26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayahs 26:41–42

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

تو جب جادوگر آپہنچے تو انہوں نے فرعون سے پوچھا کہ کیا ہمیں انعام ملے گا اگر ہم غالب آگئے

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

اس نے کہا ضرور ! اور تب تم لوگ یقیناً مقربین میں سے ہوجاؤ گے

آیت 42 قَالَ نَعَمْ وَاِنَّکُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ” خلعتیں اور انعامات بھی ملیں گے اور اس کے علاوہ تم لوگوں کو دربار میں اعلیٰ مناصب عطا کر کے میں اپنے مقرب مصاحبین میں بھی شامل کرلوں گا۔
Ayahs 26:43–45

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

موسیٰ ؑ ٰ نے ان سے کہا کہ پھینکو تم لوگ جو کچھ پھینکنے والے ہو

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

تو انہوں نے پھینک ڈالیں اپنی رسیاں اور لاٹھیاں اور کہا کہ فرعون کی عزت کی قسم یقیناً ہم ہی غالب رہنے والے ہوں گے

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

اب موسیٰ ؑ نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ نگلنے لگا اس فریب کو جو انہوں نے بنایا تھا

آیت 45 فَاَلْقٰی مُوْسٰی عَصَاہُ فَاِذَا ہِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِکُوْنَ ” ان کیّ رسیاں اور لاٹھیاں جو بظاہر سانپ دکھائی دے رہی تھیں ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصانے اژدھا بن کر انہیں نگلنا شروع کردیا۔
Ayah 26:46

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

تو سارے جادوگر بےاختیار سجدے میں گرا دیے گئے

آیت 46 فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ ” اُلْقِیَصیغۂ مجہول ہے ‘ یعنی وہ سجدے میں خود نہیں گرے بلکہ گرا دیے گئے۔ مطلب یہ کہ اپنے جادو کے زائل ہونے کا منظر دیکھ کر وہ لوگ اس طرح بےاختیار سجدوں میں گرگئے جیسے کسی نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کردیا ہو۔
Ayahs 26:47–49

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لے آئے ہیں

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

جو موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کا رب ہے

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

فرعون نے کہا : کیا تم لوگ ایمان لے آئے ہو اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دیتا یقیناً یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے تو بہت جلد تمہیں (اس کا انجام) معلوم ہوجائے گا میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں کاٹ ڈالوں گا مخالف سمت سے اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا

آیت 49 قَالَ اٰمَنْتُمْ لَہٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ ج ” فرعونُ پر جلال انداز میں گرجا کہ تمہاری یہ جرأت کہ مابدولت کی اجازت کے بغیر تم لوگوں نے موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لانے کا اعلان کردیا ! اِنَّہٗ لَکَبِیْرُکُمُ الَّذِیْ عَلَّمَکُمُ السِّحْرَ ج ” کہ مجھے تمہاری سازش کا پتا چل گیا ہے۔ یقیناً یہ تمہارا استاد اور گرو گھنٹال ہے جس سے تم جادو سیکھتے رہے ہو۔ تمہارا یہاں آنا اور مقابلہ کرنا محض ایک ڈھونگ تھا اور اب اس سے یوں تمہارا ہار مان لینا تمہاری باہمی ملی بھگت اور نورا کشتی کا نتیجہ ہے۔
Ayahs 26:50–51

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

انہوں نے کہا : کوئی پروا نہیں ! یقیناً ہم اپنے رب کی طرف ہی لوٹ کر جانے والے ہیں

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

یقیناً ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہماری خطاؤں کو بخش دے گا کہ ہم ہی سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں

آیت 51 اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَآ ” اب ہمیں اگر کچھ طمع ہے ‘ تو بس یہی ہے اور ہمارے دل میں اگر کوئی خواہش ‘ کوئی آرزو اور تمنا ہے تو ایک ہی ہے ‘ کہ ہمارا رب ہماری پچھلی خطاؤں سے درگزر فرمائے۔ اَنْ کُنَّآ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَ ” کہ ہم نے سب سے پہلے اللہ کے رسول علیہ السلام کی تصدیق کی ہے اور کوئی دوسرا اس معاملے میں ہم پر سبقت نہیں لے جاسکا۔
Ayahs 26:52–53

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

اور ہم نے وحی کردی موسیٰ ؑ کی جانب کہ میرے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ یقیناً تمہارا تعاقب کیا جائے گا

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

تو فرعون نے تمام شہروں میں (پھر) نقیب بھیج دیے

آیت 53 فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْْمَدَآءِنِ حٰشِرِیْنَ ” بنی اسرائیل کے تعاقب کی غرض سے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے پورے ملک میں پھر ڈھنڈورچی اور ہر کارے بھیج دیے گئے ‘ یہ کہہ کر کہ :
Ayahs 26:54–55

