Ash-Shu'araa 26:224

Ash-Shu'araa · from ayah 224

26:224

وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ ۟ؕوَالشُّعَرَآءُ يَتَّبِعُهُمُ الۡغَاوٗنَؕ

اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the poets - [only] the deviators follow them;

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 11 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:224

رہے شعراء، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

شاعروں کی پیروی وه کرتے ہیں جو بہکے ہوئے ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

رہے شاعر لوگ، تو ان کے پیچھے تو بےراہ لوگ چلتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور شاعروں کی پیرو ی گمراہ کرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور شاعروں کی پیروی بہکے ہوئے لوگ ہی کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور شاعر لوگ، ان کے پیچھے گمراہ لوگ لگتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ ہی کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور شاعروں کی پیروی گمراہ کرتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

رہے شاعر تو ان کے پیچھے تو گمراہ لوگ ہی چلا کرتے ہیں۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور رہے شاعر تو ان کی پیروی بدراہ لوگ کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور شعراء کی پیروی تو گمراہ لوگ کرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

As for poets, only the wayward follow them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for the poets, they are followed by the straying people.

— Muhammad Taqi Usmani

As for the poets, they are followed by the straying people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

As for the poets, the astray follow them,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the poets - [only] the deviators follow them;

— Saheeh International

Only the erring people follow the poets.

— Muhammad Sarwar

And as to the poets, those who go astray follow them.

— Muhammad Habib Shakir

As for the poets -it is the seduced who follow them.

— Abdul Majid Daryabadi

And the Poets,- It is those straying in Evil, who follow them:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:224

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 221–227

شیاطین اور جادوگر مشرکین کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اسکو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 142 یعنی شاعروں کے ساتھ لگے رہنے والے لوگ اپنے اخلاق، عادات و خصائل اور افتاد مزاج میں ان لوگوں سے بالکل مختلف ہوتے ہیں جو محمد ﷺ کے ساتھ تمہیں نظر آتے ہیں۔ دونوں گروہوں کا فرق ایسا کھلا ہوا فرق ہے کہ ایک نظر دیکھ کر ہی آدمی جان سکتا ہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں اور وہ کیسے۔ ایک طرف انتہائی سنجیدگی، تہذیب، شرافت، راستبازی اور خدا ترسی ہے۔ بات بات میں ذمہ داری کا احساس ہے۔ برتاؤ میں لوگوں کے حقوق کا پاس ولحاظ ہے۔ معاملات میں کمال درجہ کی دیانت و امانت ہے اور زبان جب کھلتی ہے خیر ہی کے لیے کھلتی ہے، شر کا کلمہ کبھی اس سے ادا نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ یہ کہ ان لوگوں کو دیکھ کر صاف معلوم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 224–227

شعر کی تعریف وَالشُّعَرَاۗءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ ، اصل لغت میں شعر ہر اس کلام کو کہا جاتا ہے جس میں محض خیالی اور غیر تحقیقی مضامین بیان کئے گئے ہوں جس میں کوئی بحر، وزن، ردیف اور قافیہ کچھ شرط نہیں، فن منطق میں بھی ایسے ہی مضامین کو ادلہ شعریہ اور قضایا شعریہ کہا جاتا ہے۔ اصطلاحی شعر و غزل میں بھی چونکہ عموماً خیالات کا ہی غلبہ ہوتا ہے اس لئے اصطلاح شعراء میں کلام موزوں مقفّٰی کو شعر کہنے لگے۔ بعض مفسرین نے آیات قرآن بَلْ هُوَ شَاعِرٌ، شَاعِرٍ مَّجْــنُوْنٍ ، شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ وغیرہ میں شعر اصطلاحی کے معنی میں مراد لے کر کہا کہ کفار مکہ حضور ﷺ کو وزن دار، قافیہ دار کلام لانے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 224–227

