Ayah 26:196اور بلاشبہ قرآن کریم تو پہلے صحائف میں بھی موجود ہے ۔
196۔ قرآن کریم نے ایک بار نہیں بار بار یہ بیان کیا ہے کہ میری تعلیم اور میرا پیغام کوئی نیا پیغام نہیں ہے بلکہ یہ خالصتا وہ پیغام ہے جو پہلے انبیاء ورسل لے کر آئے تھے لیکن تم لوگوں نے اس میں کمی بیشی کردی اور میرا کام اس کمی بیشی کو دور کرنا ہے جو تم لوگوں نے اپنی طرف سے کی تھی نہ کہ گزشتہ انبیاء ورسل کی صداقتوں کی مخالفت ، تم میرے مخالف کیوں ہو ؟ محض اس لئے کہ تم کو تمہاری اور تمہارے آباء و اجداد کی اس کمی بیشی کی وضاحت تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں کہ یہ میرے سے پہلے آنے والے انبیاء ورسل کی تعلیم نہیں اور انہوں نے تم کو یہ پیغام نہیں دیا بلکہ تم نے خود اپنی طرف سے دین میں داخل کرلیا ہے یا انبیاء ورسل کے لائے ہوئے دین کی جگہ اس کو قائم کرلیا ہے لہذا میرا پیغام کوئی نیا پیغام نہیں اور جو کچھ میں کتاب اللہ یعنی قرآن کریم میں وحی الہی بیان کر رہا ہوں وہ بالکل وہی ہے جو مجھ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) ورسل نے بیان کی تھی لہذا وہ اپنے ماننے والوں کو اسی طرح حکم دیتا ہے کہ :
(آیت) ” قُولُواْ آمَنَّا بِاللّہِ وَمَا أُنزِلَ إِلَیْْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَی إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمَاعِیْلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ وَمَا أُوتِیَ مُوسَی وَعِیْسَی وَمَا أُوتِیَ النَّبِیُّونَ مِن رَّبِّہِمْ لاَ نُفَرِّقُ بَیْْنَ أَحَدٍ مِّنْہُمْ وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ (البقرہ 2 : 136)
” مسلمانو ! تم کہو کہ ہمارا طریقہ تو یہ ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں قرآن کریم پر ایمان لائے ہیں جو ہم پر نازل ہوا ہے ‘ ان تمام تعلیموں پر ایمان لائے ہیں جو ابراہیم کو اسمعیل کو ‘ اسحاق کو ‘ یعقوب کو اور ان کی اولادوں کو دی گئیں نیز ان کتابوں پر جو موسیٰ ‘ عیسیٰ کو دی گئی تھیں اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان تمام تعلیموں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو دنیا کے دوسروے نبیوں کو انکے پروردگار سے ملی ہیں ہم اس میں سے کسی ایک کو بھی دوسری سے جدا نہیں کرتے اور ہم سب اللہ رب کریم کے فرمانبردار ہیں۔ “
پھر اس نے مزید فرمایا کہ :
(آیت) ” قُلْ آمَنَّا بِاللّہِ وَمَا أُنزِلَ عَلَیْْنَا وَمَا أُنزِلَ عَلَی إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمَاعِیْلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِیَ مُوسَی وَعِیْسَی وَالنَّبِیُّونَ مِن رَّبِّہِمْ لاَ نُفَرِّقُ بَیْْنَ أَحَدٍ مِّنْہُمْ وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ (آل عمران 3 : 84)
” اے پیغمبر اسلام ! ﷺ تم کہہ دو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور جو کچھ ابراہیم ‘ اسمعیل ‘ اسحاق ’ یعقوب اور ان کی اولادپرنازل ہوا اس پر ایمان رکھتے ہیں نیز جو کچھ موسیٰ کو ‘ عیسیٰ کو اور اللہ تعالیٰ کے دوسرے نبیوں کو اللہ کی طرف سے ملا ہے اس سب پر بھی ہمارا ایمان ہے ہم ان رسولوں میں سے ایک کو بھی دوسروں سے جدا نہیں کرتے اور ہم سب اللہ رب کریم کے فرمانبردار ہیں۔ “
اور ایک جگہ اس طرح ارشاد فرمایا :
(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ آمِنُواْ بِاللّہِ وَرَسُولِہِ وَالْکِتَابِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلَی رَسُولِہِ وَالْکِتَابِ الَّذِیَ أَنزَلَ مِن قَبْلُ وَمَن یَکْفُرْ بِاللّہِ وَمَلاَئِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً بَعِیْداً (النسائ 4 : 136)
” مسلمانو ! اللہ پر ایمان لاؤئ ‘ قرآن کریم پر ایمان لاؤ ‘ اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے نیز ان کتابوں پر جو اس سے پہلے نازل کی گئی تھیں اور دیکھو جس کسی نے اللہ تعالیٰ سے انکار کیا اور اس کے فرشتوں ‘ اس کی کتابوں ‘ اس کے رسولوں اور آخرت کے دن پر ایمان نہ رکھا تو وہ بھٹک کر سیدھے راستہ سے بہت دور جا پڑا ‘ ۔
یہ آیات کریمات اور ان جیسی دوسری آیات سے واضح ہوگیا کہ قرآن کریم میں وہی کچھ بیان ہوا ہے جو گزشتہ اللہ کی کتابوں میں بیان کیا گیا تھا اگر فرق ہے تو صرف یہ کہ جو کچھ گزشتہ کتابوں کے ماننے والوں نے اپنی طرف سے ان کتابوں میں داخل کردیا ہے وہ چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھا اس لئے اس کو چھوڑ دیا گیا لہذا یہ کتاب قرآن کریم گزشتہ صحیفوں میں من حیث المضمون موجود تھا اور موجود ہے اور دوسرے لفظوں میں اس کو یوں بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ جو کچھ گزشتہ کتابوں میں کے ماننے والوں لوگوں کی تحریفات سے بچا تھا وہ سب کا سب قرآن کریم میں موجود ہے اور اگر کوئی چیز اس میں موجود نہیں ہے تو وہ صرف اس لئے کہ اس میں لوگوں نے تحریف کرلی تھی ، اگر ان تعلیمات میں سرمو بھی فرق ہوتا تو قرآن کریم کا یہ دعوی ہی غلط ہوجاتا کہ میں سارے نبیوں کی دعوتوں کو ماننے کی تعلیم دیتا ہوں کیونکہ مختلف چیزوں کی دعوتوں کو بیک وقت کیسے مانا جاسکتا ہے وہ صحیح ہیں ؟ مثلا ایک چیز کو ایک نبی حلال کہے اور دوسرا حرام تو ہم ان دونوں کے ساتھ کیسے متفق رہ سکتے ہیں ظاہر ہے کہ ایک کے مخالف ہوں گے یا حرام کہنے والے کے یا حلال کہنے والے کے ، اس لئے ضروری ہے کہ جس چیز کو ایک نبی نے حرام کیا ہے ہر آنے والا نبی ورسول اس کو حرام ہی کہے خواہ اس کے ماننے والوں نے اس کے بعد حلال ٹھہرا لیا ہو اور اس کے ذمہ لگا دیا ہو کہ ہمارے نبی نے یہ کہا تھا تو لاریب اس نبی کے ماننے والوں کا یہ دعوی صحیح نہیں ہوگا کہ انکے نبی نے اس کو حلال ٹھہرایا اور اس طرح اس نبی کے ماننے والوں کے دعوی کی تکذیب اس نبی کی تکذیب نہیں ہوگی بلکہ اس کی تصدیق ہوگی ، کاش کہ یہ اصل ہمارے مفسرین اور قارئین کی سمجھ میں آجائے اور پوری انسانیت کے لئے کل بنوا ادم اخوۃ کے جملہ کو سمجھنا آسان ہوجائے ۔
یہی وہ اصل عظیم ہے جو قرآن کریم کی سب سے پہلی بنیاد ہے اور جو کچھ بھی بتلانا چاہتا ہے تمام ترا سی اصل پر مبنی ہے اگر اس اصل سے یہ واقعہ بھی سمجھنا چاہئے کہ جس درجہ قرآن کریم نے اس اصل پر زور دیا اتنا ہی زیادہ ” دنیا “ کی نگاہوں نے اس سے اعراض کیا حتی کہ کہا جاسکتا ہے کہ آج قرآن کریم کی کوئی بات بھی ” دنیا “ کی نظروں سے اسی درجہ پوشیدہ نہیں ہے جس قدر کہ یہ اصل عظیم ۔ اگر ایک شخص ہر طرح کے خارجی اثرات سے خالی الذہن ہو کر قرآن کریم کا مطالعہ کرے اور اس کے صفحات میں جگہ جگہ اس اصل عظیم کے قطعی اور واضح اعلانات پڑھے اور پھر ” دنیا “ کی طرف نظر اٹھائے جو قرآن کریم کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں سمجھتی کہ بہت سی مذہبی گروہ بندیوں کی طرح وہ بھی ایک مذہبی گروہ بندی ہے تو یقینا وہ حیران ہو کر پکار اٹھے گا کہ یا تو اس کی نگاہیں اسے دھوکا دے رہی ہیں یا ” دنیا “ ہمیشہ آنکھیں کھولے بغیر ہی اپنے فیصلے صادر کردیا کرتی ہے ، میں نے ڈر کر اس پیرا میں ” دنیا دنیا “ کا لفظ استعمال کیا ہے آپ اس ” دنیا “ کی بجائے ” علمائے کرام “ یا ” پیروان مذاہب “ کا لفظ اگر لگالیں تو بات زیادہ واضح اور زیادہ صاف ہوجائے گی ۔ ہاں ! آپ نے اگر ہمت کرلی ہے تو میں آپ کو مزید کہوں گا کہ ذرا مزید غور کرلیں ۔
