Ayah 26:102ان کی حسرت کا آخری کلمہ کہ کاش ہمیں ایک بار واپس جانے کی اجازت مل جاتی :
102۔ ان کی حسرت بھری کہانی جو انہوں نے اپنی زبانی سنانا شروع کی ہے اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے کہا جا رہا ہے کہ جب ان کے معبودان باطل ان کو دیکھ کر آنکھیں پھیر جائیں گے تو وہ ان کو پہچان کر ان کو مخاطب کرتے ہوئے خوب اپنے دل کی بھڑاس نکالیں گے اور ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے ‘ انکو مجرم قرار دیں گے جب ان کی سفارش کے لئے بھی کوئی آگے نہیں بڑھے گا اور کسی گہرے دوست کو ان کی حالت زار دیکھ کر بھی ان پر ترس نہیں آئے گا اور وہ عین مایوسی کی حالت میں آخری بات جو کہیں گے وہ یہ ہوگی کہ ” اے میرے رب ! مجھے اسی دنیا میں واپس بھیج دیجئے جسے میں چھوڑ آیا ہوں امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا ۔ “ (المومنون 23 : 99 ‘ 100) لیکن اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے اس کو جواب دیا جائے گا کہ ” ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا یہ تو ایک بات ہے جو وہ بک رہا ہے “ (المومنون 23 : 100) یعنی ان لوگوں کو کبھی بھی واپس نہیں بھیجا جائے گا تاکہ وہ از سر نو عمل کرلیں اور ان لوگوں سے بیزار ہو لیں جیسے وہ ان کو دیکھ کر آج بیزار ہو رہے ہیں حالانکہ اب ان کو دو بار دنیا میں نہیں بھیجا جائے گا کیوں ؟ اس لئے کہ اس دنیا میں دوبارامتحان کے لئے آدمی کو اگر بھیجا جائے تو لامحالہ دو صورتوں میں سے ایک ہی صورت اختیار کرنی ہوگی یا تو اس کے حافظے اور شعور میں وہ سب مشاہدے محفوظ ہوں جو مرنے کے بعد اس نے کئے یا ان سب کو محو کرکے اسے پھر ویسا ہی خالی ذہن پیدا کیا جائے جیسا وہ پہلی زندگی میں تھا ۔ اول الذکر صورت میں امتحان کا مقصد فوت ہوجاتا ہے کیونکہ اس دنیا میں تو آدمی کا امتحان ہے ہی اس بات کا کہ وہ حقیقت کا مشاہدہ کئے بغیر اپنی عقل وفکر سے حق کو پہچان کر اسے مانتا ہے یا نہیں اور اطاعت ومعصیت کی آزادی رکھتے ہوئے ان دونوں راہوں میں سے کس راہ کا انتخاب کرتا ہے اب اگر اسے حقیقت کا مشاہدہ بھی کرا دیا جائے اور معصیت کا انجام عملا دکھا کر معصیت کے انتخاب کی راہ بھی اس پر بند کردی جائے تو پھر امتحان گاہ میں اسے بھیجنا فضول ہے اس کے بعد کون ایمان نہ لائے گا اور کون ہے جو منہ موڑے گا ، رہی دوسری صورت تو یہ آزمودہ را آزمودن کا ہم معنی ہے جو سراسر جہل ہے جو شخص ایک دفعہ اس امتحان میں فیل ہوچکا اسے پھر ویسا ہی ایک اور امتحان دینے کے بھیجنا وقت کا ضائع کرنا ہے کیونکہ وہ پھر وہی کچھ کرے گا جو پہلے کرچکا ۔ اس کی تفصیل پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے مثلا سورة الانعام کی آیت 27 ‘ 28 ‘ سورة الاعراف کی آیت 53 ‘ سورة ابراہیم کی آیت 44 ‘ 45 ‘ سورة المومنون آیات 105 تا 115 کو ملاحظہ کریں ۔
Ayah 26:103بلاشبہ اس واقعہ میں نشانی ہے کہ اکثریت ماننے والی نہیں ہے :
103۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے اس مختصر سے واقعہ میں جس کا ذکر پیچھے گزر چکا اس مین نشانی ہے معلوم ہے آپ کو کہ وہ نشانی کیا ہے ؟ وہ نشانی یہ ہے کہ ایک طرف تو قریش مکہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کا دعوی کرتے ہیں اور اپنے آپ کو ابراہیمی کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور دوسری طرف شرک کی گندگی میں لت پت بھی ہیں پھر جو شخص انکو اس شرک کی لعنت سے بچانے کی کوشش کرتا ہے اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا سچا واقعہ اور قصہ ان پر بیان کرتا ہے اس کے خلاف ٹھیک وہی کچھ کر رہے ہیں جو ابراہیم کی قوم نے ابراہیم کے خلاف کیا ، انکو بار بار یاد دلایا جاتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) تو شرک کے دشمن اور توحید کے داعی تھے مگر پھر بھی تم اپنی ضد پر قائم ہو کہ نبی اعظم وآخر ﷺ کی مخالفت برابر کئے جاتے ہو اور اس میں تمہارے لئے یہ بھی نشانی ہے کہ جس طرح قوم ابراہیم جس نے ابراہیم (علیہ السلام) کی مخالفت کی تھی دوسرے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی مخالفت کرنے والی قوموں کی طرح مٹ گئی اور ان میں سے جس کا نام باقی رہا وہ اس وقت اس کے ساتھ مل کرچلنے والے ہی تھے اگرچہ وہ کم تھے بعینہ اسی طرح آج تم اگر مخالفت پر تل گئے ہو تو ایک دن آئے گا یقینا تمہاری اکثریت کے باوجود تم کو مٹا دیا جائے گا اور کامیابی نبی اعظم وآخر ﷺ ہی کے حصہ میں آئے گی آج تم کو یہ بات اچنبھا معلوم ہو رہی ہے لیکن آنے والا کل ثابت کرے گا کہ حق اور سچ یہی ہے پھر دنیا نے دیکھا کہ جو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا وہ ڈنکے کی چوٹ پر ثابت ہو کر رہا ۔ لیکن آج موجودہ دور میں ذرا اس بات کا ایک بار پھر تجزیہ کرکے دیکھاجائے کہ کیا آج بھی وہ قوم جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کہلاتی ہے اپنے قول وعمل کے اعتبار سے وہی کچھ نہیں کر رہی جو اس وقت قریش مکہ کر رہے تھے جب ان میں محمد رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تھے اور یہ بات بالکل صادق آرہی ہے کہ اس ملت کی وابستگی کا دعوی کرنے کے باوجود داعی اسلام نبی اعظم وآخر ﷺ پر ایمان کا دعوی کرنے کے باوجود آپ کی لائی ہوئی تعلیم کے خلاف کام کر کے اسی طرح شرک کی لعنت میں مبتلا ہے اگر کوئی فرق ہے تو صرف یہ کہ قریش مکہ نے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ‘ اسمعیل (علیہ السلام) ‘ مسیح (علیہ السلام) اور مریم (علیہ السلام) کے بت اور شبیہیں بنا رکھی تھیں اور اس سواد اعظم کے دعویدار رضاخانیوں نے وہ سارا کام بتوں کی بجائے قبروں سے لے لیا ہے گویا انہوں نے لکڑ ‘ مٹی اور سونے چاندی کے بت تیار کئے تھے اور یہ مٹی کے ڈھیر لگا کر ان پر غلاف اور چادریں چڑھا کر ان کی پرستش کئے جا رہے ہیں اور آج ہماری کوئی بستی ‘ کوئی گاؤں اور کوئی شہر اس کی زد سے باہر نہیں ، اللہ ہم کو سمجھ کی توفیق بخشے اور عقل وفکر سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے ، زیر نظر آیت میں بھی یہی مضمون پیش کیا گیا ہے کہ انکی اکثریت ایمان کا دعوی رکھنے کے باوجود ایمان لانے کے لئے تیار نہیں ۔
Ayah 26:104اے پیغمبر اسلام ! ﷺ بلاشبہ تیرا رب غالب آنے والا ‘ پیار کرنے والا ہے :
104۔ زیر نظر آیت میں اے پیغمبر اسلام ! ﷺ نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ کا رب غالب آنے والا ہے وہ چاہے تو ایک دن بھر میں انکی ساری نخوتیں پامال کرکے رکھ دے لیکن وہ عزیز ہونے کے ساتھ ساتھ پیار کرنے والا بھی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی مہلت پر مہلت دیئے جا رہا ہے کہ چلو آج نہیں تو کل ہی شاید یہ لوگ مان جائیں اور یقینا ان نہ ماننے والے بھی موجود ہیں آپ اپنی دعوت کو جاری رکھیں اور نتیجہ اپنے اللہ پر چھوڑ دیں آپ ﷺ کی ذمہ داری صرف پیغام پہنچانا ہے ماننے نہ ماننے والوں کے متعلق آپ ﷺ سے سوال نہیں ہوگا کہ نہ ماننے والوں نے کیوں نہ مانا ؟ اگر آپ یہ لوگ جھٹلا رہے ہیں تو ان سے پہلے بھی تو بیشمار قومیں اپنے اپنے نبی ورسول کو جھٹلا چکی ہیں ۔