آیت 227-244 آنحضرت پر اشعر ہونے کے الزام کی تردید اوپر کی آیات میں آنحضرت ﷺ پر کہانت کے الزام کی تردید ہوئی۔ اب آگے کی آیات میں شعر و شاعری کے الزام کی تردید آرہی ہے۔ قریش آنحضرت ﷺ کو شاعر یا قرآن کو جو شعر کہتے تھے تو شعر یا شاعری کے معروف معنی میں نہیں کہتے تھے۔ آخر وہ ایسا کہہ بھی کیسے سکتے تھے، معروف معنی میں نہ آنحضرت ﷺ کو شاعر کہنے کی کوئی وجہ تھی اور نہ قرآن کو شعر کہنے کی۔ اصل یہ ہے کہ جب قریش نے دیکھا کہ قرآن کی فصاحت و بلاغت دلوں کو مفتوح کرتی جا رہی ہے اور اس طرح اس کے خدائی کتاب ہونے کا دعویٰ روز بروز مسحتکم ہوتا جا رہا ہے تو اس کے توڑ کے لئے انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ قرآن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 224–226

226-1شاعروں کی اکثریت چونکہ ایسی ہوتی ہے کہ وہ اصول کی بجائے، ذاتی پسند و ناپسند کے مطابق اظہار رائے کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں غلو اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں اور شاعرانہ تخیلات میں کبھی ادھر اور کبھی ادھر بھٹکتے ہیں، اس لئے فرمایا کہ ان کے پیچھے لگنے والے بھی گمراہ ہیں، اسی قسم کے اشعار کے لئے حدیث میں بھی فرمایا گیا ہے کہ ' پیٹ کو لہو پیپ سے بھر جانا، جو اسے خراب کر دے، شعر سے بھر جانے سے بہتر ہے ' (ترمذی و مسلم وغیرہ)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 223–224

51: یعنی شیاطین کی باتوں پر بھروسہ کرنے والے کوئی نیک لوگ نہیں، گنہگار لوگ ہوتے ہیں اور ان شیاطین کا یہ دعوی بھی بالکل لغو ہے کہ انہیں غیب کی خبریں معلوم ہیں، ہوتا یہ ہے کہ کبھی فرشتوں کی کوئی بات ان کے کانوں میں پڑجاتی ہے تو وہ اس میں بہت سے جھوٹ شامل کرکے اپنے معتقدین کو آکر بتا دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 221–226

ھل انیئکم ……کذبون (041) عربوں میں کاہن ہوا کرت ی تھے ، ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جن انہیں غیب کی خبریں دیتے ہیں اور لوگ ان کے ہاں جاتے تھے اور ان کی پیش گوئیاں سنتے تھے ان کاہنوں میں سے اکثر جھوٹے ہوتے تھے۔ ان کاہنوں کی تصدیق وہ لوگ کرتے تھے جو ہر قسم کے اوبام اور ہر قسم کے افسانوں پر یقین کرنے کے لئے تیار ہوتے تھے لیکن یہ کاہن بہرحال لوگوں کو کسی بھلائی کی طرف نہ بلاتے تھے اور نہ لوگوں کی قیادت راہ ایمان کی طرف کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا حال ان سے بہت مختف تھا۔ رسول اللہ کو قرآن کے ذریعہ ایک نہایت ہی ٹھوس نظام زندگی کی طرف بلاتے تھے۔ یہ کاہن قرآن کے بارے میں کبھی کہتے یہ شعر ہے اور حضور ﷺ کے بارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 کافر لوگ پیغمبر کو کبھی کاہن بتاتے کبھی شاعر، سو فرمایا کہ شاعری کی باتیں محض تخیلات ہوتی ہیں تحقیق سے اس کو لگاؤ نہیں ہوتا، اس لیے اس کی باتوں سے بجز گرمی محفل یا وقتی جوش اور واہ واہ کے کسی کو مستقل ہدایت نہیں ہوتی حالانکہ اس پیغمبر کی صحبت میں قرآن سن سن کر ہزاروں آدمی نیکی اور پرہیزگاری پر آتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 223–224

آیت 224 وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوٗنَ ” مشرکین مکہّ میں سے کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ محمد ﷺ نے شاعری سیکھ لی ہے اور یہ کہ قرآن دراصل ان کا شاعرانہ کلام ہے۔ اس حوالے سے یہاں دراصل یہ بتانا مقصود ہے کہ شاعروں کے کردار کو تم لوگ اچھی طرح جانتے ہو۔ تم خود سوچو کہ ایسے کردار کو ہمارے رسول ﷺ کے کردار سے کیا نسبت ؟ اس آیت میں شعراء کے پیروکاروں کے بارے میں جو بنیادی اصول بتایا گیا ہے اس میں مجھے کوئی استثناء exception نظر نہیں آتا۔ اگرچہ علامہ اقبال کا معاملہ بہت سے اعتبارات سے مختلف ہے مگر ان کے پیروکاروں پر بھی قرآن کا یہ قانون سو فیصد منطبق ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو اس پہلو سے دیکھنا چاہیے کہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

