26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayahs 26:1–4

طٰسٓمّٓ Open ayah 26:1 in the Quran reader

طٰسۗمّۗ

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ روشن کتاب کی آیات ہیں

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ !) شاید آپ اپنے آپ کو ہلاک کردیں گے اس صدمے میں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو ان پر ابھی آسمان سے ایک ایسی نشانی اتار دیں جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک کر رہ جائیں

آیت 4 اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خٰضِعِیْنَ ” انہیں ایسی کوئی نشانی دکھا دینا ہماری قدرت سے کچھ بعید نہیں ‘ لیکن اپنی خاص حکمت اور مشیت کے تحت ہم ایسا نہیں کر رہے۔ آگے چل کر اسی سورت میں اس حکمت کا ذکر بھی آئے گا۔
Ayah 26:5

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

اور ان کے پاس رحمن کی طرف سے کوئی نئی نصیحت نہیں آتی مگر یہ لوگ اس سے اعراض کرنے والے ہی ہوتے ہیں

آیت 5 وَمَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ ذِکْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا کَانُوْا عَنْہُ مُعْرِضِیْنَ ” انہیں مختلف انداز سے سمجھا یا جا رہا ہے ‘ انداز بدل بدل کر آیات نازل کی جا رہی ہیں ‘ مگر یہ لوگ ہیں کہ کسی نصیحت اور کسی یاد دہانی سے اثر لینے کو تیار ہی نہیں۔
Ayah 26:6

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

تو اب جبکہ وہ جھٹلا چکے ہیں تو عنقریب ان تک پہنچ جائیں گی خبریں اس چیز کی جس کا یہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے

آیت 6 قَدْ کَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْہِمْ اَنْبآؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِءُ وْنَ ” یعنی عذاب الٰہی کے ذریعے عنقریب ان کی پکڑ ہونے والی ہے۔
Ayahs 26:7–8

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

کیا یہ لوگ زمین کو نہیں دیکھتے کہ اس میں ہم نے کس قدر عمدہ چیزیں اگائی ہیں ہر قسم کی

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

یقیناً اس میں ایک بڑی نشانی ہے۔ لیکن ان کی اکثر یت ایمان لانے والی نہیں ہے

آیت 8 اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃًط وَمَا کَانَ اَکْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ” اگر یہ لوگ معجزہ دیکھنا چاہتے ہیں تو دیکھ لیں ‘ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ پوری کائنات ہی معجزہ ہے۔ کائنات میں ہر جگہ ان کے لیے نشانیاں ہی نشانیاں ہیں : اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍص وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ البقرۃ ”یقیناً آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں ‘ رات اور دن کے الٹ پھیر میں ‘ اور کشتیوں جہازوں میں جو سمندروں یا دریاؤں میں لوگوں کے لیے نفع بخش سامان لے کر چلتی ہیں ‘ اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا ہے ‘ پھر اس سے زندگی بخشی زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد اور ہر قسم کے حیوانات اس کے اندر پھیلا دیے ‘ اور ہواؤں کی گردش میں ‘ اور ان بادلوں میں جو معلق کردیے گئے ہیں آسمانوں اور زمین کے درمیان ‘ یقیناً نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔“
Ayah 26:9

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

اور یقیناً آپ ﷺ کا رب بہت غالب نہایت رحم کرنے والا ہے

آیت 9 وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ” یہاں ایک نکتہ لائقِ توجہ ہے کہ قرآن میں عام طور پر العزیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا دوسرا صفاتی نام الحکیمآتا ہے ‘ مگر اس سورت میں الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ کی تکرار ہے۔ دراصل اس کا مقصود یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگرچہ ”العزیز“ ہے یعنی زبردست طاقت کا مالک ہے ‘ وہ جو چاہے کرے مگر ساتھ ہی ساتھ وہ نہایت مہربان ‘ شفیق اور رحیم بھی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو پلک جھپکنے میں آسمان سے ایسا معجزہ اتاردے جس کے سامنے انہیں اپنی گردنیں جھکانے کے سوا چارہ نہ رہے۔ جیسا کہ قبل ازیں آیت 4 میں فرمایا گیا ہے : اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خٰضِعِیْنَ ”اگر ہم چاہیں تو ان پر ابھی آسمان سے ایک ایسی نشانی اتار دیں جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک کر رہ جائیں“۔ چناچہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا عظیم مظہر ہے کہ وہ فوری طور پر کوئی حسیّ معجزہ دکھا کر ان لوگوں کی مدت مہلت کو ختم نہیں کرنا چاہتا۔ وہ چاہتا ہے کہ اس دودھ کو کچھ دیر اور بلو لیا جائے ‘ شاید کہ اس میں سے کچھ مزید مکھن نکل آئے۔ شاید ان میں بھلائی کی استعداد رکھنے والے مزید کچھ لوگ موجود ہوں اور اس طرح انہیں بھی راہ راست پر آنے کا موقع مل جائے۔ بہر حال اس وجہ سے ان کے مسلسل مطالبے کے باوجود بھی انہیں معجزہ نہیں دکھا یا جا رہا تھا ‘ مگر وہ نادان اپنے اس مطالبے کے پورا نہ ہونے کو آپ ﷺ کے خلاف ایک دلیل کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔
Ayahs 26:10–13