قرآن کریم کا اعلان یہ ہے کہ دنیا میں کوئی بانی مذہب نہیں بھی ایسا نہیں ہوا ہے جس کو میں نے پانی مذہب بنا کر بھیجا ہو اور اس نے لوگوں کو دین پر اکھٹے رہنے اور تفرقہ واختلاف سے بچنے کی تعلیم نہ دی ہو ۔ لاریب سب کی تعلیم یہی تھی کہ اللہ کا دین بچھڑے ہوئے انسانوں کو جمع کردینے کے لئے ہے الگ الگ کردینے کے لئے نہیں ہے پس ایک پروردگار عالم کی بندگی ونیاز میں سب متحد ہو جاؤ اور تفرقہ ومخاصمت کی جگہ باہم محبت ویک جہتی کی راہ اختیار کرو۔
اس سلسلہ میں اس کا اعلان یہ ہے کہ (آیت) ” وان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاتقون “۔ (المومنون 23 : 52) ” اور یہ تمہاری امت فی الحقیقت ایک ہی امت ہے اور میں تم سب کا پروردگار ہوں پس میری نافرمانی سے بچو۔ “ وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک ہی جامہ انسانیت دیا تھا لیکن تم نے طرح طرح کے بھیس اور نام اختیار کر لئے اور رشتہ و انسانیت کی وحدت سینکڑوں ٹکڑوں میں بکھر گئی ۔ تمہاری نسلیں بہت سی ہیں اس لئے تم نسل کے نام پر ایک دوسرے سے لڑ رہے ہو تمہاری قومیتیں بیشمار ہیں اس لئے ہر قوم دوسری قوم سے دست و گریبان ہو رہی ہے ‘ تمہارے رنگ یکساں نہیں اور یہ بھی باہمی نفرت وعناد کا ایک بڑا ذریعہ بن گیا تمہاری بولیاں مختلف ہیں اور یہ بھی ایک دوسرے سے جدا رہنے کی بہت بڑی حجت بن گئی ہے پھر اس کے علاوہ امیر و فقیر ‘ نوکر وآقا ‘ وضیع وشریف ‘ ضعیف وقوی ‘ ادنی واعلی بیشمار اختلافات پیدا کر لئے گئے ہیں اور سب کا منشا یہی ہے کہ ایک دوسرے سے جدا ہوجاؤ اور ایک دوسرے سے نفرت کرتے رہو۔ ایسی حالت میں بتلاؤ وہ رشتہ کونسا رشتہ ہے جو اتنے سارے اختلافات رکھنے پر بھی انسانوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دے اور اس طرح انسانیت کا بکھرا ہوا گھرانا پھر آباد ہوجائے ؟ وہ کہتا کہ اس کا حل صرف اور صرف ایک ہی رشتہ ہے اور وہ خدا پرستی اور خدا شناسی کا مقدس رشتہ ہے کہ تم کتنے ہی الگ الگ ہوگئے ہو لیکن تمہارے رب تو الگ الگ نہیں ہوگئے تم سب کے سب ایک ہی پروردگار کے بندے ہو ‘ تم سب کی بندگی ونیاز کے لئے ایک ہی معبود کی چوکھٹ ہے ‘ تم بیشمار اختلاف رکھنے پر بھی ایک ہی رشتہ عبدیت میں جکڑے ہوئے ہو۔ تمہاری کوئی نسل ہو ‘ تمہارا کوئی وطن ہو ‘ تمہاری کوئی قومیت ہو ‘ تم کسی درجے میں اور کسی حلقے کے انسان ہو لیکن جب ایک ہی پروردگار کے آگے سر نیاز جھکا دیا تو یہ آسمانی رشتہ تمہارے سارے ارضی اختلافات مٹا دے گا تم سب کے بچھڑے ہوئے دل ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے تم محسوس کرو گے کہ تمام دنیا تمہارا وطن ہے ‘ تمام نسل انسان تمہارا گھرانا ہے اور تم سب ایک ہی رب العلمین کے عیال ہو۔ وہ پکارتا ہے کہ لوگو ! اللہ رب کریم کے جتنے رسول بھی پیدا ہوئے سب کی تعلیم یہی تھی کہ (الدین) پر یعنی بنی نوع انسانی کے ایک ہی عالمگیر دین پر قائم رہو اور اس راہ میں ایک دوسرے سے الگ الگ نہ ہوجاؤ ۔
(آیت) ” شَرَعَ لَکُم مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصَّی بِہِ نُوحاً وَالَّذِیْ أَوْحَیْْنَا إِلَیْْکَ وَمَا وَصَّیْْنَا بِہِ إِبْرَاہِیْمَ وَمُوسَی وَعِیْسَی أَنْ أَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِیْہِ (الشوری 42 : 13)
” اور اس نے تمہارے لئے دین کی وہی راہ قرار دی ہے جس کی وصیت نوح کو کوئی گئی تھی اور جس پر چلنے کا حکم ابراہیم ‘ موسیٰ ‘ اور عیسیٰ کو دیا تھا ان سب کی تعلیم یہی تھی کہ (الدین) قائم رکھو اور اس راہ میں الگ الگ نہ ہوجاؤ ۔ “
اس دلیل کے ورطے وہ اس بات پرزور دیتا ہے کہ اگر تمہیں میری تعلیم کی سچائی سے انکار ہے تو کسی مذہب کی الہامی کتاب سے بھی ثابت کر دکھاؤ کہ دین حقیقی کی راہ اس کے سوا کچھ اور بھی ہے یا ہو سکتی ہے تم جس مذہب کی بھی حقیقی تعلیم کو دیکھو گے اصل وبنیاد یہی ملے گی ۔
(آیت) ” قُلْ ہَاتُوا بُرْہَانَکُمْ ہَذَا ذِکْرُ مَن مَّعِیَ وَذِکْرُ مَن قَبْلِیْ بَلْ أَکْثَرُہُمْ لَا یَعْلَمُونَ الْحَقَّ فَہُم مُّعْرِضُونَ (24) وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِکَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِیْ إِلَیْْہِ أَنَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ (الانبیائ : 21 : 24 ‘ 25)
” اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان سے کہہ دو (اگر تم کو میری تعلیم سے انکار ہے تو) اپنی دلیل پیش کرو یہ تعلیم موجود ہے جس پر میرے ساتھ یقین رکھتے ہیں اور اس طرح وہ تمام تعلی میں بھی موجود ہیں جو مجھے پہلے قوموں کو دی گئیں (تم ثابت کر دکھاؤ کس نے میری تعلیم کے خلاف تعلیم دی ہو) اصل یہ ہے کہ ان (منکرین حق) میں اکثر آدمی ایسے ہیں جنہیں سرے سے امر حق کی خبر ہی نہیں اور اس لئے حقیقت کی طرف سے گردن موڑے ہوئے ہیں (اے پیغمبر اسلام ! ﷺ یقین کیجئے) ہم نے تجھ سے پہلے کوئی پیغمبر بھی ایسا نہیں بھیجا ہے جسے اس بات کے سوا کوئی دوسری بات بتلائی گئی ہو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس میری ہی عبادت کرو۔ “ اتنا ہی نہیں بلکہ وہ کہتا ہے کہ علم وبصیرت کے کسی قول اور روایت ہی سے تم ثابت کر دکھاؤ کہ جو کچھ میں مبتلا رہا ہوں یہی تمام گزشتہ دعوتوں کی تعلیم نہیں رہی ہے (آیت) ” ایتونی بکتب من قبل ھذا اواثرۃ من علم ان کنتم صدقین “۔ (الاحقاف 46 : 4) ” اگر تم اپنے انکار میں سچے ہو تو ثبوت میں کوئی کتاب پیش کرو جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہو یا کم از کم علم وبصیرت کی کوی گذشتہ روایت ہی لا دکھاؤ جو تمہارے پاس موجود ہو۔ لیکن کیا کوئی سامنے آیا ؟ نہیں اور یقینا نہیں تو اب بھی وقت نکل تو نہیں گیا کسی کے پاس اس ” دنیا “ میں ابھی کوئی دلیل ہے تو وہ پیش کرے ۔
انبیاء کرام (علیہ السلام) کے سوانح پر نظر کرنے سے بھی اس کی پوری تصدیق ہوتی ہے کہ ایک صاحب شریعت رسول کے بعد دوسرا صاحب شریعت رسول اسی وقت مبعوث ہوا ہے جبکہ پہلا صحیفہ ‘ وحی جو دین و شریعت کا محافظ تھا کھو گیا یا انسانی دست برد سے ایسا بدل گیا کہ اس کی اصلیت مشتبہ ہوگئی ، صحیفہ ابراہیم کے گم ہوجانے کے بعد جس کا نہایت ناقص خلاصہ تورات کے سفر تکوین میں ہے صحیفہ موسیٰ نازل ہوا صحیفہ موسیٰ میں نوپید اختلافات کو دور کرنے کے لئے زبور وغیرہ مختلف صحیفے آتے رہے پھر انجیل آئی اور انجیل میں انسانی تصرفات کی راہ پانے کے بعد قرآن کریم آیا چونکہ قرآن دنیا میں آخر تک کے لئے آیا ہے اس لئے ہر تحریف اور انسانی تصرفات سے اس کی مکمل طور پر حاظت کی گئی اور یہ حفاظت اس کی قیامت تک کی جائے گی اس لئے اس کے بعد کسی اور صحیفے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کسی پیغمبر کی بعثت کی حاجت البتہ اس کے معافی کی صحیح تشریح اور بدعات واحد اثات کے انسداد کے لئے راسخین فی العلم پیدا ہوتے رہے ‘ ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے جب تک اس دنیا کا نظام قائم ہے ۔
