26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 26:121

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:121 in the Quran reader

اس واقعہ میں (بھی) ایک نشانی 81 ہے۔ مگر ان میں اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔

81 یعنی حضرت نوح کی قوم کے انجام سے بھی عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کرسکتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ حق کو ٹھکرانے والوں کو نیست و نانود کردیتا ہے اور اپنے انبیاء اور مومنوں کو ظالموں کے پنجہ سے نجات دلا کر انھیں باقی رکھتا ہے۔
Ayahs 26:122–123

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:122 in the Quran reader

اور یقینا تمہارا پروردگار سب پر غالب اور رحم کرنے والا ہے

كَذَّبَتْ عَادُ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:123 in the Quran reader

قوم عاد 82 نے بھی رسولوں کو جھٹلایا تھا۔

82 قوم نوح کے بعد جس قوم نے دنیا میں نامور اور سربلندی حاصل کی وہ یہی قوم عاد تپی جسے عاد اولیٰ بھی کہتے ہیں۔ یہ قوم اللہ تعالیٰ کی ہستی کی تو قائل تھی مگر شرک میں بری طرح مبتلا تھی۔ ان کا اصل وطن احقاف تھا۔ یہ قوم بڑی قد آور، مضبوط اور سرکش تھی۔ ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ اس قوم کا زمانہ عروج اڑھائی ہزارسال قبل مسیح کے لگ بھگ ہے۔
Ayahs 26:124–130

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:124 in the Quran reader

جبکہ ان کے بھائی ہود نے انھیں کہا تھا کہ کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں۔

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:125 in the Quran reader

میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:126 in the Quran reader

یقینا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:127 in the Quran reader

میں تم سے اس (تبلیغ) کا کوئی صلہ نہیں مانگتا، میرا صلہ تو اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔

اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِیْعٍ اٰیَةً تَعْبَثُوْنَ Open ayah 26:128 in the Quran reader

یہ کیا بات ہے کہ تم ہر بلند جگہ پر بےفائدہ ایک یادگار تعمیر بنا ڈالتے ہو ؟

وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُوْنَۚ Open ayah 26:129 in the Quran reader

اور عمارتیں اتنی شاندار بناتے ہو کہ شاید تم ہمیشہ ان میں رہو گے۔

وَ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَۚ Open ayah 26:130 in the Quran reader

اور جب کسی 83 پر ہاتھ ڈالتے ہو تو جبار بن کر ڈالتے ہو۔

83 اس قوم کے تین افعال کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا جن میں سے پہلے دو فن تعمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ لوگ یادگاریں بہت زیادہ تعمیر کرتے جن کا عملی طور پر کوئی فائدہ نہ ہوتا تھا۔ کسی نے اپنی یادگار میں شاندار مقبرہ تعمیر کرالیا۔ کسی نے کوئی اونچا مینار بنایا۔ تو کسی نے کوئی بارہ دری تعمیر کرا دی۔ جیسے اہرام مصر ہیں یا روضہ تاج محل اور اسی طرح کی دوسری یادگاریں آج کل بھی پائی جیتی ہیں اور ان سے مقصود۔۔ ناموری یا نمودو نمائش ہوتا تھا۔ تغبثون سے بعض لوگوں نے مراد کھیل تماشا ہی لیا ہے۔ یعنی وہ ایسی بلند عمارتوں کو اوپر چڑھ کر کبوتر بازی اور پرندوں وغیرہ کا شکار بھی کیا کرتے تھے۔ دوسری قابل ذکر چیز یہ ہے کہ وہ اپنے رہائشی گھر بھی بہت اونچے، شاندار اور مضبوط بناتے تھے فلک بوس عمارتیں کھڑی کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ ان کی ضرورت بھی تھی۔ ان کے قد بھی بہت لمبے ہوتے تھے اور عمریں بھی بہت دراز ہوتی تھیں اور اگر وہ معمولی قسم کا میٹریل عمارتوں میں استعمال کرتے وہ میٹریل ان کی زندگی میں ساتھ نہیں دیتا تھا اس صورت میں ہر شخص کو اپنی زندگی میں کئی بار مکان بنانے کی ضرورت پیش آسکتی تھی۔ قرآن نے ان کی اس عادت پر سخت۔۔ فرمائی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مکانوں کی تعمیر میں مضبوطی اور بلندی میں بہت مبالغہ سے کام لیتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ شاندار تا ابد انھیں ان مکانات میں رہتا ہے۔ جب یہ قوم اللہ کے عذاب سے تباہ ہوئی تو بعد میں ان کی یہ مضبوط عمارتیں بھی کھنڈرات میں تبدیل ہوگئیں اور آج وہ کھنڈرات بھی معدوم ہوچکے ہیں۔ ان لوگوں کی آسودہ حالی، عالیشان عمارات، اور جسمانی مضبوطی اور توانائی نے انتہائی متکبر بنادیا تھا۔ انسان اور نرمی کا برتاؤ ان کی سرشت سے معدوم ہوچکا تھا۔ وہ دوسروں کے حقوق غصب کرنے میں بہت دلیر اور جری تھے۔ اپنے معاشرہ کے بھی کمزور اور ضعیف طبقہ پر بھی ظلم و ستم ڈھاتے تھے اور آس پاس کے علاقوں میں بھی ان کا رویہ جابرانہ اور تاپرانہ ہوتا تھا۔
Ayah 26:131

