Ash-Shu'araa 26:222

Ash-Shu'araa · from ayah 222

26:222

تَنَزَّلُ عَلٰی كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍ ۟ۙتَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍۙ

ہر جھوٹے گنہگار پر اُترتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They descend upon every sinful liar.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 11 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:222

وہ ہر جعل ساز بدکار پر اُترا کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہر جھوٹے گنہگار پر اُترتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه ہر ایک جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ ہر ایسے شخص پر اترتے ہیں جو پرلے درجے کا جھوٹا گنہگار ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اترتے ہیں بڑے بہتان والے گناہگار پر

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ ہر جھوٹے (بہتان طراز) گناہگار پر اترا کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ ہر زبردست جھوٹے، سخت گنہگار پر اترتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ ہر جعل ساز، گنہگار پر نازل ہوتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ لپاٹیوں بدکاروں پر اترتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ اترا کرتے ہیں ہر بہتان باز اور جعل ساز و بدکردار پر

— مولانا اسحاق مدنی

ایسوں پر اترا کرتے ہیں جو (جھوٹے) لپاٹیے ہوں بدکردارہوں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ تو اترتے ہیں ہر جھوٹ گھڑنے والے گناہگار پر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہر جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

They descend on every forgerer steeped in sin,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They descend on every sinful liar.

— Muhammad Taqi Usmani

They descend on every sinful liar.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They descend on every lying, sinful person (Athim).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They descend on every sinful, false one.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They descend upon every sinful liar.

— Saheeh International

They come to every sinful liar.

— Muhammad Sarwar

They descend upon every lying, sinful one,

— Muhammad Habib Shakir

They descend upon every calumniator, sinner.

— Abdul Majid Daryabadi

They descend on every lying, wicked person,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:222

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 221–227

شیاطین اور جادوگر مشرکین کہا کرتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کا لایا ہوا یہ قرآن برحق نہیں۔ اس نے اسکو خود گھڑلیا ہے یا اس کے پاس جنوں کا کوئی سردار آتا ہے جو اسے یہ سکھا جاتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس اعتراض سے پاک کیا اور ثابت کیا کہ آپ جس قرآن کو لائے ہیں وہ اللہ کا کلام ہے اسی کا اتارا ہوا ہے۔ بزرگ امین طاقتور فرشتہ اسے لایا ہے۔ یہ کسی شیطان یا جن کی طرف سے نہیں شیاطین تو تعلیم قرآن سے چڑتے ہیں اس کی تعلیمات ان کے یکسر خلاف ہیں۔ انہیں کیا پڑی کہ ایسا پاکیزہ اور راہ راست پر لگانے والا قرآن وہ لائیں اور لوگوں کو نیک راہ بتائیں وہ تو اپنے جیسے انسانی شیطانوں کے پاس آتے ہیں جو پیٹ بھر کر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 220–222

سورة الشُّعَرَآء 140 مراد ہیں کاہن، جوتشی، فال گیر، رمّال، اور " عامل " قسم کے لوگ جو غیب دانی کا ڈھونگ رچاتے پھرتے ہیں۔ گول مول لچھے دار باتیں بنا کر لوگوں کی قسمتیں بتاتے ہیں، یا سیانے بن کر جنوں اور روحوں اور مؤکلوں کے ذریعہ سے لوگوں کی بگڑی بنانے کا کاروبار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 214–223

وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ، عشیرہ کے معنے کنبہ اور خاندان اقربی کی قید سے ان میں سے بھی قریبی رشتہ دار مراد ہیں۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر تبلیغ رسالت اور انذار پوری امت کے لئے فرض ہے اس جگہ خاندان کے لوگوں کی تخصیص میں کیا حکمت ہے ؟ غور کیا جائے تو اس میں تبلیغ و دعوت کے آسان اور موثر بنانے کا ایک خاص طریقہ بتلایا گیا ہے جس کے آثار دور رس ہیں۔ وہ یہ کہ اپنے کنبہ اور خاندان کے لوگ اپنے سے قریب ہونے کی بناء پر اس کے حقدار بھی ہیں کہ ہر خیر اور اچھے کام میں ان کو دو رسوں سے مقدم کیا جائے اور باہمی تعلقات اور ذاتی واقفیت کی بناء پر ان میں کوئی جھوٹا دعویدار نہیں کھپ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 221–223

