25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 25:1–9

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

بڑی بابرکت ذات ہے جس نے اپنے (خاص) بندے (حضرت محمد ﷺ پر یہ فیصلہ کرنے والی کتاب (قرآن) نازل فرمائی تاکہ وہ تمام دنیا جہان والوں کو (انجام بد سے) ڈرانے والے ہوں۔

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

ایسی ذات کہ جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور جس نے (کسی کو) بیٹا نہیں بنایا اور جس کا بادشاہی میں کوئی شریک نہیں اور (جس نے) ہر چیز کو پیدا فرمایا پھر سب کو الگ الگ اندازہ رکھا

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور انہوں نے اس (اللہ) کے سوا معبود بنالئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود پیدا کیے گئے ہیں اور اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار نہیں رکھتے اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اٹھ کھڑے ہونا

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کافر لوگ (قرآن کے بارے) یوں کہتے ہیں کہ یہ تو کچھ بھی نہیں سوائے اس کے کہ جھوٹ ہے جس کو انہوں (پیغمبر) نے گھڑ لیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اس میں ان کی مدد کی ہے سو بیشک یہ لوگ بڑے ظلم اور جھوٹ پر اتر آئے ہیں

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جن کو ان (پیغمبر) نے لکھ رکھا ہے سو وہ صبح اور شام ان کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ اس (قرآن) کو اس ذات نے نازل فرمایا ہے جو سب پوشیدہ رازوں خواہ وہ آسمانوں میں ہوں اور زمین میں ان سے واقف ہیں بیشک وہ (اللہ) بخشنے والے ، مہربان ہیں

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ کیسے پیغمبر ہیں کہ کھانا کھاتے ہیں اور بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نازل نہیں کیا گیا تو وہ ان کے ساتھ رہ کر (انجام بد سے) ڈراتا

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا ان کے پاس (غیب سے) کوئی خزانہ آپڑتا یا ان کے لئے کوئی باغ ہوتا کہ اس میں سے کھایا کرتے۔ اور یہ ظالم یوں کہتے ہیں کہ تم صرف ایک جادوزدہ شخص کی پیروی کر رہے ہو

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

دیکھیں ! یہ آپ کے بارے میں کیسی باتیں کرتے ہیں۔ سو گمراہ ہوگئے پس راستہ نہیں پاسکتے

