Explained with ayahs 221–227
شیاطین اور جادوگر
مشرکین کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اسکو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 141
اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ شیاطین کچھ سن گن لے کر اپنے اولیاء پر القاء کرتے ہیں اور اس میں تھوڑی سی حقیقت کے ساتھ بہت سا جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ جھوٹے لپاٹیے کاہن شیاطین سے کچھ باتیں سن لیتے ہیں اور پھر اپنی طرف سے بہت سا جھوٹ ملا کر لوگوں کے کانوں میں پھونکتے پھرتے ہیں۔ اس کی تشریح ایک حدیث میں بھی آئی ہے جو بخاری نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ بعض لوگوں نے نبی ﷺ سے کاہنوں کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے فرمایا وہ کچھ نہیں ہیں۔ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ بعض اوقات تو وہ ٹھیک بات بتا دیتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا وہ ٹھیک بات جو ہوتی ہے اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–223
وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ، عشیرہ کے معنے کنبہ اور خاندان اقربی کی قید سے ان میں سے بھی قریبی رشتہ دار مراد ہیں۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر تبلیغ رسالت اور انذار پوری امت کے لئے فرض ہے اس جگہ خاندان کے لوگوں کی تخصیص میں کیا حکمت ہے ؟ غور کیا جائے تو اس میں تبلیغ و دعوت کے آسان اور موثر بنانے کا ایک خاص طریقہ بتلایا گیا ہے جس کے آثار دور رس ہیں۔ وہ یہ کہ اپنے کنبہ اور خاندان کے لوگ اپنے سے قریب ہونے کی بناء پر اس کے حقدار بھی ہیں کہ ہر خیر اور اچھے کام میں ان کو دو رسوں سے مقدم کیا جائے اور باہمی تعلقات اور ذاتی واقفیت کی بناء پر ان میں کوئی جھوٹا دعویدار نہیں کھپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 221–223
آیت 223-221
شیاطین کن پر اترتے ہیں ؟
اوپر کی آیات میں آپ نے دیکھا کہ پوری وضاحت کے ساتھ قرآن کے منبع ومصدر، اس کے مامون و محفوظ واسطہ نزول اور اس کے پاک و مطہر حامل کا ذکر ہوا ہے او اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ یہ کوئی القائے شیطانی ہے۔ یہ ساری باتیں قرآن کے ان مخالفین کی تردید میں فرمائی گئی ہیں جو نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کے متعلق یہ پروپیگنڈا کرتے تھے کہ آپ ایک کاہن ہیں اور جس طرح کاہنوں پر شیاطین غیب کی باتیں القاء کرتے ہیں اسی طرح ان پر بھی شیاطین یہ کلام القاء کرتے ہیں جس کو یہ ہمارے سامنے وحی الٰہی کے نام سے پیش کرتے ہیں۔ اب یہ خلاصہ بحث کے طور پر ان الزام لگانے والوں کو مخاطب کر کے فرمایا…
Read the full tafseer →223-1یعنی ایک آدھ بات، جو کسی طرح وہ سننے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، ان کاہنوں کو آکر بتلا دیتے ہیں، جن کے ساتھ وہ جھوٹی باتیں اور بھی ملا لیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 223–224
51: یعنی شیاطین کی باتوں پر بھروسہ کرنے والے کوئی نیک لوگ نہیں، گنہگار لوگ ہوتے ہیں اور ان شیاطین کا یہ دعوی بھی بالکل لغو ہے کہ انہیں غیب کی خبریں معلوم ہیں، ہوتا یہ ہے کہ کبھی فرشتوں کی کوئی بات ان کے کانوں میں پڑجاتی ہے تو وہ اس میں بہت سے جھوٹ شامل کرکے اپنے معتقدین کو آکر بتا دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 221–226
