26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 26:1–2

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ وضاحت کرنے والی کتاب 1 کی آیات ہیں

1 کتاب سے مراد یہی خاص سورة شعراء بھی ہوسکتی ہے اور پورا قرآن بھی۔ کیونکہ قرآن کی ہر سورة اپنی ذات میں جامع ہے، مکمل ہے اور مفصل کتاب ہے۔ جیسا کہ پہلے اس کی وضاحت کی جاچکی ہے اور مبین سے مراد یہ ہے کہ یہ کتاب اپنا مدعا صاف صاف بیان کر رہی ہے اس میں کچھ ابہام نہیں جس کی کسی کو سمجھ نہ آسکے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ کتاب کی آیات ہں۔ کسی انسان سے یہ ممکن نہیں کہ وہ ایسی آیات پیش کرسکے۔
Ayah 26:3

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

(اے نبی ! ) اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو اس غم میں شاید آپ اپنے آپ کو ہلاک ہی کر 2 ڈالیں گے

2 آپ کی یہ انتہائی آرزو تھی کہ کفار مکہ ایمان لے آئیں اور جب وہ ایمان لانے کے بجائے معاندانہ روش اختیار کرتے تو آپ کو اتنا ہی شدید صدمہ ہوتا تھا۔ اس کی وجوہ کئی تھیں۔ ایک یہ کہ آپ خلق خدا کے لئے نہایت ہمدردانہ اور مشفقانہ جذبات رکھتے تھے۔ آپ جانتے تھے کہ یہ لوگ میری مخالفت کرکے جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں۔ لہذا آپ کو ان کی اس مخالفت سے شدید دکھ ہوتا تھا۔ تیسری وجہ فطری تھی۔ انسان جس کام میں اپنی تمام تر کوششیں صرف کر رہا ہو اگر اس کا کوئی مثبت نتیجہ نظر نہ آرہا ہو تو وہ مایوس ہوجاتا ہے اور اسے سخت صدمہ پہنچتا ہے۔ تیسری وجہ یہ تھی جس میں دوسرے مسلمان بھی شامل تھے۔ کہ اگر یہ لوگ اسلام قبول کرلیتے تو اسلام کو خاصی تقویت پہنچ سکتی تھی۔ بصورت دیگر مسلمانوں کی ایذاؤں اور مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا تھا۔ ان وجوہ کی بنا پر آپ کفار کے انکار پر شدید افسردہ اور غمگین رہتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے فرمایا کہ آپ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے پر اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں۔ انھیں راہ راست پر لانا آپ کے ذمہ نہیں اور جو کام آپ کے ذمہ ہے وہ آپ کر ہی رہے ہیں۔ آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑیئے اس سے نپٹنا میرا کام ہے۔ آپ بس اپنا کام کرتے جائیے۔
Ayah 26:4

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی معجزہ اتار دیتے جس کے آگے ان کی گردنیں جھک جاتیں 3 ۔

3 اگر ان کا ایمان لانا ہی مطلوب مقصود ہوتا تو یہ کام یوں بھی ہوسکتا تھا کہ ہم کوئی ایسا معجزہ نازل کردیتے۔ جس کی بنا پر یہ ایمان لانے پر مجبور ہوجاتے۔ مگر یہ بات ہماری مشیت کے خلاف ہے۔ ایسا جبری ایمان لانے کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ ہمیں مطلوب ہے۔ مطلوب تو یہ ہے کہ انھیں راہ ہدایت سمجھا دینے کے بعد کون شخص اپنی عقل وتمیز کو کام میں لاکر اور اپنے ارادہ اختیار سے ایمان لاتا ہے۔ اور یہی چیز انسان کی پیدائش کا مقصود اصلی ہے ورنہ اللہ انسان کو بھی دوسری مخلوق کی طرح پیدا کرسکتا تھا۔ جو اللہ کے سامنے ہر حال میں سرتسلیم خم کرنے پر مجبور ہے۔
Ayah 26:5

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

ان کے پاس رحمن کی طرف سے جو بھی کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اس سے یہ منہ موڑ 4 لیتے ہیں

4 ان لوگوں کو راہ راست سمجھانے کا طریقہ یہی ہے کہ ان کی توجہ اللہ تعالیٰ کی آیات تکوینیہ ( وہ نشانیاں جو کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی ہیں) ( اور آیات تنزیلیہ) وحی کی صورت میں نازل ہونے والی آیات یا وہ آیات جن میں معاندین حق پر عذاب نازل ہونے کا ذکر ہے کی طرف دلائی جائے۔ مگر یہ کچھ ایسے بدبخت واقع ہوئے ہیں کہ اللہ کی طرف سے جو بھی آیات یا معجزہ وغیرہ نازل ہوتی ہے تو بجائے اس کے یہ اس میں کچھ غور و فکر کریں اور توجہ دیں یہ الٹا اس سے منہ موڑ جاتے ہیں اور اللہ کی آیات کا مذاق اڑانا شروع کردیتے ہیں۔
Ayah 26:6

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

یہ لوگ تکذیب تو کر ہی چکے ہیں تو اب جلد ہی انھیں ان باتوں کی حقیقی خبریں 5 مل جائیں گے جن کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

