26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayahs 26:195–196

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

(یہ نازل ہوا ہے) واضح عربی زبان میں

وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:196 in the Quran reader

اور یقیناً یہ پہلوں کے صحیفوں میں بھی موجود ہے

آیت 196 وَاِنَّہٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ ” اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ اس کا ذکر اور اس کے بارے میں پیشین گوئیاں سابقہ آسمانی کتب میں پائی جاتی ہیں اور یہ بھی کہ اس کے بنیادی مضامین پہلی کتب اور صحیفوں میں بھی موجود ہیں۔ ان صحیفوں اور تورات و انجیل کی بنیادی تعلیمات وہی تھیں جو قرآن کی تعلیمات ہیں۔ اگر کوئی فرق یا اختلاف تھا تو صرف مختلف شریعتوں کے جزئیاتی احکام میں تھا۔ اس لحاظ سے قرآن ان تمام صحائف و کتب کا مُتَمِّم یعنی تکمیلی ایڈیشن ہے۔
Ayah 26:197

اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:197 in the Quran reader

کیا ان کے لیے یہ نشانی کافی نہیں ہے کہ اس کو جانتے ہیں علمائے بنی اسرائیل

آیت 197 اَوَلَمْ یَکُنْ لَّہُمْ اٰیَۃً اَنْ یَّعْلَمَہٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ” علمائے بنی اسرائیل بخوبی جانتے تھے کہ قرآن اور محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت اللہ کی طرف سے ہے۔
Ayahs 26:198–199

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ Open ayah 26:198 in the Quran reader

اور اگر ہم نے اس (قرآن) کو نازل کردیا ہوتا کسی عجمی پر

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 26:199 in the Quran reader

اور وہ اسے ان کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان لانے والے نہیں تھے

آیت 199 فَقَرَاَہٗ عَلَیْہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ مُؤْمِنِیْنَ ” ہم یہ بھی کرسکتے تھے کہ قرآن کسی ایسے شخص پر نازل کردیتے جس کی مادری زبان عربی نہ ہوتی ‘ پھر اگر ایسا شخص انہیں عربی قرآن پڑھ کر سناتا تو یہ گویا ایک کھلا معجزہ ہوتا ‘ لیکن یہ لوگ پھر بھی اسے ماننے والے نہیں تھے۔
Ayah 26:200

كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 26:200 in the Quran reader

اسی طرح ہم نے داخل کردیا ہے اس (انکار) کو مجرموں کے دلوں میں

آیت 200 کَذٰلِکَ سَلَکْنٰہُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَ ” قرآن کا انکار ان لوگوں کے دلوں میں اب ڈیرے جما چکا ہے۔ اب انہیں لاکھ معجزے دکھا دیے جائیں یہ ماننے والے نہیں ہیں۔
Ayahs 26:201–203

لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَۙ Open ayah 26:201 in the Quran reader

یہ ایمان نہیں لائیں گے اس پر جب تک کہ دیکھ نہ لیں درد ناک عذاب کو

فَیَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 26:202 in the Quran reader

تو وہ ان پر اچانک آجائے گا اور انہیں گمان بھی نہیں ہوگا

فَیَقُوْلُوْا هَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَؕ Open ayah 26:203 in the Quran reader

(اس وقت) یہ کہیں گے کہ کیا ہمیں مہلت مل سکتی ہے

آیت 203 فَیَقُوْلُوْا ہَلْ نَحْنُ مُنْظَرُوْنَ ” اس وقت یہ دہائی دیں گے کہ کسی طریقے سے وہ عذاب ٹل جائے اور انہیں تھوڑی سی مہلت دے دی جائے۔
Ayah 26:204

اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 26:204 in the Quran reader

تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں

آیت 204 اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ” اِس وقت تو یہ لوگ آپ ﷺ سے بار بار مطالبہ کر رہے ہیں کہ آپ لے آئیں ہم پر وہ عذاب جس سے ہمیں آپ ﷺ ڈراتے ہیں۔ ہم تو آپ کی روز روز کی تنبیہات سے تنگ آگئے ہیں۔
Ayahs 26:205–207

اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:205 in the Quran reader

تو کیا آپ ﷺ نے دیکھا اگر ہم انہیں چند سال اور بھی فائدہ اٹھانے دیں

ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 26:206 in the Quran reader

پھر ان پر وہ عذاب آجائے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے

مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَؕ Open ayah 26:207 in the Quran reader

تو کچھ کام نہیں آئے گا ان کے وہ سب کچھ جس سے وہ فائدہ پہنچائے جاتے تھے

آیت 207 مَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یُمَتَّعُوْنَ ” دنیا کا مال و متاع جس سے وہ فائدہ اٹھاتے رہے ہیں وہ انہیں اس عذاب سے بچا نہیں سکے گا۔
Ayahs 26:208–209

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ٥ۗۛۖ Open ayah 26:208 in the Quran reader

اور ہم نے کبھی کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر اس کے لیے خبردار کرنے والے تھے

ذِكْرٰى١ۛ۫ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 26:209 in the Quran reader

یاد دہانی کے لیے اور ہم ظالم نہیں ہیں

آیت 209 ذِکْرٰیقف وَمَا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ” گویا اس سلسلے میں یہ اللہ کا اٹل قانون ہے جس کا ذکر سورة بنی اسرائیل میں اس طرح آیا ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ”اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ رسول علیہ السلام نہ بھیج دیں“۔ یعنی کسی قوم پر اس وقت تک کبھی عذاب استیصال نہیں آیا جب تک انہیں خبردار کرنے کے لیے کوئی رسول علیہ السلام مبعوث نہیں کردیا گیا۔ لیکن رسول علیہ السلام کے اتمام حجت کرنے کے بعد بھی اگر متعلقہ قوم ایمان نہ لائی تو پھر ایسا عذاب آیا کہ صفحہ ہستی سے اس کا نام و نشان مٹا دیا گیا : فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ط الانعام : 45 ”پھر ظالم قوم کی جڑ کاٹ دی گئی۔“
Ayah 26:210

وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ Open ayah 26:210 in the Quran reader

اور اس (قرآن) کو لے کر شیاطین نازل نہیں ہوئے

آیت 210 وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیٰطِیْنُ ” عربوں کے ہاں عام لوگ شاعروں کے بارے میں یہ خیال رکھتے تھے کہ ان کے قابو میں جن ہوتے ہیں جو ان کو نئی نئی اور اچھی اچھی باتیں اشعار کی شکل میں جوڑ جوڑ کردیتے رہتے ہیں۔ چناچہ جب قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو بعض مشرکین نے اس کے بارے میں بھی کہنا شروع کردیا کہ اسے شیاطینِ جن نازل کر رہے ہیں۔
Ayahs 26:211–212

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ Open ayah 26:211 in the Quran reader

اور نہ تو ایسا کرنا ان کے لائق ہے اور نہ ہی وہ اس کی استطاعت رکھتے ہیں

اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ Open ayah 26:212 in the Quran reader

وہ تو (وحی الٰہی کے) سننے سے بھی معزول کیے جا چکے ہیں

آیت 212 اِنَّہُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ ” یہ بہت اہم مضمون ہے جو یہاں پہلی دفعہ آیا ہے ‘ لیکن آئندہ سورتوں میں متعدد مقامات پر اس کا ذکر آئے گا۔ اس موضوع پر قرآن سے ہمیں جو معلومات ملتی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ فرشتے نوری مخلوق ہیں اور جن آگ سے بنائے گئے ہیں : وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ الرحمٰن ”اور پیدا کیا اس نے جناتّ کو آگ کی لپٹ سے“۔ چونکہ فرشتوں کی طرح جنات کا مادۂ تخلیق بھی بہت لطیف ہے اس وجہ سے ان کے لیے فرشتوں کا قرب حاصل کرلینا اور ان سے کچھ معلومات حاصل کرلینا ممکن ہے۔ چناچہ عام طور پر شیاطینِ جن کسی نہ کسی حد تک فرشتوں سے عالم بالا کی خبریں معلوم کرنے میں کامیاب ہوجاتے تھے ‘ لیکن جب بھی کسی رسول کی بعثت ہوتی تو عالم بالا میں خصوصی پہرے بٹھا دیے جاتے تاکہ فرشتوں کے ذریعے وحی کی ترسیل کو محفوظ بنایا جاسکے۔ اسی اصول کے تحت محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد عالم بالا کی خاص حدود سے آگے ِ جنوں کا داخلہ مستقل طور پر بند کردیا گیا اور وہاں سے وہ کسی قسم کی سن گن لینے کے اہل نہیں رہے۔ یہی وہ کیفیت اور صورت حال ہے جس کا ذکر آیت زیر مطالعہ میں کیا گیا ہے کہ وہ تو اب سننے سے بھی معزول کردیے گئے ہیں اور عالم بالا سے ان کے سن گن لینے کا بھی کوئی امکان نہیں رہا۔ سورة الجن میں یہ مضمون قدرے زیادہ وضاحت سے آئے گا۔
Ayahs 26:213–214