سورة الفرقان : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف یہ سورة بھی مکی سورتوں میں سے ہے اور اسی مضمون کو آگے بڑھاتی ہے جو سورة نور میں زیر بحث ہے ۔ (آپ ﷺ کی نبوت سب جہانوں کے لیے) اللہ کریم بہت ہی برکت والے اور خیر کے مالک ہیں جنہوں نے اپنے بندے حضرت محمد رسول ﷺ پر ایسی کتاب نازل فرمائی جس نے حق کو حق اور باطل کو باطل قرار دے کر دونوں میں حد فاصل قائم کردی اور تمام جہانوں کو ان کے غلط کاموں کے خطرناک انجام سے اللہ جل جلالہ کے رسول ﷺ نے بروقت مطلع فرما دیا کہ آپ ﷺ کی نبوت نہ صرف سارے جہان کے لیے ہے بلکہ سب جہانوں کے لیے ہے ، ہاں مکلف مخلوق یعنی انسان اور جن اطاعت احکام کے مکلف ہیں اور ساری مخلوق بھی آپ ﷺ کا وہی ادب واحترام کرتی ہے جو ایک امتی کو اپنے نبی کا کرنا ضروری ہے ، گذشتہ سورت میں آپ ﷺ کی نافرمانی پر عذاب اور فتنہ کی وعید تھی یہاں یہ سمجھا دیا گیا کہ انسان تو ویسے مکلف ہے پھر مسلمان نے کلمہ پڑھ کر اطاعت کا وعدہ بھی کرلیا اب وہ اطاعت نہ کرے تو کیسے بچ سکے گا جبکہ اللہ جل جلالہ کی ساری مخلوق کے لیے آپ کی نبوت ہے جو بھی اور جب بھی نافرمانی کرے گا عذاب اور گرفت میں آجائے گا ، کفار ایمان نہ لائے تو ہمیشہ کے لیے دوزخ ان کے حصے میں آیا مومن اطاعت نہ کرے گا تو ذلیل ہوگا ، یہ نزول کتاب یہ عظمت ومقام کی عطا یہ فطری ضابطے سب کچھ اس اللہ کے بنائے ہوئے ہیں جن کے قبضہ قدرت میں آسمانوں زمینوں یعنی سب جہانوں کی سلطنت واختیار ہے ایسا کامل اختیار کہ ہر چیز کو خود اس نے بنایا اور کار گاہ حیات میں اسے کیا ، کب اور کیسے کرنا ہے یہ فطری قوانین اور اندازے اسی نے مقرر فرمائے جس کی کوئی اولاد نہیں کہ اس کے احکام میں مداخلت کرسکے نہ کوئی اس کا شریک اور ہمسر ہے جو بات کرنے کی جرات کرے لہذا اس کے بنائے ہوئے ضابطے اٹل اور مضبوط ہیں اور جو لوگ اسے چھوڑ کر دوسروں کی عبادت اختیار کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے علاوہ یہ دوسرے ان کی حاجات پوری کریں گے وہ اتنا نہیں دیکھتے کہ اس کی ذات کے علاوہ تو ہر وجود خود مخلوق ہے خود کسی کا بنا ہوا ہے اور اس کے سارے کمال کسی کے بنائے ہوئے ہیں لہذا وہ کچھ بھی بنانے اور پیدا کرنے کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا بلکہ اللہ نے اس کی فطرت میں جو رکھ دیا ہے وہی کرتا رہتا ہے سورج ، چاند ، ستارے ، پتھر ، درخت دریا ، سب کا یہی حال ہے اور نہ تو موت ہی ان کے اختیار میں ہے نہ زندگی دینے میں ان کو دخل اور نہ ہی قیام قیامت میں ان کا کوئی بس چل سکتا ہے بلکہ سارا نظام اللہ کا ترتیب دیا ہوا ہے اور ہر شے اسی پر گامزن ہے مگر ان کفار کو اللہ جل جلالہ کی کتاب کا بھی یقین تو آئے یہ تو اسی سے محروم ہیں اور کہتے ہیں یہ محض باتوں کا طومار ہے جو کچھ تو اگلے لوگوں کی سنی سنائی ہیں اور کچھ خود جوڑ کر اور دوسروں کی مدد سے بنا کر جمع کرلی جاتی ہیں اور صبح وشام انہی کو دہرایا جاتا ہے ، ذرا دیکھ اے مخاطب یہ کس قدر بےانصافی کی بات اور کتنا بڑا جھوٹ ہے یہ کہتے ہیں کہ قصے کہانیاں ہیں اور اپنے خدام سے لکھوا کر ان کی تکرار کی جا رہی ہے انہیں کہئے کہ اس کلام کی باریکیاں اور تخلیق کے راز حکمت و دانائی کی باتیں ، اقوام عالم کے مسائل کا حل ، انسانی ضرورتوں کی تعین اور اس کی تکمیل کے خوبصورت انداز ، اعمال میں انکا اثر معاشرے اور ماحول پر ان کا اخروی نتیجہ بھلا یہ سب قصے کہانیاں ہیں یا اس اللہ کے نازل کردہ ہیں جو آسمانوں اور زمین کے تمام رازوں سے باخبر ہے اور بہت بڑا بخشنے والا اور بہت بڑا رحم کرنے والا ہے کہ اس کتاب کے نزول بھی اس کی بخشش اور رحم کا ایک انداز ہے ، اس طرف سے لاجواب ہو کر کہتے ہیں بھلا یہ کیسا رسول ہے کہ عام انسانوں کی طرح کھاتا پیتا اور کاروبار کرتا ہے اور کسب معاش کے معروف ذرائع اختیار کرتا ہے اگر رسول ہوتا تو اس کے ساتھ ایک فرشتہ پھرا کرتا جو لوگوں سے اس کی بات منواتا اور لوگوں پر اس کا رعب جماتا جیسے بادشاہوں کے امراء کے ساتھ گارد ہوتی ہے یا جیسے ان کے پاس دولت کے انبار ہوتے ہیں ان کے پاس بھی بہت بڑا خزانہ ہوتا ۔ ان کے بہت سے باغات وغیرہ ہوتے کہ یہ فکر معاش سے آزاد ہوتے اور پھر ظالم یہ کہتے ہیں کہ جب اس طرح کی کوئی چیز ان کے ساتھ نہیں تو پھر شاید ان پر کسی نے جادو کردیا ہے اور یہ اپنے کو نبی کہتے پھرتے ہیں ان کی بات نہ مانی جائے فرمایا یہ جاہل تو منصب نبوت اور اس کی عظمت نیز اس کی نشانیوں اور دلائل تک سے بےبہرہ ہیں بھلا دیکھیے آپ ﷺ کی شان میں کیسی گستاخی کرتے ہیں اور کیا مثالیں دیتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ گمراہ ہوچکے ہیں اور ایسے بھٹک گئے ہیں کہ انہیں اب سیدھا راستہ نہیں مل پاتا۔
Ayahs 25:10–20

