26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 26:161–167

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:161 in the Quran reader

جبکہ انھیں ان کے بھائی لوط نے کہا تھا کہ تم کیا اللہ سے ڈرتے نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:162 in the Quran reader

یقینا میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:163 in the Quran reader

لہٰذا اللہ سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت کرو۔

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:164 in the Quran reader

اور میں اس (تبلیغ) کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا، میرا صلہ تو اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔

اَتَاْتُوْنَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:165 in the Quran reader

کیا تم اہل عالم میں سے مردوں کے پاس جاتے ہو ؟

وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ Open ayah 26:166 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے تمہارے لئے جو بیویاں پیدا کی ہیں انھیں چھوڑ دیتے ہو، بلکہ تم لوگ تو حد (انسانیت) سے آگے نکل گئے ہو

قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ یٰلُوْطُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِیْنَ Open ayah 26:167 in the Quran reader

وہ کہنے لگے : اے لوط ! تم اگر ان باتوں سے باز نہ آئے تو تمہیں جلا وطن 100 کردیا جائے گا۔

100 لوط (علیہ السلام) نے انھیں اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا اور ان کی بدفعلیوں کے برے انجام سے ڈرایا تو انہوں نے حضرت لوط کی بات ماننے کے بجائے الٹا ان پر کئی طرح کی پابندیاں لگا دیں۔ مثلاً اگر تم اس بستی میں رہنا چاہتے ہو تو ہمارے معاملات میں دخل دینا چھوڑ دو ۔ دوسرے یہ کہ اپنے ہاں مہمانوں کو یا مسافروں کو پناہ نہ دیا کرو۔ ورنہ ہم تمہارا کچھ لحاظ نہیں کریں گے اور تمہارے مہمانوں یا مسافروں سے وہی سلوک کریں گے جو ہم کرنا چاہتے ہیں) یہ بدبخت قوم مسافروں یا مہمانوں تک کو بھی نہیں چھوڑتی تھی، پہلے ان سے لواطت کرتی۔ پھر ان سے مال اسباب اور نقدی وغیرہ چھین کر انھیں دھکے دے کر اپنی بستی سے باہر نکال دیتی تھی ( اور اگر تمہیں ہماری یہ شرائط منظور نہ ہوں تو ہم تمہیں اپنے علاقہ سے نکال دیں گے۔ تمہارے جیسے پاکبازوں کی ہماری بستی میں رہنے کی کوئی گنجائش نہیں۔
Ayahs 26:168–169

قَالَ اِنِّیْ لِعَمَلِكُمْ مِّنَ الْقَالِیْنَؕ Open ayah 26:168 in the Quran reader

اس نے کہا : میں تمہارے اس کام سے سخت بیزار ہوں۔

رَبِّ نَجِّنِیْ وَ اَهْلِیْ مِمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:169 in the Quran reader

پھر (دعا کی) پروردگار ! جو کام یہ لوگ کر رہے ہیں اس سے مجھے اور میرے گھر والوں 101 کو نجات دے۔

101 حضرت لوط (علیہ السلام) اور آپ۔۔ اس اوباش اور گندے قسم کے معاشرے سے سخت بیزار تھے۔ جب لوط ان لوگوں کے راہ راست پر آنے سے مایوس ہوگئے اور ان کی سرکشی بڑھتی ہی گئی تو اس وقت آپ نے سخت اضطراب کے عالم میں اللہ سے دعا کی کہ ہم اب زیادہ دیر اس اوباش سوسائٹی میں نہیں رہ سکتے لہذا ان لوگوں سے ہماری نجات کی کوئی صورت پیدا فرما دے۔
Ayahs 26:170–171

فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 26:170 in the Quran reader

