Ayah 26:40فرعون کو یقین تھا کہ ہمارے باپ دادا کا دین ہی کامیاب قرار پائے گا :
40۔ جادوگر دارالسلطنت میں آکر اکٹھے ہونا شروع ہوگئے مقابلہ کا وقت ومقام طے پا گیا اور عام منادی گورنمنٹ کی طرف سے کردی گئی کہ سب لوگ غلبہ قومی حاصل کرنے کے لئے اس میں شرک کریں ، قرآن کریم کے ایک ایک لفظ پر غور کریں اس لئے کہ اس کے ایک ایک لفظ میں مضمون کا دریا بندہوتا ہے قرآن کریم کے الفاظ اس سلسلہ میں کیا ہیں ؟ فرمایا (آیت) ” لعلنا نتبع السحرۃ “۔ تاکہ ہم اپنے جادوگروں کی پیروی کریں ۔ اس جملہ نے ساری حقیقت واضح کردی کہ یہ جادوگر کون تھے اور یہ جادو کا کھیل کیا کھیل تھا اس طرح وہ کونسا اژدھا تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی کے گرتے ہی اس شکل و صورت میں تبدیل ہوگیا ، ساحروں کی راہ کی اتباع کیوں ؟ اور کیسے ؟ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کیونکہ یہی ساحرین دین مصری کے اعیان واساطین تھے اور ان کی بہت شہرت تھی کیونکہ ان کے دلائل اگرچہ فرضی ہوتے تھے لیکن عوام کو مسحور کرنے کے لئے وہ اپنا جواب آپ تھے خیال رہے کہ مذہبی راہنماؤں کے مختلف ادوار میں مختلف نام قرار پائے ، قرآن کریم ‘ احادیث اور تاریخ میں اس کی تفصیل موجود ہے ،
اس طرح فرعون کے زمانہ میں مذہبی پیشواؤں اور وڈیروں کو لوگ ساحر ہی کے نام سے موسوم کیا کرتے تھے اور اس نسبت سے وہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ساحر کہتے تھے اس کی تفصیل آپ کو سورة الزخرف کی آیت 49 میں ملے گی اور ظاہر ہے کہ مذہبی پیشواؤں اور راہنماؤں کی پیروی ہر دور میں کی جاتی رہی ہے اور آج بھی کی جاتی ہے اور تقریبا ہر دور میں مذہبی پیشواؤں کی گرفت بہت سخت گرفت رہی ہے اور اب بھی ہے سیاسی راہنما مذہبی راہنماؤں کا سہارا لیتے ہیں اور مذہبی پیشوا ان لیڈروں کی پناہ حاصل کرتے ہیں اور یہ ان دونوں گروہوں کی مجبور ہوتی ہے ۔
Ayah 26:41ساحروں نے کامیاب قرار پانے کے بعد ملنے والے انعام کی تفصیل چاہی :
41۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ مذہبی پیشواؤں کو سیاسی لیڈروں کی ضرورت ہوتی ہے اور سیاسی لیڈروں کو بھی مذہبی راہنماؤں اشد ضرورت ہوتی ہے زیر نظر آیت میں اس ضرورت کا ذکر ہے جو مذہبی پیشواؤں کو اکثر پیش آتی رہتی ہے اور وہ وقت کے ساتھ ساتھ سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں ان لوگوں کو دربار فرعون میں حاضری کا مخصوص موقعہ حاصل ہوا تو انہوں نے جاتے ہی کامیابی کے بعد کیا انعام ملے گا اس کی وضاحت چاہی ظاہر ہے کہ طالبان دنیا کی نظر مہارت و کمال فن کے باوجود عموما نفع حاصل پر ہی رہتی ہے اور جاتے ہی یہی مطالبہ ان لوگوں نے کیا جو اس وقت تک ابھی اسی حیثیت سے حاضر ہوئے تھے ۔
Ayah 26:42فرعون کی طرف سے ساحروں کو جو جواب سنایا گیا وہ بڑا عجیب ہے :
42۔ یہ تھا وہ بڑے سے بڑا اجر جو ان خادمان دین وملت کو بادشاہ وقت کے ہاں سے مل سکتا تھا ، فرعون نے کہا کہ تم کو صرف روپیہ وپیسہ ہی نہیں ملے گا دربار میں کرسی بھی نصیب ہوجائے گی اس طرح فرعون اور اس کے پیشوایان دین نے پہلے مرحلے پر نبی اور غیر نبی کا عظیم اخلاق فرق خود ہی کھول کر رکھ دیا ، ایک طرف وہ حوصلہ تھا کہ بنی اسرائیل جیسی پسی ہوئی قوم کا ایک فرد ایک مدت تک روپوش رہنے کے بعد فرعون کے دربار میں خدائی پیغام پہنچانے کے لئے آکھڑا ہوتا ہے اور دھڑلے سے کہتا ہے کہ میں رب ذوالجلال والاکرام کا بھیجا ہوا ہوں ‘ بنی اسرائیل کو میرے حوالے کر دے اور پھر فرعون سے دو بدوبات کرنے میں ذرا بھی نہیں جھجھکتا اور دوسری طرف فرعون کے پاس باپ دادا کا دین بچانے کے لئے مذہبی پیشوا لائے جاتے ہیں اور پھر بھی ہاتھ جوڑ کر عرض پیش کر رہے ہیں کہ جناب عالی ہم کو کیا انعام ملے گا ؟ اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرلیا جائے کہ اللہ کا دین پیش کرنے والوں کی کیا شان ہے اور باپ دادا کے دین کے ٹھیکہ داروں کا کیا حال ؟ بدقسمتی سے آج قوم مسلم کے مذہبی پیشواؤں کا وہی حال ہے جو اس وقت تھا اس لئے ہم نے اوپر عرض کیا ہے کہ مذہبی پیشواؤں کو سیاسی لیڈروں کی ضرورت ہوتی ہے اور سیاسی لیڈروں کی ضرورت بھی مذہبی پیشوا ہیں ۔ دونوں کی ضرورت بھی واضح ہوگئی اور دونوں کی ذمہ داری بھی ۔
Ayah 26:43موسیٰ (علیہ السلام) نے آتے ہی ان کو مخاطب کرلیا کہ پیش کرو جو تم لائے ہو :
43۔ اختصار کے پیش نظر درمیان سے ایک حصہ حذف کردیا گیا ‘ فریقین فریقین میدان میں جمع ہوئے میدان میں اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) نے ان مذہبی ٹھیکہ داروں کو مخاطب کرکے تبلیغ دین کی اور ان کو واضح الفاظ میں فرمایا کہ افسوس تم پر ” دیکھو اللہ پر جھوٹی تہمت نہ لگاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ کوئی عذاب بھیج کر تمہاری جڑ ہی اکھاڑ دے تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ پر جھوٹ بولنے والے یقینا نامراد ہو کر رہتے ہیں ۔ “ تفصیل کے لئے سورة طہ کی آیت 61 کی تفسیر پر ایک نظر ڈال لیں بلکہ آیت 62 کا حاشیہ بھی ملاحظہ کریں :
Ayah 26:44انہوں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں :
44۔ سحر اور ساحر کا مفہوم ہم نے اوپر بیان کردیا ہے البیان السحر سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے چونکہ فریقین اپنے اپنے دلائل کو مسکت خیال کرتے ہیں اور انسان کا خاصہ بھی ہے کہ وہ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے ایک بار ایڑی چوٹی کا زور خرچ کرتا ہے یہی ان مذہبی پیشواؤں کو بھی کرنا تھا اور یہی انہوں نے کیا اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر سن کر بعض ان میں سے دل ہار بیٹھے تھے لیکن قدرت الہی کی طرف سے ابھی وہ وقت نہیں آیا تھا کہ وہ اس کا برملا اظہار کردیتے اس لئے وہ اپنے عزم کے مطابق میدان میں آئے اور آتے ہی انہوں نے حسب عادت فرعون کی عزت کی قسم کھا کر کہا کہ ہم یقینا غالب آئیں گے اور ان کو یہ بات بھی معلوم تھی کہ طاقت کا سرچشمہ ان کے ساتھ ہے بلکہ وہ اس سے سیراب شدہ ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) ایک پٹی ہوئی قوم کا فرد ہے وہ ہمارا کیا بگاڑ لے گا لہذا پورے وثوق کے ساتھ وہ جو کچھ اکٹھا کر کے لائے تھے اس کو انہوں نے بیک وقت میدان میں لاڈالا تھا تاکہ سب کی آنکھیں دیکھ لیں اور کان سن لیں ، تفصیل اس کی سورة طہ آیت 66 تا 69 میں ملے گی ۔
Ayah 26:45موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنا عصا پھینکا جو سب کچھ چٹ کر گیا :