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

وہ ذات بہت برکت والی ہے اگر وہ چاہے تو آپ کو اس سے بہتر چیزیں عطا فرمادے (یعنی) باغات جن کے تابع نہریں جاری ہوں نیز آپ کے لئے بہت سے محل بنادے

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

بلکہ یہ تو قیامت ہی کو جھٹلاتے ہیں اور ہم نے قیامت کو جھٹلانے والے کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جب وہ دن کو دور سے دیکھے گی (تو غضب ناک ہورہی ہوگی اور) یہ لوگ (دور سے) اس کا جوش اور چیخنا چلانا سنیں گے

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب یہ اس (دوزخ) کی کسی تنگ جگہ میں (زنجیروں میں) جکڑے ہوئے ڈالے جائیں گے تو وہاں موت کو پکاریں گے

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا) آج ایک موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی سوتوں کو پکارو

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

فرمائیے کہ کیا یہ (مصیبت کی حالت) اچھی ہے یا ہمیشہ رہنے کی جنت (بہت اچھی ہے) جس کا اللہ سے ڈرنے والوں سے وعدہ فرمایا گیا ہے کہ وہ ان کے لئے (ان کی اطاعت کا) صلہ ہے اور (آخری) ٹھکانہ ہے

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

ان کو وہاں سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ایک وعدہ ہے جو آپ کے پروردگار کے ذمہ ہے جو قابل درخواست ہے

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس روز اللہ کو اور جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے تھے ، (سب کو) جمع فرمائیں گے۔ پھر (ان سے جن کو یہ پوجتے تھے) فرمائیں گے ، کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ (خود ہی) گمراہ ہوگئے تھے ؟

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ عرض کریں گے آپ کی ذات پاک ہے ہماری کیا مجال تھی کہ ہم آپ کے سوا اور کارسازوں کو تجویز کرتے و لیکن آپ نے ان کو اور ان کے بڑوں کو (خوب) نعمتیں دیں یہاں تک کہ وہ (آپ کی) یاد (ذکر) بھول گئے اور یہ ہلاک ہونے والے تھے

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

(تو ارشاد ہوگا) تمہارے ان معبودوں نے تو یقینا تمہاری باتوں کو جھوٹا ٹھہرادیا سو اب تم نہ تو خود (عذاب کو) ٹال سکتے ہو اور نہ (کسی دوسرے کی) مدد حاصل کرسکتے ہو اور جو شخص تم میں سے ظلم (شرک) کرے گا ہم اس کو بڑے عذاب (کا مزہ) چکھائیں گے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے جتنے پیغمبر بھیجے ہیں سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے اور (لوگو ! ) ہم نے تم میں سے ایک دوسرے کے لئے آزمائش (کا ذریعہ) بنایا ہے کیا تم صبر کرو گے ؟ (یعنی صبر کرنا چاہیے) اور آپ کا پروردگار خوب دیکھ رہا ہے

