26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 26:223

یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ Open ayah 26:223 in the Quran reader

جو سنی سنائی باتیں ڈالتے ہیں اور ان میں سے بھی اکثر جھوٹے ہی ہوتے ہیں

ہر سنی سنائی بات آگے کہہ دینے والے بلاشبہ جھوٹے ہی ہوتے ہیں : 223۔ قرآن کریم مشرکوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ ایک بات بک دینے سے پہلے کچھ تو سوچ لیا کرو کیونکہ یہ بات تو زبان زد خاص وعام ہے کہ پہلے بات کو تولو پھر منہ سے بولو تاکہ جو کچھ کہہ رہے ہو کیا لگتی ہوئی بات ہے یا نہیں ؟ کیا باپ اور بیٹے اور استاد اور شاگرد میں کچھ بھی قدریں مشترک نہیں ہوتیں ؟ کیا ان میں کوئی بھی مناسبت نہیں ہوتی ؟ شیطان سے تعلق رکھنے والے کون لوگ ہوتے ہیں ؟ شیطان کے چیلے شیطان سے فیض یاب ہونے والے کس سیرت واخلاق کے لوگ ہوں گے ؟ کیا سچ بھی جھوٹ سے پیدا ہوتا ہے ؟ کچھ تو غور کیا ہوتا کہ شیطان کے تربیت یافتہ تو وہی لوگ ہوتے ہیں اور ہو سکتے ہیں جو خود جھوٹے ‘ شوشے ‘ شہدے ‘ بدکردار ‘ بداخلاق اور گناہوں کی گندگی میں آلودہ ہوتے ہیں جو ادھر کی ادھر اور ادھر کی ادھر چلاتے پھرتے ہیں اور جن کا کام جھوٹ سن کر اس میں جھوٹ کا مزید اضافہ کر کے آگے پہنچانا ہوتا ہے ایسے لوگوں کی نسبت پاکیزہ خو ‘ فرشتہ صفت اور صاف اور ستھرے کردار کے مالک اصحاب نبی و جو متقیوں اور پاکبازوں کے سردار ہوں بھلا انکی نسبت شیطانوں کے سایہ سے بھی کوئی ہو سکتی ہے ؟ ایسے جو سراسر جھوٹ کے پلندے ہوں ۔ گویا سب کے سب ہی جھوٹے ہوں اور کثرت سے جھوٹ بولنے والے ہوں ۔ بات کتنی واضح اور کیسی صاف ہوگئی کہ جن لوگوں نے قرآن کریم کی شیطانوں سے نسبت دی ہے وہ خود اس دعوی میں جھوٹے ہیں اور ایسے جھوٹے ہیں کہ جن کا جھوٹ کسی طرح چھپانے سے بھی نہیں چھپ سکتا مومنین کی صفات پیچھے سورة الفرقان کی آیات 63 تا 77 میں بیان کی گئی ہیں ، وہاں سے ملاحظہ فرمالیں۔
Ayah 26:224

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ Open ayah 26:224 in the Quran reader

