Ash-Shu'araa 26:225

Ash-Shu'araa · from ayah 225

26:225

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَ ۟ۙاَلَمۡ تَرَ اَنَّهُمۡ فِىۡ كُلِّ وَادٍ يَّهِيۡمُوۡنَۙ

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do you not see that in every valley they roam

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 11 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:225

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شاعر ایک ایک بیابان میں سر ٹکراتے پھرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تم نے نہ دیکھا کہ وہ ہر نالے میں سرگرداں پھرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ (شعراء) ہر وادئ (خیال) میں (یونہی) سرگرداں پھرتے رہتے ہیں (انہیں حق میں سچی دلچسپی اور سنجیدگی نہیں ہوتی بلکہ فقط لفظی و فکری جولانیوں میں مست اور خوش رہتے ہیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا تو نے نہیں دیکھا کہ بیشک وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ (خیالوں کی) ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا نہیں دیکھتے کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ کس طرح بھٹکتے پھرتے ہیں ہر وادی میں

— مولانا اسحاق مدنی

کیا تجھے خبر نہیں کہ وہ (شاعر) ہر میدان میں حیران پھرا کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں رہتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سرمارتے پھرتے ہیں ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Do you not see that they wander about in every valley

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Did you not see that they wander in every valley,

— Muhammad Taqi Usmani

Did you not see that they wander in every valley,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

See you not that they speak about every subject in their poetry

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Hast thou not seen how they stray in every valley,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do you not see that in every valley they roam

— Saheeh International

Have you not seen them wandering and bewildered in every valley

— Muhammad Sarwar

Do you not see that they wander about bewildered in every valley?

— Muhammad Habib Shakir

Observest thou not, that they Wander about every vale.

— Abdul Majid Daryabadi

Seest thou not that they wander distracted in every valley?-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:225

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 221–227

شیاطین اور جادوگر مشرکین کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اسکو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 143 یعنی کوئی ایک متعین راہ نہیں ہے جس پر وہ سوچتے اور اپنی قوت گویائی صرف کرتے ہوں، بلکہ ان کا تو سَنِ فکر ایک بےلگام گھوڑے کی طرح ہر وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے اور جذبات یا خواہشات و اغراض کی ہر نئی رَو ان کی زبان سے ایک نیا مضمون ادا کراتی ہے جسے سوچنے اور بیان کرنے میں اس بات کا کوئی لحاظ سرے سے ہوتا ہی نہیں کہ یہ بات حق اور صدق بھی ہے۔ کبھی ایک لہر اٹھی تو حکمت و موعظت کی باتیں ہونے لگیں اور کبھی دوسری لہر آئی تو اسی زبان سے انتہائی گندے سفلی جذبات کا ترشح شروع ہوگیا۔ کبھی کسی سے خوش ہوئے تو اسے آسمان پر چڑھا دیا اور کبھی بگڑ بیٹھے تو اسی کو تحت الثریٰ میں جا گرایا۔ ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 224–227

شعر کی تعریف وَالشُّعَرَاۗءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ ، اصل لغت میں شعر ہر اس کلام کو کہا جاتا ہے جس میں محض خیالی اور غیر تحقیقی مضامین بیان کئے گئے ہوں جس میں کوئی بحر، وزن، ردیف اور قافیہ کچھ شرط نہیں، فن منطق میں بھی ایسے ہی مضامین کو ادلہ شعریہ اور قضایا شعریہ کہا جاتا ہے۔ اصطلاحی شعر و غزل میں بھی چونکہ عموماً خیالات کا ہی غلبہ ہوتا ہے اس لئے اصطلاح شعراء میں کلام موزوں مقفّٰی کو شعر کہنے لگے۔ بعض مفسرین نے آیات قرآن بَلْ هُوَ شَاعِرٌ، شَاعِرٍ مَّجْــنُوْنٍ ، شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ وغیرہ میں شعر اصطلاحی کے معنی میں مراد لے کر کہا کہ کفار مکہ حضور ﷺ کو وزن دار، قافیہ دار کلام لانے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 224–227