Ayah 26:105نوح (علیہ السلام) کی قوم نے بھی تو انبیاء ورسول کا انکار کیا :
105۔ آدم (علیہ السلام) کے بعد اس زمین پر سب سے پہلے نبی نوح (علیہ السلام) ہیں جن کو رسالت سے نوازا گیا قرآن کریم کی 18 سورتوں میں آپ کا تذکرہ کیا گیا ہے جن میں زیادہ تر آپ کی سرگزشت سورة الاعراف کی آیات 59 تا 64 ‘ سورة یونس کی آیات 71 ‘ 73 ‘ سورة ہود کی آیات 25 تا 48 ‘ سورة الاسراء کی آیت 3 ‘ سورة الانبیاء کی آیت 76 ‘ 77 ‘ سورة المومنون کی آیات 23 تا 30 ‘ سورة الفرقان کی آیت 37 میں بیان کیا گیا ہے اور یہ وہ مقامات ہیں جن کا حال پیچھے گزر چکا ہے اس لئے تقابل کے لئے انہی مقامات پر آپ ایک نظر ڈال لیں قرآن کریم نے آپ کی عمر کے ایک لمبے دور کا ذکر کیا ہے خواہ وہ آپ کی زندگی کا ذکر ہے اور خواہ وہ آپ کے دور کے تذکرہ کے طور پر مذکورہ ہے کیونکہ زیر نظر آیت میں بیان یہ کیا جا رہا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے بھی رسولوں کو جھٹلایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت کے دور زندگی میں اور بھی نبی ورسول بھیجے گئے تھے لیکن اس کی ایک توجیہہ یہ بیان کی گئی ہے کہ کسی ایک رسول کا جھٹلانا سارے رسولوں کے جھٹلانے کے مترادف ہے اس لئے نوح (علیہ السلام) کا جھٹلا یا بھی سارے ہی رسولوں کا جھٹلانا کہا گیا ہے ۔
Ayah 26:106نوح (علیہ السلام) نے قوم کو مخاطب کر کے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں ؟
106۔ زیر نظر آیت میں اگرچہ یہی بیان ہے کہ آپ نے اپنی قوم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ” کیا تم ڈرتے نہیں “ لیکن اس کی وضاحت تصریف آیات کے طور پر قرآن کریم نے دوسرے مقامات پر اس طرح کردی ہے کہ ” ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تھا اس نے کہا کہ اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی کرو اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں میں ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے ہولناک دن کا عذاب تمہیں پیش نہ آجائے سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ جس رسول کو بھی اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا گیا تو نبی کو قوم کا بھائی ہی قرار دیا گیا کیونکہ نبی ورسول اور اس کی قوم میں اخوت اور نسبی بھائی چارہ موجود تھا کیونکہ ہر نبی اس قوم میں سے منتخب کیا گیا تھا اور وہ اپنی قوم کے لوگوں میں سے ایک آدمی اور بشر ہی تھا اور اس کی ساری رشتہ داریاں ان سے قائم تھیں ، جیسا کہ نبی اعظم وآخر ﷺ کی رشتہ داریاں قریش مکہ کے ساتھ پائی جاتی تھیں ہمارے بھائی جو انبیاء ورسل کو قوم کے لوگوں کا بھائی کہنا اس جذبہ اخلاص وخیر خواہی کی طرف بھی اشارہ کرتا جو ایک بھائی کے دل میں اپنے کے متعلق فطری طور پر پایا جاتا ہے ، اس طرح بتا دیا کہ یہ کوئی اجنبی نہیں جسے تمہاری خوشی اور غم سے کوئی واسطہ نہ ہو بلکہ یہ تمہارا بھائی بند ہے تمہاری فلاح اور کامیابی اس کے لئے فرحت و انبساط کا باعث ہے اور تمہاری گمراہی سے اس کے دل میں درد و غم کی لہریں اٹھنے لگتی ہیں ، کیسی صاف اور ستھری بات تھی لیکن ضد میں آکر اس کو کیا ہے کیا بنا دیا گیا اللہ تعالیٰ ہدایت دے اور انبیاء ورسل کو اپنی ضد کا نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے ۔
Ayah 26:107107۔ اے میرے قوم کے لوگو ! میری صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو اب میری بات ماننے میں تم کو کیوں لیت ولعل ہے میں تم کو اپنے مالک حقیقی کی ناراضگی سے ڈرنے کی تلقین کرتا ہوں میں تم سے کوئی ذاتی اور نجی منفعت نہیں چاہتا مجھے میرے رب کریم سے جو پیغام ملتا ہے میں تم تک نہایت امانت کے ساتھ اس کو پہنچا دیتا ہوں اور وہی کہتا ہوں جو خود کرتا ہوں اور وہی بتاتا ہوں جو خود اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے سنتا ہوں یا سنایا جاتا ہوں ۔ میری امانت ودیانت پر اگر تم کو کوئی شک ہے تو اس کو واضح کرو اگر نہیں تو تم بھی امین بن جاؤ یہی بات تمہارے فائدے کی ہے ۔
Ayah 26:108اے لوگو ! اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو :
108۔ جیسا کہ میں نے تم کو کہا کہ میں رسول امین ہوں پھر تم کو اس کی دلیل بھی دی کہ کیوں اور کیسے امین ہوں ؟ اگر تم کو یقین نہیں ہے تو میری امانت ودیانت کو آزما دیکھو اگر یقین ہے تو دوسرے سارے مطاعوں کو چھوڑ کر میری اطاعت کا جوا اپنی گردنوں میں ڈالو جو احکام میں تم کو دیتا ہوں ان کی پیروی کرو کیونکہ میں تم کو جو کچھ کہتا ہوں اپنی مرضی سے نہیں کہتا بلکہ اپنے مالک حقیقی کی مرضی سے کہتا ہوں اس لئے میری نافرمانی میری ذات کی نافرمانی نہیں بلکہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی نافرمانی ہے ۔ تم سلامتی چاہتے ہو تو اپنی ضد اور سرکشی چھوڑ کر میری دعوت کو قبول کرو کیونکہ یہ دعوت دراصل میری نہیں بلکہ اس رب کریم کی ہے جو تمہارا خالق ومالک اور رازق و داتا ہے ۔
Ayah 26:109دیکھو میں تم سے کوئی اجرت نہیں طلب کرتا میری اجرت اللہ کے ذمہ ہے :
109۔ یہ دعوی صرف نوح (علیہ السلام) کا نہیں بلکہ ہر نبی ورسول کا دعوی تھا کہ میں تم سے کوئی مزدوری طلب نہیں کرتا کہ میں تم کو یہ پیغام پہنچا رہا ہوں لہذا اس کی مجھے اجرت ادا کرو نہیں اور ہرگز نہیں ہر آنے والے کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے یہ کلمہ ادا کروایا اور پھر صرف کلمہ ہی نہیں ادا کروایا بلکہ سختی سے اس پر عمل درآمد بھی کرایا کوئی نبی ورسول آجر بنا کر نہیں بھیجا گیا بلکہ اللہ کا پیغام پہنچانا فرض منصبی سمجھ کر لوگوں تک پہنچایا اگر میں تم سے کوئی ذاتی فائدہ حاصل کرنے کی ادنی سی کوشش بھی کی تو میرے منہ پر کہو اگر نہیں تو سمجھ لو کہ میں تم سے کوئی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا بلکہ تم کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہوں میں کوئی تاجر نہیں ہوں کہ ہر وقت مجھے منفعت حاصل کرنے کا غم لاحق ہو میں تو ایک داعی ہوں اور اپنا سب کچھ لٹا کر بھی محسوس نہیں کرتا بلکہ خوش ہوں کہ تم نے میرا پیغام سن کر اپنے آپ کو ہلاکت سے بچالیا اور تم اللہ کے نیک بندے اور فرمانبردار بن گئے انبیاء کرام اور رسل عظام کی طرف سے اجرت طلب نہ کرنے کے دعوی کا ذکر اور اس کی وضاحت پیچھے سورة یونس آیت 72 ‘ سورة ہود آیت 29 ‘ 50 میں تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے اس لئے محولہ آیات کی طرف رجوع کریں ۔
Ayah 26:110اے لوگو ! اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو :
110۔ میں نے تو تم کو پہلے بھی یہی کہا تھا کہ اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو اور اب بھی یہی کہتا ہوں اور بار بار کہوں گا کیونکہ اللہ کا ڈر رکھنا والے ہی صحیح معنوں میں فرمانبردار بندے ہو سکتے ہیں ۔ انبیاء ورسل کی دعوت سے کیڑے نکالنے والے اور ان پر طرح طرح کے الزام لگانے اور دراصل اپنے دلوں میں اللہ کر ڈر نہیں رکھتے اور ایسے نڈر ہمیشہ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں اور تمہارا نقصان میرا ہی نقصان ہے کیونکہ تم میرے خاندان کے چشم وچراغ ہو ۔
Ayah 26:111قوم کے وڈیروں نے کہا کہ ہم تیرے لئے کیسے ایمان لائیں جبکہ تیرے پیرورذیل لوگ ہیں :
111۔ ذرا غور سے کام لیا جائے تو بات خود بتا دیتی ہے کہ میرے کہنے والے کون لوگ ہیں یہاں بھی بات پر غور کرنے ہی سے یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ جن لوگوں نے نوح (علیہ السلام) کو یہ جواب دیا کہ ” ہم تجھے کیسے مان لیں جب کہ تیری پیروی ہم میں سے رذیل ترین لوگ کر رہے ہیں ۔ “ وہ بلاشبہ آپ کی قوم کے سردار ‘ مذہبی پیشوا اور سیاسی لیڈر ہی ہوسکتے ہیں جن کے پاس مال و دولت کے ڈھیر ہوتے ہیں اور بڑے بڑے خاندانوں اور برادریوں میں وہ سرکردہ لوگ گنے جاتے ہیں اور انہی وسائل کی بنا پر وہ غریب لوگوں کو رذیل اور کمین خیال کرتے ہیں ایسے لوگ ہر زمانہ میں رہے اور اب بھی ان لوگوں کی کوئی کمی موجود نہیں ہے اس ملک عزیز میں بھی سیاسی اور مذہبی پیشوایان قوم کا یہی حال ہے کہ وہ باپ دادا والے کہلاتے ہیں اور غریبوں کو وہ انسانیت کے حقوق دینے کے لئے آج بھی تیار نہیں اور انسانی مساوات کے زبانی دعویدار ہونے کے باوجود اندر سے سخت مخالف ہیں ان کی ہر حرکت یہ بتاتی ہے کہ یہ امیر و غریب کے امتیاز کو سختی کے ساتھ قائم رکھنا چاہتے ہیں یہ مالدار ہیں تو مالداروں کو اور زمین دار ہیں تو زمین داروں کو ہی برابری کی نظر سے دیکھ سکتے ہیں غریب اور کاشتکار ان کی نظروں میں آج بھی رذیل ہیں اور رذالت و شرافت کے حقیقی معیار کو وہ سمجنے کے لئے آج بھی تیار نہیں ، اس کی تفصیل دراصل پیچھے سورة ہود کی آیت 27 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں ۔ ہمارے نبی محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بھی قریش نے یہ سلوک کیا جو نوح (علیہ السلام) سے نوح کی قوم نے کیا تھا اس تقابل کے لئے اس کو اس جگہ بیان کیا گیا ہے ۔
Ayah 26:112نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تو انکے اعمال کے متعلق نہیں جانتا کہ وہ کیسے ہیں :
112۔ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ان وڈیروں کو کیا جواب دیا ؟ فرمایا کہ میں تو نہیں جانتا کہ انکے اعمال کیسے ہیں ؟ ایک لحاظ سے لوگوں کے سوال کا جواب بھی ہے اور سوال بھی کہ تم مجھے پوچھتے ہو آخر کیوں ؟ ان کے اعمال تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں میں تم سے زیادہ نہیں جانتا اور اس طرح ارشاد فرما کر ان کو بات تفہیم کرائی گئی ہے کہ رذیل وشریف کا معیار جو تم نے قائم کیا ہے میرے ہاں تو وہ میعار نہیں ہے میرے ہاں تو انسان کی رذالت و شرافت کا تعلق اس کے اعمال سے ہے نہ کہ مال و دولت اور خاندانی تقسیم سے جیسا کہ تم سمجھ رہے ہو میں نے تو اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا جیسا تم کو سنایا ویسا ہی ان کو بھی سنایا انہوں نے اس کو قبول کرلیا اور تم نے اس کا انکار کردیا مجھے تو بس اتنا ہی معلوم ہے رہی یہ بات کہ وہ لوگ آج تک کیا کرتے رہے میرے علم میں نہیں اور مجھے یہ جاننے اور معلوم کرنے کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے میں اس معاملہ میں آپ کے سامنے جوابدہ نہیں ہوں ۔
Ayah 26:113ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے پاس ہے کاش کہ تم اس بات کو سمجھتے :
113۔ یہ لوگ جن کو تم نے رذیل کہا ہے اور سمجھا ہے میں نہ ان کے اعمال پر داروغہ لگایا گیا ہوں اور نہ تمہارے اعمال پر ، ان کا حساب بھی براہ راست اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ساتھ ہے اور تمہارا بھی ‘ کاش کہ تم بھی اس حقیقت کو سمجھتے کہ شرافت ورذالت کا انحصار مال و دولت پر نہیں ‘ خاندانی نقسیم پر نہیں ‘ حق ظاہر ہونے سے پہلے کے اعمال پر نہیں بلکہ حق کے آنے کے بعد قبول عدم قبول پر ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ جو کچھ میں نے کہا وہ انہوں نے قبول کرلیا اور تم نے اس کو رد کردیا انہوں نے قبول کرنے کے بعد اپنی اصلاح شروع کرلی اور تم اپنی نخوت پر ڈٹے رہے کہ ہم ان کے ساتھ مل کر ایک مجلس میں بیٹھ بھی نہیں سکتے کیوں ؟ اس لئے کہ وہ ہم میں سے رذیل لوگ ہیں کہ ان کے پاس اتنا مال و دولت نہیں جتنا ہمارے پاس ہے اور وہ ہمارے معاشرہ کے سرکردہ لوگ نہیں جیسے کہ ہم ہیں اور چونکہ یہ خود کو دن ہیں اس لئے ظاہر ہے کہ وہ انہیں نظریات کو مان سکتے ہیں جو ادنی عقائد ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خود تو رذیل ہوں لیکن ان عقائد کو تسلیم کرتے ہوں جو نہایت اعلی درجہ کے ہوں ۔ اس لئے جب ہم ان کو دیکھتے ہیں اور ان نظریات کو تو ہمارا فیصلہ یہی ہے کہ یہ نظریات یقینا ادنی اور گھٹیا ہیں ایسے نظریات میں ذرا برابر بھی فرق نہیں پڑا جو نظریات اس وقت قوم نوح کے تھے وہی نظریات آج اس ملک عزیز کے ان خاندانوں کے ہیں جو اس ملک عزیز پر حکم چلانے کا حق رکھتے ہیں وہ آپس میں کتنے ہیں مخالف کیوں نہ ہوں لیکن نظریات ان سب کے یکساں ہیں کہ غریب عوام اور ان کے درمیان ایک خاص قسم کی خلیج حائل رہے اور ان دونوں اقسام کا فرق دن بدن بڑھتا چلائے حتی کہ مکتب وسجدے سے لے کر قبر کی دیواروں تک کی جگہ بھی یہ مل کر نہیں بیٹھ سکتے کہ غریب عوام سے قوم کے ان وڈیروں اور لٹیروں کو سخت نفرت ہے ۔
Ayah 26:114نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تو ان ایمان لانے والوں کو دھتکار نہیں سکتا :
114۔ نوح (علیہ السلام) نے قوم کے وڈیروں کو صاف صاف کہہ دیا کہ جو شرط تم لوگ لگاتے ہو مجھے تو وہ کسی حال بھی قبول نہیں اور میں ان کو اپنی مجلس سے اٹھا کر تم کو نہیں بٹھاسکتا ۔ میں نے جو کچھ پیش کیا ہے اپنی طرف سے نہیں پیش کیا بلکہ یہ پیغام خداوندی ہے جو ان کو پہنچایا ہے اور جب انہوں نے اس کو قبول کرلیا ہے تو میں ان کو دھتکار دوں کہ بڑے بڑے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے نہیں ۔ مجھے اللہ نے یہ حکم نہیں دیا کہ جو میرے پاس آتے ہیں میں ان کی ذات ‘ برادری ‘ حسب نسب اور پیشہ پوچھوں اور اگر وہ آپ لوگوں کی نگاہ میں رذیل وکمین ہوں تو انکو واپس کرکے اس انتظار میں رہوں کہ یہ سارے شریف لوگ جو بدکردار بھی ہیں اور بداخلاق بھی چونکہ وہ مالدار ہیں اور دنیوی عزت وجاہ کے مالک ہیں لہذا ان کا انتظار کروں کہ وہ کب میری مجلس میں تشریف لاتے ہیں تاکہ میں اٹھ کر ان کا استقبال کرسکوں ۔ اگر تم اس انتظار میں ہو تو یہ انتظار کبھی بھی پورا نہیں ہوگا اور یقینا اس انتظار میں مرو گے ، اس کی تفصیل سورة الانعام کی آیت 52 میں دیکھیں جو عروۃ الوثقی کی تیسری جلد میں ملے گی ۔
Ayah 26:115میں کیا ہوں ؟ ایک صاف اور سیدھی بات سے متنبہہ کرنے والا ہوں :