اور شعراء کی پیروی گمراہ لوگ ہی کرتے ہیں

شعراء کی پیروی گمراہ لوگ ہی کرتے ہیں : 224۔ نبی اعظم وآخر ﷺ پر کفار مکہ کی طرف سے پانچ الزامات دیئے گئے تھے ، کچھ لوگوں نے آپ کو ” کاہن “ کہا کچھ لوگوں نے آپ ﷺ کو ” شاعر “ کہا اور کچھ لوگوں نے آپ ﷺ کو ” مجنون “ کہا اور بعض نے ” ساحر “ اور بعض ” سحرزدہ “ قرار دیا علاوہ ازیں بھی بہت کچھ کہا گیا لیکن ان پانچ باتوں کی قرآن کریم نے تردید کی گزشتہ آیات میں آپ ﷺ کے کاہن ہونے کا مکمل رد کردیا گیا تھا اور زیر نظر آیت میں ” شاعر “ ہونے کی نفی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ شاعر لوگوں کی پیروی تو ہمیشہ گمراہ لوگ ہی کیا کرتے ہیں گویا یہ بتایا گیا ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ کے پیروکاروں کو دیکھ کر ہی تم یہ فیصلہ کرسکتے تھے کہ آیا محمد رسول اللہ ﷺ شاعر ہیں یا نہیں ؟ یا ہم ان کو شاعر کہہ سکتے ہیں یا نہیں ؟ کیونکہ اگر آپ ﷺ کے پیرو نیک سیرت ‘ نیک کردار اور بہترین قسم کے لوگ ہیں تو یہ اس بات کا خود ثبوت ہے کہ جس شخص کو یہ مانتے ہیں وہ بدرچہ اتم ان سے افضل واعلی ہے جو کرتا ہے وہ کہتا ہے اور جو کہتا ہے وہ کرتا ہے تو پھر وہ شاعر کیونکر ہوا اگر اس کی نسبت اسی کلام کے باعث تم نے قرار دی ہے تو اس پر اتارا گیا کلام کیا شعر ہے ؟ کیوں اور کیسے ؟ شعر کیا ہے ؟ شعر کہنا شعر یشعر کا مصدر ہے جس کے معنی شعر کہنے کے ہیں اور ادب کی اصطلاح میں ” شعر “ نام ہے اس کلام کا جو موزوں ہو اور متکلم نے بہ ادارہ موزوں کیا ہو چناچہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں شعر کے معنی معروف ہیں اور بال کو کہتے ہیں اس کی جمع اشعار ہے ، بھیڑوں ‘ اونٹوں کی اون اور بکریوں کے بالوں کو بھی کہا جاتا ہے اس طرح بال بال کا پتہ لگانا یعنی بات کی تہ تک پہنچ جانے والے کو شاعر کہتے ہیں یعنی معروف شاعر کو بھی ” شاعر “ اسی لئے کہتے ہیں کہ اس کی فطانت اور وقتی معرفت میں وہ کامل مانا جاتا ہے اس لئے ” شعر “ اصل میں علم دقیق کا نام ہے ۔ عربوں کا محاورہ ہے کہ لیت شعری کاش مجھ کو اس کا گہرا پتہ ہوتا ۔ عرف عام میں جو کلام موزوں اور مقفی ہو اس کا نام شعر ہے اور جو صفت شعر گوئی سے مخصوص ہو اس کا نام شاعر ہوگیا ہے ۔ ایک اختراعی اور گھڑی ہوئی بات خواہ وہ کتنی ہی معقول اور کتنی ہی بہتر کیوں نہ ہو وحی والہام نہیں ہوسکتی جو انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام کے ساتھ خاص ہے ۔ اس لئے قرآن کریم نے اس کی سختی سے تردید کی ۔ قرآن کریم میں کفار کی زبانی مذکور ہے کہ (آیت) ” بل افتراہ بل ھو شاعر “۔ (الانبیائ 21 : 5) ” بلکہ اس نے جھوٹ باندھ لیا ہے بلکہ وہ شعر کہتا ہے “ بہت سے مفسرین نے اسے اس پر محمول کیا ہے کہ کفار نینبی اعظم وآخر ﷺ پر یہ الزام لگایا تھا کہ آپ ﷺ نعوذ باللہ منظوم ومقفی شعر پیش کرتے ہیں حالانکہ یہ بات کسی حال میں بھی صحیح نہیں ہے ۔ محققین اور حقیقت شناس لوگوں نے کہا ہے کہ اس الزام سے کافروں کا یہ مقصد تھا ہی نہیں کیونکہ کلام اللہ سے ظاہر ہے کہ وہ اسالیب شعر پر نہیں ہے اور یہ بات ایسی ہے کہ عجم کے غیر فصیح لوگوں پر بھی مخفی نہیں ۔ فضلاء عرب کا تو ذکر ہی کیا دراصل انہوں نے آپ ﷺ کو شاعر کہہ کر کذب سے منسوب کیا تھا کیونکہ شعر کی تعبیر کذب ہی سے کی جاتی ہے اور شاعر بمعنی کاذب معروف ہے جیسے صنم بمعنی معشوق معروف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی عام شعراء کا یہ وصف بیان کیا ہے جیسا کہ زیر نظر آیت میں بیان ہے ۔ خیال رہے کہ نہ تو ہر شعر برا اور نہ ہی ہر شاعر ۔ اسی طرح نہ تو ہر حال میں شعر برا ہے اور نہ ہی ہر حال میں شاعر برا ہے اور نہ ہی زیر نظر آیت میں ہر شعر یا شاعر کو برا کہا گیا ہے اور نہ ہی نبی اعظم وآخر ﷺ کے شاعر ہونے کی نفی اس لئے کی گئی ہے کہ شعر یا شاعر چونکہ برے ہوتے ہیں اس لئے آپ ﷺ کی نسبت ایسا کہنا گناہ ہے ۔ مقصد صرف یہ ہے کہ شاعر کے مفہوم میں اس وقت بھی اور آج بھی بلکہ ہر زبان میں یہ تخیل موجود ہے کہ شاعر ماحول کے مطابق جس میں بھی چاشنی بھرنی چاہے گا وہ لفظوں کو اس انداز میں جوڑ دے گا کہ اس میں وہ صفت پیدا ہوجائے گی ، موت وحیات ‘ غمی و خوشی اور اسی طرح کی دوسری چیزوں کی الفاظ میں تصویر کشی کر کے عین موقع پر اس میں ایک اثر پھر دے گا کہ سامعین متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے اور جو کچھ وہ کہے گا اکثر وبیشتر اس میں مبالغہ آرائی ضرور ہوگی ۔ شاعر کتنا ہی صحیح العقیدہ اور عقل وفکر میں منجھا ہوا ہوگا اس کے کلام میں افراط وتفریط کا ورنہ وہ شعر بھی شعر نہیں کہلائے گا اور چونکہ یہی وہ وصف ہے جس پر شعر وشاعر کی زندگی کا انحصار ہے اور وحی الہی میں افراط وتفریط کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پھر وحی والہام کوئی کسبی چیز نہیں جب کہ شعر فی الواقعہ کسب اور محنت سے کمائی ہوئی چیز ہے اس لئے اگر وحی والہام کو ایسا ہی قرار دیا جائے تو اسلام کی ساری بنیاد ہی ختم ہو کر رہ جاتی ہے اس لئے نہ صرف یہ کہ نبی کبھی شاعر نہیں ہوتا بلکہ نبی ورسول کبھی بھی اپنی خواہش سے ایک لفظ تک نہیں بولتا بلکہ اس کی پوری زندگی ہی ہوا حرص سے خالی ہوتی ہے پھر اتنے تضاد کو ایک کیسے مان لیا جائے حق حق ہے اور باطل باطل ہے اس طرح نبی ورسول نبی ورسول ہے اور شاعر شاعر ہی ہوتا ہے خواہ وہ کتنا ہی نیک اور پاکباز کیوں نہ ہو ۔ کیونکہ اس کے وصف میں ہے کہ وہ اپنے بلند وبالا تخیل سے ایک نقشہ کھینچے اور نبی ورسول کے لئے لازم وضروری ہے کہ وہ ایک ذرا سی بات بھی اپنی طرف سے اپنی خواہش سے نہ کہے بلکہ وہ جو کچھ من حیث الرسالت کہے وہ خالصتا پیغام خداوندی ہو جو اس کے دل میں الفاظ کی صورت میں بذریعہ ملک وحی نازل کیا جائے اور وہ کلام فی نفسہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا جو خالق کا کلام ہونے کے ناطہ سے کلام غیر مخلوق مانا اور تسلیم کیا جائے بلکہ وہ کلام خود اپنی یہ حیثیت منوا لے ‘ وہ کیسے منوا لے گا ؟ جس طرح قرآن کریم نے تحدی وچیلنج کے ساتھ منوا لیا کہ میں کلام الہی ہوں کہ جن لوگوں نے اس کو گھڑا ہوا کلام مراد لیا ان کو اس نے بلایا اور ببانک دھل اعلان کردیا کہ اگر میں نے اس کو گھڑا ہے تو تم بھی سارے مل جاؤ اور اس جیسے کلام کی صرف ایک ہی سورت گھڑ کرلے آؤ تو سب کو سانپ سونگھ جائے اور اہل زبان فصحاء وبلغاء میں سے ایک بھی نہ اٹھے جو اس چیلنج کو قبول کرے ۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا شاعر کا کام ہے کہ وہ موقع ومحل کے پیش نظر اپنے کلام میں زیر وبم پیدا کر کے اس کو مسجع ومقفی کرکے اس میں ضرورت کے مطابق ترمیم کرکے پیش کرے اور اس طرح کی ذو معنی بات بنائے کہ ہر ایک اپنے مزاج کے مطابق اس کا مطلب اخذ کرسکے اور یہی وہ غوایت ہے جس کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے کہ جب وہ ذو معنی بات ہوگی تو اس کے مطلب بھی مختلف نکالے جاسکیں گے اور مطلب نکالنے والا اپنی مرضی کے مطابق اس کا ڈھال سکے گا اس لئے جیسا آدمی ہوگا ویسا ہی اس کا مطلب بیان کرے گا بت کی پرستش کرنے والے اور ایک اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرنے والے دونوں ہی اس سے اپنی ضرورت کا مطلب لے لیں گے اور وہ دونوں کو کام دے گا ۔ اس لئے قرآن کریم نے بالکل صحیح اعلان فرمایا نہ نبی اللہ کبھی شاعر نہیں ہوتا ۔
Ayah 26:225