وحدت دین کی حقیقت کو وحی اسلامی کے آخری ترجمان نے اس طرح بیان فرمایا ہے جیسا کہ ہم اوپر بھی عرض کرچکے ہیں وہ کہتا ہے ” اس نے دین میں تمہارے لئے وہی راہ مقرر کی جو نوح کے لئے کی تھی اور ہم نے تیرے پاس جو حکم بھیجا اور جو کہہ دیا ہم نے ابراہیم سے موسیٰ اور عیسیٰ سے ‘ یہ کہ دین کو قائم رکھ اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو مشرکین کو جدھر تو بلاتا ہے وہ ان پر گراں گزرتا ہے اللہ رب کریم اپنی طرف جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے اور اپنی طرف اور اپنی طرف سے اس کو راہ دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع ہوتا ہے اور یہ سارے تفرقے لوگوں نے وحی کا علم حقیقی ملنے کے بعد آپس کی ضد اور تعصب سے پیدا کر لئے ہیں اور اگر تیرے رب کو ان اگلوں کے بعد کتاب وراثت میں ملی وہ اس امر حق کی طرف سے ایسے شکل میں ہیں جو انکو چین نہیں لینے دیتا سو تو اے پیغمبر اسلام ! ﷺ سب کو حقیقت کی طرف بلا اور اس پر استواری سے قائم رہ جیسا کہ تجھ کو حکم دیا گیا ہے اور ان تفرقہ اندازوں کی غلط خواہشوں کی پیروی نہ کر اور کہہ کہ میں ایمان لایا ہر اس کتاب پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتاری گئی اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں ‘ ہمارا رب اور تمہارا رب وہی ایک اللہ ہے ہم کو ہمارے کاموں کا بدلہ ملے گا اور تم کو تمہارے کاموں کا ‘ ہم میں اور تم میں کچھ جھگڑا نہیں ۔ اللہ سب کو اکٹھا کرے گا اور اس کی طرف پھرجانا ہے ۔ “ (الشعراء 43 : 13 تا 15) اس مضمون کو جتنا پھیلانا چاہیں پھیلاتا جائے گا لیکن ہمارے پاک کم مائیگی کے سوا ہے ہی کیا کہ اس کی تفصیل کرتے ہی جائیں ہم نے کوشش ہے کہ جہاں اس طرح کی آیات آئی ہیں وہیں ان کی تشریح کردی جائے اور بحمد اللہ جہاں تک کر پائے کیا۔ اس وقت بھی ہمارے پیش نظر صرف یہ بات تھی کہ ایک بار پھر ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ قرآن کریم کوئی اجنبی کتاب نہیں بلکہ اس کا تعارف انسانی ابتداء ہی سے شروع ہوگیا تھا جو انسانی انتہا تک ساتھ ساتھ جاری وساری رہے گا لیکن جن لوگوں کو بھول جانے کا مرض لاحق ہوچکا ہو ان کو بار بار کا تعارف بھی کام نہیں دیتا اور آج ہماری مجموعی حالت ایسی ہی ہے ۔ اللہ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے ۔
Ayah 26:197علمائے بنی اسرائیل کو بھی یہ حقیقت معلوم ہے کیا یہ سند آپ کو کفایت کرتی ہے ؟ :
197۔ قریش مکہ نے نبی اعظم وآخر ﷺ کے دعوی نبوت کے بعد علماء بنی اسرائیل سے رابتہ قائم کیا اور آپ ﷺ کے بارے میں ان سے پوچھا کیونکہ وہ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے ایک خاتم النبیین رسول کے آنے کے منتظر تھے ظاہر ہے کہ وہ اب انکار تو نہیں کرسکتے تھے اور آپ ﷺ کے اوصاف بھی اس بات کی واضح دلیل تھے کہ آپ ﷺ ہی وہ موعود نبی ورسول ہیں اس لئے ان کو مخاطب کرکے یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ امر تو ان کے نزدیک خود ایک دلیل معتبر ہونا چاہئے کہ علماء بنی اسرائیل اپنے مقدس صحیفوں میں قرآن کریم کا ذکر اور اختیار پاتے ہیں اور اس طرح نبی اعظم وآخر ﷺ کی ان کو اچھی طرح شناخت ہوچکی تھی اور وہ اس کا اعتراف بھی کرچکے تھے کیونکہ ان میں سے بعض آدمی جو نیک سیرت وکردار کے لوگ تھے وہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کو مان چکے تھے اور اس کا اعلان کر کے وہ داخل اسلام بھی ہوچکے تھے ، اس کی وضاحت ہم پیچھے کرچکے ہیں اس کے لئے آپ سورة الاعراف کی آیت 157 کی تفسیر دیکھیں انشاء اللہ کافی وضاحت پائیں گے ، تورات ‘ انجیل اور زبور کے محرف ہونے میں کسی کو کلام نہیں لیکن اس کے باوجود یہ پیش گوئیاں آج بھی ان کتب کے صفحات میں موجود ہیں ملاحظہ ہو (استثناء 18 : 18 تا 20) (استثناء 2 باب 24 : 10) (متی باب 5) (زبور باب 45 ‘ 3 تا 17) کے مختلف نمبرات (اعمال 3 : 19 ‘ 24) (یوحنا 1 : 19 تا 25) بلاشبہ سیدنا مسیح (علیہ السلام) کے بعد کسی نبی کے آنے کا انتظار تھا اور وہ ” نبی “ سوائے نبی موعود رسول منتظر خیرالبشر ﷺ کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔
خدا کی مخلوق منتظر تھی دلوں میں تھا اشتیاق پیدا ازل سے آنکھیں ترس رہی تھیں وہ کنز مخفی دکھائی دیتا :
Ayah 26:198اگر ہم اس کو سکی عجمی پر اتارتے تو کیا یہ لوگ ایمان لے آتے ؟ :
198۔ دلیل کیوں دی جاتی ہے ؟ اس لئے کہ اگر کوئی ماننا چاہتا ہے تو مان لے یا اس دلیل کو غلط ثابت کردے لیکن جو نہ تو دلیل کو غلط ثابت کرے اور نہ ہی ماننے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو تو اس کا کوئی علاج ؟ دلیل بلاشبہ دلیل ہوتی ہے لیکن ان کے لئے جو ماننا چاہتے ہوں تو نہ ماننا چاہیں ان کے کوئی دلیل بھی دلیل نہیں ہوتی ۔ ان کے سامنے انکی اپنی قوم کا ایک جانا پہچانا شخص جو انہی کی زبان بولتا ہے اور انہیں میں رہ کر اس نے پرورش پائی ہوتی ہے جب وہ کلام پیش کرتا ہیں جس کے برابر کا کلام وہ خوب بھی صاحب زبان ہونے باوجود نہیں بول سکتا اور قریش مکہ جو اس کے خاندان کے دوسرے لوگ ہیں ان میں بڑے فصیح اللسان اور کاہن وشاعر ہونے کے کوئی ایسی زبان نہیں بول سکتا تو اس سے بڑی دلیل اور کیا ہو سکتی ہے ، ان ساری باتوں کے ہوتے ہوئے جو لوگ ماننے کے لئے تیار نہیں ان کے سامنے اگر کسی عجمی کو یہ قرآں کریم دے کر معبوث کردیا جاتا تو پھر کیا ہوتا ؟
Ayah 26:199وہ ان کے سامنے قرآن کریم کو پڑھتا تو بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاسکتے تھے :
199۔ قرآن کریم کے الفاظ ومضامین اور اس کی روحانی کشش بلاشبہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے یا یوں کہو کہ معجزانہ کلام ہے لیکن اگر اس کو کسی عجمی پر اتار دیا جاتا تو کا معجزہ ہونے کی مزید وضاحت ہوجاتی کہ اس کو ایک ایسا شخص بول اور پڑھ رہا ہے جس کی اپنی زبان بھی عربی نہیں لیکن کیا نہ ماننے والے اس وقت مان لیتے ؟ فرمایا ان ظالموں کو اس درجہ عناد اور ضد ہے کہ یہ اس صورت میں بھی ایمان لانے کے لئے تیار نہ ہوتے بلاشبہ نہ ماننے اور نہ تسلیم کرنے والوں کے لئے کوئی دلیل بھی دلیل نہیں ہوتی کیونکہ ضد وعناد کا علاج کبھی دلیل نہیں ہو سکتا اور لاتوں کے بھوت کبھی باتوں سے نہیں مانتے ، افسوس کہ بات تو ان لوگوں کی نقل کی جاری ہے جو ناخواندہ اور ناسمجھ تھے لیکن آج بدقسمتی سے یہ ان لوگوں پر فٹ ہوتی دکھائی دیتی ہے جو علمائے کرام اور مذہبی وسیاسی پیشوایان قوم کے زمرہ سے اپنی شناخت رکھتے ہیں کیا اس وقت کی جہالت اور ہمارے وقت کا علم دونوں کی میزان برابر ہے ؟
اچھا اگر ہم اس قرآن کریم کو کسی عجمی پر اس کی زبان عجمی ہی میں اتار دیتے اور وہ اپنی زبان میں قرآن کریم پڑھ کر سناتا تو پھر یہ ایمان لے آتے ؟ ہرگز نہیں اس کے متعلق بھی پوری وضاحت خود قرآن کریم ہی نے کردی ہے چناچہ ارشاد الہی ہے کہ :