45۔ موسیٰ (علیہ السلام) پر انکی لاٹھیوں اور رسیوں نے ایک حد تک اچر ڈالا جیسا کہ فطرت انسانی کے مطابق اکثریت کا دھارا ایک بار اپنا اثر ڈالتا ہے ادھر رب ذوالجلال والاکرام کا حکم ہوا کہ موسیٰ ! جو کچھ تیرے داہنے ہاتھ میں ہے ڈال دے اور قدرت کا تماشا دیکھ کہ کیا ہوتا ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے بحکم خداوندی اپنے دلائل کا عصا بھی ان پر پھینک دیا پھر کیا گیا تھا سب کی آنکھوں کے سامنے وہ ان کی ایک ایک دلیل ہڑپ کر گیا اور انکی کوئی رسی اور لاٹھی بھی میدان مناظرہ میں باقی نہ رہ سکی ‘ سب کا صفایا ہوگیا ۔ تفصیل اس کی دوسرے مقامات کے ساتھ سورة طہ کی آیت 69 میں ملے گی وہاں سے ملاحظہ کریں ۔
Ayah 26:46ساحران فرعون نے جب یہ معاملہ دیکھا تو رب کریم کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوگئے :
46۔ ساحران فرعون جن کو ہم نے اکثر بار مذہبی پیشوا کے طور پر یاد کیا ہے اور بلاشبہ اس وقت تک وہ یہی کچھ تھے لیکن کچھ تو وہ میدان مبازرت میں آتے ہی موسیٰ (علیہ السلام) کی پہلی تقریر سے دل ہار بیٹھے تھے اور جو کسر باقی رہ گئی تھی وہ عین دلائل کے وقت نکل گئے اور حقیقت کو دیکھ کر گویا اللہ نے ان کی عقل کو سیدھا کردیا اور وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوگئے اس طرح ساحران مصر پر آپ کی صداقت روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی اور وہ اپنے ایمان کا برملا اعتراف کرکے اللہ کریم کی بارگاہ میں سجدے میں گر پڑے بلاشبہ اس وقت فرعون کی حالت دیدنی ہوگی لیکن اس مایا کا ستیاس اس کا جادو بھی سارے جادوؤں سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے ، ساحران مصر تو مان گئے لیکن کتنے ؟ وہی جو اس وقت مقابلہ میں آچکے تھے اس لئے زیادہ دیر نہیں لگی ہوگی کہ وہ قوم کے غدار ہوگئے ہوں گے اور ان کی جگہ دوسروں نے لے لی ہوگی اس طرح عوام کے حوصلوں کو انہوں نے بلند کیا ہوگا تاہم جو کچھ ہونا تھا ایک بار تو ہوگیا جس کے نتیجہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو فتح اور فرعون کو شکست فاش ہوگئی لیکن شکست خوردہ لوگ کم ہی شکست کو قبول کرتے ہیں اور خصوصا وہ لوگ جن کو مال و دولت اور دولت وجاہ کی کثرت بھی حاصل ہو اور یہی کچھ یہاں بھی ہوا ۔
Ayah 26:47ساحران مصر نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ربوبیت کا اعلان کردیا :
47۔ اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا اعلان ہی دراصل فرعون کی ربوبیت سے انکار تھا اس لئے دوسرے لفظوں میں اس کا مفہوم یہی ہے کہ ساحران مصر نے فرعون کے رب کا انکار کردیا کہ آج تک جو ہم نے اس کو رب مانا ہمارا نظریہ غلط اور من گھڑت تھا بات واضح ہوگئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اور یدبیضاء کا اصل مفہوم وہی دلائل ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کے متعلق پیش کئے اور فرعون کے رب ہونے کی نفی کی اور ساحران مصر دلائل سے اس کا رد نہ کرسکے اور نہ ہی کرسکتے تھے اس لئے حق نے اپنے حق ہونے کا ان سے اعلان کروا لیا اور انہوں نے برملا اعلان کردیا ۔
Ayah 26:48اصل رب وہی رب ہے جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے :
48۔ ساحران مصر نے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں میدان مناظرہ میں اترے تھے انہوں نے اپنے ایمان کی مکمل وضاحت بھی کردی کہ ہم اس رب کے رب ہونے کا اعلان کر رہے ہیں جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے اور اس طرح مزید وضاحت ہوگئی کہ مشرک کے رب ماننے اور موحد کے رب ماننے میں جو واضح فرق تھا وہ وضاحت کے ساتھ بیان ہوگیا ۔ بلاشبہ مشرکین بھی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو رب مانتے ہیں لیکن ان کے رب ماننے اور موحد کے رب ماننے میں جو خاص فرق ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ مشرک اللہ کو رب کہتے ہیں اور مانتے ہیں اور غیر اللہ میں سے نبیوں ‘ ولیوں اور بزرگوں کو بھی اپنے حاجت روا اور مشکل کشا ‘ بگڑی بنانے والے سمجھتے ہیں اور ان کے نام کے وظیفے پڑھتے ہیں ‘ ان کو پکارتے اور سورتے ہیں حالانکہ یہی وہ شرک ہے جس کے وہ مرتکب ہوتے ہیں آج کے مشرک بھی اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو اپنا رب مانتے ہیں لیکن ساتھ اس طرح کے شرک کے مرتکب ہوتے ہیں اس لئے ان کو خالص توحید کی دعوت دی جاتی ہے اور یہی دعوت انبیاء کرام کی دعوت تھی لیکن افسوس کہ لوگوں نے اس کو کبھی بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی اور ہمیشہ سے شرک اور اسلام دونوں کو ملانے کی کوشش میں مصروف رہے حالانکہ کفر وشرک اور توحید واسلام آپس میں ایک دوسرے کی ضد ہیں اور ضدین کبھی مخلوق میں اکٹھی نہیں ہو سکتیں اور اسی طرح ہر مخلوق کے لئے اس کی ضد کا ہونا ضروری اور لازمی ہے کوئی مخلوق بھی ضد کے سوا ممکن نہیں ۔
Ayah 26:49فرعون نے ساحران مصر کو سازشی اور غدار قرار دے دیا :
49۔ فرعون اور بھرے میلہ میں اس کی یہ حالت اور واضح شکست نے اس وقت کیا سماں باندھ دیا ہوگا لیکن اکثر لوگ یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد پھر بھی خاموشی ہی اختیار کرتے ہیں خصوصا جب کہ شکست کھانے والی کوئی بڑی طاقتور جماعت ہو اور یہی معاملہ اس جگہ ہوا اس کو شکست نہ ماننا تھی اور نہ مانی بلکہ الٹا اس نے اپنے ہی بلائے گئے ساحران مصر کو سازشی اور غدارقرار دیا کہ اچھا ہم تو سمجھ ہی سکے کہ تم لوگ تو دراصل موسیٰ کے ساتھ اندر سے ملے ہوئے تھے اور یہ جو کچھ ہوا تم لوگوں کی ملی بھگت سے ہوا ۔ میرا رب ہونا آج کی بات نہیں تمہارا باپ دادا سے تسلیم ہوتا چلا آرہا ہے دراصل تمہارا تعلق بھی قوم بنی اسرائیل ہی سے ہے اور موسیٰ سے تمہارا تانا بانا مل گیا ہے اور یہ میری حکومت کے خلاف تمہاری ایک سوچی سمجھی سکیم ہے یہی تو وجہ ہے کہ تم نے خود بخود ایمان لانے کا اعلان کردیا اگر تم اندر سے صحیح اور درست ہوتے تو میرے طرف سے اعلان کا انتظار کرتے تم نے ایسا نہیں کیا جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تم آپس میں ملے ہوئے ہو اور تم سب کی حکومت کے خلاف ایک سازش ہے یقینا موسیٰ ہی تمہارا استاد ہے جس نے تم کو یہ طریقہ سکھایا ہے اور ملک سے باہر رہ کر اس نے تمہارے ساتھ یہ سارے تانے بانے بنے ہیں اور وہ باقاعدہ اس سکیم کے تحت ملک میں واپس آیا ہے ‘ اچھا عنقریب تم اپنی اس سازش کا انجام پالو گے ، فرعون ایک زیرک اور ہوشیار حکمران تھا اس طرح کا بیان دے کر اس نے اپنی گرتی ہوئی حکومت کو ایک سہارا دے لیا اور لوگوں کو باور کرا لیا کہ ان دلائل کا یہ نتیجہ نہیں نکلتا تھا جو اس ان لوگوں نے نکالا اور پھر مناظرہ سے پہلے ہی ان لوگوں نے باقاعدہ آپس میں ایک میٹنگ کی اور موسیٰ کے ساتھ یہ لوگ مل کر بیٹھے اور اس کی باتیں