26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 26:1–9

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ ایک روشن کتاب (قرآن) کی آیتیں ہیں

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

شاید آپ ان کے ایمان نہ لانے پر (رنج کرتے ہوئے) اپنی جان ہی دے دیں گے

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں (ان کے ایمان لانے کے لئے) تو ان پر آسمان سے ایک بڑی نشانی اتار دیں تو اسکے آگے ان کی گردنیں جھک جائیں

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

اور ان کے پاس تازہ نصیحت رحمن (اللہ) کے پاس سے نہیں آتی جس سے یہ منہ نہ پھیرلیتے ہوں

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

سو انہوں نے تو (دین حق) کو جھوٹا بتایا پس عنقریب ان کو اس بات کی حقیقت معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے تھے

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے اس میں کتنی ہی نفیس چیزوں کے جوڑے اگائے ہیں

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

بلا شبہ اس میں (توحید کی) ایک بڑی دلیل ہے اور ان کے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

اور یقینا آپ کا پروردگار غالب (اور) مہربان ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم تفسیر اسرار التنزیل جلد 05 سورۃ شعراء اسرار و معارف سورۃ شعراء بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور گزشتہ مضمون یعنی کفار کے انکار پر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کیفیت کو بیان کرتی ہے جو رحمت للعالمین ﷺ پر وارد ہوتی تھی رسول اللہ ﷺ بھی تو یہ بات خوب جانتے تھے کہ ان کا نہ ماننا ان کی ان برائیوں کا نتیجہ ہے جس سے ان کی فطری صلاحیت تباہ ہوگئی اور آپ کا یہ ایمان بھی تھا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اگر وہ منوانا چاہے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا نیز آپ ﷺ کو یہ علم بھی تھا کہ آپ کا کام اللہ کا پیغام پہنچانا ہے منوانا نہیں مگر اس کے باوجود جب کفار انکار کی راہ اختیار کرتے تو آپ ﷺ کی نگاہ پاک میں تو وہ منظر ہوتا تھا کہ اس انکار کے نتیجہ میں انہیں کس حال میں دوزخ میں جھونکا جائے گا تو فطری رحمدلی اور شفقت کے باعث آپ ﷺ کو بہت دکھ ہوتا تو ان آیات مبارکہ میں آپ ﷺ کی دلجوئی کے لئے پھر سے ارشاد فرمایا گیا اور آپ ﷺ کو اس طرف متوجہ کیا گیا کہ یہ ایک ایسی روشن کتاب ہے جا واضح دلائل مہیا کرتی ہے اللہ کی وحدانیت پر اور اس کے محبوب برحق ہونے پر آگے ان دلائل کو قبول کرنا یا نہ کرنا یہ بندے کو اختیار دیا گیا ہے تو اگر کوئی اپنی پسند سے دوسری راہ یعنی انکار کی راہ اپناتا ہے تو آپ اس کا دکھ اس قدر محسوس نہ کیجیے کہ جان سے جانے کا خطرہ پیدا ہوجائے اگر یہ نہیں مانتے نو نہ ماننے کا بھی ان کو اختیار ہے بھلا اگر ان سے منوانا ہی مقصد ہوتا تو کوئی ایسی نشانی نازل کردی جاتی کہ ان کی گردنیں جھکی رہ جاتیں انہیں بعد الموت کا مشاہدہ کرادیا جاتا یا یہ کہ جو نہ مانے گا سانس نہ لے سکے گا یا اسی سر میں درد شروع ہوجائے گا تو کون انکار کرتا مگر ایسا نہیں بلکہ انہیں پسند و ناپسند کی مہلت دی گئی ہے اور یہ صرف آپ سے نہیں ہورہا بلکہ کفار کے پاس جب بھی اللہ کی طرف سے جو بہت بڑا رحم کرنے والا ہے کوئی ہدایت نازل ہوئی اور کتاب آئی تو انہوں نے اس حد تک بےرخی برتی کہ اس کا انکار کردیا اور ان حقائق کا تمسخر اڑایا جو اللہ نے بیان فرمایے تھے مگر وہ دن بھی دور نہیں کہ جب وہ تمام حقائق ان پر ظاہر ہوجائیں گے اور ان منازل سے انہیں گزرنا ہوگا جن کا مذاق اڑاتے تھے یہ اس قدر اندھے ہیں کہ زمین اور اس کی رؤیدگی پہ بھی گور نہیں کرتے کہ اللہ نے کس قدر پودے اگا دیئے ہیں اور ان سب کا طریق بھی متعین کی ہے نر اور مادہ ہیں اپنا اپنا کا م کرتے ہیں اور جو پھل پھول یا نتیجہ ان سے مطلوب ہے وہ دے رہے ہیں اللہ کا نظام کس قدر مضبوط اور عظیم ہے کہ ہر شے پیدا ہونے سے لے کر فنا ہونے تک اس کے ایک ایک ضابطے کی پابندی کرتی ہے اور ان سب کا حاصل انہی کی یعنی انسان ہی کی خدمت ہے تو کیا انسان جس کی سب خدمت کرتے ہیں اور جو واقعی اللہ کے نظام میں تکوینی امور میں اس کے ضابطوں کے تحت ہر منزل سے گزرتا ہے جہاں اسے اختیار دیا گیا ہے وہاں کوئی نتیجہ نہ ہوگا کیا اس سارے نظام میں ایسے دلائل کی کمی ہے ہرگز نہیں ہر صنعت صانع کے کمال قدرت کی گواہ ہے صرف انہی میں سے اکثر کو ایمان نصیب نہیں اور یہ نہیں مانتے پھر ایسے لوگوں کا دکھ آپ اتنی شدت سے کیوں محسوس کریں ان کا کردار تو یہ ہے اللہ انہیں تباہ کردے اور وہ غالب ہے کرسکتا ہے مگر وہ رحم کرنے والا ہے کہ انہیں مہلت دے رکھی ہے کتاب نازل فرمائی اپنا رسول مبعوث فرمایا یہ اس کے کرم کی بات ہے
Ayahs 26:10–33

