26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة نمبر 26 کل رکوع 11 آیات 227 الفاظ و کلمات 1347 حروف 5689 سورۃ الشعراء مکہ مکرمہ کے درمیانے دور میں نازل کی گئی ہے جس میں سات جلیل القدر پیغمبروں کی دین اسلام کی سربلندی کے لیے جدوجہد اور ان کی قوم کی نافرمانیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ جب ان کی قوموں کا کفر اور شرک انتہاء کو پہنچ گیا تو اللہ نے ان قوموں کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ کر پھینک دیا اور آج ان کے کھنڈرات ان کی نافرمانیوں کی داستان بن کر نشان عبرت بنے ہوئے ہیں۔ کفار مکہ کے سامنے جب اللہ کا ابدی پیغام پہنچانے کے لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوشش فرماتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر طرح طرح کے اعتراض کیے جاتے اور کفار طرح طرح کے مطالبات کرتے تھے کبھی کہتے کہ اے نبی ! اگر آپ سچے ہیں تو مکہ کے چاروں طرف جو پہاڑ ہیں ان کو ہٹا کر میدان بنا دیجئے ‘ چاروں طرف ریگستان ہے ان میں پانی کی نہریں بہاد یجیے یا کم ازکم ایک پہاڑ سونے کا بنادیا ہوتا یا کوئی فرشتہ آپ کے ساتھ ہوتا جو آپ کے ساتھ چلتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بچکانہ مطالبات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کی یہ قدرت ہے کہ یہ جیسا کہہ رہے ہیں اللہ ایسا ہی کردے لیکن جو قرآن جیسی عظیم کتاب اور عظیم صفتوں کے حامل حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھ کر ایمان نہیں لاتے وہ معجزات کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں گے۔ ان آیات کو پڑھ کر بعض حضرات معجزات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن کریم کے سوا کوئی معجزہ نہیں دیا گیا حالانکہ یہاں اور قرآن کریم میں متعدد و مقامات پر صرف یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کریم ایک ایسا معجزہ ہے جس کے سامنے ساری دنیا کو گونگا کہنے والے خود حیران ہیں کہ ہم وہ زبان کہاں سے لائیں جو قرآن جیسی کتاب کو پڑھ کر اس جیسا قرآن لانے کی کوشش کرسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لاتعداد معجزات دیئے ہیں جن کی تفصیلات احادیث میں بیان فرمائی گئی ہیں۔ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اپنے معجزات لوگوں کی فرمائش پر دکھائے ہوں لیکن اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سیکڑوں معجزات صادر فرمائے ہیں جن کے گواہ لاکھوں کی تعداد میں صحابہ کرام (رض) ہیں۔ قرآن کریم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے بہت سے انبیاء کرام (علیہ السلام) سے معجزات ظاہر ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود کفار ان پر ایمان نہ لائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر معجزات آنے کے بعد قوم ایمان نہ لائے تو پھر اللہ کا شدید ترین عذاب نازل ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی اور ایمان نہ لانے والوں کو سخت سزادی جاتی ہے۔ فرمایا گیا کہ یہ قرآن کریم قیامت تک ساری انسانیت کی رہبری کرتا رہے گا۔ یہ قرآن سادہ تعلیمات کی کتاب ہے یہ نہ شعر ہے نہ سحر نہ کہانت ہے بلکہ یہ وہ کلام الہی ہے جس کو اللہ معجزہ بنا کر نازل کیا ہے ۔ اب یہ ہر انسان کا اپنا کام ہے کہ اس کی تعلیمات سے فائدہ اٹھا کر اپنے لیے دنیا و آخرت کی سعادتیں حاصل کرے یا اپنے لیے دنیا اور آخرت کی بربادیوں اور نحوستوں کو دعوت دے۔ چناچہ سورة الشعرا میں سات انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ ان کی قوموں نے ان سے معجزات کے مطالبات کیے جب اللہ نے وہ معجزات دکھادیئے تو کفار و مشرکین نے ان کو جادوگری ‘ کہانت اور شعر و شاعری قراردیا اور ایمان نہ لائے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان نافرمان قوموں کو تباہ و بر باد کردیا گیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان آیات کو سامنے رکھ کر معجزات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انکار کرنا ایک بہت بڑی جہالت اور نا واقفیت ہے البتہ اللہ تعالیٰ نے اس بات پر زور دے کر فرمایا ہے کہ مکہ والو ! تم گزشتہ قوموں کا جیسا مزاج نہ بنائو جنہوں نے اپنے اپنے نبیوں سے معجزات کے مطالبات کیے اور پھر بھی وہ ایمان نہ لائے جس کی وجہ سے ان کو تہس نہس کردیا گیا۔ اگر حقیقت میں کسی کو ایمان لانا ہے اور اس میں ایمان لانے کی طلب اور تڑپ ہے تو فرمایا کہ یہ قرآن مبین موجود ہے اس کی آیات ‘ اس کے احکامات بالکل صاف صاف اور واضح ہیں اور حق و باطل کو چھانٹ کر رکھ دیتے ہیں۔ اس کی تعلیمات اس قدر صاف ‘ سیدھی اور بچی ہیں کہ ان کو پڑھنیکے بعد ہر شخص نہایت آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ قرآن کریم انہیں کس چیز کی طرف بلارہا ہے اور کن باتوں سے روک رہا ہے۔ اگر وہ اس واضح سچائی کو مانتا ہے تو یہ اس کی سعادت ہے لیکن اگر وہ نہیں مانتا تو کم از کم وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ قرآن کریم کی باتیں میری سمجھ سے باہر ہیں۔ فرمایا کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ کفار مکہ اس کلام الہیٰ کو پڑھنے ‘ سمجھنے اور عمل کرنے کے بجائے اس کو شعر و شاعری قرار دیتے ہیں۔ فرمایا کہ قرآن کریم نہ شعر ہے نہ سحر ہے نہ کہانت ہے بلکہ زندگی کی سچائیاں ہیں۔ فرمایا کہ عام طور پر شاعر تو وہ ہیں جو گم راہی کے پیروکار ہوتے ہیں ان کے شعروں میں ذاتی فخر و غرور ‘ قومی جہالت ‘ عورتوں کے حسن و جمال ‘ عشق بازی ‘ شراب نوشی اور فسق و فجور کے سوا کیا ہوتا ہے اور جو بات وہ کہتے ہیں عام طور پر وہ اس پر عمل بھی نہیں کرتے۔ شاعروں کی زندگیاں بےعملی کا شکار ہوتی ہیں البتہ اگر ایمان اور عمل صالح کے ساتھ شاعری ہو تو وہ دوسری بات ہے کیونکہ اس میں شاعری کا انداز بےحقیقت نہیں ہوگا۔ بلکہ اس میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کا انداز جھلکتا ہوا نظر آئے گا۔ فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک شاعر ہونے اور اشعار کہنے کا جو الزام لگایا جاتا ہے وہ بنیادی طور پر اس لیے غلط ہے کہ قرآن کریم کی تعلیمات راہ ہدایت اور صراط مستقیم ہیں اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی ہر شخص کے سامنے ہے آپ میں نہ شاعروں کی ادائیں ہیں اور نہ بےعملی کی زندگی بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو سراپا حسن عمل ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شعر و شاعری اور اس طرح کی گمراہی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Ayah 26:1