نہایت غور سے سنیں اور ایک ہی قوم کے فرد ہونے کے ناطے سے انہوں نے یہ ساز باز کرلی اور جو کچھ میں نے تم سے کہا تھا وہ سوفیصدی صحیح نکلا کہ موسیٰ اور ہارون مل کر اصل باشندوں سے حکومت واپس لینا چاہتے ہیں کیونکہ ان کو ایک بار حکومت کی چاٹ لگ جاچکی ہے اور وہزمانہ ان کو جب بھی یاد آتا ہے تو ان کے منہ میں رال ٹپک پڑتی ہے اب اس کا ایک ہی حل ہے کہ ان لوگوں ایسی سزادی جائے جس کو دیکھ کر دوبارہ کسی کی ایسی ہمت نہ پڑے اس لئے میں اعلان کر رہا ہوں اور میرے اعلان کے مطابق ان کو سزا ملنی چاہئے اس طرح فرعون نے اپنے لوگوں کو ایک بار دوبارہ جم جانے کے لئے مکمل طور پر آمادہ کرلیا اور ساتھ ہی ان ایمان لانے والے ساحروں یا مذہبی پیشواؤں کے لئے سزا کا اعلان بھی کردیا کہ اب تمہارے ہاتھ اور پاؤں خلاف سمت کاٹ دیئے جائیں گے اور تم سب کو سولی چڑھایا جائے گا کیونکہ ہمارے ہاں قوم وملک کے غداروں کے لئے یہی سزا پانا طے پا چکی ہے اگر اس سزا سے زیادہ سخت بھی کوئی سزا دی جاسکتی تو وہ تمہارے لئے تجویز ہوتی لیکن اب اس سزا سے بچنے کے لئے تم کو اپیل کا موقعہ نہیں دیا جائے گا اس لئے آج ہی تم کو سزا کا حکم سنایا جا رہا ہے ۔
Ayah 26:50کل کے ساحروں اور آج کے مومنوں نے اس سزا کو بخوشی قبول کرلیا :
50۔ ایمان کا نشہ بھی ایسا نہیں کہ وہ ایسی گیدڑبھبکیوں سے ہرن ہوجائے وہ جن لوگوں کو چڑھ جاتا ہے ان کو موت زندگی دکھائی دیتی ہے اور وہ اس زندگی کو موت سمجھنے لگتے ہیں جس کا انجام بہرحال موت ہے یہی حال ان ایمان مست لوگوں کو ہوا جو کل کے ساحر اور آج کے سچے مومن تھے انہوں نے بھی فرعون کے اس اعلان پر جو اس نے ان کی سزا کے لئے کیا ذرا پروا نہ کی بلکہ ان کی جرات و شجاعت کے خفیہ جذبات بیدار ہوگئے اور انہوں نے تمام خطرات سے بےنیاز ہو کر اعلان کردیا کہ ہمیں تیری اس سزا کی ذرا پروا نہیں اور ہم اپنے حقیقی پروردگار کی طرف لوٹنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں تفصیل اس کی پیچھے سورة الاعراف کی آیت 135 ‘ 136 ‘ سورة طہ کی آیت 71 ‘ 72 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کرلیں ۔
Ayah 26:51ہم تو اپنے گزشتہ گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں کہ اللہ ہم کو معاف کر دے :
51۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم کو مرنا تو بہرحال ہے آج نہ سہی کل سہی کیونکہ یہ دار فانی ہے اور اس میں کوئی آخر جئے گا تو کب تک ؟ اور ہمارا ایمان ہے کہ ہم کو اسی وقت مرنا ہے جس وقت مرنا ہمارے لئے مقرر ہوچکا ہے پھر ہم کو اسمیں کوئی دشواری آخر ہوگی تو کیوں اور ہم ڈریں گے تو آخر کیسے ؟ اس طرح ہمارا مرنا ‘ مرنا ہی کب ہے بلکہ یہ تو ہماری زندگی کا دن ہوگا اس وقت ہمیں موت وزندگی کے سوال سے بڑا سوال درپیش ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم نے آج تک سچ کو جھوٹ بنانے اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے جو کچھ کیا وہ اللہ کرے کہ ہم سے معاف کردیا جائے ہمیں تو صرف اور صرف یہی ایک فکر لاحق ہے اور ہم خلوص نیت کے ساتھ اللہ سے بخشش ومغفرت طلب کرتے ہیں اور ہم خوش نصیب ہوں گے اگر اس حکومت میں پہلے ایمان لانے والوں میں ہمارا شمار ہوجائے اور پہلے آنے والوں کے لئے جو انعامات اللہ کے ہاں مقرر ہیں انکے مستحق قرار پائیں تو ہمارے جیسا خوش نصیب کون ہوگا ، تیرا اس طرح ہم کو قتل کرنا ہمارے لئے موت کا پیغام نہیں بلکہ زندگی کی ایک خوشخبری ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس خوشخبری سے اگر ہم کو کل دو چار ہونا ہے تو آج ہی جائیں اگرچہ ہوتا وہی ہے جو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو منظور ہے ، تفصیل کے لئے سورة طہ کی آیت 72 ‘ 73 کی تفسیر ملاحظہ کریں ۔
Ayah 26:52موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر سے مع قوم بنی اسرائیل ہجرت کرنے کا حکم :
52۔ اس جگہ موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر سے ہجرت کرنے کا حکم ہو رہا ہے اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہونا چاہئے کہ اس واقعہ کے ساتھ ہی ہجرت کا حکم مل گیا ‘ نہیں ! ہرگز نہیں بلکہ ابھی تو میں فرعون کے مقابلہ میں اس خدائی جماعت کا قیام قرار پایا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت اور حیثیت سے لوگ متعارف ہوئے تھے اگرچہ آپ کے تعارف کے پہلے روز فرعون مکمل شکست کھا گیا تھا لیکن اس نے اپنی چالاکی اور ہوشیاری سے اپنی شکست کے نقصان کو ایک حد تک بچالیا بلاشبہ وہ دشمن تھا لیکن حکومت کی صلاحتیں ضرور رکھتا تھا اس نے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کر کے اپنی مکمل شکست کو ایک بار سہارا دے لیا اور اپنی قوم کا بھرم رکھ لیا ، اس کی قوم کے لوگ جس طرح پہلے آنکھیں بند کرکے اس کی پرستش کرتے آ رہے تھے بالکل اسی طرح دوبارہ شروع ہوگئے ، تاریخ ہمیں ایسی کوئی شہادت پیش نہیں کرتی جس سے اندازہ کیا جاسکے کہ انہوں نے فرعون کی اس شکست فاش سے کوئی اثر قبول کیا ہو بلکہ سورة یونس کی آیت 83 سے ہمیں اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے بہت ہی کم لوت تھے بلکہ چند معدودے نوجوانوں کے سوا کوئی بھی ایمان نہ لایا پھر حالت میں برس ہابرس گزر گئے اور بنی اسرائیل پر اس کی گرفت دن بدن مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی اور اس کا رویہ دن بدن شدت اختیار کرتا چلا گیا یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے شکایت بھی شروع کردی کہ ہم تیرے آنے سے پہلے کیا مصبیت میں گرفتار تھے کہ اب تیرے آنے کے بعد ہوگئے اور یہ سلسلہ ایک مدت تک جاری رہا لیکن اس کے کان پر جوں بھی نہ رینگی اور انجام کار اللہ تعالیٰ نے اپنا حکم نازل کیا کہ اب فرعون کے دن گنے جا چکے ہیں اس لئے اے موسیٰ آپ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے نکل جائیے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے وہی کیا جس کا آپ کو حکم دیا گیا اور ساتھ آپ کو یہ بھی اطلاع دے دی گئی کہ فرعون اور اس کا لشکر یقینا ابھی تمہارا پیچھا کرے گا اور اس طرح جو اللہ تعالیٰ کو کرنا ہے وہ ہو کر رہے گا ۔
Ayah 26:53فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کا تعاقب کیا اور اپنے ساتھ ایک انبوہ کثیر لے گیا :
53۔ حکم الہی کے مطابق جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی ایک خاص تعداد کے ساتھ نکل گئے تو فرعون نے بھی ان کا تعاقب کرنے کا فیصلہ کیا اور انجام کار وہ ایک جم غفیر کے ساتھ بڑے طمطراق سے نکلا اور پورے ملک کے بڑے بڑے لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا وہ چاہتا تھا کہ اب ان لوگوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلایا جائے اس لئے اس نے ایک انبوہ کثیر کے ساتھ ان کا تعاقب کیا ۔