5 یہ لوگ تو بارہ بار سمجھانے کے باوجود اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور مخالفت پر اڑے بیٹھے ہیں۔ ان لوگوں کا علاج یہ نہیں کہ کوئی معجزہ ان پر نازل کیا جائے کہ وہ ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں۔ بلکہ اب ان کا علاج صرف یہ باقی رہ گیا ہے کہ انھیں جوتوں سے سیدھا کیا جائے۔ اور عنقریب انھیں ایسی بھی خبریں ملتی رہیں گی۔ جس سے ان کو واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ جن باتوں کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ وہی باتیں برحق اور درست تھیں۔ اس کی ایک شکل تو یہ تھی کہ ان کی تمام تر معاندانہ کوششوں کے باوجود اسلام کو غلبہ نصیب ہوتا چلا گا اور یہ ہر ہر میدان میں مات کھاتے رہے اور ان کے لواحقین ایسی خبریں سنتے اور غم کے گھونٹ پیتے رہے اور پیتے رہیں گے اور دوسری صورت کی آخری منزل ان کی موت ہے۔ دنیا میں ہی جب یہ لوگ موت کی سرحد پر آن کھڑے ہوں گے تو ان پر ساری حقیقتیں منکشف ہوتی چلی جائیں گی۔ لہذا آپ ان کے عم میں ہلکان ہونا چھوڑ دیجئے۔
Ayahs 26:7–8

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

کیا انہوں نے زمین کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اس میں کتنی کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات پیدا کی ہے۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

یقینا اس میں ایک نشانی 6 ہے لیکن ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں

6 اگر کسی معجزہ کی بات ہے تو یہ کیا کم معجزہ ہے کہ ایک ہی زمین میں، ایک ہی جیسا آسمان سے پانی برستا ہے۔ ایک ہی سورج سے نباتات کی نشوونما ہوتی ہے۔ لیکن نباتات ساری ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ہزارہا قسم کی نباتات ہوتی ہے۔ کہیں رنگ برنگ کے پھول کھل رہے ہیں، کہیں لہلہاتی کھیتیاں ہیں۔ ان کی خوشبوؤں سے زمین مہک اٹھتی ہے۔ پھر اس نباتات اور وہاں کے باشندوں کی ضروریات میں ایک خاص مناسبت ہے۔ نباتات کی بیشمار انواع و اقسام کے باوجود یہ بھی اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین کے تحت ہی اگتی، بڑھتی اور پھلتی پھولتی ہے اور اس میں ایک خاص نظم و ضبط پایا جاتا ہے۔ غرضیکہ نباتات میں غور و فکر کا اتنا وسیع میدان موجود ہے کہ یہ علم کی ایک شاخ بن چکا ہے۔ اور غور و فکر کرنے والوں کے لئے قدرت کے نئے سے نئے عجائبات پیش کرتا رہتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص ان عجائبات کی طرف توجہ ہی نہ کرے تو اسے اللہ کی کوئی نشانی نظر بھی کیسے آسکتی ہے ؟
Ayah 26:9

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

بلاشبہ آپ کا پروردگار ہر چیز پر غالب 7 ہے اور رحم کرنے والا ہے

7 یعنی اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ ایسے ضدی اور معاند لوگوں کو فوراً صفحہ ہستی سے مٹا دے۔ مگر چونکہ وہ رحیم بھی ہے۔ لہذا وہ انھیں فوراً تباہ نہیں کردیتا بلکہ سمجھنے، سوچنے اور سنبھلنے کے لئے مہلت دیئے جاتا ہے۔
Ayah 26:10

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اور (وہ واقعہ یاد کرو) جب تمہارے 8 پروردگار نے موسیٰ کو پکارا کہ : ظالم قوم کے پاس جاؤ

8 آیات تکوینیہ کی طرف توجہ دلانے کے بعد آگے آیات تنزیلیہ کا آغاز ہو رہا ہے۔ اور اس سلسلہ میں اس سورت میں سات اقوام کا ذکر کیا گیا ہے۔ جنہوں نے اپنے رسول کی دعوت قبول کرنے کے بجائے سرکشی کی راہ اختیار کی تو ان پر عذاب الٰہی نازل ہوا اور صفحہ ہستی سے ان اقوام کا نام و نشان مٹا دیا گیا۔ اور ان آیات کا آغاز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر سے کیا۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آغاز رسالت میں جن حالات سے سابقہ پیش آیا تھا۔ وہ ان حالات سے سنگین تر تھے جو رسول اللہ ﷺ کو پیش آئے تھے۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ اس خاندان کے فرد تھے جو کعبہ کی تولیت کی وجہ سے عرب بھر میں مقرر و محترم شمار ہوتا تھا جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) اس قوم کے فرد تھے جو فرعون کی غلام تھی۔ دوسرے یہ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف مبعوث کیا گیا۔ جس کے ہاں آپ نے پرورش پائی تھی۔ پھر آپ نے نادانستہ طور پر آل فرعون کے ایک آدمی کو بھی مار ڈالا تھا اور فرعونی حکومت کی طرف سے اس قتل کی سزا کے ڈر سے آپ وہاں سے مفرور ہوئے تھے گویا آپ فرعون کے ممنون احسان بھی تھے پھر اس کے مفرور مجرم بھی تھے۔ تیسرے یہ کہ فرعون ایک عظیم الشان سلطنت کا فرمانروا، ظالم و جابر اور اپنی خدائی کا دعویٰ رکھنے والا حکمران تھا۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ جن لوگوں کی طرف مبعوث ہوئے وہ یا آپ کے ہجسر تھے یا معاشرتی لحاظ سے کم تر درجہ رکھتے تھے۔ گویا موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات سے آغاز میں دراصل رسول اللہ ﷺ کو یہ تشلی دی جارہی ہے کہ بعض سابقہ انبیاء کو آپ سے بھی زیادہ سنگین حالات میں دعوت دین کا فریضہ سرانجام دینا پڑا تھا۔ لہذا آپ کو ان کفار مکہ کی معاندانہ روش سے اتنا زیادہ افسردہ اور غمگین نہیں رہنا چاہئے۔
Ayah 26:11