طٰسٓمّٓ Open ayah 26:1 in the Quran reader

طٰسۗمّۗ

Ayahs 26:2–9

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ ایک کھلی ہوئی واضح کتاب کی آیات ہیں۔

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ تو (ان کافروں کے ) ایمان نہ لانے (کے غم میں) اپنی جان گھلا ڈالیں گے۔

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے ایک بڑی نشانی نازل کردیں جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک جائیں۔

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے جب بھی کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو وہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

یقیناً وہ جھٹلا چکے۔ جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے انہیں بہت جلد اس کی حقیقت معلوم ہوجائے گی۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے زمین کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اس میں ہر قسم کی چیزیں اگائی ہیں۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

بیشک اس میں بھی ایک نشانی ہے۔ لیکن ان میں سے اکثر وہ ہیں جو ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا پروردگار زبردست (قوت والا) اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 9 : الکتاب المبین (کھلی اور واضح کتاب) باخع (گھلا ڈالنے والا) ظلت ( ہوگئی (ہوجائیں) ‘ اعناق (عنق) (گردنیں) ‘ خضعین (جھکنے والے) ‘ محدث (نئی بات۔ نئی نصیحت) ‘ انبئوا (خبریں) ‘ انبتنا (ہم نے اگایا) ‘ زوج کریم (عمدہ پاکیزہ جوڑے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 9 : سورۃ الشعراء کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے۔ اس سے پہلے وضاحت کردی گئی ہے کہ قرآن کریم کی انتیس (29) سورتوں کی ابتداء میں ان حروف کو لایا گیا ہے۔ ان حروف کے کیا معنی ہیں ؟ علماء کرام نے فرمایا ہے کہ ان حروف کے معنی کا علم اللہ رب العزت کو ہے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے ان حروف کے معنی نبی کریم ﷺ کو بتا دیئے ہوں مگر نبی کریم ﷺ نے ان حروف کے معنی امت کو نہیں بتائے۔ اگر ان حروف کے معنی بتانا امت کے لئے ضروری ہوتاتو آپ اپنے جاں نثاروں کو ضرور بتا دیتے۔ علماء مفسرین نے حروف مقطعات کو آیات متشابہات میں شمار فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس حقیقت کو بار بار بیان کیا ہے کہ قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کے فیض صحبت سے ان ہی لوگوں کو ہدایت اور صراط مستقیم پر چلنے کی روشنی عطا کی جاتی ہے جو اپنے دلوں میں حق و صداقت کی طلب اور تڑپ رکھتے ہیں لیکن جنہوں نے ضد ‘ ہٹ دھرمی اور رسول دشمنی کا مزج بنا لیا ہے وہ بڑی سے بڑی سچائی اور صداقت کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود اس پر ایمان لاکر ایک اللہ کی عبادت و بندگی اور نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اطاعت و محبت اختیار نہیں کرتے حالانکہ کائنات کا ذرہ ذرہ خود اپنے منہ سے اللہ کی خالق ومالک ہونے کی گواہی پیش کررہا ہے۔ لذت و شیرینی سے بھر پور طرح طرح کے پھل ‘ میوے ‘ ترکاریاں اور غلے ‘ سرسبز و شاداب درخت ‘ پودے اور قسم قسم کے نباتات ‘ لہلہاتے کھیت ‘ زمین ‘ پانی ‘ ہوا ایک ہونے کے باوجودرنگ برنگ کے پھول ‘ پتے ‘ پہاڑ ‘ دریا ‘ چاند ‘ سورج ‘ ستارے ‘ صبح و شام اور رات دن کے آنے جانے کا نظام اور خود انسان کا اپنا اوجود اور اس کیا رد گرد پھیلی ہوئی سیڑوں نشانیاں عقل و فہم اور تفکر و تدبر کو دعوت نظارہ دیتی نظر آتی ہیں کہ اس پوری کائنات کا نظام و انتظام صرف اللہ تعالیٰ فرمارہا ہے جو تمام عبادتوں کا مستحق ہے لیکن کھلی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود وہ ان سچائیوں پر ایمان نہیں لاتے۔ جب نبی کریم ﷺ کفار مکہ کے سامنے قرآن کریم کی آیات کی تلاوت فرماتے تو کہتے کہ یہ قرآن تو محض شعر و شاعری ہے۔ کبھی کہتے کہ یہ تو کوئی جادو یا کہانت ہے حد تو یہ ہے کہ آپ ﷺ کو شاعرو مجنون قرار دیتے تھے۔ آپ کی بیان کی ہوئی سچائیوں کا انکار کرکے طرح طرح کے معجزات کا مطالبہ کیا کرتے تھے ۔ حالانکہ قرآن کریم کی کھلی اور واضح آیات جو ایک معجزہ ہی تھیں ان کی موجودگی میں کسی طرح کے معجزے کا مطالبہ کرنا محض ایک بچکا نہ سی بات تھی جس کا کوئی جو ازنہ تھا مگر ان کے لئے عمل سے بھاگنے کا اس سے بہتر راستہ کوئی نہ تھا۔ نبی اپنی امت کا سب سے زیادہ خیر خواہ اور بھلائی چاہنے والا ہوتا ہے اور دین اسلام کی سچائی پھیلانے کی دن رات جدوجہد کرتا ہے لیکن سوائے چند سعادت مندوں کے ہر ایک انکار کر کے نبی کے پر خلوص جذبے کی ناقدری کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جب اعلان نبوت فرمایا تو علاوہ شدید مصائب اور پریشانیوں کے اپنے بھی غیر بن گئے تھے جس کی وجہ سے نبی کریم ﷺ کو بہت صدمہ پہنچتا تھا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ قرآن کریم کی تمام آیات واضح اور صاف صاف احکامات پر مشتمل ہیں جن میں پاکیزہ اور کامیاب زندگی گذارنے کے پر تاثیر اور بھر پور طریقے ارشاد فرمائے گئے ہیں جن کی وضاحت آپ اپنے حسن عمل اور اعلیٰ کردار یس بھی فرما رہے ہیں۔ اگر وہ قرآن کریم کا انکار کریں اور آپ کو جھٹلائیں تو آپ اس پر اتناغم نہ کیجئے کہ خیر و بھلائی سے دور بھاگنے والوں کے پیچھے اپنی جان گھلا ڈالیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ہم چاہتے تو آسمان سے کوئی ایسی نشانی نازل کردیتے جس کے سامنے تکبر اور غرور سے گردنیں اکڑانے والوں کی گردنیں جھک جاتیں لیکن ہم زبردستی کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کرتے کیونکہ ہم تو یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اللہ کے دیئے ہوئے اختیار اور ارادے کو کس حد تک اور کہاں تک استعمال کرتے ہیں کیونکہ قیامت میں اسی بات پر فیصلہ ہوگا۔ کہ کس شخص نے اپنے لئے کونسا راستہ اختیار کیا تھا۔ یقیناً نیکیوں کا راستہ اختیار کرنے والے ہی دنیا اور آخرت میں کامیاب و بامراد ہوں گے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ اللہ کا دین پہنچاتے رہیے اور ان کی فکر چھوڑ دیجئے جو دین کی ہر سچائی سے منہ پھیر کر چلنے والے اور دین کا مذاق اڑانے والے ہیں۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو عقل و فکر رکھنے والے سعادت مند ہیں وہ بغیر کسی معجزے اور نشانی کے بھی ایمان لے آئیں گے لیکن جو ضدی ‘ ہٹ دھرم اور بےانصاف لوگ ہیں اگر ان کے سامنے ہر طرح کی نشانیاں بھی رکھ دی جائیں تو وہ اس خیر اور بھلائی سے محروم ہی رہیں گے۔ نبی کریم ﷺ کو تسلی دینے اور کفارو مشرکین کو برے انجام سے آگاہ کرنے کے لئے اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے سات انبیاء کرام کے حالات اور واقعات کا ذکر فرمایا ہے جس میں اسی حقیقت کو کھول کروضاحت سے بیان فرمادیا ہے کہ جن لوگوں نے عقل و فکر اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کی اطاعت و فرماں برداری کا راستہ اختیار کیا تھا ان کی دنیا بھی بہتر ہوگئی اور آخرت کی کامیابی بھی یقینی ہے۔ لیکن جن لوگوں نے اپنے وقتی مفادات اور فائدوں کے سامنے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی مخالفت کی اور دین اسلام کی سچائی کا مذاق اڑایا ضد ‘ ہٹ دھرمی اور رسول دشمنی کا طریقہ اختیار کیا ان کی دنیا ان کے سامنے ہی اجاڑ دی گئی یا پانی میں غرق کردی گئی اور آخرت میں بھی وہ ہر طرح کی خیر اور بھلائی سے محروم رہیں گے۔ یہ ایسی کھلی حقیقتیں ہیں جن پر گذشتہ امتوں کی زندگیاں اور تاریخ کے اوراق گواہ ہیں اور عبرت و نصیحت کے لے کافی ہیں۔ اکثر لوگ ان باتوں پر غور و فکر کر کیا یمان نہیں لاتے لیکن اللہ جو زبردست حکمت و دانائی والا ہے اور اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ قیامت تک انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کرتا رہے گا۔ نبوت کا سلسلہ تو سرکار دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ختم ہوگیا ہے اب قرآن کریم جیسی واضح کتاب اور نبی کریم ﷺ کی سنتوں کی موجودگی میں کسی نئے نبی یا رسول کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اب آپ کی لائی ہوئی تعلیمات کو لے کر آپ کی امت کے علماء کرام دین کی سچائیوں کو پھیلاتے رہیں گے اور ہر دور میں ایسے مخلص اور کتاب و سنت پر چلنے والے علماء رہیں گے جو اللہ کے دین سے ساری دنیا کے اندھیرے دور کرنے کی جدوجہد کرتے رہیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ گذشتہ ڈیڑھ ہزار سال سے نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات کو مخلص اور کتاب و سنت پرچلنے والے علماء کرام ہی دنیا کے کونے کونے تک پہنچاتے رہے ہیں اور انشاء اللہ قیامت تک پہنچاتے ہیں گے۔
Ayahs 26:10–22

