Ayah 26:11۔ کہا گیا ہے کہ ط سے اشارہ ہے طرف قلوب عارفین کی طرف اور س سے سرورمحبین کی طرف اور م سے مناجات مریدین کی طرف الطاء اشارۃ الی طرب قلوب العارفین والسین سرور المحبین والمیم مناجات المریدین (کبیر) دوسرا قول یہ ہے کہ ” ذی الطول “ کا مخفف ہے اور س قدوس کا اور م رحمن کا۔ عن محمد ابن کعب انہ قال فی ھذا الطاء من ذی الطول والسین من القدوس والمیم من الرحمن (روح) (آیت) ” تلک “۔ اشارۂ بعید ہے۔ لیکن یہاں مقصود علو منزلت کا اظہار ہے۔ اشارۃ الی السورۃ ما فی ذلک من معنی البعد للتنبیہ علی بعد منزلۃ المشارالیہ فی الفخامۃ (روح)
Ayahs 26:2–32۔ یعنی آپ کے غم وتاسف سے معلوم کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ ایک نقشہ ہے رسول اللہ ﷺ کی غمخواری اور دلسوزی کا شدید منکروں اور کٹر کافروں تک کے لیے ! قرآن کریم نے آپ کو سمجھایا ہے کہ اس قدر غم وتاسف بےکار ہے۔ ہمارا کام تو اثبات حق کے ساتھ صرف دلائل صحیح وواضح کا نازل کردینا ہے، باقی ایمان لانا نہ لانا یہ خود لوگوں کے اختیار کی چیز ہے صاحب روح المعانی نے آیت سے دو امر اخذ کیے ہیں ایک یہ کہ رسول اللہ ﷺ اپنی امت پر کمال شفقت رکھتے تھے، دوسرے یہ کہ کافر کے ایمان پر حرص حکم ازلی کے منافی نہیں۔ اور عارف تھانوی (رح) نے آیت کے ذیل میں فرمایا ہے کہ (1) شیخ کو شفقت میں اعتدال مناسب ہے، جو ہدایت نہ پائے اس پر حزن نہ کیا جائے۔ (2) کسی کی اصلاح شیخ کے اختیار وقدرت و تصرف میں نہیں۔
Ayah 26:43) (اور انہیں چار وناچار ایمان لاتے ہی بنے) (آیت) ” ان نشا “۔ یعنی اگر مشیت یہ ہوتی کہ سب کے سب ایمان لے ہی آئیں، تو غیب سے کوئی نہ کوئی ایسا کھلا ہوا نشان دکھا دیا جاتا، جس کے بعد تردود تامل، ردوانکار کی گنجائش ہی باقی نہ رہتی اور سب کے سب ایمان لانے پر مجبور ومضطر ہوجاتے۔ لیکن پھر یہ عالم ابتلاء باقی نہ رہتا یہاں تو مقصود ہی ان کی قوت اختیار کا امتحان ہے۔ اور یہی دیکھنا ہے کہ کون کس حد تک اپنے ارادہ کو صحیح مصرف میں لاتا ہے۔ اور یہی دیکھنا ہے کہ کون کس حد تک اپنے ارادہ کو صحیح مصرف میں لاتا ہے۔ محقق تھانوی (رح) نے یہاں یہ نکتہ خوب بیان کیا ہے کہ تصرف باطنی میں بھی ایک شان جبر و زبردستی کی ہے۔ اس لئے مشائخ محققین سلوک و ارشاد میں اسے پسند نہیں کرتے۔
Ayahs 26:5–64۔ (پیام حق، اور پیامبربرحق دونوں کو) یہ تکذیب انتہائی درجہ ہے اس ابتدائی اعراض یا بےاعتنائی کا۔ پھر تکذیب بھی جب استہزاء کے ساتھ ملی جلی ہو ! جرم کے یہاں تینوں مرتبے بیان کردیئے گئے ہیں۔ پہلے اعراض پھر تکذیب اور پھر استہزاء (آیت) ” محدث “۔ ذکر رحمانی کے لیے یہاں جو صفت محدث کی آئی ہے یہ حدوث ذات باری وصفات باری کے اعتبار سے، کہ وہ قدیم ہیں ممتنع ہے، اور وہ یہاں مراد بھی نہیں، البتہ باعتبار مخلوق بالکل جائز ہے، اور وہی یہاں مراد ہے اور یہیں سے معتزلہ کے قول کی کمزوری معلوم ہوگئی، جنہوں نے (آیت) ” محدث “۔ کو (آیت) ” ذکر من الرحمن “۔ سے متعلق کرکے اس کے اتیان کو قرآن کے مخلوق وحادث ہونے ثبوت میں پیش کرنا چاہا ہے۔ من ذکر من زائدہ تاکید عموم اور نفی کو زور دار بنانے کے لیے ہے۔ ؛ من مزیدۃ لتاکید العموم (روح)
