26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 26:77

فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:77 in the Quran reader

یہ تو سب میرے دشمن ہیں بجز پروردگار عالمین کے

اگر تم نہیں بولتے تو میرا اعلان برات کان کھول کر سن لو : 77۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو جب والد اور قوم کی طرف سے کوئی واضح جواب نہ ملا تو انہوں نے اپنی بیزاری کا اعلان کردیا یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے بیزاری کا اعلان کس سے کیا ؟ ان لوگوں سے جو غیر اللہ کی پرستش کرتے تھے یعنی والد اور اپنی قوم کے لوگ یا جن کی وہ پرستش کرتے تھے ؟ یہ ان نظریات کی جو آپ کے والد اور آپ کی قوم کے تھے ؟ ہمارے مفسرین کی اکثریت کا بیان یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے ان بتوں کی بیزاری یا دشمنی کا اعلان کیا ہے کہ میں ان بتوں سے بیزار ہوں یا ان سے دشمنی رکھتا ہوں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ ایسا کہنے اور سمجھنے سے بات بتوں تک ہی محدود رہے گی آگے صاحب بت کی طرف کسی کا خیال نہیں جائے گا مثلا اگر کسی نے کسی نبی ورسول کا بت بنایا ہے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ میں تو اس بات کا دشمن ہوں یا یہ بت تو میرا دشمن ہے لیکن اس نبی ورسول کے متعلق تو ایسا نہیں کہا جاسکتا اس طرح ان لوگوں کو مطعون کرنے کا موقعہ بھی ان کو مل جائے گا کہ دیکھو ابراہیم (علیہ السلام) ان بتوں کی دشمنی کا اعلان کر رہے ہیں نہ کہ ان بزرگوں ‘ یتیموں اور رسولوں کا تو بلاشبہ انکو ایسا کہنے پر ہر طرف سے دادا ملے گی اور اس طرح ایک پکی دلیل ان کے ہاتھ آجائے گی بات ساری بتوں کی ہے وہابی یاروں نے خواہ مخواہ نبیوں ‘ رسولوں ‘ ولیوں اور بزرگوں کو اس میں شامل کرلیا ہے حالانکہ یہ سراسر ایک دھوکا اور فریب ودجل ہے اگر غور کیا جائے تو بات سمجھ آسانی سے آسکتی ہے کہ جن نبیوں ‘ رسولوں اور ولیوں کے بت بنائے گئے کیا انہوں نے ان کو اپنے بت بنانے کا حکم دیا تھا ؟ ہرگز نہیں اچھا لوگوں نے بت بنا لئے تو ان پوجنے والوں نے اسی لئے دراصل بیزاری کا باعث بھی وہی ہیں نہ کہ فی نفسہ بت یا وہ لوگ جن کے بت بنائے گئے تھے ۔ اب انداز تخاطب کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ان لوگوں کو دشمنی اور بیزاری کا باعث کہیں جو ان کی پرستش میں لگے ہیں تو اس انداز تخاطب سے جھگڑے کا امکان بڑھے گا اور کوئی آدمی اور خصوصا وہ آدمی جس کو کل نبی ورسول بنایا جانے والا ہے وہ ایسا انداز اختیار کرکے ان کو تفہیم کرا سکے گا ؟ یقینا نہیں بلکہ اس سے حالات کے مزید بگڑنے کا قوی اندیشہ ہے پھر اس کو کیا کرنا چاہئے ؟ یہی کہ وہ اس نظریہ سے بیزاری کا اعلان کر دے اور یہی ابراہیم (علیہ السلام) نے کیا ۔ خیال رہے کہ (عدو) کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جو کسی دشمن کے قصد و ارادہ کی بنا پر (عدو) قرار پایا ہے جیسا کہ ارشاد الہی ہے (آیت) ” فان کان من قوم عدوکم “۔ پس اگر وہ ایسی قوم سے ہے کہ جو تمہاری دشمن ہے “ اس لحاظ سے لفظ (عدو) قرآن کریم میں بکثرت استعمال ہوا ہے اور دوسرا وہ (عدو) کہ جس کے قصد اور ارادہ کو تو دشمنی میں کچھ دخل نہیں لیکن اس کی حالت ایسی ہو یا جس کی بنا پر اس سے ویسی ہی اذیت پہنچی ہو جیسی کہ دشمنوں سے پہنچا کرتی ہے جیسے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قول (آیت) ” فانھم عدولی الا رب العلمین “ پس یہ سارے تو میرے نظریاتی دشمن ہیں سوائے پروردگار عالمین کے ۔ شاید آپ کے لئے اس کو سمجھنا ابھی مشکل ہو میں زیادہ وضاحت سے عرض کرتا ہوں ۔ قرآن کریم میں ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ان من ازواجکم واولادکم عدوا لکم فاحذورھم “۔ (64 : 14) ” اے لوگوں جو ایمان لائے ہو تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں بعض تمہارے دشمن ہیں انکی طرف سے ہوشیار رہو “۔ (1) ۔ یعنی ان کی دنیا بنانے کے لئے اپنی عاقبت برباد نہ کرلو ۔ (2) ۔ انکی محبت کو اپنے دل میں اس حد تک نہ بڑھنے دو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ تمہارے تعلق اور اسلام کے ساتھ تمہاری وفاداری میں حائل ہوجائیں اور یہی بات اس جگہ ابراہیم (علیہ السلام) نے ارشاد فرمائی کہ لوگو ! میں تو ان لوگوں کی محبت میں اس قدر آگے نہیں بڑھ سکتا جن کے تم نے بت بنا رکھے ہیں کہ میں اس محبت کا ان کو اہل قراردے دوں جو محبت مجھے خالصتا اللہ رب العالمین ہی سے کرنا چاہئے رہی یہبات کہ وہ محبت کیا ہے ؟ تو وہ وہی عبادت ہے جس کا پیچھے سے ذکر چلتا آرہا ہے کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو میں تو انکی عبادت نہیں کرتا میں تو خالصتا رب العالمین ہی کی عبادت کرتا ہوں اور اسی کو اپنی عبادت کا مستحق سمجھتا ہوں ۔ پھر استعارہ کی حد اور ادب کا کمال یہ ہے کہ یہ نہیں ارشاد فرمایا کہ ” یہ تمہارے دشمن ہیں “ بلکہ صاف صاف لفظوں میں کہا تو یہ کہا کہ ” یہ میرے دشمن ہیں “ ناصح کریم کا انداز ایسا ہی ہوتا ہے وہ براہ راست دوسروں پر حملہ نہیں کرتا بلکہ اپنی ذات سے آغاز کرتا ہے اور قرآن کریم کی بلاغت میں یہ انداز اکثر پایاجاتا ہے اور بلاشبہ یہ اس کلام کے اعجازات میں سے ایک بہت بڑا اعجاز ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو سب کچھ کہہ بھی دیتا ہے اور بظاہر کچھ کہتا نظر بھی نہیں آتا تاکہ مخالفت مزید مخالفت میں بڑھتا ہی نہ چلا جائے اور اس طرح وہ مخالفت ہی مخالفت میں اپنا نقصان در نقصان کرتا چلا جائے کیونکہ ناصح کریم کا کام دراصل اپنا نقصان کرنے والوں کو اپنے ہی نقصان سے باز رکھنا ہوتا ہے اگر وہ باز رہ سکیں ۔ اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی صفات کا مسلسل سلسلہ شروع کردیا جیسا کہ آگے بیان آرہا ہے ۔
Ayah 26:78

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ Open ayah 26:78 in the Quran reader

جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے

میرا اللہ وہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور میری راہنمائی فرمائی ہے : 78۔ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی شان ربوبیت کے مختلف مظاہر کی طرف ان کو رغبت دلا رہے ہیں تاکہ وہ ایک ایک بات کو پیش نظر رکھ کر غور کریں کہ کیا ان کے معبودوں میں سے بھی کوئی ایسی شان رکھتا ہے تاکہ خود ہی فیصلہ کریں کہ ہمارے معبودوں میں سے کوئی ایک بھی اس شان کا مالک نہیں آپ نے زیر نظر آیت میں اپنے اللہ کی دو شانوں کا ذکر کیا کہ میرا رب تو وہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور ظاہر ہے کہ ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو کسی کا خالق ہو بلکہ تو سب کے سب مخلوق ہیں اور جو خود مخلوق ہیں وہ کسی کے خالق کیا ہوں گے ؟ پھر آپ نے اپنی طرف نسبت کرکے دراصل اس طرح اشارہ کیا ہے کہ وہی خالق ہے آپ کا بھی اور ساری دوسری مخلوق کا بھی اور اس کی وضاحت پیچھے سورة طہ کی آیت 50 میں گزر چکی ہے وہاں موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے اور یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالہ سے بات دونوں جگہ ایک ہی جیسی ہے اس لئے وہیں سے ملاحظہ کرلیں تو انشاء اللہ العزیز بات مزید واضح ہوجائے گی ۔
Ayah 26:79

وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ Open ayah 26:79 in the Quran reader

