26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 26:34–51

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

اپنے اردگرد کے سرداروں سے کہنے لگ کہ یقینا یہ بڑا ماہر فن جادوگر ہے

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

چاہتا ہے کہ اپنے جادو سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے سو تمہاری کیا رائے ہے ؟

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ان کو اور ان کے بھائی کو لوٹا دیں اور شہروں میں بلانے والے بھیج دیں

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

کہ ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

غرض وہ جادوگر ایک مقررہ دن کے خاص وقت پر جمع کیے گئے

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور (فرعون کی طرف سے) لوگوں سے بھی کہا گیا کہ تم سب لوگ (بھی) جمع ہوؤگے

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

تاکہ اگر جادو گر جیت جائیں تو ہم ان کی پیروی کریں (جیسے پہلے کر رہے تھے)

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

پھر جب جادوگر آگئے تو فرعون سے کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو کیا ہم کو کوئی بڑا انعام ملے گا ؟

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

اس نے کہا ہاں اور تب تم (ہمارے) مقرب لوگوں میں شامل ہوجاؤ گے

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ تم کو جو کچھ ڈالنا ہو (میدان میں) ڈالو

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

پس انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور کہنے لگے کہ فرعون کے اقبال سے بیشک ہم ہی غالب رہیں گے

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا ڈالا تو تبھی وہ ان کے بنے بنائے دھندے کو نگلنے لگا

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

سو جادو گر (یہ دیکھ کر) سجدے میں گر پڑے

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

کہنے لگے ہم ایمان لائے جہانوں کے پروردگار پر

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

جو موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا پروردگار ہے

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

(فرعون نے) کہا کہ مجھ سے اجازت حاصل کرنے سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے بیشک یہ تمہارا بڑا (استاد) ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے تمہیں (اس کا نتیجہ) جلد ہی پتا چل جائے گا میں ضرور تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کٹوا دوں گا اور ضرور تم سب کو سولی دے دوں گا

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں بیشک ہم پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

یقینا ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا پروردگار ہماری خطائیں معاف فرمائے گا کہ ہم (اس موقع پر) سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں

آیات 34 تا 51 اسرار و معارف تو فرعون موسیٰ علہی السلام سے مخاطب ہونے کی بجائے اپنے امراء دربار سے کہنے لگا کہ دیکھو کتنا ماہر جادوگر ہے اس کے ارادے تو یہ نظر آتے ہیں کہ جادو کے زور سے ملک ہی چھین لے گا اور تم سب کو یہاں سے بھگا دیگا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعوت الی اللہ دی تھی اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کی بات ارشاد فرمائی تھی۔ ان کی حکومت یا ملک تک کی بات نہ کی تھی۔ فرعون چونکہ دلائل میں لاجواب ہوچکا تھا اس لیے ادھر کی بات بنا کر اپنے امراء کو ساتھ رکھنے کا آرزومند تھا چناچہ کہنے لگا اب آپ لوگ جو مشورہ دیں گے اسی کے مطابق عمل کیا جاسکے گا تو امراء نے مشورہ دیا کہ فی الحال موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو لوٹا دیا جائے اور ان سے کوئی تعرض نہ کیا جائے کیونکہ ملک مصر میں ایک سے ایک اچھا جادوگر موجود ہے تو آپ شاہی حکم روانہ کردیں تاکہ جادوگری کے تمام ماہرین کو جمع کیا جاسکے اور یوں ان کے جادو کا مقابلہ کیا جائے نیز موسیٰ (علیہ السلام) سے وقت طے کرلیا گیا اور کہا گیا کہ ہم آپ کے مقابلہ میں اپنے جادوگر لائیں گے آپ نے بھی وقت طے کرلیا اور اس بات پر اصرار نہ فرمایا کہ یہ معجزہ ہے جادوگری نہیں بلکہ وقت پر فیصلہ چھوڑ دیا کہ جب وقت آئے گا تو جادو اور معجزہ کا فرق از خود ظاہر ہوجائے گا۔ جادو اور معجزہ کا فرق ایک بات تو یہ واضح ہے کہ جس دور میں انسانوں کے پاس جس قسم کے کمالات تھے اسی قسم کے معجزات انبیاء (علیہ السلام) کو عطا ہوئے کہ لوگ جس فن سے واقف ہیں اسی میں پہچان کرسکیں کہ ایسا ہونا محض اللہ کی قدرت سے ممکن ہے ورنہ انسانی بس میں نہیں۔ دوسری بات یہ واضح ہوگئی کہ معجزہ یا کرامت احقاق حق کے لیے ہوتے ہیں اور دین کی حقانیت کی دلیل بنتے ہیں جبکہ جادو یا شعبدہ دنیا کے مفادات کے لیے کیا جاتا ہے اور تیسرے یہ کہ جادو میں شے کی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی ویسی ہی رہتی ہے دیکھنے والوں کو بدلی ہوئی نظر آتی ہے جبکہ معجزہ میں جو ظاہر ہوتا ہے وہ واقعی ایسا ہی ہوتا ہے جیسے جادوگروں کی رسیاں اور لاٹھیاں لوگوں کو سانپ نظر آتی تھیں مگر موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا صرف نظر ہی نہ آتا تھا واقعی سانپ بن جاتا تھا چناچہ سب اشیاء کو نگل گیا۔ جادوگر وقت مقررہ پر جمع ہوگئے اور فرعونیوں نے خوب ڈھنڈورا پیٹا کہ سب لوگ جمع ہوں اور تماشہ دیکھیں نیز مقابلے میں جادوگروں کی پیٹھ ٹھونکیں اور جب وہ جیت جائیں گے تو ان کا خوب جلوس نکالیں گے کہ ہر جادوگر سانپ بنانے کا دعویدار تھا چناچہ فرعونی سمجھ بیٹھے کہ موسیٰ کا ایک سانپ ان سب کا مقابلہ کب کرسکے گا۔ جادوگروں نے پہلے فرعون کے پاس حاضری دی اور اپنی بات پیش کی کہ مقابلہ جیتنے کی صورت میں ہمیں ایسا ہی انعام بھی ملنا چاہیے جیسا بڑامقابلہ ہے کہ جس نے فرعون کو مجبور کردیا ہے اس لیے کہ حاصل ہی دنیا کے مفادات ہوتا ہے فرعون نے بھی ان کی بہت حوصلہ افزائی کی اور کہا تمہیں امید سے زیادہ ملے گا نہ صرف دولت کے انبار پاؤ گے بلکہ آئندہ کے لیے تمہیں دربار میں جگہ دی جائے گی اور میرے امراء میں شمار کیے جاؤگے۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں پہلے اپنا کمال پیش کرنے کی دعوت دی جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے انہوں نے خود یہ اجازت چاہی تھی کہ یا موسیٰ آپ پہلے اظہار