25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیر بیان القرآن

Ayah 25:1

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

بڑی بابرکت ہے وہ ہستی جس نے الفرقان نازل فرمایا اپنے بندے پر تاکہ وہ ﷺ ہو تمام جہان والوں کے لیے خبردار کرنے والا

آیت 1 تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ ” یہ تیسری سورت ہے جس کے مطلع پہلی آیت میں محمد رسول اللہ ﷺ کا ذکر ”عبد“ کی نسبت سے آیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی دو سورتیں سورة بنی اسرائیل اور سورة الکہف ہیں۔ سورة بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں فرمایا : سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ۔۔ ۔ اس کے بعد سورة الکہف کا آغاز اس طرح ہوا : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ۔۔ ۔ ”الفرقان“ سے مراد حق و باطل میں امتیاز کردینے والی کتاب یعنی قرآن حکیم ہے۔ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَا ” یعنی اس قرآن کے ذریعے سے حضور ﷺ کی رسالت تا قیام قیامت جاری وساری رہے گی۔ جس تک یہ قرآن پہنچ گیا ‘ اس تک گویا آپ ﷺ کا انذار پہنچ گیا۔ سورة الانعام کی آیت 19 میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے : وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْم بَلَغَ ط ”اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ میں خبردار کر دوں تمہیں اس کے ذریعے سے اور اس کو بھی جس تک یہ پہنچ جائے“۔ چناچہ آپ ﷺ کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد قرآن کے پیغام کو پھیلانا اور اس کے ذریعے سے انذار کے سلسلے کو تاقیام قیامت جاری وساری رکھنا امت کی ذمہ داری ہے۔
Ayahs 25:2–3

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہ ہستی جس کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جس نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا اور نہ ہی اس کا کوئی شریک ہے حکومت (کے اختیارات) میں اور اسی نے ہر شے کو پیدا کیا اور پھر اس کے لیے ایک اندازہ مقررہ کیا

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کے سوا ایسے معبود بنالیے ہیں جو کچھ بھی تخلیق نہیں کرتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں اور وہ اختیار نہیں رکھتے خود اپنے بارے میں بھی کسی نقصان یا نفع کا اور نہ ہی انہیں اختیار ہے موت کا نہ زندگی کا اور نہ جی اٹھنے کا

وَخَلَقَ کُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًا ” یہ آیت اپنے مضمون کے اعتبار سے سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت سے بہت مشابہ ہے۔
Ayah 25:4

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) بس ایک من گھڑت چیز ہے جس کو اس شخص نے خود گھڑ لیا ہے اور اس کی مدد کی ہے اس پر کچھ اور لوگوں نے یہ لوگ ظلم اور جھوٹ پر کمر بستہ ہوگئے ہیں

آیت 4 وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ہٰذَآ اِلَّآ اِفْکُ نِ افْتَرٰٹہُ وَاَعَانَہٗ عَلَیْہِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ ج ” قرآن مجید میں فراہم کردہ معلومات اور تفصیلات کو دیکھتے ہوئے مشرکین مکہ یہ سمجھتے تھے کہ کوئی بھی اکیلا آدمی ایسا کلام مرتب نہیں کرسکتا۔ چناچہ وہ حضور ﷺ پر یہ الزام لگاتے تھے کہ آپ ﷺ کے پیچھے کچھ اور لوگ بھی ہیں جو خفیہ طور پر اس کتاب کی تصنیف میں آپ ﷺ کی مدد کر رہے ہیں۔ گویا آپ ﷺ نے اس کام کے لیے ایک ادارۂ تحریر تشکیل دے رکھا ہے۔ فَقَدْ جَآءُ وْ ظُلْمًا وَّزُوْرًا ” یعنی ایسی باتیں کر کے یہ لوگ یقینی طور پر افترا اور ظلم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
Ayahs 25:5–6

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ یہ پرانے لوگوں کے قصے ہیں جو اس نے کسی سے لکھوالیے ہیں پھر یہ املا کرائی جاتی ہیں اس کو صبح وشام

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ اس کو اس نے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چھپی ہوئی چیز کو جانتا ہے یقیناً وہ بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے

آیت 5 وَقَالُوْٓا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اکْتَتَبَہَا ” کَتَبَ یَکْتُبُ : لکھنا۔ اس سے اِکْتَتَبَ باب افتعال ہے ‘ یعنی کسی سے لکھوا لینا۔ فَہِیَ تُمْلٰی عَلَیْہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلًا ” ان کے پیچھے خفیہ طور پر جو لوگ یہ قصے کہانیاں گھڑ رہے ہیں وہ صبح شام ان سے ملتے ہیں اور اپنی گھڑی ہوئی باتیں انہیں لکھوا دیتے ہیں۔ پھر وہی باتیں یہ ہمیں سنا کر دھونس جماتے ہیں کہ مجھ پر وحی آئی ہے۔
Ayah 25:7

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں یہ کیسا رسول ہے جو کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا بھی ہے کیوں نہیں اتارا گیا اس پر کوئی فرشتہ کہ وہ اس کے ساتھ ہو کر ڈرانے والا ہوتا

آیت 7 وَقَالُوْا مَالِ ہٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ط ” کہ ایک ایسا شخص اللہ کا بھیجا ہوا رسول کیسے ہوسکتا ہے جس کو کھانے کی حاجت بھی ہو اور وہ عام انسانوں کی طرح بازاروں میں خریدو فروخت بھی کرتا پھرتا ہو۔ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُوْنَ مَعَہٗ نَذِیْرًا ” ہاں اگر یہ واقعی اللہ کے رسول ہیں تو ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا جو ہماری آنکھوں کے سامنے پرواز کرتے ہوئے نازل ہوتا ‘ ان کے رسول ہونے کی گواہی دیتا اور پھر یہ جدھر بھی جاتے ‘ وہ فرشتہ لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے ہٹو بچو کا نعرہ لگاتے ہوئے ان کے ساتھ ساتھ چلتا اور نہ ماننے والوں کو دھمکاتا !
Ayah 25:8