134 کفار مکہ کا ایک الزام یہ بھی تھی کہ آپ) معاذ اللہ ( شاعر ہیں۔ اسی نسبت سے یہاں شاعروں اور شاعروں کو داد دینے والوں کے کچھ اوصاف بیان فرما دیئے۔ تاکہ ہر شخص از خود یہ فیصلہ کرلے کہ رسول اللہ ﷺ شاعر ہوسکتے ہیں یا نہیں ؟ پھر آپ کے پیرو کاروں کے اوصاف کیسے ہیں۔ اور شاعروں کے پیروکاروں کے کیسے ہوتے ہیں ؟ شاعروں کا کام محض گرمی محفل اور وقتی جوش پیدا کرنا ہوتا ہے جس کا مستقل ہدایت سے کچھ تعلق نہیں ہوتا۔ اور ان کی داد دینے والے بھی ہدایت کی راہ سے بےبہرہ اور۔۔ ہوئے لوگ ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

120۔ دوسرا بڑا شبہ مشرکین ومنکرین کا آپ ﷺ سے متعلق شاعر ہونے کا تھا۔ شاعر سے مراد ناظم نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں، جو خیالی فضا اور رنگین عبارت کو اپنا پیشہ بنائے ہوئے ہیں، عرب جاہلی کی تہذیب و تمدن میں شعراء کا ایک خاص اور بڑا ممتاز مرتبہ تھا۔ عیب کو ہنر، ہنر کو عیب بنادینا ان کا معمولی کرتب تھا۔ شاعروں کی ذریت تو انہیں لوگوں پر شامل رہتی ہے جو خود بھٹکے ہوتے ہیں۔ (آیت) ” الغاون “ کے تحت میں وہ سب لوگ آگئے، جن کے ایمان اور جن کے اخلاق کمزور ہیں۔ اے السفھاء اوالرادون او الشیاطین او المشرکون (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 192–227

آیت نمبر 192 تا 227 ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والشعرآء یتبعہم الغاون۔ اور شاعروں کی راہ تو بےراہ لوگ چلا کرتے ہیں بغوی نے ضحاک کی روایت سے بھی ایسا ہی نقل کیا ہے عطیہ کی ایک روایت بھی ابن عباس سے یہی ہے حضرت ابن عباس ؓ کا قول عطیہ نے بھی یہی نقل کیا ہے اور ابن ابی حاتم نے بھی بروایت عکرمہ اسی طرح بیان کیا ہے۔ لیکن اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ آیت میں وہ شعراء مراد ہیں جو کافروں کی حمایت میں رسول اللہ ﷺ : کی ہجاء کرتے تھے مقاتل نے ان کے نام اس طرح نقل کئے ہیں عبداللہ بن زبیر سہمی ‘ ہبیرہ بن ابی وہب مخزومی ‘ شافع بن عبدمناف ‘ ابو عزہ عبداللہ بن عمر جمحی۔ امیہ بن صلت ثقفی۔ یہ شعراء جھوٹی غلط سلط باتیں کہتے اور دعویٰ کرتے تھے کہ جیسا محمد کہتے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالشُّعَرَاۗءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَ : ”الْغَاوٗنَ“ ”غَوٰی یَغْوِيْ“ (ض) سے اسم فاعل کی جمع ہے، گمراہ لوگ۔ کفارِمکہ رسول اللہ ﷺ پر کاہن کے علاوہ شاعر ہونے کا الزام بھی لگاتے تھے، اس لیے آپ سے کہانت کی نفی کے بعد شاعر ہونے کی نفی بھی فرمائی۔ مزید دیکھیے سورة یٰس (69) اور حاقہ (40 تا 43) ان آیات میں شعراء کی تین خصوصیات بیان فرمائیں جن سے صاف ظاہر ہے کہ شعراء اور نبی کریم ﷺ میں اور شعر اور قرآن مجید میں مشرق و مغرب کا فرق ہے۔ پہلی خصوصیت یہ کہ شعراء کے پیچھے گمراہ، بھٹکے ہوئے اور اوباش قسم کے لوگ لگتے ہیں، پھر جن کے پیچھے لگنے والے گمراہ ہوں خود ان کے گمراہ ہونے میں کیا کمی ہوگی ؟ عرب کے سب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 224–227