Ayah 26:54اس نے دانت پیس کر کہا اس چھوٹی سی جماعت نے ہماری نرمی سے خوب فائدہ اٹھایا :
54۔ چونکہ ملک بھر سے لوگوں کو اکھٹا کرنا بہت ہی بڑے خطرہ کا الارم معلوم ہوتا تھا اس لئے اس نے اس خطرہ کو ٹالنے کے لئے عام تاثر یہی دیا کہ اس بار تو اس چھوٹی سی جماعت کو پیس کر رکھ دینا ہے قبل ازیں بھی جو مہلت ان کو دی گئی وہ ہماری غلطی تھی اس تحریک کا سر تو پہلے ہی روز کچل دینا چاہئے تھا بہرحال گزشتہ آنچہ گزشت اس دفعہ تو ان کو وہ مار دیں گے کہ ان کا سارا نشہ ہرن ہوجائے گا موسیٰ کے ساتھ نرمی کا سلوک ہمیں بہت مہنگا پڑا ان لوگوں نے ہماری نرمی سے بہت غلط فائدہ اٹھایا ہے اس وقت وہ گویا صحیح معنوں میں برافروختہ ہوگیا تھا لیکن اس کو کیا معلوم تھا کہ اس ساری برافروختگی کا وبال اس کے اپنے ہی سر پر پڑنے والا تھا ۔
Ayah 26:55ان لوگوں نے تو ہم کو بہت ہی غصہ دلایا ہے ہم اپنے کئے پر نادم ہیں :
55۔ ان لوگوں نے بار بار اس طرح کی حرکتیں کی ہیں کہ ہمیں کوئی سنجیدہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا ہے اگر ہم چاہتے تو ان کو اپنا ناشتے کا لقمہ بنا دیتے لیکن ہم نے ان کو نمک کھلایا تھا اس لئے ان بےشرموں کی ہم نے بہت شرم کی آخری ہمارے سامنے انکی حیثیت ہی کیا ہے ؟ اس طرح وہ دانت پیستے ہوئے غصہ سے لال پیلا ہو کر مصر سے نکلا تاکہ بنی اسرائیل کا سمیت موسیٰ وہارون کے تکہ بوٹی کردے ۔
Ayah 26:56حالانکہ ہم ایک بہت مضبوط جماعت ہیں ہمیں ان کا پیچھا کرنے میں خطرہ کیا ہے ؟ :
56۔ حکومت ہمارے پاس ‘ دولت ہمارے پاس ‘ لوگوں کی کثرت ہمارے پاس ‘ وسائل ملک ہمارے پاس ‘ بنی اسرائیل کے پاس ایک قلیل جماعت کے سوا ہے کیا ؟ ہم کو تو چوکنا رہنا چاہئے تھا ہماری سستی کا نتیجہ ہے کہ وہ لوگ یہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور ہمیں کانوں کان کوئی خبر نہ ہوئی آخر ہماری احتیاط کا کیا بنا ؟ جو ہوا سو ہوا اب ہم کو حاضر باش رہنا چاہئے کہ وہ آئندہ ملک میں کوئی گڑبڑ پیدا نہ کرسکیں ۔
اس طرح کی باتیں کہتے ہوئے وہ نکل کھڑے ہوئے اور موسیٰ اور قوم موسیٰ یعنی بنی اسرائیل کا تعاقب کرنا شروع کردیا ۔
Ayah 26:57اس زعم میں ہم نے ان کو چشموں اور باغوں سے نکال باہر کیا :
57۔ کہاوت ہے کہ خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں۔ بلاشبہ یہ بات صحیح ہے ، قدرت نے ان کو ایک ایسی مار دینی تھی کہ اس سے پہلے انہوں نے کبھی نہیں کھائی تھی وہ سمجھتے تھے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی جیت ہم نے ہار میں بدل کر رکھ دی ہے اور اس وقت تو حالات ہی اس وقت سے بالکل مختلف ہیں اب ان کو پکڑنا اور مار مار کر ان کو سبق یاد کرانا آخر کونسا مشکل کام ہے ۔ وہ ایسی باتیں کیوں کررہا تھا ؟ فرمایا اس لئے کہ ہماری سکیم تھی کہ وہ ان کو لاشیء سمجھ کر ان کے پیچھے لگ جائے تو ہم نے اپنی تدبیر سے اس کو مصر سے نکل کھڑا ہونے پر آمادہ ہی نہیں کیا بالکل نکال باہر کیا تاکہ یہ عیش و آرام کی زندگی سے نکال باہر کیا جائے ۔
Ayah 26:58ہم نے اس کو خزانوں اور خوبصورت محلات سے باہر نکال دیا :
58۔ گزشتہ آیت اور زیر نظر آیت میں حکمت خداوندی کا بیان ہے فرمایا ہم نے اس کو اس ترغیب کے ساتھ خوبصورت محلات اور بھرین خزانوں سے باہر نکال لیا تاکہ اس کی ہلاکت کا منظر لوگوں کو دکھائیں اور خصوصا بنی اسرائیل کو تاکہ ان کو موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت پر مکمل یقین آجائے کہ جو کچھ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا تھا وہ حرف بحرف سچ نکلا ۔
Ayah 26:59دراصل اس طرح ہم بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنانا چاہتے تھے :
59۔ فرمایا حقیقت یہ ہے کہ ہم انبیاء ورسل کے مخالفین کے ساتھ ایسا ہی کرتے آئے ہیں ، فرعون نے اپنی طرف سے بڑی چالاکی اور ہوشیاری دکھائی اور سارا لاؤ لشکر اکٹھا کرکے بنی اسرائیل کو سبق سکھانے کے لئے نکلا تھا اور ہم نے اس کو اس ترکیب کے ساتھ مرمٹنے کے لئے نکال باہر کیا تھا اور پھر صرف اسی کو نہیں بلکہ اس کے اعوان وانصار کو بھی کیونکہ وہ اپنے حصے کی عیش و عشرت کرچکا تھا اور جو نئے نئے قانون بنی اسرائیل کے لئے اس نے بنانے تھے وہ بنا چکا تھا اب اس کے حصے کی کوئی بات باقی نہیں رہ گئی تھی جو اس نے کرنا تھا کرچکا تھا اس کے پروگرام تو لمبے چوڑے تھے لیکن اگر ان لمبے چوڑے پروگراموں والے اپنے اپنے پروگرام کی تکمیل کر کے ہی جائیں تو آخر رب ذوالجلال والاکرام کو کون مانے اور تسلیم کرے اور کیونکر یہ فیصلہ ہو کہ مالک اس ملک کا دراصل اللہ تعالیٰ ہے جو سارے لوگوں کی سکیموں کو فیل کرکے رکھ دیتا ہے بڑے بڑے سکیمر اپنی سکیموں کو دیکھ دیکھ کر سسکیاں بھرتے رہ جاتے ہیں اور ان کی وراثت کے خانہ میں کسی دوسرے کے نام کا انتقال ہوجاتا ہے یہاں بھی یہی کچھ ہونا طے پایا تھا اور یہی کچھ ہوا۔
Ayah 26:60دن چڑھتے ہی اس نے بنی اسرائیل کا تعاقب شروع کردیا :
60۔ جب سورج خوب روشن ہوچکا تو فرعون بھی اپنے لاؤ لشکر سمیت قوم بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوا اس کو یقین تھا جو تیز گام سواریاں میرے پاس ہیں وہ بنی اسرائیل کو کہاں دستیاب ہیں ہم ابھی ہوا کی طرح اڑتے ہوئے ان کے تعاقب میں گئے اور ان میں سے ایک ایک کو باندھ کر واپس لائے اور اگر انہوں نے مزاحمت کی کوشش کی تو ان کو تہ تیغ کردیں گے کون ہے جو ہم پر زیادتی کا الزام لگا سکے گا اور کون ہے جو اس طرح کے بھگوڑوں کو اس طرح کی سزا تجویز نہیں کرے گا ۔
Ayah 26:61بنی اسرائیل نے جب دور ہی سے سمجھ لیا کہ ہم پیچھا کئے گئے ہیں تو وہ گھبرا گئے ۔
61۔ بنی اسرائیل کی نظریں تو پہلے ہی پیچھے کی طرف لگی ہوئی تھیں وہ چلتے آگے کو تھے دیکھتے پیچھے کو ’ غلام قوموں کا یہ خاصہ ہوتا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ غلامی ہی کو آزادی سمجھنا شروع کردیتی ہیں اور آزادی کا تصور کلی طور پر انکے ذہن سے محو ہو کر رہ جاتا ہے یہی حال قوم بنی اسرائیل کا بھی تھا وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت پر نکل تو کھڑے ہوئے تھے لیکن ان کے دل ابھی دھک دھک کر رہے تھے اور نظریں پیچھے کو لگی ہوئی تھیں کہ کہیں کچھ ہو ہی نہ جائے جبھی انکی نظریں ایک لشکر پر پڑیں تو ان کو یقین ہوگیا کہ بس مارے گئے ‘ وہ پیچھے نظر دوڑاتے تو فرعون نظر آتا اور اگے کو دیکھتے تو دریا یا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہوا نظر آتا اور سورج کی کرنوں نے اس کے پانی کو اور بھی چمک دار کردیا تھا جونہی انکی نظر فرعونی لشکر پر پڑی تو وہ اوسان خطا کر بیٹھے ان کے ہونٹ موٹے ہونے اور زبانیں سوکھنے لگیں اور ان میں سے اکثریت کی زبانوں پر ایک ہی جملہ تھا کہ موسیٰ ! ہم مارے گئے ۔