(رکوع نمبر 2) اسرارومعارف ان کی سمجھ اتنی بات نہیں آتی کہ جس خالق کائنات نے ساری کائنات بنائی ہے وہ چاہتا تو ان کے اندازے سے زیادہ خوبصورت باغات جو ہمیشہ شاداب رہتے ، اور ان کی امیدوں سے بڑے دولت کے انبار آپ ﷺ کو عطا فرما دیتا ، ان کی امیدوں سے زیادہ عالی شان محلات آپ ﷺ کے لیے بنا دیتا ، یہ اس کی حکمت کہ اس نے عام آدمی کی خوش نصیبی سے آپ ﷺ کا مزاج عالی ہی ایسا بنایا کہ آپ ﷺ عام زندگی پسند فرماتے اور اپنی رحمت سے آپ ﷺ کو دنیا میں عام لوگوں ہی کی زندگی دی کہ آپ ﷺ ساری انسانیت کے لیے اللہ جل جلالہ کی رحمت ہیں تو ہر عام آدمی کی رسائی آپ ﷺ کی بارگاہ تک رہے ورنہ آپ ﷺ اگر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی طرح سلطان ہوتے تو عام آدمی تک آپ ﷺ کا ارشاد ہی پہنچتا مگر سارے عرب کو فتح کرکے بہت بڑی اسلامی سلطنت بنا کر اس کے سلطان بن کر بھی آپ ﷺ کی حیات طیبہ انداز مبارک اور رہن سہن عام آدمی کا تھا ۔ (نبی کریم ﷺ کی بات کا اثر) آپ ﷺ سے اللہ کریم نے آپ ﷺ کی پسند بھی چاہی کہ ارشاد ہے اگر میں چاہتا تو پہاڑ سونے کے بن کر میرے ساتھ چلا کرتے مگر میں عام آدمی کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں آپ ﷺ نے مثال دینے کے لیے بات کی مگر اس کا اثر یہ ہے کہ ان پہاڑوں میں واقعی سونا بھر گیا ، آج سب میں دریافت ہوچکا ہے بعض سے نکالا جا رہا ہے اور بعض کو محفوظ کردیا گیا ہے ۔ ان کا اصل مسئلہ آپ کا دولت مند ہونا یا عام زندگی اختیار کرنا نہیں ان کا مسئلہ قیامت کا انکار ہے اور انہیں روز آخرت پہ یقین نہٰں جب کہ قیامت کے منکرین کے لیے ہم نے دوزخ کا عذاب تیار کر رکھا ہے کہ قیامت کا انکار اللہ جل جلالہ کی عظمت اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے انکار کا سبب بن رہا ہے لہذا یہ سارا وبال دوزخ کے عذاب کی صورت میں انہیں پیش آئے گا کہ جب اسے میدان حشر میں باہر سے دیکھیں گے تو اس کی گرج چمک اور دھاڑیں سن کر لڑزیں گے مگر دوزخ ہی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے دوزخ کے تنگ و تاریک گوشوں میں پھینک دیئے جائیں اگے تب انہیں سمجھ آئے گی اور موت کی آرزو میں چلائیں گے ، آج کے دن ایک نہیں سینکڑوں موتوں کو پکارو اور ان کی آرزو کرو تب بھی یہاں موت آئے گی نہ یہاں سے چھوٹ سکو گے ان سے فرمائیے کیا یہ انجام بہتر ہے یا وہ انعامات جن کا وعدہ اللہ جل جلالہ کے نیک بندوں سے کیا گیا ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ کے شاداب باغوں میں ان کا قیام ہوگا ان کے ایمان اور صالح کردار کا خوبصورت بدلہ ، اور وہ ہمیشہ اسی حال میں رہیں گے کبھی وہاں سے نکالے نہ جائیں گے نہ ان باغوں پہ خزاں کا گذرہو گا بلکہ وہاں جس شے کی تمنا کریں گے پالیں گے یہ تیرے پروردگار کا پکا وعدہ ہے ۔ اور بتوں کے پچاری یا غیر اللہ کی عبادت کرنے والوں کو تو ایسا لاجواب کیا جائے گا کہ جن کی وہ عبادت کرتے تھے انہیں ان کے روبرو طلب فرمایا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ تم نے میرے بندوں کو گمراہ کیا اور اپنی عبادت پہ لگا لیا یا یہ بدبخت خود ہی گمراہ ہو کر اس میں مبتلا ہوگئے تو سب کہہ اٹھیں گے اے اللہ تو پاک ہے یعنی تیرا علم کامل ہے اور تو خوب جانتا ہے بھلا ہمیں یہ کب زیب دیتا تھا اور ہماری کیا جرات کہ تجھے چھوڑ کر تیری عظمت سے منہ موڑ کر اپنے کو یہ کسی بھی دوسرے کو مخلوق کا معبود یا کار ساز بناتے یہ تو تیری نعمتوں پہ شکر کرنے کی بجائے بگڑ گئے ، تو نے انہیں نعمتیں دیں ان کو ان کے آباؤ و اجداد کو مہلت دی ، یہاں تک کہ یہ غافل ہوتے چلے گئے اور تیری عظمت تیری یاد کو سرے سے بھلا بیٹھے یہی اس قوم کی ہلاکت اور تباہی کا باعث بنا یعنی تیری یاد سے غفلت نے انہیں غیر اللہ کی عبادت میں لگا دیا تو ارشاد ہوگا کہ لو اب تو جن کی عبادت کرتے رہے انہوں نے بھی تمہارے عقائد کے جھوٹا اور غلط ہونے کی گواہی دے دی اب تمہارے پاس نہ تو عذاب سے بچنے کے لیے کوئی عذر ہے اور نہ کسی اور پر ڈالنے کے لیے کوئی دلیل اور نہ ہی اب تمہاری مدد کو کوئی آسکتا ہے بلکہ تم میں سے جو پیشوا بنے ہوئے تھے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کا باعث بنتے رہے جن سے تمہیں امید تھی کہ عذاب سے چھڑا لیں گے انہیں اور بھی بہت زیادہ عذاب ہوگا ، اپنے کرتوتوں کے ساتھ دوسروں کو گمراہ کرنے کا بھی ، ان کے یہ سارے اعتراضات کوئی علمی یا عقلی حیثیت نہیں رکھتے اس لیے کہ آپ ﷺ سے پہلے جو نبی اور رسول گذرے اور جن میں سے بعض کی نبوت کے یہ قائل بھی ہیں وہ بھی تو عام انسانی عادات ہی کے مطابق زندگی گذارتے تھے ، کھاتے پیتے بھی تھے اور کسب معاش بھی فرماتے تھے اور رب جلیل نے انسانوں کو ہی ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا باعث بنا دیا ہے امارت وغربت صحت وبیماری اختیار واقتدار یہ سارے فاصلے ایک ہی بات کو جانچنے کے لیے ہیں کہ اللہ کے کون سے بندے ثابت قدم رہتے ہیں اور انقلابات زمانہ سے سرخرو نکلتے ہیں اور تیرا پروردگار سب کچھ ملاحظہ فرما رہا ہے اور خود دیکھتا ہے ۔
Ayahs 25:21–34