آیت 223-221 شیاطین کن پر اترتے ہیں ؟ اوپر کی آیات میں آپ نے دیکھا کہ پوری وضاحت کے ساتھ قرآن کے منبع ومصدر، اس کے مامون و محفوظ واسطہ نزول اور اس کے پاک و مطہر حامل کا ذکر ہوا ہے او اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ یہ کوئی القائے شیطانی ہے۔ یہ ساری باتیں قرآن کے ان مخالفین کی تردید میں فرمائی گئی ہیں جو نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کے متعلق یہ پروپیگنڈا کرتے تھے کہ آپ ایک کاہن ہیں اور جس طرح کاہنوں پر شیاطین غیب کی باتیں القاء کرتے ہیں اسی طرح ان پر بھی شیاطین یہ کلام القاء کرتے ہیں جس کو یہ ہمارے سامنے وحی الٰہی کے نام سے پیش کرتے ہیں۔ اب یہ خلاصہ بحث کے طور پر ان الزام لگانے والوں کو مخاطب کر کے فرمایا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 220–222

222-1یعنی اس قرآن کے نزول میں شیطان کا کوئی دخل نہیں ہے، کیونکہ شیطان تو جھوٹوں اور گنہگاروں (یعنی کاہنوں، نجومیوں وغیرہ) پر اترتے ہیں نہ کہ انبیاء صالحین پر۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 214–222

50: یہ وہ آیت ہے جس کے ذریعے آنحضرت ﷺ کو سب سے پہلی بار تبلیغ کا حکم ہوا اور یہ ہدایت دی گئی کہ تبلیغ کا آغاز اپنے قریبی خاندان کے لوگوں سے فرمائیں، چنانچہ اسی آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ نے اپنے خاندان کے قریبی لوگوں کو جمع کرکے ان کو دین حق کی دعوت دی، اس میں یہ سبق بھی دیا گیا ہے کہ اصلاح کرنے والے کو سب سے پہلے اپنے گھر اور اپنے خاندان سے شروع کرنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 221–226

ھل انیئکم ……کذبون (041) عربوں میں کاہن ہوا کرت ی تھے ، ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جن انہیں غیب کی خبریں دیتے ہیں اور لوگ ان کے ہاں جاتے تھے اور ان کی پیش گوئیاں سنتے تھے ان کاہنوں میں سے اکثر جھوٹے ہوتے تھے۔ ان کاہنوں کی تصدیق وہ لوگ کرتے تھے جو ہر قسم کے اوبام اور ہر قسم کے افسانوں پر یقین کرنے کے لئے تیار ہوتے تھے لیکن یہ کاہن بہرحال لوگوں کو کسی بھلائی کی طرف نہ بلاتے تھے اور نہ لوگوں کی قیادت راہ ایمان کی طرف کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کا حال ان سے بہت مختف تھا۔ رسول اللہ کو قرآن کے ذریعہ ایک نہایت ہی ٹھوس نظام زندگی کی طرف بلاتے تھے۔ یہ کاہن قرآن کے بارے میں کبھی کہتے یہ شعر ہے اور حضور ﷺ کے بارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 220–222