(آیت) ” ولو جعلنہ قرانا اعجمیا لقالوا لولا فصلت ایتہ اعجمی وعربی) (فصلت 41 : 34) ” اگر ہم اس کو عجمی قرآن بنا کر بھیجتے تو یہ لوگ کہتے کیوں نہ اس کی آیات کھول کر بیان کی گئیں ؟ کیا عجیب بات ہے کہ کلام عجمی ہے اور مخاطب عربی ۔ “ سچی بات ہے کہ پانی بلونے سے کبھی مکھن نہیں آتا صرف وقت ضائع ہوتا ہے اور اس طرح کے بگڑے ہوؤں کا علاج سوائے ڈنڈے کے اور کچھ نہیں ہوتا خواہ وہ انسانوں کی طرف سے برسے جسے سب لوگ دیکھیں اور خواہ رب کریم کی طرف سے برسے جس کی لاٹھی سے کبھی آواز نہیں آتی اور اس کے عذاب کا کوڑا بڑوں بڑوں پر برس جاتا ہے اور ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا ۔
Ayah 26:200نہ ماننا تو مجرمین کے دلوں میں داخل ہوچکا ہے :
200۔ پہلے بھی کتنی بار عرض کیا جا چکا ہے کہ جو چیز کسی کی اصلیت میں داخل ہو وہ اس سے جدا نہیں کی جاسکتی اور اگر وہ جدا ہوجائے تو یقینا وہ اس کی اصلیت میں نہیں تھی بلکہ کوئی وقتی اندھیرا تھا ، ہمارے دیہاتی بھائی جانتے ہیں کہ چاول اور پانی کس قدر لازم وملزوم ہیں چاول کا بویا جانا ہے تو پانی میں ‘ چاول کا پکانا ہے تو پانی میں اور چاول کا کھانے والا کھالے گا تو بس پیاس کا دور دورہ شروع ہوجائے گا گویا وہ اس کی اصل میں داخل ہے جو کبھی اس سے جدا نہیں کیا جاسکتا ۔ مجرمین کے دلوں کی کیفیت بھی بڑی عجیب ہوتی ہے کہ وہ منہ سے ہاں ہاں بھی کہتے ہیں جب بھی اچھی بات کبھی ان کے دلوں تک نہیں پہنچتی جبھی ڈنڈا ہٹے گا تو وہی ” ترنگڑ کھیتیاں اور وہی کالی رات “ پھر وہ ویسے کے ویسے کیوں ؟ اس لئے کہ ان میں قبولیت کی صلاحیت باقی ہی نہیں رہتی کبھی غور کیا ہوگا آپ نے کہ جس کا معدہ فاسد ہوچکا ہو اس کو اچھی سے اچھی غذا بھی دے کے تجربہ کرلیجئے کبھی کامیابی نہیں ہوگی ہاں ! اگر ہو سکے تو یہی اس کے فساد معدہ کو درست کر دو اگر تم سے ممکن ہے یہی حل ان مجرموں کا ہے ۔
Ayah 26:201یہ لوگ دردناک عذاب کو دیکھ لینے سے پہلے کبھی ایمان نہیں لائیں گے :
201۔ اور یہ بات سنت الہی کے مطابق ہے کہ اس طرح کی اکھڑ قوموں نے کبھی تسلیم نہیں کیا مگر ہاں ! اس وقت جب وہ عذاب الہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں تو معلوم ہوا کہ یہ لوگ بھی اس قرآن کریم کی صداقت کو اسی وقت تسلیم کریں گے جب عذاب ان کے سروں پر منڈلانے لگے گا لیکن اگر ایسی بات ہے تو غور کرو کہ پہلے کسی کو اس طرح ایمان لانے نے فائدہ دیا ہے جو ان کو دے گا ؟ ظاہر ہے کہ ایسا ایمان نہ پہلوں کے کام آیا اور نہ ہی انکے کام آئے گا لیکن ایک بات ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں اور اس طرح سے ہم بھی ان کو جواب سنا رہے ہیں تاکہ نقد کا جواب بھی نقد سے ہوجائے اور ادھار کا جواب بھی ادھار ہی رہے۔
Ayah 26:202ہاں ! عذاب بھی ان پر اچانک آجائے گا ان کو خبر بھی نہ ہوگی :
202۔ بلاشبہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان ایک کام کرتا ہے اور اس کے نتیجہ سے وہ بالکل غافل ہوتا ہے لیکن وہی کام جب وہ کرلیتا ہے اور اس کے نتیجہ کو دیکھتا ہے تو اپنا ہی منہ سر پیٹ کر رہ جاتا ہے لیکن اس وقت جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو چکتا ہے اس کی بیسیوں مثالیں انسان اپنی زندگی میں تلاش کرسکتا ہے اور اگر چاہے تو پھر اپنی ہی غلطیوں سے اپنی اصلاح بھی کرسکتا ہے لیکن ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے ، اب غور کرو کہ مکہ والوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کو مکہ سے نکالنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ جس کو ہم مکہ سے نکال رہے ہیں دراصل یہی ہمارے عذاب کی روک کا باعث ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ قوم کے اندر ہی رسول بھی رہے اور قوم کو عذاب ہلاکت میں بھی گرفتار کردیا جائے یعنی سنت اللہ یہی ہے کہ جب کسی قوم کے عذاب ہلاکت کا وقت آتا ہے تو نبی و رسول اس جگہ سے نکال لیا جاتا ہے اور اس کو یہاں بھی ہونا ضروری تھا ، ان لوگوں کا عمل دیکھ کر جس شخصیت کے باعث عذاب الہی سے آج تک بچے چلے آرہے ہیں اپنے مشورہ سے اس کو یہاں سے نکل جانے پر مجبور کردیا اور پھر جب اللہ کا رسول ان سے رخصت ہوگیا تو گویا عذاب الہی ان پر مسلط ہوگیا اور اب لگے ہاتھ جوڑنے اور منتیں سماجتیں کرنے کہ تم تو ہمارے بھائی بند ہو اور ہم قحط سالی میں ایسے پھنسے ہیں کہ یہاں سے صحیح سالم بچ نکلنے کی کوئی صورت ہمیں نظر نہیں آتی اور آپ اس عذاب کے رفع ہونے کی درخواست اپنے رب ذوالجلال والاکرام سے کریں اور اس طرح ہم بھوکوں نہ مر جائیں ، نبی رحمت ﷺ نے انکے لئے دعا بھی فرمائی اور انکی دوا بھی کی کہ ان کو بہت سارا غلہ مفت بطور امداد بھجوا دیا اور اس کے باوجود وہ اپنے کردار سے واپس نہ پھرے اور اس طرح آپ کے رب نے ان کو میدان کارزار میں کھڑا کر کے نہتوں سے ہتھوں والوں کو مروا دیا اور وہ اس طرح قومی عذاب میں مبتلا ہوئے کہ انجام کار ان کو اسلام کی طرف رخ پھیرنا پڑا اور اس طرح بعض نے اس کو دل سے قبول کرلیا لیکن بعض نے دفع الوقتی بھی کی اور اس طرح دونوں کی حالت نے انکی ساری وضاحت کردی۔
Ayah 26:203وقت گزرنے کے بعد بھی کچھ لوگ مہلت کی انتظار میں ہیں :
203۔ ہم ان کو عذاب سے ڈراتے رہے اور یہ لوگ ہمارے ڈرانے کا مذاق اڑاتے رہے اور اسی طرح کرتے کرتے جب انکی اس مہلت کا وقت قریب آگیا تو ہم نے انکو عذاب سے ڈرانا بند کر دیا کہ اب جو کچھ ہو کرنا چاہتے ہیں دل کھول کر کرلیں اور اس طرح کی کوئی حسرت انکے دل میں باقی نہ رہ جائے لیکن انکو پھر یہ خیال نہ آیا کہ آخر وجہ کیا ہے کہ اب ہم کو ملامت نہیں کی جا رہی جب کہ ہم اپنے کرتوتوں سے باز بھی نہیں آتے پھر وہ وقت آیا کہ ہمارے عذاب کی لپیٹ میں وہ آگئے اور جب انہوں نے عذاب الہی کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ لیا اور وہ بس پکڑے ہی جانے والے تھے کہ آرزوئیں کرنے لگے کچھ دیر تک ہمیں مہلت دی جائے تاکہ ہم اپنے روئیے کی اصلاح کرلیں لیکن اب کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت۔ اب یہی ہوا کہ نہ رہا بانس نہ بجی بانسری اور اب انکی باری ختم ہو کر دوسروں کی باری آگئی ۔
Ayah 26:204یہ لوگ تو ہمارے عذاب کیلئے جلدی مچا رہے تھے :
204۔ یہ لپیٹ میں لے لیے جانے والے کون لوگ تھے ؟ فرمایا یہ وہی تو تھے جن کو بڑی جلدی تھی اور آن ہوں نے شورغوغا مچا رکھا تھا اور ہمارے رسو سے عذاب عذاب کے تقاضے جاری تھے کیا اب ان کو پتہ چلا ہے کہ دیکھنا اور سننا دونوں کبھی برابر نہیں ہوتے ، کیا اب بارہ بج چکنے کے بعد ان کو ہوش آیا ہے ہاں ! اب ہماری گرفت کا قلم چل چکا اور ہمارے وعدہ کا وقت آپہنچا اور یہ بات پہلے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ہم نہ وعدہ کا خلاف کرتے ہیں اور نہ ہی ہونے دیتے ہیں اس لئے اب تو انکو اپنے کئے جانے پر صبر ہی کرنا ہے لیکن اگر صبر نہیں کریں گے تو کیا ہوگا یہی کہ چیخیں گے اور چلائیں گے تو یہ بات ہم نے ان کو پہلے ہی واضح کردی تھی کہ ” ہن ہسنی ایں فیر رو ویں گی گھر جا کے جھاٹا کھویں گی ۔ “ اب انکے رونے پیٹنے سے کیا ہوتا ہے ؟ ۔