115۔ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا تم نے جو امید مجھ پر باندھی ہے وہ کبھی پوری ہونے والی نہیں ہے میرا کام کسی کو جگہ دینا اور کسی کو اٹھا بہر کرنا ہرگز ہرگز نہیں بلکہ میری صدائے عام ہے اور جو بھی اس پر لبیک کہے گا میرا دروازہ اس پر کھلا رہے گا میرے ذمہ سوئے متنبہ کرنے کے اور کچھ نہیں ہے وہ میں نے کردیا جس کا جی چاہے وہ تسلیم کرے جس کا جی نہ چاہے وہ نہ کرے کسی بھی انسان کے نفع ونقصان کا مالک میں نہیں اور نہ ہی میرے اختیار میں ہے کہ میں جس کو چاہوں ہدایت دے دوں ۔
Ayah 26:116قوم نوح سے جب کوئی جواب بن نہ آیا تو انہوں نے نوح (علیہ السلام) کو دھمکی سنا دی :
116۔ قوم نوح کے سرداروں نے جب دیکھا کہ ہم جو سوال کرتے ہیں نوح (علیہ السلام) ہم کو کھرا کھرا جواب سنا دیتا ہے اور ہماری کسی بات پر کان دھرنے کے لئے تیار نہیں تو انہوں نے نوح (علیہ السلام) کو دھمکی سنا دی کہ اے نوح ! اگر تم اپنی اس دعوت سے باز نہ آئے تو ہم اپنے بیوی بچوں کو خراب کرنے کے تیار نہیں ہمیں تیرے خلاف جو قدم بھی اٹھانا پڑا اٹھائیں گے یہاں تک کہ اگر تجھ کو سنگسار کرنا پڑا تو بھی گریز نہیں کریں گے کیونکہ آپ نے ہمیں بےچین کرنے میں بہت زور لگا لیا ہے اور اس سے زیادہ برداشت ہم نہیں رکھتے کتنا عرصہ گزر چکا ہے لیکن آپ آج تک اپنی عادت سے باز نہیں آئے ، یہ بات واضح کر رہی ہے کہ وہ لوگ آپ کی بعثت پر یقین نہیں رکھتے تھے یا یہ کہ وہ نبوت و رسالت کے قائل ہی نہیں تھے اس لئے انہوں نے اپنی طرف سے نوح (علیہ السلام) کو سخت الٹی میٹم دے دیا ۔
Ayah 26:117نوح (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب ! قوم نے مجھ کو جھٹلا دیا :
117۔ نوح (علیہ السلام) کی دعوت ایک طویل مدت تک جاری رہی اور آپ نے قوم کو سمجھانے بجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی لیکن قوم بھی ایسی اکھڑ تھی کہ وہ ذرا بھر بھی ٹس سے مس نہ ہوئی اور مخالفت کی حد کردی ‘ اس مخالفت کی حالت بیان کرتے ہوئے نوح (علیہ السلام) نے اللہ رب کریم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ” اے میرے رب ! میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب وروز پکارا مگر میری پکار نے ان کے فرار میں اضافہ ہی کیا یعنی جتنا میں ان کو پکارتا گیا اتنے ہی زیادہ وہ مجھ سے دور بھاگتے چلے گئے اور جب بھی میں ان کو بلایا کہ تو انہیں معاف کردے تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لئے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور بہت ہی تکبر کیا پھر میں نے ان کو زور زور سے مخاطب کر کے دعوت دی اور اعلانیہ ان کو تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا اور ان سے کہا کہ اپنے رب سے معافی مانگو بلاشبہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے ۔ “ (نوح 71 : 5 تا 9) ” اے میرے رب ! انہوں نے میری ہر بات کو رد کردیا اور ان لوگوں کی پیروی کی جو مال اور اولاد پاکر اور زیادہ نامراد ہوگئے ہیں ان لوگوں نے بڑا بھاری مکر کا جال پھیلا رکھا ہے انہوں نے مجھے مخاطب ہو کر کہا کہ ہم معبودوں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے ود ‘ سواع ‘ اور یغوث ‘ یعوق اور نسر کو اس طرح انہوں نے بیشمار لوگوں کو گمراہ کیا ۔ “ (نوح 71 : 21 تا 24) اس طرح نوح (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے دعا فرمائی اور اپنا دکھ بتایا ۔
Ayah 26:118نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ اے رب ! میرے اور قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے :
118۔ نوح (علیہ السلام) نے اپنے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے اپنی عرض پیش کی اور اس میں فرمایا کہ اے میرے پروردگار ! اب تو میرے اور میری قوم کے درمیان آخری فیصلہ فرما دے ۔ نوح (علیہ السلام) نے یہ آخری فیصلہ اس وقت طلب کیا جب اللہ تعالیٰ نے خود نوح (علیہ السلام) کو اس بات سے آگاہ کردیا کہ ” اے نوح تیری قوم میں جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا اب اور کوئی بھی ایمان لانے والا نہیں ہے اب ان کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑ دے ۔ “ (ہود 11 : 36) اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بعد آپ کو مکمل طور پر یقین ہوگیا کہ اب یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں تو آپ نے بدرگاہ رب ذوالجلال والاکرام عرض کیا کہ ” اے میرے رب ! ان کافروں میں سے کوئی زمین پر بسنے والا نہ چھوڑا اگر تو نے انکو چھوڑ دیا تو یہ لوگ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا بدکار اور کافر ہی پیدا ہوگا ۔ “ (نوح 71 : 26 ‘ 27) نوح (علیہ السلام) کی اس دعا کو بددعا نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی کوئی نبی ورسول کسی کے حق میں بددعا کرتے تھے ، نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے فیصلہ کی اپیل کی ہے اور نہ ماننے والوں کے متعلق وہی کہا ہے جس سے خود اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو آگاہ کیا تھا اور رسول نے یعنی نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ” ” اے اللہ ! تو میرے اور میری قوم کے لوگوں کے درمیان فیصلہ فرما دے اور مجھے اور جو مجھ پر ایمان لائے ہیں ان کو بچا لے ۔ “ گویا آپ نے دعا اس فتح ونصرت کے لئے فرمائی جو رسول کی تکذیب کی صورت میں لازما اس کی قوم کی ہلاکت اور رسول اور اس کے ساتھیوں کی نجات کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے اور جس طرح سنت اللہ اس معاملہ میں جاری وساری رہی ہے اور بلاشبہ اس کا نتیجہ بھی وہی نکلا جو دوسرے رسولوں کی دعوت کا نکلا ہے ۔
Ayah 26:119نوح (علیہ السلام) کو اس کشتی پر سوار کرکے جس کے بنانے کا حکم دیا تھا اللہ نے نجات دے دی :
119۔ نوح (علیہ السلام) کی اس دعا سے پہلے ہی اس کی قبولیت کی تیاریاں شروع کرا دی گئی تھیں جب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ ” اے نوح ! ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بنانا شروع کر دے اور ان ظالموں کے بارے میں اب ہم سے کچھ عرض معروض نہ کر یقینا یہ لوگ غرق ہوجانے والے ہیں “ (ہود 11 : 37) نوح (علیہ السلام) کی یہ دعا بالکل صحیح وقت پر زبان سے نکلی اور تیر بہدف ثابت ہوئی اس طرح اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو کشتی پر سوار ہونے اور اپنے ساتھیوں کو سوار کرنے کا حکم صادر فرمایا جب وہ سب لوگ کشتی میں سوار ہوگئے اور اپنی ضرورت کی ساری اشیاء بھی انہوں نے سوار کرلیں تو زمین کو حکم ہوا کہ اپنا پانی باہر نکالنا شروع کردے اور آسمان کو حکم ہوا کہ اپنا پانی برسانا شروع کر دے اس طرح پانی کا اتنا سخت طوفان اٹھا کہ اس نے اس کشتی کے مکینوں کے سوا اس علاقہ میں زندگی کا نام ونشان ہی مٹا دیا ۔ اس کی مکمل تفصیل آپ کو سورة ہود کی آیت 49 کے بعد نوح (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت میں ملے گی وہاں سے ملاحظہ کرلیں جو عروۃ الوثقی جلد چہارم میں ہے اور کشتی کی تفصیل درکار ہو کہ وہ کیسی تھی تو سورة الاعراف کی آیت 64 کے زیرتحت حاشیہ کو پڑھیں ۔ سورة الاعراف عروۃ الوثقی جلد سوم میں ملے گی ۔