5۔ یعنی موت اور حیات کے وقت انہیں ایک ایک حقیقت کا انکشاف ہو کر رہے گا۔
Ayahs 26:7–86۔ (ہمارے کمال قدرت اور توحید کی) فن نباتات میں اگر گہری نظر ہو اور نباتاتی حکمتیں اور صناعیاں پیش نظر ہوں، تو ممکن نہیں کہ دل صناع مطلق کی یکتائی پر گواہی نہ دے اٹھے، (آیت) ” لایۃ “۔ ایۃ (پر تنوین) سے مراد عظیم الشان نشان ہے، جس کے بعد ایمان واجب ہوجاتا ہے۔ ایۃ عظیمۃ دالۃ علی ما یجب علیھم الایمان بہ (روح)
Ayah 26:97۔ (اور اس کی رحمت عام دنیا میں کافروں سے بھی متعلق ہے۔ اس لیے باوجود کمال قدرت انتقام اس نے انہیں مہلت دے رکھی ہے) (آیت) ” العزیز الرحیم “۔ صفت عزیز کا تقاضا یہ تھا کہ سب اس کے بس میں ہیں، وہ سب پر غالب ہے، ان مجرموں کو معا ہلاک کرڈالتا۔ لیکن ساتھ ہی وہ رحیم بھی ہے۔ اے ھو الغالب القاھر ومع ذلک فانہ رحیم بعبادہ (کبیر)
Ayahs 26:10–118۔ (عبرت وموعظت کے لیے) (آیت) ” اذ نادی “۔ اکابر اہل سنت کے درمیان اس پر بحث ہوئی ہے کہ یہ ندا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کان میں آئی کون سی تھی، آیا حق تعالیٰ کا کلام قدیم غیر مخلوق، جیسا کہ امام ابومنصور ماتریدی کا مسلک ہے۔ تفسیر کبیر میں دونوں قول نقل ہوئے ہیں۔
Ayah 26:129۔ (قبل اس کے کہ میں پوری تبلیغ کرسکوں) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ مجھے تعمیل ارشاد میں عذر ہی کیا ہوسکتا ہے۔ البتہ یہ خیال ضرور ہوتا ہے کہ وہ لوگ میری تبلیغ کے تمام ہونے سے قبل ہی میری تکذیب شروع کردیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ اس کے قبل بھی کئی بار آچکا ہے۔
Ayah 26:1310۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کچھ زیادہ خوش تقریر نہ تھے۔ روایات یہود میں آتا ہے کہ بچپن میں کوئی تین چار برس کے سن میں ایک جلتا ہوا انگارہ آپ نے اپنی زبان پر رکھ لیا تھا اس سے زبان میں لکنت یا ہکلاہٹ پیدا ہوگئی تھی، ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی ہمارے ہاں روایات اس معنی میں نقل ہوئی ہیں، توریت میں ہے :” تب موسیٰ (علیہ السلام) نے خداوند سے کہا کہ اے میرے خداوند میں فصاحت نہیں رکھتا نہ تو آگے سے اور نہ جب سے کہ تو نے اپنے بندے سے کلام کیا اور میری زبان اور باتوں میں لکنت ہے۔” (خروج 2: 10) آیت سے ظاہر ہورہا ہے کہ بعض نقصانات طبعی اور کمال روحانی کے درمیان کوئی منافاۃ نہیں۔
11۔ (اور انہیں شریک نبوت کردیجئے) حضرت ہارون (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے زیادہ خوش تقریر تھے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی، اور پھر ان پر کسی قبطی کے قتل وغیرہ کا کوئی الزام بھی نہ تھا۔