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

یعنی فرعون 9 کی قوم کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ؟

9 بنی اسرائیل پر فرعون اور اس کی حکومت نے جو مظالم ڈھا رکھے تھے ان کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اس قوم کا تعارف ہی ظالم قوم سے کرایا اور جب وہ ایسے مظالم ڈھاتے تھے تو انھیں کسی بھولے سے بھی یہ خیال نہیں آتا تھا کہ ان کے اوپر بھی کوئی ایسی ہستی موجود ہے جو ان سے ان کے مظالم کا بدلہ لینے کی قدرت رکھتی ہے۔ وہ اپنی طاقت اور حکومت کے نشہ میں اللہ کی گرفت سے بالکل بےخوف ہوچکے تھے۔
Ayahs 26:12–14

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

موسیٰ نے عرض کیا : میرے پروردگار ! میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

میرا سینہ گھٹتا (دم رکتا) ہے اور زبان (بھی) نہیں چلتی۔ لہذا ہارون کو (بھی) رسالت عطا فرما

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور میرے ذمہ ان کا ایک جرم (بھی) ہے میں ڈرتا ہوں کہ مجھے مار ہی 10 نہ ڈالیں۔

10 اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین سے واپسی پر نبوت عطا فرمائی تو ساتھ ہی حکم دیا کہ تمہیں فرعون اور قوم فرعون کے پاس جو اپنے ظلم کی وجہ سے مشہور ہوچکی ہے۔ جاکر دعوت کا فریضہ سرانجام دینا ہے۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سابقہ زندگی کے کئی واقعات آپ کی آنکھوں کے سامنے پھرگئے۔ اور کئی قسم کے خطرات سامنے آنے لگے۔ جن میں سرفہرست یہ تھا کہ وہ میری دعوت الی الحق کو کیا اہمیت دے گا۔ جبکہ میں اس قوم کا ایک فرد ہوں۔ جسے اس نے اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ اور خوب دبا کر رکھتا ہے۔ پھر میں اس کا پروردہ بھی ہوں۔ علاوہ ازیں میں ان کا مجرم بھی ہوں۔ ان سب باتوں کو ذہن میں رکھ کر جب اسے اللہ کا پیغام سنانے کا تصور کیا تو سینہ میں گھٹن سی محسوس ہوئی۔ چناچہ اللہ کے حضور یہ خطرات بیان بھی کردیئے۔ مگر انکار کی مجال نہ تھی۔ اور یہی اولوالعزم انبیاء کی شان ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے ایسے فرمانبردار بندے ہوتے ہیں کہ اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بھی اللہ کا پیغام پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے۔ التبہ اتنی گزارش ضرور کی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی نبوت عطا فرما کر میرے ہمراہ کردیجئے۔ جو اس کام میں میرا معاون و مددگار ہو اور ہم کم از کم ایک کے بجائے دو تو ہوجائیں گے جو ایک دوسرے کے غمگسار اور ہمدرد ہوں۔ علاوہ ازیں میری زبان بھی روانی سے نہیں چلتی۔ جبکہ میرا بھائی ہارون فصیح اللسان ہے۔
Ayah 26:15

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ایسا ہرگز نہیں ہوگا تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ، ہم بھی تمہارے ساتھ 11 ہیں، سب کچھ سن رہے ہیں

11 موسیٰ (علیہ السلام) کی اس التجا اور ان خطرات کے جواب میں فرمایا : کہ (1) تمہاری التجا منظور ہے، میں ہارون کو نبوت عطا کردیتا ہوں اور وہ تمہارے ساتھ رہے گا اور اس کام میں تمہارا مددگار ہوگا، (2) تمہیں جو اس بات کا خطرہ ہے کہ وہ مجھے مار ہی نہ دالیں۔ تو اس بات کو دل سے نکال دو ۔ وہ لوگ تمہارا بال بھی بیکا نہ کرسکیں گے۔ اور اس کی دو وجہ ہیں۔ ایک یہ کہ تمہیں دو ایسے معجزات دے کر بھیجا رہا ہوں جو اس بات کا یقینی ثبوت پیش کرتے ہیں کہ تم فی الواقعہ اللہ کے رسول ہو اور دوسری وجہ یہ ہے کہ تم دونوں کے سات تیسرا میں بھی ہوں۔ میں تمہاری سب باتیں سنتا ہوں اور تمہاری پوری پوری نگہداشت بھی کروں گا۔ اس آیت اور اس جیسی بعض دوسری آیات سے جہمیہ نے استدلال کیا کہ اللہ کی ذات ہر جگہ موجود ہے اور جن آیات میں اللہ کے مستوی علی العرش ہونے کا ذکر تھا ان آیات کی تاویل کر ڈالی۔ حالانکہ جن آیات میں اللہ کی معیت یا اس کے قریب ہونے کا ذکر ہے تو ایسی معیت یا قربت ذات کے لحاظ سے نہیں بلکہ صفات کے لحاظ سے ہے۔ اس کی ایک معمولی سی مثالی یوں سمجھئے کہ سورج اور چاند اللہ کی بےجان اور ادنیٰ سے مخلوق ہے۔ جو مسافر کے ساتھ ہی رہتی ہے۔ چلنے والا جہاں تک چلے پہلے وہ ساتھ ساتھ ہی رہتے ہیں۔ حالانکہ وہ آسمان پر ہیں اور انسان لاکھوں اور کروڑوں میل دور ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ مستوی علی العرش ہونے کے باوجود اپنے علم، اپنی قدرت اور مدد کے لحاظ سے ہر انسان سے بالکل نزدیک ہے اور اس کی صحیح کیفیت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
Ayahs 26:16–17