10 یہاں پھر قرآن کے صدق اور عظمت شان پر تنبیہ فرمائی۔ یعنی ایسے ساجدی اور تہجد گزاروں کے امام کو جو اللہ کے معاملہ میں اپنے اور بیگانے کی کوئی پرواہ نہ کرے اور ساری دنیا سے ٹوٹ کر اکیلے خدا پر بھروسہ رکھے، کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ (معاذ اللہ) شیطان ان پر وحی لاتا تھا ؟ آؤ ! میں تم کو بتاؤں کہ شیطان کی وحی کس قسم کے لوگوں پر آتی ہے۔ وہ آتی ہے جھوٹوں پر، بدمعاشوں اور بدکاروں پر، کیونکہ شیطان سچے اور نیک آدمیوں سے بیزار ہے کہ یہ اس کو برا جانتے ہی۔ جھوٹے دغابازوں سے خوش ہے جو اس کی مرضی کے موافق ہیں۔ بھلا سب سچوں سے زیادہ سچے اور تمام نیکوں سے بڑھ کر نیک انسان کو شیطانی وحی سے کیا نسبت، حضور ﷺ کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 222 تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ ” یہ تو گویا ”کند ہم جنس باہم جنس پرواز“ والا معاملہ ہے۔ یعنی گندے اور خبیث کردار ‘ دوستی اور قرب کے لیے اپنے جیسے کرداروں ہی کو ڈھونڈتے ہیں۔ چناچہ شیاطین بھی اپنے التفات کے لیے انسانوں میں سے انہی لوگوں کے ساتھ رابطہ رکھیں گے جو گناہ اور بدکرداری میں اپنی مثال آپ ہوں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 220–222

132 پہلے یہ بیان ہو رہا تھا کہ قرآن جیسی عظیم الشان کتاب کی تنزیل شیطانوں کے بس کا روگ نہیں اور یہ بات ناممکنات سے کہ وہ اس جیسی ایک آیت بھی لاسکیں۔ اس آیت میں یہ بتلایا جارہا ہے۔ شیطان کیسی چیز اتارتے ہیں اور کیسے لوگوں پر اترتے ہیں۔ شیطان صرف جھوٹوں، بدمعاشوں اور بدکاروں پر اترتے ہیں۔ و دیانتدار، راست باز اور نیک لوگوں سے بیزار ہوتے ہیں اور انھیں برا جانتے ہیں۔ وہ جھوٹے اور دغا باز قسم کے لوگوں پر خوش ہوتے ہیں اور یہی لوگ ان کی مرضی کے موافق ہوتے ہیں اور ایسے ہی لوگ شیطانوں کے القاء کے مطابق کہانت کا کاروبار چلاتے ہیں اور ان سے مراد کاہن، جوتشی، فال نکالنے والے، رمال، جنار اور حامل قسم کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 222–223

119۔ (اپنے دعوائے کہانت وغیب دانی میں) قرآن مجید خود مشرکوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ بات بک ڈالنے سے پیشتر یہ بھی تو سوچ لیاکرو، کہ کچھ لگتی ہوئی بھی ہے۔ شاگرد و استاد میں کچھ تو مناسبت ہونا چاہیے۔ شیطان سے تعلق رکھنے والے کون لوگ ہوتے ہیں ؟ شیطان سے فیض پانے والے کس سیرت کس اخلاق کے ہوتے ہیں ؟ شیطان کے تربیت یافتہ تو وہی ہوتے ہیں جو جھوٹے، لپاٹیے، بدکردار، گناہوں کی گندگی میں آلودہ ہوتے ہیں۔ یعنی ٹھیک ان پاکیزہ خو، فرشتہ صفت اصحاب نبوی کے برعکس، جن کے اوصاف ابھی سورة الفرقان میں بیان ہوچکے ہیں۔ ایسے متقیوں پاکبازوں کے سردار کو بھلا شیطان کے سایہ سے بھی کوئی مناسبت ہوسکتی ہے ؟ (آیت) ” اکثرھم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 192–227

آیت نمبر 192 تا 227 ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تنزل علی کل افاک اثیم۔ شیاطین اترتے ہیں ہر بڑے دروغ گو پکے گناہگار پر۔ اور محمد ﷺ نہ شریر دروغ گو ہیں۔ نہ گناہگار اللہ کے نافرمان اس لئے شیاطین کا نزول ان پر نہیں ہوسکتا تعلیم دینے والے اور تعلیم پانے والے میں (عملی و قولی) مناسبت و موافقت ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 221–222

(221۔ 122) کیا میں تمہیں بتاؤں کہ کس پر شیاطین اترا کرتے ہیں سنو ایسے شخصوں پر اترا کرتے ہیں جو پہلے سے جھوٹے اور بڑے بدکردار ہوں جیسا کہ مسیلمہ کذاب وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 221–222