Ayah 26:1412۔ (قبل اس کے کہ میں فرائض تبلیغ ادا کرسکوں) جرم سے مراد ایک قبطی کا قتل ہے، جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے قبل نبوت اتفاقی طور پر ہوگیا تھا۔ (آیت) ” ولھم علی ذنب “۔ سے یہ مراد نہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کا جرم ہونا تسلیم بھی کرلیا تھا۔ آپ (علیہ السلام) کا مقصود صرف یہ تھا کہ ” ان کے خیال میں میں ان کا مجرم بھی ہوں “۔ المراد لھم علی ذنب فی زعمھم (کبیر) وتسمیتہ ذنبا بحسب زعمھم بما ینبی عنہ قولہ تعالیٰ لھم (روح)
Ayah 26:1513۔ یعنی ان کی اتنی مجال نہیں کہ وہ تمہیں قتل کرسکیں۔ معناہ ارتدع یا موسیٰ عما تظن (کبیر)
14۔ تسکین، تشفی، دلدہی کا یہ اعلی مقام ہے۔ بندہ کو خود پروردگار عالم کی معیت کا یقین تازہ ہوجائے تو اس سے بڑھ کر اطمینان اور ہو کیا سکتا ہے۔ ؟ (آیت) ” بایتنا “۔ ایات سے مراد احکام بھی ہوسکتے ہیں اور خوارق بھی۔ (آیت) ” معکم “۔ یہ معیت عامہ نہیں ہے جو حق تعالیٰ کی ہر بندہ کے ساتھ رہتی ہے۔ بلکہ معیت خاصہ مراد ہے جو معیت رافت ونصرت ہوتی ہے۔
Ayah 26:1615۔ رسول، رب العالمین کے، سارے جہان کے پروردگار کی طرف سے، نہ کہ ” بنی اسرائیل کے خداوند خدا “ یا ” عبرانیوں کے خدا “ یا تمہارے باپ دادوں کے خدا “ کی طرف سے، جس سے توریت بھری پڑی ہے۔ (ملاحظہ ہو کتاب خروج، باب 3) قرآن اور توریت کے بیانات میں یہی تو وہ نازک فرق ہیں جو ایک کا مرتبہ دوسرے سے کہیں ممتاز کررہے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے اس مختصر سے فقرہ میں سب سے پہلے تبلیغ توحید و رسالت دونوں کی آگئی، گویا یہی نقطہ آغاز ہے ان کی تبلیغ کا ! اور یہ خصوصیت ہے ہر پیغمبرانہ دعوت کی۔
Ayah 26:1716۔ (ان کے وطن ملک شام کو، اور اپنے بیگار اور ظلم سے انہیں رہائی دے) توریت میں ہے :” اب دیکھ بنی اسرائیل کی فریاد مجھ تک آئی، اور میں نے وہ ظلم جو مصری ان پر کرتے ہیں دیکھا ہے، بس اب تو جا، میں تجھے فرعون کے پاس بھیجتا ہوں۔ میرے لوگوں کو جو بنی اسرائیل ہیں مصر سے نکال “۔ (خروج 3: 9، 10) مجموعہ دعوت کا حاصل، دعوت توحید و رسالت اور پھر مخلوق میں ترک تعدی ہے۔ (آیت) ” ان “ یہاں مفسرہ ہے۔ ان مفسرۃ لتضمن الارسال المفھوم من الرسول (روح)
Ayah 26:1817۔ (اے موسیٰ علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم وتربیت سب شاہی ظل عاطفت میں ہوئی تھی، اور آپ قصر فرعونی میں سالہا سال تک رہے، قیام کی مدت روایات یہود میں مختلف آئی ہے۔ کوئی کہتا ہے 18 سال کی عمر تک اور کوئی کہتا ہے۔ 20 سال کی عمر تک اور کسی کسی کی روایات ہے کہ چالیس برس کی عمر تک، (آیت) ” ولیدا “۔ ولید وہ لڑکا ہے جس کی پیدائش کا ابھی تھوڑا ہی زمانہ گزرا ہے۔ الولید یقال لمن قرب عہدہ بالولادۃ (راغب)
Ayah 26:1918۔ اشارہ ہے اس نادانستہ قتل کی جانب۔ مفصل ذکر سورة قصص میں آئے گا۔ معناہ وانت ممن عادۃ کفران النعم (کبیر) فرعون غصہ اور طنز کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ تم جو یہ سرکاری دھرم (StAte Religion) قومی دین (NAtionAl, Religion) کے مقابلہ میں نیادین گڑھ کر لائے ہو، تو اس میں نئی بات کون سی ہے تم تو شروع ہی سے اپنے محسنوں سے غداری کرتے آئے ہو۔