Ayah 26:120ہم نے نوح اور اس کے پیروؤں کو چھوڑ کر باقی سب کو ہلاک کردیا :
120۔ جب نوح (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکار کشتی میں سوار ہوگئے اور پانی ٹھاٹھیں مارنے لگا تو ہم نے نوح (علیہ السلام) کو بتا دیا تھا کہ اب اس پورے علاقہ میں کوئی نہیں بچے گا مگر وہی جو اس کشتی میں سوار ہوگیا اور نوح (علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں کی تعداد آٹے میں نمک ہی کے برابر تھی بہرحال جب نوح (علیہ السلام) خود اپنے فرمانبرداروں کے ساتھ اور ضروری اشیاء کے ساتھ کشتی پر سوار ہوگئے اور کشتی چلنے لگی تو نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو پکارا جب کہ وہ الگ کھڑا یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا کہ اے بیٹے ! ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ ۔ وہ بولا کہ میں کسی پہاڑ پر پناہ لے لوں گا اور وہ مجھے پانی کی زد سے بچالے گا ، نوح (علیہ السلام) نے اس کو سمجھایا کہ آج اللہ کی اس بات سے بچانے والا کوئی نہیں مگر ہاں وہی جس پر وہ رحم کرے اور وہ کشتی میں سوار ہوجائے ، اتنے میں ایک موج پانی کی اٹھی اور دونوں کے درمیان حائل ہوگئی تو وہ ڈوبنے والوں میں ہوگیا ۔ مختصر یہ کہ فی الواقع اس طوفان میں کوئی نہ بچا مگر وہی جو کشتی میں سوا تھے اور انہی لوگوں سے اللہ نے پھر اس علاقہ کو آباد کردیا لیکن ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ لوگ پھر اس طرح کفر وشرک میں ڈوبنے شروع ہوگئے ۔
Ayah 26:121بلاشبہ اس واقعہ میں نشانی ہے لیکن اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں :
121۔ زیر نظر آیت وہی آیت ہے جو پیچھے آیت 103 کے طور پر گزر چکی کہ قوموں کی داستان بھی بڑی عجیب ہے کہ وہ ہمیشہ نشانی کی طب میں رہیں اور نشانی بھی ان کی آنکھوں کے سامنے رہی اور اس نشانی کو انہوں نے نشانی ماننے سے ہمیشہ انکار کیا یہاں تک کہ وہ بعد میں آنے والوں کے لئے خود ایک نشانی ہوگئے اور یہ گاڑی اسی طرح چلتی رہی اور کسی نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا بلکہ وہ منہ اٹھائے آگے ہی آگے چلتے رہے غور کیجئے کہ کیا سیدنا نوح (علیہ السلام) کی سرگزشت میں قوم ابراہیم کے لئے نشانی نہیں تھی ؟ یقینا تھی لیکن قوم ابراہیم نے اس نشانی سے کچھ بھی فائدہ اٹھایا ؟ ہر گز نہیں اٹھایا بلکہ وہ بھی نشانی ہی کی طلب میں رہے یہاں تک کہ وہ خود دوسروں کے لئے نشانی بن گئے جیسے قوم نوح ان کیلئے نشانی بنی تھی اور پھر یہ سلسلہ نبی اعظم وآخر ﷺ تک بدستور اسی طرح چلتا ہے تا آنکہ نبی کریم ﷺ بھی اپنا وقت گزار کر یہاں سے رخصت ہوئے ۔
Ayah 26:122اے پیغمبر اسلام ! ﷺ بلاشبہ تیرا رب غالب آنے والا پیار کرنے والا ہے :
122۔ زیر نظر آیت وہی ہے جو پیچھے آیت 104 کے طور پر گزرچکی ہے اور اس میں یہی بات فرمائی گئی ہے کہ اے نبی اعظم وآخر ﷺ تیرا رب جب چاہے ان کو پکڑ سکتا ہے اور جب تک چاہے کسی قوم کو مہلت دے سکتا ہے بلاشبہ اس نے پکڑنے کے لئے اور مہلت دینے کے لئے اصول مقرر کر رکھا ہے اور جب اصولی طور پر کسی قوم کے پکڑنے کا وقت آجاتا ہے تو وہ اس کو ذرا بھر بھی مہلت نہیں دیتا سیدنا نوح (علیہ السلام) ہی کو لے لیجئے کہ ان کی قوم کتنا عرصہ مہلت دی گئی لیکن جب ان کی پکڑ کا وقت آیا تو ان کو اس طرح نیست ونابود کردیا کہ گویا وہ کبھی اس دھرتی پر آباد ہی نہیں ہوئے تھے اس کی صفت عزیز کا تقاضا اگر پکڑ لینے کا ہے تو اس کی صفت رحیم کا تقاضا چھوڑ دینے ‘ مہلت دے دینے کا بھی ہے اور جو کچھ کرتا ہے عین حکمت کے مطابق کرتا ہے اور جب تک دنیا کا یہ سلسلہ جاری وساری ہے یہ سلسلہ بھی اسی طرح رواں دواں رہے گا اور یہ ترجیع بھی آگے مزید آئے گی ۔
Ayah 26:123دیکھو قوم عاد نے بھی رسولوں کو جھٹلایا اس لئے ان کا تذکرہ بھی کرو :
123۔ قوم عاد کا ذکر قرآن کریم کی 9 سورتوں میں کیا گیا ہے یعنی الاعراف ‘ ہود ‘ المومنون ‘ الشعرائ ‘ فصلت ‘ الاحقاف ‘ الذاریات ‘ القمر اور الحاقہ میں عاد قوم وہی قوم ہے جس کی طرح سیدنا ہود (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے اس کا مفصل ذکر سورة الاعراف کی آیت 65 میں اور سورة ہود کی آیت 50 تا 89 میں کیا گیا ہے اس لئے تفصیل دیکھنا ہو تو سورة الاعراف اور ہود کی مذکورہ آیات کی تفسیر دیکھیں ، قرآن کریم کے نزول سے پہلے ہی یہ قوم زیادہ تر عاد قوم کے نام سے معروف تھی اور دوسرے انبیاء ورسل کی قوموں کی طرح یہ قوم اپنے نبی ہود کے نام سے اتنی معروف نہ تھی جتنی کہ عاد قوم کے نام سے اس لئے قرآن کریم نے بھی اس کو زیادہ تر اس نام سے یاد کیا جس سے اس بات پر روشنی پڑتی ہے کہ جو قوم جو رسول ونبی اور چیز جس نام سے معروف ہے اس کو اسی نام سے یاد کرنا اس کے تعارف کے لئے ضروری ہوتا ہے لیکن مفسرین بعض اوقات اس بات کو سمجھنے سمجھانے کے بجائے کوئی دوسرا ہی طریقہ بیان شروع کردیتے ہیں اور اس طرح اچھی بھلی بات بعض اوقات الجھ کر رہ جاتی ہے اور پھر جب ایک الجھاؤ پیدا ہوجاتا ہے تو اس کو دور کرنے کی بجائے اس کو مزید الجھا کر رکھ دیتے ہیں اگر یہ بات آپ نے یاد رکھی تو آپ کو بہت جگہ انشاء اللہ کام دے گی اور جو بات سمجھ میں آجائے اس سے کام لینا ہی چاہئے ، معقول بات کو مان لینے میں جو بھلائی ہے اس سے استفادہ اسی طرح کیا جاسکتا ہے کہ انسان ضد اور ہٹ دھرمی کی بجائے سیدھی اور صاف بات کا اقرار کرلے ۔
Ayah 26:124جب قوم عاد کے بھائی ہود نے ان سے کہا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں ؟
124۔ عاد قوم کے لوگ بھی بت پرست تھے کہ اپنے بزرگوں اور مذہبی پیشواؤں کے بہت خوبصورت بت تراشتے تھے اور ان بزرگوں کی پرستش کے لئے بطور نشان ان کا استعمال کرتے تھے ، قرآن کریم کی تصریح کے مطابق ان کا زمانہ سیدنا نوح (علیہ السلام) کے بعد تھا اور وہ قوم نوح کی طرح پنج تن کے پجاری تھے او ود ‘ سواع ‘ یغوث ‘ یعوق ‘ اور نسر ہی انکے پنچ تنوں کے نام تھے اور بعد میں اس سے تجاوز کرکے انہوں نے مزید اضافہ بھی کرلیا تھا کیونکہ ان کے ایک صنم کا نام صمود اور ایک کا نام ہتار بھی تھا اور اس طرح ایک کو وہ صدا کے نام سے بھی موسوم کرتے تھے (البدایہ والنہایہ جلد اول ‘ قصص الانبیاء للنجار ص 71)
یہ قوم بہت ہی قوی ہیکل تھی اور جسمانی قوت و طاقت کے لحاظ سے بھی یہ لوگ اپنی مثال آپ تھے اور خوبصورتی میں بھی وہ بہت مشہور تھے آج کل کے کشمیریوں سے ان کو تشبیہ دی جاسکتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے انکی سرکشی کو توڑنے کے لئے سیدنا ہود (علیہ السلام) کو نبی بنا کر ان کی طرف مبعوث کیا لیکن انہوں نے بڑے گھمنڈ اور غرور سے کہا کہ (آیت) ” من اشد منا قوۃ “۔ ” آج دنیا میں ہم سے زیادہ کون شوکت وجبروت کا مالک ہے ؟ “ لیکن ہود (علیہ السلام) مسلسل ان کی اصلاح میں لگے رہے اور اکثر ان لوگوں کو قوم نوح کے واقعات پڑھ کر سناتے تاکہ یہ لوگ عبرت حاصل کریں ، بلاشبہ وہ اکثر ان لوگوں کو ڈراتے رہے لیکن انہوں نے بھی ہود (علیہ السلام) کو اللہ کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنے والا قرار دیا اور انکو مفتری کے لقب سے نوازا اور انکو جھوٹا کہنا تو ان کی عادت میں داخل ہوچکا تھا اس لئے وہ ہمیشہ آپ کا انکار ہی کرتے رہے ۔