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اور یاد کرو جب پکار اتھا آپ ﷺ کے رب نے موسیٰ ؑ کو کہ جاؤ ظالم قوم کے پاس

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

(یعنی) قوم فرعون کے پاس۔ کیا وہ ڈرتے نہیں

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

اس ؑ نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

اور میرا سینہ بھنچتا ہے اور میری زبان بھی رواں نہیں لہٰذا آپ (یہ پیغام) ہارون ؑ کی طرف بھیجئے

آیت 13 وَیَضِیْقُ صَدْرِیْ وَلَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰی ہٰرُوْنَ ” تاکہ اس عظیم مشن میں وہ میرے دست وبازو بنیں اور اس کام میں میرا ہاتھ بٹائیں۔
Ayah 26:14

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور میرے ذمے ان کا ایک جرم بھی ہے چناچہ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں گے

آیت 14 وَلَہُمْ عَلَیَّ ذَنْبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ ” مصر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ایک قبطی قتل ہوگیا تھا۔ اس واقعہ کی تفصیل سورة القصص میں آئے گی۔ اگرچہ یہ قتل عمد نہیں بلکہ قتل خطا تھا ‘ لیکن تھا تو بہر حال قتل۔ اس لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اندیشہ درست تھا کہ وہ انہیں دیکھتے ہی گرفتار کرلیں گے اور مقدمہ چلا کر سزائے موت کا مستحق ٹھہرا دیں گے۔
Ayahs 26:15–17

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

اللہ نے فرمایا : ہرگز نہیں ! تو تم دونوں جاؤ ہماری نشانیوں کے ساتھ ہم یقیناً تمہارے ساتھ ہیں سب سننے والے ہیں

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

تو تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

کہ بھیج دو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو

آیت 17 اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ” کہ اب تم بنی اسرائیل کو مزید تنگ نہ کرو اور انہیں آزاد کر کے ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دے دو۔
Ayah 26:18

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

فرعون نے کہا کہ کیا ہم نے تمہیں چھوٹے ہوتے اپنے ہاں پالا نہیں تھا ؟ اور تم نے اپنی زندگی کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے ہیں

آیت 18 قَالَ اَلَمْ نُرَبِّکَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّلَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِکَ سِنِیْنَ ” یہ قرآن کا خاص اسلوب ہے کہ کوئی واقعہ بیان کرتے ہوئے اس کی غیر ضروری تفاصیل چھوڑ دی جاتی ہیں۔ چناچہ یہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مصر پہنچنے اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کے ساتھ فرعون کے دربار میں جا کر اسے دعوت دینے سے متعلق تمام تفصیلات کو چھوڑ کر فرعون کے جواب کو نقل کیا گیا ہے کہ کیا تم وہی نہیں ہو جس کو ہم نے دریائے نیل میں بہتے ہوئے صندوق سے نکالا تھا اور پھر پال پوس کر بڑا کیا تھا ؟ آیت زیر مطالعہ میں قرآن کے الفاظ کا امکانی حد تک مناسب انداز میں ترجمہ تو وہی ہے جو اوپر کیا گیا ہے ‘ لیکن جس ماحول اور جس انداز میں فرعون نے یہ جملے کہے ہوں گے ان کا تصور کریں تو مفہوم کچھ یوں ہوگا کہ تم ہمارے ٹکڑوں پر پلے ہو اور آج اللہ کے رسول بن کر ہمارے ہی سامنے آ کھڑے ہوئے ہو۔ ہماری بلیّ اور ہمیں کو میاؤں ! [ سورة الاعراف کی آیات 104 ‘ 105 کے ذیل میں یہ وضاحت آچکی ہے کہ یہ وہ فرعون نہ تھا جس کے گھر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پرورش پائی تھی ‘ بلکہ یہ اس کا بیٹا تھا۔ زیر مطالعہ آیت کے اسلوب سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ اگر یہ وہی فرعون ہوتا تو کہتا کہ میں نے تجھے پالا پوسا ‘ لیکن یہ کہہ رہا ہے کہ تو ہمارے ہاں رہا ہے اور ہم نے تیری پرورش کی ہے۔ ]
Ayah 26:19