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰي مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيٰطِيْنُ۔۔ :”اَفَّاکٍ“ ”إِفْکٌ“ میں سے مبالغہ ہے، زبردست جھوٹا۔ ”اَثِیْمٍ“ ”إِثْمٌ“ میں سے مبالغہ ہے، سخت گناہ گار۔ پہلے فرمایا تھا کہ شیاطین نہ یہ قرآن لے کر اترے ہیں نہ ان کے لیے یہ ممکن ہے، اب یہ بیان ہے کہ شیاطین کا قرآن لے کر آنے کی طرح رسول اللہ ﷺ پر اترنا بھی محال ہے، کیونکہ آپ ﷺ صادق و امین ہیں اور خیر کی تمام خوبیوں سے آراستہ ہیں، شیاطین تو ایسے لوگوں پر اترتے ہیں جو نہایت جھوٹے اور سخت گناہ گار ہوں، کیونکہ انھوں نے انھی لوگوں پر اترنا ہوتا ہے جن کے دلوں میں ان کی بات قبول کرنے کی استعداد ہو اور جو جھوٹ، خیانت، خبث اور دوسری کمینگیوں میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 221–223

(ھل انبئکم علی من تنزل۔۔۔۔۔ ) ھل انبئکم علی من تنزیل الشیطن۔ تنزیل علی کل افاک اثیم۔ تنزیل فرمایا کیونکہ اکثریہ ہوا میں ہوتا ہے اور ہوا میں گزرتا ہے۔ یلقون السمع و اکثرھم کذبون سورة حجر میں بحث گزر چکی ہے۔ یلقون السمع یہ شیاطین کی صفت ہے واکثرھم یہ کاہنوں کی طرف لوٹتی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ شیاطین کی طرف راجع ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 221–223

1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے سعید بن وہب (رح) سے روایت کیا کہ میں عبداللہ بن زبیر ؓ کے پاس تھا ان سے عرض کیا کہ مختار یہ گمان کرتا ہے کہ اس کی طرف وحی کی جاتی ہے۔ ابن الزبیر نے فرمایا وہ سچ کہتا ہے پھر یہ آیت ” ہل انبیئکم علی من تنزل الشیطین، تنزل علی کل افاک اثیم۔ تلاوت فرمائی (یعنی کیا میں تم کو نہ بتاؤ کہ شیاطین کسی پر اترتے ہیں وہ اترتے ہیں ہر بڑے دروغ گو پکے گنہگار پر) 2۔ الفریابیو عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذروابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” علی کل افاک اثیم “ سے مراد ہے لوگوں میں سے بہت جھوٹ بولنے والا وہ ہے آیت ” یلقون السمع “ یعنی جیسے وہ سنتا ہے جو شیطان اسے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

تَنَزَّلُ [ وہ اترتے ہیں ] عَلٰي كُلِّ اَفَّاكٍ [ ہر ایک بہتان باز پر ] اَثِـيْمٍ [ گنہگار پر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 214–222

شیاطین ہر جھوٹے پر نازل ہوتے ہیں، اور شعراء کے پیچھے گمراہ لوگ چلتے ہیں مشرکین کہا کرتے ہیں کہ ایک جن محمد ﷺ کو سکھاتا اور بتاتا ہے وہی باتیں آپ ہمیں بتا دیتے ہیں ان کے جواب میں فرمایا کہ (ھَلْ اُنَبِّءُکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیَاطِیْنُ ) (کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں) (یُلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَکْثَرُھُمْ کَاذِبُوْنَ ) (جو کان لگا کر سنتے ہیں اور اکثر ان میں جھوٹ بولنے والے ہیں) یعنی ان جھوٹے لوگوں کے کانوں میں جو شیاطین باتیں ڈالتے ہیں یہ ان کی طرف خوب کان لگا کر سنتے ہیں اور شیاطین سے سن کر جو باتیں نقل کرتے ہیں ان میں بھی اکثر جھوٹ بولتے ہیں۔ رسول ﷺ کی بعثت سے پہلے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 210–223