Ayah 26:2019۔ (سو حققیۃ قصور وار تو میں اس وقت بھی نہ تھا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جرم قتل عمد سے تبری ضالین میں آجاتی ہے۔ ضال کے معنی ہی ہیں انجان کوئی حرکت کر بیٹھنے والا، تنبیہ ان ذلک منہ سھو (راغب) المراد بذلک الذاھلین من معرفۃ مایؤول الیہ من القتل (کبیر) المراد انی فعلت ذلک الفعل وانا ذاھل من کونہ مھلکا وکان منی فی حکم السھو (کبیر) عن قتادۃ انہ فعل ذلک جاھلا بہ غیر متعمدایاہ (روح) ضلال کا لفظ ارادی وغیر ارادی، بڑی اور چھوٹی ہر غلطی کے لیے عام ہے۔ یقال الضلال بکل عدول عن المنھج عمدا کان او سھوا یسیرا کان اوکثیر ا (راغب) اور اسی لیے اس کا اطلاق ضلال انبیاء وضلال کفار دونوں پر ہوتا ہے حالانکہ اس ضلال اور اس ضلال کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے صح ان یستعمل لفظ الضلال ممن یکون منہ خطا ما ولذلک نسب الضلال الی الانبیاء والی الکفار وان کان بین الضلالین بون بعید (راغب)
Ayah 26:2120۔ (چنانچہ اب میں خدا ہی کے حکم سے اس کے پیغمبر کی حیثیت سے آیا ہوں) پیغمبری کی استعدادخطاء عمد کے منافی ہے، نہ کہ اتفاقی غلطی، بھول چوک کے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ گفتگو فرعون کے سامنے بہت ہی سبق آموز ہے قتل، ظاہر میں ایک کھلا ہوا دینی جرم ہے اور فرار ایک اخلاقی جرم، آپ ان دونوں ظاہری جرموں کا اقرار کھلے لفظوں میں اپنے کھلے ہوئے دشمن سے کررہے ہیں۔ حالانکہ دنیا اس قسم کی کمزوریوں کو شدت سے چھپاتی ہے۔ مخلصین صادقین کے اخلاق ایسے ہی ہوتے ہیں۔
Ayah 26:2221۔ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے فرعون کے احسان جتلانے کا جواب ہے، آپ فرماتے ہیں کہ مجھے پرورش کا جو احسان تو جتلاتا ہے خود اس کی بھی تو حقیقت یہ ہے کہ تیرے ہی ظلم کے باعث مجھے دریا، میں بہادیا گیا، تیرے گھروالوں نے لاوارث سمجھ کر نکال لیا اور پرورش کی، نہ یہ تیرا شدید ظلم اسرائیل کے بچوں پر ہوتا اور نہ مجھے یوں دریا میں ڈالا جاتا، محققین نے یہاں سے یہ استنباط کیا ہے کہ کافر کا مجرد کفر اس کے احسان کو باطل کرنے کے لیے کافی نہیں، اعلم ان فی الایۃ دلالۃ علی ان کفر الکافر لایبطل نعمتہ علی من یحسن الیہ ولا یبطل منتہ (کبیر)
Ayah 26:2322۔ سوال فرعون کی طرف سے ہورہا ہے، جو مجسمہ شرک تھا، عقیدہ توحید سے تمامتر نا آشنا۔ مصری عقیدہ میں سورج دیوتا سب سے بڑا دیوتا تھا اور خود فرعون اس کا اوتار یا مظہر۔ اسے بڑی حیرت ہوئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) یہ انوکھا لفظ رب العالمین کیا بول رہے ہیں ؟ عالمگیر ربوبیت کا تخیل ہی مشرکانہ دماغ کی گرفت سے باہر رہتا ہے۔ جاہلی دماغ الگ الگ اصناف موجودات کے دیوی دیوتا تو سمجھ لیتا ہے، لیکن اس حقیقت کے قبول کرنے میں اور وہ اپنے تنگ پاتا ہے کہ کوئی ایک پروردگار ساری کائنات کا ہے۔ توریت میں ہے ” فرعون نے کہا کہ خداوند کون ہے کہ میں اس کی آواز کو سنوں کہ بنی اسرائیل کو جانے دوں ؟ میں خداوند کو نہیں جانتا اور نہ میں بنی اسرائیل کو جانے دوں گا۔ “ (خروج 5: 3)