آیت 227-244 آنحضرت پر اشعر ہونے کے الزام کی تردید اوپر کی آیات میں آنحضرت ﷺ پر کہانت کے الزام کی تردید ہوئی۔ اب آگے کی آیات میں شعر و شاعری کے الزام کی تردید آرہی ہے۔ قریش آنحضرت ﷺ کو شاعر یا قرآن کو جو شعر کہتے تھے تو شعر یا شاعری کے معروف معنی میں نہیں کہتے تھے۔ آخر وہ ایسا کہہ بھی کیسے سکتے تھے، معروف معنی میں نہ آنحضرت ﷺ کو شاعر کہنے کی کوئی وجہ تھی اور نہ قرآن کو شعر کہنے کی۔ اصل یہ ہے کہ جب قریش نے دیکھا کہ قرآن کی فصاحت و بلاغت دلوں کو مفتوح کرتی جا رہی ہے اور اس طرح اس کے خدائی کتاب ہونے کا دعویٰ روز بروز مسحتکم ہوتا جا رہا ہے تو اس کے توڑ کے لئے انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ قرآن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 224–226

226-1شاعروں کی اکثریت چونکہ ایسی ہوتی ہے کہ وہ اصول کی بجائے، ذاتی پسند و ناپسند کے مطابق اظہار رائے کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں غلو اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں اور شاعرانہ تخیلات میں کبھی ادھر اور کبھی ادھر بھٹکتے ہیں، اس لئے فرمایا کہ ان کے پیچھے لگنے والے بھی گمراہ ہیں، اسی قسم کے اشعار کے لئے حدیث میں بھی فرمایا گیا ہے کہ ' پیٹ کو لہو پیپ سے بھر جانا، جو اسے خراب کر دے، شعر سے بھر جانے سے بہتر ہے ' (ترمذی و مسلم وغیرہ)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

52: یہ کفار کی دوسری بات کی تردید ہے کہ نبی کریم ﷺ معاذاللہ شاعر ہیں اور قرآن کریم شاعری کی کتاب ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ شاعری تو ایک تخیلاتی چیز ہے جس کا بسا اوقات حقیقت سے تعلق نہیں ہوتا، چنانچہ وہ اپنی خیالی وادیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں، طرح طرح کے مبالغے کرتے ہیں اور تشبیہات اور استعاروں میں حد سے گزر جاتے ہیں، اس لئے جو لوگ شاعری ہی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیتے ہیں، ان کو کوئی بھی اپنا دینی پیشوا نہیں بناتا، اور اگر کوئی ان کو اپنا مقتدا بناتا بھی ہے تو وہ جو خود گمراہ ہو، اور حقیقت کے بجائے خیالی دنیا میں رہنا چاہتا ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 221–226

ھل انیئکم ……کذبون (041) عربوں میں کاہن ہوا کرت ی تھے ، ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جن انہیں غیب کی خبریں دیتے ہیں اور لوگ ان کے ہاں جاتے تھے اور ان کی پیش گوئیاں سنتے تھے ان کاہنوں میں سے اکثر جھوٹے ہوتے تھے۔ ان کاہنوں کی تصدیق وہ لوگ کرتے تھے جو ہر قسم کے اوبام اور ہر قسم کے افسانوں پر یقین کرنے کے لئے تیار ہوتے تھے لیکن یہ کاہن بہرحال لوگوں کو کسی بھلائی کی طرف نہ بلاتے تھے اور نہ لوگوں کی قیادت راہ ایمان کی طرف کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا حال ان سے بہت مختف تھا۔ رسول اللہ کو قرآن کے ذریعہ ایک نہایت ہی ٹھوس نظام زندگی کی طرف بلاتے تھے۔ یہ کاہن قرآن کے بارے میں کبھی کہتے یہ شعر ہے اور حضور ﷺ کے بارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

13 یعنی جو مضمون پکڑ لیا اسی کو بڑھاتے چلے گئے، کسی کی تعریف کی تو آسمان پر چڑھا دیا، مذمت کی تو ساری دنیا کے عیب اس میں جمع کردیئے۔ موجود کو معدوم اور معدوم کو موجود ثابت کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ غرض جھوٹ، مبالغہ اور تخیل کے جس جنگل میں نکل گئے، پھر مڑ کر نہیں دیکھا۔ اسی لیے شعر کی نسبت مشہور ہے۔ " اکذب او احسن او "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 225 اَلَمْ تَرَ اَنَّہُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّہِیْمُوْنَ ” غزل کے ایک شعر میں شاعر لوگ مشرق کی بات کرتے ہیں تو دوسرے میں مغرب کی۔ ایک مصرعے میں اپنی آسمان کی سیر کا ذکر کرتے ہیں تو دوسرے میں زمین پر آکر صحرا نوردی کرتے نظر آتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