ھل انیئکم ……کذبون (041)
عربوں میں کاہن ہوا کرت ی تھے ، ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جن انہیں غیب کی خبریں دیتے ہیں اور لوگ ان کے ہاں جاتے تھے اور ان کی پیش گوئیاں سنتے تھے ان کاہنوں میں سے اکثر جھوٹے ہوتے تھے۔ ان کاہنوں کی تصدیق وہ لوگ کرتے تھے جو ہر قسم کے اوبام اور ہر قسم کے افسانوں پر یقین کرنے کے لئے تیار ہوتے تھے لیکن یہ کاہن بہرحال لوگوں کو کسی بھلائی کی طرف نہ بلاتے تھے اور نہ لوگوں کی قیادت راہ ایمان کی طرف کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا حال ان سے بہت مختف تھا۔ رسول اللہ کو قرآن کے ذریعہ ایک نہایت ہی ٹھوس نظام زندگی کی طرف بلاتے تھے۔
یہ کاہن قرآن کے بارے میں کبھی کہتے یہ شعر ہے اور حضور ﷺ کے بارے…
Read the full tafseer →11 یعنی شیاطین کوئی ایک آدھ ناتمام بات امور غیبیہ جزئیہ کے متعلق جو سن بھاگتے ہیں اس میں سو جھوٹ ملا کر اپنے کاہن دوستوں کو پہنچاتے ہیں، یہ حقیقت ان کی وحی کی ہے۔ برخلاف اس کے انبیاء کی وحی کے کہ ایک حرف اور ایک شوشہ بھی جھوٹ نہیں ہوسکتا۔ بعض نے " یُلْقُون السَّمْعَ " کے معنی یہ لیے ہیں، کہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی طرف کان لگاتے ہیں کہ کوئی غیبی بھنک کان میں پڑجائے، یا جھوٹے گنہگار شیاطین کی طرف کان جھکائے رکھتے ہیں کہ کوئی چیز ادھر سے ہاتھ آئے تو چلتی کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 223–224
آیت 224 وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوٗنَ ”
مشرکین مکہّ میں سے کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ محمد ﷺ نے شاعری سیکھ لی ہے اور یہ کہ قرآن دراصل ان کا شاعرانہ کلام ہے۔ اس حوالے سے یہاں دراصل یہ بتانا مقصود ہے کہ شاعروں کے کردار کو تم لوگ اچھی طرح جانتے ہو۔ تم خود سوچو کہ ایسے کردار کو ہمارے رسول ﷺ کے کردار سے کیا نسبت ؟
اس آیت میں شعراء کے پیروکاروں کے بارے میں جو بنیادی اصول بتایا گیا ہے اس میں مجھے کوئی استثناء exception نظر نہیں آتا۔ اگرچہ علامہ اقبال کا معاملہ بہت سے اعتبارات سے مختلف ہے مگر ان کے پیروکاروں پر بھی قرآن کا یہ قانون سو فیصد منطبق ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو اس پہلو سے دیکھنا چاہیے کہ…
Read the full tafseer →133 یعنی ان کاہن قسم کے لوگوں کے ذرائع معلومات انتہائی ناقص قسم کے ہوتے ہیں۔ اور اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ شیطان ملاء اعلیٰ کی طرف کاہن لگاتے ہیں اور کوئی ایک آدھ بات سن پائیں تو اس میں سو جھوٹ ملا کر کاہنوں کو بتلاتے ہیں اور دوسرا یہ کہ کاہن شیطانوں کی طرف کان لگائے رکھتے ہیں۔ پھر جب شیطان کسی کاہن کو کچھ القاء کرتا ہے تو یہ کاہن اس میں سو جھوٹ ملا کر لوگوں کو بتلاتے ہیں۔ گویا ان کے کاروبار کی بنیاد سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–223
119۔ (اپنے دعوائے کہانت وغیب دانی میں) قرآن مجید خود مشرکوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ بات بک ڈالنے سے پیشتر یہ بھی تو سوچ لیاکرو، کہ کچھ لگتی ہوئی بھی ہے۔ شاگرد و استاد میں کچھ تو مناسبت ہونا چاہیے۔ شیطان سے تعلق رکھنے والے کون لوگ ہوتے ہیں ؟ شیطان سے فیض پانے والے کس سیرت کس اخلاق کے ہوتے ہیں ؟ شیطان کے تربیت یافتہ تو وہی ہوتے ہیں جو جھوٹے، لپاٹیے، بدکردار، گناہوں کی گندگی میں آلودہ ہوتے ہیں۔ یعنی ٹھیک ان پاکیزہ خو، فرشتہ صفت اصحاب نبوی کے برعکس، جن کے اوصاف ابھی سورة الفرقان میں بیان ہوچکے ہیں۔ ایسے متقیوں پاکبازوں کے سردار کو بھلا شیطان کے سایہ سے بھی کوئی مناسبت ہوسکتی ہے ؟ (آیت) ” اکثرھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیت نمبر 192 تا 227
ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…
Read the full tafseer →یلقون السمع و اکثر ہم کذبون۔ (دروغ گو گناہگار لوگ شیطانوں کی طرف) کانوں کو لگاتے ہیں
(اور ان سے کچھ سیکھ پاتے ہیں مگر اس میں اپنے خیالات کا کثیر حصہ شامل کردیتے ہیں جو غلط اور واقع کے خلاف ہوتا ہے) ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں (اور محمد ﷺ ایسے نہیں ہیں آپ نہ شیطانوں کی بات سنتے ہیں نہ دروغ بافی کرتے ہیں بلکہ بکثرت غیب کی اطلاعات دیتے ہیں جن میں سے کوئی بھی واقع کے خلاف نہیں ہوتی) ۔
حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کاہنوں کے متعلق دریافت کیا حضور نے فرمایا وہ (یعنی کاہن) ہیچ ہیں عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ وہ بسا اوقات ایسی باتیں کہتے ہیں جو صحیح ثابت ہوتی ہیں فرمایا کوئی…
Read the full tafseer →(223) اور جو شیاطین کی فرشتوں سے اڑائی ہوئی باتوں کی طرف ان شیاطین کی طرف کان لگا لیتے ہیں اور وہ شیاطین ایک بات اچکتے ہیں اور سو جھوٹ اس میں اپنی طرف سے ملا کر پھر کاہنوں کو اس سے مطلع کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →يُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَ : ”السَّمْعَ“ مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی سنی ہوئی بات۔ اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ شیاطین فرشتوں سے سنی ہوئی بات کاہنوں کے کانوں میں لا ڈالتے ہیں، جن میں وہ اپنی طرف سے سو (100) جھوٹی باتیں ملا دیتے ہیں۔ فرشتوں سے سنی ہوئی وہ بات سچی نکلتی ہے تو سو (100) جھوٹی باتوں کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں کرتے۔ دوسرا یہ کہ وہ ”افاک و اثیم“ کاہن شیاطین سے سنی ہوئی بات لوگوں کو بتاتے ہیں جس میں وہ مزید جھوٹ ملا دیتے ہیں اور ان کے اکثر جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں، سوائے اس ایک بات کے جو شیاطین نے چرا کر ان تک پہنچائی ہوتی ہے۔ ”يُّلْقُوْنَ السَّمْعَ“ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 221–223
(ھل انبئکم علی من تنزل۔۔۔۔۔ )
ھل انبئکم علی من تنزیل الشیطن۔ تنزیل علی کل افاک اثیم۔ تنزیل فرمایا کیونکہ اکثریہ ہوا میں ہوتا ہے اور ہوا میں گزرتا ہے۔ یلقون السمع و اکثرھم کذبون سورة حجر میں بحث گزر چکی ہے۔ یلقون السمع یہ شیاطین کی صفت ہے واکثرھم یہ کاہنوں کی طرف لوٹتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ شیاطین کی طرف راجع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 221–223
1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے سعید بن وہب (رح) سے روایت کیا کہ میں عبداللہ بن زبیر ؓ کے پاس تھا ان سے عرض کیا کہ مختار یہ گمان کرتا ہے کہ اس کی طرف وحی کی جاتی ہے۔ ابن الزبیر نے فرمایا وہ سچ کہتا ہے پھر یہ آیت ” ہل انبیئکم علی من تنزل الشیطین، تنزل علی کل افاک اثیم۔ تلاوت فرمائی (یعنی کیا میں تم کو نہ بتاؤ کہ شیاطین کسی پر اترتے ہیں وہ اترتے ہیں ہر بڑے دروغ گو پکے گنہگار پر)