ابطال کہانت وما تنزلت بہ الشیطین وما ینبغی لہم وما یستطیعون انہم عن السمع لمعزولون۔ گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ یہ قرآن اللہ رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے جس کو جبریل امین (علیہ السلام) لے کے آپ ﷺ کے قلب پر اترے ہیں۔ اب آگے ان لوگوں کے قول کا رد کرتے ہیں کہ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن جن اور شیاطین کا القا ہے۔ جیسے شیاطین کاہنوں پر القا کرتے ہیں یہ بھی اسی قسم کا کلام ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ اور اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترتے جو کاہنوں کے پاس آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں بلکہ اس قرآن کو تو جبریل امین (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں اور نہ شیاطین کے لئے یہ سزاوار ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 222–224

77:۔ یہ مشرکین کے دوسرے شب ہے کا جواب ہے۔ مشرکین نے کہا تھا کہ محمد ﷺ شاعر ہے اور شعراء کی طرح شعر بناتا ہے تو یہاں اس کا جواب دیا گیا۔ مسوق لتنزیھہ (علیہ الصلوۃ والسلام) ایضا عنان یکون و حاشاہ من الشعراء و ابطال زعم الکفرۃ ان القران من قبیل الشعر (روح ج 19 ص 145) ۔ یعنی شاعروں کی پیروی تو گمراہ لوگ کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ شعراء چونکہ خود گمراہ ہوتے ہیں اس لیے وہ اپنے اشعار میں کفر و شرک اور ضلالت وغوایت کے جو مضامین بیان کرتے ہیں، گمراہ لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 210–223

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا تھا اور اس کا اجمالی تعارف کرایا تھا۔ اس عظیم کتاب کو جبرائیل میں نے پروردگار عالم کے حکم سے نازل کیا ۔ یہ کلام الٰہی پیغمبر کے قلب مبارک پر نہایت فصیح وبلیغ عربی زبان میں اتارا گیا ۔ اس کے نزول کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ اللہ کے نبی اس کے ذریعے لوگوں کو ان کے آخرت کے برے انجام سے ڈرا دیں ۔ یہ وہی کتاب ہے جس کے مضامین اور پیشن گوئیاں سابقہ کتب میں بھی موجود تھیں ۔ ان حقائق کے باوجود جو شخص اس قرآن کا انکار کرتا وہ کافر اور گمراہ تصور ہوگا ۔ قرآن کے منکرین میں سے بعض اسے سحرے تعبیر کرتے ہیں ۔ جب کہ بعض دوسرے اسے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تَنَزَّلُ عَلٰي كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِـيْمٍ۝ 222ۙ أفك الإفك : كل مصروف عن وجهه الذي يحق أن يكون عليه، ومنه قيل للریاح العادلة عن المهابّ : مُؤْتَفِكَة . قال تعالی: وَالْمُؤْتَفِكاتُ بِالْخاطِئَةِ [ الحاقة/ 9] ، وقال تعالی: وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوى [ النجم/ 53] ، وقوله تعالی: قاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ [ التوبة/ 30] أي : يصرفون عن الحق في الاعتقاد إلى الباطل، ومن الصدق في المقال إلى الکذب، ومن الجمیل في الفعل إلى القبیح، ومنه قوله تعالی: يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ [ الذاریات/ 9] ، فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ [ الأنعام/ 95] ، وقوله تعالی: أَجِئْتَنا لِتَأْفِكَنا عَنْ آلِهَتِنا [ الأحقاف/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 220–223

واکثرہم کاذبون اور اکثر جھوٹے ہی ہوتے ہیں۔ سفلی عملیات کے عامل اکثر ناپاک اور گندے رہا کرتے ہیں تاکہ شیاطین ان کے پاس خوشی خوشی آویں۔ اب رہے شاعر ان کا یہ حال ہے والشعراء الخ کہ ان کے پیچھے تو بدراہوں کی جماعت ہوا کرتی ہے یہ کوئی مضمون نظم کرتے وہ اس کو نقل کرتے پھرتے ہیں مگر اس سے مراد وہ شاعر ہیں کہ جو آنحضرت ﷺ کی ہجو کیا کرتے تھے جیسا کہ ہبیرہ بن وہب وامیۃ بن ابی الصلت اور لوگوں کو جمع کر کے سناتے تھے اور وہ لوگوں سے بیان کرتے پھرتے تھے۔ الم تر الخ یہ ان کی بدراہی کی دلیل ہے کہ ہر میدان سخن میں ٹکراتے پھرتے ہیں کیا کیا جھوٹی اور مبالغہ آمیز بندشیں باندھتے ہیں وانہم یقولون منہ سے کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 222–226