135 ان دو آیات میں شاعروں کی دو خصلتیں بیان فرمائیں ایک یہ کہ ان کے کلام میں تخیل ہی تخیل اور غلو کی حد تک پہنچائیں مبالغہ ہوتا ہے جس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہوتی۔ مثلاً کسی کی تعریف کرنے بیٹھے تو اسے آسمان پر چرھا دیا کسی کی ہجو پر آئے تو اسے دنیا کی بدترین مخلوق بنا کر پیش کردیا۔ پھر اگر کسی سے کچھ انعام و اکرام مل گیا تو اس کی مدح سرائی شروع کردی۔ کسی کی پگڑی اچھالی۔ کہیں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکائی اور عشق لگائے بغیر تو کسی شاعر کی شاعری مکمل ہی نہیں ہوتی۔ کہیں محبوبہ سے شکایتیں ہیں، تو کہیں رقبیوں پر برس رہے ہیں، دور اذکار استعاروں اور تشبیہات کا استعمال اور اپنی ثناخوانیاں جن میں حقیقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

121۔ (خیالی مضامین کی تلاش میں ٹکریں مارتے، ٹھوکریں کھاتے) یعنی شاعروں کو واقعیت و حقیقت سے واسطہ کیا ہوتا ہے ؟ یہ تو تمامتر تخیل پرستی میں مبتلا رہتے ہیں۔ قرآن جو سرتا سر دفتر حقائق ہے وہ تو شعر و شاعری کی بالکل ضد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 192–227

آیت نمبر 192 تا 227 ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الم ترانہم فی کل واد یہیمون۔ (اے مخاطب) کیا تجھے معلوم نہیں کہ ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 225–226

(225۔ 226) اے محمد ﷺ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ وہ شاعر لوگ خیالی مضامین کے ہر میدان میں حیران ٹکریں مارتے ہوئے مضامین کی تلاش میں پھرا کرتے ہیں کہ کسی کی تعریف کردی تو کسی کی برائی کردی اور وہ زبان سے ایسی باتیں کرتے اور آسمان کے قلابے ملاتے اور شیخیاں بگھارتے ہیں کہ جن کو وہ کر بھی نہیں سکتے اور ایسا شاعر اور اس کی راہ پر چلنے والا دونوں گمراہ ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ والشعرآء یتبعھم الغاون“۔ (الخ) نیز ابن جریر ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے عوفی کے واسطہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے زمانہ میں دو شخصوں نے ایک دوسرے کی برائی کی ایک تو ان میں سے انصاری تھا اور دوسرا دوسری قوم کا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِيْ كُلِّ وَادٍ يَّهِيْمُوْنَ : یہ شاعروں کی دوسری خصوصیت ہے جو یہاں بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب انھیں کوئی خیال آتا ہے اسے اچھوتے انداز میں شعر کے قالب میں ڈھال دیتے ہیں، انھیں اس سے غرض نہیں کہ وہ رحمانی ہے یا شیطانی، روحانی ہے یا نفسانی، اس سے خیر کے جذبات پیدا ہوں گے یا شر کے۔ کبھی کسی کی تعریف کرکے اسے آسمان پر چڑھا دیتے ہیں اور کبھی کسی کی ہجو اور مذمت کرکے اسے آسمان سے زمین پر پٹخ دیتے ہیں۔ ایک شعر سے معلوم ہوگا کہ شاعر ولی ہے جب کہ دوسرے شعر سے پتا چلے گا کہ وہ شیطان ہے۔ ایک ہی سانس میں وہ نیکی اور بدی دونوں کی باتیں بےتکلف کہہ دے گا، لیکن کہے گا ایسے مؤثر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 224–227