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ یاد کیجئے جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا کہ تم ظالم قوم یعنی قوم فرعون کے پاس جائو۔

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

قوم فرعون کیا وہ مجھ سے ڈرتے نہیں ہیں ؟

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے یہ ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے۔

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

(یہ سوچ کر) میرا سینہ تنگ ہونے لگتا ہے اور (اچھی طرح) میری زبان نہیں چلتی۔ ہارون کے پاس بھی وحی بھیج دیجئے۔

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور میرے اوپر ان (فرعونیوں) کا ایک الزام بھی ہے مجھے یہ ڈر ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا ہر گز نہیں۔ تم دونوں ہماری نشانیوں کو لے کر جائو۔ ہم تمہارے ساتھ سننے والے موجود ہیں۔

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

تم دونوں فرعون کے پاس جائو اور کہو کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں۔

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

اس لئے تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے۔

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

فرعون نے (احسان جتاتے ہوئے) کہا کہ کیا ہم نے اپنے درمیان تمہاری پرورش نہیں کی تھی ؟ تم برسوں ہمارے اندر رہے ہو۔

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

وہ کام کر گئے تھے جو تم نے کیا اور تم بڑے ناشکرے ہو۔

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ وہ میں نے اس وقت کیا تھا جب میں راہ سے بیخبر تھا۔

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں یہاں سے فرار ہوگیا۔ پھر میرے رب نے مجھے حکمت و دانائی عطا فرمائی اور مجھے رسولوں میں سے بنادیا۔