کریں گے یا ہمیں اجازت ہے اور یہ احترام انہوں نے ایک باکمال جادوگر جان کر کیا کہ جس نے فرعون کو مقابلے پر مجبور کردیا تھا مگر نبی کا احترام کرنا انہیں حق سمجھنے کا شعور دے گیا خواہ نبی مانے بغیر کیا تو بھی ثمرات سے خالی نہ رہا انہوں نے اپنی رسیاں لاٹھیاں اور جو کچھ بھی وہ لائے تھے میدان میں پھینک دیں تو میدان اژدہوں سے بھر گیا اور ہر طرف بڑے بڑے سانپ پھنکارنے لگے یہ دیکھ کر کہنے لگے عظمت فرعون کی قسم ہم ضرور جیت جائیں گے اب اتنے بڑے سانپوں کا یہ کیا بگاڑیں گے انہوں نے فرعون کی عظمت کی قسم کھائی ایسے ہی آج کل غیر اللہ کی قسمیں کھانے کا رواج ہے جو سراسر ناجائز ہے۔ قسم صرف اللہ کی کھائی جاسکتی ہے اور جس قدر گناہ جھوٹ پر اللہ کی قسم کھانے کا ہے غیر اللہ کی قسم سچ پر بھی کھائی جائے تو اس سے کم گناہ نہ ہوگا جیسے تمہاری قسم یا تمہارے سر کی قسم یا بیٹے کی قسم وغیرہ۔ موسی (علیہ السلام) نے بھی اپنا عصا مبارک ڈال دیا تو وہ اتنا بڑا اژدہا بن گیا کہ سانپوں کی عادت کے مطابق اپنے سے چھوٹے سانپوں کو نگلنا شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے سارا میدان خالی کردیا سب کو چٹ کرگیا اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے پکڑا تو ویسا ہی عصا تھا اس میں کچھ بڑھا نہ تھا سانپ کا پیٹ ت یقینا پھولا ہوگا اور کتنا بڑا اژدہا ہوگا کہ ہزاروں سانپوں کو نگل گیا مگر جب عصا بنا تو اپنی پہلی ہی صورت پر تھا۔ حضرت جی بحر العلوم (رح) فرماتے تھے کہ جادوگروں نے دیکھا اگر موسیٰ (علیہ السلام) بھی جادو کرتے تو ان کا جادو باطل ہوجاتا اور رسیاں اور لاٹھیاں تو باقی رہ جاتیں جبکہ یہاں کچھ نہ بچا تھا نیز اپنے کمال کا انعام دولت کی صورت میں چاہتے مگر یہاں پر بات اللہ پر ایمان لانے کی تھی تو انہیں یقین ہوگیا کہ یہ نبی کا معجزہ اور اللہ کا فعل ہے چناچہ سب سجدے میں گر گئے اور اپنے ایمان لانے کا اعلان کردیا نیز یہ سب کچھ تو دوسرے سب لوگ بھی دیکھ رہے تھے انہیں نبی کا ادب کرنے کا اجر بھی حق قبول کرنے کی استعداد کی صورت میں نصیب ہوا کہنے لگے ہم پروردگار پر ایمان لاتے ہیں وہی رب جو موسیٰ او ہارون (علیہ السلام) کا رب ہے۔ ایمان باللہ کی تعیین جیسا کہ یہاں مرکوز ہے کہ ہم اسی رب پر ایمان لاتے ہیں جو موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کا رب ہے ایسا ہی فقہ کے مطابق ضروری ہے کہ بچے کو سکھایا جائے کہ میں اللہ پر ایمان لاتا ہوں جس کی دعوت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بن عبداللہ جو مکہ میں پیدا ہوئے اور مدینہ ہجرت فرمائی نے دی تاکہ متعیین ہوجائے کہ کسی غیر اللہ ہی کو تو اللہ تصور نہیں کر رکھا جب جادوگر سجدے میں گر گئے اور اپنے ایمان لانے کا اعلان کردیا تو فرعون سخت پریشان ہوگیا کہ اس نے بہت سے لوگوں کو اس امید پر جمع کر رکھا تھا کہ جادوگر غالب ہونگے مگر یہاں بات ہی الٹ گئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ تو لوگوں کے ایمان لانے کا سبب بن سکتا تھا چناچہ اس نے سب سے پہلے تو یہ الزام لگایا کہ اچھا تو یہ تمہاری سازش تھی اور موسیٰ ہی تمہارے استاد اور بڑے جادوگر تھے اور یوں تم سب مل کر مجھے ناکام کرنے کا منصوبہ بنا لائے تھے تب ہی تو میرے پوچھے بغیر اتنا بڑا اعلان کر گزرے ورنہ تو مجھے بتانا چاہیئے تھا کہ ہم مغلوب ہوگئے اب کیا کیا جائے اور یہ سب الزام تھا اسے خبر تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) جتنا