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اتارا جاتا اس پر کوئی خزانہ یا اس کے لیے کوئی باغ ہوتا جس میں سے یہ کھاتا پیتا اور ان ظالموں نے تو یہ تک کہا کہ تم لوگ صرف ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کر رہے ہو

آیت 8 اَوْ یُلْقٰٓی اِلَیْہِ کَنْزٌ اَوْ تَکُوْنُ لَہٗ جَنَّۃٌ یَّاْکُلُ مِنْہَا ط ” اور کچھ نہیں تو ان کے لیے زر و جواہر کا کوئی خزانہ ہی اتار دیا جاتا ‘ یا پھر معجزانہ طور پر اس ”وادئ غیر ذی زرع“ میں پھلوں سے لدا ہوا ایک باغ ہی ان کے لیے وجود میں آجاتا اور یہ اس باغ کے پھل کھاتے ہوئے ہمیں نظر آتے۔ اس باغ سے یہ بافراغت روزی حاصل کرتے۔ یہ مشرکین مکہ کا وہی اعتراض ہے جس کا ذکر اس سے پہلے سورة بنی اسرائیل میں بھی آچکا ہے۔ وَقَال الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا ” کہ یہ جو کہتے ہیں کہ مجھ پر فرشتہ نازل ہوتا ہے ان کے اس دعوے میں کوئی سچائی نہیں۔ یہ سب جادو اور آسیب کا اثر ہے۔
Ayah 25:9

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

دیکھئے ! یہ آپ ﷺ کے لیے کیسی کیسی مثالیں بیان کر رہے ہیں تو یہ لوگ گمراہ ہوگئے ہیں اب یہ سیدھے رستے پر نہیں آسکتے

آیت 9 اُنْظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوْا لَکَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا ” یہ لوگ ایک ضد پر اڑ گئے ہیں ‘ لہٰذا اب ان کے راہ راست پر آنے کا کوئی امکان نہیں۔ ان الفاظ کو پڑھتے ہوئے یہ بھی معلوم رہنا چاہیے کہ یہ سورت مکی دور کے درمیانی چار سالوں میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے۔ مکی سورتوں کی ترتیب نزولی اور ترتیب مصحف کے بارے میں پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ مکی دور کے ابتدائی چار سال کے دوران میں نازل ہونے والی سورتیں مصحف کی ترتیب میں ساتویں یعنی آخری منزل میں شامل کی گئی ہیں۔ آخری منزل میں کچھ مدنی سورتیں بھی شامل ہیں اور اس اعتبار سے اس منزل کی مکی مدنی سورتوں کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ آخری چارسال میں نازل شدہ سورتوں کو مصحف کے پہلے حصے میں رکھا گیا ہے۔ ان میں سورة الانعام ‘ سورة الاعراف ‘ اور سورة یونس سے لے کر سورة المؤمنون تک کل سولہ سورتیں شامل ہیں۔ البتہ زیرمطالعہ سورت یعنی سورة الفرقان سے شروع ہونے والے گروپ اور اس کے بعد والے گروپ کی سورتیں مکی دور کے درمیانی چار سالوں میں نازل ہوئی ہیں اور مصحف کے اندر بھی انہیں درمیان میں رکھا گیا ہے۔
Ayahs 25:10–11

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

بڑی ہی بابرکت ہے وہ ہستی جو اگر چاہے تو آپ ﷺ کے لیے ان سے کہیں بہتر چیزیں بنا دے ایسے باغات جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور آپ ﷺ کے لیے محلات تعمیر کر دے

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے قیامت کو جھٹلا دیا ہے اور جو قیامت کو جھٹلا تا ہے اس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے

آیت 10 تَبٰرَکَ الَّذِیْٓ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَکَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِکَ ” یہ لوگ تو آپ ﷺ پر اعتراض کرتے ہوئے اپنی طرف سے بڑی دور کی کوڑی لاتے ہیں اور اپنے فہم و شعور کے مطابق مختلف چیزوں کے نام گنواتے ہیں کہ آپ ﷺ کو فلاں آسائش میسر ہونی چاہیے اور فلاں چیز آپ ﷺ کے تصرف میں ہونی چاہیے۔ ان بےچاروں کو ہماری قدرت کا اندازہ ہی نہیں۔ ہم اگر چاہیں تو ان کی تجویز کردہ چیزوں سے کہیں بہتر ایسی چیزیں آپ ﷺ کے لیے پیدا کردیں جو ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہ ہوں۔ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُلا وَیَجْعَلْ لَّکَ قُصُوْرًا ” یہ لوگ تو ایک باغ کی بات کر رہے ہیں۔ ہم آپ ﷺ کے لیے باغات کے ان گنت سلسلے اور بیشمار محلات بنا سکتے ہیں۔
Ayah 25:12

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

وہ جب دور سے ان کو دیکھے گی تو وہ سنیں گے اس کے جوش اور اس کی پھنکار کو

آیت 12 اِذَا رَاَتْہُمْ مِّنْ مَّکَانٍم بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَہَا تَغَیُّظًا وَّزَفِیْرًا ” جہنم جب دور سے ہی ایسے مجرموں کی صورت میں اپنے شکار کو آتے دیکھے گی تو غضبناک ہو کر جوش مارے گی اور اس کے دھاڑنے اور پھنکارنے کی خوفناک آوازوں کو مجرم لوگ بہت دور سے سن سکیں گے۔
Ayah 25:13