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

یقیناً یہ تو مٹھی بھر لوگ ہیں

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

اور بلاشبہ انہوں نے ہمارے غصے کو بھڑکا دیا ہے

آیت 55 وَاِنَّہُمْ لَنَا لَغَآءِظُوْنَ ” بنی اسرائیل کے مصر سے نکل بھاگنے کی حرکت نے ہمیں غضب ناک کردیا ہے۔ اب ہم انہیں عبرتناک سزا دیں گے۔ اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ”ان کے اندر ہماری وجہ سے غصہ ہے“۔ یعنی اگرچہ یہ مٹھی بھر لوگ ہیں لیکن ہم انہیں جو تکالیف پہنچا تے رہے ہیں اس وجہ سے وہ ہم پر بھرے بیٹھے ہیں۔ چناچہ یہ دل جلے لوگ ہمارے خلاف کچھ بھی کرسکتے ہیں۔
Ayah 26:56

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور یقیناً ہم سب خطرے میں پڑنے والے ہیں

آیت 56 وَاِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَ ” ہمیں ان کی طرف سے کسی بڑے اقدام کا اندیشہ ہے۔ چناچہ ہمیں اپنی پوری قوت کو مجتمع کر کے ان کا پیچھا کرنا چاہیے۔
Ayahs 26:57–58

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

پس یوں نکالا ہم نے انہیں باغات اور چشموں میں سے

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

اور خزانوں اور بہت عمدہ قیام گاہوں سے

آیت 58 وَّکُنُوْزٍ وَّمَقَامٍ کَرِیْمٍ ” اس صورت حال میں انہیں اپنے باغات ‘ چشمے ‘ گھر بار ‘ جاگیریں وغیرہ جن میں وہ خوشحالی اور فارغ البالی کی زندگیاں بسر کر رہے تھے ‘ سب کچھ چھوڑ کر نکلنا پڑا۔
Ayah 26:59

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

اسی طرح ہوا۔ اور ان چیزوں کا وارث ہم نے بنی اسرائیل کو بنا دیا

آیت 59 کَذٰلِکَط وَاَوْرَثْنٰہَا بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ” اس کا یہ مطلب نہیں کہ بنی اسرائیل نے بعد میں واپس آکر ان سب چیزوں پر قبضہ کرلیا ‘ بلکہ مراد یہ ہے کہ بعد میں بنی اسرائیل کو ہم نے دنیوی مال و دولت اور اقتدار سے نوازا اور ایک وقت آیا کہ یہی تمام چیزیں انہیں مل گئیں۔
Ayah 26:60

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

تو انہوں نے ان کا تعاقب کیا صبح ہوتے ہی

آیت 60 فَاَتْبَعُوْہُمْ مُّشْرِقِیْنَ ” صبح کی روشنی ہوتے ہی فرعون اور اس کے لشکر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے۔
Ayah 26:61

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

پھر جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو موسیٰ ؑ کے ساتھیوں نے کہا کہ اب تو ہم پکڑے گئے

آیت 61 فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰٓی اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ ” جب فرعونی لشکر تعاقب کرتے ہوئے ان کے قریب پہنچ گیا تو بنی اسرائیل کو اپنے پکڑے جانے کا یقین ہوگیا۔
Ayah 26:62

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : ہرگز نہیں ! یقیناً میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میرے لیے راستہ پیدا کر دے گا

آیت 62 قَالَ کَلَّاج اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ ” اس آیت کے یہ الفاظ سورة التوبہ کی آیت 40 کے ان الفاظ سے ملتے جلتے ہیں جو حضور ﷺ نے غار ثور میں حضرت ابوبکر صدیق رض کو مخاطب کر کے فرمائے تھے : لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ج ” اے ابوبکر رض آپ پریشان نہ ہوں ‘ یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“
Ayah 26:63

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

تو ہم نے وحی کی موسیٰ ؑ کی طرف کہ ضرب لگاؤ اپنے عصا کے ساتھ سمندر کو تو وہ پھٹ گیا اور ہر حصہ ایک بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا

فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ ” اپنے مفہوم کے اعتبار سے آیت کے الفاظ بہت واضح ہیں ‘ لیکن اس کے باوجود اگر کوئی شخص ان الفاظ کی لایعنی تاویل کرکے اس واقعہ کو مدوجزر قرار دے تو اسے صرف ڈھٹائی ہی کہا جاسکتا ہے۔ فَلَقَکے معنی پھٹنے کے ہیں اور یہ مادہ اس مفہوم کے ساتھ قرآن میں کثرت سے آیا ہے۔ جیسے : فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ج الانعام : 96 ”چاک کرنے والا صبح کی سفیدی کو“۔ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ الفلق ”کہیے میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی“۔ چناچہ اس آیت میں بھی لفظ فلق کے لغوی معنی ہی مراد ہیں ‘ یعنی سمندر پھٹ گیا اور اس کے دونوں حصے پہاڑ کی طرح کھڑے ہوگئے۔ کون نہیں جانتا کہّ مدوجزر کی کیفیت میں نہ تو سمندر پھٹتا ہے اور نہ ہی اس کا پانی چٹان یا پہاڑ کی طرح کھڑا ہوجاتا ہے۔ چناچہ اس تاویل کے مقابلے میں آیت کے الفاظ کا لغوی اعتبار سے تجزیہ کیا جائے تو قرآن کے اس فرمان کی حقانیت بھی ثابت ہوجاتی ہے : لَا یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْم بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ ط ” حمٰ السجدۃ : 42 کہ باطل اس کتاب پر حملہ نہیں کرسکتا ‘ نہ سامنے سے اور نہ پیچھے سے۔ یعنی قرآن اپنے مفاہیم و معانی کی حفاظت بھی خود کرتا ہے۔
Ayah 26:64