(والشعر یتبعہم الغاون۔۔۔۔۔ ) مسئلہ نمبر 1 :۔ الشعراء۔ یہ شاعر کی جمع ہے جس طرح جاہل کی جمع جہلاء ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد کفار ہیں ان کی جنوں اور انسانوں میں گمراہ لوگ پیروی کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : الغاون سے مراد حق سے بھٹکے ہوئے ہیں اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ شعراء بھی گمراہ ہیں کیونکہ اگر وہ گمراہ نہ ہوتے تو ان کے پیروکار گمراہ نہ ہوتے ہم سورة نور میں بیان کرچکے ہیں کہ کن اشعار کو پڑھنا جائز ہے، کن کو پڑھنا مکروہ ہے اور کن کو پڑھنا حرام ہے۔ امام مسلم نے عمرو بن شرید سے وہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں ایک روز میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا پوچھا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 224–227

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانی میں دو آدمیوں (یعنی دو شاعروں) باہم ہجو کا مقابلہ کیا ایک انصاری تھا اور دوسرا کسی اور قبیلہ سے تھا دونوں میں سے ہر ایک کے ساتھیوں میں کچھ بیوقوف قسم کے لوگ تھے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی آیت ” والشعراء یتبعہم الغاون “ الآیات۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے اس طرح روایت کیا۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ زمانہ جاہلیت میں دو شاعروں نے باہم ہجو کا مقابلہ کیا اور ان میں سے ہر ایک کے ساتھ لوگوں کی جماعتیں تھیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی آیت ” والشعراء یتبعہم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالشُّعَرَاۗءُ [ اور شاعر لوگ ] يَتَّبِعُهُمُ [ پیروی کرتے ہیں انکی ] الْغَاوٗنَ [ گمراہ لوگ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 223–224

اس کے بعد شعراء کی مذمت فرمائی (وَالشُّعَرَاءُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوٗنَ ) کہ شعراء کے پیچھے گمراہ لوگ چلا کرتے ہیں (لہٰذا مشرکین کا یہ کہنا صحیح نہیں کہ آنحضرت ﷺ شاعر ہیں) آپ تو حقائق کی دعوت دیتے ہیں اور شاعر جھوٹی باتیں کہتے ہیں آسمان اور زمین کے قلابے ملاتے ہیں اور جو لوگ ان کے پیچھے چلتے ہیں وہ گمراہ ہوتے ہیں اور گمراہ کو گمراہ ہی پسند کرتا ہے اور اس کے پیچھے چلتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 224–227

ابطال شاعریت کفار آنحضرت ﷺ کو کبھی کاہن بتاتے اور کبھی شاعر بتاتے۔ گزشتہ آیات میں آپ کے کاہن ہونے کی تردید کی اب آئندہ آیت میں آپ کے شاعر ہونے کی تردید کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ قرآن کو شعر کہنا اور حضور پر نور ﷺ کو شاعر کہنا مشرکین کی کھلی ہٹ دھرمی ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور شاعروں کی پیروی کرتے ہیں۔ گمراہ لوگ جو خیالی اور نفسانی چیزوں کے دلدادہ ہوتے ہیں برخلاف محمد رسول اللہ ﷺ کے پیروی کرنے والوں کے، کہ وہ نہایت متقی اور پرہیزگار ہیں اور آخرت کے طلبگار اور دنیا سے بیزار ہیں۔ پس اگر محمد ﷺ شاعر ہوتے اور شاعروں کی طرح نفسانی اور خیالی باتیں کیا کرتے تو آپ ﷺ کے پیروی کرنے والے فسق وفجور سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 222–224

77:۔ یہ مشرکین کے دوسرے شب ہے کا جواب ہے۔ مشرکین نے کہا تھا کہ محمد ﷺ شاعر ہے اور شعراء کی طرح شعر بناتا ہے تو یہاں اس کا جواب دیا گیا۔ مسوق لتنزیھہ (علیہ الصلوۃ والسلام) ایضا عنان یکون و حاشاہ من الشعراء و ابطال زعم الکفرۃ ان القران من قبیل الشعر (روح ج 19 ص 145) ۔ یعنی شاعروں کی پیروی تو گمراہ لوگ کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ شعراء چونکہ خود گمراہ ہوتے ہیں اس لیے وہ اپنے اشعار میں کفر و شرک اور ضلالت وغوایت کے جو مضامین بیان کرتے ہیں، گمراہ لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 224–227