چناچہ ہم نے اسے اور اس کے سب اہل خانہ کو نجات دی۔

اِلَّا عَجُوْزًا فِی الْغٰبِرِیْنَۚ Open ayah 26:171 in the Quran reader

بجز ایک بڑھیا کے جو پیچھے 102 رہ جانے والوں میں شامل تھی۔

102 حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی درپردہ ان اوباشوں سے ملی ہوئی تھی۔ جب کوئی مہمان آپ کے گھر آتا تو یہ ان اوباشوں کو اشاروں کنایوں سے خفیہ طور پر رپورٹیں دیا کرتی تھی۔ چناچہ جب اس قوم پر عذاب لانے والے فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تشریف لائے تو اسی بڑھیا کی رپورٹ پر آس پاس کے اوباش ہمسائے بڑی نیت سے آپ کے گھر میں گھس آئے تھے۔ لہذا یہ عورت کسی لحاظ سے بھی نجات کی مستحق نہ تھی۔
Ayahs 26:172–173

ثُمَّ دَمَّرْنَا الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:172 in the Quran reader

پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے ہلاک کردیا۔

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ Open ayah 26:173 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ایک (خاص) بارش برسائی۔ کتنی بری تھی وہ بارش جو ڈرائے جانے والے لوگوں پر برسائی 103 گئی۔

103 اس بدبخت قوم پر جس طرح عذاب آیا اس کی تفصیلات پہلے سورة اعراف آیت نمبر 184 سورة توبہ آیت نمبر 70، سورة ہود آیت نمبر 83، سورة حجر آیت نمبر 73 میں گزر چکی ہیں۔ ان کے حواشی ملاحظہ کر لئے جائیں۔
Ayahs 26:174–176

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:174 in the Quran reader

اس واقعہ میں (بھی) ایک نشانی ہے لیکن ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:175 in the Quran reader

اور یقینا آپ کا پروردگار سب پر غالب اور رحم کرنے والا ہے۔

كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْئَیْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:176 in the Quran reader

اصحاب الایکہ 104 (اصحاب مدین) نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا

104 اصحاب الایکہ کون لوگ تھے ؟ اس میں مفسرین کا خاصا اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اصحاب الایکہ اور اصحاب مرین دونوں ایک ہی قوم کے نام ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ایکہ ایک درخت کا نام تھا جس کی یہ لوگ پوجا کرتے تھے۔ اسی نسبت سے انھیں اصحاب الایکہ کہا گیا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ ان لوگوں کی بستی اور علاقہ اصحاب مرین سے الگ ہے۔ اصحاب الایکہ کا معنی بن والے یعنی یہ بستی ایک لمبی سی بلند جگہ پر آباد تھی۔ جہاں باغات کے جھنڈ بکثرت تھے اور شعیب نے ان دونوں علاقوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔
Ayah 26:177

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:177 in the Quran reader

جبکہ ان سے شعیب 105 نے کہا : کیا تم ڈرتے نہیں ؟

105 یہ وہی شعیب (علیہ السلام) ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سسر تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے ہاں آٹھ دس سال تربیت حاصل کی تھی۔ پانچویں نسبت پر حضرت یعقوب سے جا ملتے ہیں۔ شجرہ نسب یہ ہے شعیب بن میکیل بن بشجر بن لاومی بن یعقوب (علیہ السلام)
Ayahs 26:178–181

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:178 in the Quran reader

میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:179 in the Quran reader

لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:180 in the Quran reader

میں تم سے اس (تبلیغ) کا کوئی صلہ نہیں مانگتا، میرا صلہ تو اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔

اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ Open ayah 26:181 in the Quran reader

ناپ 106 پورا دیا کرو اور لوگوں کو گھاٹا نہ دیا کرو۔

106 حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم دو تجارتی شاہراہوں کے تقاطع یا چوک پر آباد تھی۔ لہذا یہ پورے کا پورا علاقہ بڑا بھاری تجارتی مرکز بن گیا تھا۔ شرک اور دوسری اخلاقیوں کے علاوہ ان میں جو سب سے بڑا مرض تھا وہ تجارتی ہیرا پھیری کرنا تھا۔ ناپ تول میں ایسے استاد تھے کہ بھلے بھلوں کے کان کتر دیتے تھے۔ تولتے اس طرح تھے کہ گاہک خواہ سو دفعہ ترازو دیکھتا رہے۔ یہ اس کے دیکھتے دیکھتے ہیں تیسرا یا چوتھا حصہ اس کا حق مار جاتے اور جب تول کر یا ناپ کردینا پڑتا تو ایسی ہی ہاتھ کی صفائی دکھاتے تھے۔
Ayahs 26:182–183

وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ Open ayah 26:182 in the Quran reader

اور سیدھی ترازو سے تولا کرو۔

وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَۚ Open ayah 26:183 in the Quran reader

اور لوگوں کو ان کی اشیاء کم نہ دیا کرو اور زمین میں فساد 107 نہ مچاتے پھرو۔

107 یہ لوگ صرف ناپ اور تول میں ہی کمی بیشی نہ کرتے تھے۔ بلکہ تجارتی بد دیانتوں کے سارے سر اور رموز سے اور فریب کاریوں سے واقف تھے۔ عیب دار مال کا عیب چھپا کر فروخت کرنا، جھوٹ بول کر اور جھوٹی قسمیں کھا کر مال بیچنا، ایسا ماحول پیدا کردینا کہ چیز کا مالک کم سے کم قیمت پر اپنی چیز فروخت کرنے پر مجبور ہوجائے۔ اسی طرح اپنی چیز فروخت کرنے کے لئے ایسا ماحول بنادینا کہ وہ زیادہ سے زیادہ رقم دینے پر مجبور ہوجائے۔ غرض ہر طریقہ جس سے دوسروں کے حقوق غصب کئے جاسکتے ہوں وہ جانتے تھے۔ اور یہی وہ فساد فی الارض یا شریفانہ قسم کے ڈاکہ زنی ہے۔ جس سے شعیب (علیہ السلام) نے انھیں منع کیا تھا۔ اور انھیں یہ نصیحت فرمائی تھی کہ میرے خیال کے مطابق تو تم سب اچھے بھلے کھاتے پیتے لوگ ہو۔ لہذا اگر ایسی بددیانتیاں چھوڑ دو اور حلال طریقے سے روزی کماؤ تو تمہارے گزارے کے لئے حلال کا رزق بھی بہت کافی ہوسکتا۔ لہذا اللہ سے ڈر جاؤ اور لوگوں کے حقوق غصب کرنا چھوڑ دو ۔
Ayahs 26:184–185

وَ اتَّقُوا الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الْجِبِلَّةَ الْاَوَّلِیْنَؕ Open ayah 26:184 in the Quran reader

اور اس ذات سے ڈرو جس نے تمہیں بھی پیدا کیا اور تم سے پہلے لوگوں کو بھی۔

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۙ Open ayah 26:185 in the Quran reader

وہ کہنے لگے تم تو ایک جادو 108 کے مارے ہوئے آدمی ہو

108 اس کے جواب میں قوم نے کہا۔ تمہاری عقل ٹھیک کام نہیں کرتی۔ تم تجارت کے گر اور راز کیا جانو۔ اگر ہم تمہاری باتوں پر لگ جائیں تو چند ہی دنوں میں اس میدان میں مات کھا جائیں اور سرمایہ بھی ہاتھ سے گنوا بیٹھیں کیونکہ مقابلہ بڑا سخت ہے۔ اور ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ تمہارا یہ نبوت کا دعویٰ بھی بس ایک فریب ہی ہے۔ تم ہی ہمارے جیسے ایک محتاج انسان ہی ہو۔ تم میں ہم سے زائد کونسی خصوصیت ہے کہ ہم تمہیں ہی سمجھ لیں۔ اور تم اپنے آپ کو اپنے اس دعویٰ نبوت میں سچا سمجھتے ہو کہ جس عذاب سے ہمیں ڈراتے دھمکاتے رہتے ہو وہ عذاب ہم پر لے آؤ۔ اور آسمان کا کوئی ٹکڑا ہی ہم پر گرا دو ۔ واضح رہے کہ قریش مکہ نے بھی رسول اللہ ﷺ سے اسی قسم کے عذاب کا مطالبہ کیا تھا جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 92 میں گزر چکا ہے۔ اور کفار مکہ کو بتلایا جارہا ہے کہ تم سے پہلے بھی ایک قوم ایسے عذاب کا مطالبہ کرچکی ہے۔ پھر جو حشر اس قوم کا ہوا تھا وہی یا اس سے ملتا جلتا تمہارا بھی ہونے والا ہے۔
Ayahs 26:186–188

وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِیْنَۚ Open ayah 26:186 in the Quran reader

اور ہم جیسے ہی ایک انسان ہو اور ہم تو تمہیں جھوٹا ہی خیال کرتے ہیں۔

فَاَسْقِطْ عَلَیْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَؕ Open ayah 26:187 in the Quran reader

اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرا دو ۔

قَالَ رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 26:188 in the Quran reader

شعیب نے کہا : جو کچھ تم کرتے ہو 109 میرا پروردگار اسے خوب جانتا ہے۔

109 یعنی عذاب نازل کرنا یا آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دینا میرا کام نہیں۔ میرا پروردگار تمہاری کرتوتوں کو دیکھ رہا ہے۔ جب تمہارے گناہوں کا ڈول بھر جائے گا یا جب وہ مناصب موقع سمجھے گا تم پر عذاب نازل کردے گا تو تمہیں صرف یہ بتلا سکتا ہوں کہ جو لوگ اللہ کی نافرمانی میں حد سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ اللہ کا طریقہ یہی ہے کہ ان پر عذاب بھیج کر انھیں تباہ کر دے۔
Ayah 26:189

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّةِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:189 in the Quran reader

چناچہ انہوں نے شعیب کو جھٹلا دیا تو سایہ والے دن کے عذاب نے انھیں آپکڑا۔ بلاشبہ وہ بڑے سخت 110 دن کا عذاب تھا۔

110 اس آیت سے چند باتوں کا پتہ چلتا ہے ایک یہ کہ اصحاب مرین اور اصحاب الایکہ دو الگ الگ قومیں تھیں۔ اصحاب مرین پر زلزلہ اور اسی سے پیدا ہونے والی ہولناک آواز کا عذاب چند آیا تھا (7: 91، 11: 94) جبکہ اصحاب الایکہ پر سائے کے دن کا عذاب آیا تھا اگرچہ اس عذاب کی تفصیل کتاب و سنت میں کہیں مذکور نہیں تاہم اتنا ضرور معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ عذاب کی الگ نوع ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سخت گہرے اور گاڑھے بادل ان پر چھتری کی صورت میں محیط ہوگئے تھے۔ اور اسی کے تادیر ان پر سایہ کئے رکھنے اور اس کی دہشت سے ان کی تبہی ہوئی تھی۔ اور ایسے ہی عذاب کا ان لوگوں نے مطالبہ کیا تھا۔ اور دوسرے یہ کہ ان قوموں کی طرف شعیب (علیہ السلام) ہی مبعوث ہوئے تھے اور یہ دونوں اقوام ایک دوسرے سے تھوڑے سے فاصلہ پر آباد تھیں اور یہ دونوں ہی تجارتی بددیانتیاں کرتے تھے۔
Ayah 26:190

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:190 in the Quran reader

اس واقعہ میں (بھی) ایک نشانی 111 ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں۔