2۔ الفریابیو عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذروابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” علی کل افاک اثیم “ سے مراد ہے لوگوں میں سے بہت جھوٹ بولنے والا وہ ہے آیت ” یلقون السمع “ یعنی جیسے وہ سنتا ہے جو شیطان اسے…
Read the full tafseer →يُّلْقُوْنَ [ وہ لا ڈالتے ہیں ] السَّمْعَ [ سنی ہوئی (بات) کو ] وَ [ اس حال میں کہ ] اَكْثَرُهُمْ [ ان کے اکثر ] كٰذِبُوْنَ [ جھوٹ کہنے والے ہوتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 223–224
اس کے بعد شعراء کی مذمت فرمائی (وَالشُّعَرَاءُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوٗنَ ) کہ شعراء کے پیچھے گمراہ لوگ چلا کرتے ہیں (لہٰذا مشرکین کا یہ کہنا صحیح نہیں کہ آنحضرت ﷺ شاعر ہیں) آپ تو حقائق کی دعوت دیتے ہیں اور شاعر جھوٹی باتیں کہتے ہیں آسمان اور زمین کے قلابے ملاتے ہیں اور جو لوگ ان کے پیچھے چلتے ہیں وہ گمراہ ہوتے ہیں اور گمراہ کو گمراہ ہی پسند کرتا ہے اور اس کے پیچھے چلتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–223
ابطال کہانت
وما تنزلت بہ الشیطین وما ینبغی لہم وما یستطیعون انہم عن السمع لمعزولون۔
گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ یہ قرآن اللہ رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے جس کو جبریل امین (علیہ السلام) لے کے آپ ﷺ کے قلب پر اترے ہیں۔ اب آگے ان لوگوں کے قول کا رد کرتے ہیں کہ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن جن اور شیاطین کا القا ہے۔ جیسے شیاطین کاہنوں پر القا کرتے ہیں یہ بھی اسی قسم کا کلام ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ اور اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترتے جو کاہنوں کے پاس آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں بلکہ اس قرآن کو تو جبریل امین (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں اور نہ شیاطین کے لئے یہ سزاوار ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–224
77:۔ یہ مشرکین کے دوسرے شب ہے کا جواب ہے۔ مشرکین نے کہا تھا کہ محمد ﷺ شاعر ہے اور شعراء کی طرح شعر بناتا ہے تو یہاں اس کا جواب دیا گیا۔ مسوق لتنزیھہ (علیہ الصلوۃ والسلام) ایضا عنان یکون و حاشاہ من الشعراء و ابطال زعم الکفرۃ ان القران من قبیل الشعر (روح ج 19 ص 145) ۔ یعنی شاعروں کی پیروی تو گمراہ لوگ کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ شعراء چونکہ خود گمراہ ہوتے ہیں اس لیے وہ اپنے اشعار میں کفر و شرک اور ضلالت وغوایت کے جو مضامین بیان کرتے ہیں، گمراہ لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–223
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا تھا اور اس کا اجمالی تعارف کرایا تھا۔ اس عظیم کتاب کو جبرائیل میں نے پروردگار عالم کے حکم سے نازل کیا ۔ یہ کلام الٰہی پیغمبر کے قلب مبارک پر نہایت فصیح وبلیغ عربی زبان میں اتارا گیا ۔ اس کے نزول کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ اللہ کے نبی اس کے ذریعے لوگوں کو ان کے آخرت کے برے انجام سے ڈرا دیں ۔ یہ وہی کتاب ہے جس کے مضامین اور پیشن گوئیاں سابقہ کتب میں بھی موجود تھیں ۔ ان حقائق کے باوجود جو شخص اس قرآن کا انکار کرتا وہ کافر اور گمراہ تصور ہوگا ۔ قرآن کے منکرین میں سے بعض اسے سحرے تعبیر کرتے ہیں ۔ جب کہ بعض دوسرے اسے…