وَالشُّعَرَآئُ یَـتَّبِعُھُمُ الْغَاوٗنَ ۔ اَلَمْ تَرَاَنَّھُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّھِیْمُوْن۔ وَاَنَّھُمْ یَقُوْلُوْنَ مَالاَ یَفْعَلُوْنَ ۔ اِلاَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّانْتَصَرُوْا مِنْ م بَعْدِمَاظُلِمُوْا ط وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ ۔ (الشعرآء : 224 تا 227) (اور شعراء، بہکے ہوئے لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں۔ وہ کہا کرتے ہیں ایسی باتیں جن پر وہ خود عمل نہیں کرتے۔ بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے جنھوں نے نیک اعمال کیے اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 222–224

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ پر کفار کا تیسرا الزام، اور اس کا جواب : سورۃ الشعراء کا اختتام کفار کے الزامات اور ان کے جوابات پر ہوتا ہے۔ اہل مکہ بڑے تکرار اور صرار کے ساتھ یہ الزام لگاتے کہ آپ شاعر ہیں یہ الزام لگانے کی دو وجوہات تھیں۔ ایک تو قرآن مجید کے الفاظ، آیات کا اختتامی انداز جس میں بعض آیات کا ردیف قافیہ اس طرح بنتا ہے جس میں خود بخود ایک دھن پیدا ہوجاتی ہے اور پھر پورے قرآن میں غضب کی تاثیر پائی جاتی ہے۔ جس سے کوئی بھی آدمی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس لیے کبھی وہ آپ کو شاعر قرار دیتے اور کبھی جادوگر کہتے تھے۔ آپ کو شاعر قرار دینے کی دوسری وجہ یہ تھی کیونکہ قرآن مجید میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

222: تَنَزَّلُ عَلٰی کُلِّ اَفَّاکٍ (وہ ہر کذاب پر اترتے ہیں) ۔ اَثِیْمٍ (گناہ گا رپر) گناہوں کے مرتکب اور وہ کاہن، متنبی جیسے سطیح مسیلمہ وغیرہ۔ اور حضرت محمد ﷺ تو کذابین کی تردید و مذمت کرتے ہیں پس ان پر شیاطین کے نزول کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

222۔ تنزل، اصل میں تتنزل تھا، علی کل افاک، جھوٹے کو کہتے ہیں۔ اثیم، بمعنی فاجر، قتادہ کا قول ہے کہ اس سے کاہن مراد ہیں کہ شیطان الجن آسمانی باتوں کو اچک لیتا ہے اور اپنے کاہنوں کو آکروہ خبر بتلاتے ہیں جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 215–224

(215 تا 224) اوپر رشتہ داروں کو ڈرسنانے کا حکم تھا اب فرمایا بازو جھکادے ان کے لیے جو تیرے ساتھ ہوں ایماندار مطلب یہ ہے کہ ایمان والے خواہ اپنے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں ان کے ساتھ تو شفقت سے رہ اور جو تیری نافرمانی کرے وہ کوئی کیوں نہ ہو اس سے جدارہ اور کہہ کہ میں بیزار ہوں تمہاری حرکتوں سے اور بھروسہ کر اس زبر دست رحم والے پر جو تجھ کو دیکھتا ہے جب تو تہجد کو اٹھتا ہے اور پھرتا ہے سجدہ کرنے والوں میں ان کی خبر کو کہ غافل ہیں یا یاد الٰہی میں مشغول ہیں بیشک وہ پروردگار ہر ایک بات کو سنتا جانتا ہے مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے جب تم صحابہ ؓ کے ساتھ فرض نماز پڑھتے ہو تو اس نماز کا رکوع سجود اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 221–227