Ayah 26:62موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑے اطمینان سے کہا کہ لوگو ! ہمارے ساتھ ہمارا رب بھی ہے :
62۔ مارے گئے کہ صدائیں بلند ہو رہی تھیں کہ بعض نے یہاں تک کہہ دیا کہ کیا مصر کی زمین نے ہماری نعشوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا کہ تو ہم کو وہاں سے نکال لایا اس طرح وہ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی حوصلہ پست کرنے والی باتیں کرنے لگے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑے پروقار انداز سے پورے اطمینان کے ساتھ فرمایا کہ لوگو ! تم کو کیا ہوگیا ہے نہ میں اپنی مرضی سے نکلا اور نہ اپنی مرضی سے ہی میں نے یہ راستہ اختیار کیا اور نہ ہی میں اکیلا ہوں میں نکلا تو اللہ کی مرضی سے ‘ میں نے راستہ اختیار تو اللہ کی رضا سے اور پھر میں اکیلا نہیں بلکہ میرا دوسرا بھی میرے ساتھ ہے یعنی اللہ بھی میرے ساتھ ہے پھر میں کیسے تسلیم کرلو کہ ہم مارے گئے اور کیونکر کہوں کہ ہم نے غلط راہ راختیار کی اور کیسے کہوں کہ میں اکیلا ہوں اس لئے جو کچھ میں دیکھتا ہوں تم دیکھ ہی نہیں سکتے ، اس قومی بددلی کے ساتھ وہ چلتے رہے تا آنکہ اس جگہ کے قریب پہنچ گئے جہاں سے پانی پایاب تھا اور اللہ نے جہاں سے نکل جانے کا موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا ؟ موسیٰ (علیہ السلام) تو پہلے (کلا) ہرگز ایسا نہیں ہوگا کہ صدائیں ان کو دے رہے تھے لیکن جب وہ جگہ آئی جہاں کی نشاندہی گئی تھی تو اچانک رک گئے۔
Ayah 26:63ہم نے وحی کی موسیٰ ٹھہر جاؤ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے تم لوگوں کو دریا پار کرنا ہے :
63۔ موسیٰ (علیہ السلام) وحی الہی کے مطابق رکے اور اپنی لاٹھی سے دریا کے کنارے پر دو نشان وقفہ کے ساتھ لادیئے اور نشانات سے ان کو بتایا کہ یہاں سے یہاں تک کے درمیانی راستہ سے تم لوگ پار نکلتے چلو اور گھبراؤ نہیں کیونکہ گھبرانے کی اس میں کوئی بات نہیں اس جگہ پانی پایاب ہے اور علاوہ ازیں دوسری جگہوں پر دریا کی گہرائی اس قدر ہے کہ گویا اس میں کوئی چیز گری اور بھسم ہو کر رہ گئی ، بنی اسرائیل گھبرائے ہوئے تو پہلے ہی تھے وہ اس جگہ سے جہاں سے موسیٰ (علیہ السلام) نے پانی میں اترنے کا حکم دیا تھا اترے اور فرعونیوں کے دیکھتے ہی دیکھتے پار ہونا شروع ہوگئے ۔
Ayah 26:64اللہ نے اپنی سکیم کے مطابق فرعونیوں کو بھی ان کے محاذ پر لاکھڑا کیا :
64۔ غور کرو کہ گویا دریا کا پانی ” ا “ سے ” ب “ کی طرف بہہ رہا ہو جیسے اس خط میں ب۔۔۔۔۔۔۔ ا مقام ” الف “ سے بنی اسرائیل پار ہو رہے تھے اور مقام ” ب “ عین ا کے محاذ پر فرعون بھی لشکر سمیت پہنچ گیا لیکن وہ مقام الف کی طرف نہیں گیا تاکہ زیادہ دیر نہ لگے اور وہ بنی اسرائیل کو آگے بڑھ کر روک لے اور ان کو کئے کی سزا دے لیکن اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے اس کو مقام ” الف “ کی طرف نہ لے جا کر بلکہ مقام ” ب “ کی طرف اس کا منہ موڑ کر اس کے غرق ہونے کے مقام کی طرف پھیر دیا اور اس طرح تدبیر الہی نے بنی اسرائیل کو دکھا کر ان کی آنکھوں کے سامنے اس لشکر کے ایک ایک فرد کو ڈبو کر رکھ دیا ۔ اس کی تفصیل ہم پیچھے عروۃ الوثقی میں سورة البقرہ کی آیت 50 ‘ سورة الاعراف کی آیت 135 ‘ سورة یونس کی آیت 90 ‘ 91 میں بیان کرچکے ہیں ۔
Ayah 26:65اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم بنی اسرائیل کو بچالیا :
65۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مع آپ کی قوم کے بخیریت پار کردیا لیکن فرعون اور اس کے پورے لشکر کو ان کی آنکھوں کے سامنے غرق کر کے رکھ دیا اور اس طرح اپنی سنت کو پورا کر دکھایا کہ میرے رسولوں کی مخالفت کرنے والے کبھی میرے عذاب سے بچ نہیں سکتے بلاشبہ فرعون اور اسکے اعوان وانصار نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک عرصہ تک نہایت حد تک تنگ رکھا لیکن جو کچھ انہوں نے کیا صرف زور اور طاقت سے کیا لیکن انجام کا وقت آیا تو کامیابی کس کے حصہ میں آئی ؟ ہر وہ شخص جو اس واقعہ کو پڑے گا کہے گا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے حصہ میں ۔ قرآن کریم نے دریائے نیل یا بحر قلزم سے پار ہونے کا جہاں بھی ذکر کیا اس میں دکھانا صرف یہی مقصود تھا کہ انجام کار کامیابی موسیٰ (علیہ السلام) کے حصہ میں آئی کیونکہ یہی مقصود اصل تھا لیکن اس نے پار ہونے کی تفصیلات اس طرح بیان کی کہیں جس طرح تورات میں بیان کیا گیا جو آج بھی تورات میں موجود ہے جیسے خروج باب 12 آیت 21 تا 27 میں بیان ہے تورات کا مقصد بیان یہ دکھانا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس طرح اللہ نے کامیاب کیا اور قرآن کریم کا مقصد بیان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کے لئے اس طرح اسباب پیدا کردیتا ہے یعنی اس کا جو بندہ بھی اس کی ذات پر انحصار کرکے اس کے بتائے ہوئے وسائل کے مطابق عمل کرتا ہے وہ اس کی مدد فرماتا ہے اس لئے دونوں بیانوں میں جو فرق پڑتا ہے وہ صاحب عقل وفکر کی نگاہ کے سامنے ہے ہمارے مفسرین کی اکثریت وہ طریقہ بیان پسند کرتی ہے جو تورات نے اختیار کیا ہے یا شارحین تورات نے بیان کیا ہے اس لئے وہ قرآن کریم کی آیات کی تفسیر کرتے وقت ان پورے واقعات کو تورات سے اٹھا کر قرآن کریم کی آیات کی تفسیر میں بیان کردیتے ہیں ہمیں بیان کا وہ طریقہ زیادہ پسند ہے جو قرآن کریم نے خود اختیار کیا ہے اور ایک واقعہ کی دوسری جگہ وضاحت خود قرآن کریم نے کردی ہے ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں ۔ قارئین کی اپنی مرضی ہے وہ جو طریقہ پسند کریں اسی طرح بیان کرتے رہیں لیکن ایک دوسرے کو مورد الزام دینے کی ضرورت نہیں ۔ کاش کہ ایک قابل غور بات پر اس طرح غور کرلیا جائے اور قرآن کریم ہی سے سمجھنے کی کوشش کی جائے ، بہرحال زیر نظر آتی میں مختصر بات یہی بیان فرمائی ہے کہ انجام کار موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے دریا یا بحر قلزم سے بخیریت پار کردیا اور ان میں سے کسی کا بال بھی بیکا نہیں ہوا حالانہ قوم بنی اسرائیل کے چند معدودے آدمیوں کے سوا کسی کو بھی اس طرح دریا عبور کر جانے کی کوئی امید نہ تھی ۔
Ayah 26:66فرعون اور فرعون والوں کو اللہ نے غرق کردیا ۔