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:213 in the Quran reader

تو مت پکارنا اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو ورنہ تم عذاب پانے والوں میں سے ہو کر رہو گے

وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ Open ayah 26:214 in the Quran reader

اور خبردار کیجیے اپنے قریبی رشتہ داروں کو

آیت 214 وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ” اس آیت کے بارے میں تاریخ سے ثابت ہے کہ یہ تقریباً 3 نبوی ﷺ میں نازل ہوئی تھی۔ چناچہ اس تاریخی ثبوت سے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے کہ سورة الشعراء بالکل ابتدائی زمانے کی سورت ہے۔ یہ سورت اپنی چھوٹی چھوٹی آیات اور تیز آہنگ کے ساتھ شروع سے آخرتک ایک مربوط اور مسلسل خطبے کی صورت میں ہے اور یہ آیت بھی اپنے انداز کے اعتبار سے ما قبل اور مابعد کی آیات سے مختلف نہیں۔ یعنی ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ یہ آیت تو پہلے نازل ہوئی ہو مگر بعد میں نازل ہونے والی سورت میں شامل کردی گئی ہو۔ بہر حال سورة الشعراء نازل تو ابتدائی دور میں ہوئی تھی مگر حکمت خداوندی کے تحت اسے ابتدائی زمانے کی سورتوں قرآن کی آخری منزل میں شامل کیے جانے کے بجائے اس کی موجودہ جگہ پر رکھا گیا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے سورة الحجر کو پچھلے گروپ کی سورتوں میں شامل کیا گیا ہے ‘ حالانکہ وہ بھی بالکل ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رض کو ایک دعوت کا اہتمام کرنے کے لیے فرمایا۔ حضرت علی رض آپ ﷺ ہی کے زیر کفالت تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ چناچہ آپ ﷺ نے تمام بنو ہاشم کو کھانے پر مدعو کیا۔ کھانے کے بعد آپ ﷺ انہیں دعوت دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے شور و غل مچانا شروع کردیا اور آپ ﷺ کی بات سنے بغیر چلے گئے۔ کچھ روز کے بعد آپ ﷺ نے دوبارہ انہیں مدعو فرمایا۔ اس دفعہ کھانے کے بعد چارو نا چا روہ بیٹھے رہے اور آپ ﷺ نے ان کے سامنے ایک دعوتی خطبہ دیا۔ یہ خطبہ مختصر ہے مگر آپ ﷺ کے عظیم خطبات میں سے ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں احادیث کی کتب میں یہ خطبہ اپنے علم کی حد تک مجھے وثوق ہے موجود نہیں ہے ‘ البتہ اہل تشیعّ کی مشہور کتاب ”نہج البلاغہ“ میں یہ خطبہ شامل ہے۔ ”نہج البلاغہ“ بنیادی طور پر حضرت علی رض کے خطبات اور خطوط پر مشتمل ہے ‘ لیکن اس کا ایک حصہ حضور ﷺ کے خطبات کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اگرچہ ”نہج البلاغہ“ میں خطبہ کے متن کے ساتھ کسی قسم کی صراحت موجود نہیں کہ یہ خطبہ کس موقع پر ارشاد فرمایا گیا مگر خطبے کے متن اور اسلوب کی بنا پر مجھے یقین ہے کہ یہ وہی خطبہ ہے جو آپ ﷺ نے بنو ہاشم کی مذکورہ ضیافت کے موقع پر ارشاد فرمایا تھا۔ میرے کتابچے ”دعوت الی اللہ“ اور اس کتابچے کے انگلش ترجمے ”Calling People unto Allah“ میں اس خطبے کا پورا متن موجود ہے۔ بہر حال ”دعوت حق“ کے حوالے سے یہ بہت اہم خطبہ ہے۔
Ayah 26:215