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

فرعون کے پاس جاکر اسے کہو کہ : ہم رب العالمین کے رسول ہیں۔

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

(اور اس لئے آئے ہیں کہ) تو بنی اسرائیل کو (آزاد کرکے) ہمارے ساتھ روانہ 12 کردے

12 اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا مطالبہ منظور کرلینے کے بعد اور فرعون کی دست درازیوں سے حفاظت کی یقین دہانی کے بعد ان دونوں کو حکمدیا کہ فرعون کے پاس جائیں اور اسے بتلائیں کہ ہم رب العالمین کے رسول یا فرستادہ ہیں اگر وہ جھٹلائے تو پھر دو معجزات نشانی کے طور پر اسے دکھلائیں اور ساتھ ہی اس سے یہ مطالبہ کردیں کہ ہماری قوم بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کرکے ہمارے ہمراہ روانہ کردے۔ چناچہ ان دونوں پیغمبروں نے اللہ کے اس حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیا۔ فرعون کے دربار تک پہنچے اور اسے جون کا تون اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔
Ayahs 26:18–19

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

فرعون کہنے لگا : کیا ہم نے تمہیں اپنے ہاں بچپن میں پالا نہ تھا ؟ اور تو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں نہیں گزارے ؟

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

نیز تو نے وہ کام کیا جو کرکے چلا گیا اور تو تو ہے ہی ناشکرا 13

13 فرعون نے اللہ کا پیغام سننے کے بعد اس پیغام کا کچھ جواب دینے کے بجائے وہی کچھ کہنا شروع کردیا۔ جس کا موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلے سے خطرہ تھا۔ اس نے کہا کہ بچپن میں تمہاری پرورش ہم نے ہی کی تھی۔ تمہاری جوانی ہمارے درمیان گزری ہے۔ ہم تو تمہاری رگ رگ سے واقف ہیں۔ پھر تم ہمارے مجرم بھی ہو۔ اب تم نے یہ پیغمبری کا ڈھونگ رچا ڈالا ہے اور ہم پر دباؤ ڈالنے آگئے ہو۔ تمہیں تو ہمارا ممنون احسان ہونا چاہئے تھا تم اٹھ کر رسالت کا دعویٰ کرکے اب ہماری آنکھیں دکھانے لگے ہو تم جیسا بھی کوئی احسان فراموش شخص ہوسکتا ہے ؟ اور انت من الکافرین کا ترجمہ بعضوں نے یوں کیا ہے کہ آج جن لوگوں کو تم کافر کہہ رہے ہو۔ اس پیغمبری کے دعویٰ سے پہلے تو تم خود بھی انھیں جیسے کافر تھے۔ ) نعوذ بالللؤہ ( فرعون کی اس گفتگو سے ضمناً یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ یہ فرعون وہ فرعون نہیں تھا جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تربیت کی تھی۔ بلکہ یہ اس کا بیٹا تھا ورنہ ہم نے پرورش کرنے کی بجائے میں نے پرورش کی تھی کہتا۔ اور یہ تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
Ayahs 26:20–21

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : وہ کام تو اس وقت مجھ سے بھول چوک سے ہوگیا تھا

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

لہٰذا میں تمہارے خوف 14 سے بھاگ گیا۔ پھر مجھے میرے پروردگار نے حکمت عطا فرمائی اور مجھے رسول بنایا۔

14 موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی دونوں باتوں میں سے دوسری کو زیادہ ہم سمجھ کر اس کا جواب دیا اور کہا کہ میں قبطی کے قتل کا مجرم ضرور ہوں۔ لیکن میں نے یہ قتل عمداً نہیں کیا تھا۔ بلکہ نادانستہ طور پر قتل خطا واقعہ ہوگیا تھا۔ میرا قتل کا ارادہ ہرگز نہ تھا۔ نہ میں نے کوئی ایسا آلہ استعمال کیا تھا۔ جو قتل کے لئے استعمال ہوسکتا ہے میری خطا صرف اتنی ہے۔ کہ میری قوم سبطی کے ایک آدمی پر تیری قبطی قوم کا ایک آدمی زیادتی کر رہا تھا اس نے میرے سامنے فریاد کی میں نے جب دیکھا کہ زیادتی قبطی کی ہے اور سبطی مظلوم ہے تو میں نے اس مظلوم کی حمایت کرتے ہوئے قبطی کو مکہ مارا۔ اب یہ اتفاق کی بات ہے کہ وہ مرگیا میں نے کسی برے ارادے سے ہرگز یہ کام نہیں کیا تھا۔ ہاں جب معلوم ہوگیا کہ مجھے سزا دینے کی تجویزیں ہو رہی ہیں تو میں نے راہ فرار میں ہی اپنی عافیت سمجھی تھی۔ گویا اس واقعہ میں جتنا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصور تھا اس کا انہوں نے فرعون کے سامنے برملا اعتراف کرلیا۔ رہی یہ بات کہ اب میں پیغمبری کا دعویٰ کر رہا ہوں۔ جب کہ پہلے کبھی میں نے ایسی بات نہیں کہی تھی کہ اس کا جواب یہ ہے۔ کہ جب میں یہاں سے بھاگ کر گیا تھا تو اس کے مدتوں بعد مجھے اللہ تعالیٰ نے نبوت بھی عطا فرمائی اور حکمت بھی۔ اور ساتھ ہی مجھے تمہارے پاس پہنچ کر اپنا پیغام تجھے پہنچانے کا حکم دیا ہے۔
Ayah 26:22