Ayah 26:2423۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے جواب میں سب سے زیادہ زور پروردگار عالم کی صفت ہمہ گیری پردے رہے تھے، یعنی دائرہ امکان میں کوئی شے بھی اس کی خالقیت، مالکیت، اور ربوبیت سے باہر نہیں، مصریوں کے ہاں آسمان، زمین اور فضائے درمیانی تینوں کے خدا الگ الگ تھے۔ قرآن مجید نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب کے الفاظ سے اس طرف بھی اشارہ کردیا۔ (آیت) ” قال ..... وما بینھما “۔ اس سے یہ استدلال بھی کیا گیا ہے کہ حق تعالیٰ صورت وجسم سے پاک ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ موقع تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت باری کی شکل و صورت کو بیان کرچلتے۔ الایۃ تدل علی ان تعالیٰ لیس بجسم (کبیر)
Ayah 26:2524۔ (کہ یہ شخص کیسی عجیب و غریب باتیں بےپر کی اڑا رہا ہے ! ) (آیت) ” لمن حولہ “۔ سے مراد اہل دربار ہیں۔ اے اشراف قومہ (کشاف) التفت فرعون الی من حولہ من ملاۂ و رؤساء دولتہ (ابن کثیر) سب کے سب عقیدۂ توحید سے یکسر نا آشنا ونامانوس تھے۔
Ayah 26:2625۔ یعنی وہی ایک خدا ساری کائنات خارجی کا بھی ہے اور ساری نوع انسانی کا بھی، ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا، مصری مذہب انسانی آبادی کو مختلف بستیوں اور جغرافی ٹکڑوں میں تقسیم کیے ہوئے تھے اور سب کے دیوی دیوتا الگ الگ تھے، ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ مصریوں کا ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ خود مردہ اسلاف ہی معبودیت کے درجہ کو پہنچ جاتے تھے۔ حضرات انبیاء سب سے زیادہ حریص تبلیغ توحید ہی کے ہوتے ہیں۔ اپنے بیان میں اسی کو سب پر مقدم رکھتے ہیں۔
Ayah 26:2726۔ (جب ہی تو ایسی بہکی بہکی باتیں کررہا ہے کہ تعدد آلہہ ہی سے انکار کررہا ہے ! ) آج بھی دنیا کی مشرک قوموں کی سمجھ ہی میں یہ نہیں آتا کہ توحید خالص بھی کوئی صحیح مسلک ہوسکتا ہے۔
Ayah 26:2827۔ مصری شرک کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ سورج دیوتا کی پوجا کرنے والوں کے مقابلہ میں اللہ کو مشرق ومغرب کے خدائے واحد اور مالک کی حیثیت سے پیش کرنا بہت ہی بلیغ ہے۔
Ayah 26:2928۔ ہندوستان میں سورج بنسی خاندان کی طرف مصر میں بھی ایک نسل رب الارباب یعنی سورج دیوتا کی نسل سے تھی۔ بادشاہ وقت یا فرعون، اسی نسل کا سب سے بڑا نمائندہ اور سورج دیوتا کا مظہر یا اوتار ہوتا تھا، اس کی پرستش عین سورج دیوتا کی پرستش تھی، آج کے زمانہ (یعنی 1945 ء۔ ) میں اس کی قریب ترین مثال ڈھونڈنا ہو تو ملک جاپان کے فرمانروا میکاڈو کو پیش نظر رکھا جائے، جاپانی میکاڈو کو محض بادشاہ نہی، خدایا بڑا دیوتا سمجھتے ہیں۔ اور سب معاملات اس کے ساتھ وہی برتتے ہیں جو سب سے بڑے دیوتا کے ساتھ برتنے چاہئیں۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” من المسجونین “۔ فرعون کے زمانہ کے جیل اپنے شدائد کے لیے مشہور تھے۔ فرعون کی اس دھمکی میں یہ مضمون بھی شامل ہے کہ ان قیدیوں کا حال زار دیکھ لو یہی نوبت تمہاری بھی آنا ہے۔