Read the full tafseer →يُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَكْثَرُہُمْ كٰذِبُوْنَ 223ۭ
لقی( افعال)
والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ
[ الأعراف/ 115] ،
( ل ق ی ) لقیہ ( س)
الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 220–223
واکثرہم کاذبون اور اکثر جھوٹے ہی ہوتے ہیں۔ سفلی عملیات کے عامل اکثر ناپاک اور گندے رہا کرتے ہیں تاکہ شیاطین ان کے پاس خوشی خوشی آویں۔ اب رہے شاعر ان کا یہ حال ہے والشعراء الخ کہ ان کے پیچھے تو بدراہوں کی جماعت ہوا کرتی ہے یہ کوئی مضمون نظم کرتے وہ اس کو نقل کرتے پھرتے ہیں مگر اس سے مراد وہ شاعر ہیں کہ جو آنحضرت ﷺ کی ہجو کیا کرتے تھے جیسا کہ ہبیرہ بن وہب وامیۃ بن ابی الصلت اور لوگوں کو جمع کر کے سناتے تھے اور وہ لوگوں سے بیان کرتے پھرتے تھے۔ الم تر الخ یہ ان کی بدراہی کی دلیل ہے کہ ہر میدان سخن میں ٹکراتے پھرتے ہیں کیا کیا جھوٹی اور مبالغہ آمیز بندشیں باندھتے ہیں وانہم یقولون منہ سے کہتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–226
وَالشُّعَرَآئُ یَـتَّبِعُھُمُ الْغَاوٗنَ ۔ اَلَمْ تَرَاَنَّھُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّھِیْمُوْن۔ وَاَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ مَالاَ یَفْعَلُوْنَ ۔ اِلاَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّانْتَصَرُوْا مِنْ م بَعْدِمَاظُلِمُوْا ط وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ ۔
(الشعرآء : 224 تا 227)
(اور شعراء، بہکے ہوئے لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں۔ وہ کہا کرتے ہیں ایسی باتیں جن پر وہ خود عمل نہیں کرتے۔ بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے جنھوں نے نیک اعمال کیے اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–224
فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ پر کفار کا تیسرا الزام، اور اس کا جواب :
سورۃ الشعراء کا اختتام کفار کے الزامات اور ان کے جوابات پر ہوتا ہے۔ اہل مکہ بڑے تکرار اور صرار کے ساتھ یہ الزام لگاتے کہ آپ شاعر ہیں یہ الزام لگانے کی دو وجوہات تھیں۔ ایک تو قرآن مجید کے الفاظ، آیات کا اختتامی انداز جس میں بعض آیات کا ردیف قافیہ اس طرح بنتا ہے جس میں خود بخود ایک دھن پیدا ہوجاتی ہے اور پھر پورے قرآن میں غضب کی تاثیر پائی جاتی ہے۔ جس سے کوئی بھی آدمی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس لیے کبھی وہ آپ کو شاعر قرار دیتے اور کبھی جادوگر کہتے تھے۔ آپ کو شاعر قرار دینے کی دوسری وجہ یہ تھی کیونکہ قرآن مجید میں…
Read the full tafseer →223: یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ (وہ ان کی طرف کانوں کو لگاتے ہیں) وہ شیاطین ہیں۔ شیاطین رجم سے قبل ملأ اعلیٰ کی طرف کان لگاتے اور ان کی بعض باتوں کو اچک لیتے ہیں جس سے ان کو غیب کی کسی بات کی ان کو اطلاع ہوجاتی۔ پھر وہ اپنے دوست شیاطین کے کانوں میں ڈال دیتے۔
نحو : یلقون یہ حال ہے تقدیر عبارت یہ ہے تنزل ملقین السمع نمبر 2۔ کل افاکٍ کی یہ صفت ہے کیونکہ یہ جمع کے معنی میں ہے پس یہ محل جر میں ہوگا۔ نمبر 3۔ جملہ مستانفہ ہے اس کا کوئی محل اعراب نہیں گویا اس طرح فرمایا لم تنزل علی الافاکین ؟ یہ افاکین پر نہیں اترا۔ پھر کہا گیا وہ ایسا ایسا کرتے ہیں۔ وَاَکْثَرُھُم کٰذِبُوْنَ (ان کی اکثریت جھوٹ بولتی ہے)…
Read the full tafseer →223۔ یلقون السمع، وہ فرشتوں سے کان لگا کر سنتے ہیں پھر اس کو اپنے کاہنوں پر ڈال دیتے ہیں ۔ واکثرھم کاذبون، چونکہ ا اس کو ایک سچی بات کے ساتھ کئی جھو ٹ ملاکربیان کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 215–224
(215 تا 224) اوپر رشتہ داروں کو ڈرسنانے کا حکم تھا اب فرمایا بازو جھکادے ان کے لیے جو تیرے ساتھ ہوں ایماندار مطلب یہ ہے کہ ایمان والے خواہ اپنے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں ان کے ساتھ تو شفقت سے رہ اور جو تیری نافرمانی کرے وہ کوئی کیوں نہ ہو اس سے جدارہ اور کہہ کہ میں بیزار ہوں تمہاری حرکتوں سے اور بھروسہ کر اس زبر دست رحم والے پر جو تجھ کو دیکھتا ہے جب تو تہجد کو اٹھتا ہے اور پھرتا ہے سجدہ کرنے والوں میں ان کی خبر کو کہ غافل ہیں یا یاد الٰہی میں مشغول ہیں بیشک وہ پروردگار ہر ایک بات کو سنتا جانتا ہے مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے جب تم صحابہ ؓ کے ساتھ فرض نماز پڑھتے ہو تو اس نماز کا رکوع سجود اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 221–227
آیت 221 سے 227
یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد ﷺ پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد ﷺ شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا : (ھل انبئکم) ” کیا تمہیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟ “ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں، یعنی میں تمہیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں۔ (تنزل علی کل افاک) ” ہر کذاب ](قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیطان نازل ہوتے ہیں۔ “ (اثیم) یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان۔۔۔ اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–223
قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ )
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…
Read the full tafseer →118ٰجعل سازوں اور ان کے کام کی نشاندھی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جعل سازوں کا کام سنی سنائی باتوں کو آگے پھیلانا اور جعل سازی ہی کے لیے کان لگائے رکھنا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ سنی سنائی باتیں ان کے کانوں میں پھونکتے ہیں "۔ یعنی " سمع " کو یہاں پر " مسموع " کے معنیٰ میں لیا گیا ہے۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " سمع " یہاں پر آلہ سمع ۔ کان ۔ کے معنیٰ میں ہو کہ شیاطین آسمان سے عالم بالا کی خبریں سننے کے لئے کان لگاتے ہیں۔ مگر مار بھگائے جاتے ہیں۔ اور حدیث صحیح کے مطابق جب وہ اس طرح کی کوئی ایک آدھ بات سن لیتے ہیں تو اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر اپنے چیلوں کو سناتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد
تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیات نمبر 192 تا 227:
اسرار و معارف
اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…
Read the full tafseer →11 ۔ یعنی ان بدکاروں میں یا شیطانوں میں۔ 12 ۔ یعنی امور غیبیہ سے متعلق جو ایک آدھ ناتمام بات سن پاتے ہیں اس میں اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا کر بیان کرتے ہیں۔ (شیطان ان بدکاروں سے اور یہ بدکار لوگوں سے) ۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے کاہنوں کے بارے میں سوال کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :” وہ کچھ نہیں ہیں “۔ انہوں نے عرض کیا ” اے اللہ کے رسول ﷺ ! بعض اوقات تو ٹھیک بات بتا دیتے ہیں۔ فرمایا :” اس ٹھیک بات کو کبھی کوئی جن لے اڑتا ہے اور جا کر اپنے دوست کے کان میں پھونک دیتا ہے پھر وہ اس میں سو جھوٹ کی آمیزش کردیتے ہیں۔ (شوکانی بحوالہ بخاری و مسلم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–223
(26:222) افاک : افک سے مبالغہ کا صیغہ ہے بہت جھوٹ بولنے والا۔ الافک ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنے صحیح رخ سے پھیر دی گئی ہو۔ اسی بناء پر ان ہواؤں کو جو اپنا اصلی رخ چھوڑ دیں مؤتفکۃ کہتے ہیں والمؤتفکۃ اھوی (53:53) اور الٹی ہوئی بستیوں کو دے پٹکا (یہاں مؤتفکۃ سے مراد وہ بستیاں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مع ان کے بسنے والوں الٹ دیا تھا۔
جھوٹ بھی چونکہ اصلیت اور حقیقت سے پھرا ہوا ہوتا ہے اس لئے اس پر بھی افک بولا جاتا ہے مثلاً ان الذین جاء وا بالافک عصبۃ منکم (24:11) بیشک جنہوں نے جھوٹی تہمت لگائی ہے تمہیں لوگوں میں سے ایک جماعت ہے۔
اتیم : (فعیل بمعنی فاعل) گنہگار۔ بڑا بدکار۔ بڑا ناہنجار۔ کثیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–227
لغات القرآن : آیت نمبر 214 تا 227 :
عشیرۃ (قبیلہ۔ خاندان۔ رشتہ دار) اخفض (جھکا دے۔ عاجزی اور تواضع کر) جناح (بازو۔ پر) ‘ بری ئ (بیزار ۔ نفرت) ‘ توکل (بھروسہ کر) تقلب (الٹنا پلٹنا۔ اٹھنا بیٹھنا) ‘ افاک (بہتان و الزام لگانے والا) ‘ اثیم (گناہ کرنے والا۔ گناہ گار) ‘ الغاون (گمراہ لوگ) ‘ یھیمون (وہ گھومتے ہیں) ‘ انتصروا (انہوں نے بدلہ لیا) ‘ ای (کونسا) ‘ منقلب (لوٹنے والا) ‘ ینقلبون (وہ لوٹ کرجاتے ہیں) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 214 تا 227 :
نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے محبوب پیغمبر اور معصوم ہیں جن کی طرف کسی گناہ ‘ خطا یا شرک کا تصور کرنا بھی گناہ ہے۔ آپ کی سیرت و کردار اور قول و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–223
(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ اپنے نزدیکی قرابت داروں کو بھی ڈراؤ چناچہ نبی ﷺ نے قریب کے رشتہ دار بنی ہاشم اور بنی مطلب کو علی الاعلان ڈرایاجیسا کہ بخاری ومسلم میں وارد ہے آگے فرمایا کہ اے محبوب جو ایمان والے تمہارے تابع ہیں ان کے لیے اپنی رحمت کا بازو بچھائے رکھو، یعنی شفقت سے پیش آیا کرو اور جو تمہاری نافرمانی کریں تو فرمادو کہ میں تمہارے افعال سے بری الذمہ ہون اور خدائے زبردست مہربان پر بھروسہ رکھو جو تم کو دیکھتا ہے نماز تہجد میں تم جس وقت اٹھتے ہو اور جب تم صحابہ کے ساتھ فرض نماز پڑھتے ہو تو اس نماز کا رکوع و سجود دیکھتا ہے بیشک آپ کا رب خوب سننے والا اور جاننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 220–223
[38] یعنی شیاطین فرشتوں سے کچھ سن گن لے کر اس میں بہت سا جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر اپنے کاہن دوستوں کو پہنچاتے ہیں۔ بعض مفسرین نے یہ مطلب لیا ہے کہ جھوٹے لپاٹیے کاہن شیاطین سے کچھ باتیں سن لیتے ہیں اور پھر اپنی طرف سے بہت سا جھوٹ ملا کر لوگوں کے کانوں میں پھونکتے پھرتے ہیں۔ یہ کفار کے اس الزام کا جواب ہے کہ وہ نبی ﷺ کو کاہن کہتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 222–223