عرصہ مصر میں رہے اسی کے محل میں تھے اور جب نکلے تو ملک مصر سے ہی دور چلے گئے پھر بھلا ان کے استاد کیسے ہوگئے لیکن جہلا عموما تحقیق سے عاری ہونے کے سبب ایسی ہی فضولیات کو مان لیا کرتے ہیں نیز اس نے ان کو بہت سخت سزا دینے کا ارادہ کرلیا کہ اس جھوٹ کے ساتھ جب تشدد کا مظاہرہ ہوگا تو سب لوگ اسی کو ماننے میں عافیت سمجھیں گے چناچہ کہنے لگا کہ میں تمہارا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں کاٹ دوں گا اور یوں تمہیں تڑپتے ہوئے سولی پہ لٹکا دوں گا کہ تمہیں میری نافرمانی کی سخت سزا کا مزا چکھایا جائے تو انہوں نے فرمایا کہ ہ تو کوئی بات ہی نہیں تم جو کچھ کرسکتے ہو کر گزرو ہم قتل بھی ہونگے تو اپنے رب کی بارگاہ میں پہنچ جائیں گے اور تمہارا یہ ظلم بھی ہمارے لیے نجات اور ترقی درجات کا سبب بن جائے گا یہی ہمارا مقصود بھی ہے کہ رب کریم ہماری خطاؤں کو معاف کردے اور یہ کہ ان تمام حاضرین میں ہم ہی کو سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ یہ مشرکین آپ کی بعثت سے پہلے کہا کرتے تھے کہ ہم تک تو صحیح دین پہنچا ہی نہیں پہلی کتب ہی سلامت پہنچ گئی ہوتیں تو ہم اطاعت کا حق ادا کردیتے اور اللہ کے نہایت مخلص بندے ہوتے مگر جب آپ مبعوث ہوئے آسمانی کتاب لائے تو انکار کردیا انہیں جلدی پتہ چل جائے گا کہ جس طاقت کا انہیں گھمنڈ ہے وہ نبی کا راستہ نہ روک سکے گی کہ یہ تو ہمرا فیصلہ ہے کہ ہمارے رسول ہی ہمیشہ فتح یاب ہوں گے اور ہماری مدد ان کے ساتھ ہوگی اور وہ لوگ جو خود کو اللہ کا سپاہی بنائیں گے کبھی شکست کا منہ نہ دیکھیں گے اور ہمیشہ ان کی کامیابی یقینی ہوگی آپ ذرا انتظار فرمائیے اور دیکھتے رہیے کہ ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے یہ خود ہمارے عذاب کو جلدی آنے کی دعوت دے رہے ہیں یعنی آپ کی مخالفت اور ایذا رسانی ہی تو اس کے نزول کا سبب ہے اور جب آئے گا تو ان کا حال بہت ہی برا ہوگا آپ صرف انتظار فرمائیے اور دیکھیے کہ خود انہیں بھی معلوم ہوجائے گا۔ کہ تیرا پروردگار ہی پاک ہے اور بہت بلند ہے اس کی شان ان کی بےہودی باتوں کو اس کی بارگاہ میں گذر نہیں اور سلامتی ہے اللہ کی طرف سے اس کے رسولوں پر اور سب خوبیاں اور سارے کمالات صرف اسی ذات پاک کو سزاوار ہیں۔ نبی کے ساتھ قلبی تعلق علوم نبوت کے حصول کا سبب بن جاتا ہے یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ جادوگروں کو فرعون نے طلب کیا اس سے پہلے تو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کا نام بھی نہ سنا ہوگا پھر یہاں بھی مقابلے سے واسطہ پڑا اور انہیں بھی جادوگر ہی سمجھے مگر جب حق ظاہر ہوا اور اللہ نے ایمان کی توفیق دی تو اس قدر خلوص اور دل کی گہرائیوں سے ایمان لائے کہ علوم نبوت بغیر ظاہری سبب کے ان کے دل میں وارد ہوگئے اور ان کی زبان پر جاری ہوگیا کہ حق کے مقابلے میں موت کے خوف کی کوئی حیثیت نہیں نیز راہ حق میں موت اللہ کے قرب اور اخروی نجات اور ترقی درجات کا سبب ہے اور یہی ہمارا مقصود ہے آخرت کا تذکرہ اس انداز سے فرمایا کہ گویا اللہ نے حجابات ہٹا دیے ہوں اور وہ ایک ایک حقیقت کا مشاہدہ فرما کر بیان کر رہے ہوں اس لیے کہ بظاہر انہیں ان حقائق کی تعلیم دینے کی نوبت نہ آسکی تھی یہی کمال صحابہ کرام ؓ کو نصیب ہوا کہ برسوں کے جاہل ایمان لاتے ہی علوم دین و دنیا کے فاضل بن گئے اور غازی ، مجاہد اور شہید کہلائے۔
Ayahs 26:52–68