Ayah 26:205کیا ہم نے ان کو سالہا سال مہلت نہیں دی تھی :
205۔ ایک وہ وقت تھا کہ ہم نے ان کو کہا کہ باز آجاؤ ورنہ انہی کرتوتوں کے باعث دھر لئے جاؤ گے تو انہوں نے ہمارا مذاق اڑایا اور برملا کہا کہ وہ عذاب جس کی دھمکیاں دے رہے ہو اس کو لے کیوں نہیں آتے ؟ جب ہم تمہارے کئے کی مخالفت کر رہے ہیں اور تم کو نبی ورسول ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں تو اب دیر کا ہے کی ہے ؟ ہم نے سنا اور برداشت کرتے ہوئے انکو مزید مہلت دے دی تو انہوں نے بھی نہایت سختی سے تقاضا شروع کردیا اور جب ہماری پکڑ کر وقت آیا اور انکو ہمارے نبی نے واضح کردیا کہ اب بس تمہارا وقت آیا کہ آیا میرے یہاں سے نکلنے کی دیر ہے اور پھر انہوں نے ہمارے رسول کو نکالنے میں اتنی ہی زیادہ جلدی مچائی اور جب وہ وقت آگیا اور عذاب کو انہوں نے آنکھوں کے سامنے پایا تو اب انہوں نے ڈھیل ڈھیل کا نعرہ بلند کردیا ان کی مت کیوں ماری گئی اور کل تو یہ لوگ عذاب عذاب کے نعرے بلند کر رہے تھے اور آج ڈھیل ڈھیل کا شور انہوں نے مچا رکھا ہے ۔
Ayah 26:206اب تو وہ آگیا جس کا انکو وعدہ دیا گیا تھا :
206۔ ان کو رسول ﷺ نے کس چیز سے ڈرایا تھا ؟ عذاب الہی سے جیسا کہ سارے انبیائ کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام (علیہ السلام) نے اپنے اپنے دور میں اپنی اپنی امتوں کو ڈرایا لیکن پر امت نے اپنے رسول کی تکذیب کی اور اس سے مذاقا کہا کہ لے آؤ جس عذاب کی تم ایک مدت سے ہم کو دھمکی دے رہے ہو حالانکہ حقیقت تو یہ تھی کہ جس کو آنا ہے اس کو بہرحال آنا ہی ہے اگر ان کو مہلت دی گئی تھی تو اس کو وہ غنیمت جانتے اور بہتر ہوتا کہ اپنی اصلاح کرلیتے اور انہوں نے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے اب تو بہرحال اس کا وقت آگیا جس کا وہ وعدہ دیئے گئے تھے اس لئے اب کسی بحث وتمحیث کی ضرورت ہی کہاں رہی ۔ اب تو اگر کچھ رہ گیا ہے تو وہ افسوس ہی افسوس ہے جو انکو ہوگا یہ انہیں لیکن ان پر محنت کرنے والے رسول کو ضرور ہوگا ۔
Ayah 26:207مہلت سے یہ فائدہ جو وہ اٹھا رہے ہیں ان کے کسی کام نہ آیا :
207۔ ایک عرصہ دراز تک انکو مہلت دی گئی اور وہ نہایت آرام و آسائش اور ناز ونعم سے زندگی بسر کرتے رہے تو جوں ہی مہلت کا وقت گزرا انکی ساری عیش و عشرت بھی ہوا ہوگئی کیونکہ گزشتہ آنچہ گزشت لیکن وہ دولت و ثروت اور وہ عیش و آرام ان کے کس کام آیا ؟ کیونکہ جب وہ پھنس گئے اور عذاب الہی نے انکو آدبوچا تو انکی ساری عیش و عشرت ہرن ہوگئی اب تو اگر وہ وقت ان کو کبھی یاد بھی آیا تو سوائے قلق و اضطراب کے ان کو کچھ حاصل نہیں ہوگا ، بلکہ مہلت کے زمانہ کا نقشہ اگر ان کی آنکھوں کے سامنے آیا تو یقینا ان کی آنکھیں نم ہو کر رہ جائیں گی اور دل کلیجے کو آئیں گے جو عذاب میں مزید اضافہ کا باعث ہوں گے ۔
Ayah 26:208حالانکہ ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس ڈرانے والے آئے :
208۔ فرمایا ہماری یہ ہدایت کسی خاص ملک وقوم یا عہد کے لئے مخصوص نہیں تھی بلکہ تمام نوع انسانی کے لئے تھی چناچہ ہر زمانے اور ہر ملک میں یکساں طور پر اس کا ظہور ہوا ۔ زیر نظر آیت کا مضمون دوسری جگہ اس طرح بیان ہوا کہ دنیا کا کوئی گوشہ نہیں جہاں نسل انسانی آباد ہوئی ہو اور اللہ تعالیٰ کا کوئی رسول معبوث نہ ہوا ہو چناچہ ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” ’ وان امۃ الا خلافیھا نذیر “۔ (افاطر 35 : 24) ” اور کوئی قوم دنیا کی ایسی نہیں جس میں (کوئی نہ کوئی ) متنبہ کرنے والا نہ گزرا ہو۔ “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا کہ (آیت) ” انما انت منذر ولکل قوم ھاد “۔ (الرعد 13 : 7) ” اے پیغمبر اسلام ! ﷺ بلاشبہ تم اس کے سوا اور کیا ہو کہ متنبہ کرنے والے ہو اور دنیا میں ہر قوم کے لئے ایک ہدایت کرنے والا ہے ۔ “ اور ایک جگہ اس طرح ارشاد فرمایا کہ (آیت) ” ولکل امۃ رسول فاذا جاء رسولھم قضی بینھم بالقسط وھم لا یظلمون “۔ (یونس 10 : 47) ” اور ہر قوم کے لئے ایک رسول ہے پس جب رسول ظاہر ہوتا ہے تو تمام باتوں کا انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے ۔ “۔
قرآن کریم نے بار بار اس مضمون کو بیان کیا اور کہا کہ نسل انسانی کے ابتدائی عہدوں میں کتنے ہی پیغمبر گزرے ہیں جو یکے بعد دیگرے مبعوث ہوئے اور قوموں کو پیغام حق پہنچایا چناچہ ارشاد ہوا کہ (آیت) ” وکم ارسلنا من نبی فی الاولین “۔ (الزخرف 43 : 6) ” اور کتنے ہی نبی ہیں جو ہم نے پہلوں میں مبعوث کئے ۔ کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ یہ عدل الہی کے خلاف ہے کہ ایک گروہ اپنے اعمال بد کے لئے جوابدہ ٹھہرایا جائے جب کہ اس کی ہدایت کے لئے کوئی رسول نہ بھیجا گیا ہو ۔ جیسا کہ ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” ما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “۔ (الاسراء 17 : 15) ” اور ہمارا قانون یہ ہے کہ جب تک ہم ایک پیغمبر مبعوث کرکے راہ ہدایت ددکھا نہدیں اس وقت تک باداش عمل میں عذاب دینے والے نہیں ۔ “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا کہ (آیت) ” وما کان ربک مھلک القری حتی یبعث فی امھا رسولا یتلوا علیھم ایتنا وما کنا مھل کی القری الا واھلھا ظلمون “۔ (القصص 28 : 59) ” اور تمہاے پروردگار کا قانون یہ ہے کہ وہ کبھی انسانوں کی بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان میں ایک پیغمبر مبعوث نہ کر دے اور وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں پڑھ کر سنا نہ دے اور ہم کبھی بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں مگر صرف اسی حالت میں کہ ان کے باشندوں نے ظلم کا شیوہ اختیار کر لیاہو۔ “
اور یہی چیز اس زیر نظر آیت میں بیان کی گئی جس کی یہاں تفسیر بیان کی جا رہی ہے ۔
Ayah 26:209نصیحت کرنے کے لئے ہم کچھ ظلم کرنے والے نہیں ہیں :
209۔ ڈرانے والے کو ہم نے کیوں بھیجا ؟ اس لئے کی شاید وہ اپنی اصلاح کرلیں اگر چاہیں اور یہ کہ اگر وہ اصلاح نہیں بھی کریں گے تو کم از کم ان کو اعتراض تو نہیں رہے گا کہ ہم کو تو کسی نے آگاہ ہی نہیں کیا ورنہ ہم اپنی ضرور اصلاح کرلیتے اس طرح ان کو اطلاع کرنا تو ہماری رحمت کا تقاضا تھا اور ہم نے ان کو آگاہ کیا ‘ ہم نے ان کو نصیحت اس لئے تو نہیں کی تھی کہ ہم ان پر ظلم کرنا چاہتے تھے بلکہ ہم نے تو ڈرانے والے اس لئے بھیجے تھے کہ کل وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمارے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ہے جب کہ ہم کسی پر بھی زیادتی کرنے والے نہیں ۔
Ayah 26:210اس قرآن کریم کو شیطان تولے کر نہیں اترے تھے :