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:215 in the Quran reader

اور اپنے بازو جھکا کر رکھیں ان کے لیے جو آپ ﷺ کے پیروکار ہیں مؤمنین میں سے

آیت 215 وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ” حضور ﷺ سے فرمایا جا ریا ہے کہ آپ ﷺ مؤمنین کے ساتھ تواضع سے پیش آئیں اور ہمیشہ ان کی دلجوئی فرمائیں۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ سورة الشعراء اور سورة الحجر کا زمانۂ نزول ایک ہی ہے اور اسی لحاظ سے ان دونوں سورتوں میں گہری مشابہت بھی پائی جاتی ہے۔ چناچہ اس آیت سے ملتے جلتے الفاظ سورة الحجر کے آخر میں بھی آئے ہیں : وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ”اور اہل ایمان کے لیے اپنے بازو جھکا کر رکھیں۔“
Ayah 26:216

فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:216 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ آپ ؑ کی نافرمانی کریں تو ان سے کہہ دیجیے کہ میں بری ہوں اس سے جو کچھ تم کر رہے ہو

آیت 216 فَاِنْ عَصَوْکَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ ” سورۃ الکافرون میں بھی اسی طرح دو ٹوک انداز میں حکم دیا گیا ہے : قُلْ یٰٓاَیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ۔ لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ۔ وَلَآ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَآاَعْبُدُ ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ اے کافرو ! میں عبادت نہیں کرتا اس کی جس کی تم لوگ عبادت کرتے ہو۔ اور نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں“۔ اور پھر آخر میں بہت واضح طور پر اعلان براءت کردیا گیا : لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ ”تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔“
Ayahs 26:217–218

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 26:217 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ !) آپ بھروسہ کیجیے اس اللہ پر جو بہت زبردست نہایت رحم کرنے والا ہے

الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 26:218 in the Quran reader

جو دیکھتا ہے آپ ﷺ کو جب آپ ﷺ کھڑے ہوتے ہیں

آیت 218 الَّذِیْ یَرٰٹکَ حِیْنَ تَقُوْمُ ” اس سے آپ ﷺ کا تہجد کے لیے کھڑے ہونا مراد ہے۔ واضح رہے کہ تہجد کا حکم آپ ﷺ کو بالکل ابتدائی دور میں ہی دے دیا گیا تھا : یٰٓاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا المزمل ”اے چادر میں لپٹنے والے ! قیام کیجیے رات میں مگر تھوڑا“۔ تو گویا یہاں اسی حوالے سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! جب آپ تہجد کے لیے ہمارے حضور کھڑے ہوتے ہیں تو اس وقت ہم آپ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ہم بیشک آپ کی نظروں سے پوشیدہ ہیں مگر آپ ہماری نظروں سے پوشیدہ نہیں ہیں : لاَ تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُز وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَج وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ الانعام ”اسے نگاہیں نہیں پا سکتیں جبکہ وہ تمہاری نگاہوں کو پا لیتا ہے ‘ اور وہ لطیف بھی ہے اور ہرچیز سے باخبر بھی۔“
Ayah 26:219

وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ Open ayah 26:219 in the Quran reader

اور (وہ دیکھتا ہے) آپ ﷺ کے آنے جانے کو سجدہ کرنے والوں میں

آیت 219 وَتَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیْنَ ” حضور ﷺ کا معمول تھا کہ آپ ﷺ تہجد کی نماز پڑھنے والے مسلمانوں کے گھروں کے پاس سے رات کو گزرتے اور ان کو دیکھتے تھے۔ آپ ﷺ کے اسی معمول کا یہاں ذکر فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 26:220–221

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 26:220 in the Quran reader

یقیناً وہ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ Open ayah 26:221 in the Quran reader

کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کن پر اترا کرتے ہیں

آیت 221 ہَلْ اُنَبِّءُکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُ ” اے وہ لوگو ! جو سمجھتے ہو کہ یہ قرآن جناتّ اور خبیث روحوں کا بنایا ہوا ہے ‘ آؤ ! میں تمہیں بتاؤں کہ یہ شیاطین جو ہیں وہ کن لوگوں پر اترا کرتے ہیں۔
Ayah 26:222

تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 26:222 in the Quran reader

وہ تو اترتے ہیں ہر جھوٹ گھڑنے والے گناہگار پر

آیت 222 تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ ” یہ تو گویا ”کند ہم جنس باہم جنس پرواز“ والا معاملہ ہے۔ یعنی گندے اور خبیث کردار ‘ دوستی اور قرب کے لیے اپنے جیسے کرداروں ہی کو ڈھونڈتے ہیں۔ چناچہ شیاطین بھی اپنے التفات کے لیے انسانوں میں سے انہی لوگوں کے ساتھ رابطہ رکھیں گے جو گناہ اور بدکرداری میں اپنی مثال آپ ہوں۔
Ayahs 26:223–224

یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ Open ayah 26:223 in the Quran reader

وہ القا کرتے ہیں سنی سنائی باتیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ Open ayah 26:224 in the Quran reader

اور شعراء کی پیروی تو گمراہ لوگ کرتے ہیں

آیت 224 وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوٗنَ ” مشرکین مکہّ میں سے کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ محمد ﷺ نے شاعری سیکھ لی ہے اور یہ کہ قرآن دراصل ان کا شاعرانہ کلام ہے۔ اس حوالے سے یہاں دراصل یہ بتانا مقصود ہے کہ شاعروں کے کردار کو تم لوگ اچھی طرح جانتے ہو۔ تم خود سوچو کہ ایسے کردار کو ہمارے رسول ﷺ کے کردار سے کیا نسبت ؟ اس آیت میں شعراء کے پیروکاروں کے بارے میں جو بنیادی اصول بتایا گیا ہے اس میں مجھے کوئی استثناء exception نظر نہیں آتا۔ اگرچہ علامہ اقبال کا معاملہ بہت سے اعتبارات سے مختلف ہے مگر ان کے پیروکاروں پر بھی قرآن کا یہ قانون سو فیصد منطبق ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو اس پہلو سے دیکھنا چاہیے کہ علامہ اقبالؔ کے حاشیہ نشینوں میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا سامنے نہیں آسکا جس نے ان کے نظریات کی روشنی سے اپنی عملی زندگی کا کوئی گوشہ روشن کیا ہو اور اپنی شخصیت میں بندۂ مؤمن کے اس کردار کی کوئی رمق پیدا کرنے کی کوشش کی ہو جس کا نقشہ علامہ اقبالؔ نے اپنے کلام میں پیش کیا ہے۔ بلکہ علامہ اقبالؔ تو خود اپنے بارے میں بھی اعتراف کرتے ہیں کہ محض گفتار کے غازی تھے : ؂ اقبال ؔ بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے گفتار کا یہ غازی تو بنا ‘ کردار کا غازی بن نہ سکا ! اس حوالے سے سورة یٰسین کی آیت 69 میں حضور ﷺ کے بارے میں بہت واضح طور پر فرمادیا گیا ہے : وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ ط ”ہم نے آپ ﷺ کو شعر کہنا سکھایا ہی نہیں اور یہ آپ ﷺ کی شایان شان ہی نہیں۔“
Ayah 26:225

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ Open ayah 26:225 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں رہتے ہیں

آیت 225 اَلَمْ تَرَ اَنَّہُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّہِیْمُوْنَ ” غزل کے ایک شعر میں شاعر لوگ مشرق کی بات کرتے ہیں تو دوسرے میں مغرب کی۔ ایک مصرعے میں اپنی آسمان کی سیر کا ذکر کرتے ہیں تو دوسرے میں زمین پر آکر صحرا نوردی کرتے نظر آتے ہیں۔
Ayah 26:226

وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 26:226 in the Quran reader

اور یہ کہ وہ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں

آیت 226 وَاَنَّہُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ ” شعراء کے بارے میں سب سے بڑی بات یہاں یہ بتائی گئی کہ ان کے قول و فعل میں تضاد ہوتا ہے اور یہ عادت بہت گھٹیا کردار کی مظہر ہے۔
Ayah 26:227