اور وہی ہے جو مجھ کو کھلاتا اور پلاتا ہے

میرا رب تو وہ ہے جو مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے : 79۔ کس پیارے انداز سے ان لوگوں کی توجہ مبذول کرائی جا رہی ہے کہ ہر وہ چیز جس کو میں کھاتا ہوں نہیں بلکہ آپ بھی کھاتے ہیں اور ساری دنیا کے انسان وحیوان کھاتے ہیں سب کا پیدا کرنے والا اللہ ہے اور اس نے ہم کو پیدا فرما کر ہماری مکمل طور پر غذا کر بندوبست کردیا ہے ان میں ایسی سبزیاں بھی ہیں جن کو ہم کچا کھاتے ہیں اور ایسی بھی جن کو ہم پکا کر کھاتے ہیں اور کئی قسم کے غلہ جات بھی اس میں ہیں اور سینکڑوں قسم کے پھل بھی جن کا مکمل طور پر احصاء ہم سے ممکن ہیں نہیں ۔ اس طرح بیسیوں طرح کے مشروبات ہیں جو ہمارے پینے کین لئے اس نے پیدا کردیئے اور علاوہ ازیں بھی بیشمار ضرورتیں ہماری پوری کر رہا ہے کیا تمہارے ان معبودوں میں سے کوئی ہے جس نے کوئی ایک ہی کھانے پینے کی چیز پیدا کی ہو اگر نہیں اور یقینا نہیں تو تم کو کیا حق ہے کہ تم اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ساتھ کسی دوسرے کو اس میں شریک کرو ۔ اس وقت زمانہ ابھی ترقی پذیر نہیں تھا لیکن اب تو بیشمار ترقیاں ہو چکیں اور نئے نئے مشروبات بنا لئے گئے کیا ان بنائے شدہ مشروبات کو کسی کی طرف نسبت دی جاسکتی ہے کہ فلاں اس مشروب کا خالق ہے ہرگز نہیں کیونکہ ایک تو اس طرح کا کوئی مرکب تیار کرنے والا خود مخلوق ہے اور پھر ہر وہ چیز جس کو ترتیب خاص کے ساتھ جوڑ کر ایک مشروب تیار کیا گیا ہے اس مشروب میں فرض کرو دس چیزیں ملائی گئی ہیں تو ان میں سے ایک بھی چیزی ایسی نہیں جس کو اس نے خود پیدا کیا ہو بلکہ اس ذات کبریا کی پیدا کردہ مختلف چیزوں کو جوڑ کر ایک مرکب تیار کرنا تخلیق کیسے ہوگئی ، غور کرو گے تو تم بھی اس آخری بات پر پہنچو گے کھلانے اور پلانے والا ‘ صرف رب کریم ہی ہے جس کی نسبت سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کر رہے ہیں اور اس کے خلاف کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔
Ayah 26:80

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ Open ayah 26:80 in the Quran reader

اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے

جب میں بیمار پڑتا ہوں تو وہ مجھے صحت دیتا ہے : 80۔ حقیقت میں جس طرح نفع ونقصان اللہ کی طرف سے ہے بالکل اسی طرح بیماری اور صحت کا دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن وہ ادب جو انبیاء کرام سکھانے کے لئے آتے ہیں اس میں یہ بےادبی ہے کہ بیماری کی نسبت اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف کی جائے اس لئے نہایت ہوشیاری اور ادب کے ملحوظ کا خاطر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے بیماری کی نسبت اپنی ذات کی طرف کی اس لئے کہ آپ بتانا چاہتے ہیں کہ بیماری یقینا کسی بےاحتیاطی کے نتیجہ میں آتی ہے اور بےاحتیاطی ہمیشہ انسان سے ہو ہی جاتی ہے کیونکہ انسان بلاشبہ بےحتیاطیوں اور بداعتدالیوں کا مجموعہ ہے اور ظاہر ہے کہ جب کوئی بےاحتیاطی وبداعتدالی ہوگی تو اس کا نتیجہ بھی یقینا ظاہر ہوگا اور اس نتیجہ کا دوسرا نام اس جگہ بیماری ہے ۔ اور اس کے مقابلے میں صحت ہے ، انسان بداحتیاطیوں اور بداعتدالیوں سے بچے ہاں ! بلاشبہ وہی انسان اور اسی وقت انسان ایسی چیزوں سے بچ سکتا ہے جب اس پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہو اور پھر جب بیماری آ ہی جائے تو اس کے روکنے کے لئے جو تدبیر بھی استعمال ہوگی اور جو چیز بھی اس پر کنٹرول کے لئے استعمال کی جائے گی اس کا خالق کون ہے ؟ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ پھر یہ تسلیم کرنے میں تعجب کیوں کہ جب میں بیمار ہوتا ہوں تو شفاعت دینے والا اللہ ہی ہے جس چیز نے اس بیماری کا پتہ چلایا وہ کیا ہے ؟ عقل ۔ وہ غذا جو استعمال کے لئے تجویز کی گئی وہ کیا ہے ؟ عقل ۔ وہ دوا جو استعمال کرنے کو کہا گیا ہے وہ کس نے تجویز کی ؟ عقل نے ۔ اب غور کرو کہ عقل کیا ہے ؟ ظاہر ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ایک عطا کردہ طاقت وقوت ہے جو ایک خداداد چیز ہے اور جو چیزیں تجویز کی گئی ہیں وہ سب اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی پیدا شدہ پھر یہ کیوں کہا جائے کہ جب میں بیمار ہوتا ہوں تو صحت دینے والا اللہ ہے ۔ مثلا آج کل تبخیر کی بیماری عام ہے معلوم ہے کہ کیوں ؟ کھانے کو اللہ نے بہت دیا ہے اور کھانے کے طریقے بھی نئے نئے ایجاد ہوگئے ہیں اب شاید ہی کوئی آدمی بھوک کے بعد کھاتا ہوں بلکہ ننانویں فیصد لوگ شہروں میں ہوں یا دیہات میں امیر ہوں یا غریب جو کچھ بھی ان کو میسر آئے کبھی بھوک سے نہی کھاتے بلکہ کھانے کے متعارف ٹائم آجانے کے باعث کھاتے ہیں پھر تبخیر نہ ہوگی تو اور کیا ہوگا ؟ آپ طبیب کے پاس جاتے ہیں وہ تبخیر کے لئے نسخہ تجویز کرتا ہے ، مثلا شنگرف رومی ‘ جائفل ‘ دارچینی ‘ جو تری ‘ عقرقرحا ایک ایک تولہ پھر لونگ ‘ فلفل دراز ہر ایک دو تولہ ۔ وہ تم کو بتاتا ہے کہ پہلے دار چینی اور شنگرف کو باریک کر کے پھر دونوں ملا کر خوب کھرل کرلیں بعدازیں دیگر ادویہ باریک کرکے ملالیں اور 3 ۔ 1 ماشہ ہمراہ شہد تین بار چاٹ لیا کریں آپ اس کو استعمال کرتے ہیں بحمد اللہ صحت کلی نصیب ہوتی ہے اب غور کرو کہ جس طبیب نے یہ نسخہ اور طریقہ تجویز کیا کیا ان تجویز کردہ اشیاء میں سے اس نے کوئی ایک بنائی ہے یا یہ سب کی سب خدائی پیدائش ہے جب یہ تسلیم ہے کہ جس نے تجویز کیا وہ مخلوق جس کی عقل وفکر اور مطالعہ سے اس نے تجویز کیا اس کا خالق اللہ اور جو چیزیں اس نے تجویز کیں ان میں سے ایک ایک کا خالق اللہ پھر میں یہ کیوں نہ کہوں کہ جب بیمار ہوتا ہوں تو مجھے صحت دیتا ہے اللہ اور یہی بات ابراہیم (علیہ السلام) نے ارشاد فرمائی ۔
Ayah 26:81

وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ Open ayah 26:81 in the Quran reader