210۔ مخالفین قرآن کے ادہام کی تردید کی جارہی ہے کہ تم مخالفت کے باعث یہ کہتے ہو کہ اس کلام کو اس شخص پر کسی جن یا شیطان کی طرف سے القا کیا جاتا ہے حالانکہ ایسے کلام کی شیطان یا جن کی طرف نسبت کرنا خود اپنی عقل کا جنازہ نکالنے کے مرادف ہے کیونکہ شیطان جو مجسمہ برائی ہے اس سے سراسر خیر ہی خیر کا صدور کیوں اور کیسے ؟ اچھا اگر تم نے اس کی نسبت شیطان یا جن کی طرف کی ہے تو اس کا ثبوت پیش کرنا بھی تو تمہارے ہی ذمہ کی بات ہے ، صرف ایک بات کہہ دینا جس کا کوئی سرپیر نہ ہو بذاتہ جنون کی نشانی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان ہی نے تم کو متاثر کیا ہے جس کے باعث تم خود ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو جن کا ثابت کرنا تمہارے بس کا روگ نہیں ہے ۔
Ayah 26:211اس پاکیزہ چیز کا نزول ان کے لائق کب ہے اور وہ کیونکر کرسکتے ہیں ؟
211۔ اصول یہ ہے کہ پاکیزہ لوگ پاکیزہ باتیں کرتے ہیں اور ناپاک لوگ ناپاک باتیں کرتے ہیں تم نے ایک پاکیزہ چیز کی نسبت ناپاک لوگوں کی طرف کیسے کردی کیا روشنی کو کوئی اندھیرا کہہ دے تو وہ اندھیرا ہوجائے گا کیا اندھیرے اور روشنی کا انحصار کسی کے کچھ کہہ دینے پر ہے ؟ کیا وہ خود اپنی پہچان نہیں رکھتے ‘ شیطان کا کام گمراہ کرنا ہے اور کفر وشرک کی ترغیب دینا ہے اور قرآن کریم صراط مستقیم پر چلنے کی دعوت دیتا ہے ‘ اخلاق فاضلہ کو اپنانے کی تلقین کرتا ہے ۔ اس کی ہر آیت کفر وشرک کے عقیدہ کو جڑوں سے اکھیڑ کر پھینک رہی ہے اس کا مقصد ہی یہ ہے کہ نور توحید سے سارا عالم جگمگا اٹھے ‘ خود فیصلہ کرو کہ شیطان توحید قبول کرنے اور کفر وشرک سے تائب ہونے اور خصال حمیدہ کو اپنانے کی ترغیب دے سکتا ہے انسان ہو تو کوئی بات تو سوچ کر کرو جو سراسر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا کلام ہے اس کی نسبت تم کس سے کر رہے ہو ۔ تف ہے تم پر کہ کبھی تم نے اپنے گریبان میں منہ ڈال کر بھی دیکھا ہے کیا تم جو کہتے ہو اور جو کرتے ہو بغیر سوچے سمجھے ہی کرنے اور کہنے کے عادی ہو۔
Ayah 26:212شیطانوں کو تو سننے کے مقام سے بہت دور کردیا گیا ہے :
212۔ طبعی اور فطری چیزوں کا انکار کب ممکن ہے ؟ ذرا غور کرو کہ اگر کسی آگ سے جلانے کی صفت الگ کرلی جائے تو آخر آگ ہی کیوں ہوگی ؟ اگر ایسا ممکن ہے کہ ایک ناپاک چیز سے پاکیزگی نکلنا شروع ہوجائے یا ایک پاک چیز سے ناپاکی نکلنا شروع ہوجائے تو آکر اس ناپاک کو ناپاک اور ایسی پاک چیز کو پاک سمجھنے یا بیان کرنے کے لئے دلیل کیا ہوگی اور کیوں نہ کہا جائے گا کہ جس چیز کو ہم نے ناپاک سمجھا وہ ناپاک نہیں تھی اور اس طرح جس کو ہم نے پاک سمجھا وہ پاک ہی نہ تھی پھر تم نے کیوں نہ سمجھا کہ شیطان تو ایسی طبعی پاکیزگی سے طبعا دور کردیئے گئے ہیں تو پھر اس کے اتارنے والے شیطان کیونکر ہوئے دراصل یہ ساری خرابی ان علماء کے گروہ اور مذہبی پیشواؤں کی پھیلائی ہوئی ہے جنہوں نے اس غلط بات کو معروف کردیا ہے کہ دین میں عقل کو دخل نہیں حالانکہ دین طبعی انہی لوگوں کے لئے ہے جو عقل وفکر رکھتے ہیں اس غلط نظریہ کا یہ نقصان ہوا کہ آج جو کچھ کوئی دین کے نام سے کہہ دیتا ہے وہ مطمئن ہے کہ اس کو کوئی غلط نہیں کہہ سکتا کیونکہ دین جب عقل وفکر کی چیز ہی نہیں تو کہنے والا چاہے جس کا نام دین رکھ دے فقط اس کے نام کے ساتھ علامہ کا لفظ ہونا ضروری ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہی کچھ ہو رہا ہے کہ جن باتوں کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا ان کو دین کے نام پر معروف کردیا جاتا ہے گویا دین نام ہے ایک مذہبی اجارہ دار کی باتوں کا کہ وہ جو چاہے کہہ دے اور اس کا نام دین رکھ دے اس کا نہ کوئی رد کرسکتا ہے نہ برا کہہ سکتا ہے اللہ میاں کہتا رہے کہ ہم نے شیطان کو قرآن کریم کے سننے کے مقام سے دور کردیا ہے لیکن بات تو تب ہی ہے کہ ہمارے مذہبی پیشوا بھی مانیں ، بات تو یہ ان لوگوں کی بیان کی جا رہی ہے جو اس وقت کے مذہبی پیشوا کہہ رہے تھے لیکن اگر غور کرو گے تو ہماری حالت بھی تم کو یہی نظر آئے گی اگر کوئی فرق نظر آئے گا تو شاید ناموں ہی کا آئے گا اگرچہ نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدل سکتی ۔
Ayah 26:213اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو معبود نہ بناؤ ورنہ عذاب دیئے جانے والوں میں ہوجاؤ گے :
213۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات کی صفات بھی لامحدود ہیں اور بلاشبہ جس وہ ذات وحدہ لاشریک لہ ہے اسی طرح اپنی صفات میں بھی واحد ویکتا ہے اور اس کی ذات وصفات میں اس کا کوئی شریک نہیں کیونکہ وہ سمیع ہے تو ایسا کہ کوئی آلہ سماعت نہیں رکھتا اور اگر بصیر ہے تو ایسا کہ دیکھنے کے آلہ آنکھ کا وہ محتاج نہیں ہے گویا وہ آنکھ نہیں رکھتا ، اس لئے اس کی ذات وصفات میں کسی دوسرے کو اس کا شریک مت ٹھہراؤ اگر تم نے ایسا کیا تو یہ ایسا جرم ہوگا جو کبھی بھی قابل معافی نہیں ہو سکتا اور ظاہر ہے کہ جب قابل معانی نہیں تو اس کے لئے عذاب کا دیا جانا بھی لازمی وضروری ہے ، زیر نظر آیت انہیں آیات میں سے ہے جو رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے کہی گئیں لیکن مقصود دوسروں کو سنانا ہے اور اس طرح یہ آیت اور اس جیسی بہت سی دوسری آیات رسول اللہ ﷺ کی امت کے ایک ایک فرد کو مخاطب کرکے سنائی گئی ہیں تاکہ ہر سننے والا نصیحت حاصل کرسکے ۔
Ayah 26:214اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی ڈرائیں کہ وہ شرک سے باز آئیں :
214۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اپنے اہل خاندان کو بھی ہوشیار کردیں کیونکہ وہ آپ ﷺ کے عزیز و اقارب ہیں اس لئے وہ آپ ﷺ کی خیر خواہی کے زیادہ مستحق ہیں ، یہ حکم ملا تو نبی اعظم وآخر ﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کر پکارا یا معشر القریش اور پھر قریش کے سارے قبائل کے الگ الگ نام بھی آپ ﷺ نے لئے کہ یا بنی فہر ‘ یا بنی عدی ‘ یا بنی ہاشم وغیرہ گویا جتنے قریش کے قبائل تھے ان سب کا نام آپ ﷺ نے لیا یہاں تک کہ سب کے سب جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے ان کو مخاطب کرکے ایک سوال کیا کہ اگر میں تم سے یہ کہوں کہ پہاڑ کے عقب سے ایک لشکر آ رہا ہے تو تم کو یقین آئے گا ؟ سب نے کہا کیوں نہیں ‘ ضرور یقین آئے گا کیونکہ آپ ﷺ کو ہمیشہ ہم نے سچ بولتے دیکھا ہے آپ نے فرمایا تو میں یہ کہتا ہوں کہ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو تم پر عذاب شدید نازل ہوگا ۔ یہ سن کر سب لوگ جن میں آپ ﷺ کا حقیقی چچا ابو لہب بھی شامل تھا ان لوگوں نے آپ ﷺ کی بات کو سنا تو برہم ہو کر واپس چلے گئے ، (صحیح بخاری ج 2 ص 703) نبی اعظم وآخر ﷺ نے اسی طرح قریش مکہ کو اکٹھا کرنے کے لئے کئی بار ان کی دعوت کی اور انکو گھر بلایا ‘ انکو کھانا پیش کیا اور انکے کانوں تک اللہ کا دین پہنچایا تاکہ آپ ﷺ کا فرض منصبی پورا ہو اگرچہ بہت ہی کم تھے جنہوں نے مانا اور تسلیم کیا زیادہ تر لوگ مخالفت میں کھڑے ہوگئے اور آخر تک مخالفت پر ڈٹے رہے ۔ زیر نظر آیت میں ہم کو یہ سبق دیا کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کو دین کی سمجھ عطا فرما دے اس کو چاہئے کہ وہ اپنے عزیزواقارب میں پھیلائے تاکہ ہو لوگ بھی مکمل طور پر اس سے مستفید ہو سکیں لیکن جس طرح اس وقت نبی اعظم وآخر ﷺ کے خاندان نے بہت کم فائدہ اٹھایا یہی طریقہ آج بھی جاری وساری ہے جو رسوائی اپنوں میں ہوتی ہے اور دوسروں میں ممکن ہی نہیں اور جتنی مخالفت اپنے قریبی کرتے ہیں ناواقف اور دور کے لوگ اتنی مخالفت نہیں کرتے اور نہ ہی کرسکتے ہیں ۔