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور جو لوگ ہمارے سامنے پیش ہونے کی امید نہیں رکھتے ، کہتے ہیں ک ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں کیے گئے یا ہم (اپنی آنکھ سے) اپنے پروردگار کو دیکھ لیں یقینا یہ اپنے خیال میں اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ رہے ہیں اور اسی وجہ سے بڑے سرکش ہو رہے ہیں

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس روز فرشتوں کو دیکھیں گے اس روز مجرموں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہ ہوگی اور کہیں گے (کاش تم لوگ) روک (بند کر) دیئے جاؤ

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور (اس دن) ہم ان (کفار) کے (اچھے) کاموں کی طرف (جو کبھی دنیا میں کیے ہوں گے) متوجہ ہوں گے تو ان کو اڑتی خاک کردیں گے

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

اس دن اہل جنت قیام گاہ میں بھی اچھے رہیں گے اور آرام گاہ میں بھی خوب اچھے ہوں گے

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن آسمان ایک بدلی پر سے پھٹ جائے گا اور فرشتے بکثرت اتارے جائیں گے

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اس دن حقیقی حکومت رحمن (اللہ ، ہی) کی ہوگی اور وہ کافروں پر سخت دن ہوگا

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس دن ظالم (کافر) اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے گا کہے گا اے کاش ! میں پیغمبر کے ساتھ (دین کی) راہ پر لگ گیا ہوتا

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے شامت ! کیا ہی اچھا ہوتا کہ میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

بیشک اس نے مجھے میرے پاس نصیحت (کتاب) کے آنے کے بعد اس سے بہکا دیا اور شیطان انسان کو (وقت پر) دغا دینے والا ہے

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور (اس دن) پیغمبر عرض کریں گے کہ اے میرے پروردگار ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو نظر انداز کررکھا تھا

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے گنہگاروں میں سے ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا اور آپ کا پروردگار ہدایت دینے اور مدد فرمانے کے لئے کافی ہے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کافر لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان پر یہ قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا اس طرح (آہستہ آہستہ اس لئے نازل فرمایا گیا) کہ اس سے ہم آپ کے دل کو قائم رکھیں اور (اسی لئے) ہم نے اس کو ٹھہر ٹھہر کر اتارا ہے