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اور جب آپ کے پروردگار نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرمایا کہ ظالم لوگوں کے پاس جائیں

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

(یعنی) قوم فرعون کے پاس ، کیا یہ ڈرتے نہیں ؟

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

انہوں نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! بیشک میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھوٹا سمجھیں

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

اور (طبعی طور پر) میرا دل تنگ ہونے لگتا اور میری زبان (اچھی طرح) نہیں چلتی تو اس لئے ہارون (علیہ السلام) کو بھی وحی بھیج دیجئے

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور میرے ذمہ ان لوگوں کا ایک جرم بھی ہے (قبطی کا قتل) تو مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے (تبلیغ رسالت سے پہلے ہی) قتل کرڈالیں

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

فرمایا ہرگز نہیں ! پس آپ دونوں ہماری نشانیاں لے کر جائیں یقینا ہم آپ کے ساتھ ہیں (سب کچھ) سنتے ہیں

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

سو دونوں فرعون کے پاس جائیے پھر اس سے کہیے ہم تمام جہانوں کے مالک کے پیغمبر ہیں

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

(اور اس لئے آئے ہیں) کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دو

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

کہنے لگا کیا ہم نے تم کو بچپن میں پرورش نہیں کیا اور تم نے ہمارے ہاں برسوں عمر بسر نہیں کی

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور تم نے وہ کام کیا جو کیا تھا (یعنی قبطی کا قتل) اور تم ناشکرے ہو

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

(موسیٰ (علیہ السلام) نے) فرمایا ہاں وہ حرکت تب مجھ سے ہوئی تھی اور مجھ سے غلطی ہوئی

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

جب مجھے تم سے ڈر ہوا تو میں تم سے بھاگ گیا پھر میرے پروردگار نے مجھے حکمت (نبوت) عطا کی اور مجھے پیغمبروں میں شامل فرمایا

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور کیا یہی احسان ہے جو تم مجھ پر رکھتے ہو کہ تم نے بنی اسرائیل کو غلام بنارکھا ہے

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ جہانوں کا پروردگار کیا ہے ؟ (یعنی اسکی حقیقت کیا ؟ )

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کا پروردگار ، اگر تم کو یقین کرنا ہو تو

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

اس (فرعون) نے اپنے گرد والوں سے کہا ، کیا سنا تم نے ؟

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا وہ پروردگار (اللہ) ہے تمہارا اور پروردگار ہے تمہارے پہلے باپ دادا کا

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

(فرعون) کہنے لگا کہ تمہارا یہ پیغمبر جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور پاگل ہے

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

نہوں نے فرمایا مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کا پروردگار (اللہ) ہے اگر تم میں عقل ہو تو