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور وہ احسان جو تو مجھ پر رکھ رہا ہے ( اس لئے تھا کہ ) تو نے بنی اسرائیل کو سخت ذلت و رسوائی میں ڈال دیا تھا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 22 : نادی (آوازدی) ٍیضیق (تنگ ہوتا ہے۔ گھٹتا ہے) صدری (میرا سینہ) ‘ لسانی (میری زبان) کلا (ہرگز نہیں) مستمعون (سننے والے) نربک ( ہم نے تجھے پالا۔ پرورش کیا) ولید (بچپن) ‘ لبثت (تورہا) ‘ سنین (سن) (سال) ‘ فعلت (تونے کیا) ‘ الضآ لین ( بھٹکنے والے) فررت (میں بھاگ گیا) ‘ وھب (دیا۔ عطا کیا) ‘ تمن (تو احسان جتاتا ہے) ‘ عبدت (تونے غلام بنایا۔ ذلیل کیا) ‘۔ تشریح آیت نمبر 10 تا 22 : اللہ تعالیٰ نے گذشتہ آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ نبی اور سو ل کی بات مکمل یقین رکھنے والے ہیں ان کو ایمان لانے کے لئے کسی نشانی اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جن کو عمل اور ایمان سے زیادہ اپنے وقتی مفادات عزیز ہوتے ہیں وہ معجزات اور کھلی نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں اور دین اسلام اور اس کو لانے والے انبیاء کرام کا مذاق اڑاتے ہیں۔ چناچہ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت مکہ میں یہی صورتحال تھ یکہ وہ عمل اور ایمان سے بھاگنے کے لئے نبی کریم ﷺ اور اس قرآن مجید پر طرح طرح کے اعتراض کرکے گذشتہ انبیاء پر جس طرح معجزات نازل کئے گئے تھے اس کا مطالبہ کیا کرتے تھے۔ اس سے پہلے آیات میں اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ اللہ کا قانون یہ ہے جب کوئی قوم اپنے نبی سے کسی معجزے کا مطالبہ کرتی ہے اور ان کے مطالبے پر وہ معجزہ دکھا دیا جاتا ہے اور پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتی تو ان کو سخت عذاب دیاجاتا ہے اور کبھی کبھی انکو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔ چونکہ نبی کریم ﷺ جس طرح خاتم الانبیاء ہیں یعنی آپ کے بعد نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم ہوگیا اسی طرح آپ کی امت بھی آخری امت ہے۔ آپ کے بعد اسی امت کو قیامت تک ساری دنیا کی رہبری اور رہنمائی کی ذمہ داری سپرد کی گئی ہے۔ اگر کفار مکہ کا یہ مطالبہ مان لیا جاتا کہ ان کی فرمائش پر کوئی معجزہ دکھا دیا جاتا اور پھر بھی وہ ایمان نہ لاتے تو اس امت کو ختم ٭ کردیا جاتا۔ لیکن یہ اللہ کی مصلحت کے خلاف ہوتا۔ اس لئے کفار مکہ کے کہنے پر آپ نے کسی معجزہ کی درخواست نہیں فرمائی۔ البتہ آپ سے وہ سیکڑوں معجزات ظاہر ہوئے ہیں جنکو صحابہ کرام ؓ نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا ہے جن کی تفصیلات پر پر علماء امت نے بڑی تفصیل سے کتابیں کھلی ہیں۔ قرآن کریم خودانتا بڑا علمی معجزہ ہے جس کی موجودگی میں کسی اور معجزہ کا مطالبہ کرنا ہی احمقانہ بات ہے کیونکہ جس قرآن کی آیات کے سامنے وقت کے بڑے بڑے شاعر ‘ ادیب اور زبان داں عاجز تھے اور قرآن کریم کی چھوٹی سے چھوٹی ایک آیت یا سورت بنا کر لانے سے بھی عاجز ومجبور تھے ان کو کسی معجزہ کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہ تھا۔ خود نبی کریم ﷺ کی ذات پاک ایک معجزہ ہے کیونکہ آپ نے مکہ کے لوگوں میں سارا وقت گذارا تھا وہ لوگ جانتے تھے کہ آپ نے کسی سے لکھنا پڑھنا نہ سیکھا تا۔ وہ ایک چھوٹا سا معاشرہ تھا جس میں کسی شخص کی زندگی کے حالات دوسرے سے چھپ نہ سکتے تھے لیکن چالیس سال کی عمرمبارک میں وحی نازل ہونا شروع ہوئی تو اللہ نے آپ کے قلب مبارک پر ایسے ایسے مضامین نازل فرمائے کہ جب آپ کی زبان مبارک سے ادا ہوتے تو اس کلام کی فصاحت و بلاغت خود کسی معجزہ سے کم نہ تھی اور آپ نے اللہ کے حکم سے امت کو ایسے ایسے مضامین عطا فرمائے کہ آپ کے الفاظ بھی دنیا بھر کی زبانوں پر غالب آگئے۔ غر ضی کہ قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کی ذات ایک معجزہ تھی۔ جب کفار مکہ نے دیکھا کہ ان کے اس مطالبے کا بھی کوئی اثر نہیں ہے جس میں معجزات دکھانے کا مطالبہ کیا گیا تھا تو انہوں نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو طرح طرح سے ستانا شروع کیا۔ جب حالات انتہائی سنگین ہوگئے اس وقت اللہ نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو تسلی دینے کے لئے سورة الشعراء کی ان آیات کو نازل فرمایا۔ سورة الشعراء میں سات انبیاء اکرام اور ان کے معجزات کا ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) ‘ حضرت نوح (علیہ السلام) ‘ حضرت ہود (علیہ السلام) ‘ حضرت صالح (علیہ السلام) ‘ حضرت لوط (علیہ السلام) ‘ اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کے واقعات کی کچھ تفصیل ارشاد فرمائی گئی ہے۔ ان آیات میں سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے یہ حکم دیا کہ تم فرعون کے پاس ہماری نشانیاں لے کر جائو اور اس سے یہ بات کہہ دو کہ اے فرعون تو بنی اسرائیل پر ظلم و ستم کا سلسلہ ختم کردے اور بنی اسرائیل کو میرے ساتھ فلسطین کی طرف جانے میں رکاوٹ پیدا نہ کر۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا الہٰی ! میں حاضر ہوں مگر مجھ سے نادانستگی میں ایک غلطی ہوگئی تھی کہ قبطی اور اسرائیلی میں جھگڑا ہورہا تھا۔ میں نے دونوں کو لڑنے سے روکا اور اس دوران میرے ایک ہی گھونسے سے قبطی مر گیا تھا اور میں خوف کی وجہ سے مدین چلا گیا تھا۔ الہٰی ! مجھے اندیشہ ہے کہ فرعون میرے فریضہ تبلیغ کو روکنے کے لئے اس واقعہ کو بہانہ بنالے گا۔ دوسرے یہ کہ مجھے بولنے میں بھی رکاوٹ محسوس ہوتی ہے اگر آپ اپنے فضل و کرم سے میرے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو میرا دست بازو بنادیں تو میں پوری قوت سے آپ کا پیغام فرعون تک پہنچادوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم حضرت ہارون (علیہ السلام) کو نہ صرف آپ کے لئے قوت کا سبب بنا رہے ہیں بلکہ ان کے سر پر تاج نبوت بھی رکھ رہے ہیں تاکہ نبی کی حیثیت سے وہ آپ کے معاون و مدد گار بن جائیں۔ فرمایا کہ تم دونوں نہایت اطمینان سے فرعون کے دربار میں جائو اور اس کو انسانوں پر ظلم و ستم سے روکو۔ میں خود تمہاری نگرانی و حفاظت کروں گا۔ کوئی تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ جب یہ دونوں بھائی فرعون کے دربار میں پہنچے اور انہوں نے کہا کہ ہم اللہ رب العالمین کی طرف سے بھیجے ہوئے آئے ہیں اور یہ پیغام لے کر آئے ہیں کہ تو بنی اسرائیل پر ظلم و ستم سے باز آجا اور بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ (فلسطین کی طرف جانے کی ) اجازت دیدے۔ اس وقت کے فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پہچان لیا کہ یہ تو وہی موسیٰ (علیہ السلام) ہیں جن کو نہایت ناز و نخروں سے ہمارے محل میں پرورش کیا گیا تھا اور ان کا بچپن فرعون کے گھر میں گذرا تھا۔ اس نے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا تم وہی نہیں ہو جس کو بڑے ناز اور نخروں سے اسی گھر میں پرورش کیا گیا تھا اور تم نے برسوں ہمارے درمیان گذارے ہیں لیکن تم نے ان احسانات کا بدلہ یہ دیا کہ ایک قبطی کو مارڈالا اور آج ہمارے ہی سامنے کھڑے ہو کر ہمیں ظالم و جابر کہہ رہے ہو ؟ ۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) تم بہت ہی ناشکرے آدمی نکلے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وضاحت کا موقع مل گیا آپ نے فرمایا کہ جس قبطی کا قتل میرے ہاتھوں سے ہوا ہے وہ جان بو جھ کر نہیں ہوا تھا بلکہ میں تو ان دونوں کے درمیان سے جھگڑا دور کرانے کی کوشش کررہا تھا اتفاق سے میرا ہاتھ قبطی کے لگ گیا جس سے وہ مر گیا۔ جس کا مجھے افسوس بھی ہے مگر میں نے جان بوجھ کرا یسا نہیں کیا تھا۔ میں اسی خوف سے کہ کہیں مجھے اس کے بدلے میں قتل نہ کردیا جائے مدین کی طرف چلا گیا تھا۔ اور یہ بات مجھ سے اس وقت سرزد ہوئی جب میں اس راہ سے بیخبر تھا۔ اب میرے پروردگار نے مجھے حکمت و دانائی عطا فرما دی ہے اور مجھے رسولوں میں سے ایک رسول بنایا ہے۔ تو نے جن بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنارکھا ہے وہ خود بہت بڑی زیادتی ہے۔ کہنے لگا کہ رب العالمین تو میں خود ہوں تم کس رب العالمین کا ذکر کررہے ہو ؟ اس کا جواب تو اس کے بعد کی آیات میں دیا گیا ہے۔ یہاں تک کی آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھ سے ایک قبطی شخص کا قتل تو بلا ارادہ اختیار کے ہوا تھا جس پر تو اتنا شور کررہا ہے لیکن تو نے پوری قوم بنی اسرائیل کو غلام بنارکھا ہے۔ اتنی خدمات کے بعد بھی ان پر شدید ظلم کیا جاتا ہے اور ان کے بچوں کو ان کی ماؤں کی گود سے چھین چھین کر قتل کیا جارہا ہے۔ اسی ظلم کی وجہ سے میری والدہ نے مجے پانی میں بہادیا تھا تاکہ میں تیرے ظلم سے بچ جاؤں ۔ جب مجھے پانی سے نکال کر تم نے اپنے گھر میں رکھا تو یہ مجھ پر کوئی احسان نہ تھا کیونکہ اگر میری والدہ مجھے وہاں سے نہ ہٹا لیتیں تو میں بھی قتل کردیا جاتا۔ اسی لئے یہ اللہ کا فضل و کرم ہے ورنہ تو نے تو ظلم و ستم کی انتہا کردی تھی۔ فرعون اس طنز کو برداشت نہ کرسکا۔ کہنے لگا کہ اچھا یہ بتائو کہ یہ تم کس رب العالمین کا ذکر کررہے تھے ؟ وہ کیا ہے ؟ کہاں ہے ؟ اللہ نے ان باتوں کا جواب اگلی آیات میں دیا ہے۔
Ayahs 26:23–33