Ayah 26:125ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے عاد قوم میں تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں :
125۔ ہود (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ اے عاد قوم ! غور کرو کہ میں بھی تم ہی میں کا ایک انسان ہوں اور تم ہی میں سے ہوں اور میری تمہاری بھائی بندی بھی ہے میں تم سے اچھی طرح واقف ہوں اور تم بھی مجھ سے اچھی طرح واقف ہو کہ میں تم میں ہی میں رہ کر جوان ہوا ہوں اور مجھے اللہ نے رسول بنا کر تمہاری طرف مبعوث کیا ہے اب اگر میری رسالت اور امانت میں تم کو کسی طرح کا کلام ہے تو اس کو واضح کرو ۔ سیدنا نوح (علیہ السلام) کی طرح انہوں نے بھی قوم کے سامنے ہر وہ بات رکھی جو آپ سے پہلے سیدنا نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کے سامنے رکھ چکے تھے لیکن قوم نے بھی وہی کچھ کیا جو قوم نوح نے سیدنا نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کیا تھا ۔ قرآن کریم نے بھی حرف بحرف ان دعوتوں کو ایک ہی طرح پیش کیا ہے جیسا کہ آیات کریمات سے صاف صاف معلوم ہو رہا ہے ۔
Ayah 26:126ہود (علیہ السلام) نے کہا کہ اے قوم ! اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو :
126۔ عاد میں ایماندار تو چند ہی لوگ تھے باقی تمام سرکش اور متمرد انسانوں کا ایک بہت بڑا گروہ تھا ان کو حضرت ہود (علیہ السلام) نے عار دلائی کہ تم کو جس اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے پیدا کیا اور تم پر انعامات کی بارش کی ہے تمہیں ایک بڑی قوم بنایا ہے ‘ تمہیں صاحب فن بنا کر ارد گرد کی قوموں پر فوقتی دی ہے اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے میں تم ذرا جھجھک محسوس نہیں کرتے حالانکہ تمہارے ان شریکوں نے تو دنیا میں کبھی بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ تو خود بھی مخلوق ہیں لیکن ہود (علیہ السلام) کی یہ نصائح انکو ایسے لگیں جیسے زخم پر نمک انہوں نے اللہ تعالیٰ کا ڈر اختیار کرنے کی بجائے سرکشی کرنا شروع کردی اور نوح (علیہ السلام) کی قوم کی طرح ہود (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت سے انکار کردیا اور پیروی کرنے کی بجائے مخالفت پر تل گئے ۔
Ayah 26:127اے قوم میں تم سے کچھ اجر تو نہیں مانگتا میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے :
127۔ قوم کے لوگوں نے بھی جھٹ جواب دیا کہ اگر آپ اجر نہیں مانگتے تو ہم کونسا اجر تم کو دے رہے ہیں تم کہتے ہو کہ میرا اجر اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے اور ہم کہتے ہیں کہ تم نبوت و رسالت کے دعوی میں بھی سچے نہیں ہو ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ آپ ایک انسان ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ انسان کبھی رسول نہیں ہو سکتا چونکہ آپ انسان ہیں ‘ کھاتے پیتے ہیں ‘ چلتے پھرتے ہیں ‘ آپ کے بیوی بچے ہیں آخر آپ کو کس طرح ہم رسول مان لیں اگر آپ کوئی مزدوری طلب نہیں کر رہے تو یہ بھی یقینا آپ کو کوئی فریب ہے اور اب جو تم رب العلمین کا ذکر کرتے ہو تو آخر جن کو ہم اپنے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں وہ بھی تو سارے کے سارے اسی رب العلمین کے پیارے اور ولی ودوست ہیں ۔ دراصل ہمارے خیال میں ہمارے انہی بزرگوں میں سے کسی کی آپ کو مار لگ گئی ہے اس لئے تو اس طرح کی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہیں بھلا جن بزرگوں کو ہمارے باپ دادا مانتے آئے ہیں ان کو ہم تیرے کہنے پر چھوڑ دیں اور وہ مقام ہم آپ کو دے دیں ۔ نہیں ہم تو ایسا نہیں کرسکتے اور جس بڑائی کو تو چاہتا ہے تیرا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا ۔
Ayah 26:128اے قوم کیا تم ہر اونچی زمین پر ایک نشانی فضول بنایا کرتے ہو :
128۔ (ربیع) جمع ہے ریعۃ کی اور ہر ایک اونچی جگہ کو ریعۃ کہا جاتا جو دور سے نظر آتی ہو (غ) راستہ اور وادی کو بھی ریعہ کہا جاتا ہے ایہ سے مراد اس جگہ اونچی عمارت کے کئے گئے ہیں اور یہ اس لئے کہا گیا ہے کہ ان لوگوں کا شیوہ یہ تھا کہ یہ لوگ بڑے بڑے آدمیوں کی یادگار میں بڑی بڑی لمبی چوڑی عمارتیں بنایا کرتے تھے اور ان عمارتوں کو ایہ کا نام دے رکھا تھا اس سے انکی غرض دراصل عرف اپنے نام کی نمود ونمائش تھی اور سمجھتے تھے کہ یہ بلند عمارتیں ہماری قومی اور مذہبی رفعت کا گویا نشان ہیں جیسے آج کل ہمارے ہاں روضے اور خانقاہیں تعمیر کی جاتی ہیں اور جس کو جتنا بڑا مذہبی وسیاسی راہنما سمجھتا جاتا ہے اتنی ہی اس کی یادگار کی عمارت بھی بلند وبالا متصور ہوتی ہے ۔ علی ہجویری کا شہر بھی لاہور ہے اور جگہ بھی کافی ہے اور عمارت بھی اس قدر بلند وبالا ہے جتنے وزراء وامراء ہیں سب اس جگہ جا کر سجدے کرتے ‘ چادریں چڑھاتے اور دیگیں پکا پکا کر تقسیم کرتے ہیں دراصل یہ سب لوگ اسی قوم عاد کی یاد تازہ کرتے ہیں اور قوم عاد کی طرح ان کو جتنا سمجھاؤ یہ لوگ اتنے ہی شرکیہ عقائد پر مزید پختہ ہوتے ہیں لیکن ہمارے علماء ومفسرین ہیں کہ ان عاد کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن ان موجودہ عاد وثمود کو اپنے خدایان وملک سمجھتے ہیں ان کو خوش کرنے کے لئے ان کی طرف کبھی اشارہ نہیں کرتے ۔
Ayah 26:129اور کاریگری کا مظاہرہ کرتے ہو کہ شاید تم ہمیشہ رہو گے :
129۔ یہ لوگ قدیم صناع اور کاریگری میں نہایت ماہر تھے خصوصا انجینئرنگ اور فن تعمیرات کے بہت ہی ماہر تھے لیکن قرآن کریم کے لفظ (تعبثون) کا تقاضا یہ ہے کہ یہ محض عمارات وتعمیرات ضاعی کے شوقین تھے اور اس طرح اپنا شوق پورا کرنے دیتے تھے ضرورت کے بغیر ہی یہ لوگ بڑی بڑی عمارات تعمیر کرتے تھے تاکہ ان کا نام بلند رہے اور لوگ ان کی تعریف میں رطب اللسان ہوں اور یہ بھی کہ تعمیرات ایک مدت مدیر تک چلی جاتی ہیں یعنی سینکڑوں سال تک اس لئے کم ازکم ان کی عمر تک تو ان کا نام روشن رہے گا ۔ ہود (علیہ السلام) ان کو اس فعل عبث سے روکتے تھے کہ قوی ترقی کے لئے کرنے کے کام اور بہت ہیں اس طرح اسراف بالکل بےکار ہے ، قرآن کریم نے بھی اسی طرح اشارہ کیا ہے کہ یہ لوگ عمارات اس لئے تعمیر کرتے تھے تاکہ ان کا نام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ وجاوید رہے اور حقیقت یہ ہے کہ آج جن لوگوں نے اپنے ناموں کو زندہ رکھنے کی اتنی سرتوڑ کوشش کی ان کا نام کسی ایک زبان پر بھی جاری نہیں لیکن جو شخص ان کو اس کام سے باز رکھنے کے لئے مبعوث ہوا اس کا نام آج تک زندہ ہے اور رہتی دنیا تک رہے گا ، اس فعل عبث سے ہود (علیہ السلام) نے ان کو روکا اور وہ ہود ہی کے دشمن ہوگئے اور ان کی بات پر کبھی کان نہ دھرا۔