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں زیادہ تر تسلی کا مضمون بیان کیا گیا ہے ۔ مختلف انبیاء علہیم السلام اور ان کی قوموں کا حال بیان کر کے قوموں کی تباہی کا ذکر کیا گیا ہے تا کہ حضور ﷺ اور آپ کے ماننے والے دل برداشتہ نہ ہوں اور جان لیں کہ اہل حق کو ہمیشہ ایسی ہی تکالیف برداشت کرنا پڑی ہیں ، تا ہم انجام ہمیشہ انہیں کا اچھا ہوتا رہا ہے اور نافرمان ناکامو نامراد ہی رہے ہیں ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی چار بنیادی مسائل بیان ہوئے ہیں یعنی توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت صداقت ، گزشتہ درس میں صداقت قرآن کا بیان تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا بےمثال علام ہے اور ایسا کلام نازل کرنا شیاطین کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالشُّعَرَاۗءُ يَتَّبِعُہُمُ الْغَاوٗنَ۝ 224ۭ شعر ( شاعر) الشَّعْرُ معروف، وجمعه أَشْعَارٌ قال اللہ تعالی: وَمِنْ أَصْوافِها وَأَوْبارِها وَأَشْعارِها [ النحل/ 80] ، وشَعَرْتُ : أصبت الشَّعْرَ ، ومنه استعیر : شَعَرْتُ كذا، أي علمت علما في الدّقّة كإصابة الشَّعر، وسمّي الشَّاعِرُ شاعرا لفطنته ودقّة معرفته، فَالشِّعْرُ في الأصل اسم للعلم الدّقيق في قولهم : ليت شعري، وصار في التّعارف اسما للموزون المقفّى من الکلام، والشَّاعِرُ للمختصّ بصناعته، وقوله تعالیٰ حكاية عن الکفّار : بَلِ افْتَراهُ بَلْ هُوَ شاعِرٌ [ الأنبیاء/ 5] ، وقوله : لِشاعِرٍ مَجْنُونٍ [ الصافات/ 36] ، شاعِرٌ نَتَرَبَّصُ بِهِ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 224–227

1 ؎ یعنی جب ان کی کسی نے ہجو کر کے ستایا تب وہ کسی کو ستاتے ہجو کرتے بدلہ لیتے ہیں ابتداء نہیں کرتے جیسا کہ حسان بن ثابت انصاری۔ 12 منہ۔ 2 ؎ یعنی ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 222–226

وَالشُّعَرَآئُ یَـتَّبِعُھُمُ الْغَاوٗنَ ۔ اَلَمْ تَرَاَنَّھُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّھِیْمُوْن۔ وَاَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ مَالاَ یَفْعَلُوْنَ ۔ اِلاَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّانْتَصَرُوْا مِنْ م بَعْدِمَاظُلِمُوْا ط وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ ۔ (الشعرآء : 224 تا 227) (اور شعراء، بہکے ہوئے لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں۔ وہ کہا کرتے ہیں ایسی باتیں جن پر وہ خود عمل نہیں کرتے۔ بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے جنھوں نے نیک اعمال کیے اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 222–224

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ پر کفار کا تیسرا الزام، اور اس کا جواب : سورۃ الشعراء کا اختتام کفار کے الزامات اور ان کے جوابات پر ہوتا ہے۔ اہل مکہ بڑے تکرار اور صرار کے ساتھ یہ الزام لگاتے کہ آپ شاعر ہیں یہ الزام لگانے کی دو وجوہات تھیں۔ ایک تو قرآن مجید کے الفاظ، آیات کا اختتامی انداز جس میں بعض آیات کا ردیف قافیہ اس طرح بنتا ہے جس میں خود بخود ایک دھن پیدا ہوجاتی ہے اور پھر پورے قرآن میں غضب کی تاثیر پائی جاتی ہے۔ جس سے کوئی بھی آدمی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس لیے کبھی وہ آپ کو شاعر قرار دیتے اور کبھی جادوگر کہتے تھے۔ آپ کو شاعر قرار دینے کی دوسری وجہ یہ تھی کیونکہ قرآن مجید میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

شعراء کے پیروکار گمراہ : 224: یہ ان لوگوں کے متعلق اتری جو شعر کہتے اور ادھر اپنی زبان سے یہ بڑ مارتے ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں جیسے محمد ﷺ کہتے ہیں۔ حالانکہ ان لوگوں کے پیروگمراہ قسم کے لوگ تھے جو ان کے اشعار سنتے۔ وَالشُّعَرَآ ئُ یَتَّبِعُھُمُ الْغَاوٗنَ (شعراء کی اتباع تو بےراہ لوگ چلتے ہیں) ۔ نحو : الشعراء مبتداء اور یتبعھم الغاون اس کی خبر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شعراء کی اتباع ان کے باطل ان کے کذب پر کلام، اور اعراض کو پھاڑنے، انسانوں کی عیب جوئی کرنے، اور ان کی تعریف کرنے جو تعریف کے مستحق نہیں اور ہجو گوئی میں بےراہ رو لوگ کرتے ہیں سفہاء اور خود پرست اس کو خوب قرار دیتے ہیں۔ نمبر 2۔ شیاطین اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

شعراء کی تفسیر۔ 224۔ والشعراء یتبعھم الغاو ون۔ اہل تفاسیر کا بیان ہے کہ آیت میں وہ شعراء مراد ہیں جو کافروں کی حمایت میں رسول اللہ کی ہجو کرتے تھے مقاتل نے ان کے نام اس طرح نقل کیے ہیں عبداللہ بن الزبعری السہمی، ہبیرہ بن ابی وھب ، مشافع بن عبدمناف، ابوعز بن عبداللہ ، وامیہ بن ابی صلت الثقفی، یہ شعراء جھوٹی غلط باتیں کہتے اور دعوی کرتے تھے کہ جیسامحمد کہتے ہیں ویسا ہی ہم بھی کہتے ہیں۔ یہ لوگ اشعا رسنتاے اور ان کی قوم کے کچھ گمراہ لوگ جمع ہوجاتے اور رسول اللہ اور صحابہ کرام کے متعلق ان شاعروں کے ہجائیہ اشعار سنتے اور پھر نقل کرتے تھے یہی وہ لوگ تھے جن کو اللہ نے الغاو ون فرمایا یعنی وہ لوگ جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 215–224

(215 تا 224) اوپر رشتہ داروں کو ڈرسنانے کا حکم تھا اب فرمایا بازو جھکادے ان کے لیے جو تیرے ساتھ ہوں ایماندار مطلب یہ ہے کہ ایمان والے خواہ اپنے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں ان کے ساتھ تو شفقت سے رہ اور جو تیری نافرمانی کرے وہ کوئی کیوں نہ ہو اس سے جدارہ اور کہہ کہ میں بیزار ہوں تمہاری حرکتوں سے اور بھروسہ کر اس زبر دست رحم والے پر جو تجھ کو دیکھتا ہے جب تو تہجد کو اٹھتا ہے اور پھرتا ہے سجدہ کرنے والوں میں ان کی خبر کو کہ غافل ہیں یا یاد الٰہی میں مشغول ہیں بیشک وہ پروردگار ہر ایک بات کو سنتا جانتا ہے مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے جب تم صحابہ ؓ کے ساتھ فرض نماز پڑھتے ہو تو اس نماز کا رکوع سجود اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 221–227

آیت 221 سے 227 یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد ﷺ پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد ﷺ شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا : (ھل انبئکم) ” کیا تمہیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟ “ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں، یعنی میں تمہیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں۔ (تنزل علی کل افاک) ” ہر کذاب ](قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیطان نازل ہوتے ہیں۔ “ (اثیم) یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان۔۔۔ اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 224–227

شعراء کی دو اقسام قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

119 بےدین شعراء کے پیچھے چلنا گمراہوں کا کام ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " شعراء کے پیچھے گمراہ لوگ ہی چلتے ہیں "۔ جب کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے پیروکاروں اور آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کی تربیت وتعلیم سے فیضیاب ہونے والے پاکیزہ نفوس کی کوئی مثال انبیائے کرام کے بعد چشم فلک نے نہ اس سے پہلے کبھی دیکھی اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی دیکھ سکے گی۔ تو پھر اس کلام معجز نظام سے کسی شیطانی تاثیر کا آخر تعلق ہی کیا ہوسکتا ہے ؟ ۔ چہ نسبت خاک را بہ عالم پاک۔ یہاں پر شعراء کی تعریف اور ان کا تعارف ان کے پیروکاروں سے کرایا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ کسی کے بارے میں معلوم کرنا ہو کہ وہ کیسا ہے تو اس کے رفقاء اور پیرو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 192–227

قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 192–227

آیات نمبر 192 تا 227: اسرار و معارف اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

13 ۔ گزشتہ آیات میں آنحضرت ﷺ کی طرف کہانت کی نسبت کی تردید کی۔ اب فرمایا کہ آنحضرت ﷺ ﷺ کو شاعر کہنا بھی بےبنیاد ہے کیونکہ وہ حق کی دعوت دیتے ہیں اور ان کی صحبت سے فیض یاب ہو کر ہزاروں لوگ نیکی اور پرہیزگاری کی راہ پر چل رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں شاعر نری خیالی باتیں کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کے پیچھے چلنے والے بھی اپنے اعمال و اخلاق کے اعتبار سے انتہائی پست درجہ کے لوگ ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:224) یتبعھم : یتبع مضارع واحد مذکر غائب (ضمیر فاعل الغاون کی طرف راجع ہے) ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب الشعراء کی طرف راجع ہے۔ الغاون۔ اسم فاعل جمع مذکر غی ۔ غوی۔ وغوایۃ مصدر۔ الغاوی واحد۔ اصل میں الغاویون تھا۔ گمراہ۔ خواہش پرست۔ یہاں مراد شعراء کے کج رو اور گمراہ پیرو۔ کج رو مدح سرا ہیں۔ مبالغہ آمیز مدح۔ بیجا مذمت۔ جھوٹا تغزل ، جذبات محبت کی فحش اور غلط تصویر کشی رندی۔ مے نوشی۔ بےحیائی۔ عریانی۔ نسبی فخر۔ شخصی اور قومی شیخی۔ غرض اخلاق ذمیمہ کا ابنار۔ عموما شعراء کے کلام میں ہوتا ہے ۔ ماسوائے اہل حق و صداقت کے، کجراہ۔ بیوقوف۔ سبک سر۔ پڑھے لکھے اور جاہل پرستار ان ادب ایسے کلام کو مزے لے لے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 214–227

لغات القرآن : آیت نمبر 214 تا 227 : عشیرۃ (قبیلہ۔ خاندان۔ رشتہ دار) اخفض (جھکا دے۔ عاجزی اور تواضع کر) جناح (بازو۔ پر) ‘ بری ئ (بیزار ۔ نفرت) ‘ توکل (بھروسہ کر) تقلب (الٹنا پلٹنا۔ اٹھنا بیٹھنا) ‘ افاک (بہتان و الزام لگانے والا) ‘ اثیم (گناہ کرنے والا۔ گناہ گار) ‘ الغاون (گمراہ لوگ) ‘ یھیمون (وہ گھومتے ہیں) ‘ انتصروا (انہوں نے بدلہ لیا) ‘ ای (کونسا) ‘ منقلب (لوٹنے والا) ‘ ینقلبون (وہ لوٹ کرجاتے ہیں) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 214 تا 227 : نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے محبوب پیغمبر اور معصوم ہیں جن کی طرف کسی گناہ ‘ خطا یا شرک کا تصور کرنا بھی گناہ ہے۔ آپ کی سیرت و کردار اور قول و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 224–227

شاعروں کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول۔ یہ آیت شعراء کفار کے حق میں نازل ہوئی جو نبی کی ہجو میں شعر کہتے تھے جیسا محمد ﷺ کہتے ہیں ایسا ہم بھی کہہ لیتے ہیں اور ان کی قوم کے گمراہ لوگ ان سے ان اشعار کی نقل کرتے تھے ان لوگوں کی مذمت میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ لوگ فنون شعر سے ہر فن میں بھٹکتے پھرا کرتے ہیں اور رسول اللہ کی ہجو میں شعر کہتے ہیں ایسے شاعروں کا کچھ اعتبار نہیں جھوٹے اور مبالغہ آمیز بندشیں باندھتے ہیں اور ان میں سے جو ایماندار دین دار لوگ ہیں اور نیک کام کرتے ہیں اور جو رسول اللہ ﷺ کی نعت میں تعریف کرتے ہیں اور اپنے اشعار میں خدا ورسول کو محبت سے یاد کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 224–226

