہ کہو حضور اگر یہ پانی آپ کے اندر جا کر نکلنے سے انکار کر دے کہ اس کو روکنے والا روک لے تو پھر کیا ہو ؟ ہارون بھی بہت سمجھدار تھا کہنے لگا پھر ساری حکومت اس کو پیش کردوں جو اس پانی کو باہر لائے ، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے کتنوں کے بارے میں سنا ہوگا کہ پانی کا ایک گھونٹ بھرا تھا کہ بس وہ کلیجے میں جا لگا اور مر گیا مطلب یہ ہے کہ وہی پانی جو زندگی کا باعث ہے اس کی ہلاکت کا باعث ہوگیا۔
Ayah 26:174

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:174 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں نشانی ہے اور ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے

عذاب نے ان کو آلیا اس میں ایک نشانی ہے لیکن اکثر ماننے والے نہیں : 174۔ لوط (علیہ السلام) کی قوم نے لوط (علیہ السلام) سے عذاب الہی کا مطالبہ کیا جیسا کہ گزشتہ اقوام بھی اپنے اپنے رسولوں سے مطالبہ کرتی رہیں چاہئے تو یہ تھا کہ وہ اپنے سے پہلی قوم کی داستان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس قوم پر جو عذاب آیا تھا اس کے پیش نظر ایسا کوئی مطالبہ نہ کرتے بلکہ اس کو اپنے حق میں نشان مان لیتے لیکن ہوا وہی جو پہلے ہوتا آیا تھا کہ انہوں نے لوط (علیہ السلام) سے عذاب کی نشانی طلب کی اور اپنے مطالبہ کو بار بار دھرایا یہاں تک کہ ان کی ہلاکت کا وقت قریب آگیا اور ان کو بطور چیلنج بتا بھی دیا گیا کہ تم پر جو عذاب آنے والا ہے اس کی نوعیت بارش اور آندھی کی ہوگی پھر انکو وقت بھی متعین کردیا گیا لیکن انہوں نے اس سے سبق حاصل کرنے کی بجائے الٹا مذاق ہی بنایا یہاں تک کہ لوط (علیہ السلام) کو وہ بستی چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا اور آپ رات کے پہلے ہی حصہ میں جب اس بات کی وضاحت ہوگئی کہ آج رات ان کی مہلت کی آخری رات ہے تو لوط (علیہ السلام) وہاں سے نکل گئے اور پھر ہوا جو ہوا جس کی تفصیل سورة ہود میں گزر چکی اور ہم نے اوپر بھی اشارہ کردیا کہ بارش اور آندھی اور زلزلہ کی آمیزش نے ان کو زمین کی نچلی تہ میں لے جار کر غرق کردیا کہ بستیوں کی جگہ کھنڈرات کی بجائے بحرلوط کا مشاہدہ کرا دیا کہ یہاں وہ بستیاں آباد تھیں جہاں اب بحرلوط تم کو نظر آ رہا ہے ، فرمایا پھر ان کی ہلاکت میں بھی اپنی نشانی تھی لیکن اکثر لوگ ان کو ماننے والے نہیں ہے ۔
Ayah 26:175

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:175 in the Quran reader

اور بلاشبہ تیرا رب بڑی قوت والا ، پیار کرنے والا ہے

بلاشبہ آپ کا رب بڑے غلبہ والا اور پیار کرنے والا ہے : 175۔ گزشتہ آیت اور اس آیت کو اس سورت میں پانچویں بار لوٹایا جا رہا ہے اور ہر بار گزرنے والی قوم کے واقعات سے سبق حاصل کرنے کے لئے نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے آپ ﷺ کی امت کو سمجھایا جا رہا ہے کہ گزشتہ قوموں کو ان کے اوقات میں ان کو ہم نے اپنے قانون امہال کے تحت مہلت دی تھی اور آج تم کو بھی دے رہے ہیں پھر گزشتہ قوموں کو جوں جوں مہلت کا وقت گزرتا گیا ہم عذاب میں مبتلا کرتے رہے اس لئے کہ انہوں نے اپنے رسولوں کی لائی ہوئی ہدایت کا مذاق اڑایا اور پھر اڑاتے ہی چلے گئے تا آنکہ ان کی مہلت کا وقت گزر گیا اور یہ مہلت اس لئے دی گئی کہ تیرا رب جہاں عزیز ہے وہاں رحیم بھی ہے اور یہی بات تیری قوم کو بھی سمجھائی جا رہی ہے کہ گزشتہ قوموں سے ہمارا کوئی بیر نہیں تھا بلکہ انکو اسی وقت ہلاک کیا جب وہ ہلاکت کی مستحق ہوگئیں اب اسی رحمت کے باعث تم کو مہلت پر مہلت دی جا رہی ہے اگر فائدہ اٹھاؤ گے تو تمہارا اپنا فائدہ ہوگا ورنہ میرے عزیز ہونے کا ثبوت تم کو بھی پیش کردیا جائے گا ، ہاں ! فرق ہے تو صرف یہ ہے کہ گزشتہ قوموں کے لئے ایک بستی یا چند بستیاں ہوتی تھیں اور ان کو اسی طرح کی تباہی سے دوچار کردیا جاتارہا آپ ﷺ کی امت پوری دنیا میں ہے اس کے لئے مختلف قسم کے عذاب مختلف علاقوں میں سے کر اپنی نشانیوں کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ پوری دنیا کو اس میں لپیٹ کر اس کی بساط الٹا دی جائے گی جیسے گزشتہ واقعات رونما ہوئے یہ بھی اپنے وقت پر رونما ہوگا اور بلاریب ہوگا ۔
Ayah 26:176

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

اصحابِ ایکہ نے (بھی) رسولوں کی تکذیب کی

اصحاب ایکہ نے بھی رسولوں کی تکذیب کی اور تکذیب کا مزہ چکھا : 176۔ اصحاب ایکہ کون ہیں ؟ یہ لوگ شعیب (علیہ السلام) کی قوم ہیں جن کو ” مدین “ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ، مدین قبیلہ کا نام ہے کیونکہ مدین دراصل سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے کا نام ہے جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تیسری بیوی قطورا کے بطن سے تھا اس لئے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ خاندان بنو قطورا کے نام سے معروف ہوا ۔ مدین اپنے اہل و عیال کے ساتھ اپنے علاتی بھائی سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) کے پہلوہی میں آباد ہوگیا تھا اور یہی خاندان آگے چل کر ایک بڑا قبیلہ بن گیا اور شعیب (علیہ السلام) بھی چونکہ اسی نسب اور قبیلہ سے تھے اس لئے انکی بعثت کے بعد یہ قوم شعیب کہلائی اور مدین یا اصحاب ایکہ ایک ہی قوم کے دو نام ہیں ، تفصیل اس کی پیچھے تفسیر عروۃ الوثقی سورة ہود میں مختصر سرگزشت شعیب (علیہ السلام) کے عنوان کے تحت ملے گی وہاں سے ملاحظہ کرلیں ۔
Ayah 26:177