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب وہ پھینک دیے جائیں گے اس کی ایک تنگ جگہ میں زنجیروں میں جکڑے ہوئے تو اس وقت وہ موت کو پکاریں گے

آیت 13 وَاِذَآ اُلْقُوْا مِنْہَا مَکَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا ہُنَالِکَ ثُبُوْرًا ” اس وقت وہ دعا کریں گے کہ انہیں موت آجائے۔ شعور کی زندگی کا قصہ تمام ہو اور انہیں نسیاً منسیاً کردیاجائے۔
Ayah 25:14

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

(تب ان سے کہا جائے گا کہ) آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں کو پکارو

آیت 14 لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّادْعُوْا ثُبُوْرًا کَثِیْرًا اب تم موت کو پکارتے رہو ‘ اس کے لیے مسلسل دعائیں مانگتے رہو ‘ مگر تمہاری ان دعاؤں سے تمہیں موت آئے گی نہیں۔ اب تو تمہیں مسلسل زندہ رہنا اور عذاب کی تکلیف کو جھیلنا ہوگا۔ اس عذاب کی شدت میں نہ تو کوئی تخفیف کی جائے گی اور نہ ہی موت آکر تمہیں اس سے چھٹکارا دلائے گی۔
Ayah 25:15

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

آپ ﷺ کہیے کہ کیا یہ انجام بہتر ہے یا ہمیشہ رہنے کی وہ جنت جس کا وعدہ کیا گیا ہے متقی بندوں سے ان کے لیے وہ ہوگی بدلہ اور ان کے لوٹنے کی جگہ

کَانَتْ لَہُمْ جَزَآءً وَّمَصِیْرًا۔ ” وہ ان کے اعمال کا بدلہ اور ان کے سفر کی آخری منزل ہوگی۔
Ayah 25:16

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

ان کے لیے اس میں ہر وہ شے ہوگی جو وہ چاہیں گے وہ اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش یہ آپ کے رب کے ذمہ ایک واجب الادا وعدہ ہے

کَانَ عَلٰی رَبِّکَ وَعْدًا مَّسْءُوْلًا ” اس وعدہ کے ایفا کی آپ کے رب پر حتمی ذمہ داری ہے۔ اس کے حوالے سے سورة آل عمران کی یہ دعا بھی ذہن میں تازہ کر لیجیے : رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ وَلاَ تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِط اِنَّکَ لاَ تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ”اے ہمارے پروردگار ! تو نے اپنے رسولوں علیہ السلام کے ذریعے ہم سے جو وعدے کیے ہیں وہ پورے فرما اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کرنا ‘ بیشک تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا“۔ اللہ تعالیٰ یقیناً اپنے ان وعدوں کو پورا فرمائے گا اور یہ اس کی بےپایاں رحمت کا اظہار ہے کہ وہ ان وعدوں کو اپنی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔
Ayah 25:17

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس دن وہ ان کو اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پوجتے ہیں ان سب کو جمع کرے گا اور فرمائے گا : کیا میرے ان بندوں کو تم نے گمراہ کیا تھا ؟ یا وہ خود ہی راستے سے بھٹک گئے تھے

آیت 17 وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ” جن جن ہستیوں کے ناموں پر مشرکین نے ُ بت بنا رکھے تھے یا جن کو وہ براہ راست اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے ‘ چاہے وہ فرشتے ہوں ‘ اولیاء اللہ ہوں یا انبیاء ہوں ‘ اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع کرے گا :
Ayah 25:18

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

وہ کہیں گے :ُ تو پاک ہے ہمارے لیے تو یہ روا ہی نہیں تھا کہ ہم تیرے سوا کسی کو اپنا ولی بناتے تو نے انہیں اور ان کے آباء و اَجداد کو دنیا کا سازو سامان دیا یہاں تک کہ وہ یاددہانی کو بھول گئے۔ اور یہ تباہ ہونے والے لوگ تھے

آیت 18 قَالُوْا سُبْحٰنَکَ مَا کَانَ یَنْبَغِیْ لَنَآ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِکَ مِنْ اَوْلِیَآءَ ” م اللہ اور اہل ایمان کے درمیان ولایت باہمی کا مضبوط رشتہ قائم ہے۔ اللہ اہل ایمان کا ولی ہے اور اہل ایمان اللہ کے ولی ہیں۔ سورة البقرۃ کی آیت 257 میں اس رشتے کا ذکر یوں فرمایا گیا : اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ط ”اللہ ولی ہے مؤمنین کا ‘ وہ انہیں اندھیروں سے نکالتا ہے نور کی طرف“۔ سورة یونس میں اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کا ذکر اس طرح کرتے ہیں : اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآء اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ”آگاہ رہو ! یقیناً جو اللہ کے ولی ہیں نہ انہیں کوئی خوف ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے“۔ چناچہ اگر وہ سچے معبود ہوتے تو ضرور اپنے بندوں کے ساتھ ولایت کا رشتہ قائم کیے ہوتے ‘ لیکن وہ تو پوچھنے پر صاف انکار کردیں گے اور کہیں گے کہ ہمارا ولی تو اللہ ہے۔ ہم اللہ کے سوا کسی اور کے ساتھ ولایت کا رشتہ کیسے استوار کرسکتے تھے ! وَلٰکِنْ مَّتَّعْتَہُمْ وَاٰبَآءَ ہُمْ ”لیکن اے پروردگار ! ُ ان کو دنیا میں مال و دولت اور حیثیت ووجاہت سے بہرہ مند کیا اور پشت در پشت خوشحالی اور فارغ البالی عطا کیے رکھی۔ حَتّٰی نَسُوا الذِّکْرَج وَکَانُوْا قَوْمًام بُوْرًا ” اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان مشرکین کو مخاطب کر کے فرمائیں گے :
Ayah 25:19