اور جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا

مجھے پیدا کرنے والا اور مارنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے : 81۔ انسان کی ابتدائی تخلیق کس نے کی ؟ اللہ نے وہ بتدریج کی یا یک ہی بار اس کا ڈھانچا بنا کھڑا کیا نتیجہ دونوں نظریوں کا یہی ہے کہ خالق اللہ ہے جو اس نے اس طرح تخلیق کیا بلاشبہ وہ مخلوق تھی اور خالق اس کا اللہ ہے ہاں ! عرف اسلامی کے مطابق وہ تخلیق کسی کی اولاد نہیں تھی پھر اولاد ہونے کے لئے اس نے ایک ضابطہ مقرر فرمایا کہ وہ زوجین سے ہوگی اور اس سلسلہ کا نام توالد وتناسل کا فطری طریقہ رکھا گیا اور اس فطری طریقہ سے جو آگے نسل چلی اس کو اولاد کا نام دیا گیا ۔ اب ظاہر ہے کہ مخلوق کے دو طریقے ہوئے ایک طریقہ اول اور دوسرا طریقہ دوم ، اب اللہ نے مذکر ومؤنث دونوں کے اندر بیج پیدا کرنے کے آلات فٹ کردیئے پھر مادہ کو تہیج دینے کا ایک فطری طریقہ بتا دیا کہ نر جب اس کو تہیج دے اور دونوں کے تخم کے ملاپ سے نتیجہ میں جو بچہ پیدا ہو وہ ان دونوں کی اولاد کہلائے ۔ کتاب وسنت میں اس کو اولاد کے نام سے موسوم کیا گیا اب کوئی انسان اٹھے اور وہ ریسرچ کرکے دونوں اصناف کے اندر کے بیجوں کو پہچان لے کہ اس میں کونسا بیج نر کی صلاحیت رکھتا ہے اور کونسا مادہ کی پھر ان دو اصناف میں سے مثلا صنف نازک کو وہ مصنوعی تہیج کا طریقہ استعمال کرکے ان بیجوں کو حاصل کرلے اور دونوں اقسام کے بیجوں کو ایک صنف سے لے کر کسی تیسرے مادہ کو تہیج دے کر اس کی او وری میں وہ ڈال دے جس کا کام فقط یہ ہے کہ جو کچھ اس کے اندر آئے اس کی تخلیق کا عمل وہاں شروع ہوجائے بشرطیکہ اس طرح اندر داخل ہونے والی وہ چیز اس کے قبول کرنے کے فطری طور پر قابل ہو اور اس طرح مصنوعی طریقہ سے وہ ایک تیسرا جسم پیدا کرے جو اسلام کی نگاہ میں حرام ہے کیونکہ اس کا طریقہ فطری نہیں ہے اور اسلام کی نظر میں اس کو ہم اولاد نہیں کہیں گے بلکہ فقط مخلوق قرار دیں گے اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی آخر ہم کیوں نہ کہیں گے کہ اس کا پیدا کرنے والا اللہ ہے جس نے پہلی جنس کو پیدا کیا اور پھر جنس کے اندر نئی جنس کی تخلیق کے اعضاء پیدا کئے پھر جس عضو کا اس سے تعلق ہے اس کو قبول کرنے کا حکم دیا جب اس نے قبول کرلیا تو اس کو وہ ساری چیزیں وہاں بہم پہنچائیں اور آہستہ آہستہ بنتے بنتے ایک بچہ پیدا ہوگیا اگرچہ یہ کسی کی اولاد نہیں کہلا سکتا لیکن ہم اس کو کیوں نہ کہیں گے کہ اس کو اللہ نے پیدا کیا جب کہ ان میں سے ایک ایک چیز اللہ کی پیدا کردہ ہے تو یہی بات ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو باور کروائی کہ لوگو ! میرا پیدا کرنے والا تو اللہ ہے اور تم سب کا پیدا کرنے والا بھی اللہ ہے اور اس تیسیر مصنوعی پیدائش کا پیدا کرنے والا بھی اللہ ہے اگرچہ اس تیسری قسم کی مخلوق سے آگے نہ تو مصنوعی مخلوق حاصل کی جاسکے گی اور نہ ہی فطری طریقہ سے اس سلسلہ میں جو کوششیں ہوچکی ہیں اور ہو رہی ہیں اور ہوتی رہے گی سب کا نتیجہ ایک ہی ہے اور ایک ہی رہے گا ، اس کے بعد موت کا معاملہ ہے اس نظام دنیا میں ہر فرد وبشر اور ہرچیز کے لئے موت وحیات کا ایک اصول مقرر ہے اور ہر حیات کے بعد خواہ پہلے طریقہ کے مطابق ہو خواہ دوسرے طریقے کے مطابق بہرحال اس کو مرنا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ فی الواقعہ یہ ساری چیزیں مرتی آئی ہیں ‘ مر رہی ہیں اور مرتی رہیں گی جب تک یہ نظام قائم ہے ، جب یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو آخر اس موت کے بعد زندگی کو کیوں بعد سمجھا جائے یا تو اس پہلی موت کے رک جانے کی کوئی صورت نکل آئے جو فطرتا ناگزیر ہے حالانکہ اس نظام کے اندر ایسا ممکن نہیں اور اگر اس سورت کا اقرار ہے تو دوبارہ زندگی کے انکار کی کوئی وجہ معقول سمجھ میں نہیں آتی اور یہی بات ابراہیم (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا کہ مجھے پیدا کرنے والا اور مارنے والا تو صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے نظام کے مطابق میں پیدا ہوا ہوں اور جس کے نظام کے مطابق میں مروں گا تو ان دو جملوں کی حقیقت کس قدر صاف اور شفاف ہے اور کس قدر واضح ہے کہ بلاشبہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔
Ayah 26:82

وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 26:82 in the Quran reader

اور جس کی رحمت سے میں امید رکھتا ہوں کہ (وہ مجھے معاف فرمائے گا) بدلہ ملنے کے دن میری خطائیں بخش دے گا

ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اپنے رب سے امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے بخش دے ۔ 82۔ ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے نبی ورسول ہیں اور بلاشبہ نبی ورسول معصوم ہوتے ہیں اور اسی طرح ابراہیم (علیہ السلام) بھی تھے لیکن اس میں یہ سمجھایا گیا ہے کہ کسی کا نیک ہونا اور کسی کا اپنے آپ کو نیک کہنا ان دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے انبیاء ورسل کی نبوت و رسالت کا تقاضا یہی تھا کہ وہ باوجود معصوم ہونے کے خود اپنے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے اپنی معصومیت کا اظہار پسند نہیں فرماتے اس لئے اپنے درجات کی بلندی کے لئے وہ اپنی زبان سے یہی ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے بخش دے گا اور قیامت کے روز مجھ سے درگزر فرمائے گا اس طرح آپ اپنی قوم کو بتا رہے ہیں کہ جس طرح میرا رب الہ المعاش ہے اسی طرح وہ الہ المعاد بھی ہے وہی موت وفنا طاری کرتا ہے اور وہی جزاء و سزاء کے لئے دوبارہ پیدا کرنے والا ہے یہ نہیں کہ فنا وہلاک کا دیوتا کوئی الگ ہو اور روز حشر دادری کے لئے کسی اور کا سامنا ہو جیسا کہ عموما کافر مشرک اور مسلمان مشرک سمجھتے اور بیان کرتے ہیں اور آخر میں وضاحت فرما دی کہ میری مغفرت کی امیدیں بھی تمام تراسی رب وحدہ لا شریک لہ کے ساتھ وابستہ ہیں نہ کہ کسی دوسرے سے پیغمبر کا کیا ہی مقام ہے کہ وہ دوسرے مذہبی پیشواؤں کی طرح اس موشگافیوں میں نہیں پڑتے بلاشبہ اجتہادی غلطی غلطی نہیں ہوتی اور انسانی بھول منافی نبوت اور رسالت نہیں لیکن یہ سب کچھ تو انسانوں کی نسبت سے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے صرف اپنی بندگی کا اظہار چاہئے اور وہ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی کمیوں کا ذکر کرتا ہے اور کاملین کا یہی شیوہ ہے ، ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنی بندگی کی بھولوں کا اعتراف کیا تو ساتھ ہی دعا کے لئے بدرگاہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہاتھ بھی اٹھادیئے اور اس ہاتھ اٹھانے سے میری مراد درخواست پیش کرنا ہے ۔
Ayah 26:83

رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 26:83 in the Quran reader

اے میرے پروردگار ! مجھے حکمت عطا فرما اور مجھے نیکوکاروں میں شامل رکھ

عرض کی اے میرے رب ! مجھے اس ناپاک معاشرہ سے الگ کرکے نیکوں کے ساتھ ملا دے : 83۔ انسان کتنا ہی صابر اور کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو آخر بھی انسان ہے اس کا جی تو بہرحال چاہتا ہے کہ اس کو معاشرت کے لئے اچھے ساتھی ملیں اور اس طرح دنیوی خوشیاں بھی اس کو حاصل ہوں اس طرح گویا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے ہجرت کی دعا فرمائی کہ اے میرے رب اس معاشرہ کے لوگوں نے تو میری ہر بات کا مذاق ہی بنایا ہے اور میری ہر بات کا جواب نہ دے سکنے کے باوجود اپنی ضد پر ہی قائم رہے ہیں مجھے ایسے ساتھی بھی عطا فرما جو نیک اور صالح ہوں ۔ گویا اب وہ وقت آگیا ہے کہ جب ایک انسان اس قدر تھک جاتا ہے کہ وہ اپنے خاندان اپنے جنم بھوم ‘ اپنے علاقہ اور اپنے ملک کو بخوشی چھوڑ دینے کے لئے تیار ہوجاتا ہے اور جب حالات اس حد تک پہنچ چکے اور دل نے ان ساری چیزوں سے رخصت ہونے کو قبول کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اس علاقہ کی طرف راہنمائی فرما دی جس علاقہ میں سب کچھ اللہ تعالیٰ نے گویا پہلے ہی تیار کر رکھا تھا اور اس علاقہ سے پھر آخرت کا الحاق ہوگا جو فطرت انسانی کے لئے اللہ تعالیٰ نے لازم ٹھہرایا ہے اور عرف عام میں اس کا نام موت رکھا گیا ہے جس منزل کے بعد انسان اصل زندگی کی طرف منتقل ہوجاتا ہے اگرچہ وہ زندگی اس دنیوی زندگی سین کوئی مشابہت نہیں رکھتی سوائے ایک نام کے کہ حیات کا نام دنیا میں بھی اسی عارضی زندگی پر بولا جاتا ہے اور آنے والی دعا جو مخصوص طور پر ابراہیم (علیہ السلام) نے مانگی تھی ابراہیم (علیہ السلام) کے ماننے والوں نے اس کی قبولیت کو تسلیم نہ کیا ہائے افسوس کہ ہمیں کیا ہوگیا ؟ ۔
Ayah 26:84

وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 26:84 in the Quran reader

اور میرے بعد آنے والی امتوں میں میرا ذکر خیر جاری رکھ

اے میرے رب میرے بعد آنے والی امتوں میں میرا نام سچائی کے ساتھ باقی رکھ : 84۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا تھا کہ مرنے والے بزرگوں اور نیک لوگوں کے بت بنا کر ان کی پرستش کی جا رہی ہے جو بلاشبہ ان کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے گویا لوگوں مرنے والوں کے بعد ان کے ذمہ وہی الزامات لگانے کی کوشش کرتے ہیں جن کے مٹانے کے لئے ساری زندگی وہ کوشش کرتے رہے ، اس علاقہ سے آپ ہجرت کر آئے لیکن اس کے باوجود آپ کے وہم میں یہ بات پوشیدہ تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے مرنے کے بعد لوگ میری طرف ایسی باتوں کی نسبت کرنے لگیں جن کی میں ساری زندگی مخالفت کرتا رہا اس پوشیدہ قوت وہمہ کے باعث ہجرت کرتے وقت یا ہجرت کر چکنے کے بعد بعثت کا مقصد حاصل کرنے کے بعد یہ دعا فرما رہے ہیں کہ میرے رب ! میرے بعد آنے والی امتوں میں میرا ذکر سچائی کے ساتھ جاری رہے میرے ذمہ کوئی ایسی بات منسوب نہ کریں جس سے میں ساری زندگی لوگوں کو روکتا رہا اس دعا کو قبولیت بخشی گئی اور دوسرے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی سچائی کی بہت حد تک تعریف بھی کی اور آپ کو (صدیقا نبیا) کا خطاب بھی عطا فرمایا لیکن لوگوں نے بھی آپ کے بارے میں ایسے الزامات لگانے کی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اگرچہ ہمیشہ ان میں سے ایک ایک کا رد بھی کیا گیا ، یہود نامسعود نے آپ کی طرف تین جھوٹ منسوب کئے اور پھر ان کے لئے فرضی قصے گھڑے گئے لیکن قرآن کریم نے ان کی سختی سے تردید کی اور اپنے مخصوص انداز سے معجزانہ طور پر ان کا رد کیا لیکن افسوس کہ ہمارے مفسرین نے بھی قرآن کریم کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ان کو بطور رد رپیش کرنے کی بجائے مثبت انداز میں پیش کردیا جس کی جتنی مذمت کی جائے اتنی ہی کم ہے لیکن اس افسوس کے ساتھ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس واقعہ کو صحیح احادیث کے ساتھ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہم نے اس کو پوری وضاحت چونکہ سورة الانبیاء کی آیت 51 سے 71 تک بیان کردی ہے جو اس جلد میں موجود ہے اور اس سے پہلے اس کی تفصیلات سورة البقرہ آیات 124 تا 160 ‘ سورة آل عمران آیات 32 ‘ 35 ‘ 68 ‘ سورة النساء آیات 54 ‘ 125 ‘ 163 سورة الانعام آیات 40 ‘ 75 ‘ 83 ‘ 151 ‘ سورة التوبہ آیات 70 ‘ 114 ‘ سورة ہود آیات 69 ‘ تا 75 ‘ سورة ابراہیم آیت 36 ‘ سورة یوسف آیت 38 ‘ سورة النحل آیات 120 تا 123 ‘ سورة الحجر آیت 51 ‘ سورة مریم آیات 31 تا 51 سورة الانبیاء کی مذکورہ آیات میں تفصیل گزر چکی ہے اس لئے گزشتہ حوالہ جات سے اس مضمون کو دیکھ لیا جائے اور اس جگہ پر آپ کی دعا ابھی جاری ہے ۔
Ayah 26:85

وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 26:85 in the Quran reader

اور مجھے ان میں شامل فرما دے جو نعمت والی جنت کے وارث ہوں گے

فرمایا اے میرے رب مجھے جنت نعیم کا مستحق ٹھہرادے : 85۔ اللہ کا جلیل القدر رسول ونبی اور بہت سے انبیاء کرام (علیہ السلام) کا جد اعلی اپنے پروردگار سے جنت نعیم کی درخواست کر رہا ہے اور اس طرح اپنی امت اور بعد میں آنے والی سوری امتوں پر ثابت کردیا ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسول عظام بھی لوگوں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے نہیں بھیجے جاتے تھے بلکہ راہنمائی کے لئے مبعوث ہوتے تھے اور لوگوں کو ہر بات جو کرنے کی ہوتی کرکے دکھاتے تھے تاکہ وہ بھی ان کی پیروی میں وہی کریں جو وہ کر رہے ہیں اس لئے آپ کی دعا کا مخصوص انداز واضح کیا جا رہا ہے کہ تاکہ ہمارے باعث اسوہ اور نمونہ ہو کہ باوجود برائیوں سے بچنے اور نیک کام کرنے کے اللہ رب کریم سے مغفرت کی دعا جاری وساری رکھنی چاہئے کہ دعا بھی فی نفسہ عبادت ہے اور نبی ورسول سے بڑھ کر اور کون زیادہ زاہد وعابد ہو سکتا ہے اور اس طرح اپنے لئے دعا مغفرت کرنے کے بعد اپنے باپ کے لئے جو آپ کو ملک بدر کرنے والا اور مار مار کر ہلاک کردینے کی دھمکیاں دینے والا تھا ۔ اس کیلئے بھی درخواست کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو اس طرح ادب سکھائیں کہ لوگ بھی اپنے لئے دعائیں کرتے وقت اپنے عزیزوں اور بزرگوں کو اپنی دعاؤں میں حصہ دار ٹھہرائیں اور ان کے لئے بخشش طلب کرتے رہیں ہاں اگر مکمل ثبوت موجود ہو کہ میرے والدین مسلمان نہیں تھے تو درخواست کی ضرورت نہیں لیکن ہم میں سے ایسا کون ہے جو اس قدر گہرا علم رکھتا ہو تاہم جب تک والدین زندہ ہوں ان کی ہدایت اور مغفرت کی دعا کرتے رہنا چاہئے اگرچہ وہ بظاہر مخالف ہی ہوں ۔
Ayah 26:86

وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 26:86 in the Quran reader

اور میرے باپ کو بھی بخش دے بلاشبہ وہ گمراہوں سے ہے

اے اللہ ! میرے والد کو بخش دے کہ وہ بھولے ہوؤں سے ہے : 86۔ واضح ہوگیا کہ والدین اور عزیز و اقارب زندہ موجود ہوں تو بھی ان کی بھلائی کی دعا اپنے رب کریم سے کرتے رہنا چاہئے بلکہ اگر وہ ہدایت پر نہ ہوں تو ضرور کرنی چاہئے اور الحاح وزاری کے ساتھ کرنی چاہئے اللہ سے رو رو کر گڑ گڑا کر نہایت عاجزی سے ان کے لئے مغفرت طلب کرنا چاہئے اور ان کے دکھ سکھ میں ہر حال میں شریک ہونا چاہئے جب تک وہ زندہ ہوں وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ان کے ساتھ اچھا سلوک اور ان کا ادب واحترام ‘ انکے لئے دعائے مغفرت جاری رکھنی چاہئے اور مشرک نہ ہوں تو کتنے ہی گناہگار ہوں انکے لئے دعا کا سلسلہ ان کے لئے دعائے مغفرت جاری رکھنی چاہئے اور مشرک نہ ہوں تو کتنے ہی گناہگار ہوں ان کے لئے دعا کا سلسلہ ان کے مرنے کے بعد بھی جاری رکھنا چاہئے منظور کرنا اللہ کا کام ہے اگر وہ اس کے مستحق نہیں ہوں گے تو اولاد کو اجر یقینا ملتا رہے گا اور اولاد کی دعائیں یقینا رائیگاں نہیں جائیں گی بہرحال ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کے بعد بھی اپنے والد بزرگوار کے لئے دعا کا سلسلہ جاری رکھا اور قبول کرنا نہ کرنا اللہ کا کام ہے نبی ورسول کو بھی یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی کو بخشوالے ‘ بخش دینا اس کے اختیار میں کہاں ہوگا ؟ قرآن کریم کی تصریح کے مطابق چونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے والد سے الگ ہوتے ہوئے یعنی ہجرت کے وقت بھی وعدہ فرمایا تھا کہ میں آپ کے لئے مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا ، ایک گمراہ شخص کے لئے جو شرک کی ناپاکی میں لت پت ہو بخشش کی دعا کیا ہے ؟ یہی کہ اے اللہ ! اس شخص کو ہدایت دے تاکہ وہ اپنے شرک سے باز آجائے ، آپ ہوش آنے کے بعد ہجرت کے وقت تک والد کی ہدایت کے لئے کوشاں رہے لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہا اس کے باوجود اس نے اپنے بیٹے ابراہیم (علیہ السلام) کو تنگ کرنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی تا آنکہ مجبور ہو کر آپ کی ہجرت کرنا پڑی اور عین ہجرت کرتے وقت بھی آپ نے والد کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میری طرف سے آپ کو آخری سلام عرض میں آپ کے لئے اپنے رب سے آپ کی بخشش یعنی اسلام لانے کی دعا جاری رکھوں گا اور امید رکھتا ہوں کہ وہ آپ کو ہدایت دے گا کیونکہ وہ میرے ساتھ نہایت ہی مہربان ہے جیسا کہ سورة مریم کی آیت 47 میں اس کا ذکر موجود ہے ، آپ نے ہجرت کے بعد بھی والدبل کہ والدین کے لئے دعا کا سلسلہ جاری رکھی بعض جگہ قرآن کریم میں باپ کے لئے مخصوص دعا کا ذکر ہے اور بعض جگہ والدین کے لئے دعا کی درخواست کا ذکر بھی موجود ہے جیسا کہ سورة ابراہیم کی آیت 41 میں پھر قرآن کریم میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ ابراہیم اپنے والد کے لئے مغفرت کی دعا کرتا رہا تا آنکہ اس پر یہ بات واضح ہوگئی کہ اب وہ اللہ تعالیٰ کی دشمنی ہی میں اس دنیا سے رخصت ہوگیا ہے تو وہ اس سے مکمل طور پر بیزار ہوگیا کہ اب تو اس مغفرت کی کوئی شکل ہی باقی نہ رہی کیونکہ بخشش کے لئے شرک سے توبہ لازمی قرار دی گئی ہے اور وہ شرک سے باز نہیں ؤیا تو آپ نے بیزاری اختیار کرلی جس کا مطلب واضح ہے کہ دعائے مغفرت کرنا بند کردی اس کی وضاحت سورة التوبہ کی آیت 114 میں ہوچکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں ۔
Ayah 26:87