Ayah 26:215ایمان لانے والوں کے لئے اپنے دونوں بازو جھکا دیجئے :
215۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو اپنی رسالت ونبوت پر ایمان لانے والوں کے ساتھ نہایت ہی نرمی سے پیش آنے کی ہدایت دی جا رہی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ آپ ﷺ سے اس سلسلہ میں کوئی کوتاہی ہو رہی تھی جس کے باعث آپ ﷺ کو ہدایت دی گئی ہے ‘ ہرگز ایسا نہیں بلکہ اس کو ایسا سمجھیں جیسے کسی کام کرنے والے کی ہمت کو بندھانے کے لئے اس کو شاباش دی جاتی ہے اور ساتھ ہی یہ تلقین بھی کی جاتی ہے کہ جو کام جس خوبی سے آپ کر رہے ہیں اس کو مزید خوب سے خوب تر کرنے کی کوشش کرو تاکہ تم اس انعام کے مستحق ٹھہرو جو اس کو بحسن و خوبی نبھانے والوں کے لئے مقرر کیا گیا ہے اور جناح بمعنی بازو ہے نہ کہ پر جیسا کہ بعض مترجمین نے ترجمہ کیا ہے ” نیچے کرو اپنے پروں کو “ اپنے بازوؤں کو جھکا دو مطلب یہ ہے کہ جو رحمت و شفقت آپ ﷺ ان کو دے رہے ہیں اس میں مزید اضافہ کرو تاکہ ان کی ہمت مزید بندھے اور یہ لوگ تکبر کے باعث بات کو نہیں مانتے لیکن آپ ﷺ کا تعلق ان سے زیادہ ہے کہ وہ زیادہ قریب ہیں رشتہ داروں کے لحاظ سے تو بہرحال ایسے رشتہ کا لحاظ نہیں کیا جائے گا بلکہ ایمان لانے والوں کے ایمان کی قدر کی جائے گی اور آپ ﷺ کی شفقت و محبت کے بھی یہی لوگ زیادہ حقدار ہیں ۔ مزید وضاحت کے لئے تفسیر عروۃ الوثقی میں سورة الحجر کی آیت 88 کی تفسیر دیکھیں ۔
Ayah 26:216نافرمانوں کو آپ ﷺ بلا جھجھک کہہ دیجئے کہ میں تم سے اور تمہارے عمل سے بیزار ہوں :
216۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ہم نے جو حکم آپ 6 کو اپنے عزیزواقارب کے ڈرانے کا دیا تھا وہ حب فی اللہ کی خاطر دیا تھا اگر وہ آپ ﷺ کے ڈرانے کو خاطر میں نہ لائیں تو آپ ﷺ بھی ان سے صاف صاف لفظوں میں ایمان برائت کردیں کہ جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو میں اس کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوں گویا اگر حب فی اللہ کیلئے کوئی تیار نہیں ہے تو بغض فی اللہ کا بھی ایک اپنا مقام ہے جو اعلان براءت انذار کا آخری مرحلہ ہے اور اس کے بعد ہمیشہ رسول کی تکذیب کرنے والوں کے لئے عذاب اور رسول اور ان کے ماننے والوں کے لئے ہجرت کا مرحلہ آجاتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ مرحلہ بھی تمام انبیاء ورسل پر آیا ہے جس کا ذکر ان کی دعوتوں کے ساتھ کیا گیا ہے اور جس طرح کا اعلان براءت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے کیا تھا جس کا ذکر وضاحت کے ساتھ گزشتہ آیت 77 میں گزر چکا ہے ۔ اس میں یہ سبق بھی دیا جا رہا ہے کہ اگر مان لینے والوں کے ساتھ خوشی کا اظہار ہے تو نافرمانوں کے ساتھ تکلیف اور دکھ کا اظہار بھی کیا جاسکتا ہے بلکہ یہ عین فطرت کے مطابق ہے ۔
Ayah 26:217اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اپنے اللہ پر بھروسہ رکھیں جو غلبہ والا بھی ہے اور رحم کرنے والا بھی :
217۔ یہ وہ تسلی کے الفاظ ہیں جو پیچھے سے اس سورت میں بیان کی گئی ساری دعوتوں کے اختتام پر بولے گئے ہیں اس جگہ نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے بھی کہے گئے ہیں جن کا مقصد دراصل یہ ہے کہ جب کسی سے اعلان بیزاری کیا جاتا ہے تو اس کے جزبز ہونے سے ایک خطرہ کا لاحق ہونا بھی فطرت انسانی کا خاصہ ہے اس لئے تسلی دی جا رہی ہے کہ پروا نہ کرو آپ کا رب غالب آنے والا ہے جو تم دعوت دے رہے یہ دعوت آپ کی ذاتی دعوت تو نہیں ہے بلکہ یہ تو آپ کے رب کریم کی طرف سے دعوت دینے کا آپ کو حکم ملا ہے اس طرح سارے حالات سے بھی وہ خوب واقف ہے جس کی دعوت آپ پہنچا رہے ہیں وہ اگر چاہتا تو ان کو نافرمانی کرتے ہی فورا پکڑ لیتا لیکن وہ رحیم وکریم بھی ہے اس لئے ایک وقت تک ان کو مہلت دی جا رہی ہے اور جب وہ اپنے قانون کے تحت ان کے مہلت کو ختم کرے گا تو ان کو پکڑنے میں اس کو ذرا بھی دیر نہیں لگے گی اور بلاشبہ آخری کامیابی آپ ہی کے لئے مقرر ہے کیونکہ آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی مدد بھی تو اس پر لازم ہے اس لئے وہ یقینا آپ کی مدد کرے گا ۔
Ayah 26:218جب آپ اٹھتے ہیں تو وہ آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے :
218۔ نماز کیا ہے ؟ مخلوق کا اپنے دل و زبان اور ہاتھ پاؤں سے اپنے خالق کے سامنے بندگی اور عبودیت کا اظہار اس رحمن ورحیم کی یاد اور اس کے لئے بےانتہا احسانات کا شکریہ ۔ حسن ازل کی حمد وثنا اور اس کی یکتائی اور برائی کا اقرار یہ اپنے محبوب سے مہجور روح کا خطاب ہے جو اپنے آقا کے حضور میں جسم وجان کی بندگی ہے ، یہ انسان کے اندرونی احساسات کا عرض نیاز ہے یہ ہمارے دل کے ساز کا فطری ترانہ ہے یہ خالق و مخلوق کے درمیان تعلق کی گرہ اور وابستگی کا شیرازہ ہے ‘ یہ بےقرار روح کی تسکین ‘ مضطرب قلب کی تشفی اور مایوس دل کی دوا ہے ‘ یہ فطرت کی آواز ہے ‘ یہ حساس واثر پذیر طبیعت کی اندرونی پکار ہے ‘ یہ زندگی کا حاصل اور ہستی کا خلاصہ ہے ، ابھی نماز پنجگانہ فرض نہ ہوئی تھی لیکن نبی اعظم وآخر ﷺ رات کے سناٹے میں اٹھتے اور پاکیزگی و طہارت کے بعد اس کے حضور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجاتا ہے گویا تیری یہ حرکت میرے ہاں دیکھی جا رہی ہے اور اس طرح پسند آرہی ہے کہ گویا وہ آپ کو دیکھے ہی جا رہا ہے اور تیری یہ ساری سرگوشیاں وہ خود سن رہا ہے اور بلاشبہ یہ ضائع ہوجانے والی نہیں اور تیرا اس طرح اپنے پروردگار سے مدد طلب کرنا اس کی بارگاہ میں بہت پسند کیا گیا ہے ۔
Ayah 26:219سجدوں میں تیرا اس طرح پلٹنا وہ اچھی طرح دیکھ رہا ہے :