Ayah 26:3029۔ فرعون اور فرعونی سحر وغیرہ کے خرافات میں غرق تھے، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ نفس مسائل وحقائق ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتے، تو فرمایا کہ تم جو خرق عادت ہی کو دلیل صداقت اور معیار حقانیت قرار دیتے ہو تو کہو، میں بھی کوئی خارق عادت ہی پیش کروں۔
Ayahs 26:31–3230۔ نمایاں یعنی ایسا جسے سب نے دیکھا۔ حاشیے سورة اعراف پ 9 میں گزر چکے۔ (آیت) ” ثعبان “۔ ثعبان اور حیۃ میں فرق یہ ہے کہ ثعبان میں پہلو سانپ کے حجم اور قدوقامت کی بڑائی کا زیادہ ہے یعنی خوب موٹا تازہ سانپ۔ اور حیۃ میں اس کی تیز رفتاری کا۔ یعنی بڑی تیزی سے دوڑنے والا سانپ۔ امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ حیۃ ہر قسم کے سانپ کے لیے عام ہے۔ ثعبان اسے اس کی بڑائی کے لحاظ سے کہا گیا ہے۔ اور جان اسے اس کے ہلکے پھلکے ہونے اور تیز رفتاری کی بناء پر۔ اما الحیۃ فھی اسم الجنس ثم انھا لکبرھا صارت ثعبانا وشبھھا بالجان لخف تھا وسرعتھا (کبیر)
Ayah 26:3331۔” بہت ہی چمکدار “ یعنی اس کو بھی سب نے نظر حسی سے دیکھا، تو ریت میں یہ معجزات حضرت ہارون (علیہ السلام) کی جانب منسوب ہیں۔ قرآن نے حسب معمول اس موقع پر بھی توریت کی تصحیح کرکے بتایا کہ یہ معجزات حضرت موسیٰ کے تھے۔
Ayahs 26:34–3532۔ (اور خود مع اپنی قوم کے حکومت کرے) انسان اپنے ہی نفس پر دوسروں کو قیام کرتا ہے، اور اپنے ہی ظرف کے پیمانہ سے سب کو ناپتا ہے۔ خارق عادت کی کوئی توجیہ ان مشرکوں کے ذہن میں آہی نہیں سکتی تھی بجز سحر وساحری کے۔ اور تبلیغ دین حق کا کوئی محرک ان کے خیال میں اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا بجز ہوس ملک گیری واقتدار دنیوی کے۔
Ayahs 26:36–3733۔ (اور پھر وہ جادوگر مقابلہ کرکے اس نئے ساحر کا زور توڑیں) (آیت) ” سحار “۔ صیغہ مبالغہ ہے ساحر کا، یعنی بڑے ماہر فن ساحر، علیم اسی صفت کو اور بڑھا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سرکاری ماہرین فن بڑے بڑے باکمال تھے۔ سحر مصری تمدن میں آج کل کی طرح کوئی حقیر وبے حقیقت چیز نہ تھی، سائنس کی اعلی شاخوں کی طرح اس کا شمار علوم عالیہ میں تھا۔ اور ساحر کا مرتبہ وہ تھا جو آج سائنس کے کسی اکسپرٹ کا ہوتا ہے۔ (آیت) ” حشرین “۔ یعنی وہ جو جمع کرکے لائیں۔
Ayahs 26:38–4034۔ جادوگردار السلطنت میں آکر اکٹھے ہوئے، مقابلہ کا وقت ومقام طے پا گیا، اور عام منادی سرکاری کی طرف سے کردی گئی کہ سب لوگ آکر غلبہ حق (یعنی سرکاری مذہب کے غلبہ) کا تماشا دیکھیں۔ (آیت) ’ نتبع السحرۃ “۔ ساحروں کی راہ کے اتباع پر حیرت نہ ہو یہی ساحر دین مصری کے اعیان واساطین تھے۔ ساحر مصری تمدن میں باکمال ماہرین سائنس اور محققین مذہب دونوں کی حیثیت رکھتے تھے۔ (آیت) ” ان ..... الغلبین “۔ فرعون کو تو یقین تھا کہ ہامرے ہی جادوگروں کی پارٹی کامیاب رہے گی۔ اور اسی کو صداقت وحقانت کا معیار قرار دے کر اس نے پکار کرا دی تھی کہ آؤ سب لوگ اپنے ملکی اور سرکاری ماہرین فن کے کمالات کا مشاہدہ کرو اور مشاہدہ کے بعد اپنے اسی دین فرعونی کی صداقت پر اور زیادہ جم جاؤ۔