آفاک افک سے ہے ۔ مبالغہ سے جھوٹ بولنے والا ۔
Read the full tafseer →(223) جو شیاطین کی باتوں پر پوری طرح کان لگا دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر بہت ہی جھوٹ بولا کرتے ہیں۔ یعنی شیاطین کے اترتے کی یہ حقیقت ہے کہ کچھ لوگ شیطان سے دوستی کرلیتے ہیں۔
شیطانی آسمانوں کی طرف جانتے ہیں وہاں ان کو انگارے مارے جاتے ہیں وہاں سے بھاگتے ہیں بھاگتے میں فرشتوں کی کوئی جزئی بات کان میں پڑگئی تو اس میں کچھ اور جھوٹی باتیں ملا کر اس دوست کو سنادیں دوست نے بہت کان لگا کر یہ باتیں سنیں پھر دوسرے انسانوں کو گمراہ کرنے کی غرض سے سنائیں سناتے وقت اس جھوٹ میں کچھ اور جھوٹ ملا دیا اس سے زیادہ ان شیطانی خبروں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک لوگ تھے کاہن کہلاتے کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 221–224
ف 2۔ مراد راہ سے شعر گوئی ہے، یعنی مضامین خیالی شاعرانہ نثرا یا نظما کہنا ان لوگوں کا شیوہ ہے جو مسلک تحقیق سے دور ہوں، چناچہ خیالی مضمون کہتے ہی اس کو ہیں جو تحقیق کے خلاف ہو۔
Read the full tafseer →ہر سنی سنائی بات آگے کہہ دینے والے بلاشبہ جھوٹے ہی ہوتے ہیں :
223۔ قرآن کریم مشرکوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ ایک بات بک دینے سے پہلے کچھ تو سوچ لیا کرو کیونکہ یہ بات تو زبان زد خاص وعام ہے کہ پہلے بات کو تولو پھر منہ سے بولو تاکہ جو کچھ کہہ رہے ہو کیا لگتی ہوئی بات ہے یا نہیں ؟ کیا باپ اور بیٹے اور استاد اور شاگرد میں کچھ بھی قدریں مشترک نہیں ہوتیں ؟ کیا ان میں کوئی بھی مناسبت نہیں ہوتی ؟ شیطان سے تعلق رکھنے والے کون لوگ ہوتے ہیں ؟ شیطان کے چیلے شیطان سے فیض یاب ہونے والے کس سیرت واخلاق کے لوگ ہوں گے ؟ کیا سچ بھی جھوٹ سے پیدا ہوتا ہے ؟ کچھ تو غور کیا ہوتا کہ شیطان کے تربیت یافتہ تو وہی لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–223
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ﴿214﴾
And warn the nearest people of your clan, -26:214.
` Ashirah'o, عَشِيرَۃ means clan and by limiting it with 'aqrabin (the nearest people) it is used for close relatives. It is worth noting here that the mission of the Holy Prophet ﷺ as a messenger is universal to the whole Ummah, then what is the wisdom in making it special for the members of the clan? But if we look at it rather closely, we will notice in it an easy and effective way for preaching, which would have far-reaching effect. One's own family members having the privilege of closeness…
Read the full tafseer →141 This may have two meanings: (1) The satans somehow get a little hint of the truth and inspire their agents with it, mixing it with all kinds of falsehood; and (2) the deceitful, unscrupulous sorcerers hear something from the satans and then mixing it with falsehood, whisper it into the people's ears. This has been explained in a Tradition which Bukhari has quoted on the authority of Hadrat 'A'ishah. She says that when some people asked the Holy Prophet about sorcerers, he replied that they were nothing. They said, "O Messenger of Allah, they, sometimes, tell the right thing" The Holy…
Read the full tafseer →