219۔ زیر نظر آیت کے مضمون میں ہمارے مفسرین نے اتنی بحثیں اٹھائی ہیں کہ ان سب کو اس جگہ جمع کیا جائے تو کم از کم دو سو صفھات کا ایک مقالہ یہاں تحریر کیا جائے اور پھر ان کا تجزیہ کیا جائے تو وہ اتنا مزید بڑھ جائے لیکن ہم اس ساری بحث کو انہیں پر چھوڑتے ہوئے قارئین سے گزارش کریں گے کہ اگر اس کی وضاحت چاہتے ہیں تو دوسری اردو تفاسیر کی طرف رجوع کریں ۔ ہمارا مؤقف تو یہ ہے کہ یہ سورت مکی ہے اور لاریب نماز ابھی باقاعدہ جماعت کے ساتھ پانچ وقت مقرر نہ کی گئی تھی اگرچہ مکہ میں خود نبی اعظم وآخر ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین انفرادی طور پر نماز ادا کرتے تھے خواہ اس کی کچھ بھی صورت تھی اور خصوصا رات کے وقت جب ہر طرف سے آدمی سناٹے میں ہوتا ہے اور رات کی شائیں شائیں میں جب وہ اپنے اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے کوئی گزارش کرتا ہے بہت ہی بھلا معلوم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی اس کی یہ حالت بہت پذیرائی کی نظر سے دیکھی جاتی ہے ، آپ خود شب خیزی کے لئے اٹھتے تھے اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی لیکن اس وقت تکنہ کوئی مسجد تھی اور نہ ہی کہیں باقاعدہ نمازیں ادا کرنے کے لئے کوئی جگہ مختص تھی ۔ یہ نماز کی انفرادی صورت تھی اور گزشتہ آیت میں جس طرح آپ ﷺ کی نماز کا ذکر کیا گیا جو نہایت ہی عاجزی اور تذلل کی آخری حالت ہے اور پھر جب یہ حالت بار بار اور بےاختیار حالت میں ہو کیا ہی اس کی خوبی ہوگی اور آپ ﷺ کی اس خوبی کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے اور آپ ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا جارہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ تیرا اس طرح نماز کے اندر قیام ‘ رکوع و سجود وقعود کی طرف بار بار منتقل ہونا اور سجدے کے بعد سجدے میں گرنا ہم دیکھ رہے ہیں اور تیری ان والہانہ حرکتوں کو ہمارے ہاں نہایت قدر کی نظر سے دیکھا گیا ہے اور تیری یہ حرکات و سکنات یقینا رنگ لائیں گی ۔ گویا اس آیت میں آپ ﷺ کی انفرادی نماز تہجد جس کو قیام اللیل بھی کہا گیا ہے کا ذکر ہے کہ وہ کہاں کہاں اور کس کس حالت میں آپ کیسے کیسے ادا کر رہے ہیں ، یہ خواہ مخواہ کی تکلیف مالا یطاق ہے اور پھر خصوصا راتوں کو اٹھ اٹھ کر اس طرح دوسروں کے گھروں میں جانا اور ان کو دیکھنا خواہ کتنی ہی دلجمعی سے ہو اور پیار و محبت کی بنا پر ہو لیکن قرآن کریم کی ہدایت کے مطابق یہ کسی حال بھی صحیح اور درست معلوم نہیں ہوتا نہ معلوم ہمارے مفسرین نے یہ بحثیں کیوں شروع کردیں ۔ (تقلب) قلب سے ہے جس کے معنی ایک چیز کا ایک طرف سے دوسری طرف پھرنا ہے اور تقلب کے معنی تصرف کے ہیں (غ) اس جگہ نماز کے اندر ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف منتقل ہونا مراد ہے اور ہر ایک حرکت دوسری حرکت سے ایک والہانہ صورت رکھتی ہے اور سجدہ ان ساری صورتوں میں نہایت ہی عبودیت کی نشانی ہے اور ارکان نماز میں سے اس رکن کو ایک حد تک فوقیت حاصل ہے جو اس کی کیفیت ہی سے واضح ہوجاتی ہے اس لئے رکن کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے ، اوپر تین آیتوں کے مضمون کو ہمارے مترجمین نے اس طرح ترجمہ میں جمع کیا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ بھروسہ رکھئے اس (اللہ) پر جو بڑے غلبہ والا اور بہت رحم کرنے والا ہے ، جو آپ کو دیکھتا ہے جب آپ ﷺ اٹھتے ہیں اور نمازیوں کے درمیان جب آپ ﷺ پھرتے ہیں ۔ “ لیکن ہم اس کو اس طرح سمجھتے ہیں کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ بھروسہ رکھئے اس اللہ پر جو بہت ہی مہربان ہی پیار کرنے والا ہے وہ (اللہ) آپ ﷺ کو دیکھتا ہے جب آپ ﷺ اٹھتے ہیں اور نماز کے اندر (جس طرح آپ ﷺ سجدہ پر سجدہ کرتے ہیں “ یا ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف پھرتے ہیں اور بلاشبہ یہ پھرنا آپ کا والہانہ طور پر ہے ۔
Ayah 26:220بلاشبہ تیرا رب سب کچھ سنتا اور جانتا ہے :
220۔ اوپر دیکھنے کا ذکر کیا تھا کہ اللہ رب العزت تیرا نماز کے اندر اس طرح والہانہ طرز سے اٹھنا اور گرنا اور گرنا اور اٹھنا خوب دیکھ رہا ہے اور اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ وہ سننے والا اور جاننے والا بھی ہے یعنی آپ کی اس کیفیت کو بھی دیکھتا ہے اور آپ ﷺ کی تسبیح وتہلیل کو بھی سنتا ہے اور اس کا نتیجہ بھی وہ جانتا ہے کہ کیا نکلنا چاہئے کیونکہ سارے نتائج کا اعلان کرنے والا وہ خود ہے آپ ﷺ کی نماز کی حرکتیں اذکار پر فوقیت رکھتی ہیں اور آپ ﷺ کی نماز کے اذکار آپ ﷺ کی نماز کی حرکتوں پر ‘ گویا دونوں باتیں ہی ایک دوسرے سے سوائی ہیں اور آپ ﷺ کو انعام بھی اسی طرح سوایا ہی دیا جائے گا ۔
Ayah 26:221کیا میں تم کو بتادوں کہ شیاطین کن پر اترتے ہیں ؟ :
221۔ قرآن کریم کے متعلق اس سورت میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ ” اس کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اس کو روح القدس نے اتارا ہے ۔ (194 : 193) مخالفین نے اس کو تسلیم نہیں کیا تھا اور کہا تھا کہ ” یہ تو شیطانوں کی طرف القا کیا گیا اور یہ بھی کہا تھا کہ یہ تو عجمیوں کی شرارت کا نتیجہ ہے “ پھر آپ ﷺ کو ” ساحر “ اور ” سحرزدہ “ اور ” مجنون “ وغیرہ بھی کہا گیا اور شاعر بھی آپ ﷺ کو بتایا گیا اور اس طرح کاہن بھی ۔ اب ان ساری باتوں کا جواب ایک ہی جگہ اکٹھا دے دیا گیا ہے کہ ” اس قرآن کریم کو شیطان لے کر نہیں اترے اور نہ ہی یہ کام ان کے لائق ہے اور نہ ہی وہ ایسا کام کرسکتے ہیں “ اب زیر نظر آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ آؤ میں تم کو بتاؤں کہ شیاطین کن لوگوں پر اترتے ہیں ؟ ان الفاظ ہی سے ان لوگوں کو مزید تردید نکل آئی جو نبی اعظم وآخر ﷺ کے متعلق یہ پروپیگنڈا کرتے تھے کہ آپ ﷺ ایک کاہن ہیں اور جس طرح کاہنوں کے پاس شیاطین غیب کی باتیں پہنچاتے ہیں اس طرح محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر شیاطین یہ کلام القاء کرتے ہیں ۔ قرآن کریم ان کو مخاطب کرکے کہہ رہا ہے کہ آؤ میں تم کو بتاؤں کہ شیاطین کن لوگوں پر اترا کرتے ہیں ۔
Ayah 26:222وہ ہر جھوٹے گناہ گار پر اترتے ہیں :
222۔ شیاطین ہر اس شخص پر اترتے ہیں جس کی زندگی گناہوں میں لت پت ہوتی ہے اور وہ جھوٹی باتیں بکتا رہتا ہے ۔ زیر نظر آیت میں شیاطین کے اترنے کا جو مقام بتایا گیا ہے وہ مقام کس کا ہے ؟ خود غور کرلو کیونکہ ہمارا رسول تو وہی ہے جس کے متعلق باوجود مخالفت کے تمہارا اپنا اقرار ہے کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا اور بلاشبہ یہ بات سچ ہے اور اس کے لائق ہی نہیں کہ وہ کبھی جھوٹ بولے اور ہمارے رسول کی پوری زندگی تمہاری آنکھوں کے سامنے گزری ہے تم اس کے بچپن کی ‘ جوانی کی مکمل عمر سے واقف ہو کیا کبھی آج تک اس نے کوئی گناہ کیا ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں اور کوئی رسول بھی کبھی گناہگار نہیں ہوتا بلکہ وہ تو معصوم ہوتا ہے اور بلاشبہ تمہاری نگاہوں کے وہ سامنے ہے اس لئے تم خود اس کی عصمت کے گواہ ہو گویا یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ہمارا رسول نہ تو جھوٹا ہے اور نہ ہی گناہگار پھر اس کے پاس شیطانوں کا کیا کام جو مجسمہ گناہ اور مجسمہ جھوٹ ہوتے ہیں ، کیا وہ شخص جس کے قریب سے بھی آج تک جھوٹ نہیں گزرا وہ دروغ گو ہوگیا ؟ اور اس طرح جس کے قریب سے بھی آج تک گناہ کا گزر نہیں ہوا اور اثیم ہوگیا ؟ تف ہے تم پر کہ تم نے الزام دیتے وقت ذرا بھی خیال نہ کیا کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو وہ کتنا کھلا اور واضح جھوٹ ہے جو تمہارے اپنے دعوی کے بھی خلاف ہے جو آج تک تم محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں رکھتے تھے ، تمہاری اس بات سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تم خود دروغ گو ہو کہ دروغ گو را حافظہ بنا شد والی بات کہہ رہے ہیں۔