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ Open ayah 26:225 in the Quran reader

کیا آپ ﷺ نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر میدان میں سر مارتے پھرتے ہیں

شاعر لوگ تو ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں : 225۔ (یھیمون) کا اصل مادہ ہ ی م ہے اور ہائم وہ ہے جو سخت پیاسا ہو اور جمع اس کی ھیم ہے قرآن کریم میں ہے (فشاربون شرب الھیم) (الواقعہ 56 : 55) ” اور وہ اس طرح پئیں گے جیسے پیاسے اونٹ پیتے ہیں “ ھیام ایک بیماری ہے جو اونٹ کو لگ جاتی ہے کہ اس کی پیاس نہیں اترتی اور اس کی مثال اس کے ساتھ دی جاتی ہے جو سخت عشق میں مبتلا ہوجائے اس لئے اس جگہ (آیت) ” فی کل وادیھیمون) کے معنی ہوں گے کہ شاعر لوگ ہر نوع کے کلام میں پھرتے رہتے ہیں کبھی مدح میں غلو کرتے ہیں اور کبھی مذمت میں اپنے تخیل کی پرواز میں ‘ کبھی اللہ سے شکوہ کرتے ہیں اور کبھی اس شکوہ کا جواب شروع کردیتے ہیں ۔ خود ہی خاطب ہوتے ہیں اور خود ہی خطیب بھی ‘ خود ہی فعل ہوجاتے ہیں اور خود فاعل اور مفعول بھی بلاشبہ یہ کام نثر نگار بھی کرتے ہیں اور شاعر بھی اور بلاشبہ نبی نہ تو شاعر ہوتا ہے اور نہ نثر نگار چونکہ الزام شاعر کا تھا جس کا جواب دیا جا رہا ہے ۔ پھر یہ بھی کہ شاعر ہو اور غلو نہ ہو یہ ممکن ہی نہیں کبھی مدح میں غلو اور کبھی مذمت میں اور جس طرح ہر انسان خیال ہی خیال میں بےپر کی اڑاتا رہتا ہے یہی حال شاعر کا ہوتا ہے کہ اگر اس نے چند شعر اللہ تعالیٰ کی توحید الہی کے مضمون کے لکھے تو بلاشبہ کو زے میں دریا بند کردیا اور پھر کس وقت رسول کی مدح ونعت بیان کی تو توحید الہی کے سارے مضمون کا بگاڑ کر رکھ دیا اور رسول کو اس طرح مخاطب کیا جس طرح وہ اللہ کو بھی مخاطب نہیں کر پایا تھا اور پھر کسی وقت بادشاہ کی تعریف لکھنے کے لئے بیٹھا تو اس کو رسول کی مدح ونعت سے بھی بہت اونچا لے گیا خوشی کی لے اور ترنگ میں آیا تو قوم کو ہنسا کر رکھ دیا اور اگر غصہ اور جوش میں آیا تو خدا کی خدائی کا بھی لحاظ نہ کیا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ جب اس نے اپنی مرضی و خواہش ہی سے بولنا ہے تو ظاہر ہے کہ ایک انسان کی خواہش تو ہر وقت ایک جیسی نہیں ہوتی تو اس کا بولنا ایک جیسا کیسے ہوگا ۔ لیکن اس کے برعکس قرآن کریم کی ہم آہنگی وہم رنگی کا عالم یہ ہے کہ اس کا مخصوص ومعین ہدف ہے اور شروع سے لے کر آخر تک اس کا ہر بیان اس ہدف پر پہنچتا ہے اس کے اندر تضاد وتناقض کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر کوئی کہیں ایسی بات کسی کے بیان سے آئے گی تو یہ بیان کرنے والے کی سمجھ کا قصور ہوگا قرآن کریم اس سے بری الذمہ قرار پائے گا ، کلام الہی اور کلام انسان میں جو فرق ہوتا ہے وہ خود بخود اس کی وضاحت کردیتا ہے کہ یہ کلام اللہ ہے ‘ کسی انسان کا کلام نہیں حتی کہ خود نبی اعظم وآخر ﷺ پر نازل ہونے والی وحی اور آپ ﷺ کی زبان عام دونوں کا فرق بالکل واضح ہے ، احادیث کے وہ وظائف جو راویوں نے محنت کرکے بالکل وہی اخذ کرنے اور بیان کرنے کی کوشش وتلقین کی ان کی زبان اور قرآن کریم کی زبان میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے جو آج بھی اظہر من الشمس ہے اور خصوصا صاحب علم حضرات سے بات پوشیدہ نہیں ۔ اس لئے واضح ہوگیا کہ ایسا کلام پیش کرنے والے کو شاعر اور اس کے کلام کو شعر کیسے کہا جاسکتا ہے ؟ ان دو باتوں کو وضاحت کے بعد ایک ایسا فرق بیان کیا گیا ہے جو خود شعر کہنے والے شاعر اور کلام اللہ بیان کرنے والے رسول میں پایا جاتا ہے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے ۔
Ayah 26:226

وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 26:226 in the Quran reader

اور وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو وہ کرتے نہیں

شاعر لوگ وہ کچھ کہہ جاتے ہیں جو کرتے نہیں : 226۔ قرآن کریم نے کتنی پتے کی بات بتائی ہے جو اس وقت بھی اور آج بھی بلاشبہ اور لاریب صحیح اور سچ ہے اسی موقع پر بولتے ہیں کہ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے یہ تیسری کسوٹی ہے جو قرآن کریم نے بیان کی ہے بلاشبہ شاعر لوگ اپنے شعروں میں وہ کچھ کہہ دیتے ہیں جو وہ خود نہیں کرتے اور وہ کچھ کہہ دیتے ہیں جو کبھی بھی کر نہیں سکتے اس کی مثالیں کثرت سے آج بھی موجود ہیں وہ اکثر اوقات مکارم اخلاق کی تعریف میں آسمان و زمین کے قلابے ملا دیں گے لیکن ان پر عمل کی توفیق ان کو کبھی نہیں ہوگی ۔ شعروں سے مجھے نہ لگاؤ ہے اور نہ پڑھنے کی عادت یہی وجہ ہے کہ جو اشعار میں نے کہیں تحریر بھی کئے ان کو اکثر صحیح تحریر بھی نہ کرسکا اس جگہ بھی بطور مثال کچھ عرض کرنے کو جی چاہتا ہے لیکن شعروں کو آپ خود درست کرلیں اگر مجھ سے کوئی لغزش ہوگئی ہو۔ علامہ اقبال (رح) رقم طراز ہیں کہ : علامہ (رح) نے کس وضاحت سے بیان کردیا کہ نبوت و شاعری میں زمین و آسمان کا فرق ہے بلکہ دونوں آپس میں متضاد ہیں اس لئے جو نبی ہے وہ شاعر نہیں اور جو شاعر ہے وہ کبھی نبی نہیں ہو سکتا کیونکہ نبوت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اندر باہر سے ایک ہو اور شاعر کم ہی اندر اور باہر سے ایک ہوتا ہے مثلا علامہ (رح) ایک جگہ موجودہ جمہوریت کے متعلق رقم طراز ہیں کہ : اس راز کو ایک مرد فرنگی نے کیا فاش ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے : جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے : کیا آپ بتائیں گے کہ اس میں علامہ مرحوم ومغفور (رح) نے جمہوریت کی مدح کی ہے یا ذم ؟ اگر مدح کی ہے تو کیسے ؟ اور اگر ذم بیان کی گئی ہے تو مذمت شدہ چیز کو کیوں اختیار کرلیا ؟ کیا کسی ایک نبی ورسول کا آپ نام لے سکتے ہیں جس نے مذمت کی جانے والی چیز کو اختیار کیا ہو اور مدح کرکے اس کو چھوڑ دیا ہو ؟ ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ نہیں اور ہرگز نہیں ۔ مولانا حالی ایک بہترین شاعر ہیں لیکن ایک جگہ قوم کو مخاطب کرکے ارشاد فرماتے ہیں کہ ع چلو تم ادھر کو جدھر کی ہوا ہو۔ مولانا نے یہ فرما کر قوم کو کیا سبق دیا ؟ ہر صاحب عقل وفکر کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک شاعر ہی کا کلام ہو سکتا ہے لیکن کوئی نبی ورسول قوم کو اس طرح کی تلقین نہیں کرسکتا ۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کے احسانات کا ذکر کرتے ایک شاعر رقم طراز ہیں اور جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ سو فی صدی سچ کہا ہے لیکن جہاں وہ کھڑے ہو کر کہہ رہے ہیں وہ مقام ہی پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ ایک شاعر کا کلام ہے جس سے اس کی اپنی زندگی کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ وہ سراسر اس کے خلاف ہے جو اس نے لکھا ہے بہرحال دوسروں لوگوں کو خوش کرنے کے لئے لکھا ہے بہرحال وہ لکھتا ہے کہ : چھڑا کے بت کی پرستش سکھائی تھی وحدت میرے خیال کی ترویج عام ہوجائے : سیاسیات سے مذہب ملا یا تو نے کہ دین وہ دنیا کا سب انتظام ہوجائے : رفاہ عام ہی تیرا تھا جبکہ نصب العین لقب نہ کیوں تیرا خیرالانام ہوجائے : وفا جہاں میں وہ عالی مقام ہوتا ہے عطا جسے مئے عرفان ہو جاے ۔ (ازلالہ دھرم پال گپتا وفاعہ مدیر روزنامہ تیج دہلی) اسی طرح ایک اور شاعر نے اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ﷺ کی زندگی کی جو دنیا کی ضرورت تھی اس کا بہترین نقشہ اپنے چند شعروں میں قلمبند کیا ہے وہ رقم طراز ہے کہ : دنیا کو تم نے آ کر پرنور کردیا ہے اور ظلمتوں کو یکسر کافور کردیا ہے : پیام حق سنا کر مسرور کردیا ہے وحدت کی مئے پلا کر مخمور کردیا ہے : اک بار تو دیار یثرب کو دیکھ لیتا پابندئی جہاں نے مجبور کردیا ہے : سندر سے کیا رقم ہو وہ شان ہے تمہاری جس نے گداگروں کو فغور کردیا ہے : (از شیام سندر ‘ السندر ایڈیٹر پارس لاہور) مختصر یہ کہ اکثر اوقات شاعر کو عمل کی زندگی سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا وہ مضامین شجاعت و مردانگی کا باندھے بدچلن اور سیاہ کار ہوگا ۔ عام دستور ہر ملک کے شاعروں کا یہی ہے اور اس طرح وہ قومی زندگی کی عملی قوت کو اور کمزور کرتے رہتے ہیں ، تاریخ میں ہے کہ دور اموی کے مشہور شعر فرزوق نے جب اپنا وہ شعر جس میں اپنی حرام کاری کو اس نے مزے لے لے کر بیان کیا خلیفہ وقت سلیمان بن عبدالملک کو سنایا تو خلیفہ نے برجستہ کہا کہ اس اقبال جرم کے بعد تم پر حد شرعی واجب آگئی تو شاعر نے یہی آیت قرانی اپنی صفائی میں پڑھی جس کی یہاں تفسیر کی جا رہی ہے اور اپنی جان کی امان چاہی اور اس طرح گویا ظاہر کردیا کہ ہم شاعر لوگ ہیں ہمارے کلام سے ہمارے عمل کا بھلا تعلق کیا ؟
Ayah 26:227

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ Open ayah 26:227 in the Quran reader

مگر ہاں ! جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور انہوں نے اللہ کی یاد کثرت سے کی اور جب ان پر ظلم کیا گیا اس کے بعد انہوں نے بدلہ لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کو بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ ان کو کس جگہ لوٹ کر جانا ہے