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ Open ayah 26:87 in the Quran reader

اور جس دن لوگ اکٹھے کیے جائیں گے مجھے رسوا نہ کیجیو

آپ نے دعا جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کیجئے : 87۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کے حق میں دعا کرنے کی انتہاکردی اور اپنے رب کریم کے حضور اس طرح اپیل اور سفارش کے لئے ہاتھ جوڑے کہ اس سے بہتر اور اس سے بڑی سفارش کسی دوسرے انسان سے ممکن نہیں ہے ، اس دنیوی زندگی میں جس میں ہم رہ رہے ہیں بلاشبہ اس سے بڑی اور کوئی رسوائی نہیں ہوسکتی کہ کسی انسان کے سامنے اس کے والد کو کوئی رسوا کردے ۔ اگر والد پر ایسی کوئی بات آرہی ہو تو انسان کوشش کرکے اس کو اپنے سر لینے کے لئے تیار ہوجاتا ہے اور والد کے حق میں اس کو برداشت نہیں کرسکتا یہاں تک کہ اس کا بس چلے تو وہ زندہ رہنا ہی پسند کرے گا اور اس عزت پر وہ جان تک قربان کر دے گا ۔ کس لجاجت ‘ کس الحاح وزاری سے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) دعا کر رہے ہیں کہ میرے والد کی رسوائی اور وہ بھی دنیا کے سارے انسانوں کے سامنے اے اللہ ! اس کو ہدایت عطا فرما دے تاکہ میں بھی اس رسوائی سے بچ سکوں ۔ غور کیجئے کہ الہی فیصلے کتنے اٹل اور کتنے پختہ ہوتے ہیں کہ ان میں کسی ردوبدل کا کوئی امکان تک نہیں ہوتا اور کوئی اس کا کتنا ہی پیارا کیوں نہ ہو وہ اپنے کسی پیارے کے لئے اپنے قانون میں ترمیم نہیں کرتا اور نہ ہی قانونی خانہ پری کرنے کے لئے وہ کسی تصنع اور بناوٹ سے کام لیتا ہے اور یہی اس کے قادر ہونے کی نشانی ہے وہ مکمل طور پر بااختیار ہے لیکن اپنے اختیار رکھ کر اس طرح استعمال کرتا ہے جس طرح اس کے استعمال کرنے کا اس نے کہہ دیا ہے اس کا کوئی اعلان ‘ اس کے کسی فعل اور اس کا کوئی فعل ‘ اس کے کسی اعلان کے خلاف نہیں ہے ، جو اس نے کہا ہے بالکل وہی کیا ہے اور جو کیا ہے بالکل وہی کہا ہے اس کے قول وفعل میں کبھی ردوبدل نہیں ہوا اور نہ ہی ہو سکتا ہے اور نہ ہی ممکن ہے اس نے اپنے خلیل ابراہیم (علیہ السلام) کی بات سنی اور اس کی دعا و پکار کو سن کر اس کو واضح الفاظ میں اس کی دعا کا جواب بھی سنا دیا اور کوئی بات مبہم نہیں رہنے دی بلکہ بڑے پیار سے فرمایا کہ اے ابراہیم ! جو دعا تو کر رہا ہیں ہم اس کو اچھی طرح سن رہے ہیں آ ہم تیری دعا کی تکمیل کردیں اے میرے خلیل ابھی تیری دعا مکمل نہیں ہوئی ۔ آزر تیرا باپ ہے ‘ صحیح لیکن تو میرا خلیل ہے جس طرح تیرا تعلق تیرے باپ سے ہے میرا تعلق بھی تیری دوستی سے ہے ‘ تو باپ کی بخشش چاہتا ہے اور ہم اپنے خلیل کی نافرمانی کرنے والے کو عذاب میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں ، جبتک وہ ہمارے خلیل کی نافرمانی سے باز نہ آئے ہم اس کو معاف نہیں کرسکتے ۔ رہا تیرا تعلق کہ وہ تیرا باپ ہے اور تو اس کا بیٹا تو اس سلسلہ میں ہمارا قانون اچھی طرح سن لے اور اس کو یاد رکھ ۔
Ayah 26:88

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ Open ayah 26:88 in the Quran reader

جس دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد

ہمارا قانون یہ ہے کہ قیامت کے روز کوئی بیٹا کسی باپ کے کام نہیں آئے گا : 88۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کی تکمیل کرتے ہوئے اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے ارشاف فرمایا اے میرے خلیل ! وہ دن تو ایک ایسا دن ہے کہ ہمارا قانون کے مطابق ہر فرد اپنے کئے کے ساتھ بندھا ہوا ہے اس زوز نہ کوئی باپ اپنے کسی بیٹے کے کام آئے گا اور نہ ہی کوئی بیٹا اپنے باپ کے کام آسکے گا ، تیرے باپ کی بخشش کے لئے لازم تھا کہ وہ شرک سے باز آتا اور تیری بات کو وہ مان جاتا اور ہمارا یہ بھی قانون ہے کہ کسی شخص کو ہم ایمان لانے پر مجبور نہیں کرتے اس لئے ہم اس کو بھی آخر مجبور کیوں کرتے جب کہ قانون کی خلاف ورزی کا ہمارے ہاں کوئی تصور ہی نہیں نہ ہم نے اس کو مجبور کیا اور نہ ہی وہ اپنے اختیار سے جو ہم نے اس کو دیا ہے تیری دعوت پر کبھی مطمئن ہوا ‘ نہ تیری ہجرت سے پہلے جیسا کہ تجھے معلوم ہے اور نہ تیری ہجرت کے بعد جیسا کہ ہم تجھ کو بتا رہے ہیں اس لئے آزر بلاشبہ تیرا باپ ہے لیکن ہم تیرے باپ کی خاطر اپنے قانون میں کوئی ترمیم نہیں کریں گے کیونکہ ہمارے ہاں ترمیم کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا ، مال اور اولاد اگر نفع کی چیز ہے تو اس کا تعلق دنیوی زندگی تک محدود ہے آخرت کی زندگی میں ہمارے قانون (وتقطعت بھم الاسباب) (البقرہ 2 : 166) ” ان کے سارے اسباب ووسائل کا سلسلہ منقطع ہوجائے گا “ کے مطابق کسی شخص کے کام مال اور اولاد نہیں آئے گی اس لئے آپ بھی اپنے باپ کے کام نہیں آسکتے اور ہمارا یہ قانون سارے انسانوں کے لئے ایک طرح کا اور ایک ہی حیثیت کا ہے اللہ تعالیٰ کے قانون میں اس روز بازیاب ہونے والے وہی لوگ ہوں گے جن کا ذکر پہلے کئی مقامات پر کیا جا چکا ہے اور آنے والی آیت میں میں بھی بیان کیا جا رہا ہے ۔
Ayah 26:89

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ Open ayah 26:89 in the Quran reader

مگر جو اللہ کے پاس پاک دل لے کر آئے گا

اللہ تعالیٰ کے ہاں قلب سلیم لے کر حاضر ہونے والے ہی کامیاب ہوں گے : 89۔ فرمایا اے ابراہیم ! اس روز کامیابی کاسہرا تو انہی لوگوں کے سر بندھا ہوگا جو شرک ونفاق کی ہر آلائش سے پاک ہوں گے ، ہمارا قانون تو واضح ہے کہ (لایغفر ان یشرک بہ) (النسائ 4 : 48) ” اور اللہ مشرک کو کبھی معاف نہیں کرتا “ بلاشبہ تیری دعا کی قبولیت کے لئے ضروری تھا کہ تیرا باپ شرک پر نہ مرتا جب اس کی موت شرک پر ہوچکی تو اب اس کی معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور ماسوائے شرک کے ہم جس کو چاہیں معاف کردیں کیونکہ ہمارے ہاں ہرچیز کے لئے ایک قاعدہ و قانون مقرر ہے اور اسی کے مطابق کام سرانجام پاتے رہتے ہیں ۔ بلاشبہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا مال اور والدین کے حق میں اولاد کی دعائیں قبولیت کا اثر رکھتی ہیں لیکن اس کے لئے جو قوانین و ضوابط بتائے گئے ہیں اس کا خلاف ممکن نہیں ۔
Ayah 26:90