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

تو انہوں نے جھٹلا دیا تمہاری ان باتوں کو تو اب نہ تمہارے بس میں ہے (عذاب کو) لوٹانا اور نہ ہی کوئی مدد اور جو کوئی تم میں سے ظلم کا مرتکب ہوا ہے ہم اسے چکھائیں اب بہت بڑا عذاب

آیت 19 فَقَدْ کَذَّبُوْکُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَلا ” کہ جن ہستیوں کو تم لوگ اپنے معبود اور ولی مانتے تھے انہوں نے تو تمہارے دعو وں کو رد کردیا۔
Ayah 25:20

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور آپ ﷺ سے پہلے ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے وہ سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے اور ہم نے تمہارے بعض کو بعض کے لیے آزمائش بنایا ہے (اے مسلمانو !) کیا تم صبر کرتے ہو ؟ اور آپ ﷺ کا رب سب کچھ دیکھنے والا ہے

اَتَصْبِرُوْنَج وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیْرًا ” اس مصلحت کو سمجھ لینے کے بعد اب تمہارے لیے صبر و استقامت کی روش ناگزیر ہے۔
Ayah 25:21

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ہماری ملاقات کے امیدوار نہیں ہیں کہ کیوں نہیں اتارے جاتے ہم پر فرشتے یا ہم خود اپنے رب کو دیکھیں انہوں نے اپنے آپ میں بہت زیادہ تکبر کیا ہے اور وہ بہت بڑی سر کشی کے مرتکب ہوئے ہیں

اَوْ نَرٰی رَبَّنَاط ” اللہ کے حضور حاضری پر ایمان نہ ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کی طبیعتوں میں سر کشی اور لاپرواہی پائی جاتی ہے۔ چناچہ ایمان کی دعوت کو قبول کرنے کے بجائے جواب میں وہ طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اگر اللہ نے ہمیں کوئی پیغام بھیجنا ہی تھا تو اپنے فرشتوں کے ذریعے بھجواتا یا وہ خود ہمارے سامنے آجاتا اور ہم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیتے۔ یا یہ کہ اللہ کی طرف سے ہمیں کوئی ایسا معجزہ دکھایا جاتا جس سے ہم پر واضح ہوجاتا کہ محمد ﷺ واقعی اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ ان کے ایسے مطالبات کا ذکر مکیّ سورتوں میں بار بار کیا گیا ہے۔ لَقَدِ اسْتَکْبَرُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ وَعَتَوْ عُتُوًّا کَبِیْرًا ” ان کے یہ مطالبات ان کے استکبار کا ثبوت اور ان کی سر کشی کی دلیل ہیں۔ گویا وہ خود کو اس لائق سمجھتے ہیں کہ ان پر فرشتوں کا نزول ہو اور اللہ خود ان کے روبرو ان سے ہم کلام ہو۔
Ayah 25:22

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہوگی اور وہ کہیں گے کہ کوئی روک حائل ہوجائے

آیت 22 یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلآءِکَۃَ لَا بُشْرٰی یَوْمَءِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ ” جس دن انہیں فرشتے نظر آئیں گے وہ دراصل قیامت کا دن ہوگا۔ اس دن اللہ تعالیٰ بھی نزول فرمائے گا اور غیب کے سارے پردے بھی اٹھا دیے جائیں گے۔ وہ دن مجرموں کے لیے کڑے احتساب کا دن ہوگا۔ تب ان کے لیے تو بہ کا دروازہ بند ہوچکا ہوگا اور انہیں کہیں سے بھی کوئی اچھی خبر نہیں مل پائے گی۔ وَیَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا ” اس وقت وہ دہائی دے رہے ہوں گے کہ کسی طرح سے انہیں بچایا جائے اور قیامت کے عذاب کو ان پر مسلط ہونے سے روکا جائے۔ کاش ‘ ان کے اور اس عذاب کے مابین کوئی رکاوٹ حائل ہوجائے !
Ayahs 25:23–25

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور ہم آگے بڑھیں گے ان کے ہر عمل کی طرف جو انہوں نے کیا ہوگا اور کردیں گے اسے اڑتا ہوا غبار

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

جنت والے اس روز بہت اچھے ٹھکانوں میں ہوں گے اور ان کے قیلولہ کرنے کی جگہ بھی بہت ہی اچھی ہوگی

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس دن آسمان بادل کے ساتھ پھٹ جائے گا اور فرشتے نازل کیے جائیں گے فوج در فوج