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی فرمائی کہ ہمارے بندوں کو لے کر رات کو نکلیں (فرعونیوں کی طرف سے) یقینا آپ لوگوں کا تعاقب کیا جائے گا۔

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

تو فرعون نے شہروں میں ہر کارے بھیج دیئے

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

کہ یہ لوگ تھوڑی سی جماعت ہیں

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

اور یہ لوگ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور یقینا ہم سب ایک مسلح جماعت (باقاعدہ فوج) ہیں

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکال دیا

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

اور خزانوں اور نفیس مکانات سے

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

(ہم نے ان کے ساتھ) یوں کیا اور اس چیز کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

تو انہوں نے سورج نکلتے وقت (صبح صبح) ان کا تعاقب کیا

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

پھر جب دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں تو موسیٰ (علیہ السلام) کے ہمراہی (گھبرا کر) کہنے لگے ہم تو پکڑے گئے

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

(موسیٰ (علیہ السلام) نے) فرمایا ہرگز نہیں بیشک میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ مجھے ابھی (سمندر سے نکلنے کا) راستہ بتادے گا

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی فرمائی کہ اپنے عصا کو سمندر پر ماریں تو وہ (سمندر) پھٹ گیا سو ہر ایک ٹکڑا یوں لگتا تھا گویا ایک بڑا پہاڑ (ہے)

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

اور دوسروں کو ہم نے وہاں قریب کردیا

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ والوں کو سب کو بچا لیا

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

پھر ہم نے دوسروں کو غرق کردیا

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

بیشک اس (واقعہ) میں نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا پروردگار بڑا زبردست (اور) بڑا مہربان ہے