111 سابقہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے سات اقوام کا ذکر کیا ہے۔ قوم موسیٰ ، قوم ابراہیم، قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب ان سب قوموں نے اپنے اپنے نبیوں کی تکذیب کی۔ اگرچہ ان اقوام کے تمدنی حالات ایک دوسرے سے مختلف تھے اور انبیاء سے ان کی بحث وجدال اور سوال و جواب کا انداز بھی کچھ حد مختلف اور کچھ حد تک یکساں رہا۔ لیکن چونکہ ان کے بنیادی جرم کی نوعیت ایک جیسی تھی یعنی تکذیب رسالت لہذا ان کا انجام بھی ایک ہی جیسا رہا یعنی وہ بالاخر اللہ کے عذاب سے تباہ و برباد ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں اور ان پر ایمان والوں کو ان ظالموں کے ہاتھوں سے بھی اور اپنے عذاب سے بھی بچا لیا۔ ان سات مستند تاریخی واقعات کے بعد بھی اگر کوئی شخص رسول کی تکذیب اور اللہ کی نافرمانی کے انجام یعنی عذاب الٰہی میں باہمی ربط کو توڑنا چاہئے۔ اور عذاب الٰہی کے طبعی اسباب ڈھونڈنا شروع کردے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے سات مرتبہ فرمایا وما کان اکثرھم مومنین اور یہ خطاب صرف کفار مکہ کے لئے ہی نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لئے جو اس سبب اور اس کے انجام کے ربط کو توڑنا چاہتا ہے۔ اور قیامت تک کے لئے ہے۔ اور ایسے شخص وہی لوگ ہوسکتے ہیں۔ جو اللہ کو بھول کر دنیا کے بندے ہی بن کر رہ گئے ہوں۔ خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔ ان مسلمہ تاریخی واقعات اور ان کے مسلمہ نتائج بیان کرنے کے بعد سلسلہ کلام اسی مضمون کی طرف پھرتا ہے جو اس سورة کے ابتداء میں بیان ہوا تھا۔
Ayahs 26:191–193

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:191 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار یقینا سب پر غالب اور رحم کرنے والا ہے۔

وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:192 in the Quran reader

بلاشبہ یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔

نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُۙ Open ayah 26:193 in the Quran reader

جسے روح الامین لے کر آپ کے دل 112 پر نازل ہوا۔

112 یعنی یہ قرآن اور اس میں بیان کردہ یہ تاریخی واقعات اس اللہ رب العالمین کی طر سے نازل شدہ ہیں جو عام الغیب والشہادۃ ہے۔ پھر ان قرآنی آیات کو لے کر امین روح یعنی جبریل (علیہ السلام) نازل ہوئے۔ جو اپنی طرف سے کچھ کمی بیشی نہیں کرسکتے۔ پھر جب بھیجنے والا غیب اور شہادت کو پوری طرح جانتا ہو اور اس کو لانے والا بھی امین ہو تو ان آیات کے منبی بر حقائق ہونے میں شک کی کوئی گنجائش رہ جاتی ہے۔
Ayah 26:194

عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 26:194 in the Quran reader