آیت 23 وَقَدِمْنَآ اِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰہُ ہَبَآءً مَّنْثُوْرًا ” یہ بہت عبرتناک منظر کی تصویر ہے۔ یہ دراصل ایسی نیکیوں کا ذکر ہے جن کی بنیاد ایمان حقیقی پر نہیں رکھی گئی تھی۔ آخرت میں ایسے اعمال کی حیثیت اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی فضول اور قابل حقارت چیز کی سی ہوگی جسے کوئی دیکھتے ہی فٹ بال کی طرح ٹھوکر مار کر ہوا میں اچھال دے۔ یہ ان دنیا پرست اور ریاکار لوگوں کے انجام کا نقشہ ہے جو ظاہر کی نیکیوں کے انبار لے کر میدان محشر میں آئیں گے۔ دنیا میں انہوں نے خیراتیں بانٹی تھیں ‘ یتیم خانے کھولے تھے ‘ ہسپتال بنائے تھے ‘ مسجدیں تعمیر کرائی تھیں ‘ مدارس کی سرپرستی کی تھی ‘ حج و عمرے کیے تھے ‘ مگر ان اعمال کو سرانجام دیتے ہوئے اللہ کی رضا جوئی اور آخرت کے اجر وثواب کو کہیں بھیّ مد نظر نہیں رکھا گیا تھا۔ کہیں عزت و شہرت حاصل کرنے کا جذبہ نیکی کا محرک بنا تھا تو کہیں پارسائی و پرہیزگاری کا سکہّ جمانے کی خواہش نے عبادات کا معمول اپنایا تھا۔ کبھی الیکشن جیتنے کی منصوبہ بندی نے خدمت خلق کا لبادہ اوڑھا تھا تو کبھی کاروباری ساکھ کو بہتر بنانے کے لالچ نے متقیانہ روپ دھارا تھا۔ غرض ہر نیکی کے پیچھے کوئی نہ کوئی دنیوی مفاد کارفرما تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ جو علیمٌ بذات الصدورّ ہے ‘ اس کے نزدیک ایسی کسی نیکی کی کوئی اہمیت و وقعت نہیں۔ چناچہ ایسے بد قسمت لوگوں کی نیکیوں کے انبار اور اعمال صالحہ کے پہاڑ جب اللہ کے حضور پیش ہوں گے تو انہیں گرد و غبار کے ذرّات کی طرح تحلیل کردیا جائے گا۔ یہ مضمون یہاں تیسری بار آیا ہے۔ سورة ابراہیم میں ایک تمثیل کے ذریعے ایسے اعمال کی بےبضاعتی کو اس طرح بیان کیا گیا ہے : مَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ اَعْمَالُہُمْ کَرَمَادِنِ اشْتَدَّتْ بِہِ الرِّیحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍط لاَ یَقْدِرُوْنَ مِمَّا کَسَبُوْا عَلٰی شَیْءٍ ط ذٰلِکَ ہُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ ”مثال ان لوگوں کی جنہوں نے کفر کیا اپنے رب کے ساتھ ایسی ہے کہ ان کے اعمال ہوں راکھ کی مانند ‘ جس پر زور دار ہوا چلے آندھی کے دن۔ انہیں کچھ قدرت نہیں ہوگی ان اعمال میں سے کسی پر بھی جو انہوں نے کمائے ہوں گے۔ یہی تو ہے دور کی گمراہی“۔ پھر سورة ّ النور میں بغیر ایمان کی نیکیوں کی حقیقت ایک دوسری تمثیل میں یوں واضح کی گئی ہے : وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَعْمَالُہُمْ کَسَرَابٍم بِقِیْعَۃٍ یَّحْسَبُہُ الظَّمْاٰنُ مَآءًط حَتّٰیٓ اِذَا جَآءَ ہٗ لَمْ یَجِدْہُ شَیْءًا وَّوَجَدَ اللّٰہَ عِنْدَہٗ فَوَفّٰٹہُ حِسَابَہٗط وَاللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ”اور جو کافر ہیں ان کے اعمال ایسے ہیں جیسے سراب کسی چٹیل میدان میں ‘ پیاسا اسے پانی سمجھتا ہے ‘ یہاں تک کہ وہ اس کے پاس آیا تو اس نے اسے کچھ نہ پایا ‘ البتہ اس نے اس کے پاس اللہ کو پایا ‘ تو اس نے پورا پورا چکا دیا اسے اس کا حساب۔ اور اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔“
Ayah 25:26

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اس دن حقیقی بادشاہی صرف رحمن کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر بہت کٹھن ہوگا

آیت 26 اَلْمُلْکُ یَوْمَءِذِنِ الْحَقُّ للرَّحْمٰنِ ط ” بادشاہی اور حکمرانی تو آج بھی اللہ ہی کی ہے ‘ لیکن دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی آزمائش کے لیے حقیقت کو مختلف پردوں میں چھپا رکھا ہے۔ آج بظاہر کئی صاحبان اختیار و اقتدار نظر آتے ہیں ‘ لیکن اس دن ہر طرح کا اختیار صرف اس بادشاہ حقیقی کے پاس ہی ہوگا۔
Ayah 25:27

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس دن ظالم (حسرت سے) اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا کہے گا : کاش ! میں نے رسول ﷺ کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا

آیت 27 وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ ” عَضَّ یَعُضُّکے معنی دانتوں سے پکڑنا یا کاٹنا کے ہیں۔ سورة النور کی آیت 55 کے ضمن میں جو حدیث بیان ہوئی ہے اس میں مُلْکًا عَاضًّا کا لفظ اسی مادے سے مشتق ہے ‘ یعنی کاٹ کھانے والی ملوکیت۔ اس دن ہر گنہگار اور مجرم شخص حسرت و یاس کی تصویر بنا جھنجھلاہٹ اور پچھتاوے میں اپنے ہاتھوں کو اپنے دانتوں سے کاٹے گا۔ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا ” حسرت سے کہے گا کہ کاش میں نے رسول ﷺ کا ساتھ دیا ہوتا ‘ ان کا اتباعّ کیا ہوتا۔ ان کے ساتھیوں میں شامل ہوگیا ہوتا !
Ayah 25:28

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے میری شامت ! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا

آیت 28 یٰوَیْلَتٰی لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا ” کہ میری زندگی میں ایک مرحلہ ایسا بھی آیا تھا کہ میرے دل پر رسول اللہ ﷺ کی دعوت کی سچائی منکشف ہونا شروع ہوگئی تھی ‘ لیکن میرے فلاں دوست نے مجھے ورغلا کر پھر اس رستے سے بھٹکا دیا۔ کاش میں نے ایسے شخص کی دوستی اختیار نہ کی ہوتی !
Ayah 25:29

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

اس نے مجھے گمراہ کر کے ذکر سے برگشتہ کردیا اس کے بعد جبکہ وہ میرے پاس پہنچ گیا تھا اور شیطان تو انسان کو آخر دغا دینے والا ہے

آیت 29 لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّکْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَ نِیْ ط ذکر کے پہنچ جانے سے مراد ایک تو یہ ہے کہ مجھے اللہ کے رسول ﷺ نے پوری بات سنادی تھی اور دوسرے یہ کہ میری زندگی کے فلاں لمحے میں پیغامِ حق میرے دل کے تاروں کو چھیڑنے لگا تھا اور اس کی حقانیت میرے دل کی گہرائیوں میں اترنے لگی تھی۔ جیسے سورة النساء میں فرمایا گیا : وَقُلْ لَّہُمْ فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ قَوْلاً م بَلِیْغًا کہ اے نبی ﷺ ! ان سے ایسی بات کہیے جو ان کی روح کی گہرائیوں میں اتر جائے۔ چناچہ مذکورہ شخص اپنی ایسی ہی کیفیت کا اعتراف کرے گا کہ اس نصیحت ‘ یاد دہانی اور ہدایت کا ابلاغ میرے دل تک ہوچکا تھا ‘ لیکن افسوس کہ میرے ساتھی نے مجھے پھر سے گمراہ کردیا۔ وَکَان الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا ”اور شیطان تو انسان کو آخر دغا دینے والا ہے۔“ شیطان انسان کے ساتھ بڑا ہی بےوفائی کرنے والا اور آخر کار اسے اکیلا چھوڑ جانے والا ہے۔
Ayah 25:30

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور رسول ﷺ نے کہا (یا رسول کہے گا) : اے میرے پروردگار ! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑی ہوئی چیز بنا دیا

آیت 30 وَقَال الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا ” تاویل خاص کے مطابق حضور ﷺ کی یہ شکایت قریش مکہّ کے بارے میں ہے کہ اے میرے پروردگار ! میں نے تیرا پیغام ان تک پہنچانے اور انہیں قرآن سنانے کی ہر امکانی کوشش کی ہے ‘ لیکن یہ لوگ کسی طرح اسے سننے اور سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں ‘ جبکہ اس آیت کی تاویل عام یہ ہے کہ حضور ﷺ کی یہ شکایت قیامت کے دن اپنی امت کے ان افراد کے خلاف ہوگی جو اس ”مہجوری“ کے مصداق ہیں ‘ کہ ان لوگوں نے قرآن کو لائقِ التفات ہی نہ سمجھا۔ علامہ اقبال کے اس مصرعے میں اسی آیت کی تلمیح پائی جاتی ہے : ع ”خوار از مہجورئ قرآں شدی“ کہ اے مسلمان آج تو اگر ذلیل و خوار ہے تو اس کا سبب یہی ہے کہ تو نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک بہت اہم اور قابل غور نکتہ یہ بھی ہے کہ قریش مکہّ نے تو اپنی خاص ضد اور ڈھٹائی میں قرآن کو اس موقف کے تحت ترک کیا تھا کہ یہ اللہ کا کلام ہے ہی نہیں اور محمد ﷺ نے خود اپنی طرف سے اسے گھڑلیا ہے۔ لیکن آج اگر کوئی شخص کہے کہ میں قرآن پر ایمان رکھتا ہوں اور اسے اللہ کا کلام مانتا ہوں ‘ مگر عملی طور پر اس کا رویہ ایسا ہو کہ وہ قرآن کو لائقِ اعتناء نہ سمجھے ‘ نہ اسے پڑھنا سیکھے ‘ نہ کبھی اس کے پیغام کو جاننے کی کوشش کرے تو گویا اس کے حال یا عمل نے اس کے ایمان کے دعوے کی تکذیب کردی۔ چناچہ اس آیت کے حاشیے ترجمہ شیخ الہند مولانا محمود حسن رح میں مولانا شبیر احمد عثمانی رح اس بارے میں اپنی رائے کا اظہار ان الفاظ میں فرماتے ہیں : ”آیت میں اگرچہ مذکور صرف کافروں کا ہے تاہم قرآن کی تصدیق نہ کرنا ‘ اس میں تدبر نہ کرنا ‘ اس پر عمل نہ کرنا ‘ اس کی تلاوت نہ کرنا ‘ اس کی تصحیح قراءت کی طرف توجہ نہ کرنا ‘ اس سے اعراض کر کے دوسری لغویات یا حقیر چیزوں کی طرف متوجہ ہونا ‘ یہ سب صورتیں درجہ بدرجہ ہجران قرآن کے تحت میں داخل ہوسکتی ہیں۔“ مقام غور ہے کہ آج اگر ہم اپنی دنیا سنوارنے کے لیے انگریزی زبان میں تو مہارت حاصل کرلیں لیکن قرآن کا مفہوم سمجھنے کے لیے عربی زبان کے بنیادی قواعد سیکھنے کی ضرورت تک محسوس نہ کریں ‘ تو قرآن پر ہمارے ایمان کے دعوے اور اس کو اللہ کا کلام ماننے کی عملی حیثیت کیا رہ جائے گی ؟ چناچہ ہر مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ قرآن کے حقوق کے بارے میں آگاہی حاصل کرے ‘ اس سلسلے میں عملی تقاضوں کو سمجھے اور ان تقاضوں پر عمل کرنے کی حتی المقدور کوشش کرتا رہے۔ اس موضوع پر میرا ایک نہایت جامع کتابچہ ”مسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق“ دستیاب ہے۔ اس کا انگلش ‘ عربی ‘ فارسی اور ملایا زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ قرآن کے حقوق کا ادراک حاصل کرنے کے لیے اس کتابچے کا مطالعہ ان شاء اللہ بہت مفید ثابت ہوگا۔
Ayah 25:31