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور تم نے جو اپنا وہ کام کیا جو کیا اور تم ناشکروں میں سے ہو

آیت 19 وَفَعَلْتَ فَعْلَتَکَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَاَنْتَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ ” فرعون نے اپنے مزعومہ احسانات جتلانے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ بھی یادد لا دیا کہ تم نے ہمارے ایک آدمی کو بھی قتل کیا ہوا ہے۔ اور آخر میں بڑی رعونت سے کہا کہ تم کتنے ناشکر گزار اور احسان فراموش ہو !
Ayah 26:20

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : میں نے وہ تب کیا تھا جب کہ میں ناواقفوں میں سے تھا

آیت 20 قَالَ فَعَلْتُہَآ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَ ” یعنی یہ فعل مجھ سے نادانستگی میں ہوا تھا اور اس وقت میں ابھی حقیقت سے ناآشنا بھی تھا۔ ابھی رسالت اور نبوت مجھے نہیں ملی تھی اور میں خود تلاش حقیقت میں سرگرداں تھا۔ لفظ ”الضّال“ کے دو مفاہیم کے بارے میں سورة الفاتحہ کے مطالعے کے دوران وضاحت کی جا چکی ہے۔ اس لفظ کے ایک معنی تو راستے سے بھٹک جانے والے اور غلط فہمی کی بنا پر کوئی غلط راستہ اختیار کرلینے والے کے ہیں ‘ لیکن اس کے علاوہ جو شخص ابھی درست راستے کی تلاش میں سرگرداں ہو اس پر بھی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے اور اسی مفہوم میں یہ لفظ سورة الضحیٰ کی اس آیت میں حضور ﷺ کے لیے استعمال ہوا ہے : وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی کہ ہم نے آپ ﷺ کو تلاش حقیقت میں سرگرداں پایا تو راہنمائی فرما دی !
Ayah 26:21

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

پھر میں تمہارے ہاں سے بھاگ گیا جب مجھے تم سے خوف محسوس ہوا پھر میرے رب نے مجھے حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں سے بنا دیا

آیت 21 فَفَرَرْتُ مِنْکُمْ لَمَّا خِفْتُکُمْ ” اس واقعہ کے بعد میں تم لوگوں سے ڈر کر تمہارا یہ علاقہ چھوڑ کر چلا گیا۔ فَوَہَبَ لِیْ رَبِّیْ حُکْمًا وَّجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ” اب اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا ہے اور حکمت اور قوت فیصلہ کی دولت بھی عطا کی ہے۔
Ayah 26:22

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور یہ وہ احسان ہے جو تم مجھے جتلا رہے ہو جس کے عوض تم نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے

آیت 22 وَتِلْکَ نِعْمَۃٌ تَمُنُّہَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ” ان الفاظ کے تیور بتا رہے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کو ترکی بہ ترکی جواب دے رہے تھے کہ اپنے محل میں ایک اسرائیلی بچے کی پرورش کرنے کا تمہارا احسان کیا تمہیں یہ جواز فراہم کرتا ہے کہ تم پوری بنی اسرائیل قوم کو اپنا غلام بنائے رکھو ؟ میری پرورش کرنے کا کارنامہ تو تمہیں بر وقت یاد آگیا لیکن میری قوم کو جو تم نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑرکھا ہے ‘ اس کا کوئی تذکرہ تم نے نہیں کیا۔ یہاں عَبَّدْتَّٰکا لفظ لائق توجہ ہے۔ ”تَعْبِید“ کے معنی کسی کو غلام اور فرمانبردار بنا لینے کے ہیں۔ اسی سیاق وسباق میں ایک دوسری جگہ فرعون کا یہ فقرہ اس لفظ ‘ کے مفہوم کو مزید واضح کرتا ہے : وَقَوْمُہُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ المؤمنون ”اور ان دونوں کی قوم تو ہماری غلام ہے !“
Ayah 26:23