تاکہ آپ ڈرانے 113 والوں میں شامل ہوجائیں۔

113 پھر یہی مبنی برحقائق آیات جبریل امین لے کر براہ راست آپ کے دل پر اس کلام کو نازل کرتے ہیں تاکہ آپ ایسے واقعات تمام لوگوں کو سنا کر نافرمانوں کو ان کے برے انجام سے بروقت متنبہ کردیں۔ واضح رہے وحی الٰہی تین صورتیں قرآن میں مذکور ہیں سب سے معروف شکل یہ ہے کہ جبریل پیغمبر کے دل پر نازل ہو کر وحی کے الفاظ پیغمبر میں ڈال دے اس صورت میں پیغمبر رشتہ عالم دنیا سے کٹ کر عالم بالا جڑ جاتا ہے۔ وحی کے دوران پیغمبر کے حواس ظاہری کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اور قلبی حواس کام کرنے لگ جاتے ہیں۔ پیغمبر دل کی آنکھ سے فرشتہ کو دیکھتا ہے۔ دل کے کانوں سے وحی سنتا ہے۔ بالفاظ دیگر وحی کے دوران پیغمبر کوش بشریت سے کٹ کر ملکیت کی طرف۔۔ کرتا ہے۔ لہذا وحی کی یہ شکل جسمانی لحاظ سے آپ کے لئے نہایت تکلیف دہ ہوتی تھی۔ شدید قسم کا بوجھ آپ پر پڑجاتا تھا اور حالت غیر ہوجاتی تھی اور اس بوجھ کو وہ جاندار بھی محسوس کرتے تھے جن کا جسم آپ کے جسم سے لگا ہوتا تھا۔ چناچہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آپ ~ سے پوچھا : یارسول اللہ ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے ؟ آپ ~ نے فرمایا۔ کبھی تو ایسے آتی ہے جیسے گھنٹے کی جھنکار اور یہ وحی مجھ پر بہت سخت گزرتی ہے۔ پھر جب فرشتے کا کہا مجھ کو یاد ہوجاتا تو یہ موقوف ہوجاتی ہے۔ اور کبھی فرشتہ مرد کی صورت میں میرے پاس آتا ہے، مجھ سے بات کرتا ہے میں اس کا کہا یاد کرلیتا ہوں۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں میں نے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ سخت سردی کے دن پر آپ پر وحی اترتی پھر موقوف ہوجاتی اور آپ کی پیشانی سے پسینہ نکلتا (بخاری۔ کتاب الوحی۔ باب کیف کان بدء الوحی ( نیز حضرت زید بن ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ~ نے مجھے جب یہ آیت لکھنے کو کہا : (لَا يَسْتَوِي الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ غَيْرُ اُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجٰهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ ۭ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِيْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ عَلَي الْقٰعِدِيْنَ دَرَجَةً ۭ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰي ۭ وَفَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِيْنَ عَلَي الْقٰعِدِيْنَ اَجْرًا عَظِيْمًا 95؀ۙ ) 4 ۔ النسآء :95) اس وقت عبداللہ بن ام مکتوم) جو نابینا تھے ( نے آپ کے پاس آکر کہا کہ یارسول اللہ !~ اگر مجھے جہاد کی طاقت ہوتی تو میں ضرور جہاد کرتا۔ اسی وقت اللہ نے آپ پر وحی نازل فرمائی۔ اس وقت آپ کی ران میری ران پر تھی آپ کی ران اتنی بوجھل ہوگئی کہ مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ نیچے سے میری ران ٹوٹ جائے گی پھر جب وحی کی کیفیت موقوف ہوئی تو اللہ نے غیر اولی الفرد بھی نازل فرمایا : (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ سورة نسائ) وحی کی دوسری صورتوں کے لئے دیکھئے سورة شوریٰ کی آیت نمبر 51 کا حاشیہ وحی کی اس قسم کو وحی جلی کہتے ہیں۔ قرآن کریم سارے کا سارا وحی جلی کی صورت میں نازل ہوا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وحی جلی ساری کی ساری قرآن میں محصور ہے۔ ایسی ہی وحی کا تھوڑا بہت حصہ احادیث میں بھی مذکور ہے۔ مثلاً زنا کی سزا سے متعلق عبادہ بن صامت کی مرفوع روایت کہ خذوا عنی خذوا عنی قد حبل لھن سبیلا عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ اس وحی کے نزول کے وقت آپ ~ پر وہی کیفیت طاری ہوئی جو قرآن کی وحی کے نزول کے وقت طاری ہوتی تھی ) مسلم۔ کتاب الحدود۔ باب حد الزنا (
Ayah 26:195

بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 26:195 in the Quran reader

جو کہ فصیح عربی زبان 114 میں ہے۔

114 یعنی یہ وحی جو جبریل امین لے کر آپ کے دل پر اترا ہے بڑی فصیح، واضح اور شگفتہ زبان میں ہے۔ یہ اس لئے کہ آپ کی قوم عربی زبان بھی بولتی ہے اور سمجھتی ہے۔ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ جب انھیں ان کے انجام سے خبردار کریں تو بات پوری طرح ان کی سمجھ میں آسکے۔ یہ واضح رہے کہ وحی جلی کے الفاظ بھی من جانب اللہ القا ہوتے ہیں۔
Ayah 26:196

وَ اِنَّهٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:196 in the Quran reader