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور جو احسان تو مجھے جتلا رہا ہے (اس کی وجہ تو یہی تھی) کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام 15 بنا رکھا تھا۔

15 اور تمہاری ہلی بات کا جواب یہ ہے کہ میرے تمہارے ہاں پرورش پانے کا سبب تو یہی چیز بنی تھی کہ تم لوگ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو زندہ نہیں رہنے دیتے تھے۔ اور انھیں ذبح کر ڈالے تھے اگر ایسی بات نہ ہوتی تو میری ماں کیوں مجھے تابوت میں بند کرکے سمندر میں ڈال دیتی۔ پھر وہی تابوت اللہ کی قدرت سے تمہارے پاس پہنچ گیا۔ اگر تم نے بنی اسرائیل پر ایسے مظالم نہ ڈھائے ہوتے تو کیا میرے والدین میری پرورش نہ کرسکتے تھے ؟ میری پرورش کے احسان کی آڑ میں اپنے سال ہا سال کے مظالم کو چھپانا چاہتے ہو ؟ بنی اسرائیل کو انھیں مظالم اور تمہاری غلامی سے نجات دلانے کے لئے اللہ رب العالمی نے تو مجھے پیغمبر بنا کر تمہارے ہاں بھیجا ہے۔
Ayah 26:23

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعون کہنے لگا : یہ رب العالمین 16 کیا ہوتا ہے ؟

16 فرعون نے پوری مملکت کے رسائل معاش اپنے قبضہ میں کر رکھے تھے۔ اسی لحاظ سے وہ اپنے آپ کو اپنی رعیت کا پروردگار یا رب سمجھے بیٹھا تھا اور اپنے رب ہونے کا دعویٰ بھی کرتا تھا۔ اس نے ملک بھر میں اپنے مجسمے نصب کروا رکھے تھے۔ جن کی پوجا کی جاتی تھی اس نے اپنی رعیت کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کردی تھی کہ ان کا پرورش کنندہ میں ہی ہوں۔ لہذا موسیٰ (علیہ السلام) نے یوں فرمایا کہ ہم رب العالمین کے رسول ہیں تو وہ فوراً چونک اٹھا اور ازراہ حقارت کہنے لگا کہ یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے۔ اپنی رعیت کا رب تو میں خود ہوں۔ یہ کون سے رب العالمین کی بات کرتے ہو ؟
Ayah 26:24

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : وہ جو آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا مالک 17 ہے، اگر تمہیں کچھ یقین آجائے

17 موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ رب العالمین وہ ہے جو اس پوری کائنات کا خالق ومالک ہے۔ اگر تمہیں اس بات کا یقین ہے کہ اس کائنات کو وجود میں لانے والی کوئی ہستی موجود ہے تو سمجھ لو کہ میں اس ہستی کی طرف سے تیرے پاس رسول بن کر آیا ہوں اور تمہیں اسی کا پیغام پہنچا رہا ہوں۔
Ayah 26:25

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

فرعون نے اپنے آس پاس والوں سے کہا : کچھ سن 18 رہے ہو ؟ (جو یہ کہتا ہے)

18 فرعون اب اپنے درباریوں اور امیروں، وزیروں سے متوجہ ہو کر کہنے لگا : سن رہو ہو جو یہ شخص کہہ رہا ہے۔ یہ کہہ رہا ہے کہ تمام بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے رہا کرکے میرے ہمراہ کردو۔ تاکہ یہ ہمارے مقابلہ پر اتر آئے۔ پھر ساتھ ہی یہ بھی کہے جاتا ہے کہ میں رب العالمین کا فرستادہ ہوں فرعون کے اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی خدائی اور فرعونیت کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) سے کچھ خطرہ محسوس کرنے لگا تھا اور اپنے درباریوں کو ان کے خلاف بھڑکانا چاہتا تھا۔
Ayah 26:26

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : ہاں وہی تمہارا اور تمہارے آباء و اجداد 19 کا پروردگار ہے

پارہ نمبر 19 سورۃ الشعرآئ 19 درباریوں کے کوئی جواب دینے سے پہلے ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے بھرے دربار میں پھر فرعون کو مخاطب ہو کر کہا : تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ ملک بھر کے وسائل معاش کو اپنے قبضہ میں کرلینے کے بعد تم ہی اپنی رعایا کے پروردگار بن گئے ہو۔ میں اس پروردگار کی بات کر رہا ہوں جس کا تمام تر وسائل پر براہ راست کنٹرول ہے۔ اگر وہ ایک سال یا چند سال بارس ہی نہ برسائے تو تم رعیت تو درکنار اپنی خوراک تک کے لئے ترس جاؤ گے۔ رب العالمین وہ ہے جو خود تمہیں اور تمہارے سب آباء و اجداد کو رزق دیتا رہا ہے اور وہی تمہا ا حقیقی پروردگار ہے۔ میں اس رب العالمین کا رسول ہوں۔
Ayah 26:27