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعون نے پوچھا کہ یہ رب العا لمین کون ہے

آیت 23 قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ” تم نے دعویٰ کیا ہے کہ تم رب العالمین کے رسول ہو اور اس کی طرف سے بھیجے گئے ہو ‘ تو یہ رب العالمین کون ہے ؟
Ayahs 26:24–25

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

موسیٰ ؑ ٰ نے جواب دیا : آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس کا آقا اور مالک۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

فرعون نے اپنے ارد گرد لوگوں سے کہا : کیا آپ سن نہیں رہے

آیت 25 قَالَ لِمَنْ حَوْلَہٗٓ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ ” اس فقرے کے صحیح مفہوم اور موقع و محل کو سمجھنے کے لیے فرعون کے دربار کا تصور ذہن میں لانا ضروری ہے۔ تصور کیجیے ! دربار سجا ہے ‘ تمام اعیان سلطنت اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہیں۔ اس بھرے دربار میں حضرت موسیٰ علیہ السلام براہ راست فرعون سے مخاطب ہیں اور اس گفتگو کو تمام درباری روبرو سن رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ترکی بہ ترکی گفتگو اور بےباک لہجے کے سامنے فرعون کھسیانا ہوچکا ہے۔ اپنی اس خفت کو چھپانے کے لیے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جواب دینے کے بجائے پلٹ کر اپنے درباریوں کی طرف دیکھتا ہے اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ لوگوں نے سنا ‘ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ بہر حال حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے اس انداز کو خاطر میں لائے بغیر اپنی گفتگو جاری رکھتے ہیں :
Ayahs 26:26–27

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

اس ؑ نے کہا کہ وہ تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے پہلے آباء و اَجداد کا بھی رب ہے

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

فرعون نے (درباریوں سے) کہا کہ تمہارا یہ رسول جسے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یقیناً مجنون ہے

آیت 27 قَالَ اِنَّ رَسُوْلَکُمُ الَّذِیْٓ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ ” گویافرعون مسلسل حضرت موسیٰ علیہ السلام سے آنکھیں چرا رہا ہے۔ آپ علیہ السلام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دینے کے بجائے وہ پھر اپنے درباریوں سے ہی مخاطب ہوا ہے۔ اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے اب اس نے طنزیہ انداز اختیار کیا ہے کہ مجھے تو یہ صاحب جو تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں مجنون لگتے ہیں ‘ ان کا دماغی توازن ٹھیک نہیں لگتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بات کو بھی نظر انداز کر کے اپنی گفتگو اسی جوش اور بےباکی کے ساتھ جاری رکھتے ہیں :
Ayah 26:28

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

اس نے کہا کہ وہ مشرق و مغرب کا بھی رب ہے اور جو کچھ ان کے مابین ہے اس کا بھی۔ اگر تم عقل رکھتے ہو

آیت 28 قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَیْنَہُمَاط اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ ” گویا اب حضرت موسیٰ علیہ السلام پورے طور پر دربار پر چھائے ہوئے ہیں اور دوسری طرف فرعون کے مکالمات اور انداز سے اس کی بےبسی صاف نظر آرہی ہے۔ آیات میں درج مکالمات کی مدد سے اس پورے منظر کو اگر ڈرامائی انداز میں پیش کیا جائے تو بہت دلچسپ اور عبرت انگیز صورت حال کی تصویر سامنے آسکتی ہے۔ میں نے میڈیکل کالج میں اپنے زمانہ طالب علمی کے دوران ان آیات کے ترجمے سے ڈرامے کا ایک سکرپٹ تیار کیا تھا : ”ایک رسول ‘ بادشاہ کے دربار میں !“
Ayah 26:29

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

اس نے کہا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود مانا تو میں تمہیں قیدیوں میں داخل کر دوں گا

آیت 29 قَالَ لَءِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰہًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّکَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ ” صورت حال فرعون کی برداشت سے باہر ہوگئی تو اس کا غصہ اور مطلق العنانیت کا جلال اس کیّ خفت پر غالب آگیا۔ اس کیفیت میں اس نے گرجتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دھمکی دی ‘ مگر یہ قتل کے بجائے صرف جیل میں ڈالنے کی دھمکی تھی۔ اس سے یوں لگتا ہے جیسے ابھی تک فرعون کے دل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے کوئی نرم گوشہ موجود تھا اور یہ بالکل فطری بات تھی ‘ کیونکہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بچپن کا ساتھی تھا۔ دونوں اکٹھے کھیلے اور ایک ساتھ پلے بڑھے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام عمر میں بڑے ہونے کی وجہ سے اس کے بڑے بھائی کی طرح تھے۔
Ayahs 26:30–32