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:177 in the Quran reader

جب ان سے شعیب (علیہ السلام) نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ؟

شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ لوگو ! تم اللہ سے کیوں نہیں ڈرتے ؟ : 177۔ شعیب (علیہ السلام) جب اپنی قوم میں مبعوث ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور معصیت کا ارتکاب صرف افراد وا احاد ہی میں نہیں پایا جاتا بلکہ ساری قوم گرداب ہلاکت میں مبتلا ہے اور اپنی بداعمالیوں میں اس قدر سرمست وسرشار ہیں کہ ایک لمحہ کے لئے بھی ان کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے معصیت اور گناہ ہے بلکہ وہ اپنے ان اعمال کو باعث فخر سمجھتے ہیں ، ان کی بہت سی بداخلاقیوں اور نافرمانیوں سے قطع نظر جن قبیح امور نے خصوصیت کے ساتھ ان میں رواج پالیا تھا ان کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس قوم میں بت پرستی اور مشرکانہ رسوم بھی عام تھیں اور خرید وفروخت میں پورا لینا اور کم دینا بلکہ زیادہ لینا اور کم دینا عام تھا اور اس کام میں بہت ماہر تھے ، اشیاء خوردنی میں ملاوٹ کرنے میں بھی اپنا جواب آپ تھے اور ڈاکہ زنی کا ارتکاب بھی پایا جاتا تھا۔ قوموں کے عام رواج کے مطابق ان کی رفاہیت ‘ خوشی عیثی ‘ دولت و ثروت کی فراوانی ‘ زمین اور باغوں کی زرخیزی ‘ اور شادابی نے ان کو اس قدر مغرور بنا دیا تھا کہ وہ ان تمام امور کو اپنی ذاتی میراث اور اپنا خاندانی ہنر سمجھتے تھے اور ایک ساعت کے لئے بھی ان کے دل میں یہ خطرہ نہیں گزرتا تھا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عطا و بخشش ہے کہ وہ شکر گزار ہوتے اور سرکشی سے باز رہتے ۔ مختصر یہ کہ ان کی فارغ البالی نے ان میں طرح طرح کی بداخلاقیاں اور قسم قسم کے عیوب پیدا کردیئے تھے ، شعیب (علیہ السلام) ان میں مبعوث ہوئے تو انہوں نے ان کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی تلقین کی جیسا کہ زیر نظر آیت میں ارشاد الہی ہے ۔
Ayah 26:178

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:178 in the Quran reader

میں تمہارے لیے ایک دیانتدار رسول ہوں

شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں : 178۔ شعیب (علیہ السلام) نے قوم کو باور کرایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں جو کچھ تم کو کہتا ہوں یہ میرا ذاتی کہنا نہیں بلکہ مجھے اللہ رب العزت نے رسول بنا کر تمہارے پاس بھیجا ہے کہ میں تم کو ان سارے اخلاق سے گرے ہوئے کاموں سے روکوں اور منع کروں اور تم کو یاد دلاؤں کہ تم نے اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا ہے بلکہ یہاں سے کوچ بھی کرنا ہے اور یہاں جو کچھ تم نے کیا ہوگا اس کا جواب بھی دینا ہے اس لئے تم کفر وشرک سے باز آؤ اور ایک اللہ کی عبادت کرو اس کے علاوہ کوئی پرستش کے قابل نہیں ہے اور خریدوفروخت میں ناپ تول کو پورا رکھو اور لوگوں کے ساتھ معاملات میں کھوٹ نہ کرو ۔ اے میری قوم کے لوگو ! ذرا اس بات پر بھی غور کرو کہ جن لوگوں نے اس اللہ کی زمین پر فساد پھیلانے کا شیوہ اختیار کیا تھا ان کا انجام کس قدر عبرت ناک ہوا اور اگر تم نے دی کچھ کیا جو وہ کرتے رہے تو ظاہر ہے کہ تم بھی اسی نتیجہ سے دوچار ہو گے جس سے وہ ہوچکے ، لیکن شعیب (علیہ السلام) کی ان باتوں کا قوم پر کوئی اثر نہ ہوا اور چند کمزور اور ناتواں لوگوں کے سوا کسی نے بھی پیغام حق پر کان نہ دھرا خود بھی اسی طرح بداعمال رہے اور دوسروں کی راہ بھی مارتے رہے ۔
Ayah 26:179

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:179 in the Quran reader

پس اللہ سے ڈرو اور میرے کہنے پر چلو

شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو : 179۔ شعیب (علیہ السلام) بڑے فصیح وبلیغ مقرر تھے تاریخ میں ان کا لقب خطیب الانبیاء آج بھی موجود ہے ۔ شیریں بیانی ‘ حسن خطابت ‘ طرز بیان اور طاقت لسانی اپنی مثال آپ تھے ‘ انہوں نے نرم وگرم ہر طریقہ سے قوم کو رشد وہدایت کے یہ کلمات ارشاد فرمائے مگر اس بدبخت قوم پر ذرا اثر نہ ہوا وہ شعیب (علیہ السلام) کے پاس آنے جانے والوں کو بھی روکنے لگے اور موقعہ لگ جاتا تو لوگوں کو لوٹ لینے کے لئے ہر وقت متحرک رہتے شعیب (علیہ السلام) کی اس قوم کے وڈیروں اور سرداروں کی حالت اور بھی گری ہوئی تھی اس کے پیش نظر شعیب (علیہ السلام) عام لوگوں کو اپنے وعظ ودرس میں لوگوں کو ان وڈیروں اور مذہبی اور سیاسی لیڈروں کی فرمانبرداری سے روکتے اور برملا کہتے کہ بروں کی صحبت میں بیٹھو گے تو برے ہوجاؤ گے اس لئے انکے کہنے مت آؤ اور میری بات کو سنو اور میری فرمانبرداری کرو کیونکہ میں تم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتا ہوں اور تمہارے یہ سردار اور لیڈر تم کو شیطانی راستہ کی طرف راہنمائی کر رہے ہیں اس لئے ان کی پیروی وفرمانبرداری دراصل شیطان کی فرمانبرداری اور پیروی ہے اگر تم باز نہ آئے تو شیطان تم کسی گہری گھاٹی میں گرا دے گا اور تم اس کبھی بھی نہیں نکل سکو گے لیکن قوم کے سرداروں نے بھی جب حضرت شعیب (علیہ السلام) کا یہ عزم و استقلال دیکھا تو ان سے روئے سخن پھیر کر اپنی قوم کے لوگوں سے کہنے لگے خبردار ! اگر تم نے شعیب کا کہنا مانا تو تم ہلاک وبرباد ہوجاؤ گے ۔
Ayah 26:180