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا کہ ” رب العالمین “ کیا ہے ؟

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

(کون ہے) موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تمام آسمانوں ‘ زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا پروردگار ہے۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو۔

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

فرعون نے ارد گردوالوں سے کہا کیا تم سنتے ہو ؟

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ وہ تمہارا اور تم سے پہلوں کا پروردگار ہے۔

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

فرعون نے کہا یہ شخص جو تمہارے پاس تمہارا رسول بن کر آیا ہے وہ دیوانہ ہے۔

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا وہ اللہ مشرق و مغرب اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے۔ اگر تم (کچھ بھی) عقل رکھتے ہو۔

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

فرعون نے کہا اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود بنایا تو میں تجھے جیل خانے بھیج دوں گا۔

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اچھا اگر میں کھلی دلیل پیش کروں تب بھی ؟

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

فرعون نے کہا دلیل پیش کر اگر تو سچے لوگوں میں سے ہے ؟

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو وہ بڑا اثدھا بن گیا

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور اس نے (اپنے گریبان سے ) اپنا ہاتھ نکالا تو وہ دیکھنے والوں کے لئے زبردست چمک دار بن گیا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 23 تا 33 : موقنین (یقین کرنے والے) ‘ حولہ (اس کا اردگرد۔ آس پاس) ‘ الا تستمعون (کیا تم سنتے ہو ؟ ) ‘ اتخذت (تونے بنایا) ‘ المسجونین (قیدکئے گئے) ‘ عصا (لاٹھی) ‘ ثعبان (اژدھا۔ بڑا سانپ) ‘ نزع (اس نے نکالا۔ اس نے کھینچا) ‘ بیضاء سفید۔ روشن ‘ نظرین (دیکھنے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 23 تا 33 : جیسا کہ گذشتہ آیات میں آپ نے پڑھا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کا پیغام لے کر فرعون کے بھرے دربار میں پہنچے تو فرعون بوکھلا گیا پہلے تو اس نے اپنی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان احسانات کو یاد دلایا کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پانی سے نکال کر بڑی محبت اور شفقت سے اس کے محل میں عیش و آرام سے رکھ کر ان کی پرورش کی گئی تھی۔ دوسری بات یہ یاد دلائی گئی کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بغیر ارادہ کے ایک قبطی کو قتل کردیا تھا اور اس خوف سے کہ کہیں فرعون اور اس کے درباری ان سے ناحق بدلہ نہ لے لیں مدین کی طرف تشریف لے گئے تھے۔ فرعون کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان مہر بانیوں کو یاد تو کرو جو ہم نے آپ کو پال پوس کر اتنا بڑا کیا تھا اور تم نے احسان ماننے کے بجائے ایک قبطی کو بھی قتل کردیا تھا۔ کیا احسانات کا بدلہ اسی طرح دیا جاتا ہے ؟ ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اے فرعون مجھ سے تو بغیر کسی قصد و ارادے کے ایک قبطی کا قتل ہوگیا تھا لیکن تو نے سارے بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا کر ان کے بچوں کو ذبح کیا تھا۔ اگر میری والدہ نے مجھے ایک صندوق یا ٹوکرے میں رکھ کر دریا میں نہ بہادیا ہوتا اور (ایک لاوارث) بچہ سمجھ کر مجھے تمہارے محل میں پرورش نہ کرایا ہوتا تو میرا حشر بھی بنی اسرائیل کے اور بچوں کی طرح ہوتا۔ فرعون سمجھ گیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ان باتوں کا کوئی اثر ہونے والا نہیں ہے اس نے فوراً انداز گفتگو بدل دیا اور کہنے لگا کہ ساری دنیا کا ” رب اعلی “ تو میں ہوں۔ میرے علاوہ یہ رب العالمین کون ہے ؟ کیا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بیان کرنا شروع کیا۔ فرعون درمیان درمیان میں ٹوکتارہا تاکہ آپ کی گفتگو بےاثر ہوجائے اور درباری اس سے متاثر نہ ہوں لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا خطاب جاری رکھا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم یقین کرنے والے ہو تو یہ بات سن لو زمین ‘ آسمان اور اس کے درمیان جو بھی مخلوق ہے ان سب کا پروردگار صرف اللہ رب العالمین ہے۔ فرعون نے طنز بھرے انداز میں درباریوں سے کہا کہ تم نے یہ ایک عجیب بات سنی ہے کہ میرے سوا بھی کوئی رب العالمین ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے گفتگو اور خطاب کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ وہ تمہارا اور تم سے پہلے لوگوں کا پروردگار ہے یعنی جب فرعون نہیں تھا وہ اس وقت بھی رب العالمین تھا اور جب یہ فرعون نہیں رہے گا اس وقت بھی صرف اسی ایک اللہ کی حکومت اور سلطنت ہوگی۔ فرعون پھر بولا کہ لوگو ! اس کی بات مت سنو مجھے تو ایسا گتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر دیوانگی طاری ہے اور وہ اپنی عقل کھو بیٹھا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ وہ رب العالمین ہر سمت کا مالک ہے خواہ وہ مشرق ہو یا مغرب یا اس کے درمیان کی ہر طرح کی مخلوق وہی سب کا رب العالمین ہے اگر تم ذرا بھی عقل سے کام لو گے تو یہ حقیقت تمہارے اوپر کھل جائے گی۔ جب فرعون نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں کا اثر درباریوں پر ہورہا ہے تو اب وہ غصہ میں آگیا اور کہنے لگا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) اگر تم میرے سوا کسی کو بھی اپنا معبود کہا تو میں تمہیں جیل میں سڑادوں گا اور سخت سزا دوں گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے تو فرمایا کہ اچھا یہ بتا کہ اگر میں تیرے سامنے سچائی کی دلیل پیش کروں کیا اس وقت بھی تو میرے ساتھ اسی طرح کا معاملہ کرے گا ؟ فرعون کہنے لگا کہ اگر تم واقعی کسی رب العالمین کے نمائندے ہو تو تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہے اگر تم اپنے وعدے میں سچے ہو تو وہ دلیل اور معجزہ پیش کرو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا جیسے ہی زمین پر پھینکا تو وہ ایک بڑا خوف ناک اژدھا بن گیا۔ فرعون اور درباری سناٹے میں آگئے۔ جب اس اژدھے نے ادھر ادھر دوڑنا اور پھنکار نا شروع کیا تو پورے دربار میں بھگدڑ مچ گئی اور ایک دوسرے پر گرتے ‘ پڑتے ‘ چیختے ‘ چلاتے سب کے سب بھاگ نکلے۔ جب اس بڑے سانپ اژدھے نے فرعون کے شاہی تخت کی طرف رخ کیا تو فرعون مارے خوف کے تخت شاہی کے پیچھے چھپ گیا۔ کہنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تم سب سے پہلے اس مصیبت کو دور کرو جس نے پورے دربار میں تباہی مچارکھی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اس اژدھے کے منہ میں ہاتھ ڈالا تو وہ سانپ پھر سے عصا بن گیا۔ جب خوف جاتارہا تو فرعون اور اس کے درباری پھر سے جمع ہوگئے اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے داہنے ہاتھ کو بغل میں ڈال کر نکالا تو آپ کا ہاتھ چاند سورج کی طرح چمکنے لگا۔ یہ وہ دومعجزات تھے جن کو فرعون اور درباریوں نے کھلی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ مگر ان معجزات کو دیکھ کر بھی وہ ایمان نہ لائے تھے جس کے نتیجے میں اللہ نے فرعون اور اس کے درباریوں کو اسی پانی میں غرق کردیا تھا جس پانی نے اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل کو سمندر کے دوسری طرف حفاظت سے پہنچانے کا انتظام کردیا تھا۔ اہل مکہ سے کہا جارہا ہے کہ تم جو نبی کریم ﷺ سے ہر روز کسی نہ کسی معجزہ دکھانے کا مطالبہ کرتے ہو۔ کیا فرعون اور اس کے درباری بھی ان معجزات کو دیکھ کر ایمان لائے تے ؟ البتہ اللہ نے جب جادوگروں کو ایمان کی توفیق عطا فرمائی تو وہ اس ظالم فرعون کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے اور فرعون کی دھمکیوں سے ان کے ایمان پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ کفار مکہ کو بتایا جارہا ہے کہ جس طرح نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے والے صحابہ کرام ؓ اپنے ایمان کی طاقت سے پورے عرب کے کفار کے مقابلے میں کھڑے ہیں اور صبر و تحمل سے ہر طرح کی تکالیف برداشت کر رہے ہیں۔ کفار مکہ کی دھمکیاں اور تکالیف ان کو راہ حق سے بھٹکا نہ سکیں گی جب ایمان دل میں پختہ ہو کر آجاتا ہے تو پھر اہل ایمان کے دل میں سوائے اللہ کے خوف کے کسی اور کا کوئی خوف نہیں رہتا۔ اللہ نے کفار مکہ کے سامنے اس آئینہ کو رکھ کر فرمایا ہے کہ تم فرعون اور اس کے دربار یوں کی طرح زندہ رہنا چاہتے ہو یا ان سچے مسلمانوں کی طرح جنہوں نے اپنے ایمان کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں اور ان کی دنیا اور آخرت دونوں سنور گئیں ؟ ۔