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

(فرعون جھلا کر) کہنے لگا اگر تم نے میرے علاوہ کسی اور کو معبود بنایا تو میں ضرور تم کو قید میں ڈال دوں گا

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا خواہ میں تمہارے پاس واضح دلیل (معجزہ) بھی لاؤں

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

تو ! کہنے لگا اگر تم سچے ہو تو اس کو لے آؤ

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

پس انہوں نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ اس وقت بہت بڑا اژدھا بن گئی

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ (بغل میں دے کر) نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کے لئے سفید براق ہوگیا (نظر آنے لگا)

آیات 10 تا 33 اسرار و معارف نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے بدبختوں کے لئے دکھ محسوس نہ کیا کیجیئے کہ جب اللہ کریم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اس ظالم قوم یعنی فرعون کی قوم کے پاس جائیے اور انہیں اللہ کی طرف دعوت دیجیئے کیا وہ اس قدر بےراہ رو ہوگئے ہیں کہ انہیں اللہ کا خوف بھی نہیں رہا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا بارے الہا میرا سینہ بھی ذرا رک رک جاتا ہے یعنی میں فورا جواب نہیں دے پاتا یا بات اور اس کا جواب میرے دل میں فورا نہیں آتے نیز میری زبان بھی روانی سے نہیں چلتی تو آپ ازراہ کرم ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیج دیجیئے نیز انہوں نے تو مجھے قتل کا مجرم بنا رکھا ہے اور ڈر ہے کہ جیسے ہی مجھے پائیں گے قتل کردیں گے تو ارشاد ہوا ہرگز نہیں یعنی ان باتوں میں کچھ بھی آڑے نہ آئے گا چناچہ شرح صدر بھی عطا ہوا بات بھی کرنے میں وہ دشواری حائل نہ رہی اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت سے سرفراز فرما کر ہمراہ کردیا تو تعمیل ارشاد میں مزید سہولت کے لیے اسباب کا طلب کرنا بہت مناسب اور ضروری ہے انہیں رب کریم عطا فرما کر آسانی بھی فرما دیتے ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہوا کہ ان آپ دونوں جائیے اور معجزات و دلائل پیش فرمائیے اور یاد رکھیے میں بھی اپ کے ساتھ ہوں اور سب کچھ سنتا ہوں ہر بات سے باخبر ہوں چناچہ دونوں حضرات فرعون کے دربار ین پہنچے اور اللہ کی طرف دعوت دی اور فرمایا کہ ہم دونوں اس پروردگار کے رسول ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے چناچہ تم اور تمہاری قوم بغاوت اور سرکشی چھوڑ کر اللہ کی اطاعت اختیار کرو نیز بنی اسرائیل کو جو مدتون سے تمہاری غلامی کی چکی میں پس رہے ہیں آزاد کر کے ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دو کہ وہ اپنے وطن اصلی کو لوٹ جائیں بنی اسرائیل کا اصل وطن شام تھا اور گزشتہ چار سو سال سے مصر کے فرعونوں کی غلامی میں جکڑے ہوئے تھے جب موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تو تقریبا سوا چھ لاکھ کی تعداد میں تھے۔ مناظر اور کج بحثی یہاں فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کے سوال و جواب مناظرہ کی صورت میں بیان ہوئے ہیں جس کا رواج تاحال بھی ہے اور عموما مناظرے کے نام پر کج بحثی کرکے محض اپنی بات غالب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ حق یہ ہے کہ دلائل سے حق واضح کیا جائے اور عموما جس فریق کے پاس دلیل نہ ہو وہ کج بحثی پر اتر اتا ہے جیسا کہ فرعون نے یہاں توحید باری کے مقابلے میں اپنی خدائی پر کوئی دلیل نہ دی نہ بنی اسرائیل کو غلامی میں رکھنے کا کوئی جواز پیش کیا بلکہ الٹا موسیٰ (علیہ السلام) کی ذات پر اعتراض کیا کہ واہ آپ تو وہی ہیں جن کو ہم نے پالا پوسا اور عمر عزیز کا ایک حصہ ہمارے گھر پر بسر کیا آج ہمیں کو دعوت دینے چلے آئے اور پھر آپ کو تو یہ بھی پتہ ہے کہ کتنا بڑا جرم آپ نے کیا تھا ایسے لوگ اصلاح کی دعوت دینے والے ہوتے ہیں آپ نے اس کی کج بحثی کا بھی صحیح طریقے سے اور حق بیان کرتے ہوئے جواب دیا کہ واقعی وہ مجھ سے خطا ہوگئی تھی مگر وہ قتل عمد نہ تھا میں نے قنطی کو ظلم سے روکا وہ باز نہ آرہا تھا تو منع کرنے کے لیے مکہ رسید کردیا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی اور یہ میری بھول تھی جو نبوت کے منافی نہیں پھر میں تمہارے قانون سے بچنے کے لیے تمہارے ملک سے ہی چلا گیا کہ یہاں اسرائیلی پر ظلم تو ظلم نہیں کہلاتا اور قبطی اگر غلطی سے بھی مارا گیا تو سخت سزا ملے گی اللہ نے مجھ پر احسان فرمایا اور مجھے نبوت و رسالت سے سرفراز فرما دیا کہ یہ ضطا اس کے منافی نہ تھی نہ کسی خطا کے ارادے سے کی گئی تھی اور اب فریضہ رسالت ادا کرنے تمہارے پاس آگیا ہوں رہی تمہاری یہ بات کہ پرورش کا احساس جتاتے ہو تو ذرا اپنے ظلم کو دیکھوتو ذرا اپنے ظلم کو دیکھو جو مجھے تمہارے پاس پہنچانے کا سبب بنا کہ بنی اسرائیل کو تم نے غلامی کی زنجیر میں جکڑ رکھا تھا پھر ان کے بچے قتل کرانے شروع کردئیے تو مجھے میری ماں نے دریا میں ڈال دیا جہاں سے تم نے لے لیا اور پالنے لگے بھلا یہ تمہارا کیا احسان تھا یہ تو تمہارے ظلم کے باعث ہوا اور اللہ نے اپنی قدرت کا اظہار فرمایا کہ جسے مارنے کے لیے تم نے بچے قتل کرانے شروع کئے تھے اس کی پرورش تمہارے گھر پہ کرنا پڑی۔ فرعون لاجواب ہوا تو کہنے لگا بلا پروردگار عالم کون ہے اپنی ساری بات سے دوسری طرف پلٹ گیا آپ نے فرمایا وہ پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ بھی ان میں ہے اس سب کا یعنی اس نے ذات باری اور اس کی کنہ کے بارے سوال کیا آپ نے جواب صفات باری سے دیا کہ اس کی ذات کی کنہ کو پانا ممکن نہیں لہذا فرمایا کہ اگر تم میں یقین کرنے اور نتائج کو سمجھنے کی صلاحیت ہے تو کائنات کا ہر ذرہ اس کی ربوبیت کا گواہ ہے فرعون اہل دربار سے کہنے لگا ذرا سنو تو ہم کیا پوچھ رہے ہیں اور جواب کیا ہے آپ نے فرمایا کہ وہ پروردگار ہے تمہارا بھی اپنی ذات پر غور کرو تمہیں کس نے پیدا کیا اگر تم خدا تھے تو تمہارے باپ دادا کو کس نے پیدا کیا ان کا رب بھی وہی ہے اب فرعون کے پاس کج بحثی کی گنجائش بھی نہ رہی تو کہنے لگا کہ یہ رسول جو آپ لوگوں کی طرف مبعوث ہوا ہے پاگل لگتا ہے تو آپ نے فرمایا وہ تو مشرق و مغرب کا رب ہے طلوع و غروب کا نظام اسی کا ہے اور جو کچھ اس کے اندر ہے اس سارے نظام کو بھی وہی چلاتا ہے فرعون بھڑک اٹھا کہنے لگا اگر میرے علاوہ کسی کو معبود مانو گے تو تمہیں جیل میں ڈال دوں گا یہ اس کے دلائل سے عاجز ہونے کی آخری دلیل تھی مگر ابھی تک تو بات زبانی تھی آپ نے فرمایا اگر اس سے بھی بڑی دلیل یعنی معجزہ بھی پیش کردوں تب بھی تو فرعون نے کہا لائیے معجزہ ابھی آپ کی صداقت بھی کھل جاتی ہے۔ تو آپ نے عصا پھینک دیا جو قدرت الہی سے بہت بڑا اژدہا بن گیا اور آپ نے اپنا ہاتھ بغل میں دے کر نکالا تو وہ چاند سا روشن ہوگیا۔