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:180 in the Quran reader

اور میں تم سے اس کا کوئی بدلہ نہیں چاہتا میرا بدلہ تو سارے جہانوں کے پالنے والے کے ذمہ ہے

حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ میں تم سے کوئی اجر تو نہیں مانگتا میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے : 180۔ جیسا کہ پیچھے سارے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے حالات میں آپ پڑھتے آرہے ہیں کہ ہر نبی ورسول نے یہ اعلان کیا کہ اس پیغام کے بدلہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا بدستور اسی طرح حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ میں اپنے مقدور بھر تمہاری اصلاح کی سعی کروں اور میں جو کچھ کہتا ہوں اس کی صداقت اور سچائی کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت اور دلیل بھی پیش کر رہا ہوں مگر افسوس کہ تم اس واضح حجت کو دیکھ کر بھی سرکشی ونافرمانی پر قائم ہو اور مخالفت کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جو تم سے چھوٹا ہوا ہو پھر میں تم سے اپنی اس رشد وہدایت کے بدلہ میں کوئی اجرت بھی نہیں مانگتا اور نہ ہی کسی دنیوی نفع کا طالب ہوں اور میرا اجر تو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے پاس ہے اور اگر تم اب بھی نہ مانو گے تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کا عذاب تم کو ہلاک وبرباد نہ کر دے اس کا فیصلہ اٹل ہے اور کسی کی مجال نہیں کہ اس کو رد کر دے ‘ تم اس کی پکڑ سے پہلے اپنی اصلاح کرلو ۔
Ayah 26:181

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

ماپ پورا کیا کرو اور نقصان پہنچانے والوں میں نہ ہو جاؤ

حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا ماپ کو پورا کرو اور نقصان پہنچانے والوں میں سے نہ ہوجاؤ : 181۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم کو ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! ناپ تول کو پورا رکھو اور لوگوں نے ساتھ معاملات میں کھوٹ نہ رکھو کل تک ممکن ہے کہ تم کو ان بداخلاقیوں کا حال معلوم نہ ہوا ہو مگر آج تو تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل اور برہان آچکی اب جہل ونادانی عفو و درگزر کے قابل نہیں ہے ۔ حق کو قبول کرو اور باطل سے باز آؤ کہ یہی کامیابی و کامرانی کی راہ ہے اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی اس زمین پر فتنہ و فساد بپا نہ کرو جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اصلاح کے اور اس کی خیر کے تمام سامان مہیا کردیئے ہیں اگر تم میں ایمان ویقین کی صداقت موجود ہے تو سمجھو کہ یہی فلاح وبہبودی کی راہ ہے اور دیکھو ایسا نہ کرو کہ دعوت حق کی راہ کو روکنے اور لوگوں کو لوٹنے کے لئے ہر راہ پر جا بیٹھو اور جو آدمی بھی ایمان کی دعوت کو قبول کرے اس کو اللہ تعالیٰ کی راہ اختیار کرنے پر دھمکیاں دینے لگو اور اس میں کج روی پیدا کرنے کے درپے نہ ہوجاؤ ۔ اے افراد قوم ! اس وقت کو یاد کرو اور اللہ کا احسان مانو کہ تم بہت ہی تھوڑے تھے اور اس نے تم کو امن و عافیت دے کر تمہاری تعداد کو کئی گنا بڑھا دیا ۔
Ayah 26:182

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

اور سیدھی ترازو رکھ کر تولا کرو

حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا کہ دیکھو ترازو کو سیدھا رکھو اور پورا تولا کرو : 182۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے اس دنیا میں بڑی ترقی کرلی تھی لیکن اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے غفلت ہو تو شیطان ہرچیز کے اندر گھس آتا ہے جس سے فساد پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ مجسمہ فساد ہے ان لوگوں کے اندر ناپ تول میں کمی کرنے کی بیماری پھیل گئی اور بدمعاشی فساد ایک شدید قسم کی متعدی بیماری ہے جب کسی قوم میں پیدا ہوجائے تو تقریبا ہر دکاندار اور ہر تاجر اس میں مبتلا ہوجاتا ہے اور یہ بیماری اس طبقہ کے لوگوں کے لوگوں کی نس نس میں سرایت کر جاتی ہے اور ہر ایک دوسرے سے بازی لے جانے میں بےچین رہتا ہے اگر غور کرو گے تو آج کل بھی بالکل یہی صورت حال ہو رہی ہے فرق صرف یہ ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر قرآن کریم میں کیا جا رہا ہے اور ہم اس سے بےپروا ہیں کہ جو کچھ بھی کریں گے کسی کتاب الہی میں ہمارا اس طرح تذکرہ نہیں ہوگا اور ہمیں علمائے کرام اور مفسرین عظام یہ نہیں بتلاتے کہ یہ بیان صرف حضرت شعیب (علیہ السلام) ہی کی قوم کا نہیں بلکہ دراصل ہماری قوم کا ہے کیونکہ ہم کو باز رکھنے کے لئے ہی تو یہ بیان کیا جا رہا ہے ورنہ اب اس کے بیان کرنے کا کوئی فائدہ ؟ شعیب بھی گئے اور آپ کی قوم بھی اب اس تذکرہ کی ضرورت ؟ بلاشبہ ان تذکار کی ضرورت ہی یہ تھی کہ دیکھو گزشتہ امتوں نے کیا کیا اور اس کے نتیجہ سے وہ دوچار ہوئیں اگر تم نے انہیں امتوں کی پیروی کی اور ویسے ہی کام کئے تو تمہارا انجام بھی بالکل وہی ہوگا اور آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم انہیں کے نقش قدم پر چل رہی ہے بلکہ ان قوموں کی انفرادی بیماریوں کا ہماری قوم مجموعہ ہے اور ہر معاملہ میں ان کو پیچھے چھوڑ رہی ہے اور کم تولنا ‘ کم ماپنا چیزوں میں کھوٹ ملانا ‘ دھوکا و فریب کرنا ‘ ذخیرہ اندوزی کرنا ‘ نمبر 2 کو نمبر 1 کہہ کر فروخت کرنا اور ہر دوسرے کو فریب دے کر خوش ہونا ہمارے روز مرہ کے معمولات میں نہیں ہے ؟ جب ایک طرف یہ ہے کہ تو دوسری طرف ہمارے عذاب میں مبتلا ہونے میں بھی کوئی شک وشبہ نہیں فرق یہ ہے کہ وہ قومیں محدود علاقوں میں آباد تھیں اس لئے ان پر جب کوئی آفت آتی اور عذاب مسلط کیا جاتا تو وہ واضح ہوجاتا ہماری وسعت کے پیش نظر جب کسی علاقہ میں ہمارے ہی اعمال کے باعث کوئی صورت ایسی واقعہ ہوتی ہے تو ہم اس کو سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں اگر ہم میں کوئی زیادہ ہی رقیق قلب ہے تو وہ منہ سے ایک دو بار توبہ توبہ کہہ دیتا ہے اور جس بداخلاقی میں وہ لگا ہوتا ہے اس کو جاری رکھتا ہے ۔ کیا ہم روزانہ زلزلوں ‘ طوفانوں ‘ سیلابوں ‘ ڈکیتیوں ‘ دھماکوں ‘ اور قتلوں کی خبریں نہیں پڑھتے ؟ کیا یہ عذاب الہی نہیں ہے ؟ ۔
Ayah 26:183