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

فرعون کہنے لگا : یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو دیوانہ 20 ہے ؟

20 فرعون پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے بجائے درباریوں کی طرف ہی متوجہ ہو کر کہنے لگا۔ اس شخص کی حقیقت دیکھو اور اس کا مطالبہ دیکھو۔ اگر یہ رسول ہے بھی تب بھی اس کے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں رہے۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں ہو رہا کہ وہ کس ہستی سے مخاطب ہے اور کیا مطالبہ کر رہا ہے ؟
Ayah 26:28

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : وہی مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار 21 ہے۔ اگر تمہیں کچھ سمجھ آسکے۔

21 موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو جب یوں بوکھلایا ہوا دیکھا تو پھر سے اپنے دعویٰ پر زور دیتے ہوئے اور رب العالمین کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا کہ روئے زمین پر جتنی بھی مخلوق آباد ہے۔ خواہ اس کا تعلق اس ملک مصر سے ہو یا مشرق سے ہو یا مغرب سے ہو یا کہیں سے بھی ہو ساری مخلوق کا پروردگار وہی رب العالمین ہے اب امید ہے تم لوگوں کو سمجھ آہی گئی ہوگی کہ رب العالمین کون ہے ؟ اور میں کون ہوں ؟ تم تو صرف زمین کے ایک چپہ بھر ملک کے فرمانروا ہو اور میں اس رب العالمین کا رسول ہوں جس کی فرمانروائی اس پوری زمین پر ہی نہیں پوری کائنات پر بھی ہے۔ لہذا تمہارے حق میں بہتری اسی بات میں ہے کہ تم فرمانروائے کائنات کے رسول کی بات مان لو۔
Ayah 26:29

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

فرعون بولا : دیکھو ! اگر تم نے میرے سوا کوئی اور الٰہ مانا تو میں تجھے قید 22 میں ڈال دوں گا

22 دنیا میں جتنے بھی مشرکین یا خدائی کے دعویٰ دار گزار ہیں۔ وہ سب یہ بات تسلیم کرتے تھے کہ اس کائنات کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرعون کا بھی یہی حال تھا وہ خدائی کا دعویدار صرف ان معنوں میں تھا کہ وہ اپنے سیاسی اقتدار میں کسی بالاتر ہستی کی مداخلت کا قائل نہ تھا۔ بالفاظ دیگر وہ اللہ تعالیٰ کے اس پوری کائنات کے خالق ومالک ہونے کا تو قائل تھا مگر اس کی قانونی یا سیاسی حاکمیت کا قائل نہ تھا۔ اور اپنی مملکت میں اپنے قانون کو ہی بالاتر قانون سمجھتا تھا۔ اور اپنی رعیت کو بھی اسی راستے پر لگائے ہوئے تھا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے مطالبہ کیا تھا وہ براہ راست اس کے قانونی اور سیاسی اختیارات پر حملہ تھا۔ لہذا اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کو حکومت کے باغی قرار دیتے ہوئے یہ دھمکی دی کہ اگر تم اپنے مطالبہ سے باز نہ آئے تو میں تمہیں ملکی قانون بغاوت کے جرم میں قید میں ڈال دوں گا۔
Ayah 26:30

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : خواہ میں تیرے پاس 23 واضح چیز (نشانی) بھی لاؤں ؟

23 اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : اگر میں اللہ کی عطا کردہ نشانیاں تمہیں دکھلا کر یہ ثابت کردوں کہ میں فی الواقع اللہ رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں تو کیا پھر بھی تمہارا یہی فیصلہ ہوگا ؟
Ayah 26:31

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

فرعون کہنے لگا : لاؤ وہ چیز 24! اگر تم سچے ہو

24 فرعون کی پہلی بحث تو اس امر میں تھی کہ رب تو میں خود ہوں یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے بار بار کے تکرار سے اسے یہ بات ذہین نشین کرا دی کہ رب العالمین ہی وہ بالاتر ہستی ہے جو پوری کائنات کی خالق، مالک اور پرورش کنندہ ہے۔ حتیٰ کہ خود تمہارا بھی وہی پروردگار ہے۔ لہذا اسے ہی یہ حق سزاوار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس کے ہر حکم کو بجا لایا جائے۔ اب بحث اس بات میں رہ گئی تھی کہ آیا موسیٰ (علیہ السلام) اس بالاتر ہستی کے رسول ہیں بھی یا نہیں ؟ اس بحث کا آغاز بھی خود موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اور کہا کہ اس ہستی نے مجھے اپنے دعویٰ رسالت کی تائید میں کچھ نشانیاں بھی دی ہیں اور میں وہ نشانیاں پیش کرسکتا ہوں۔ جس کے جواب میں فرعون نے کہا ہاں اگر تم اپنے دعویٰ کی صداقت میں کوئی نشانی پیش کرسکتے ہو تو کرو۔
Ayah 26:32

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

چناچہ موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا تو وہ فوراً ہو بہو ایک اژدھا 25 بن گیا۔