شاعروں میں بھی سب ایک جیسے نہیں جہاں کثرت بدعملوں کی ہے وہاں نیک عمل بھی ہیں : 227۔ مشہور ومعروف ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں جہاں شاعروں کی اکثریت کا یہ حال ہے وہاں اپنے شاعر بھی موجود ہوتے ہیں جن میں یہ اوصاف جو اوپر بیان کئے گئے ہیں نہیں ہوتے یا بہت ہی کم ہوتے ہیں اس لئے جہاں شعر و شاعری کی اصلیت کو بیان کیا وہاں اس میں ان لوگوں کو مستثنی بھی کردیا جن میں ایمان وعمل کی زندگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے وہ بولتے بھی احتیاط کے ساتھ ہیں اور ہر وادی میں گم ہونے کے لئے بھی وہ تیار نہیں ہوتے اگر کوئی شعر کہتے ہیں یا ان کی طبع میں کوئی ایسا میلان موجود ہے تو وہ نہایت احتیاط سے کام لیتے ہوئے حقائق کو بیان کرتے ہیں کلمہ حق کی حمایت اور ذکر الہی کی رفعت وبلندی اور نعمت نبوی کو بیان کرتے ہیں تو وہ حدود سے تجاوز نہیں کرتے نہ تو انبیاء کا درجہ بڑھا کر خدائی تک لے جاتے ہیں اور نہ ہی اولیاء کرام اور بزرگوں کی تعریف میں یا وہ گوئی سے کام لیتے ہیں ہر ایک کیلئے جو مقام مقرر ہے اس سے تجاوز نہیں کرتے تاہم وہ کہیں کہیں انسانی کمزوری کا شکار ہوجاتے ہیں اور اس کو نسیان یا خطا وسہو بھی قرار دیا جاسکتا تاہم وہ صرف گفتار کے غاز نہیں ہوتے بلکہ تقوی اور عمل صالح کی دولت سے بھی ان کو وافر حصہ ملا ہوتا ہے اور اگر شعر کہتے ہیں تو بھی اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہی کثرت سے موجود ہوتا ہے ہاں ! اگر ان پر مخالفین ومعاندین کی طرف سے جو ظلم وستم پہنچا اس کا انہوں نے بدلہ دلی بھڑاس نکال کرلے لیا تو یہ انسانی فطرت ہے اور ایک حد تک اس کی اجازت بھی کیونکہ زیادتی کا بدلہ اتنی زیادتی سے تو بہرحال لیا جاسکتا ہے اور انہوں نے یہ کچھ کیا ہوگا جو کچھ کیا ہوگا تاہم کسی شاعر کو بھی نبوت و رسالت کے مقابلے میں کھڑا کرکے موازنہ نہیں کیا جاسکتا اس لئے کہ شاعری اور نبوت و رسالت میں کوئی قدر بھی مشترک نہیں۔ شاعر کو جب دیکھا جائے یا اس کی تعریف میں کوئی کلمہ کہا جائے تو وہ عام انسانوں کے زمرہ میں رکھ کر کہا جاسکتا ہے لیکن ان قومی شخصیتوں کے ساتھ ان کاموازنہ نہیں کیا جاسکتا ۔ بلاشبہ قوم کے اندر بلند مرتبہ شاعروں کا ایک اپنا مقام ہے اور ان کے بلندی ومقام کا پتہ بھی اسی بات سے لگتا ہے کہ وہ اپنی کمزوریوں کو بدرگاہ رب ذوالجلال پیش کر کے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں اور وہ اپنے اصل مقام کو بھی نہیں بھولتے کہ وہ کیا ہے اور جہاں ان کو لوٹ کر جانا ہے اس بات کو بھی وہ مدنظر رکھتے ہیں اور جس مقام پر وہ کھڑے ہوتے ہیں اس کو بھی وہ کبھی نہیں بھولتے کہ ان کی لغزش لوگوں کو کہاں سے کہاں پہنچا سکتی ہے اس لئے وہ اکثر احتیاط ہی سے کام لیتے ہیں اور اب اسی مضمون پر ہم سورة الشعراء کے مضمون کو ختم کر رہے ہیں ۔ عبدالکریم اثری : ٹھٹہ عالیہ 31۔ اپرایل 1997 ء : بعد نماز عصر ۔