آیات 52 تا 68 اسرار و معارف جب فرعون ایسے ایسے معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہ لایا تو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ کہ آپ میرے بندوں کو (بنی اسرائیل ایمان لا چکے تھے تو انہیں اپنے بندے ہونے کا شرف بخشا) لے کر رات کو مصر سے نکل کھڑے ہوں اور اور ساتھ یہ اطلاع بھی کردی کہ فرعون کو خبر ہوگی تو وہ تمہارا پیچھا کریگا (اور یوں اپنے انجام کو پہنچے گا) چناچہ جب فرعون کو علم ہوا کہ بنی اسرائیل تو راتو رات نکل گئے اور اہل مصر سے بہت سا مال اور زیورات بھی لے گئے تو بھڑک اٹھا اور دوسرے شہروں میں بھی ہرکارے دوڑا دئیے کہ سب لڑاکا جوان جمع ہوں اور کہا کہ یہ ایک معمولی سی بےحیثیت جماعت ہیں اور اپنی حرکت سے ہمارے غضب کو آواز دے رہے ہیں کہ چوری چھپے نکل گئے اور لوگوں کا مال بھی ساتھ لے گئے ہمیں ان سے ضرور نبٹنا ہے چناچہ پوری تیاری سے پیچھا کرنے کے لیے نکل کھڑا ہوا اور یہ نہ جان سکا کہ اس تدبیر کے ذریعے سے اللہ نے انہیں ان خوبصورت شہروں باغوں اور چشموں سے نکال دیا اور مال و دولت سے بھرے ہوئے گھروں کو چھوڑ گئے جو بعد میں بنی اسرائیل کو نصیب ہوئے۔ چناچہ منزلیں مارتے ہوئے گئے اور ایک روز سورج طلوع ہونے کے وقت بنی اسرائیل کو جالیا جو بحیرہ قلزم پر پہنچ چکے تھے اور پار اترنے کی فکر میں تھے انہوں نے اچانک لشکر فرعونی کو دیکھا تو پریشان ہوگئے اور کہنے لگے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ہم تو پکڑے گئے موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہرگز نہیں کہ انبیاء و رسل کوہ استقمت ہوتے ہیں اور ان کے علوم یقینی ہوتے ہیں اور انہیں اللہ کریم کی دی ہوئی خبر پر کامل یقین بھی ہوتا ہے چناچہ انہوں نے فرمایا ہرگز نہیں بلکہ میرا رب میرے ساتھ ہے وہ راستہ بنا دے گا۔ معیت ربی یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا معنی ربی میرا رب میرے ساتھ ہے ایک تو صرف اپنی بابت فرمایا دوسرے رب فرما کر ربویت صفاتی کا ذکر فرمایا جبکہ یہی حال جب رسول اللہ ﷺ کو پیش آیا اور حجرت کے وقت جب مشرکین غار ثور کے دہانے پر پہنچ گئے تو سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کو آپ کی فکر ہوئی جبکہ بنی اسرائیل کو اپنی فکر ہوئی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا ان اللہ معنا یعنی اللہ ہم دونوں کے ساتھ ہے معیت ذاتی کا ذکر فرمایا اور صدیق اکبر ؓ کو اس میں شامل فرما کر معیت ذاتی کو ہر اس امتی کے نصیب میں کردیا جو صدیق اکبر کی طرح آپ کے ساتھ ہوجائے سبحان اللہ وبحمدہ۔ سمندر پھٹ جانے کا معجزہ چناچہ اللہ کریم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حلم دیا کہ پانی پر اپنا عصا ماریں جیسے ہی انہوں نے عصا مارا پانی پھٹ گیا اور اس میں متعدد راستے بن گئے جن کے درمیان پانی کے بہت بڑے بڑے پہاڑ کھڑے تھے سمندر تھا سطح زمین تک۔ پانی جب الگ ہوا ہوگا تو کیسے کیسے پہاڑ بنے ہونگے چناچہ بنی اسرائیل اندر گھس گئے اور دوسرے کنارے پر چلے گئے یہاں یہ سوچنا کہ مدوجذر تھا اور پانی اترا یا چڑھا ہرگز درست نہیں کہ ان آیات کا انکار لازم آتا ہے بلکہ یہ ایک اضح معجزہ تھا جو اللہ کی قدرت سے ظاہر ہوا تھا موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے متبعین تو پار اتر گئے جب کہ فرعون اور اس کا لشکر بھی ان کے تعاقب میں پانی میں بنے ہوئے راستوں پہ اتر چکا تھا جب موسیٰ (علیہ السلام) پار اتر گئے تو پانی اپنی اصلی حالت پر آگیا فرعون اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق ہوگیا اور یوں بظاہر ایک بہت بڑی طاقت بغیر کسی ظاہری جنگ کے صفحہ ہستی سے ہی نابود ہوگئی۔ یہ واقع بہت بڑا درس عبرت اپنے اندر لیے ہوئے ہے کہ انبیاء کی تعلیمات کی مخالفت کس طرح تباہی کا باعث بنتی ہے مگر اس کے باوجود یہ لوگ آپ پر بہت کم ایمان لاتے ہیں اور ان بدنصیب افراد کی اکثریت اس سے محروم ہے جبکہ آپ کا پروردگار غالب ہے چاہے تو انہیں بھی فرعون کی طرح مٹا دے مگر اپنی شان رحمت سے ان سے ابھی درگزر فرمارہا ہے اس میں مسلمانوں کے لیے بھی عبرت ہے کہ احکام نبوت کی اطاعت سے دوری ذلت و رسوائی کے قریب کردیتی ہے۔