66۔ قوم بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے جب کہ دونوں مقام ا اور ب میں چند گزوں کا فاصلہ تھا اور ایک دوسرے کو بالکل دیکھ رہے تھے کہ فرعون اور فرعون کے ساتھیوں کو غرق کردیا گیا حالانکہ ان میں سے کسی ایک کو بھی اس بات کا خیال تک نہیں تھا کہ کبھی ہمارے ساتھ ایسا بھی ہو سکتا ہے یعنی ہم غرق بھی ہو سکتے ہیں ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ ایک کے پاس اللہ تعالیٰ کا بتایا ہوا راستہ تھا اور وہ ہر معاملہ میں اس قدر محتاط تھا کہ وہ حکم الہی کے سوا ایک قدم بھی ادھر ادھر اٹھانے کے لئے تیار نہ تھا اور دوسرے کے پاس دنیا کی ہر طاقت اور ہرچیز موجود تھی لیکن اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ہدایت و راہنمائی موجود نہ تھی وہ جو کچھ کرتا تھا وہ صرف اور صرف اپنی مرضی اور من مانی کرتا تھا اس وقت بھی اس نے وہی کیا جس کے کرنے کا وہ عادی تھا اور اس کا نتیجہ بھی وہی نکلا جو من مانیاں کرنے والوں کا آخر کار نکلا کرتا ہے اور من مانیاں کرنے والوں کو جو ڈھیل دی جاتی ہے وہ قانون الہی کے مطابق ہے کہ ہر من مانی کرنے والے کو فورا ہی نہ پکڑ لیا جائے بلکہ اس کو اپنے اختیار سے کرنے کی اس وقت تک اجازت ہونی چاہئے تاکہ وہ جواب دینے کے قابل ہوجائے ۔
Ayah 26:67اس قصہ میں بڑی نشانیاں موجود ہیں اگر وہ ان کو دیکھنا چاہیں :
67۔ وہ لوگ جو بات بات پر نشانی طلب کرتے ہیں اگر قرآن کریم کی ان آیات پر غور کریں تو کیا ان آیات میں نشانیوں کی کوئی کمی موجود ہے ایک ایک واقعہ قرآنی اپنے اندر بیسیوں نشانیاں رکھتا ہے لیکن ان نشانیوں پر کوئی غور وفکر کرنے کے لئے تیار ہی نہیں بلکہ ہر آدمی اس نشانی کو نشانی ماننے کے لئے تیار ہے جب اس کی منہ مانگی نشانی اس کو اسی وقت پیش کردی جائے اور عقل کے کو تایہ لوگ منہ مانگی نشانی طلب کرتے ہیں تو بچوں کی طرح کہ مجھے دودھ میں پانی ڈال کے دو اس کو سمجھایا گیا کہ اس کا نقصان ہوگا لیکن ضدی کو نفع ونقصان سے غرض ہی کب ہوتی ہے پھر اس کی ضد کے پیش نظر اگر پانی ڈال دیا گیا تو جھٹ بولے گا نہیں مجھے یہ پانی اس سے الگ کرکے دو پھر الگ سے دیئے گئے پانی کو وہ لینے کے لئے تیار بھی نہیں وہ تو وہی پانی چاہتا ہے جو اس دودھ میں اس کی ضد کی بنا پر ڈال دیا گیا تھا پھر اس طرح وہ چاہتا کیا ہے یہی کہ جب اللہ قادر ہے تو پھر ایسا کر کیوں نہیں دیتا اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ قادر کیونکر ہے پھر اگر یہ ایک ہی کو دن ہوتا تو شاید اللہ میاں اس کی مرضی کے مطابق کرتا بھی رہتا لیکن ایسے کو دنوں اور بیوقوفوں کی تو کوئی کمی ہی نہیں پھر جب سب کے الگ الگ مطالبے ہوں گے اور ایک دوسرے کے خلاف بھی تو آکر اس نظام کے اندر رہ کر ان کے پورے کرنے کئی کوئی صورت ؟ ایک ضدی کی ضرورت ہے کہ ابھی دھوپ ہو اور دوسرا چاہتا ہے کہ ابھی بارش پھر اگر ان دونوں کو ملا کر بھی دیا جائے کہ بارش بھی ہو اور دھوپ بھی ہو پھر بھی دونوں بگڑ گئے کہ میرا مطالبہ تو بغیر دھوپ کے بارش کا تھا اور دوسرا کہتا ہے کہ جناب میرا مطالبہ تو بغیر باش کے دھوپ کا تھا تو آخر نتیجہ کیا رہا ؟ خدا تو بہرحال خدا ہی ہے لیکن کوئی بارش جس کو دھوپ کہا جاسکے اور کوئی دھوپ جس کو بارش مان لیا جائے ؟ اچھا خیر یہ تو ان نشانیاں طلب کرنے والوں کی بات تھی اور ابھی تو ہم نے صرف دو کی بات کی ہے اگر یہ بیسیوں ہی ہوجائیں گے تو پھر کیا ہوگا ؟ بہرحال ایسے میں خدائی اس کی چلے گی کہ جب وہ چاہے گا دھوپ نکال دے گا اور جب وہ چاہے گا بارش کردے گا اور اگر وہ چاہے گا تو بارش بھی ہوگی اور دھوپ بھی اب جو مانتا ہے مانے اور جو نہیں مانتا اس کی بلا سے وہ نہ مان کر بھی دیکھ لے کہ کیا کرسکتا ہے اور پھر اس کو یہی کہا جائے گا اچھا جو تو کرنا چاہتا ہے کرتا جا اور ذرا کر کے دکھا ہاں جب تک اس اللہ نے تجھے ڈھیل دی ہے تو وہی کرسکے گا جس کا تجھے اس نے اختیار دیا ہے اور تجھ کو بتایا ہے کہ یہ تیرے لئے کرنا ہے اور یہ تیرے لئے نہیں کرنا ہے لیکن کرنا یہ کرنا تیرے اختیار میں ہے ‘ ہاں ! تو کرے گا تو اسی اختیار میں رہتے ہوئے اور اس کے اختیار نہ دیئے گئے کام کو تو ہرگز ہرگز کر ہی نہیں سکتا ۔ اب تیری مرضی ہے تو وہ کر جس کے کرنے کا تجھے اس نے حکم دیا اور تیری مرضی ہے کہ تو اس کو کر جس کے نہ کرنے کا اس نے تجھے حکم دیا ہے ایک میں تیرا فائدہ ہے اور دوسرے میں تیرا نقصان ۔ مختصر یہ کہ زیر نظر میں ارشاد فرمایا کہ ” اس واقعہ میں بھی نشانی ہے مگر ان لوگوں میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں “ کیونکہ اکثر کی طلب کے مطابق نہیں دی گئی ۔ اور اگر اکثر کی طلب کی مطابق دی جاتی تو وہ اس کے بعد کہاں ٹک سکتے تھے ۔
Ayah 26:68تیرا رب اے پیغمبر اسلام ! ﷺ زبردست بھی ہے اور پیار کرنے والا بھی :
68۔ اے میرے رسول ﷺ اللہ تعالیٰ اس قسم کے سرکشوں کو جب چاہے پکڑ سکتا ہے اور یہ وجہ ہے کہ وہ جب تک چاہتا ہے ڈھیل دیتا ہے کیونکہ اس کو یہ خطرہ نہیں کہ جب میں چاہوں گا معلوم نہیں یہ پکڑا جائے گا یا نہیں لہذا وہ عین ایسے وقت بھی کہ وہ خود سمجھتا کہ شاید میں پکڑا گیا وہ اس کو چھوڑ دیتا ہے اور بالکل اسی طرح ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کے سان گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ یہاں سے اس کو پکڑ لیا جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ اس کو پکڑ لیتا ہے اس لئے کہ یہ پکڑنا اور چھوڑنا اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق ہے یہ دنیا کے کسی حکمران کے قانون کے مطابق پکڑنا یا چھوڑنا نہیں ۔ ہاں ! وہ انسانوں کو توبہ واصلاح کی مہلت دیتا ہے اور یہ اس کے پیار کا تقاضا ہے اور وہ بیک وقت عزیز بھی ہے اور رحیم بھی اور اسی میں سارا راز ہے جو سمجھنا چاہتا ہے وہ سمجھ لے اور جو نہیں سمجھنا چاہتا وہ بالکل نہ سمجھے کسی کے سمجھنے سے اس کا کوئی فائدہ اور کسی کے نہ سمجھنے سے اس کا کوئی نقصان ہرگز ہرگز نہیں۔ اس آیت پر اس سورت میں موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت ختم کی جارہی ہے اور سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی سرگزشت کے چند نصائح ذکر کی جائیں گی ۔
Ayah 26:69اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ﷺ اب ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کی طرف آؤ :
69۔ قرآن کریم نے جتنے انبیاء ورسل کا ذکر کیا ہے ان میں سے چار پانچ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے گزرے ہوں گے باقی سب آپ ہی کی ذریت سے تعلق رکھتے تھے اس لئے آپ جد انبیاء کے نام سے معروف ہیں ۔ قرآن کریم میں ان کا ذکر اکثر مدنی سورتوں میں آیا ہے اور ایک دو مکی سورتیں بھی ہوں گی اس میں پہلے آپ کے واقعہ کی تفصیلات سورة البقرہ کی آیات 124 تا 136 ‘ 140 ‘ 158 ‘ 160 وغیرہ میں بیان کی ہیں سورة آل عمران کی آیت 33 ‘ 35 ‘ 67 ‘ 68 ‘ 95 ‘ 97 میں سورة النساء کی آیات 54 ‘ 125 ‘ 163 میں ‘ سورة الانعام کی آیات 74 ‘ 75 ‘ 83 ‘ 151 ‘ سورة التوبہ کی آیات 70 ‘ 140 ‘ سورة ہود کی آیات 69 ‘ 74 ‘ 75 ‘ 76 ‘ سورة ابراہیم کی آیت 36 ‘ سورة النحل کی آیات 120 ‘ 123 ‘ سورة الانبیاء کی آیات 51 ‘ 60 ‘ 62 ‘ 69 میں بیان کیا گیا ہے اور زیادہ تفصیل سورة البقرہ ہی میں ملے گی ۔ زیر نظر آیت سے بھی ان کی سرگزشت کی چند نصائح ذکر کی گئی ہیں بلکہ نبی اعظم وآخر ﷺ کو ان کے شروع کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے ۔
Ayah 26:70ابراہیم نے اپنے والد اور قوم سے سوال کیا کہ یہ کیا ہے جن کی تم عبادت کرتے ہو ؟
70۔ آپ نے اپنے والد بزرگوار اور قوم کے دوسرے بزرگوں سے استخفاف کی نوعیت سے استفسار فرمایا کہ یہ کیا فضول چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو کیونکہ یہ خود تو آپ کی اپنی تخلیق یعنی بنائی ہوئی مورتیاں ہیں اور پھر جن کی یہ مورتیاں تم نے تیار کی ہیں وہ بھی سب کے سب مخلوق تھے اور تعجب ہے تم پر کہ تم ان مخلوق در مخلوق چیزوں کی پرستش کر رہے ہو جب کہ کسی بھی مخلوق کی پرستش کا کوئی جواز نہیں ۔
Ayah 26:71جو آپ نے دیکھا تھا وہی والد اور قوم سے بیان کردیا :
71۔ والد اور قوم کی طرف سے ابراہیم (علیہ السلام) کو جواب دیا گیا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور انہی کے پاس ہم لگے بیٹھے رہتے ہیں ۔ سائل نے کیا پوچھا اور مسئول نے جواب دیا ؟ وہی جو دونوں کے سامنے واضح اور عیاں تھا لیکن پوچھنے والے نے ایک بات واضح نہ کی بلکہ اشارہ کنایہ میں پوچھا گویا جس چیز کو رمز کہتے ہیں آپ نے رمز میں پوچھا ‘ انہوں نے بھی رمز ہی میں جواب دے دیا حالانکہ پوچھنے والے کی مراد کو بھی وہ اچھی طرح سمجھتے تھے ۔
بلاشبہ وہ اپنے انداز میں کہہ رہے تھے کہ ہاں ! ہم کو معلوم ہے کہ یہ لکڑی اور پتھر کے بت ہیں لیکن ہماری مراد تو بھی جانتا اور سمجھتا ہے کہ اگر یہ بت ہیں تو آخر کوئی چیز تھی نا جس کے یہ بت بنائے گئے ہیں اور ظاہر ہے کہ ان کو سامنے رکھنے سے ہماری مراد اپنے تصور کو مضبوط کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں اور ہمارا تعلق تو تو بھی جانتا ہے کہ انہیں بزرگوں اور ولیوں سے ہے جن کے یہ بت بنائے گئے ہیں فی نفسہ تو بھی یہ جانتا ہے کہ یہ بت ہیں اور ہم کو بھی یہ بات معلوم ہے پھر پوچھنے کا مطلب کیا ؟ اے ابراہیم ! یہ بات بھی تجھ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم ان بتوں کو نہیں بلکہ عقیدتا انہی لوگوں کو اپنے حاجت روا جانتے اور مانتے ہیں جن کے یہ بت بنائے گئے ہیں اور یہ حال آج قبر پرستوں کا ہے کہ کہنے کو تو ان کو بھی قبر پرست ہی کہیں گے کیونکہ وہ مخصوص قبروں کے چکر لگاتے ہیں لیکن دراصل وہ اپنے حاجت روا اور مشکل کشا تو ان صاحب قبر لوگوں ہی کو سمجھتے ہیں نہ کہ فی نفسہ قبروں کو ۔
Ayah 26:72ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ آخر تم ان کو پکارتے ہو کیا یہ تمہاری پکار سنتے ہیں ؟
72۔ کسی کو بلانے اور پکارنے کا مطلب کیا ہوتا ہے ؟ یہی کہ وہ میری بات سن کر جو میں کہتا ہوں وہ کرے ، اس ورطہ سے پکارا تو بہرحال اس کو جائے گا جس کے متعلق یقین ہو کہ وہ میری پکار کو سن رہا ہے ۔ وہ مدد کرے گا یا نہیں یہ دوسری بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ کو ہم کیوں پکارتے ہیں ؟ اس لئے کہ ہمارا ایمان ہے وہ ہر جگہ موجود ہے اور ہر پکارنے والے کی پکار کو وہ سنتا ہے اگرچہ وہ کسی کو بھی دکھائی نہیں دیتا ‘ نہ پہلے کبھی دکھائی دیتا تھا ‘ نہ اب دیتا ہے اور نہ کبھی اس نظام دنیا میں وہ کسی کو دکھائی دے گا ، لیکن پہلے بھی وہ ہر جگہ موجود تھا ‘ اب بھی ہے اور رہتی دنیا تک جب تک یہ نظام قائم ہے موجود رہے گا پھر ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ ہر ایک کی سنتا ہے اور اگر وہ چاہے تو مدد بھی کرسکتا ہے ، غیر اللہ کو ہم اسی وقت بلا سکتے ہیں یا پکار سکتے ہیں جب وہ ہم کو نظر آئے یا ہمارے علم میں ہو کہ وہ آڑ میں ہے لیکن میری آواز اس تک پہنچ رہی ہے وہ میری آواز سن رہا ہے اور میری مدد کرسکتا ہے جس طرح روزانہ ہم ایک دوسرے کو اپنی ضروریات کے مطابق پکارتے اور بلاتے ہیں اور ایک دوسرے کے کام آتے ہیں اب ہم اگر کسی کو رسول ونبی اور بزرگ وولی جانتے اور سمجھتے ہوئے اپنی کسی ضرورت کے لئے پکاریں گے یا بلائیں گے خواہ اگر وہ وفات پا چکا ہے تو اس کی قبر پر جا کر یا گھر بیٹھ کر تو ظاہر ہے کہ ہمارا عقیدہ یہ ہوگا کہ یہ نبی ورسول یا ولی و بزرگ دکھائی نہ دینے کے باوجود ہماری بات کو سنتا ہے تو گویا ہم نے اس کو اللہ رب العزت کے ساتھ اس صفت میں شریک سمجھ لیا اور یہی شرک ہے اور پھر ہم یہ عقیدہ بھی رکھیں کہ یہ ولی و بزرگ اگر چاہے تو مدد بھی کرسکتا ہے یا کسی اور مدد کرسکنے یا کر اسکنے کی طاقت کا اس کو مالک بھی سمجھا تو گویا اس صفت میں ہم نے اس کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا دیا کیونکہ شرکت کا لفظ اس بات پر بولا جاتا ہے کہ ایک چیز پر دو یا دو سے زیادہ کی شراکت ہو خواہ برابر یا کمی بیشی کے ساتھ اگرچہ وہ روپے میں ایک پیسہ ہی ہو ۔ اسی باعث سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد اور قوم کے لوگوں سے یہ استفسار کیا کہ وہ لوگ جن کے تم نے یہ بت بنا رکھے ہیں کیا جب تم ان کو پکارتے ہو تو وہ تمہاری پکار سنتے ہیں ؟
Ayah 26:73ابراہیم (علیہ السلام) کا دوسرا سوال جو پہلے سوال کے ساتھ ہی منسلک تھا :
73۔ سوال ایک ہی تھا لیکن تفصیل کے لئے آپ جزجز کرکے اس کی وضاحت طلب کی تاکہ انکی بتائی ہوئی وضاحت کے مطابق سوالات کا مزید سلسلہ آگے بڑھ سکے ، آپ نے اپنے سوال کے دوسرے جزء میں یہ استفسار فرمایا کہ کیا تم کو یہ کوئی نفع ونقصان پہنچا سکتے ہیں ؟ اس طرح گویا اس بات کا فیصلہ خود بخود ہوجائے گا کہ آیا وہ نفع ونقصان پہنچانے کا اختیار رکھتے ہیں یا نہیں ؟ ظاہر ہے کہ اگر وہ نفع ونقصان پہنچا سکتے ہیں تو وہ اختیار بھی رکھتے ہوں گے ، رہی یہ بات کہ نفع کے لئے تو خیر پکارا نقصان کرانے کے لئے کسی کو کوئی کیا پکارے گا ؟ تو اس کا مطلب یہ نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ انسان جس کے متعلق یہ علم رکھے کہ فلاں آدمی میرا یہ نقصان کرسکتا ہے تو اس سے اپیل کی جاسکتی ہے کہ مہربانی فرما کر وہ میرا یہ نقصان نہ کرے اس طرح ہونے والے نقصان سے آدمی بچ سکتا ہے اگر وہ اپیل نہیں کرے گا تو نقصان پہنچانے والا کہہ سکتا ہے کہ تم نے مجھے بتایا تو نہیں تھا کہ اس طرح میرا نقصان ہے لہذا آپ میرا نقصان نہ کریں اور اس بات کو ہر آدمی اچھی طرح سمجھتا ہے ، والد نے اور قوم کے لوگوں نے آپ کی بات کو سنا اور اچھی طرح سمجھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہونے والے نبی ورسول نے کتنا پیارا انداز اختیار فرمایا اور انہی سے ان لوگوں کے معبودوں کی بےبسی کا اعتراف کرانا پسند کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ والد نے اور قوم کے ایک ایک فرد نے آپ کی بات کو سمجھ لیا اور کسی شخص کو کوئی ابہام نہ رہا اور نہ ہی کسی طرح کی کوئی تلخی پیدا ہوئی جیسا کہ اکثر اوقات بات کرنے کا سلیقہ نہ ہونے کے باعث ہوجاتی ہے ایسے حساس مسئلہ میں قوم کے لوگ اور والد بزرگوار جو کچھ جواب دے سکے اس کا ذکر آ رہا ہے ۔
