26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayahs 26:81–82

وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ Open ayah 26:81 in the Quran reader

اور وہی ہے جو مجھے موت دے گا پھر مجھے زندہ کرے گا

وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 26:82 in the Quran reader

اور وہی ہے جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ روز جزا میری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا

آیت 82 وَالَّذِیْٓ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِٓیْءَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ” ابھی تک حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد اور اپنی قوم کے لوگوں سے مخاطب تھے۔ اب براہ راست اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہے ہیں :
Ayahs 26:83–84

رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 26:83 in the Quran reader

اے میرے پروردگار ! تو مجھے حکمت عطا فرما اور مجھے اپنے صالح بندوں میں شامل کر دے

وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 26:84 in the Quran reader

اور میرے لیے بنا دے سچی ناموری پچھلے لوگوں میں

آیت 84 وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ ” یعنی بعد میں آنے والی نسلیں میرا ذکر اچھے انداز میں کریں اور میرا نام عزت سے لیں۔
Ayahs 26:85–88

وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 26:85 in the Quran reader

اور مجھے بنا دے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے

وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 26:86 in the Quran reader

اور میرے والد کو بخش دے یقیناً وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ Open ayah 26:87 in the Quran reader

اور مجھے رسوا نہ کیجیو اس دن جب سب لوگ اٹھائے جائیں گے

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ Open ayah 26:88 in the Quran reader

جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ بیٹے

آیت 88 یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ” جس دن اللہ کی پکڑ سے نہ دولت بچا سکے گی اور نہ اولاد۔
Ayah 26:89

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ Open ayah 26:89 in the Quran reader

سوائے اس کے جو آئے اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر

آیت 89 اِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ” سلیم کے معنی ہیں : سلامتی والا۔ قلب سلیم یا فطرت سلیمہ سے ایسا دل ‘ ایسی فطرت یا ایسی روح مراد ہے جو ہر قسم کی آلودگی سے پاک یعنی اپنی اصلی حالت پر ہو۔ قیامت کے دن جو شخص ایسے پاکیزہ دل کے ساتھ اللہ کے حضور حاضر ہوگا اسے اس دن کی ہولناکیوں سے بچالیا جائے گا۔
Ayahs 26:90–98

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 26:90 in the Quran reader

اور جنت قریب لائی جائے گی متقین کے لیے

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ Open ayah 26:91 in the Quran reader

اور جہنم بھی ظاہر کردی جائے گی باغیوں کے لیے

وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:92 in the Quran reader

اور ان سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جنہیں تم پوجا کرتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ Open ayah 26:93 in the Quran reader

اللہ کے سوا۔ کیا اب وہ تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں یا (تمہاری طرف سے) کوئی بدلہ لے سکتے ہیں

فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ Open ayah 26:94 in the Quran reader

پھر اوندھے ڈال دیے جائیں گے اس (جہنم) میں وہ اور سب گمراہ لوگ

وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ Open ayah 26:95 in the Quran reader

اور ابلیس کے لشکر بھی سب کے سب

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ Open ayah 26:96 in the Quran reader

وہ کہیں گے جبکہ وہ اس میں ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑ رہے ہوں گے

تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 26:97 in the Quran reader

اللہ کی قسم ! یقیناً ہم ہی تھے کھلی گمراہی میں

اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 26:98 in the Quran reader

جب ہم تمہیں تمام جہانوں کے پروردگار کے برابر ٹھہراتے تھے

آیت 98 اِذْ نُسَوِّیْکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْن ” جہنم میں تمام گمراہ لوگوں کو ‘ ان کے معبودان باطل کو اور شیاطینِ جن کو اوپر تلے اوندھے منہ جھونک دیا جائے گا۔ یہاں وہ ایک دوسرے سے جھگڑیں گے۔ گمراہ لوگ اپنے معبودوں کو مخاطب کرکے اپنی گمراہی کا اعتراف کریں گے۔ وہ تسلیم کریں گے کہ انہیں اللہ ہی کو رب العالمین ماننا چاہیے تھا جو سب اختیارات کا مالک ہے اور وہی مغفرت بھی کرسکتا ہے۔ اور یہ کہ انہوں نے اللہ کے مقابلے میں جھوٹے معبود گھڑ لیے ‘ انہیں اللہ کے برابر ٹھہرا لیا اور یوں انہوں نے کھلی گمراہی میں پڑ کر خود کو برباد کرلیا۔
Ayahs 26:99–105

وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 26:99 in the Quran reader

اور نہیں گمراہ کیا ہمیں لیکن ان مجرموں نے

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ Open ayah 26:100 in the Quran reader

تو اب یہاں ہمارے لیے کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ہے

وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ Open ayah 26:101 in the Quran reader

اور نہ کوئی مخلص دوست

فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:102 in the Quran reader

تو اگر ہمیں ایک مرتبہ لوٹنا نصیب ہوجائے تو ہم مؤمن بن جائیں گے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:103 in the Quran reader

یقیناً اس میں ایک بڑی نشانی ہے۔ لیکن ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں ہے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:104 in the Quran reader

اور یقیناً آپ ﷺ کا رب بہت زبردست نہایت رحم کرنے والا ہے

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

جھٹلایا نوح ؑ کی قوم نے بھی رسولوں ؑ کو

اب آگے انباء الرسل کا تذکرہ پھر اسی زمانی ترتیب سے ہو رہا ہے جس ترتیب سے پہلے سورة الاعراف اور سورة ہود میں ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں ہر رکوع کے آخر میں دو آیات ترجیعی کلمات کے طور پر بار بار دہرائی جائیں گی۔
Ayahs 26:106–107

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:106 in the Quran reader

یاد کرو جبکہ ان سے ان کے بھائی نوح ؑ نے کہا کہ کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:107 in the Quran reader