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور لوگوں کو (ناپ اور تول میں) ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور ملک میں خرابی مت مچاتے پھرو

لوگوں کو چیزیں گھٹا کر مت دو اور ملک میں خرابی مت پھیلاؤ : 183۔ اشیائے خوردنی میں ملاوٹ مت کرو لیتے وقت زیادہ لینا اور دیتے وقت کم دینا عادت عام تھی اور چیزوں میں ملاوٹ کرنا ان کا فن سمجھا تھا تھا لیکن اگر آج وہ لوگ جو اس وقت ان کاموں میں ماہر تھے کبھی کوئی اٹھ کر پاکستان آجائے تو بلاشبہ وہ کان پکڑ جائے اور اس کو معلوم ہو کہ ان کا شروع کیا ہوا کام آج کس قدر ترقی پذیر ہے کہ کھرا مال بعد میں مارکیٹ پہنچتا ہے اور نمبر 2 پہلے موجود ہوتا ہے ۔ اصل ابھی کارخانہ میں ہے اور نقل دکان پر موجود ہے ، وزن میں کمی اور قیمت میں بیشی اس وقت اہل فن کا کمال ہے ۔ ممکن ہے کہ وہ دودھ میں پانی ملاتے ہوں لیکن ہم تو اس وقت پانی میں دودھ ملا رہے ہیں نہیں بلکہ پانی کو دودھ بنا رہے ہیں ان کو کہا جارہا ہے کہ ملک میں خرابی مت پھیلاؤ لیکن ہم نے تو خرابی کا نام ہی سنوارنا رکھ دیا ہے اور ہم نے جب کوئی خرابی پھیلانا ہوتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ ملک سنوارو۔ بہرحال بات حضرت شعیب (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کی جاری ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ لوگوں کو کم نہ دیا کرو اور کم دینے کے دو مفہوم ہی مراد لئے جاسکتے ہیں ایک یہ کہ تول میں وہ چیز کم نہ ہو جتنا تول کہو وہ اتنی ہی ہو اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب تم نے دو کلو آٹا دیا ہے تو اس کو ایسا نہ کرو کہ اس میں ایک کلو تو آٹا ہو اور ایک کلو چھان کیونکہ خریدنے والے نے تم سے آٹا خریدا ہے نہ کہ چھان اور تم نے اس کو اپنے فن کے لحاظ سے جو دینا تھا وہ کم ہی دیا اگرچہ جھکتا دیا اور جب وہ تولے گا اور جہاں بھی اس کو تولا جائے گا وزن کے لحاظ سے پورا ہوگا ، اس طرح ایک ہی چیز کو کم کرنے کے دو فن ہیں اور اس وقت اگر ایک تھا تو آج دونوں موجود ہیں ۔
Ayah 26:184

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

اور اس ذات سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے قبل کو پیدا کیا

حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا اس ذات سے ڈرو جس نے تم کو اور تم سے پہلوں کو پیدا کیا : 184۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اللہ کا ڈر پیدا کرنے کی ہدایت دی اور فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! اس ذات کبریا سے ڈرو جس نے تم کو بھی پیدا کیا اور تم سے پہلے لوگوں کو بھی اور اسی طرح آپ نے اپنی قوم کو توجہ دلائی کہ پہلی قوموں کے حالات پر نظر ڈالو ان کا پیدا کرنے والا بھی اللہ ہی تھا لیکن انہوں نے جب بداعتدالیاں کیں اور اصلاح کا نام فساد اور فساد کا نام اصلاح رکھا تو ان کو اس گناہ عظیم کی سزا بھی ملی اور اس پیدا کرنے والی ذات گرامی قدر نے ان کو خس و خاشاک کی طرح مٹا دیا تو تو تم کو آخر انہیں بداعتدالیوں کے باوجود کب تک معاف کرتا رہے کا اور ایک دن آخر کیوں نہیں پکڑے گا ؟ کیا ان لوگوں کے ساتھ اس کو بیر تھا اور تم سے وہ پیار کرے گا ؟ کیا وہ اس کی مخلوق نہیں تھی ؟ بہرحال حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم کو ہر طرح کے استدلال سے سمجھانے کی کوشش کی لیکن لاحاص وہ روز بروز اپنے فن میں ترقی ہی کرتے چلے گئے تا آنکہ ان کو بھی گزشتہ قوموں کی طرح قصہ پارینہ بنا دیا گیا ۔
Ayah 26:185