Ayah 26:74لوگوں نے کہا کہ ابراہیم ہم تو وہی کچھ کرتے ہیں جو باپ دادا کو کرتے دیکھا ہے :
74۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے والد اور قوم کے جواب کو بغور دیکھو کہ انہوں نے بھی آپ کے سوال کا جواب دو ٹوک الفاظ میں صاف صاف سنا دیا اور کسی طرح کی جھنجھلاہٹ محسوس نہیں کی کہ ہم تو یہ سب کچھ اس لئے کرتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا ایسا ہی کرتے آئے ہیں گویا ان کے پاس اثبات شرک پر نہ کوئی عقلی دلیل موجود تھی اور نہ ہی نقلی اور جو کچھ تھا وہ سراسر اندھی تقلید تھی ۔ آپ ان کے جواب سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آج کے مسلمان مشرکوں اور اس وقت کے کافر مشرکوں میں کتنا واضح فرق ہے جو ہر آدمی کو نظر آرہا ہے آج کا مشرک بیسیوں دلائل گھڑے گا اور خواہ مخواہ بحث و تکرار کی طرف بار بار آئے گا اور سیدھی بات کو سیدھے طریقہ سے کہنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوگا ۔ شاباش ہے ان کافر مشرکوں کے لئے کہ انہوں نے نہیں ماننا تھا نہ مانے لیکن خواہ مخواہ کی بحث و تکرار بھی تو نہیں کی بلکہ صاف صاف کہہ دیا کہ ہم بس وہ کرتے ہیں جو کچھ ہم نے اپنے باپ دادا کو کرتے دیکھا ہے اور یہ کہ ہم اپنے باپ دادا کو تیرے کہنے پر چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ۔
Ayah 26:75ابراہیم (علیہ السلام) نے کیا کہا تم نے کبھی غور ہی نہیں کیا کہ تم انکی عبادت کیوں کرتے ہو ؟ :
75۔ کاش کہ آج ہمارے مناظرین وجارحین بھی سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے انداز مناظرہ اور طریقہ جرح پر غور کرتے تو آج ہمارے مناظروں کی یہ کیفیت نہ ہوتی جو ہو چلی ہے ۔ کسی کے دلائل کا ماننا نہ ماننا اپنی مرضی لیکن انداز بیان کا ایک اپنا مقام ہے مخالف کو مخالف سمجھ کر اس پر پل پڑنا اور ایک دوسرے پر طعنہ زنی اور گالی گلوچ کرنے سے آخر فائدہ ؟ مناظرہ اور جرح کا مطلب تو یہ ہے کہ اپنے مدمقابل کی دانست کے مطابق بات کی جائے اور اس کو مدلل اور مسکت جواب دیا جائے اور خصوصا جس سطح کے لوگوں سے بات کی جارہی ہو اسی سطح کے پیش نظر بات کی جائے اور علمی موشگافیوں سے گریز کیا جائے ، بات مختصر سے مختصر کی جائے لیکن وہ ایسے دلائل سے پر ہو جو دلائل مجلس موجود کی عقل کو اپیل کریں ، فرمایا تم لوگ باقی تمام باتوں میں تو عقل وفکر سے کام لیتے ہو لیکن اس ایک بات کو تم نے عقل وفکر سے آخر کیوں مستثنی قرار دیا ہے ؟ یہ تو اتنا بڑا اہم مسئلہ ہے کہ اس کے متعلق تو خوب عقل وفکر کا استعمال ہونا چاہئے تھا لیکن تم نے اس اہم بات پر آخر عقل وفکر کا چراغ کیوں گل کردیا ہے ؟ وہ کافر مشرک تھے اس لئے انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کا کوئی جواب نہ دیا اگر آج کے ہمارے مسلمان بھائی ہوتے تو جھٹ یہ ارشاد فرما دیتے کہ ” کتنے پاگل ہو تم کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ مذہب میں عقل کو دخل نہیں “ کیونکہ آج ہمارے ہر مکتب فکر کے لوگوں نے اس جملہ کو اس طرح رٹ رکھا ہے کہ گویا وحی الہی کی ابتدا بھی یہی ہے اور انتہا بھی یہی نہ بحث کی ابتداء بھی یہی ہے اور انتہاء بھی یہی لیکن اس کی حیثیت کیا ؟ وہی جو گدھے کے سر پر سینگ کی لیکن ان میں اور ہم میں فرق یہ ہے کہ انہوں نے جو باپ دادا سے سنا اس کے متعلق صاف صاف کہہ دیا کہ ہم نے تو باپ دادا سے یہی سنا ہے لیکن ہم نے جو باپ دادا سے سنا اس کو اس طرح نہیں کہتے کہ ہم نے باپ دادا سے سنا ہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ یہ بات تو اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں بیان کی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں ہے لیکن اگر کوئی اتنی بات پوچھ لے کہ صاحب قرآن کریم میں کہاں اور حدیث کی کس کتاب میں ہے ؟ تو جھٹ جواب آئے گا کہ دیکھو یہ تو ہے ہی منکر ‘ دہریہ ہے ‘ نیچری ہے ‘ یہ تو کتاب وسنت کو مانتا ہی نہیں ‘ عقل کی بات کرتا ہے گویا اس کے پیچھے الزامات کی ایک لائن لگ جائے گی حالانکہ قرآن کریم تو بار بار یہ کہتا ہے کہ :
ّ (افلا تعقلون) (البقرہ 2 : 44) (لعلکم تعقلون) (البقر 2 : 73) (افلاتعقلون) (البقرہ 2 : 76) (لقوم یعقلون) (البقرہ 2 : 164) تفصیل دیکھنا درکار ہو تو علاوہ ازیں مندرجہ ذیل حوالوں کی طرف مراجعت کریں : سورة البقرہ آیات 170 ‘ 171 ‘ 242 ‘ سورة آل عمران آیت 65 ‘ 118 ‘ سورة المائدہ آیت 58 ‘ 103 ‘ سورة الانعام آیت 32 ‘ 151 ‘ سورة الاعراف آیت 169 ‘ سورة الانفال آیت 22 ‘ سورة یونس آیت 16 ‘ 42 ‘ 100 ‘ سورة ہود آیت 51 ‘ سورة یوسف آیت 2 ‘ 109 ‘ سورة الرعد آیت 4 ‘ سورة النحل آیت 12 ‘ 67 ‘ سورة الانبیاء آیت 10 ‘ 67 ‘ سورة الحج آیت 46 ‘ سورة المومنون آیت 80 ‘ سورة النور آیت 61 ‘ سورة الفرقان آیت 44 ‘ سورة ہذا کی آیت 28 میں بھی اس کا تفصیلی ذکر گزر چکا ہے ان مقامات کی تفسیر کو دیکھ لیں شاید آپ کے ذہن میں کوئی بات اتر جائے اور اس غلط مقولہ کو آپ اپنے ذہن سے نکال سکیں جس نے قوم مسلم کے بڑوں بڑوں کی مت مار دی ہے ۔ اللہ تعالیٰ سمجھ کی توفیق دے ۔
Ayah 26:76محض اس لئے غور نہیں کیا کہ تمہارے پہلوں نے غور نہیں کیا تھا ؟
76۔ کیا تم اس پر اس لئے غور وفکر کرنے کے لئے تیار نہیں کہ تمہارے پہلوں نے یہ کام نہیں کیا تھا کیا تم کوئی کام ایسا نہیں کرتے جو تمہارے بزرگوں اور باپ دادوں نے نہ کیا ہو ؟ کیا مذہب کی صداقت کے لئے بس یہ دلیل کافی ہے کہ وہ باپ دادا کے وقتوں سے ہوتا چلا آرہا ہے ؟ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے جو انداز بیان اپنی قوم کے لئے اختیار کیا کیا ہم بھی اس کو اختیار کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ اگر یہ انداز کافر مشرکوں کے لئے مخصوص ہے تو مسلمان مشرکوں کے لئے کونسا انداز ہوگا ؟ کیا اس کی کوئی نشاندہی آپ کرسکتے ہیں ؟ ابراہیم (علیہ السلام) کو جب قوم کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا تو انہوں نے عندیہ بیان کردیا ۔