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور یہ لوگ آپ کے پاس جو اعتراض کی بات لاتے ہیں ہم آپ کے پاس (اس کا) معقول اور خوب وضاحت سے جواب بھیج دیتے ہیں

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مونہوں کے بل دوزخ کی طرف لے جائے جائیں گے ان ہی لوگوں کا ٹھکانہ بھی برا ہے اور وہ راستے سے بھی بھٹکے ہوئے ہیں

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف یہ لوگ صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ آپ ﷺ کی ذات ہی پہ اعتراض کرتے ہیں انہیں آخرت کے انکار اور اللہ جل جلالہ کے روبرو پیشی سے انکار نے اس قدر گستاخ کردیا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ فرشتہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا نبی ہی کے پاس کیوں آتا اور اللہ جل جلالہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا ، اس قدر تکبر اور اپنی بڑائی میں اس قدر بڑھ چڑھ کر بات کر رہے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی ہوگا کہ یہ فرشتوں کو روبرو دیکھیں گے موت کے وقت بھی اور یوم قیامت بھی فرشتے تو ان کے سامنے ہوں گے مگر ایمان لانے اور غور وفکر سے راہ اپنانے کا وقت گذر چکا ہوگا اور ان بدکاروں کے لیے فرشتوں کا سامنے آنا کوئی سامان راحت نہ ہوگا بلکہ عذاب الہی کو دیکھ کر پکاریں گے پناہ ہے اس مصیبت سے کاش ہم اس عذاب سے بچ سکیں اور جن کاموں کو دنیا میں نیکی سمجھ کر اور اپنی پسند سے اختیار کرکے کرتے رہے ان کی طرف متوجہ ہوں گے یعنی اللہ انکو ملاحظہ فرمائیں گے تو انہیں غبار کی طرح اڑا دیں گے کہ اللہ جل جلالہ کے نزدیک ان کی حیثیت کوئی نہ ہوگی نہ اللہ جل جلالہ کا حکم یا اس کے نبی ﷺ کا ارشاد ہوں گے ۔ کفاروملحدین کے اپنے تجویز کردہ ہوں گے کہ آخرت کا منکر اگر کوئی ایسا کام بھی کرے جو واقعی نیکی ہو تو دنیا ہی کے کسی فائدے کے لیے کرتا ہے کہ آخرت کو تو وہ مانتا ہی نہیں لہذا اس کا بدلہ اسے دنیا میں مل جاتا ہے آخرت کے لیے کچھ نہیں بچتا ۔ اس روز تو وہی لوگ مزے میں ہوں گے اور خوب آرام دہ مقامات پہ تشریف فرما ہوں گے جو جن کے مستحق ٹھہرے یعنی ایمان لائے اور اطاعت کی جس روز آسمان پھٹ کر اس میں بادل اترے گا اور مسلسل فرشتے نازل ہو رہے ہوں گے مفسرین کرام کے مطابق آسمان و زمین کی تباہی کے بعد میدان حشر میں جب آسمان و زمین درست کردیے جائیں گے تو آسمان پھٹ کر ایک بادل سا اترے گا جس میں اللہ جل جلالہ کی تجلی ہوگی اور فرشتوں کا نزول ہوگا تو پھر ہر ایک مانے گا کہ حکومت اللہ جل جلالہ ہی کی ہے جو حق ہے اور بہت بڑا رحم کرنے والا ہے اور انکار کرنے والوں کے لیے وہ دن بہت ہی مشکل ہوگا ، اس روز تو کافر اور ظالم کہ کفر خود بہت بڑا ظلم ہے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے گا کہ کاش میں نے فلاں شخص کو دوست ہی نہ بنایا ہوتا ۔ (برے لوگوں کی رفاقت) اے کاش میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے آشنائی پیدا کی ہوتی اور آپ کی غلامی اختیار کی ہوتی اے کاش میں اس ظالم سے واقف ہی نہ ہوا ہوتا کہ اس نے قرآن کے نزول کے بعد دین کے ظہور کے بعد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد بھی مجھے گمراہ کردیا اور ان نعمتوں سے دور کردیا اور محروم کردیا اور شیطان واقعی انسان کو ذلیل ورسوا کردیتا ہے اور سخت دھوکا دیتا ہے کہ بدکاروں سے دوستی بھی ایک شیطانی عمل ہے ۔ (ترک قرآن کتنا بڑا جرم ہے) اور اس روز اللہ جل جلالہ کا رسول ﷺ فرما دے گا کہ اے اللہ جل جلالہ ان لوگوں نے قرآن کو بالکل نظر انداز کردیا تھا اور اس پر ایمان نہ لاتے تھے ، آج ان کی کسی فریاد پہ نظر نہ فرمائی جائے ، اس میں جہاں کا فر ومنکر کے لیے وعید ہے وہاں ان مسلمانوں کو بھی خبردار کیا گیا ہے جو قرآن کو مانتے رہے ، تنبیہہ تو ان کے لیے بھی ہے جو یہ مانتے ہیں کہ قرآن حق ہے اگر ہم اس پر عمل نہیں کرتے تو ہمارا قصور ہے ان کے بارے حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ جس نے قرآن پڑھا مگر اس کو بند کرکے طاق میں سجا دیا نہ اس پر غور کیا اور نہ عمل کرنے کی فکر کی خود قرآن بھی اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں ان کی شکایت کرے گا۔ اور یہ بھی اللہ جل جلالہ کا عذاب ہے اور اس کی ایک صورت کہ گناہ کرتے کرتے کوئی ظالم اتنا دور نکل جائے کہ وہ اللہ جل جلالہ کے نبی کا دشمن بن جائے یہ ہر نبی کے عہد میں ہوا اور ایسے ظالم لوگ پائے گئے لہذا فکر کی بات نہیں کہ تیرا پروردگار طالب کو ہدایت دینے والا بھی ہے اور منکرین کے خلاف مدد کرنا بھی اسی کا کام ہے ۔ ّ (انوارات کا تدریجی نزول) یہ کفار کہتے ہیں کہ ان پر سارا قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہ ہوا بھلا انہیں کیا اس میں اللہ جل جلالہ کی کتنی حکمتیں تھیں مثلا یہ کہ اللہ جل جلالہ نے اس سے آپ کے قلب اطہر کو قوت دی کہ انوارات باری یکبارگی آتے تو پاش پاش بھی کرسکتے تھے مگر تدریجا قوت بڑھتی گئی اور نزول انوارات جو الفاظ قرآن سے متعلق تھا ہوتا رہا اور یہی حال طالبان طریقت کا ہوتا ہے کہ یکبارگی کسی کو کھینچ کر منازل پہ لے جایا جائے تو مجذوب ہونے کا خطرہ ہوتا ہے مگر تدریجا منازل کرائے جائیں تو قوت برداشت پیدا ہوجاتی ہے نیز دوسری حکمت یہ بھی تھی کہ کتاب اللہ کا پڑھنا اور یاد کرنا آسان ہوجائے کہ ہر آیت کسی واقعی پہ نازل ہوئی تو وہ اس کی یاد کا سبب بھی بن گیا اور معنی متعین کرنے کا بھی ، یہ کفار مل جل کر اور مشورے کرکے کتنا بڑا اور کیسا ہی عجیب سوال آپ ﷺ کی بارگاہ میں لائیں تو اللہ کریم بھی اس کا خوبصورت اور مدلل جواب آپ ﷺ کو سمجھا دیتے ہیں ۔ (کرامت) کہ کفار کبھی آپ ﷺ کو لاجواب نہیں کرسکتے اللہ جل جلالہ کے بعض بندوں پر اولیاء اللہ میں سے بھی انعام ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے فیوضات کی برکت سے انہیں اللہ جل جلالہ کی طرف سے علوم کے خزانے نصیب ہوتے ہیں اور یہ الٹے الٹے اعتراضات کرنے والے تو تب جانیں گے جب ان کے الٹے سوالوں اور الٹے کردار کے باعث انہیں الٹا گھسیٹ کر اور منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینکا جائے گا جو بہت ہی بری جگہ ہے ۔ (اعمال اور سزا) کہ یہ بھی راہ سے اور ہدایت سے بہت ہی دور ہیں تو سزا از جنس اعمال ہوتی ہے جتنے راہ حق سے دور تھے اتنے جہنم کے دور دراز گوشوں میں اور جیسے الٹے اعتراض کرتے تھے اسی طرح الٹا کرکے پھینکے جائیں گے ۔