(والشعر یتبعہم الغاون۔۔۔۔۔ ) مسئلہ نمبر 1 :۔ الشعراء۔ یہ شاعر کی جمع ہے جس طرح جاہل کی جمع جہلاء ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد کفار ہیں ان کی جنوں اور انسانوں میں گمراہ لوگ پیروی کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : الغاون سے مراد حق سے بھٹکے ہوئے ہیں اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ شعراء بھی گمراہ ہیں کیونکہ اگر وہ گمراہ نہ ہوتے تو ان کے پیروکار گمراہ نہ ہوتے ہم سورة نور میں بیان کرچکے ہیں کہ کن اشعار کو پڑھنا جائز ہے، کن کو پڑھنا مکروہ ہے اور کن کو پڑھنا حرام ہے۔ امام مسلم نے عمرو بن شرید سے وہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں ایک روز میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا پوچھا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 224–227

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانی میں دو آدمیوں (یعنی دو شاعروں) باہم ہجو کا مقابلہ کیا ایک انصاری تھا اور دوسرا کسی اور قبیلہ سے تھا دونوں میں سے ہر ایک کے ساتھیوں میں کچھ بیوقوف قسم کے لوگ تھے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی آیت ” والشعراء یتبعہم الغاون “ الآیات۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے اس طرح روایت کیا۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں دو شاعروں نے باہم ہجو کا مقابلہ کیا اور ان میں سے ہر ایک کے ساتھ لوگوں کی جماعتیں تھیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی آیت ” والشعراء یتبعہم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَلَمْ تَرَ [ کیا آپ ﷺ نے غور نہیں کیا ] اَنَّهُمْ [ کہ وہ لوگ ] فِيْ كُلِّ وَادٍ [ ہر ایک وادی میں ] يَّهِيْمُوْنَ [ آوارہ پھرتے ہیں ] ہ ی م (ض) فیما (1) پیاسا ہونا۔ (2) آوارہ پھرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 225 ۔ ھائم ج ہیم۔ فاعل کے وزن پر صفت ہے۔ پیاسا۔ فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِيْمِ (پھر پینے والے ہیں پیاسوں کا پینا) 56/55 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد شاعروں کی بد حالی اور کذب بیانی کا حال بتایا (اَلَمْ تَرَ اَنَّہُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّہِیْمُوْنَ ) (اے مخاطب کیا تو نے نہیں دیکھا کہ شاعر ہر وادی میں یعنی ہر میدان میں حیران پھرا کرتے ہیں) جھوٹی باتیں تلاش کرنے کے لیے ٹکریں مارتے ہیں اور ایسی چیز نکال کر لاتے ہیں جو ان کے متبعین کو پسند ہوں (وَاَنَّہُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لاَ یَفْعَلُوْنَ ) (اور وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جن پر عمل نہیں کرتے) روح المعانی ص 146 ج 19 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ آیت کریمہ شعراء مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی انہوں نے کہا کہ محمد جس طرح باتیں بیان کرتے ہیں ہم بھی اسی طرح کہہ سکتے ہیں یہ لوگ فخر دو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 224–227

ابطال شاعریت کفار آنحضرت ﷺ کو کبھی کاہن بتاتے اور کبھی شاعر بتاتے۔ گزشتہ آیات میں آپ کے کاہن ہونے کی تردید کی اب آئندہ آیت میں آپ کے شاعر ہونے کی تردید کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ قرآن کو شعر کہنا اور حضور پر نور ﷺ کو شاعر کہنا مشرکین کی کھلی ہٹ دھرمی ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور شاعروں کی پیروی کرتے ہیں۔ گمراہ لوگ جو خیالی اور نفسانی چیزوں کے دلدادہ ہوتے ہیں برخلاف محمد رسول اللہ ﷺ کے پیروی کرنے والوں کے، کہ وہ نہایت متقی اور پرہیزگار ہیں اور آخرت کے طلبگار اور دنیا سے بیزار ہیں۔ پس اگر محمد ﷺ شاعر ہوتے اور شاعروں کی طرح نفسانی اور خیالی باتیں کیا کرتے تو آپ ﷺ کے پیروی کرنے والے فسق وفجور سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

78:۔ یہ شاعروں کے گمراہ ہونے کی پہلی دلیل ہے۔ یہ بات مشاہدے میں آچکی ہے کہ شعراء ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔ وہ حق و باطل ایک ہی چیز کی مدح و ہجاد اور افراط وتفریط غرضیکہ ہر میدان میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ” وانھم یقولون الخ “ یہ ان کے غاوی (گمراہ) ہونے کی دوسری دلیل ہے کہ ان کے قول اور عمل میں موافقت نہیں ہوتی وہ زبان سے کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ اور ہیں۔ لیکن آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی ان دونوں گمراہیوں سے پاک ہے۔ آپ کی زبان سے صرف حق ہی نکلتا ہے اور آپ جو کچھ زبان سے فرماتے ہیں اس کے موافق عمل بھی کرتے ہیں۔ فقد ظھر بہذا ان حال محمد ﷺ ما کان یشبہ حال شعراء (کبیر ج 6 ص 594) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 224–227

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر تسلی کا مضمون بیان کیا گیا ہے ۔ مختلف انبیاء علہیم السلام اور ان کی قوموں کا حال بیان کر کے قوموں کی تباہی کا ذکر کیا گیا ہے تا کہ حضور ﷺ اور آپ کے ماننے والے دل برداشتہ نہ ہوں اور جان لیں کہ اہل حق کو ہمیشہ ایسی ہی تکالیف برداشت کرنا پڑی ہیں ، تا ہم انجام ہمیشہ انہیں کا اچھا ہوتا رہا ہے اور نافرمان ناکامو نامراد ہی رہے ہیں ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی چار بنیادی مسائل بیان ہوئے ہیں یعنی توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت صداقت ، گزشتہ درس میں صداقت قرآن کا بیان تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا بےمثال علام ہے اور ایسا کلام نازل کرنا شیاطین کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِيْ كُلِّ وَادٍ يَّهِيْمُوْنَ 225؀ۙ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 224–227

1 ؎ یعنی جب ان کی کسی نے ہجو کر کے ستایا تب وہ کسی کو ستاتے ہجو کرتے بدلہ لیتے ہیں ابتداء نہیں کرتے جیسا کہ حسان بن ثابت انصاری۔ 12 منہ۔ 2 ؎ یعنی ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 222–226

وَالشُّعَرَآئُ یَـتَّبِعُھُمُ الْغَاوٗنَ ۔ اَلَمْ تَرَاَنَّھُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّھِیْمُوْن۔ وَاَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ مَالاَ یَفْعَلُوْنَ ۔ اِلاَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّانْتَصَرُوْا مِنْ م بَعْدِمَاظُلِمُوْا ط وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ ۔ (الشعرآء : 224 تا 227) (اور شعراء، بہکے ہوئے لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں۔ وہ کہا کرتے ہیں ایسی باتیں جن پر وہ خود عمل نہیں کرتے۔ بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے جنھوں نے نیک اعمال کیے اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 225–227

فہم القرآن ربط کلام : اکثر شعراء اوٹ پٹانگ باتیں کرتے ہیں اگر ان کے کلام میں کوئی اچھی بات پائی جائے تو اس پر خود عمل پیرا نہیں ہوتے سوائے ان شاعروں کے جو صحیح العقیدہ اور صالح کردار ہوتے ہیں۔ شعراء اور ان کے متبعین کی گمراہی کا ذکر کرنے کے بعد ان لوگوں کو اس گروہ سے مستثنیٰ قرار دیا ہے جو صحیح العقیدہ اور نیک اعمال کرنے کے ساتھ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنے والے ہیں۔ آیات کے سیاق وسباق کے حوالے سے ایمان والوں سے مراد یہاں سب سے پہلے صحیح العقیدہ اور صالح کردار شاعر ہیں۔ کیونکہ اس سے پہلے بےعمل اور بیہودہ شاعروں کا تذکرہ ہے اس لیے یہاں پہلے مخاطب نیک شعراء ہیں۔ نیک شاعر اور عقیدہ توحید…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قراءت : یَتْبَعُھْم نافع نے پڑھا ہے۔ 225: اَلَمْ تَرَاَنّّھُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ (کیا تجھے معلوم نہیں کہ وہ ہر وادی میں) کلام کی وادی مراد ہے۔ یَّھِیْمُوْنَ (سرگرداں پھرتے ہیں) ۔ نحو : یہ اَنَّ کی خبر ہے وہ کذب کے ہر فن میں فرماتے اور بات بناتے ہیں۔ نمبر 2۔ ہر لغو و باطل میں گھسے پھرتے ہیں۔ الھائم جو بلا مقصد جدھر منہ آئے چل دے۔ یہ درحقیقت تمثیل ہے کہ وہ کلام کی ہر گھاٹی میں جاتے ہیں اور لوگوں میں سے سب سے بڑے بزدل کو عنترہ (جاہلیت کے زمانہ کا مشہور بہادر ہے) سے بڑا بہادر اور ابخل الناس کو حاتم سے بڑا سخی قرار دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

225۔ الم تر انھم فی کل واد، وادی سے مراد کلام کی ایک نوع مراد ہے۔ یھیمون، وہ اسی میں سرگرداں اور راہ حق سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ ھائم کسی شخص کا ایسی طرف جانا جس طرح اس کو کوئی کام نہ ہو۔ ابن عباس اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں ہر لغو بات جس میں وہ غوطہ لگاتے ہیں قتادہ کا قول ہے شعراء تعریف بھی جھوٹی کرتے ہیں اور ہجو بھی جیسا کہ کہاجاتا ہے ، انافی واد وانت فی واد۔ میں ایک وادی میں ہوں اور تو دوسری وادی میں ہے۔ بعض نے کہا کہ فی کل واد یھیمون، کا مطلب بیان کیا ہے کہ حروف تہجی کے حساب سے ہر حرف پر اشعار کے قافیے بندی بناتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 225–226

225 تا 226۔ معتبر سند سے ادت مضرد بخاری مستدرک حاکم تفسیر ابن ابی حاتم میں جو شان نزول ان آیتوں کو حضرت عبداللہ بن عباس وغیرہ کی روایت 2 ؎ سے بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عرب میں دو قبیلوں کے لوگوں میں کچھ مخالفت ہوجاتی تھی تو ایک شاعر ایک قبیلہ کی طرف ہوجاتا تھا اور دوسرا شاعر دوسرے قبیلہ کی طرف اور ہجو کے قصیدے دونوں طرف سے ہوا کرتے تھے اور جس طرح اس زمانہ کے شاعر فارسی اور اردو میں فرضی اور جھوٹے مضمون باندھتے ہیں اسی طرح ایک طرف کا شاعر دوسری طرف کے لوگوں کی صحیح اور غلط ہجو کیا کرتا تھا اور قبیلہ کے لوگ اپنی طرف والے شاعر کے ساتھ بن جایا کرتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے شاعروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 221–227

آیت 221 سے 227 یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد ﷺ پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد ﷺ شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا : (ھل انبئکم) ” کیا تمہیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟ “ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں، یعنی میں تمہیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں۔ (تنزل علی کل افاک) ” ہر کذاب ](قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیطان نازل ہوتے ہیں۔ “ (اثیم) یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان۔۔۔ اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 224–227

شعراء کی دو اقسام قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

120 شعراء کا کام ہر وادی میں بھٹکنا ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں "۔ وادی سے یہاں پر مراد وادی کلام ہے ۔ " اَیْ مِنْ اوَدیۃ الکلام " ۔ (جامع البیان : ج 2 ص 107) ۔ یعنی ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ کبھی وہ کلام کی کسی وادی میں بھٹک رہے ہوتے ہیں اور کبھی کسی وادی میں۔ سو کبھی وہ کسی کی تعریف کر کے اس کو آسمان پر چڑھا دیں گے اور سورج و چاند کی صفات اس میں ثابت کردیں گے۔ اور پھر موڈ بدلا تو اس کو نقائص و معائب کے ایسے گڑھے میں ڈال دیں گے کہ دنیا بھر کے عیوب اس میں جمع کردیں گے۔ کہ شعر کی خاصیت ہی یہ ہے کہ اس میں جتنا جھوٹ اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 192–227

قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 192–227

آیات نمبر 192 تا 227: اسرار و معارف اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