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

وہ بولے تم پر تو کسی نے جادو کردیا ہے

قوم کے لوگوں نے کہا کہ اے شعیب تجھ پر تو جادو کردیا گیا ہے : 185۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو قوم کے وڈیروں نے مخاطب کرلیا اور اپنے ہاں طلب کرکے کہنے لگے کہ شعیب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تجھ پر کسی نے جادو کردیا ہے وہ ایسا کیوں نہ کہتے ان کی ساری معاشی خوشحالی کا انحصار ان بےایمانیوں اور دھوکہ بازیوں پر تھا وہ اتنے بھلے مانس کب تھے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی نصیحت پر کان دھرتے اور ان کی نصیحت کو سن کر اپنے کرتوتوں سے باز آتے انہوں نے اپنی غلطی کو غلطی ماننے ہی سے انکار کردیا اور اس کی اصلاح کی طرف توجہ کرنا ہی مناسب نہ سمجھا بلکہ الٹا حضرت شعیب (علیہ السلام) پر الزام لگایا کہ تم پر تو کسی نے جادو کردیا ہے جبھی تو تم ہمیں ایسے مشورے دے رہے ہو جن پر اگر ہم عمل کریں تو یہ تجارت کی گہماگہمی یا دولت و ثروت کی فراوانی سب کی سب یکدم ختم ہو کر رہ جائے کوئی ذی شعور آدمی اپنی قوم کو ایسا مشورہ نہیں دے سکتا جو ان کی اقتصادی تباہی کا سبب بنے ، اے شعیب یقینا تمہارا دماغ کام نہیں کر رہا تم اپنا علاج کراؤ پھر ہم کو آکر نصیحت کرنا ، دریا میں رہ کر مگرمچھ سے بیر کسی عقل مند آدمی کا کام نہیں ‘ تیری مت کسی نے مار دی ہے ۔ پھر آخر تیری حیثیت ہی کیا ہے کہ تو ہم سے ایسی بات کہے ۔
Ayah 26:186

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

اور تم بھی تو ہماری طرح ایک آدمی ہو اور ہمارے خیال میں تو تم جھوٹے ہو

اے شعیب ! آپ ہیں کیا ؟ آخر ایک انسان ہی تو ہیں اور جھوٹ بول رہے ہیں : 186۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے درمیان ایک مدت تک یہ کش مکش جاری رہی ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم کو سمجھانے کی کوئی کوشش بھی چھپا نہ رکھی اور قوم کے لوگوں کو بھی ذرا برابر اثر نہ ہوا ۔ قوم کے سرداروں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اس تبلیغ کو سن کر ایک روز یہ جواب دیا کہ اے شعیب ! ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ تو کیا کہتا ہے ؟ ہم اتنا جانتے ہیں کہ تو ہم سب سے زیادہ غریب اور کمزور ہے اگر تیری باتیں سچی ہوتی تو تیری زندگی ہم سے زیادہ اچھی ہوتی ہم کو تو صرف تیرے خاندان کا لحاظ ہے ورنہ آج تک تجھے سنگسار کردیا ہوتا اور یہ روز روز کی خرخش کب کی ختم ہوچکی ہوتی ، حضرت شعیب (علیہ السلام) کے حالات کی تفصیل دیکھنا مطلوب ہو تو عروۃ الوثقی : میں سورة ہود کی آیت 95 کے بعد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت کا مطالعہ کرو۔
Ayah 26:187

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

اگر تم (اے نوح اپنے دعویٰ رسالت میں) سچے ہو تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرا دو

قوم نے کہا کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرا دو : 187۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) قوم کو سمجھاتے وقت اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اسی طرح کا کوئی عذاب آئے گا جس طرح کے عذاب عاد ‘ ثمود ‘ اور قوم لوط پر آئے اب اس انذار کے جواب میں قوم نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے مطالبہ شروع کردیا کہ اگر تم سچے رسول ہو تو ہم نے جب تمہاری بات نہیں مانی تو چاہئے کہ ہم پر آسمان ٹوٹ پڑے اگر اس وقت تک تم نے اس کو روک رکھا ہے تو جاؤ ہم پر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرا دو گویا قوم اس قدر حد سے تجاوز کرگئی کہ اب ان کی ہلاکت لازم ٹھہری اور آخر وہی ہوا جو قانون الہی کا ابدی و سرمدی فیصلہ ہے یعنی حجت وبرہان کی روشنی آنے کے بعد بھی جب باطل ہی پر اصرار ہو اور اس کی صداقت کا مذاق اڑایا جائے اور اس کی اشاعت میں رکاوٹیں ڈالی جائیں اور عذاب لے آنے کے مطالبات زور پکڑ جائیں تو عذاب الہی اس مجرمانہ زندگی کا خاتمہ کردیتا ہے اور آنے والی قوموں کے لئے اس کو عبرت اور موعظت بنا دیا جاتا ہے یہاں اب یہی کچھ ہونے والا ہے ۔
Ayah 26:188

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو

حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو : 188۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا جو میں نے کہا ہے اللہ کے حکم سے کہا ہے اور نہ ہی میں اس کو کرسکتا ہوں اللہ نے کہا ہے اور وہی اس کا کرنے والا ہے میں تمہارے معاملہ کو اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے کرتا ہوں اس کی حکمت کا جو تقاضا ہوگا وہی ہوگا وہ تمہارے اعمال کو بھی جانتا ہے اور تمہاری ان واہیات باتوں کو بھی سن رہا ہے جو ظہور میں آئے گا تم دیکھ لو گے اور یقینا ہم وہ سن لیں گے اگرچہ اس وقت تمہارا دیکھنا تمہارے لئے ہرگز مفید نہیں ہوگا ۔ ہاں ! تمہارے حال پر مجھے افسوس ہے کہ اتنی بڑی مدت تک میں نے تم کو نصیحت کی لیکن تم نصیحت کو قبول کرنے والوں میں سے نہیں ہوئے ۔
Ayah 26:189

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

(غرض) انہوں نے اس کو جھٹلایا ، آخر ان کو سائبان والے دن کے عذاب نے آپکڑا بلاشبہ وہ بڑے دن کا عذاب تھا

انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور یک بڑے عذاب نے ان کو آلیا : 189۔ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق ان لوگوں کو نافرمانی اور سرکشی کی پاداش میں دو قسم کے عذاب نے آگھیرا ایک زلزلہ کا عذاب اور دوسرا آگ کی بارش کا یعنی عین اس وقت جب وہ اپنے گھروں میں آرام کر رہے تھے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اس علاقہ سے نکال دیا گیا اور باقی لوگوں کو یک بیک ایک ہولناک زلزلہ نے آلیا اس طرح کہ ان کے قریب ہی آتش فشاں پھٹا اور ان کی ہولناکی نے ان سب کو گھٹنوں کے بل اوندھے گراکر جھلسا دیا یا جھلسا کر گھٹنوں کے بل اوندھا کردیا ۔ تفصیل اس کی سورة الاعراف کی آیات 91 ‘ 92 ‘ سورة ہود آیات 94 ‘ 95 ‘ میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔
Ayah 26:190

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

بلاشبہ اس میں (لوگوں کے لیے) نشانی ہے اور ان میں اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے

بلاشبہ اس میں نشانی ہے اور اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں : 190۔ زیر نظر آیت وہی ہے جو گزشتہ سرگزشتوں کے آختتام پر آرہی ہے کہ ان لوگوں کے لئے گزشتہ واقعات میں نشانی موجود تھی لیکن انہوں نے اس پر دھیان نہ دیا اور اپنے رسول سے ایک نشانی طلب کرتے ہی رہے کہ اگر تم سچے ہو تو وہ نشان آکیوں نہیں جاتا ‘ اچھا اب وہ نشان آگیا اور تم ہی بتاؤ کہ یہ آنے والا نشان تمہارے لئے نصیحت کا باعث ہوا ہرگز نہیں جس طرح گزشتہ قوموں کی طلب کی گئی نشانی نے انکو کچھ فائدہ نہ دیا اب انکی طلب کردہ نشانی بھی نہ ان کے اپنے کام آئی اور نہ ہی کسی گزشتہ آنے والی قوم نے اس سے فائدہ حاصل کیا اور اسی طرح ساری داستانیں گزر گئیں اور آج ہم ان ساری دعوتوں کا ذکر ایک ایک کرکے پڑھتے ہیں اور پھر وہی کام کر رہے ہیں جو انہوں نے کئے اور انکی پکڑ کا وقت آگیا تو وہ پکڑ لئے گئے ہم بھی ایسے کام کرتے رہتے ہیں اور پکڑ لئے جاتے ہیں فرق صرف وہی ہے جس کا ذکر اوپر درج کردیا گیا کہ ہم جہاں پکڑے گئے پہلوں کی طرح جو پکڑے گئے وہ پکڑے گئے اور باقی بچنے والے پھر اسی کام میں مصروف ہوگئے گویا آج ہماری حالت یہ ہے کہ ” دو پیاں وسرگیاں تے یاراں دیاں دوبلائیں “ اگر کسی جگہ زیادہ ہی قبض ہوگیا تو ہمارے بھائیوں نے اسی جھاڑی کو خوب طاقت سے پکڑ لیا اور شروع ہوگئے کہ ” جھاڑیے مجھاڑیے ڈیلھے تیرے مٹھے کھاوے آ ہے چائیں چائیں کہے عذاب ڈٹھے “ کی گردان شروع کردی اور اردگرد والوں کے لئے مذاق کا سبب بن گئے اور پھر ” وہی ڈفلی اور وہی راگ “۔
Ayah 26:191

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور بلاشبہ رب تیرا بڑی طاقت والا ، پیار کرنے والا ہے

بلاشبہ تیرا رب غالب آنے والا اور پیار کرنے والا ہے : 191۔ گویا وہی ہدایت دی جا رہی ہے جو گزشتہ واقعات میں دی گئی ہے کہ اتنی دیر تک جو ڈھیل اور مہلت دی جاتی رہی ہے اور اب بھی اس طرح کے بداعتدالوں کو دی جا رہی ہے تو یہ اس لئے نہیں کہ تیرا رب انکو پکڑ نہی سکتا ۔ اللہ تعالیٰ کے لئے کسی کو پکڑنا کوئی مشکل نہیں یہی وجہ ہے کہ اس نے جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچانے کے لئے یہ مہلت کا قانون بنایا ہے کہ وہ جب چاہے پکڑ سکتا ہے اور اس کے مقابلہ میں انسانوں کا ہاتھ کسی پر جب ہی پڑا تو اس نے پویس والے کی طرح فورا پکڑ لیا کیونکہ اس دفعہ اگر اس کو چھوڑ دیا گیا تو پھر ممکن ہے کہ پکڑا ہی نہ جائے چونکہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ہاں اس بات کا کوئی خطرہ نہیں اس لئے وہ مہلت پر مہلت دیتا چلا جاتا ہے تاکہ اس سے فائدہ اٹھا کر اگر سمجھ سکتا ہے تو سمجھ لے اگر اس نے دوسرا ہی کام کیا تو اللہ کے لئے اس کا پکڑنا کہاں مشکل ہے اس لئے اس نے اپنی رحمت کا اعلان بھی کردیا ہے کہ جب تک وہ مہلت دیتا ہے اس کی رحمت سے فائدہ اٹھاتے رہو پر جب اس کی پکڑ کا وقت آجاتا ہے تو وہ اس طرح وہاں سے اٹھا لیا جاتا ہے جس طرح مکھن سے بال نکالا جاتا ہے ۔ شعیب (علیہ السلام) کا تذکرہ اس جگہ اسی آیت پر ختم کیا جا رہا ہے ۔ شعیب (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام (علیہ السلام) کی جر سرگزشتیں سنائی گئی ہیں اس سورت میں ان سے فائدہ حاصل کرنے کی تلقین کی گئی ہے ان سرگزشتوں کے مضمون کو اگر الگ کردیا جائے تو سلسلہ مضمون ایک بار پھر آیت پانچویں سے جڑتا نظر آئے گا اور اس کی وضاحت کے لئے درمیان میں ان سرگزشتوں کا ذکر کیا گیا تھا کہ سبق حاصل کرنے والے ان سے سبق حاصل کرلیں اور ان نصائح کے بعد مضمون کو واپس جا کر جوڑ دیا گیا ہے تاکہ جہان سے بات چلی تھی وہیں سے دو بار شروع ہوجائے ، وہاں بھی نبی اعظم وآخر ﷺ پر قرآن کریم کے نزول کا ذکر تھا اور اب دوبارہ اسی مضمون سے سلسلہ کلام شروع کیا جا رہا ہے ۔
Ayah 26:192