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 26:90 in the Quran reader

اور جنت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی

نیکو کاروں کی عزت و تکریم کہ جنت ان کے قریب کردی جائے گی : 90۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو محنت ومشقت اور سختی انہوں نے اس امید پر برداشت کی آخرت کی آسانیاں ان کو نصیب ہوجائیں وہ محنت ومشقت اور سختی ودنیوی زندگی میں برداشت کرلی گئی اور جو چیز برداشت کی جائے اس کی یاد انسان کو کبھی نہیں بھولتی جب کہ اس کا صحیح نتیجہ اور صلہ اس کو مل جائے پھر عطا کردیا جانا اپنی جگہ ایک مقام رکھتا ہے لیکن اس کی خبر مل جانا کہ یہ چیز آپ کے لئے تیار کی جارہی ہے یا یہ ہے جو آپ کو ملنے والا ہے اس کی خوشی کا بھی ایک اپنا مقام ہے اور یہ بھی کہ وہاں پہنچنے کے بعد جنت کے مستحق لوگوں کو جنت تک پہنچنے کے لئے بھی کسی دشواری کا سامنا نہیں ہوگا بلکہ ان کو قانون کے مطابق وہاں تک پہنچا دیا جائے گا ۔ ازلفت کا اصل مادہ ز لہے جس کے معنی قرب اور نزدیکی کے ہیں یعنی ان کو کسی سفر کی صعوبت برداشت کرکے وہاں تک نہیں پہنچنا ہوگا بلکہ وہ خراماں خراماں وہاں پہنچ جائیں گے گویا وہ نہیں چلے بلکہ جنت چل کر ان کے قریب آگئی ہے یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کہتا ہے کہ فلاں شخص تو آگے آگے ہے اور دولت اس کے پیچھے پیچھے کہ جلد مجھ کو لے لے گویا وہ اس کو ملنے کے لئے بےچین تھی اور اس کا مطلب ومفہوم ہر شخص سمجھتا ہے کہ کیا ہے ۔
Ayah 26:91

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ Open ayah 26:91 in the Quran reader

اور دوزخ گمراہوں کے سامنے لائی جائے گی

دوزخ بھی گمراہوں کے سامنے لائی جائے گی تاکہ ان کو ہڑپ کر جائے : 91۔ (برزت) کی اصل ب ر ز ہے جس کے معنی نکلنے اور ظاہر ہونے کے ہیں ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب یعنی وہ ظاہر کردی جائے گی گویا وہ کہیں چھپی ہوئی تھی جو اچانک ظاہر ہوگئی ، گمراہوں اور سرکشوں کے لئے ‘ مشرکوں اور منافقوں کے لئے دوزخ بھی اچانک ظاہر ہوجائے گی اور اس طرح اس ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی گویا گھیر تو اس نے ان کو پہلے ہی رکھا تھا لیکن ان کو وہ نظر نہیں آتی تھی اور اب وہ اچانک ظاہر ہوجائے گی وہ گویا اس کے اندر ہی تھے اور اس طرح اس کے شعلے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے ، ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ چیز ہے جس کے متعلق تم کو یقین نہیں آتا تھا اب تم اس میں کہاں سے اور کیسے داخل ہوگئے ؟ اس طرح گویا وہ جس چیز کو بہت دور خیال کرتے تھے اور پخنت رہ رہے تھے پردہ اٹھنے کی دیر ہوگی کہ وہ اس میں اپنے آپ کو موجود پائیں گے ۔
Ayah 26:92

وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:92 in the Quran reader

اور ان سے کہا جائے گا کہ وہ کہاں گئے جن کی تم پرستش کیا کرتے تھے ؟

دوزخیوں سے کہا جائے گا کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم عبادت کیا کرتے تھے : 92۔ (اینما) استفہام کے لئے استعمال ہوتا ہے ، دوزخ میں داخل ہونے والوں سے سوال کیا جائے گا کہ جن جن کو تم نے اللہ کے شریک بنا رکھا تھا اور ان کو اپنے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے وہ کہاں ہیں ؟ اس کی تفصیل پیچھے کتنے ہی مقامات پر گزر چکی ہے ان مقامات میں سے کسی ایک یا سب مقامات کو ایک بار دیکھ لیں انشاء اللہ اس کی حقیقت آپ پر واضح ہوجائے گی ۔ (اینما) کا لفظ قرآن کریم میں 9 بار استعمال ہوا ہے چار بار (اینما) اکٹھا اور پانچ مقامات پر (این ما) کے رسم الخط میں آیا ہے لیکن دونوں کے معنی میں کوئی فرق نہیں ، مفسرین نے جو موشگافیاں کی ہیں ان کی ضرورت نہیں ایک خواہ مخواہ کا خبط ہے ۔
Ayah 26:93

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ Open ayah 26:93 in the Quran reader

اللہ کے سوا ، کیا وہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا بدلہ لے سکتے ہیں

کیا وہ تمہارا بھلا کرسکتے ہیں یا خود اپنا ہی بچاؤ کرسکتے ہیں : 93۔ یہ بات ان دوزخیوں سے پوچھی جا رہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے کی باداش میں دوزخ میں ڈالے جائیں گے اور اس طرح گویا ان کی بےبسی اور بیچارگی کا ذکر کرنا مقصود ہے کہ وہ دوسروں کو کیا چھڑائیں گے خود اپنی آپ تو مدد کر نہیں سکتے جو خود ہی اندھا ہے وہ دوسروں کو کیا راہ دکھائے گا ، اس کی تفصیل بھی پیچھے گزر چکی ہے ۔ مثلا سورة الاعراف 192 ‘ 197 ‘ سورة ہود کی آیت 113 ‘ سورة الکہف آیت 43 ‘ سورة الانبیاء کی آیت 39 کی عروۃ الوثقی سے دیکھیں انشاء اللہ تفصیل آپ کو مل جائے گی ۔
Ayah 26:94

فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ Open ayah 26:94 in the Quran reader

پھر اس میں وہ اور گمراہ لوگ اوندھے ڈالے جائیں گے

سرکشوں کو دوزخ میں اوندھا کرکے ڈال دیا جائے گا : 94۔ زیر نظر آیت میں گزشتہ پکارے جانے والے جن معبودان باطل کا ذکر جاری تھا اس کے متعلق ہمارے مفسرین کے درمیان ایک جھگڑا چل رہا ہے ، ایک فریق خصوصا وہ جو اس وقت اپنے آپ کو سواد اعظم کے نام سے موسوم کرتا ہے اور آج کل لوگ ان کو رضا خانی کہتے ہیں ان کا مؤقف یہ ہے کہ یہ سارے ” من دون اللہ “ جن کا یہاں ذکر ہو رہا ہے یہ بت ہیں جن کو کفار ومشرکین پوجتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے لیکن دوسرا فریق اگرچہ وہ چھوٹا ہے وہ کہتا ہے کہ ان سے مراد سب لوگ ہیں جنہوں نے خود اپنے آپ کو اس رنگ میں پیش کیا کہ مذہبی رہنما ہیں اور اس لحاظ سے ہمیں پروانہ مل چکا ہے کہ جو لوگ ہم کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھیں ‘ ان کی حاجتیں پوری کریں اور ان کی سفارش کرکے ان کو بخشوائیں یا یہ کہ وہ اپنی پرستش پر راضی تھے اور لوگوں سے شیرینیاں وصول کرتے اور ان کو جنت کی خوشخبریاں دیتے تھے اور اپنی بیعت کو انہوں نے جنت کا سرٹیفکیت قرار دے رکھا تھا اور لوگ یعنی مریدین ان سے اس طرح کی عقیدت رکھتے تھے خواہ انکے مرنے کے بعد لوگوں نے انکے بت بھی بنا لئے اور ان کی پرستش کی جاتی تھی جیسا کہ آج کل بھی پیروں اور مرشدوں اور شیخ الشیوخ کے ناموں سے اور اس طرح گدی نشینوں اور سجادہ نشینوں کے ناموں سے لوگوں میں معروف ہیں سب کے سب کو اس طرح اوندھا کر کے منہ کے بل دوزخ میں گرایا جائے گا اور اس وقت ان کے مریدین ان کی اپنی آنکھوں سے دوزخ میں گرتا دیکھیں گے اور وہ لڑھکنیاں کھاتے ہوئے نیچے جا گریں گے ، اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو لوگ اس روز سے بالکل پخنت ہیں ان کو جنکی پرستش کرتے ہیں اور ان کے معاون و مددگار سب کو دوزخ میں الٹا کرکے پھینک دیا جائے گا۔ (کبکبوا) کی اسل ک ب ب ہے اور ” کب “ کسی چیز کے منہ کے بل گرانا ہے اس کی بحث سورة النحل ۔۔۔۔۔ کی آیت 10 میں آئے گی اور سورة الملک کی آیت 22 میں انشاء اللہ العزیز ۔ اوندھے گرانا اور اس عمل کو بار بار دہرانا بھی بیان کیا گیا ہے ۔
Ayah 26:95

وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ Open ayah 26:95 in the Quran reader

