26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 26:176–191

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

بن کے رہنے والوں نے (بھی) پیغمبروں کو جھٹلایا

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:177 in the Quran reader

جب ان سے شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم ڈرتے کیوں نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:178 in the Quran reader

بیشک میں تمہارے لئے امانت دار پیغمبر ہوں

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:179 in the Quran reader

پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:180 in the Quran reader

اور میں تم سے اس کام کا کوئی صلہ نہیں مانگتا ، میرا صلہ تو بس پروردگار عالم کے ذمہ ہے

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

تم لوگ پورا ناپا کرو اور (صاحب حق کا) نقصان نہ کیا کرو

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

اور سیدھی ترازو سے تولا کرو

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور لوگوں کا ان کی چیزوں میں نقصان مت کیا کرو اور زمین میں فساد مت مچایا کرو

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

اور اس سے ڈرو جس نے تم کو اور تمام اگلی مخلوقات کو پیدا فرمایا

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

وہ کہنے لگے بیشک آپ پر جادو کردیا گیا ہے

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

اور آپ ہماری طرح صرف (عام) آدمی ہیں اور ہم آپ کو جھوٹے لوگوں میں سے خیال کرتے ہیں

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

اگر آپ سچے ہیں تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دیں

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا تمہارے اعمال کو میرا پروردگار خوب جانتا ہے

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

سو وہ لوگ ان کو (برابر) جھٹلاتے رہے پس ان کو سائبان کے دن کے عذاب نے آپکڑا۔ بیشک وہ بہت بڑے دن کا عذاب تھا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

بلا شبہ اس میں بڑی عبرت ہے۔ اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا پروردگار ہی غالب (اور) مہربان ہے

آیات 176 تا 191 اسرار و معارف بن کے باسیوں نے بھی اللہ کے رسولوں کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم تھی اور ان کے گرد خوبصورت جنگل تے انہیں اصحاب الئیکۃ یعنی جنگلوں میں مقیم کہا گیا ہے۔ انہیں بھی شعیب (علیہ السلام) نے ویسا ہی پیغام دیا کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرلو کہ میں اللہ کی طرف سے مبعوث ہوا ہوں اور مجھے تم سے کوئی بدلہ بھی مطلوب نہیں نہ دولت نہ اقتدار بلکہ میرا اجر تو اللہ کریم عطا فرمائیں گے جو سب جہانوں کے پالنے والے ہیں۔ یہ قوم ناپ تول میں کمی کیا کرتی تھی لہذا آپ نے اس پر گرفت فرمائی اور فرمایا کہ ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو اور سیدھی ترازو رکھ کر درست ناپ تول کیا کرو۔ ناپ تول میں کمی حرام ہے : ناپ تول سے مراد تمام حقوق اور فرائض ہیں خواہ خریدو فروخت ہو ملازم یا مزدور کی اجرت ہو یا ملازم یا مزدور کام میں سستی کرے یا عبادات میں سستی کی جائے تو یہ سب ناپ تول کے حکم میں ہے۔ لوگوں کے ساتھ لین دین میں کمی نہ کیا کرو اور دوسروں کا حق نہ مارا کرو کہ اس سے زمین میں فساد پھوٹ پڑتا ہے جو بہت بڑا جرم ہے۔ اسلام کا کمال یہی ہے کہ ہر آدمی کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور سب سے فرائض کی بھرپور ادائیگی کا مطالبہ کرتا ہے لہذا امن عامہ کا کمال تاریخی اعتبار سے بھی اسلامی حکومت ہی میں نظر آتا ہے وہ کہنے لگتا ہے آپ پر کسی نے جادو کردیا ہمارے اپنے اموال ہیں جو چاہیں کریں اور آپ تو عام آدمی ہیں ہماری طرح بھلا نبی کیسے ہوگئے بلکہ ہمارا خیال ہے کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں اور اگر واقعی اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دیجیے تاکہ تصدیق ہوجائے کہ آپ نبی ہیں انہوں نے فرمایا نبی کا کام اللہ کا پیغام پہنچانا ہے وہ میں کر رہا ہوں عذاب دینا یا اعمال پر جزا و سزا یہ میرے رب کا کام ہے اور وہ ہر ایک کے اعمال سے پوری طرح واقف ہے وہ نہ مانے اور ان کے اس انکار پر انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے آپکڑا۔ ہوا یہ کہ سخت گرمی پیدا ہوگئی نہ گھر میں چین نہ باہر آرام اور پاس والے جنگل پر بادل چھا گیا جس کے سائے میں ٹھنڈی ہوا چلتی تھی چناچہ سب لوگ بھاگ بھاگ کر اس بادل کے نیچے جمع ہوگئے جو خوبصورت سائبان بن رہا تھا کہ اچانک اس میں سے آگ برسنے لگی اور یوں وہ سب ایک سخت ترین عذاب کی لپیٹ میں آ کر تباہ ہوگئے۔ ان کا قصہ بھی بہت عبرت آموز ہے مگر لوگ ہیں کہ اکثر ایمان سے محروم ہیں حالانکہ اللہ قادر ہے انہیں عذاب دے سکتا ہے مگر یہ اس کی رحمت ہے کہ مہلت دے رکھی ہے۔