Ayah 26:130جب تم کسی پر گرفت کرتے ہو تو بڑی بےدردی سے گرفت کرتے ہو :
130۔ جو قوم مال و دولت کی ریل پیل رکھتی ہے اور اسی طرح دوسرے وسائل کی ان کی ہاں فراوانی ہوتی ہے وہ ہمیشہ افراط وتفریط میں ضرور مبتلا ہوجاتی ہے کیونکہ اس نے جو کچھ کرنا ہے صرف اپنی ” انا “ کی تسکین کے لئے کرنا ہے انکے ہاں جائز وناجائز کی کوئی بحث نہیں ہوتی جو کچھ وہ کریں وہ جائز ہوتا ہے اور جو وہ نہ کریں وہی ناجائز ہوتا ہے یہ گمراہی افراد میں بھی ہوتی ہے اور قوم میں بھی اس لئے ان کی عادات میں یہ بات بھی داخل تھی کہ یہ جب کسی کو پکڑتے تھے تو بہت سخت پکڑتے تھے یعنی ان کی پکڑ کا معیار صرف طاقت تھی اگر پکڑنے والا طاقت ور ہے تو کمزور کو یوں سمجھو کہ بس کھا ہی جائے گا اس قوم کا اگر کسی کمزور قوم کے ساتھ واسطہ پڑگیا تو ان کو محکوم بنانے کے لئے جو چاہا کر گزرے چونکہ اسلام کی نظر میں اس کو فساد فی الارض کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اس لئے ہود ان کو اس طرح کی زیادتیوں سے روکتے تھے انکو فرمایا کہ لوگو تم جتنی جنگیں بھی لڑتے ہو یہ سب کی سب جبارانہ ہیں اور اس چیز کا نام ظلم و زیادتی ہے جو کسی حال میں بھی کسی قوم پر جائز نہیں ہے ۔
Ayah 26:131اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو :
131۔ زیر نظر آیت میں ہود (علیہ السلام) نے وہی بات ارشاد فرمائی جو اس سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کہہ چکے ہیں اور قوم کو مسلسل سمجھانے کے بعد ہر نبی نے آخری مرحلہ میں پہنچ کر قوم کو یہی نصیحت کی کہ اے قوم ابھی وقت نہیں گزرا اور تمہارے لئے موقع موجود ہے کہ اپنی من مانیوں سے باز آجاؤ اور میری اطاعت وفرمانبرداری کرو اس طرح آخری حجت پوری ہوگئی اور اسکے بعد وہ مقرر وقت آگیا جو گزشتہ قوموں کی تاریخ ہمارے سامنے پیش کر رہی ہے لیکن جس طرح قوم نے اس سے کوئی سبق حاصل نہ کیا اس طرح انہوں نے اس آخری ہدایت کو بھی باوجود کو بھی سننے کے باوجود ان سنی کردیا اور نتیجہ وہی نکلا جو پہلے نکلتا آ رہا تھا ۔ ہود (علیہ السلام) کی آخری نصائح کا سلسلہ ابھی جاری ہے ۔
Ayah 26:132اس سے ڈرو جس نے تم کو وہ چیزیں عطا کیں جو تم جانتے ہو :
132۔ سیدنا ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی صفت جبار و جلال اور جبروت کی بجائے جو انعامات کے حوالہ سے ڈرایا کیوں ؟ اس لئے کہ یہ وہ صفات تھیں جن کو وہ خود ایک حد تک اپنا چکے تھے بلاشبہ اگر سیدنا ہود (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی ان صفات قاہرانہ کا ذکر کرکے ڈراتے تو وہ مزید بپھر جاتے ، انبیاء کرام (علیہ السلام) کی فراست کا یہ کمال ہے کہ وہ لوگوں کی عقول کے مطابق بات کرتے ہیں تاکہ انکو جزبز کرنے کی بجائے اگر اصلاح ممکن ہو تو ہوجائے ورنہ ان کی حالت پہلے سے بھی زیادہ نہ بگڑ جائے کیونکہ انکے ذہن میں ہر حال میں اصلاح ہے افساد نہیں اور بات کا انداز بعض اوقات اصلاح کی بجائے فساد پیدا کردیتا ہے ۔ سیدنا ہود (علیہ السلام) کمال حکمت کے ساتھ ان کو مشفقانہ انداز میں باور کرا رہے ہیں کہ دیکھو جو انعامات اللہ تعالیٰ نے تم پر کئے ہیں اور بغیر طلب کے کئے ہیں تم بھی ان انعامات کا شکریہ ادا کرو تاکہ مزید انعامات کے مستحق ٹھہرو اور ذرا غور کر و کہ اس نے تم کو کیا کچھ دے رکھا ہے ظاہر ہے کہ جو کچھ اس نے تم کو دیا ہے اس کو میں بھی اس قدر نہیں جانتا جس قدر تم اس کو جانتے ہو کیونکہ میں نے تو کچھ دیکھا ہوگا کچھ نہیں اسی طرح کچھ سنا ہوگا کچھ نہیں لیکن تم کو اس نے عطا کیا ہے اس لئے تم میرے سے بھی زیادہ جانتے ہو کہ اس نے تم کو کیا کچھ عطا کیا ہے کیونکہ یہ کچھ تمہارے پاس ہے سب اسی کی عطا ومہربانی سے ہے ۔
Ayah 26:133اسی نے تم کو چار پائے اور بیٹے عطا کئے :
133۔ سیدنا ہود (علیہ السلام) کا توحید الہی کا بیان کس قدر انوکھے انداز کا ہے جس کے ایک ایک لفظ میں توحید اور پیار دونوں بیک وقت ٹپک رہے ہیں لوگ کہتے ہیں کہ توحید کڑوی ہوتی ہے اس کو چاہئے کہ وہ سیدنا ہود (علیہ السلام) کے بیان توحید کا انداز بیان اپنائیں قوم عاد سے بڑھ کر شاید ہی کوئی قوم اکھڑ قسم کی پیدا ہوئی ہو غور کرو کہ جتنی قوم اکھڑ ہے اتنا ہی ہود رسول اللہ کا انداز نرم ہے اس سے معلوم ہوا کہ ایک طرف گرمی ہو تو دوسری سردی سے جو کام چل سکتا ہے وہ دونوں طرف گرمی سے نہیں چل سکتا ہمارے ہاں مقولہ ہے کہ میاں بھی گرم اور میاں کی گولیاں بھی بس اللہ خیر ہی کرے ، بلاشبہ علاج بالمثل بھی ہوتا ہے اور فائدہ بھی کرتا ہے لیکن کب ؟ جب طبیب علاج بالمثل کو نامفید سمجھے اور بعض کی طبیعت اس کی متحمل ہو بلاشبہ سیدنا ہود (علیہ السلام) اپنی قوم کے مزاج شناس ہیں آپ کس میٹھے اور پیارے انداز سے قوم کو سمجھا رہے ہیں کہ میری قوم کے لوگو ! اللہ نے تم پر جو احسانات کئے ہیں ان میں بظاہر جو میں دیکھ رہا ہوں نہیں بلکہ ہر فرد دیکھ رہا ہے وہ یہ بھی ہے کہ اس نے تم پر انعامات پر انعامات دیئے ہیں اور تم کو دولت کے ساتھ بیٹوں کی نعمت سے بھی نوازا ہے گویا مال دیا ہے تو مال کو تقسیم کرنے اور استعمال کرنے والے بھی اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے ورنہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مال بہت ہوتا ہے لیکن اس مال کو استعمال کرنے والا کوئی نہیں ہوتا جس کو استعمال ہوتا دیکھ کر دل خوش ہو فرمایا اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے تم پر کتنے انعامات ہیں کہ جہاں اس نے جانور ‘ باغات ‘ غلہ جات ‘ دولت کے ڈھیر اور بڑے بڑے محلات عطا کئے ہیں وہاں ان ساری چیزوں کو استعمال کرنے والے بھی اس نے عطا کئے ہیں ۔ اگر وہ انعامات کی فروانی کردیتا لیکن ان انعامات کا استعمال کرنے والا ہی تم کو کوئی نظر نہ آتا تو آخر تم اس کا کیا بگاڑ لیتے کیا دنیا میں ایسے لوگ نہیں آئے جن کے پس دنیا کی دولت کا اندازہ نہیں تھا اور ان کے پاس دنیا کا سب کچھ موجود تھا لیکن اس کو استعمال کرنے والا ان کو کوئی نظر نہیں آتا تھا اس لئے وہ ان انعامات کو دیکھ کر جل بھن کر رہ جاتے تھے اور ایک سرد آہ بھر کر خاموش ہوجاتے تھے کیا جس اللہ نے تم کو یہ سب کچھ دیا ہے وہ تم سے لئے نہیں سکتا ؟ کیوں نہیں اس کو لیتے کوئی دیر نہیں لگتی لیکن تم پر اس کا بڑا احسان ہے اور اس احسان کے اندر ہی سمجھ جاؤ اور اس سے فائدہ حاصل کرلو تاکہ اس نے جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں مزید اضافہ فرما دے اور تم اس دنیا میں رہنے کے بعد آنے والی زندگی میں بھی خوش وخرم رہو کیونکہ عیش تو فی الواقع وہی عیش ہے جو آخرت کی عیش ہے ۔
Ayah 26:134اللہ نے تم کو باغات بھی دیئے ہیں اور چشمے بھی :