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بنا دیے مجرموں میں سے اور کافی ہے آپ ﷺ کا رب ہدایت دینے والا اور مدد دینے والا

آیت 31 وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ ط ” یہ مضمون سورة الانعام کی آیت 112 میں بھی آچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی آزمائش کے لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ ان کی مخالفت کی بھٹی خوب گرم ہو ‘ ان کے خلاف کشمکش اور تصادم کا ماحول بنے اور باطل کے مقابلے میں انہیں عملی طور پر میدان کارزار میں اترنا پڑے تاکہ کھرے اور کھوٹے کی پہچان ہو اور ایمان کے سچے دعویدار نکھر کر سامنے آجائیں۔ ورنہ اگر ٹھنڈی سڑک پرچہل قدمی کرتے ہوئے جنت تک پہنچنا ہو تو کوئی بھی اس سعادت میں پیچھے نہیں رہے گا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے : حُجِبَتِ النَّار بالشَّھَوَاتِ وَحُجِبَتِ الْجَنَّۃُ بالْمَکَارِہِ 1 یعنی جہنم کو انسان کے مرغوبات نفس سے ڈھانپ دیا گیا ہے ‘ جبکہ جنت کو ایسی چیزوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے جو انسان کو ناپسند اور ناگوار ہیں۔ حق کے راستے پر چلتے ہوئے انسان کو طرح طرح کی تکلیفیں اٹھانا پڑتی ہیں ‘ مصائب جھیلنے پڑتے ہیں اور کٹھن آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس مضمون کو سورة البقرۃ ‘ آیت 155 میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط ”اور ہم ضرور آزمائیں گے تمہیں کسی قدر خوف سے ‘ بھوک سے اور جان و مال اور فصلوں کے نقصان سے“۔ مصیبتوں اور آزمائشوں کی اس چھلنی کے ذریعے اللہ اپنے ان بندوں کو چھانٹ کر الگ کرلیتا ہے جو جنت کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہوں اور پھر ان لوگوں سے جنت کا سودا کرتا ہے : اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَ ط التوبۃ : 111 ”یقیناً اللہ نے خرید لی ہیں اہل ایمان سے ان کی جانیں بھی اور ان کے مال بھی اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے۔“ وَکَفٰی بِرَبِّکَ ہَادِیًا وَّنَصِیْرًا ” جو شخص ہدایت کا طلب گار ہو اسے اللہ ہدایت بھی دیتا ہے اور پھر اس رستے پر چلانے کے لیے اس کی مدد بھی کرتا ہے۔
Ayah 25:32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور ان کافروں نے یہ بھی کہا کہ اس پر یہ قرآن پورے کا پورا ایک ہی دفعہ کیوں نہ اتار دیا گیا اس طرح (اس لیے نازل کیا گیا ہے) تاکہ اس کے ذریعے سے ہم آپ ﷺ کا دل مضبوط کریں اور (اسی لیے) ہم نے اسے تدریج و اہتمام کے ساتھ ترتیب دیا ہے

آیت 32 وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَۃً وَّاحِدَۃً ج ” قریش مکہّ کا قرآن پر ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر واقعی یہ اللہ کا کلام ہے تو پھر اکٹھا ایک ساتھ ہی نازل کیوں نہیں ہوجاتا ؟ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پوری کی پوری تورات تختیوں پر لکھی ہوئی ایک ہی دفعہ دے دی گئی تھی۔ قرآن کو تھوڑا تھوڑا پیش کرنے سے مشرکین کو حضور ﷺ پر ایک شاعر کا گمان ہوتا تھا ‘ کیونکہ شاعر لوگ بھی ایک دم سے اپنا پورا کلام پیش نہیں کرسکتے۔ وہ ایک ایک دو دو غزلیں یا نظمیں لکھتے رہتے ہیں اور مدت کے بعد جا کر کہیں ان کے دیوان مکمل ہوتے ہیں۔ کَذٰلِکَج لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ ” اس کو ہم اچھی طرح آپ ﷺ کے ذہن نشین کرتے رہیں اور اس پر آپ ﷺ کا دل پوری طرح ٹھک جائے۔ وَرَتَّلْنٰہُ تَرْتِیْلًا ” قرآن کو تھوڑا تھوڑا نازل کرنے میں ایک حکمت یہ بھی تھی کہ رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو ہر موقع محل کے مطابق بر وقت راہنمائی ملتی رہے۔ اس کے علاوہ اس میں اہل ایمان کے لیے تسلی اور تسکین کا پہلو بھی تھا کہ اللہ ہمارے حالات کو دیکھ رہا ہے۔ مشکل حالات میں سابقہ قوموں کے حالات پڑھ کر ان کے دلوں کو سہارا ملتا تھا کہ جس طرح اللہ نے حضرت نوح ‘ حضرت ہود اور حضرت صالح f کے ساتھیوں کی مدد کی تھی اور ان کے دشمنوں کو ملیا میٹ کردیا تھا اسی طرح وہ ہمیں بھی کامیاب کرے گا۔
Ayahs 25:33–34

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور یہ لوگ آپ ﷺ کے پاس کوئی بھی اعتراض نہیں لائیں گے مگر یہ کہ ہم (اس کے جواب میں) آپ ﷺ کے پاس حق اور اس کی بہترین وضاحت لے آئیں گے

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں جمع کیا جائے گا جہنم کی طرف ان کے مونہوں کے بل وہ بہت ہی برے مقام پر ہوں گے اور بہت بھٹکے ہوئے ہوں گے سیدھے راستے سے

آیت 33 وَلَا یَاْتُوْنَکَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِءْنٰکَ بالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرًا ” قرآن حکیم کو جزءً ا جزءً ا نازل کرنے میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ جب کبھی بھی مخالفین اور معترضین کی طرف سے کوئی اعتراض یا سوال اٹھایا جاتا ہے تو وحی کے ذریعے اس کا مبنی برحق اور مفصل جواب آپ ﷺ کو بتادیا جاتا ہے۔
Ayah 25:35

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب عطا کی تھی اور اس کے ساتھ ہم نے اس کے بھائی ہارون ؑ کو وزیر بنادیا تھا

آیت 35 وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَجَعَلْنَا مَعَہٗٓ اَخَاہُ ہٰرُوْنَ وَزِیْرًا ” حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مدد اور معاونت کے لیے حضرت ہارون علیہ السلام کو ان کے مددگار کے طور پر رسالت کی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی۔ وزیر ”وِزر“ بوجھ سے ہے ‘ یعنی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے میں معین و مددگار۔
Ayah 25:36

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

تو ہم نے حکم دیا کہ آپ ؑ دونوں جاؤ اس قوم کی طرف جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا۔ پھر ہم نے انہیں بالکل تباہ و برباد کرکے رکھ دیا

آیت 36 فَقُلْنَا اذْہَبَآ اِلَی الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاط فَدَمَّرْنٰہُمْ تَدْمِیْرًا ” یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا گیا اور ان لوگوں کے مسلسل انکار کے باعث بالآخر انہیں سمندر میں غرق کر کے نیست و نابود کردیا گیا۔
Ayah 25:37

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور قوم نوح ؑ کو بھی ہم نے غرق کردیا جب انہوں نے رسولوں ؑ کی تکذیب کی اور انہیں ہم نے نوع انسانی کے لیے ایک نشانی بنا دیا اور ہم نے ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب بھی تیار کر رکھا ہے

وَاَعْتَدْنَا للظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا ” یعنی پیغمبروں کی تکذیب کرنے والی ان قوموں کو عذاب استیصال کی صورت میں نقد سزا تو دنیا ہی میں مل گئی تھی مگر اصل عذاب ابھی ان کا منتظر ہے۔ یہ عذاب انہیں آخرت میں ملے گا اور وہ بیحد تکلیف دہ ہوگا۔
Ayah 25:38

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور قوم عاد قوم ثمود کنویں والوں اور ان کے مابین بہت سی دوسری اقوام (کو بھی ہم نے ہلاک کردیا)

آیت 38 وَّعَادًا وَّثَمُوْدَا وَاَصْحٰبَ الرَّسِّ وَقُرُوْنًام بَیْنَ ذٰلِکَ کَثِیْرًا ” ”اصحاب الرس“ کے بارے میں صراحت نہیں ملتی کہ یہ کون سی قوم تھی اور ان کا زمانہ اور علاقہ کون سا تھا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کو کسی کنویں میں بند کردیا تھا۔ اس لیے انہیں کنویں والے کہا گیا ہے۔
Ayah 25:39

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور ان سب کے لیے ہم نے مثالیں بیان کیں لیکن (ان کے انکار کی پاداش میں بالآخر) ہم نے ان سب کو غارت کردیا

آیت 39 وَکُلًّا ضَرَبْنَا لَہُ الْاَمْثَالَز ” اپنے اپنے وقت پر ان سب قوموں کو راہ ہدایت پر لانے کے لیے ان کے ماحول اور حالات کے مطابق ہم ٹھوس دلائل اور واضح حقائق پر مبنی تعلیمات ان کے سامنے پیش کرتے رہے۔
Ayah 25:40

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور یہ لوگ اس بستی پر سے تو گزرتے ہیں جس پر بہت بری بارش برسائی گئی تھی تو کیا یہ لوگ اسے دیکھتے نہیں رہے بلکہ وہ امید نہیں رکھتے جی اٹھنے کی

آیت 40 وَلَقَدْ اَتَوْا عَلَی الْقَرْیَۃِ الَّتِیْٓ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ ط ” اس سے سدوم اور عامورہ کی بستیاں مراد ہیں جن کی طرف حضرت لوط علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔ بدترین بارش سے مراد پتھروں کی بارش ہے ‘ جس کا ذکر قرآن حکیم میں کئی جگہ آیا ہے۔ اَفَلَمْ یَکُوْنُوْا یَرَوْنَہَا ج ” سفر شام کے دوران آتے جاتے قریش کے تجارتی قافلے جب ان بستیوں کے کھنڈرات کے پاس سے گزرتے ہیں تو کیا یہ لوگ انہیں نگاہ عبرت سے نہیں دیکھتے ؟ بَلْ کَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا ” اصل بات یہ ہے کہ انہیں بعث بعد الموت پر یقین نہیں ہے۔ یہی سبب ہے کہ ایسے عبرت انگیز حقائق پر سے یہ لوگ بغیر کوئی سبق حاصل کیے اندھوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