اور شیطان کے سارے لشکر بھی

ابلیس کے پورے لشکر کے ساتھ یہی سلوک ہوگا : 95۔ (جنود ابلیس) کون لوگ ہیں ؟ وہ لوگ جو قوم کے بڑے بڑے لیڈر ‘ مذہبی اور سیاسی راہنما جو سیدھا چلنے کی بجائے الٹا ہی چلنے کے عادی ہیں خود بھی الٹی راہ چلتے ہیں اور دوسروں کو بھی الٹی راہ چلانے کے ذمہ دار ہیں ، مختصر یہ کہ خود گمراہ ہیں اور دوسروں کو گمراہ کر رہے ہیں ، ان کا ذک پیچھے کئی مقامات پر گزر چکا ہے ، مثلا سورة البقرہ 2 : 165 تا 167 پر ایک نظر ڈال لیں ۔ گزشتہ آیت اور زیر نظر آیت دونوں کا مضمون مشترک ہے اور ان میں بیان کئے گئے لوگوں کی یکساں حالت بیان کی گئی ہے اور یہ سب وہی لوگ ہیں جو دوزخ میں اوندھے منہ گرائے جانے والے ہیں خواہ وہ کون ہیں یعنی پیرو مرشد ہیں یا مریدان ومسترشدین ہیں اور شرک وکفر کی جتنی اقسام ہیں یہ ان سب قسموں کے لوگوں کی حالت کا بیان ہے (فیھاھم) ایک گروہ ہے (الغاون) دوسرا گروہ اور (جنود ابلیس) کا تیسرا گروہ گویا ان سارے مشرکوں اور کافروں کو ملا کر پھر ان کے تین گروہ بیان کئے گئے ہیں گزشتہ آیات میں مشرکین کو دو بڑے گروہوں میں بیان کیا گیا تھا ایک وہ جو پرستش کئے گئے اور وہ اپنا پرستش کیا جانا چاہتے تھے اور دوسرے ان کے پرستار تھے جو ان کو اپنے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے اس طرح انکو بیان کر کے ان میں سے ان لوگوں کو الگ کردیا گیا جو اللہ کے نیک بندے نبی ورسول اور اولیاء کرام ہیں ۔ ان کو تو بچالیا گیا کیونکہ ان کا اپنا کوئی قصور نہیں تھا بعد میں آنے والوں نے ان کو پوجنا اور پکارنا شروع کردیا اور ان کے ناموں کے ساتھ مشکل کشا اور داتا خطابات لگا دیئے ‘ ان کے نام کے وظیفے اور چلے کرتے رہے اس طرح ان کی پرستش کرنے والوں کو تو مشرک قرار دیا اور ان کا حشر بھی اوندھے گرائے جانے والوں کے ساتھ بیان کیا اور زیر نظر ؤیت میں (ھم) سے یہی لوگ مراد ہیں یعنی وہ جنہوں نے اس طرح ان کی پرستش شروع کردی تھی اور (الغاون) میں وہ گمراہ اور سرکش آگئے جنہوں نے اپنی سرکشی کے باعث سمجھنے اور سوچنے کے باوجود لوگوں کو اپنی پرستش پر لگائے رکھا اگرچہ وہ خود مذہبی طور پر یا سیاسی طور پر کوئی بڑے لوگ نہیں تھے جیسے آج کل ان درباروں اور خانقاہوں کے مجاور اور جھاڑو کش جو خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہی کی دعوت عملی طور پر دے رہے ہیں تیسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو بڑے خناس ‘ سردار اور پیشوایان مذاہب اور راہنمایان سیاست ہیں جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے مع ان کے حاشیہ نشنیوں کے جو انکی جے بولتے تھے یہ سب کے سب اس سے مراد لئے گئے ہیں ۔
Ayah 26:96

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ Open ayah 26:96 in the Quran reader

اور جب وہ وہاں باہم جھگڑنے لگیں گے ، کہیں گے

دوزخ میں داخلے کے بعد وہ آپس میں جھگڑنے لگیں گے : 96۔ فرمایا یہ لوگ مختلف گروپوں میں تقسیم ہونے کے بعد جب دوزخ میں اکٹھے کئے جائیں گے تو آپس میں ایک دوسرے کو دیکھ کر جھگڑنے لگیں گے ان کا جھگڑنا ایک دوسرے کو الزام دینا ہوگا کہ ہماری گمراہی کا سبب تو دراصل تم لوگ بنے تھے اور تم ہی نے ہم کو اس گمراہی پر لگایا تھا اور تم ہی نے ہم کو باور کرایا تھا کہ ہمارا پلو پکڑ کر تم بچ سکتے ہو اور آج نہ تم بچے اور نہ ہم کو بچنے دیا گویا تم خود بھی گمراہ تھے اور ہم کو بھی تم نے گمراہ کیا اس طرح وہ بھی اس الزام سے نکلنے کی پوری کوشش کریں گے حالانکہ ان کا جھگڑنا بالکل بےسود ہوگا اور دونوں ہی قسم کے لوگوں کے ساتھ اس جھگڑنے کے باعث کچھ رعایت نہ ہوگی ، اس طرح کے مذہبی پیشواؤں اور سیاسی لیڈروں اور راہنماؤں کے ساتھ ان کو مریدین ‘ جیالے اور کارکن جو جھگڑے کریں گے ان کو ذکر پیچھے سورة الانعام کی آیت 22 ‘ 81 ‘ 136 ‘ 137 ‘ 148 ‘ سورة الاعراف کی آیت 195 ‘ سورة النحل کی آیت 86 ‘ 87 میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا ہے وہاں سے ملاحظہ کریں اور دوسری اقسام کے جھگڑوں کا ذکر سورة ص کی آیت 64 ‘ 69 ‘ سورة یسن کی آیت 49 ‘ سورة الزمر کی آیت 31 ‘ سورة ق کی آیت 28 ‘ میں کیا گیا ہے اور ان سب جگہ پر ان کا ذکر کیا گیا ہے وہیں سے دیکھ لیں ۔
Ayah 26:97

تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 26:97 in the Quran reader

اللہ کی قسم ! ہم تو صریح گمراہی میں تھے

ایسے بھی ہوں گے جو اپنی گمراہی کا اقرار کریں گے اور قسمیہ کہیں گے کہ ہم ہی گناہگار تھے : 97۔ بلاشبہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی سمجھ میں بات آتی ہے لیکن اس وقت جب وقت نکل چکا ہوتا ہے اور اس وقت بات سمجھ میں آنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا زیر نظر آیت میں ایسے لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کو دنیا میں سمجھایا گیا تھا کہ تم انسان ہو ذرا غور وفکر کرو کہ آخر تم کو یہ عظیم القدر انسانی روح اتنے بلند پایہ اوصاف کے ساتھ تم کو اس لئے تو عطا نہیں کی گئی کہ تم دنیا میں جانوروں کی طرح رہو اور اپنے لئے بس وہی زندگی کا نقشہ بنا لو جو کوئی حیوان بنا سکتا ہے یہ آنکھیں تمہیں چشم بصیرت سے دیکھنے کے لئے دی گئی ہیں نہ کہ اندھے بن کر رہنے کے لئے یہ کان تمہیں گوش ہوش سے سننے کے لئے دیئے گئے ہیں نہ کہ بہرے بن کر رہنے کے لئے ، یہ دل تمہیں اس لئے دیئے گئے ہیں کہ حقیقت کو سمجھو اور صحیح راہ فکر وعمل اختیار کرو نہ اس لئے کہ اپنی ساری صلاحتیں صرف اپنی حیوانیت کی پرورش کے وسائل فراہم کرنے میں صرف کردو اور اس سے کچھ اونچے اٹھو تو اپنے خالق سے بغاوت کرکے الٹے سیدھے پروگرام بنانے لگو ۔ یہ بیش قیمت نعمتیں اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے پانے کے بعد جب تم شرک وکفر اختیار کرتے ہو جب تم خود الہ یا دوسرے الہوں کے بندے بنتے ہو ‘ جب تم خواہشات کے غلام بن کر جسم ونفس کی لذتوں میں غرق ہوجاتے ہو اس وقت گویا تم اپنے رب سے یہ کہتے ہو کہ ہم ان نعمتوں کے لائق نہ تھے ہمیں انسان بنانے کی بجائے تجھے ایک بندر ‘ بھیڑیا ‘ مگرمچھ یا کوا بنانا چاہئے تھا ، لیکن ان باتوں کو انہوں نے خاموش رہ کر سنا اور برداشت کرلیا اس سے آگے ایک قدم نہ بڑھے لیکن اب جب وقت ختم ہوگیا اور دوزخ میں دوزخیوں کے ساتھ پھینک دیئے گئے اور جب کچھ دوزخی آپس میں جھگڑنے لگے تو یہ اسی طرح گم سم رہے جیسے دنیا میں رہا کئے جب ان کے سامنے نصائح پیش کی گئیں ، اب ان کی زبانیں کھلیں اور کف افسوس ملتے ہوئے اپنے آقاؤں کو مخاطب کرکے کہنے لگے کاش ہم نے انبیاء ورسل کی باتوں کو توجہ سے سنا ہوتا یا عقل سے کام لے کر یہ سمجھنے کی کوشش کی ہوتی کہ فی الواقع وہ بات کیا ہے جو وہ ہمارے سامنے پیش کر رہے ہیں اگر ہم ایسا کرتے تو یقینا آج اس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں شامل نہ ہوتے ، زیر نظر آیت میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے فرمایا ” وہ کہیں گے اللہ کی قسم ! ہم تو صریح گمراہی میں تھے “ اس طرح وہ بات کو شروع کریں گے اور آہستہ آہستہ آگے بولتے جائیں گے ۔
Ayah 26:98

اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 26:98 in the Quran reader

جب کہ ہم تم کو تمام جہانوں کے رب کے برابر ٹھہراتے تھے

ہم نے تم کو جہانوں کے رب کے برابر ٹھہرایا تھا : 98۔ اب ان کی عقل ٹھکانے آئی ہے اور پکار پکار کر کہتے ہیں کہ ” ہم نے تم کو جہانوں کے رب کے برابر ٹھہرایا تھا “ یعنی وہ مقام جو صرف اور صرف جہانوں کے رب ہی کے لئے سزاوار تھا ہم نے تم کو اس مقام پر لاکھڑا کیا تھا اور تمہاری باتوں کو وقعت دی تھی جو صرف اور صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کے رب کی باتوں کو دینی چاہئے تھی یہ لوگ کون ہیں جن کو وہ مخاطب کرکے کہہ رہے ہیں ؟ وہی جو ان کے دراصل گمراہ کنندہ تھے اور انہی کی باتوں اور احکام کو وہ دنیا میں اہمیت دیتے رہے تھے لیکن جب بولنے کا وقت تھا نہیں بولے اور جب بولنے کی کوئی قیمت نہیں رہی اب بول رہے ہیں لیکن ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ” گزرا ہو وقت کبھی ہاتھ نہیں آتا ۔ “ اچھا بلاشبہ جن کا وقت گزر گیا ان کے تو وہ کام نہ آیا ان کی یہ پریشانی ہمارے سامنے رب کریم نے کیوں بیان کی ؟ ظاہر ہے اس لئے کہ ابھی ہمارا وقت تو نہیں گزرا ہمیں تو اپنی عقل کے ناخن لینا چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ اس وقت ہم کیا کر رہے ہیں جو ہمیں سیدھی راہ بتاتے ہیں کیا ہم ان کی سنی ان سنی تو نہیں کر رہے ‘ کیا ہم عقل سے وہ کام لے رہے ہیں جو ہم کو اس سے لینا چاہئے کہ ہم ان کا ساتھ دے رہے ہیں جو اس وقت کے خدایان دہ و ملک ہیں یا ان کا جو ہمیں سیدھی راہ بتا رہے ہیں ؟ کیا ہمارے ان مذہبی راہنماؤں نے جو آپس میں اتحاد کیا ہے اور سب اس بات پر متفق ہیں کہ ” دین میں عقل کو دخل نہیں “ ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ان کی یہ بات کہاں تک سچی یا جھوٹی ہے ؟ کیا یہ قرآن وسنت میں ہے ؟ اگر یہ بات صحیح ہوتی تو جن کا ذکر ہم کو اس جگہ سنایا جارہا ہے کہ وہ قیامت کے روز افسوس کریں گے اور پاگلوں کی طرح کی اپنا سر اور منہ پیٹ پیٹ کر کہیں گے (لو کنا نسمع اونعقل ماکنا فی اصحاب السعیر “۔ (الملک 67 : 10) ” کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اس بھرکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں شامل نہ ہوتے “ معلوم ہوا کہ ان مذہبی ٹھیکہ داروں کی یہ بات جھوٹ کا ایک پلندہ ہے پھر ہم آخر اس کو اٹھا کر آج ہی ان کے منہ پر کیوں نہیں دے مارتے ۔ کیا ہم کو بھی یہ بات اسی وقت یاد آئے گی جب ہمارا وقت نکل گیا ؟ ہم بھی وہی کہیں گے جو وہ کہہ رہے ہیں ؟
Ayah 26:99

وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 26:99 in the Quran reader

اور ہم کو ان مجرموں ہی نے بہکایا

وہ کہیں گے کہ ہم کو ان مجرموں ہی نے بہکایا تھا : 99۔ آج مریدین اپنی بدبختی کا ماتم کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں ان مجرموں ہی نے گمراہ کیا تھا ، غور کرو کہ وہ اس وقت کس بیزاری کے عالم میں ہوں گے کہ رات دن جن کی سکیموں پر چلتے تھے اور جن کے پاؤں کے نیچے آنکھیں بچھاتے تھے ‘ جن کو اپنا پیشوا اور لیڈر سمجھتے تھے جن کے برابر بیٹھنا گناہ تصور کرتے تھے اور جن کے برابر چلنا حرام سمجھتے تھے ‘ جن کے لئے سپیشل کھانے تیار کرایا کرتے تھے ‘ جن کے استقبال کے لئے دوسروں لوگوں کو بھی مدعو کیا کرتے تھے آج ان کو اپنے مونہوں سے مجرم قرار دے رہے ہیں کہ کیا منظر ہوگا وہ جب اپنی خدمتیں کرانے والے اپنے خدمت گاروں سے یہ الفاظ سنیں گے کیا اس وقت فریقین کے حالت دیدنی نہیں ہوگی ؟ ذرا تصور کرکے دیکھو ! بلاشبہ ہم میں بھی ایسے لیڈر و راہنما اور مذہبی پیشوایاں قوم موجود ہیں اور ہم ہی میں ان کے جیالے ‘ پیروی کرنے والے اور مریدین بھی اور آنے والا وقت جس کی یہاں بات ہو رہی ہے جیسے پہلوں پر آیا ہم پر آنے والا ہے اور آخری مقام میں ہم سب کو ویسے ہی اکٹھا کردیا جائے گا کیا وہ جن کی یہاں بات ہو رہی ہے اور کیا ہم جن کو ان کی بات سنائی جارہی ہے ، قرآن کریم اس طرح کی باتیں ہم کو کیوں سناتا ہے ؟ ہماری تفہیم کے لئے کہ شاید ہم ہی سمجھ جائیں کہ ہمارے لئے ابھی وقت نے مہلت دے رکھی ہے اگرچہ مدت مہلت کا ہم کو بھی علم نہیں ۔
Ayah 26:100

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ Open ayah 26:100 in the Quran reader

پس اب نہ ہمارا کوئی سفارش کرنے والا ہے

وہ کہیں گے کہ اس وقت تو کوئی ہماری سفارش کرنے والا بھی موجود نہیں : 100۔ ان لوگوں کے ان حرمت بھرے الفاظ پر غور کرو کہ وہ کس الحاح وزاری سے یہ فقرات ادا کر رہے ہوں گے دوسری جگہ ان کی بےبسی کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ ” جس روز ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی اور پھر مزید کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہ راست سے ہٹا کر بےراہ کردیا ‘ اے ہمارے رب ! ان کو دوہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر۔ “ (الاحزاب 33 : 67 ‘ 68) زیر نظر آیت میں تو وہ حسرت بھرے الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ ” اب ہمارا کوئی سفارشی بھی نہیں جو سفارش ہی کر دے “ دوسری جگہ قرآن کریم نے خود وضاحت فرما دی ہے کہ اگر ایسے لوگوں کا کوئی سفارشی سامنے آ بھی جائے اور ان کی سفارش کر بھی دے ” تو اس سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہیں آئے گا “ (المدثر 74 : 48) یعنی ایسے لوگ جنہوں نے مرتے دم تک یہ روش اختیار کر رکھی اور وہ شرک کی لعنت سے بھی باز نہ آئے انکے حق میں اگر کوئی شفاعت کرنے والا شفاعت کر بھی دے تو بھی ان کو معافی نہیں مل سکتی کیوں ؟ اس لئے کہ وہ وقت نکل چکا ہے کہ وہ کم از کم اس قابل ہی ہوجائیں کہ ان کے حق میں کسی کی سفارش مانی جاسکے ، یہ تو اسی وقت ممکن تھا کہ کم از کم یہ لوگ اسلامی زندگی اختیار کرتے پھر اگر کسی غیر کی کوئی کمی رہ جاتی تو کوئی صاحب باذن اللہ ان کی سفارش کرکے ان کو کامیاب قرار دلوا لیتے یہ تو وہ لوگ ہیں کہ انہوں نے اسلام کے مدرسہ میں داخلہ بھی نہیں لیا اور امتحان میں بیٹھنے کے قابل بھی نہیں ہوئے تو آخر انکی شفاعت کا تخیل کیونکر پیدا ہو سکتا ہے ۔ قرآن کریم نے شفاعت کے مسئلہ کو بڑی وضاحت سے بیان کردیا ہے اور واضح کردیا ہے کہ شفاعت کون کرسکتا ہے اور کون نہیں کرسکتا ‘ کس حالت میں سفارش کی جاسکتی ہے اور کس حالت میں نہیں کی جاسکتی ‘ کس کے لئے کی جاسکتی ہے اور کس کے لئے نہیں کی جاسکتی کس کے حق میں وہ نافع ہے اور کس کے حق میں نافع نہیں اس طرح شفاعت کے بارے میں غلط عقائد بیان کرکے ان کا رد بھی کیا گیا ہے اس لئے اس میں کسی اشتباہ کی کوئی گنجائش نہیں اگر آپ اس مضمون کو دیکھنا چاہیں تو سورة البقرہ کی آیت 255 ‘ سورة الانعام کی آیت 94 ‘ سورة الاعراف کی آیت 53 ‘ سورة یونس کی آیت 3 ‘ 18 ‘ سورة مریم کی آیت 87 ‘ سورة طہ آیت 109 ‘ سورة الانبیاء کی آیت 28 میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں ۔
Ayah 26:101

وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ Open ayah 26:101 in the Quran reader

اور نہ کوئی غم خوار دوست ہے

وہ کہیں گے اس وقت تو ہمارا کوئی غم خوار دوست بھی موجود نہیں : 101۔ ان لوگوں کی حسرت ویاس کی داستان ابھی جاری ہے جو اپنی کہانی اپنی زبانی کر رہے ہیں اور گزرے ہوئے دنوں کو یاد کرکے خون کے آنسو بہا رہے ہیں اور رو رو کر ہلاک ہوئے جا رہے ہیں ۔ اس جگہ لفظ (حمیم) استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد کسی شخص کا ایسا دوست ہے جو اپنے دوست کو پٹتے اور مار کھاتے دیکھ کر جوش میں آئے اور اسے بچانے کے لئے دوڑے ، یہ ان کا حسرت بھرا کلمہ ہے یا ایسی واہی تباہی کی بات ہے جو وہ بک رہے ہیں بلا اللہ تعالیٰ کے پکڑہوؤں کو بھی کوئی چھڑوا سکتا ہے ؟