اور یقینا اس کا ذکر پہلے صحیفوں میں موجود 115 ہے۔

115 اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ آپ کے عرب قوم کی طرف مبعوث ہونے کی خبر سابقہ آسمانی کتابوں میں موجود ہے۔ ان کتابوں میں بہت سی تحریف و تبدل کے باوجود اب تک بھی اس قسم کی پیشین گوئیوں کا ایک ذخیرہ پایا جاتا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اسی قرآن کے مضامین اجالاً یا تفصیلاً سابقہ آسمانی کتابوں میں پائے جاتے ہیں بالخصوص توحید، رسالت، ق اور تذکیر۔۔ اللہ اور آخرت سے متعلق دلائل اور تفصیل وغیرہ مضامین جن پر تمام کتب سماویہ اور انبیاء ومرسلین کا اتفاق رہا ہے۔
Ayah 26:197

اَوَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ اٰیَةً اَنْ یَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:197 in the Quran reader

کیا ان (اہل مکہ) کے لئے یہ نشانی (کافی) نہیں کہ اس بات کو بنی اسرائیل 116 کے علماء جانتے ہیں۔

116 یعنی آپ کی رسالت کی صداقت کے لئے یہ ثبوت بھی کافی ہے کہ بنی اسرائیل کے علماء یہ بات خوب جانتے ہیں کہ آپ وہی رسول ہیں اور یہ کتاب قرآن وہی آسمانی کتاب ہے جس کی سابقہ آسمانی کتابوں میں خبر دی گئی ہے۔ پھر ان میں سے بعض منصف مزاج عالموں نے اسی خبر کی بنا پر اسلام قبول کرلیا جیسے عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں نے کہا تھا اور بعض اپنی خصوصی مجلسوں میں اس بات کا اعتراف تو کرتے ہیں لیکن بعض مصلحتوں کی بنا پر اس کا اعلان و اقرار کرنے کی جرات نہیں رکھتے۔
Ayahs 26:198–199

وَ لَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰى بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَۙ Open ayah 26:198 in the Quran reader

اور اگر ہم اس قرآن کو کسی عجمی پر اتارتے

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَؕ Open ayah 26:199 in the Quran reader

جو انھیں پڑھ کو سناتا تو بھی یہ اس پر 117 ایمان نہ لاتے

117 موجودہ صورت حال یہ ہے کہ نبی بھی عربی ہے اور قرآن بھی عربی زبان میں ہے تو ان کافروں کو یہ شبہ پڑگیا ہے کہ کہیں قرآن اس نے خود ہی نہ تصنیف کر ڈالا ہو۔ اب فرض کیجئے کہ ہم یہی فصیح عربی زبان والا قرآن کسی عجمی پر نازل کرتے تو ان پر شک و شبہ کرنے کے لئے دوسرے کئی راہ کھل جاتیں۔ مثلاً یہ کہہ دیتے کہ یہ آیات اللہ نے جبریل کے ذریعہ اس پر نازل نہیں کیں بلک اسے تو کوئی جن یا شیطان پڑھا جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ خوے بد را پہالہ بسیار والا معاملہ ہے۔ نیت میں فتور ہو تو شک و شبہ کے بہانے ہزاروں مل سکتے ہیں۔
Ayah 26:200

كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِیْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِیْنَؕ Open ayah 26:200 in the Quran reader

اس طرح ہم نے مجرموں کے دل میں (بس بیہودہ اعتراضات کرنا ہی) ڈال 118 دیا ہے۔

118 اس کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ اور اوپر کے حاشیہ سے واضح ہے اور ربط مضمون کے لحاظ سے یہی راجح معلوم ہوتا ہے۔ تاہم بعض مفسرین نے ملکتژ میں کا کی ضمیر کو قرآن کی طرف لوٹایا ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے قرآن کو ان مجرموں کے دلوں میں گھسا دیا ہے اور وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ کسی بشر کا کلام نہیں ہوسکتا۔ مگر اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر اس کو بہرحال جھٹلانے پر کمر بستہ ہیں۔