[39] یعنی شاعر کو عمل کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ مضامین شجاعت و مردانگی باندھے گا لیکن خود بھاگنے والوں میں سب سے آگے ہوگا۔ وہ عصمت و عفت کی قصیدہ خوانی کرے گا اور خود انتہا درجے کا بدچلن اور سیہ کار ہوگا۔ عام دستور ہر ملک و قوم کے شاعروں کا یہی ہے۔ شاعروں کی یہ خصوصیت نبی ﷺ کے طرزعمل کی عین ضد تھی۔ آپ کے قول و فعل کی مطابقت ایسی صریح حقیقت تھی جس سے آپ کے گردوپیش معاشرے میں کوئی شخص بھی انکار نہ کرسکتا تھا۔ لہذا کفار کا آپ ﷺ کو شاعر کہنا حقیقت کے خلاف تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 224–227

ف 2: حضور کے متعلق ایک شبہ یہ بھی تھا کہ آپ شاعری میں اور محض دقیق قسم کی باتوں سے لوگوں کے دلوں کو موہ لیتے ہیں ۔ ورنہ دراصل ان میں کوئی صداقت نہیں ارشاد فرمایا ۔ کہ تم لوگ منصب الموت سے آگاہ نہیں ۔ تم جانتے کہ کہ نبوت کس قدر اعلیٰ درجے کی چیز ہے ۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ شعراء کس قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ اور ان کا اتباع یس قماش کے لوگ کرتے ہیں ! نبوت اور شعاری میں کیا نسبت ۔ نبوت تو سراسر عمل کا نام ہے ۔ اور شاعری ہمہ گمراہی وبے عملی ۔ الشعراء کا کوئی خاص نصب العین نہیں ہوتا ۔ وہ محض بیکار اور بےعمل لوگ ہوتے ہیں ۔ اور ہر رو میں بہ جاتے ہیں ۔ بخلاف اس کے انبیاء سراپا فکر کا مجسمہ اور نہایت سلیم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 221–224

ف 2۔ مراد راہ سے شعر گوئی ہے، یعنی مضامین خیالی شاعرانہ نثرا یا نظما کہنا ان لوگوں کا شیوہ ہے جو مسلک تحقیق سے دور ہوں، چناچہ خیالی مضمون کہتے ہی اس کو ہیں جو تحقیق کے خلاف ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شعراء کی پیروی گمراہ لوگ ہی کرتے ہیں : 224۔ نبی اعظم وآخر ﷺ پر کفار مکہ کی طرف سے پانچ الزامات دیئے گئے تھے ، کچھ لوگوں نے آپ کو ” کاہن “ کہا کچھ لوگوں نے آپ ﷺ کو ” شاعر “ کہا اور کچھ لوگوں نے آپ ﷺ کو ” مجنون “ کہا اور بعض نے ” ساحر “ اور بعض ” سحرزدہ “ قرار دیا علاوہ ازیں بھی بہت کچھ کہا گیا لیکن ان پانچ باتوں کی قرآن کریم نے تردید کی گزشتہ آیات میں آپ ﷺ کے کاہن ہونے کا مکمل رد کردیا گیا تھا اور زیر نظر آیت میں ” شاعر “ ہونے کی نفی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ شاعر لوگوں کی پیروی تو ہمیشہ گمراہ لوگ ہی کیا کرتے ہیں گویا یہ بتایا گیا ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ کے پیروکاروں کو دیکھ کر ہی تم یہ فیصلہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 224–227

وَالشُّعَرَ‌اءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ ﴿224﴾ As for the poets, they are followed by the straying people. - 26:224. شِعر (Shi'r) which is the origin of Shu` ara' and is translated as poetry; is an Arabic word which lexically means any statement based on imagination and ideas not confirmed by serious proofs. It is not necessary for being a شِعر 'Shi'r' in original Arabic to have a particular rhythm or qafiyah or radif. Since the technical شِعر shi` r (poetry) which is always based on particular rhythms is generally composed of imaginary thoughts, the technical definition of شِعر shi` r…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

142 That is, the people who follow and accompany the poets, are wholly different in, their characteristics, habits and temper from those who follow and accompany Muhammad (upon whom be Allah's peace). The difference between the two groups is so obvious that one group can be easily distinguished from the other. On the one side, there are the people who are characterised by the high seriousness, civilized and gentle behaviour, righteousness and fear of God, sense of responsibility and a high regard for the rights of others; people who are fair and just in their dealings, . who do not utter a…

Read the full tafseer →