آیت 221 سے 227 یہ اہل تکذیب میں سے ان لوگوں کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ محمد ﷺ پر شیطان نازل ہوتا ہے نیز ان لوگوں کی بات کا جواب ہے جو کہتے تھے کہ محمد ﷺ شاعر ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا : (ھل انبئکم) ” کیا تمہیں (حقیقی خبر سے) آگاہ نہ کروں ؟ “ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ کن پر شیاطین نازل ہوتے ہیں، یعنی میں تمہیں ان لوگوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہوں جن پر شیاطین نازل ہوا کرتے ہیں۔ (تنزل علی کل افاک) ” ہر کذاب ](قول باطل کے قائل اور افترا پرداز) پر شیطان نازل ہوتے ہیں۔ “ (اثیم) یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنے والا اور بہت نافرمان۔۔۔ اس قسم کے لوگوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور شیاطین…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 192–223

قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ ) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

117 اَفَّاکٍ کا معنی و مطلب ؟ : " اَفَّاکٍ "، " اِفَّکَ " سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ اور " افک " کے اصل معنیٰ پلٹنے اور الٹا کردینے کے آتے ہیں۔ پس " افّاک " وہ شخص ہے جو سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کر دکھائے۔ اور جب شیطان اس قسم کے جعل ساز لوگوں پر اترتے ہیں تو پھر سید الاولین والاخرین اور ازکی الازکیا فی العالمین ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ پر ان کے اترنے کی تک ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ بس یہ الزام سراسر افتراء و بہتان اور ان افتراء پردازوں کی خرد باختگی کا ثبوت و نشان ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو " اَفَّاکٍ " ایسے دروغ باز، جعل ساز اور مکار شخص کو کہا جاتا ہے جو سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنانے کیلئے طرح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 192–227

قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 192–227

آیات نمبر 192 تا 227: اسرار و معارف اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 219–222

10 ۔ جیسے کاہن، جوتشی، نجومی، فال گیر اور نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنیوالا وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 222–223

(26:222) افاک : افک سے مبالغہ کا صیغہ ہے بہت جھوٹ بولنے والا۔ الافک ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنے صحیح رخ سے پھیر دی گئی ہو۔ اسی بناء پر ان ہواؤں کو جو اپنا اصلی رخ چھوڑ دیں مؤتفکۃ کہتے ہیں والمؤتفکۃ اھوی (53:53) اور الٹی ہوئی بستیوں کو دے پٹکا (یہاں مؤتفکۃ سے مراد وہ بستیاں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مع ان کے بسنے والوں الٹ دیا تھا۔ جھوٹ بھی چونکہ اصلیت اور حقیقت سے پھرا ہوا ہوتا ہے اس لئے اس پر بھی افک بولا جاتا ہے مثلاً ان الذین جاء وا بالافک عصبۃ منکم (24:11) بیشک جنہوں نے جھوٹی تہمت لگائی ہے تمہیں لوگوں میں سے ایک جماعت ہے۔ اتیم : (فعیل بمعنی فاعل) گنہگار۔ بڑا بدکار۔ بڑا ناہنجار۔ کثیر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 214–227

لغات القرآن : آیت نمبر 214 تا 227 : عشیرۃ (قبیلہ۔ خاندان۔ رشتہ دار) اخفض (جھکا دے۔ عاجزی اور تواضع کر) جناح (بازو۔ پر) ‘ بری ئ (بیزار ۔ نفرت) ‘ توکل (بھروسہ کر) تقلب (الٹنا پلٹنا۔ اٹھنا بیٹھنا) ‘ افاک (بہتان و الزام لگانے والا) ‘ اثیم (گناہ کرنے والا۔ گناہ گار) ‘ الغاون (گمراہ لوگ) ‘ یھیمون (وہ گھومتے ہیں) ‘ انتصروا (انہوں نے بدلہ لیا) ‘ ای (کونسا) ‘ منقلب (لوٹنے والا) ‘ ینقلبون (وہ لوٹ کرجاتے ہیں) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 214 تا 227 : نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے محبوب پیغمبر اور معصوم ہیں جن کی طرف کسی گناہ ‘ خطا یا شرک کا تصور کرنا بھی گناہ ہے۔ آپ کی سیرت و کردار اور قول و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 214–223