25 فرعون نے جب موسیٰ (علیہ السلام) سے اپنی رسالت کے ثبوت میں نشانی کا مطالبہ کیا تو آپ نے دربار میں ہی اپنا عصا زمین پر پھینک دیا وہ دیکھتے دیکھتے بہت بڑا سانپ یا اژدہا بن کر فرعون کی طرف بڑھا۔ جس سے فرعون سخت دہشت زدہ ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) سے التجا کی کہ اسے سنبھالو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اسے ہاتھ میں لینا ہی تھا کہ وہ پھر سے عطا بن گیا۔ عصا سے بننے والے سانپ کے لئے قرآ کریم میں تین لغت استعمال ہوئے ہیں۔ ایک مقام پر اسے حیہ فرمایا اور حیہ کا لفظ سائب کے لئے رسم جنس ہے جو ہر قسم کے سانپ کے لئے نیز نر و مادہ کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے۔ دوسرے مقام پر جان کا لفظ آیا ہے جس کا معنی پتلا، سبک رفتار اور پھرتیلا سانپ ہے اور یہاں ثعبان کا لفظ آیا ہے۔ یہ لفظ بڑے سانپ یا اژدہا کے لئے آتا ہے۔ اب ان کی تطبیق یا تو اس صورت میں ہوسکتی ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا پھینکا تو وہ پہلے پتلا اور پھرتیلا سا سانپ بنا ہو۔ بعد میں دیکھتے ہی دیکھتے اژدہا بن گیا ہو اور یا اس طرح کہ عصا نے شکل تو اژدہا کی اختیار کرلی ہو مگر اس میں پھرتی پتلے سانپ جیسی ہو۔
Ayah 26:33

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

نیز موسیٰ نے اپنا ہاتھ (بغل سے) کھینچا تو وہ یکدم دیکھنے والوں کے سامنے چمک 26 رہا تھا

26 یہ پہلا معجزہ ہی فرعون کی یقین دہانی کے لئے کافی تھا۔ ابھی فرعونیوں پر اس معجزہ کے اثرات باقی تھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دوسری نشانی کا آغاز کیا اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں بغل میں دبایا۔ پھر جب اسے نکالا تو اس سے روشنی کی شعاعیں نکل کر فرعون اور اس کے درباریوں کی نگاہوں کو خیرہ کرنے لگیں۔ فرعون اور سب درباری محو حیرت بنے ہوئے ان نشانیوں کا اثر قبول کر رہے تھے۔
Ayahs 26:34–35

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

فرعون نے اپنے آس پاس والوں سے کہا : یہ تو یقینا بڑا ماہر جادو گر ہے۔

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

وہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال 27 دے۔ اب تم کیا مشورہ 28 دیتے ہو

27 فرعون اگرچہ خود بھی ان نشانیوں سے متاثر ہوچکا تھا تاہم اس نے درباریوں کے ذہن سے یہ اثر زائل کرنے کے لئے یوں کہا دیا کہ یہ تو بہت بڑا جادوگر معلوم ہوتا ہے۔ اور چاہتا یہ ہے کہ تمہیں اس طرح مرعوب اور دہشت زدہ کرکے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے اور خود اس ملک پر قبضہ جما لے۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ فرعون کی ان دونوں باتوں میں کھلا تضاد ہے پہلی بات تو اس نے درباریوں اور عام لوگوں کو الو بنانے کے لئے کہی تھی کیونکہ جادوگر تو ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور ملک مصر میں بڑی تعداد میں موجود تھے۔ مگر کسی جادوگر میں یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ جادو کے زور سے کوئی ملک تو بڑی چیز ہے کوئی چھوٹی سی بستی ہی فتح کرکے دکھلا دے۔ وہ خود ایک مانگت اور سوالی قسم کا انسان ہوتا ہے۔ جو شعبدے دکھلانے کے بعد لوگوں سے اس محنت کی اجرت کا مطالبہ کرتا ہے۔ بھلا کسی جادوگر کی یہ ہمت ہوسکتی ہے کہ وہ فرعون جیسے جابر حکمران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے بات چیت کرے۔ اور دوسری بات فی الواقعہ حقیقت کے قریب تھی۔ جو فرعون کے منہ سے بےساختہ نکل گئی تھی۔ اسے فی الواقعہ یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ یہ شخص واقعی اللہ رب العالمین کا رسول ہے۔ اور اگر میں نے اس کی دعوت کو جھٹلا دیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہی ہوگا کہ موسیٰ غالب آئے گا اور میں مغلوب ہوجاؤں گا مگر یہ بات وہ اپنے درباریوں پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ 28 تاموون کا ترجمہ یہاں عموماً کیا حکم دیتے ہو یا کیا حکم کرتے ہو ؟ کیا جاتا ہے جو میرے خیال میں درست نہیں۔ بھلا فرعون جیسا خود سر اور اپنے آپ کو رب کہلانے والا فرمانروا بھلا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے اپنے درباریوں سے ایسا کہہ سکتا تھا امر کا لفظ مشورہ دینے کے معنوں میں بھی آتا ہے۔ امرتژ عن امری کا معنی ہوگا۔ میں نے اپنے کام کے متعلق اس سے مشورہ کیا) منتہی الادب نیز مفردات امام راغب ( چناچہ اسی بدحواسی کے عالم میں فرعون نے اپنے درباریوں سے پوچھا کہ اس صورت حال میں اب ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟
Ayah 26:36