یقیناً میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

آیت 107 اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ ” مجھے اللہ کی طرف سے تمہاری طرف جو پیغام دے کر بھیجا گیا ہے وہ میں بلاکم وکاست تم لوگوں تک پہنچارہا ہوں۔
Ayah 26:108

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:108 in the Quran reader

پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو

آیت 108 فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ ” واضح رہی کہ رسول علیہ السلام کی دعوت کے ہمیشہ دو حصے رہے ہیں۔ اس کا پہلا حصہ ہے : فَاتَّقُوا اللّٰہَ یا اعْبُدُوا اللّٰہَ یعنی اللہ کا تقویٰ اختیار کرو یا اللہ کی بندگی کرو ! اور دوسرا حصہ ہے : وَاَطِیْعُوْنِکہ میرا حکم مانو ‘ میری اطاعت کرو ! اس لیے کہ رسول علیہ السلام کی شخصی اطاعت لازم ہوتی ہے ‘ جیسا کہ سورة النساء آیت 64 میں فرمایا گیا : وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ الاَّ لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط ”اور ہم نے نہیں بھیجا کسی رسول علیہ السلام کو مگر اس لیے کہ اس کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے“۔ اس سورة مبارکہ میں یہ نکتہ ہر رسول کے حوالے سے بار بار دہرایا گیا ہے۔
Ayahs 26:109–111

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 26:109 in the Quran reader

اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا طالب نہیں ہوں میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ّ ہے

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِؕ Open ayah 26:110 in the Quran reader

پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو

قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَ اتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَؕ Open ayah 26:111 in the Quran reader

انہوں نے کہا : کیا ہم تمہاری بات مانیں جبکہ تمہاری پیروی کرنے والے گھٹیا لوگ ہیں

آیت 111 قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ لَکَ وَاتَّبَعَکَ الْاَرْذَلُوْنَ ” حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے سردار اور اشراف آپ علیہ السلام کی دعوت حق کے جواب میں کہتے تھے کہ ہم آپ کو کیسے مان لیں جبکہ آپ کی پیروی اختیار کرنے والے تو ہمارے کمیّ کمین ہیں ‘ ہمارے معاشرے کے پسماندہ طبقات کے لوگ ہیں جنہیں حقیر اور رذیل سمجھا جاتا ہے !
Ayah 26:112

قَالَ وَ مَا عِلْمِیْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:112 in the Quran reader

نوح ؑ نے کہا : مجھے کیا علم کہ وہ کیا کام کرتے ہیں

آیت 112 قَالَ وَمَا عِلْمِیْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ” یعنی تمہارے اپنے معیارات ہیں۔ تمہارے نزدیک عزت کا معیار دولت اور وجاہت ہے ‘ اس لیے ایک غریب مزدور کو تم لوگ گھٹیا انسان سمجھتے ہو ‘ مگر مجھے اس اعتبار سے کسی کے پیشے سے کوئی سروکار نہیں۔ یہی اعتراض سرداران قریش کو حضور ﷺ کے ساتھیوں کے بارے میں تھا۔ وہ بھی یہی کہتے تھے کہ آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں میں اکثریت مزدوروں اور غلاموں کی ہے۔ جیسے حضرت خباب بن الارت رض پیشے کے اعتبار سے لوہار تھے اور سرداران قریش ایک غریب لوہار کے ساتھ بیٹھنا کیسے گوارا کرسکتے تھے ! بہر حال نہ تو مزدوری کرنا یا محنت سے اپنی روزی کمانا کوئی شرم کی بات ہے اور نہ ہی اس طرح کے پیشے سے کوئی آدمی گھٹیا ہوجاتا ہے۔
Ayahs 26:113–118

اِنْ حِسَابُهُمْ اِلَّا عَلٰى رَبِّیْ لَوْ تَشْعُرُوْنَۚ Open ayah 26:113 in the Quran reader

ان کا حساب تو میرے رب کے ّ ذمے ہے کاش کہ تم لوگوں کو شعور ہوتا

وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:114 in the Quran reader

اور میں ان مؤمنین کو دھتکارنے والا نہیں ہوں

اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌؕ Open ayah 26:115 in the Quran reader

میں تو بس ایک صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِیْنَؕ Open ayah 26:116 in the Quran reader

انہوں نے کہا : اے نوح ! اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے

قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ كَذَّبُوْنِۚۖ Open ayah 26:117 in the Quran reader

اس ؑ نے فریاد کی : اے میرے پروردگار ! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے

فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ فَتْحًا وَّ نَجِّنِیْ وَ مَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:118 in the Quran reader

تو اب دو ٹوک فیصلہ فرما دے میرے اور ان کے مابین اور نجات دے دے مجھے اور جو میرے ساتھ ہیں

آیت 118 فَافْتَحْ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُمْ فَتْحًا ” یعنی ایسا کھلا فیصلہ جس کے بعد حق کے احقاق اور باطل کے ابطال میں کوئی شک یا ابہام نہ رہ جائے۔ وَّنَجِّنِیْ وَمَنْ مَّعِیَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ” اہل ایمان میں سے۔“
Ayah 26:119

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۚ Open ayah 26:119 in the Quran reader

تو ہم نے نجات دے دی اس کو بھی اور ان کو بھی جو اس کے ساتھ تھے ایک بھری کشتی میں

آیت 119 فَاَنْجَیْنٰہُ وَمَنْ مَّعَہٗ فِی الْْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ ” یہ کشتی پوری طرح بھری ہوئی تھی کیونکہ اس میں انسانوں مؤمنین کے علاوہ ہر قسم کے حیوانات کے ایک ایک جوڑے کو بھی سوار کرلیا گیا تھا تاکہ ان کی نسل کو محفوظ رکھا جاسکے۔