(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ اپنے نزدیکی قرابت داروں کو بھی ڈراؤ چناچہ نبی ﷺ نے قریب کے رشتہ دار بنی ہاشم اور بنی مطلب کو علی الاعلان ڈرایاجیسا کہ بخاری ومسلم میں وارد ہے آگے فرمایا کہ اے محبوب جو ایمان والے تمہارے تابع ہیں ان کے لیے اپنی رحمت کا بازو بچھائے رکھو، یعنی شفقت سے پیش آیا کرو اور جو تمہاری نافرمانی کریں تو فرمادو کہ میں تمہارے افعال سے بری الذمہ ہون اور خدائے زبردست مہربان پر بھروسہ رکھو جو تم کو دیکھتا ہے نماز تہجد میں تم جس وقت اٹھتے ہو اور جب تم صحابہ کے ساتھ فرض نماز پڑھتے ہو تو اس نماز کا رکوع و سجود دیکھتا ہے بیشک آپ کا رب خوب سننے والا اور جاننے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 220–223

[38] یعنی شیاطین فرشتوں سے کچھ سن گن لے کر اس میں بہت سا جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر اپنے کاہن دوستوں کو پہنچاتے ہیں۔ بعض مفسرین نے یہ مطلب لیا ہے کہ جھوٹے لپاٹیے کاہن شیاطین سے کچھ باتیں سن لیتے ہیں اور پھر اپنی طرف سے بہت سا جھوٹ ملا کر لوگوں کے کانوں میں پھونکتے پھرتے ہیں۔ یہ کفار کے اس الزام کا جواب ہے کہ وہ نبی ﷺ کو کاہن کہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 221–224

ف 2۔ مراد راہ سے شعر گوئی ہے، یعنی مضامین خیالی شاعرانہ نثرا یا نظما کہنا ان لوگوں کا شیوہ ہے جو مسلک تحقیق سے دور ہوں، چناچہ خیالی مضمون کہتے ہی اس کو ہیں جو تحقیق کے خلاف ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ ہر جھوٹے گناہ گار پر اترتے ہیں : 222۔ شیاطین ہر اس شخص پر اترتے ہیں جس کی زندگی گناہوں میں لت پت ہوتی ہے اور وہ جھوٹی باتیں بکتا رہتا ہے ۔ زیر نظر آیت میں شیاطین کے اترنے کا جو مقام بتایا گیا ہے وہ مقام کس کا ہے ؟ خود غور کرلو کیونکہ ہمارا رسول تو وہی ہے جس کے متعلق باوجود مخالفت کے تمہارا اپنا اقرار ہے کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا اور بلاشبہ یہ بات سچ ہے اور اس کے لائق ہی نہیں کہ وہ کبھی جھوٹ بولے اور ہمارے رسول کی پوری زندگی تمہاری آنکھوں کے سامنے گزری ہے تم اس کے بچپن کی ‘ جوانی کی مکمل عمر سے واقف ہو کیا کبھی آج تک اس نے کوئی گناہ کیا ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں اور کوئی رسول بھی کبھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 214–223

وَأَنذِرْ‌ عَشِيرَ‌تَكَ الْأَقْرَ‌بِينَ ﴿214﴾ And warn the nearest people of your clan, -26:214. ` Ashirah'o, عَشِيرَ‌ۃ means clan and by limiting it with 'aqrabin (the nearest people) it is used for close relatives. It is worth noting here that the mission of the Holy Prophet ﷺ as a messenger is universal to the whole Ummah, then what is the wisdom in making it special for the members of the clan? But if we look at it rather closely, we will notice in it an easy and effective way for preaching, which would have far-reaching effect. One's own family members having the privilege of closeness…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 220–222

140 This implies the sorcerers, astrologers, fortune-tellers and conjurers who pose as knowers of the unseen and tell the people their future, or as wise men who have control over jinns and spirits and can make the destinies of the people through them.

Read the full tafseer →