14 ۔ یعنی کوئی نیک متعین راہ نہیں جس پر وہ سوچتے اور اپنا کلام کہتے ہوں بلکہ ایک بےلگام گھوڑے کی طرح مضمون کی جس وادی کی طرف ان کا منہ اٹھ جاتا ہے اس میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ لوگوں کی تعریف و مذمت کے قصیدے گاتے رہتے ہیں۔ نرے سر پھرے اور بندہ شکم ہوتے ہیں نہ ان کے کسی قول کا اعتبار ہوتا ہے اور نہ فعل کا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 225–226

(26:225) واد اصل میں وادی تھا۔ (ودی مادہ) الوادی اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پانی بہتا ہو اسی سے وہ پہاڑوں کے درمیان کشادہ زمین کو وادی کہا جاتا ہے اس کی جمع اور یۃ ہے۔ جیسے ناد کی جمع اندیۃ ہے اور ناج کی جمع انجیۃ ہے۔ استعارہ کے طور پر مذہب، طریقہ اور اسلوب بیان کو وادی کہا جاتا ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے فلان فی واد غیر وادیک۔ کہ فلاں کا مسلک تجھ سے جدا گانہ ہے۔ یہاں اس آیت میں بھی فی کل واد سے مختلف اسالیب سخن مراد ہیں َ جیسے مدح۔ ہجو۔ جدل۔ غزل وغیرہ۔ چناچہ شاعر نے کہا ہے :۔ اذاما قطعنا وادیا من حدیثنا الی غیرہ زدنا الاحادیث وادیا جب ہم موضوع سخن کی ایک وادی کو قطع کرلیتے ہیں تو دوسری وادی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 214–227

لغات القرآن : آیت نمبر 214 تا 227 : عشیرۃ (قبیلہ۔ خاندان۔ رشتہ دار) اخفض (جھکا دے۔ عاجزی اور تواضع کر) جناح (بازو۔ پر) ‘ بری ئ (بیزار ۔ نفرت) ‘ توکل (بھروسہ کر) تقلب (الٹنا پلٹنا۔ اٹھنا بیٹھنا) ‘ افاک (بہتان و الزام لگانے والا) ‘ اثیم (گناہ کرنے والا۔ گناہ گار) ‘ الغاون (گمراہ لوگ) ‘ یھیمون (وہ گھومتے ہیں) ‘ انتصروا (انہوں نے بدلہ لیا) ‘ ای (کونسا) ‘ منقلب (لوٹنے والا) ‘ ینقلبون (وہ لوٹ کرجاتے ہیں) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 214 تا 227 : نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے محبوب پیغمبر اور معصوم ہیں جن کی طرف کسی گناہ ‘ خطا یا شرک کا تصور کرنا بھی گناہ ہے۔ آپ کی سیرت و کردار اور قول و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 224–227

شاعروں کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول۔ یہ آیت شعراء کفار کے حق میں نازل ہوئی جو نبی کی ہجو میں شعر کہتے تھے جیسا محمد ﷺ کہتے ہیں ایسا ہم بھی کہہ لیتے ہیں اور ان کی قوم کے گمراہ لوگ ان سے ان اشعار کی نقل کرتے تھے ان لوگوں کی مذمت میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ لوگ فنون شعر سے ہر فن میں بھٹکتے پھرا کرتے ہیں اور رسول اللہ کی ہجو میں شعر کہتے ہیں ایسے شاعروں کا کچھ اعتبار نہیں جھوٹے اور مبالغہ آمیز بندشیں باندھتے ہیں اور ان میں سے جو ایماندار دین دار لوگ ہیں اور نیک کام کرتے ہیں اور جو رسول اللہ ﷺ کی نعت میں تعریف کرتے ہیں اور اپنے اشعار میں خدا ورسول کو محبت سے یاد کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 224–226