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

موسیٰ ؑ ٰ نے جواب دیا : اگرچہ میں تمہارے پاس کوئی واضح چیز لے کر آیا ہوں

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

وہ بولا : تو اسے پیش کرو اگر تم سچے ہو

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

چناچہ موسیٰ ؑ نے اپنا عصا ڈال دیا تو اچانک وہ ایک صریح اژدھا بن گیا

آیت 32 فَاَلْقٰی عَصَاہُ فَاِذَا ہِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ ” واضح رہے کہ سورة طٰہٰ کی آیت 20 میں عصا کی تبدیلۂ یئت کے لیے ”حَیَّۃٌ“ کا لفظ استعمال ہوا ہے ‘ جس کے معنی عام سانپ کے ہیں اور یہ اس وقت کا ذکر ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وادئ طویٰ میں پہلی بار اس کا تجربہ کرایا گیا تھا۔ جبکہ فرعون کے دربار میں وہ ”ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ“ یعنی واضح طور پر ایک بہت بڑا اژدھا بن گیا تھا۔
Ayahs 26:33–34

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور انہوں نے اپنا ہاتھ (اپنے گریبان سے) کھینچا تو وہ سفید چمکدار تھا دیکھنے والوں کے لیے

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

فرعون نے اپنے ارد گرد موجود سرداروں سے کہا کہ یہ تو واقعتا ایک ماہر جادوگر ہے

آیت 34 قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَہٓٗ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ ” کہ یہ اتنا عرصہ جہاں کہیں بھی رہا ہے ‘ جادو سیکھتا رہا ہے اور لگتا ہے کہ اس فن میں اس نے خوب مہارت حاصل کرلی ہے۔۔ اور اب :
Ayah 26:35

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

یہ چاہتا ہے کہ اپنے اس جادو کے بل پر تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کرے تو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو

آیت 35 یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْ بِسِحْرِہٖق فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ ” لغوی اعتبار سے ”امر“ کے معنی حکم کے بھی ہیں اور مشورہ کے بھی ‘ مگر یہاں یہ لفظ مشورہ کے معنی دے رہا ہے۔ فرعون کے اس فقرے سے اس کی تشویش صاف ظاہر ہو رہی ہے۔ گویا صورت حال اس کے اندازے سے کہیں بڑھ کر پیچیدہ اور گھمبیر تھی۔
Ayahs 26:36–37

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اس کو اور اس کے بھائی کو کچھ مہلت دے دیں اور بھیج دیں تمام شہروں میں نقیب

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

وہ لے آئیں آپ کے پاس تمام ماہر جادوگروں کو

آیت 37 یَاْتُوْکَ بِکُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ ” ہرکارے شاہی پیغام لے کر پورے ملک میں پھیل جائیں ‘ ہر جگہ ڈھنڈورا پیٹیں اور جہاں جہاں سے کوئی ماہر جادو گر ملے سب کو اکٹھا کر کے دربار شاہی میں پیش کردیں۔
Ayahs 26:38–39

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

تو یوں جمع کرلیے گئے تمام جاودوگر ایک مقررہ دن کے وعدے پر

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور لوگوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ کیا تم جمع ہوجاؤ گے

آیت 39 وَّقِیْلَ للنَّاسِ ہَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَ ” اس کے بعد عوام میں بھی منادی کرائی گئی کہ وہ بھی طے شدہ وقت کے مطابق مقررہ جگہ پر پہنچ جائیں۔
Ayah 26:40

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

تا کہ ہم پیروی کرلیں جادوگروں کی اگر وہی غالب رہیں

آیت 40 لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَۃَ اِنْ کَانُوْا ہُمُ الْغٰلِبِیْنَ ” کہ موسیٰ علیہ السلام اگر اپنے جادو کے زور سے ہمیں مرعوب و مغلوب کرنا چاہتا ہے تو ایسی صورت میں کیوں نہ ہم اپنی قوم کے جادوگروں کی سرداری قبول کر کے ان کی پیروی کریں اور موسیٰ علیہ السلام کے بجائے ان کی پناہ میں آجائیں !