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

اور ہم قریب لے آئے وہیں پر دوسروں کو بھی

آیت 64 وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَ ” جب سمندر پھٹ گیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو لے کر اس راستے سے نکل گئے۔ عین اس وقت ان کے پیچھے فرعون بھی آپہنچا اور اس نے بھی اپنا لشکر اسی راستے پر ڈال دیا۔
Ayahs 26:65–67

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

اور ہم نے نجات دے دی موسیٰ ؑ کو اور ان کے ساتھ جو کوئی بھی تھا سب کو

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

پھر ہم نے غرق کردیا دوسروں کو

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

یقیناً اس میں ایک نشانی ہے لیکن ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں ہے

آیت 67 اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃًط وَمَا کَانَ اَکْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ” اس آیت میں حضور ﷺ اور اہل ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! اگر مشرکین مکہّ کو کوئی نشانی چاہیے تو وہ اس واقعہ کو دیکھ لیں۔ اور اگر انہیں اس میں کوئی نشانی نظر نہیں آتی تو پھر کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی ان کی آنکھیں نہیں کھول سکے گا۔ چناچہ آپ ﷺ خواہ کتنی ہی کوشش کریں ان کی اکثریت ایمان نہیں لائے گی۔
Ayah 26:68

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

اور یقیناً آپ ﷺ کا رب بہت زبردست نہایت رحم کرنے والا ہے

آیت 68 وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ” اللہ تعالیٰ بہت طاقتور اور سب پر غالب ہے۔ وہ جو چاہے حکم کرے ‘ مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ رحیم بھی ہے اور اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ مشرکین کو ایسا کوئی حسی معجزہ نہ دکھایا جائے جس سے ان کی مہلت ختم ہوجائے۔
Ayahs 26:69–72

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 26:69 in the Quran reader

اور ان کو ابراہیم ؑ کی خبر پڑھ کر سنائیے

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 26:70 in the Quran reader

جب اس ؑ نے اپنے والد اور اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ یہ کن کو پوجتے ہو

قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ Open ayah 26:71 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور انہی کے سامنے گیان دھیان میں بیٹھے رہتے ہیں

قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ Open ayah 26:72 in the Quran reader

اس ؑ نے پوچھا : کیا وہ تمہاری بات سنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو

آیت 72 قَالَ ہَلْ یَسْمَعُوْنَکُمْ اِذْ تَدْعُوْنَ ” جب تم ان سے دعا کرتے ہو اور ان کے سامنے گڑ گڑاتے ہو تو کیا وہ تمہاری دعائیں اور تمہاری باتیں سنتے ہیں ؟
Ayah 26:73

اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ Open ayah 26:73 in the Quran reader

یا وہ تمہیں کوئی نفع یا کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں

آیت 73 اَوْ یَنْفَعُوْنَکُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ ” وہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان منطقی سوالات کا اس کے علاوہ کوئی جواب نہ دے سکے :
Ayah 26:74

قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 26:74 in the Quran reader

انہوں نے کہا : بلکہ ہم نے اپنے آباء و اَجداد کو ایسا ہی کرتے ہوئے پایا ہے

آیت 74 قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَآ اٰبَآءَ نَا کَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ ” ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پوجا کرتے ہوئے پایا ہے ‘ چناچہ ہم نے بھی ان کی پیروی میں وہی طریقہ اختیار کرلیا ہے۔
Ayahs 26:75–77

قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:75 in the Quran reader

ابراہیم ؑ نے کہا : بھلا دیکھوتو ! یہ جنہیں تم لوگ پوجتے ہو

اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ Open ayah 26:76 in the Quran reader

تم اور تمہارے پہلے باپ دادا

فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:77 in the Quran reader

یہ سب میرے تو دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے

آیت 77 فَاِنَّہُمْ عَدُوٌّ لِّیْٓ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ” حضرت ابراہیم علیہ السلام نے گویا علی الاعلان کہہ دیا کہ تمہارے اور تمہارے آباء و اَجداد کے ان معبودوں سے میری دشمنی ہے۔ میرا معبود اور مدد گار صرف وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ میرا تکیہ اورّ توکل بس اسی کی ذات پر ہے۔
Ayahs 26:78–80

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ Open ayah 26:78 in the Quran reader

جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی مجھے ہدایت دیتا ہے

وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ Open ayah 26:79 in the Quran reader

اور وہی ہے جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ Open ayah 26:80 in the Quran reader

اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے

آیت 80 وَاِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیْنِ ” یہاں یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیماری کو اپنی طرف منسوب کیا ہے اور شفا کو اللہ تعالیٰ کی طرف۔