[39] یعنی شاعر کو عمل کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ مضامین شجاعت و مردانگی باندھے گا لیکن خود بھاگنے والوں میں سب سے آگے ہوگا۔ وہ عصمت و عفت کی قصیدہ خوانی کرے گا اور خود انتہا درجے کا بدچلن اور سیہ کار ہوگا۔ عام دستور ہر ملک و قوم کے شاعروں کا یہی ہے۔ شاعروں کی یہ خصوصیت نبی ﷺ کے طرزعمل کی عین ضد تھی۔ آپ کے قول و فعل کی مطابقت ایسی صریح حقیقت تھی جس سے آپ کے گردوپیش معاشرے میں کوئی شخص بھی انکار نہ کرسکتا تھا۔ لہذا کفار کا آپ ﷺ کو شاعر کہنا حقیقت کے خلاف تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 224–227

ف 2: حضور کے متعلق ایک شبہ یہ بھی تھا کہ آپ شاعری میں اور محض دقیق قسم کی باتوں سے لوگوں کے دلوں کو موہ لیتے ہیں ۔ ورنہ دراصل ان میں کوئی صداقت نہیں ارشاد فرمایا ۔ کہ تم لوگ منصب الموت سے آگاہ نہیں ۔ تم جانتے کہ کہ نبوت کس قدر اعلیٰ درجے کی چیز ہے ۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ شعراء کس قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ اور ان کا اتباع یس قماش کے لوگ کرتے ہیں ! نبوت اور شعاری میں کیا نسبت ۔ نبوت تو سراسر عمل کا نام ہے ۔ اور شاعری ہمہ گمراہی وبے عملی ۔ الشعراء کا کوئی خاص نصب العین نہیں ہوتا ۔ وہ محض بیکار اور بےعمل لوگ ہوتے ہیں ۔ اور ہر رو میں بہ جاتے ہیں ۔ بخلاف اس کے انبیاء سراپا فکر کا مجسمہ اور نہایت سلیم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(225) اے مخاطب تجھ کو معلوم کہ یہ شاعر ہر میدان میں حیران و سرگرداں ٹکریں مارتے پھر ا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 225–227

ف 3۔ یعنی شرع کے خلاف نہ ان کا قول ہے نہ فعل، یعنی ان کے اشعار میں بےہودہ مضامین نہیں ہیں۔ 4۔ مراد اس سے جہنم ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شاعر لوگ تو ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں : 225۔ (یھیمون) کا اصل مادہ ہ ی م ہے اور ہائم وہ ہے جو سخت پیاسا ہو اور جمع اس کی ھیم ہے قرآن کریم میں ہے (فشاربون شرب الھیم) (الواقعہ 56 : 55) ” اور وہ اس طرح پئیں گے جیسے پیاسے اونٹ پیتے ہیں “ ھیام ایک بیماری ہے جو اونٹ کو لگ جاتی ہے کہ اس کی پیاس نہیں اترتی اور اس کی مثال اس کے ساتھ دی جاتی ہے جو سخت عشق میں مبتلا ہوجائے اس لئے اس جگہ (آیت) ” فی کل وادیھیمون) کے معنی ہوں گے کہ شاعر لوگ ہر نوع کے کلام میں پھرتے رہتے ہیں کبھی مدح میں غلو کرتے ہیں اور کبھی مذمت میں اپنے تخیل کی پرواز میں ‘ کبھی اللہ سے شکوہ کرتے ہیں اور کبھی اس شکوہ کا جواب شروع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 224–227

وَالشُّعَرَ‌اءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ ﴿224﴾ As for the poets, they are followed by the straying people. - 26:224. شِعر (Shi'r) which is the origin of Shu` ara' and is translated as poetry; is an Arabic word which lexically means any statement based on imagination and ideas not confirmed by serious proofs. It is not necessary for being a شِعر 'Shi'r' in original Arabic to have a particular rhythm or qafiyah or radif. Since the technical شِعر shi` r (poetry) which is always based on particular rhythms is generally composed of imaginary thoughts, the technical definition of شِعر shi` r…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

143 That is, they follow no fixed pattern for their thought and speech. but wander aimlessly in every valley. Every new impulse makes them take up a new theme regardless as to whether it has any truth in it or not. Under one momentary impulse they would start uttering wise things; under another they would give expression to filthy and base feelings. If they felt pleased with somebody, they would exaggerate his praises, and if they felt offended by him, they would condemn him and run him down to hell. If they had a selfish motive, attached with somebody, they would feel no hesitation in giving…

Read the full tafseer →