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

اور بلاشبہ وہ (قرن کریم) تمام جہانوں کے پروردگار کا اتارا ہوا ہے

بلاشبہ قرآن کریم کا نزول رب العالمین کی طرف سے ہے : 192۔ غور کرو کہ (انہ) کا مرجع اس سے کتنے فاصلے پر چلا گیا اور جب بات واپس پھیری تو اس کو ضمیر ہی کے ساتھ دوبارہ چلا دیا کہ اس میں کسی طرح کا کوئی ابہام موجود نہ تھا یہ بات اس لئے عرض کی جا رہی ہے کہ قرآن کریم میں اکثر مقامات پر ایسا ہوا ہے اور لوگوں نے اس سے بڑی بحثیں اٹھائی ہیں اور خواہ مخواہ ان بحثوں کو طول دیا گیا ہے حالانکہ سیاق وسباق مضمون کی وضاحت کردیتا ہے کہ میری مراد کیا ہے ، فرمایا یہ قرآن کریم مخالفین اور منکرین کو متنبہ کر رہا ہے کہ غور کرلو کہ میرے اتارے جانے کا اصل مقصد کیا ہے ؟ کیا یہ ہے کہ اس کو سمجھ کر اس سے مطابق اپنی زندگیاں گزاری جائیں یا اس لئے کہ اس کو مرنے والوں کی بخشش کے لئے بطور وسیلہ پڑھا جائے ؟ اور بہتر ہے کہ یہ فیصلہ خود اس قرآن کریم ہی سے کروایا جائے یا اس نبی اعظم وآخر ﷺ سے جن کے سینہ اقدس پر اس کا نزول ہوا اور ظاہر ہے کہ قرآن کریم خود اس کا فیصلہ فرما دے گا کیونکہ وہ کسی ایک گروہ کے رب کی طرف سے نہیں نازل ہوا بلکہ رب العالمین کی طرف سے اس کا نزول ہوا ہے ۔
Ayah 26:193

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

اس کو امانتدار فرشتہ لے کر اترا ہے

قرآن کریم جس کو دے کر روانہ کیا جاتا رہا وہ کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ روح الامین ہے : 193۔ قرآن کریم بحیثیت کلام اللہ کا کلام ہے زبان کی حیثیت سے عربی مبین ہے جو انسانوں کی زبان میں نازل کیا گیا ہے جو انسان اس وقت اس کے مخاطبین اول تھے اس کو لانے والا کوئی عام آدمی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں سے ایک خاص فرشتہ ہے جو انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام (علیہ السلام) کے پاس اترتا رہا ہے اور وہی اس کو پہچان پاتے تھے اور اس کو ملکہ نبوت و رسالت کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے اور بلاشبہ یہ ایک ہی چیز کی مختلف تعبیریں ہیں تاکہ سمجھنے والے کو جس طرح سمجھنا آسان ہو وہ اسی طرح سمجھ لے کیونکہ اس کا اصل مقصد اس کے سمجھنے کے ساتھ وابستہ ہے لیکن یہی وہ بات ہے جس کو ہم نے مکمل طور پر بھلا دیا ہے اور کوئی ایک بھی ایسا نظر نہیں آتا جس کو یہ بات یاد رہی ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا مصرف غلط ہوچکا ہے بلکہ قرآن کریم فریادی ہے کہ میرے ساتھ میرے ماننے والوں نے یہ ظلم کیوں روا رکھا ہے ، اب یہ کتنا ضروری ہے کہ اس کے مقصد کو معلوم کیا جائے ورنہ اس کی ہمارے خلاف شہادت بہت نقصان کا باعث ہوگی ۔
Ayah 26:194

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

آپ [ ﷺ کے دل پر اتارا گیا ہے تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہو جائیں

اس کا نزول محمد رسول اللہ ﷺ کے دل پر ہوا ہے اور آپ کی زبان ہی نے اس کو ادا کیا : 194۔ اس حقیقت کو الفاظ میں پوری وضاحت کے ساتھ نہیں سمجھایا جاسکتا بلکہ یہ خود سمجھ لینے کی چیز ہے یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے اس کو مسلسل دوسروں ہی سے سمجھنے کی کوشش کی ہے وہ ہمیشہ راستہ سے بھٹک گئے ہیں اس کی تفہیم بہت ضروری ہے کہ کیا کہا جا رہا ہے اور کیا سمجھا جا رہا ہے چونکہ اس کا کوئی مضمون بھی ایسا نہیں جو فقط ایک ہی بار اتارا گیا ہو بلکہ ہر ایک مضمون ایک سے زیادہ بار نازل کیا گیا ہے اور وہ خود اپنے مفہوم کی وضاحت کرتا ہے اس لئے جب تک اس کو بار بار اس پر نہ لوٹایا جائے اس وقت تک بات صاف نہیں ہوتی اس کا دعوی یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور میری خوبی یہ ہے جو دوسروں کلاموں سے مجھے الگ تھلگ کردیتی ہے کہ مجھ میں تضاد بالکل نہیں گویا میرے نزول کا وقت تو 24 سال تک تقریبا ہوتا رہا اور ان سالوں میں مختلف حالات سامنے آتے رہے ہیں جو بالکل ایک دوسرے کے مخالف بھی تھے لیکن میرا کمال یہ ہے کہ میرے بیان میں کوئی شخص تضاد ثابت نہیں کرسکتا اگر کوئی تضاد پایا گیا تو اس سے سمجھ لیا جائے گا کہ میری تفہیم کرانے والے نے صحیح نہیں کرائی خواہ اس کی اپنی تفہیم نہ ہوئی تھی اور خواہ اس نے کسی خاص مقصد کے تحت مجھے بیان کیا تھا اور اس طرح اپنا مطلب نکال لیا تھا یہی وہ آخری کسوٹی ہے جس پر رکھ کر قرآن کریم کو پرکھا جاسکتا ہے لیکن افسوس کہ اس کسوٹی کو لوگوں نے ماننے اور تسلیم کرنے سے گریز کیا ہے اور کرتے ہی چلے جا رہے ہیں اور یہی اس کا باعث ہے کہ علمائے امت نے اس کی مختلف تعبیریں کردی ہیں اور ہر تعبیر کو قرآن قرار دیا ہے حالانکہ وہ تعبیر انکی اپنی تھی ، کسوٹی اس کو کہا جاتا ہے جو سب کے کام آئے فقط اس سے کام لینے کے لئے کسوٹی کی شناخت صحیح ہونی چاہئے اور بات جہاں سے چلی تھی وہی پہنچ گئی کہ اس کا اصل میعار انسان کا وہی دل ہے لہذا کوئی سمجھنا چاہے گا تو وہ خود اس کی راہنمائی کرے گا اور اگر نہیں سمجھنا چاہے گا تو اس کو بالکل آزاد چھوڑ دیا جائے گا تاکہ وہ جس وادی میں چاہے بھٹکتا پھرے اور جہاں تک اس کو اختیار دیا گیا ہے اس کو بالکل آزاد کردیا جائے کیونکہ ایک کی جگہ ہمارا کوئی دوسرا پکڑا نہیں جائے گا ۔ غور کرو کہ یہ مفہوم خود قرآن کریم نے کسی طرح وضاحت سے متعین کردیا ہے کہ اس کا اصل مقصد تبشیر وتنذیر ہے اور صرف واقعہ نگاری نہیں ہے جس نے بھی اس کو واقعہ نگاری کے طور پر استعمال کیا خواہ وہ کون ہو اور کہاں ہوں اس نے اس کا مقصد بالکل نہیں سمجھا بلکہ وہ ابھی تک قرآن کریم کے قریب بھی نہیں پھٹکا خواہ عبارت قرآنی کا حافظ وقاری ہی کیوں نہ ہو اور خواہ اس نے ایک ایک لفظ کی کتنی ہی وضاحت کردی ہو ۔ کیونکہ یہ سب کچھ واقعہ نگاری ہی کے ضمن میں آتا ہے نہ کہ تبشیر وتنذیر کے ضمن میں یہی وجہ ہے کہ اس کی تفسیر کرنے والے تفسیریں کرتے رہتے ہیں لیکن خود ان کے لئے اگر وہ تبشیر وتنذیر کا کام نہیں کر رہا تو بلاشبہ سب اضاعت وقت ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔ ہم درد دل کے ساتھ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! اے احکم الحاکمین اس قرآن کریم کو ہمارے لئے ہمارے ہر فرد کیلئے وہ امیر ہے یا غریب ‘ وہ حکمران ہے یا رعایا ‘ وہ عالم ہے یا ناخواندہ سب کے لئے اس کو تبشیر وتنذیر بنا دے اور ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرما۔
Ayah 26:195