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:131 in the Quran reader

لہٰذا اللہ 84 سے ڈرو اور میرا حکم مانو

84 ہود (علیہ السلام) نے شرک کے انجام سے ڈرایا اور ان تینوں قسم کے کاموں کی قباحت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ سے ڈرتے ہوئے زندگی گزارنے کا طرز عمل سیکھو اور خوب سمجھ لو کہ تمہیں یہاں ہمیشہ رہنا کبھی میسر نہ آئے گا۔ مرنے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور تمہارے ان تمام افعال و اعمال کی تم سے باز پرس بھی ہوگی۔ لہذا تمہارے لئے بہترین راستہ یہ ہے کہ میری بات مان لو اور جس طرح میں کہہ رہا ہوں اسی طرح کرتے جاؤ۔
Ayah 26:132

وَ اتَّقُوا الَّذِیْۤ اَمَدَّكُمْ بِمَا تَعْلَمُوْنَۚ Open ayah 26:132 in the Quran reader

اور اس ذات سے ڈرو جس نے تمہیں وہ سب کچھ دیا ہے جو تم جانتے 84۔ الف ہو

84۔ الف بعض حضرات نے اس جملہ میں ما کو نافیہ قرار دیا ہے اور ترجمہ یوں کیا ہے کہ اس ذات سے ڈرو جس نے تمہاری ان چیزوں سے مدد کی جن کا تمہیں علم نہیں۔ یعنی تم ان چیزوں کو اللہ کی امداد سمجھتے ہی نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اگلی دو آیات میں ان نعمتوں کا ذکر خود ہی کردیا ہے۔
Ayahs 26:133–135

اَمَدَّكُمْ بِاَنْعَامٍ وَّ بَنِیْنَۚۙ Open ayah 26:133 in the Quran reader

اس نے تمہیں چوپائے، بیٹے

وَ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚ Open ayah 26:134 in the Quran reader

باغات اور چشمے عطا کئے ہیں

اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍؕ Open ayah 26:135 in the Quran reader

مجھے تو تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب 85 کا خطرہ ہے۔

85 پھر ہود (علیہ السلام) نے ان پر اللہ تعالیٰ کے ایک ایک انعام کا ذکر کیا اور فرمایا کہ تمہیں چاہئے تو یہ تھا کہ اللہ کے انعامات کا شکریہ بجا لاتے اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہ بناتے اور اس کے فرمانبردار بندے بن جاتے۔ لیکن تم نے اس کے بجائے فساد پھیلا رکھا ہے۔ لہذا اللہ کی گرفت اس کے عذاب سے ڈر جاؤ جو روش تم نے اختیار کر رکھی ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تم پر اللہ کا عذاب آکے رہے گا۔ عذاب یوم عظیم سے مراد وہ دین بھی ہوسکتا ہے جس دن اس قوم پر عذاب نازل ہوا تھا اور قیامت کے دن کا عذاب بھی اور دونوں قسم کے عذاب بھی۔
Ayahs 26:136–137

قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَوَ عَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوٰعِظِیْنَۙ Open ayah 26:136 in the Quran reader