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

وہ کہنے لگے : اس کے اور اس کے بھائی کے معاملہ کو التوا میں ڈال دیجئے اور شہروں 29 میں ایسے آدمی بھیج دیجئے۔

29 درباری حضرات عموماً جی حضور کہنے اور بڑی سرکار کی ہاں میں ہاں ملانے کے عادی تھے۔ اور اسی میں ان کی عافیت ہوتی ہے۔ فوراً کہنے لگے۔ واقعی یہ بہت بڑا جادوگر ہے اور ہمیں جادو کا مقابلہ جادور ہی سے کرنا چاہئے۔ آپ یوں کیجئے کہ جلدی میں کچھ فیصلہ نہ کیجئے۔ بلکہ ملک بھر کے چوٹی کے جادوگروں کو اپنے ہاں بلا لیجئے۔ جو اس کا مقابلہ کرسکیں۔ فرعون اپنے درباریوں سے ایسا ہی جواب سننا چاہتا تھا۔ کیونکہ وہ خود اپنے درباریوں اور اپنی رعایا کو اسی چکر میں ڈالنا اور یہی کچھ ذہین نشین کرانا چاہتا تھا کہ موسیٰ اور اس کا بھائی اللہ کے رسول نہیں بلکہ محض جادوگر ہیں۔ چناچہ فرعون نے اپنے درباریوں سے مشورہ کے بعد تمام شہروں کے نامور جادوگروں کو اپنے ہاں طلب کرلیا۔
Ayahs 26:37–39

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

جو ہر سیانے جادوگر کو اکٹھا کرکے آپ کے پاس لے آئیں۔

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

چناچہ ایک معین دن کے ایک مقررہ وقت پر تمام جادوگروں کو اکٹھا کیا گیا۔

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور لوگوں سے پوچھا گیا : کیا تم بھی اس اجتماع 30 میں شامل ہوگے ؟

30 جادوگری کے اس مقابلہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فوراً تیار ہوگوے۔ وقت کا تعین ابھی باقی تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے خود ہی یہ تجویز کی کہ یہ مقابلہ بھرے مجمع میں ہونا چاہئے۔ اور اس کے لئے ان کے قومی میلہ یا جشن نو روز کا دن سب سے مناسب تھا۔ جبکہ اردگرد کے لوگ بھی اس قومی میلہ میں شرکت کے لئے بھی دارالخلافہ جیسے بڑے شہر میں از خود پہنچ جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس مقابلہ کے لئے چاشت کا وقت تجویز ہوا۔ تاکہ اس وقت تک ارد گرد کے سب لوگ بھی دارالخلافہ میں پہنچ سکیں۔ اور وقت بھی ایسا مناسب تجویز ہوا جس میں سورج کی روشنی پوری طرح کھل جاتی ہے اور دھوپ میں ابھی گرمی کی شدت بھی نہیں ہوتی۔ جب مقابلہ کے وقت کی تعیین ہوگوی تو فرعون نے اپنے درباریوں سے اس انداز میں سوال کیا جیسے اس کی خوشی اسی بات میں تھی کہ لوگ زیادہ سے زیادہ اس اجتماع میں شریک ہوں۔
Ayah 26:40

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

اگر یہ جادوگر غالب رہے تو شاید ہمیں انھیں کی بات 31 ماننی پڑے

31 فرعون نے لوگوں کو اس اجتماع میں شمولیت کی عام دعوت اس امید پر دی تھی کہ چوٹی کے جادوگروں کی اتنی بڑی تعداد جمع ہوگی پھر اعیان سلطنت بھی وہاں موجود ہوں گے تو ان کے دبدبہ اور رعب سے بھی موسیٰ مرعوب ہو کر رہ جائے گا۔ اپنی اس توقع کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ کہنے لگا کہ امید قومی یہی ہے کہ ہمارے جادوگر غالب آئیں گے۔ اس صورت میں ہمیں اپنے جادوگروں ہی کا ساتھ دینا ہوگا تاکہ موسیٰ کی شکست اور مغلوبیت پوری طرح سب لوگوں پر کھل کر واضح ہوجائے۔ گویا وہ لوگوں کو تاثر یہ دینا چاہتا تھا کہ جب مقابلہ میں ہمارا پلہ بھاری رہے گا تو اس کا ایک نتیجہ یہ بھی سامنے آجائے گا کہ ہمارا ہی دین درست ہے اور اس سے منحرف ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔ اور اس فیصلہ میں ہماری خود غرضی کو کچھ دخل نہ ہوگا۔ بلکہ انصاف کا تقاضا ہی یہ ہے کہ جو غالب ہو اس کا ساتھ دیا جائے۔ اور بعضوں نے کہا السجد~ہ 1~ سے مراد حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون لئے ہیں۔ یعنی فرعون نے بھرے دربار میں اعلان یہ کیا ہے کہ ممکن ہے کہ اس مقابلہ میں حضرت موسیٰ اور ان کا بھائی کامیاب ہوجائیں۔ اس صورت میں ہم ان کی راہ پر چلیں گے۔ اس صورت میں بھی فرعون کی مراد یہی تھی کہ مقابلہ کے بعد ہم انصاف کی راہ اختیار کریں گے جس سے ہماری خود غرضی کو کچھ دخل نہ ہوگا۔ جو فریق بھی غالب آیا ہمیں اس کا ساتھ دینا ہوگا۔