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ Open ayah 26:227 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں اور کثرت سے اللہ کا ذکر کریں اور وہ بدلہ لیں اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا ہو اور عنقریب یہ ظالم جان لیں گے کہ کس جگہ لوٹ کر جائیں گے

آیت 227 اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا ” یہ البتہ استثنائی حکم ہے۔ کوئی شاعر اگر حقیقی مؤمن ہو اور اعمال صالحہ پر کاربند ہونے کے ساتھ ساتھ کثرت ذکر اللہ پر بھی مداومت کرے تو وہ یقیناً مذکورہ بالا مذمت سے مستثنیٰ ہوگا اور اس کا کلام بھی خیر اور بھلائی کا باعث بنے گا۔ اس سلسلے میں حضرت حسانّ بن ثابت رض کی مثال دی جاسکتی ہے جو دربار نبوی ﷺ کے شاعر تھے۔ عرب میں اس وقت شاعری کا بہت رواج تھا اور مشرکین کے شعراء ہجویہ اشعار کے ذریعے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے تھے۔ چناچہ اس میدان میں ان کے جواب کی ضرورت محسوس ہوئی تو یہ فریضہ حضرت حسانّ بن ثابت رض نے انجام دیا۔ اس لحاظ سے آپ رض سب سے پہلے نعت گو شاعر بھی ہیں۔ البتہ شعراء کے بارے میں قرآن کا یہ تبصرہ اس قدر جامع اور مبنی بر حقیقت ہے کہ استثنائی صورتوں میں بھی کہیں نہ کہیں ‘ کوئی نہ کوئی کسر رہ ہی جاتی ہے۔ چناچہ حضرت حسانّ بن ثابت رض کو اگرچہ دربار نبوی ﷺ کا شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور بطور صحابی بھی ان کا درجہ بہت بلند ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ آپ رض مرد میدان نہیں تھے۔ غزوۂ احزاب کے موقع پر حضور ﷺ نے ان کو اس مکان پر بطور پہرے دارمتعین فرمایا تھا جہاں پر مسلمان خواتین کو رکھا گیا تھا۔ حضور ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ رض نے ایک یہودی کو مشکوک انداز میں اس مکان کے آس پاس پھرتے دیکھا تو انہوں نے حضرت حسان رض سے کہا کہ آپ جا کر اس شخص کو قتل کردیں۔ یہ سن کر حضرت حسان رض نے صاف معذرت کردی کہ میں یہ کام نہیں کرسکتا۔ اس پر حضرت صفیہ رض ایک لکڑی ہاتھ میں لے کر گئیں اور اس لکڑی سے یہودی کے سر پر ایسی ضرب لگائی کہ اس کا کام تمام کردیا۔ واپس آکر انہوں نے حضرت حسان رض ّ سے کہا کہ اب آپ جا کر اس یہودی کے ہتھیار وغیرہ اتار کرلے آئیں۔ اس پر انہوں رض نے جواب دیا کہ مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ وَّانْتَصَرُوْا مِنْم بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا ط ” یہ ان مستثنیٰ قسم کے شاعروں کی چوتھی صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ ضرورت پیش آنے پر ظالموں کے مقابلے میں حق کی حمایت کے لیے اپنی زبان سے وہی کام لیں جو ایک مجاہد تیر و شمشیر سے لیتا ہے۔ جیسے حضرت حسان بن ثابت رض کفار کی طرف سے حضور ﷺ کے خلاف کہے گئے ہجویہ اشعار کا جواب دیا کرتے تھے اور حضور ﷺ کی طرف سے مدافعت کرتے تھے۔ حضور ﷺ نے ان رض کے بارے میں فرمایا تھا کہ حسانّ کے اشعار کفار کے خلاف مسلمانوں کے تیروں سے بھی زیادہ مؤثر ہیں۔ بہر حال ہرچیز کی اپنی جگہ پر اہمیت مسلم ہے۔ وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ ” ان کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ یہ اسی طرح کا محاورہ ہے جیسے ہمارے ہاں اردو میں کہا جاتا ہے کہ دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ یعنی ابھی ان لوگوں کو نظر نہیں آ رہا ‘ لیکن عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب قرآن کا بیان کردہ بھیانک انجام ان لوگوں کی نگاہوں کے سامنے ہوگا۔ بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم