26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 26:69–104

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 26:69 in the Quran reader

اور ان کے سامنے ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کیجئے

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 26:70 in the Quran reader

جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو ؟

قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ Open ayah 26:71 in the Quran reader

کہنے لگے ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں پھر ان کی عبادت پر قائم ہیں

قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ Open ayah 26:72 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا کہ جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری پکار سنتے ہیں ؟

اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ Open ayah 26:73 in the Quran reader

یا تم کو کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں ؟

قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 26:74 in the Quran reader

انہوں نے کہا بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا کرتے دیکھا ہے

قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:75 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا بھلا تم نے ان کو (غور سے) دیکھا جن کی تم عبادت کرتے ہو ؟

اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ Open ayah 26:76 in the Quran reader

تم بھی اور تمہارے پہلے بڑے بھی

فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:77 in the Quran reader

سو یہ تو میرے دشمن ہیں مگر (اللہ) جو پروردگار ہے جہانوں کا (میرا دوست ہے)

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ Open ayah 26:78 in the Quran reader

جس نے مجھے پیدا فرمایا سو وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے

وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ Open ayah 26:79 in the Quran reader

اور وہی مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ Open ayah 26:80 in the Quran reader

اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو وہ ہی مجھے شفا بخشتا ہے

وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ Open ayah 26:81 in the Quran reader

اور وہ مجھے موت دے گا پھر مجھ کو زندہ کرے گا

وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 26:82 in the Quran reader

اور وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن میری خطاؤں کو معاف فرمائے گا

رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 26:83 in the Quran reader

اے میرے پروردگار ! مجھے حکمت (و دانش) عطا فرمائیے اور مجھے (اعلیٰ درجہ کے) نیک لوگوں کے ساتھ شامل فرمائیے

وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 26:84 in the Quran reader

اور میرا ذکر سچا آئندہ آنے والوں میں جاری رکھیے

وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 26:85 in the Quran reader

اور مجھے نعمت کی بہشت کے وارثوں میں سے کیجئے

وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 26:86 in the Quran reader

اور میرے باپ کو بخش دیجئے کہ بیشک وہ گمراہوں میں سے ہے

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ Open ayah 26:87 in the Quran reader

اور جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے مجھے رسوا نہ کیجیو

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ Open ayah 26:88 in the Quran reader

جس دن نہ مال ہی کوئی فائدہ دے گا اور نہ بیٹے

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ Open ayah 26:89 in the Quran reader

ہاں مگر جو شخص اللہ کے پاس (کفروشرک سے) پاک دل لے کر آیا (اس کی نجات ہوگی)

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 26:90 in the Quran reader

اور پرہیزگاروں کے لئے جنت قریب کردی جائے گی

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ Open ayah 26:91 in the Quran reader

اور گمراہوں کے لئے دوزخ (سامنے) ظاہر کردی جائے گی

وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:92 in the Quran reader

اور ان سے کہا جائے گا وہ کہاں ہیں جن کی تم عبادت کرتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ Open ayah 26:93 in the Quran reader

اللہ کے علاوہ کیا وہ تم کو مدد دے سکتے ہیں یا خود اپنا ہی بچاؤ کرسکتے ہیں ؟

فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ Open ayah 26:94 in the Quran reader

تو وہ اور سب گمراہ (بت اور بت پرست) اوندھے منہ اس (دوزخ) میں ڈال دیئے جائیں گے

وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ Open ayah 26:95 in the Quran reader

اور سب کے سب ابلیس کے لشکر بھی

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ Open ayah 26:96 in the Quran reader

اور وہاں آپس میں میں جھگڑیں گے اور کہیں گے

تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 26:97 in the Quran reader

کہ اللہ کی قسم ہم واضح گمراہی میں تھے

اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 26:98 in the Quran reader

جب کہ تم کو (اے بتو ! عبادت میں) پروردگار عالم کے برابر کرتے تھے

وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 26:99 in the Quran reader

اور ہم کو ان گنہگاروں نے ہی گمراہ کیا

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ Open ayah 26:100 in the Quran reader

سو (اب) نہ کوئی ہمارا سفارشی ہے

وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ Open ayah 26:101 in the Quran reader

اور نہ مخلص دوست

فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:102 in the Quran reader

سو کاش ! ہمیں (دنیا میں) پھرجانا ہوتا تو ہم ایمان لانے والوں میں ہوتے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:103 in the Quran reader

بیشک اس (قصہ) میں بڑی دلیل ہے اور (اس کے باوجود) ان کے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:104 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا پروردگار بڑا زبردست (اور) مہربان ہے

آیات 69 تا 104 اسرارومعارف اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری مدد کرسکتے ہیں یا اگر عبادت ترک کردو تو کیا ان کی ناراضگی سے کسی نقصان کا اندیشہ ہے۔ اس پر وہ لاجواب ہوگئے کہ ان میں سے تو کوئی بات بھی نہیں ہاں ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسا ہی کرتے دیکھا لہذا ہم بھی کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ذرا غور کرو کہ جو کچھ تمہارے اجداد کرتے رہے اور اب تم کر رہے ہو یہ تباہی کا راستہ ہے اگر میں بھی ایسا کروں تو سخت نقصان اٹھاؤں گا کہ عبادت کا مستحق صرف وہ پروردگار ہے جو سارے جہانوں کا پیدا کرنے والا اور ان کی سب ضروریات پوری کرنے والا ہے۔ وہی ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور زندگی کے اسلوب سکھائے یعنی انسانی پیدائش اور پھر ایک بچے کا بڑا ہونا مفکر سائنسدان یا سیاستدان بننا امور دنیا کا چلانا اور کاروبار حیات میں سرگرم عمل ہونا ایسے ہی انبیاء و رسل کا انقلاب آفریں ہستی بننا یہ سب اس کی قدرت کاملہ کے مظاہر ہیں اور پھر انسان مسلسل غذا کا محتاج ہے اس کی روزی کا اہتمام فرماتا ہے صحت و بیماری زندگی کا حصہ ہیں جب بیماری آتی ہے اور پروردگار صحت بخشتا ہے وہ ہی مجھے موت سے ہمکنار کرے گا اور وہی پھر سے زندگی دے گا اور پھر اس کے سامنے سب کا حساب کتاب ہوگا جس میں مجھے اس سے امید کامل ہے کہ میری خطاؤں سے درگزر فرما کر مجھے بخش دے گا۔ انبیاء معصوم ہوتے ہیں ان سے خطا سرزد نہیں ہوتی مگر یہاں عظمت الہی کا اور اپنی طرف سے کمال ادب کا اظہار بھی ہے جبھی تو امید کا لفظ استعمال فرمایا نیز عموم بھی مقصود ہے کہ اللہ کا یہ معاملہ سب کے ساتھ ہے یعنی تمہیں بھی اسی کی عبادت کرنا چاہیے کہ اسی نے پیدا کیا علم و عمل کی توفیق دی موت اور زندگی صت و بیماری اسی کی طرف سے ہے اور آخرت میں اسی کی بخشش کی امید بھی۔ غیبت سے حضوری کی طرف : اللہ کی تعریف کرتے ہوئے اس کی بارگاہ میں حضوری کی کیفیت پیدا ہوگئی تو براہ راست دعا نکلی کہ اے اللہ مجھے حکم عطا کر۔ حکم سے مراد مفسرین کرام نے علم و حکمت فرمایا ہے ۔ احقاق حق کے لیے قوت نافذہ کی طلب : مگر تفسیر بحر محیط نے امام رازی کے حوالے سے نقل فرمایا ہے کہ علم و حکمت تو نبوت کا خاصہ ہے جو انہیں پہلے نصیب تھی یہاں مراد قوت نافذہ ہے جس کے ذریعہ سے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرسکیں اور باطل کو مٹا کر حق نافذ کرسکیں چونکہ اقتدار میں لوگوں کے بھٹکنے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے اگرچہ انبیاء اس سے بالا تر ہوتے ہیں مگر تعلیم کی غرض سے دعا فرمائی کہ ایسا نہ ہو بلکہ مجھے حکومت و اقتدار عطا فرما کر نیکوں اور صالحین کے ساتھ شامل فرما یعنی میں اس قوت سے نیکی اور بھلائی نافذ کرسکوں اور ایسی کمال صداقت اور نیکی کے نفاذ کی قوت بخش کہ میری روایت بعد والوں میں بھی جاری ہو اور ہمیشہ حصول اقتدار تیری عظمت کے اظہار کا ذریعہ بنے نہ یہ کہ لوگ اس سے گمراہ ہوتے رہیں چناچہ آپ کی دعا کی اجابت نبی اکریم ﷺ کی بعثت اور مسلمانوں کی خصوصاً خلافت راشدہ کی حکومت کی صورت میں ظاہر ہوئی نیز آئندہ قیامت تک نیکی غالب اور نافذ کرنے والوں کو آپ کی دعا میط ہے اور میرے ان اعمال کو قبول فرما کر مجھے جنت اور اس کی نعمتوں کا وارث بنا دے۔ کافر کے لیے زندگی میں ہدایت کی دعا جائز ہے : نیز میرے والد کو ہدایت نصیب فرما کر اس کی بخشش کا سامان کردے کہ روز محشر میرے لیے شرمندگی کا باعث نہ ہو۔ آپ نے دعا تو فرمائی مگر ہدایت کے لیے بندے کا ذاتی فیصلہ اور دلی طلب ضروری ہے جو وہاں نہ تھی لہذا محروم رہے۔ اور پھر قیامت کے دن کا نقشہ کھینچا کہ اس روز مال و دولت جاہ و حشمت یا اولاد وغیرہ کام نہ آئیں گے کہ یہ سب اگر محض دنیا کے حصول کا ذریعہ بنے اور انسان کے دل کو اپنی محبت میں اسیر کرکے اللہ سے غافل کردیا تو تباہی کا باعث بن گئے قلب سلیم : ہاں مگر وہ لوگ جن کو قلب سلیم نصیب ہوا یا جو اپنے قلب کو سلامت لائے یعنی یعنی وہ اللہ کی محبت سے آباد اور اللہ کے نور سے روشن رہا اور جاہ و حشمت مال و دولت اور اولاد تک کو اللہ کے احکام کے نفاذ کا ذریعہ بنایا تو اس کا مال بھی اس کے کام آ گیا اور اولاد بھی اور قلب سلیم کا ذریعہ صرف اور صرف اللہ کا ذکر ہے جیسا کہ ارشاد ہے کہ اللہ کے ذکر سے قلب کو اطمینان نصیب ہوتا ہے اور ذکر کے سوتے قلب اطہر رسول اللہ ﷺ سے پھوٹتے ہیں اور شیخ انہیں کا امین ہوتا ہے جس کی نظر اور توجہ قلوب کو ذاکر اور روشن کردیتی ہے۔ اس روز جنت کو قریب ہی سجا دیا جائے گا جو اللہ سے ڈرنے اور اس کی اطاعت کرنے والوں کے لیے ہوگی اور دوزخ بھی کھینچ کر سامنے کردی جائے گی کہ اللہ سے بغاوت کرنے والے بھی اپنے ٹھکانے کو دیکھتے ہیں پھر کفار سے سوال ہوگا کہ اللہ کو چھوڑ کر جن کو تم نے معبود بنا لیا تھا انہیں تلاش کرو کہ آج تمہاری مدد کرسکیں یا کیا وہ اپنا بچاؤ بھی کرسکتے ہیں ؟ پھر بتوں اور کفار کو اکٹا ہی الٹے منہ دوزخ میں پھینک دیا جائے گا اور ابلیس کا سارا لاؤ لشکر بھی جہنم میں جھونک دیا جائے گا تب کفار و شیاطین آپس میں لڑیں گے اور کفار کہہ اٹھیں گے اللہ کی قسم ہم گمراہ تھے کہ تم جیسے ذلیل پتھروں کو اور شیاطین کو اللہ کے برابر درجہ دیتے تھے حقیقت یہ ہے کہ ہمارے گمراہ سرداروں اور بےدین لیڈروں نے ہمیں تباہ کردیا خود بھی مجرم تھے ہمیں بھی بنا دیا آج کوئی ہماری سفارش کرنے والا بھی نہیں اور نہ کوئی خیر خواہ دوست ہے ۔ کاش ایک بار پھر دنیا میں جانا نصیب ہوجائے تو ہم یقیناً مسلمان اور ایماندار بن جائیں گے ان سب باتوں میں کس قدر عبرت ہے مگر دنیا میں لوگوں کی اکثریت ایمان سے محروم رہتی ہے یہی حال اس زمانے میں اہل مکہ کا تھا اور آپ کا پروردگار غالب ہے چاہے تو سب کو تباہ کردے مگر وہ رحم کرنے والا ہے اور درگذر فرماتا ہے کہ انہیں مہلت نصیب ہے۔