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

شگفتہ عربی زبان میں

اس کی زبان عربی مبین ہے یعنی خود بخود واضح ہے : 195۔ مطلب یہ ہے کہ اس کو قلب رسول پر نازل کرنے کا کوئی یہ مطلب نہ سمجھے کہ اس کے الفاظ نبی کریم ﷺ کے اپنے تھے ہرگز نہیں بلکہ اس کے الفاظ ہی آپ ﷺ کے دل پر نازل کئے گئے تھے گویا یہ رسول کا بیان کردہ مفہوم نہیں بلکہ الفاظ ہیں اور یہی اس کلام کے معجزانہ ہونے کی دلیل ہے اور یہی ” مبین “ کی وضاحت ہے اس پر مزید غور کرنے کے لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ رسول قرآن کریم کی عبارت کے علاوہ بھی بولتا تھا نہ کہ کوئی باجا تھا کہ جب اللہ میاں نے چاہا اس کا بٹن آن کردیا پھر دونوں کلاموں کو آج بھی ایک دوسرے کے سامنے رکھ کر دیکھ لیا جائے تو کبھی دونوں کلام ایک جیسے نہیں ہو سکتے اور یہی اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کریم کی عربی زبان نبی کریم ﷺ کی عربی زبان سے بالکل جدا اور الگ الگ ہے جو کسی دوسرے انسان میں یہ بات نہیں پائی گئی نہ اس وقت جب اس قرآن کریم کا نزول ہوا اور نہ اس کے بعد جب کہ عربی زبان اس وقت بھی بولی جاتی تھی اور اب بھی بولی جاتی ہے ، یہ ان لوگوں کے لئے ایک چیلنج ہے جو یہ بحث کرتے ہیں کہ قرآن کریم کی کچھ آیات ایسی تھیں جن کی تلاوت منسوخ کی گئی حالانکہ وہ قرآن کریم میں پہلے پڑھی جاتی تھیں اور پھر ہمارے علماء اس کو معرکہ بنا کر ان رویات پر جرح قدح شروع کردیتے ہیں اور راویاں کی بحث میں ایک دوسرے کا رد کرتے رہتے ہیں اور ان راویوں کے کیڑے نکالتے رہتے ہیں کوئی کسی راوی کو ضعیف قرار دیتا ہے اور کوئی کسی کو اور ایک ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جو آج تک نہ ختم ہوا اور نہ ہی قیامت تک ہوگا حالانکہ قرآن کریم کو پیش نظر رکھ کر آج بھی ان عبارات کو ملا کر پڑھ دیا جائے تو وہ خود بخود انکار کردیتی ہیں کہ ہم قرآن کریم نہیں بلکہ غیر قرآن ہیں ، لیکن چونکہ اس طرح گھوڑے کے دانتوں کی بحث ختم ہوجاتی ہے اور ہمارے دینی مدارس میں یہی بحثیں پڑھائی جاتی ہیں اور نقلی دلائل پیش کئے جاتے ہیں اور جو شخص گھوڑے کو پکڑ کر میدان میں لے آئے کہ صاحبو ! وقت ضائع نہ کرو یہ دو تین گھوڑے ہیں ان کے دانت خود گن لو اور اس بحث کو اس جگہ ختم کر دو تو بحث کرنے والے سارے فریق اس گھوڑے کو لا کر پیش کرنے والے پر پل پڑتے ہیں اور وہ مار دیتے ہیں کہ الامان والحفیظ پھر جب ذرا بات ٹھنڈی ہوتی ہے تو اس وقت گھوڑا بھاگ چکا ہوتا ہے اور گھوڑا لانے والا دم توڑ رہا ہوتا ہے اور اس سے بحث شروع ہوجاتی ہے کہ آیا اس نالائق کو جنازہ جائز ہے یا ناجائز تاکہ اس کے مرنے سے پہلے پہلے اس کا فیصلہ کر لیاجائے پھر جب وہ سارے ہی مارنے والے ہیں تو اس کے جنازہ کو آخر کیوں جائز قرار دیں گے اور اس طرح جو ہوگا وہ آپ کو بھی معلوم ہے اور ہم بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ اے اللہ ! ان مفتیان دین متین سے ہماری خلاصی فرما تجھے تیری ربوبیت کا واسطہ ہماری دعا منظور فرما ۔