134۔ سبحان اللہ ! کلام بھی دیکھو اور کلام کا معجزانہ انداز بھی ‘ فرمایا لوگو ! غور کرو کہ اس اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے جہاں تم کو باغات عطاکئے وہاں ان باغات کو سیراب کرنے کے لئے چشمے بھی جو پانی سے ہر وقت بھرے رہتے ہیں اور پھر پانی ان کا نہایت ٹھنڈا اور میٹھا ہے اگر اس نے باغات دیئے تھے تو ان کو سیراب کرنے کے لئے وہ تم کو پانی نہ دیتا تو اسکا نتیجہ کیا ہوتا ؟ لیکن اس نے تم پر کتنا احسان کیا کہ جہاں تم کو طرح طرح کے باغات دیئے وہاں تم کو ان کے سیراب کرنے کے لئے چشموں کا پانی بھی دیا تاکہ تم اپنی مرضی سے جب چاہو ان کو سیراب کرلو اور لطف انداز ہونے کے لئے ان باغات کی سیر کرو اور اپنی مرضی سے پھل توڑو اور استعمال کرو پھر پیاس بجھانے کے لئے چشموں پر جاؤ ‘ ٹھنڈا اور میٹھا پانی پیو اور ان میں تیرو اور نہاؤ تاکہ تمہارا کھایا پیا سب ہضم ہو کر جزوبدن بنے کتنے انعامات ہیں ان ذات اقدس کے تم پر لیکن اگر تم نے انعامات کا شکر بھی ادا نہ کیا اور نافرمانی پر نافرمانی کرتے رہے تو مجھے تمہارے معاملہ میں ایک بڑا خدشہ بھی محسوس ہوتا ہے ۔
Ayah 26:135ایسا نہ ہو کہ اس دن تم کو عذاب کی لپیٹ میں لے لیا جائے جو قیامت کا دن ہے :
135۔ لوگو ! مجھے ایک خطرہ محسوس ہوتا ہے وہ یہ کہ میں دیکھتا ہوں کہ جہاں آسانیاں ہوتی ہیں وہاں دشواریوں سے واسطہ پڑجاتا ہے ‘ جہاں انعامات کی فراوانی ہوتی ہے وہاں عذاب بھی منڈلاتے نظر آتے ہیں ‘ جہاں بجتی ہیں شہنائیاں وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں ، اس دنیا کا سلسلہ اضدادا پر قائم ہے تم اس قدر مست ہوگئے ہو کہ کبھی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کے لئے تیار ہی نہیں ایسی گہری نیند سوئے ہو کہ جاگنے کا نام ہی نہیں لے رہے ایک بار اٹھو ‘ جاگو ‘ ہوش میں آؤ دن کے وقت اتنی غفلت اچھی نہیں ہوتی ابھی تمہاری رات آنے والی ہے اور اس کے اندھیرے بڑے بھیانک ہیں ۔ اگر رات کو آنکھ کھل گئی تو پر یشان ہوجاؤ گے ، میں نے اپنا فرض ادا کردیا اور تم ہو کہ مجھے پاگل اور مجنون سمجھ رہے ہو شاید وقت ایسا آجائے کہ تم سمجھ جاؤ کہ پاگل مجنون میں نہیں بلکہ تم خود ہو ۔
Ayah 26:136وہ بڑبڑا کر کہنے لگے کہ ہم کو نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے برابر ہے :
136۔ قوم کے لوگوں نے ہود (علیہ السلام) کی دلآویز نصائح سنیں لیکن ایک کان سے سن کر دوسرے سے باہر نکال دیں اور تحقیر و استہزاء کے ساتھ آپکا مذاق اڑایا اور ہنس ہنس کر کہنے لگے ہود تم ہم کو نصیحت کرو یا نہ کرو ہمارے لئے یکساں ہے کہ ہم آپ کی بات ماننے والے نہیں ۔ ذرا غور کرو کہ انہوں نے یہ بات کیسے کہہ دی ہاں ! انہوں نے کہہ نہیں دی بلکہ ان سے کہلوائی گئی کیونکہ ان کے پیچھے مذہبی پیشوا تھے جو انکو سہارا دے کر ان سے اس طرح کی باتیں کہلواتے تھے اور سیاسی لیڈر تھے جن کی طاقت ان کے پیچھے کام کر رہی تھی یہی دونوں گروہ ہیں جنہوں نے قوم سے انبیاء کرام اور رسل عظام کا مذاق اڑوایا ، وہ کس ڈھٹائی سے کہنے لگے کہ ہم اس ڈھونگ میں آنے والے نہیں کہ تجھ کو خدا کا رسول مان لیں اور اپنے خداؤں کی عبادت چھوڑ کر یہ یقین کرلیں کہ وہ خدائے اکبر کے سامنے ہمارے سفارشی نہیں ہوں گے ۔
تعجب ہے مان لیا ایسا ہوتا ہے اور ہو رہا ہے کہ بعض اوقات آدمی کسی ناصح مشفق کی نصیحت قبول کرنے سے گریز کرتا ہے تو کم از کم اسی کے دل میں ناصح کی ہمدردی و خیر خواہی کی قدر ہوتی ہے ۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ میں اس کی نصیحت کو قبول کرسکوں یا نہ کرسکوں لیکن یہ مجھے نصیحت کرتا رہے لیکن یہ دل کی قساوت کی آخری حد ہے کہ آدمی جو صرف یہ کہ ناصح کی بات قبول نہ کرے بلکہ اس کی ہمدردی اور دل سوزی کو بھی ٹھکرا دے ، سیدنا ہود (علیہ السلام) کی قوم نے یہی روشن اختیار کی دوسرے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرح جب انہوں نے نہایت دل سوزی کے ساتھ فرمایا کہ لوگو ! میں تم سے ان باتوں کی کوئی قیمت تو نہیں مانگ رہا میری بات سنو تو سہی اور بلاشبہ وہ کوئی قیمت مانگ بھی نہیں رہے تھے تو قوم نے اس دردمندانہ التجا کا یہ جواب دیا کہ تم آرام سے اپنے گھر میں بیٹھو ہمیں تمہاری ان نصیحتوں کی کوئی ضرورت نہیں آپ خواہ مخواہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں اور ہمارا سر کھپا رہے ہیں ہم آپ کی کوئی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ۔
Ayah 26:137یہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں آج سے نہیں یہ تو ہمارے باپ دادا بھی کرتے رہے :
137۔ قوم کے لوگوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ جو تم ہم کو دھمکیاں دے رہے ہو کہ اگر ہم نے تمہاری دعوت قبول نہ کی تو ہم پر آسمان ٹوٹ پڑے گا اور ہم تباہ وبرباد ہوجائیں گے یہ محض کذب ‘ افتراء اور ایک من گھڑت بات ہے جو آپ نے خواہ مخواہ گھڑ لی ہے تمہارے قماش کے لوگ پہلے بھی ہمارے آباء واجدا کو ایسے جھوٹ گھڑ گھڑ کر ڈرایا کرتے تھے اور تم نے بھی وہی روش اختیار کر رکھی ہے ، آپ خود تو اپنی خشک مزاجی کے باعث زندگی کی ان لذتوں سے محروم ہو اور اب یہ چاہتے ہو کہ ہم بھی تمہاری طرح سوکھے ٹکڑے کھائیں اور پھٹے پرانے کپڑے پہنیں اور دنیا کی ان نعمتوں سے لطف انداوز نہ ہوں ، ہمارے باپ دادوں نے جو اتنی اتنی بڑی عمارات بنائی تھیں کہ آج ہم ان کے مقابلہ سے قاصر ہو رہے ہیں تو آخر ان کو کیوں آسمان نہ کھا گیا ۔ بس آپ کو ایک جنون لگ گیا ہے اور اسی جنون کے باعث ایسی باتیں ہم کو کہہ رہے ہیں گویا آپ خود ننگ ہیں اور چاہتے ہیں کہ پوری قوم ویسی ہوجائے دیکھو ہمارے فلاں اتنی بڑی گدی کے مالک ہیں اور انہوں نے فلاں فلاں خانقاہیں تعمیر کرائی ہیں اور مزے سے زندگی کی مسرتیں لوٹ رہے ہیں اور آپ ہیں کہ خواہ مخواہ ہمارے پیچھے پڑگئے ہیں کیا ہمارے سارے باپ دادا غلط تھے اور آپ ہی ایک صحیح آدمی ہیں دراصل آپ شیشے میں خود اپنا ہی منہ دیکھ رہے ہیں اس لئے آپ کو ہر ایک کا منہ برا معلوم ہوتا ہے اور آپ نہیں سمجھ رے کہ وہ منہ کسی دوسرے کا نہیں بلکہ خود آپ کا اپنا ہے ۔
Ayah 26:138آپ بےفکر رہیں ہم کو کوئی عذاب وزاب نہیں ہوگا :
138۔ یہ جو عذاب کا ڈراوا ہم کو بار بار دے رہے ہو اور ہر وقت ہمارے سروں پر سوار کر رکھا ہے اس سے باز آجاؤ تمہارے منہ سے کبھی خیر کی خبر نہیں سنی گئی یہاں آپ جیسے کتنے ہی ہم کو ڈرا ڈرا کر گئے ہم نے مشکل کے ساتھ ان سے جان چھڑائی تھی کہ ادھر سے آپ کھڑے ہوگئے ہم تمہاری باتوں میں آنے والے نہیں اور ہم کو کوئی عذاب وزاب نہیں آئے گا ہمارے بزرگ ہماری پیٹھ کے پیچھے ہیں اور ان کا ہاتھ ہماری پیٹھ پر ہے اور جن لوگوں کی پیٹھ پر ان بزرگوں کا ہاتھ ہو ان کو کون گزند پہنچا سکتا ہے جاؤ اپنا کام کرو اور ہمارا سر نہ کھاؤ ” یہ خبریں ہم کو بہت پہلے دی گئی ہیں اور پہلے ہمارے آباء و اجداد کو بھی دی جاتی رہی ہیں مگر یہ بس افسانے ہی افسانے ہیں جو اگلے وقتوں سے سنتے چلے آرہے ہیں “ (النمل 27 : 68) ان سے کہا گیا کہ ” ذرا زمین میں چل پھر کر تو دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوچکا ہے ۔ “ (النمل 27 : 69) اس کی مزید وضاحت دیکھنا چاہتے ہو تو سورة المومنون کی آیت 83 کی تفسیر عروۃ الوثقی میں دیکھ لیں اس کی وضاحت آپ کو وہاں مل جائے گی ۔