وہ کہنے لگے : ہمیں تو ایسا وعظ کر یا نہ کرو، ہمیں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔

اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 26:137 in the Quran reader

ایسی باتیں تو یوں ہی ہوتی 86 چلی آئی ہیں۔

86 اس نصیحت کے جواب میں یہ سرکش قوم کہنے لگی کہ ایسی باتیں تو ہم بھی سنتے چلے آئے ہیں۔ کچھ لوگ نبی بن کر ایسی باتیں کیا کرتے ہیں کہ تم پر اللہ کا عذاب آئے گا اور مرتے جینے کا سلسلہ ان سے پہلے بھی چلتا تھا۔ بعد میں بھی چلتا رہا ہے اور آئندہ بھی چلتا رہے گا۔ لہذا تمہاری ایسی نصیحتیں ہمارے لئے بےکار ہیں۔ نہ ہم ان باتوں پر یقین رکھتے ہیں۔ امام بخاری نے خلق الاولین میں خلق سے دین مراد لیا ہے (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ زیر تفسیر روم ( اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ تو پرانے لوگوں کا مذہب ہے۔ پرانے لوگ ایسی باتیں کیا کرتے تھے۔ مگر اب ایسے اولڈ فیشن لوگوں کا زمانہ لد چکا۔ موجودہ دور میں ایسے لوگوں کے لئے بنیاد پرست (Fundamental) کی اصطلاحی وضع کی گئی ہے۔ یعنی وہ لوگ جو اپنے عقیدہ و عمل میں اپنے نبی کی تعلیم پر سختی سے عمل پیرا ہوں اور نئی روشنی یا نئی تہذیب کو پرانی جہالت سمجھتے ہوں۔
Ayahs 26:138–139

وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:138 in the Quran reader

اور ہم پر کچھ عذاب نہیں آنے کا۔

فَكَذَّبُوْهُ فَاَهْلَكْنٰهُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:139 in the Quran reader

چناچہ انہوں نے ہود کو جھٹلا دیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر ڈالا 87 ۔ اس واقعہ میں بھی ایک نشانی 88 ہے لیکن ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔

87 جب ان لوگوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) کو اور وعدہ عذاب کو جھٹلانے میں حد کردی اور ان پر حجت تمام ہوگئی تو ان پر اللہ کا عذاب آگیا۔ یہ عذاب قہر الٰہی بن کر نازل ہوا۔ تند و تیز آندھی چلی جو آٹھ دن اور سات راتیں مسلسل چلتی رہی۔ آندھی اتنی تیز تھی کہ کھڑے آدمیوں کو ان کے پاؤں سے اکھاڑ اکھاڑ کر ایک دوسرے پر پھینک رہی تھی۔ یہ آندھی ان کے مضبوط اور عالی شان گھروں میں گھس گھس کر ان کے ایک ایک فرد کو تباہ کر رہی تھی۔ اس عذاب کے وقت ان کے یہ مضبوط اور عالی شان مکان کسی بھی کام نہ آسکے۔ اور یہ سرکش اور متکبر قوم پوری کی پوری تباہ و برباد کردی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس عذاب سے پہلے ہی ہود (علیہ السلام) کو وحی کردی تھی۔ چناچہ وہ عذاب سے پہلے اپنے پیروکاروں کو ساتھ لے کر وہاں سے ہجرت کرکے نکل گئے۔ 88 اس قوم کے انجام سے بھی یہی نتیجہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ معاندین حق کو اتمام حجت کے بعد نیست و نابود کردیتا ہے اور اپنے فرمانبرداروں کی نجات کی صورت خود ہی پیدا کردیتا ہے۔ کاش ! کوئی اس عبرت ناک انجام سے سبق حاصل کرسکے۔ مگر ایسے لوگ کم ہی ہوا کرتے ہیں۔
Ayahs 26:140–141

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:140 in the Quran reader

اور یقینا آپ کا پروردگار سب پر غالب اور رحم کرنے والا ہے۔

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:141 in the Quran reader

قوم ثمود 89 نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔

89 قوم عاد اولیٰ کے بعد یہی قوم ثمود، جسے عاد ثانیہ بھی کہتے ہیں، نامور ہوئی۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ قوم موسیٰ کا ذکر فرمایا، پھر قوم ابراہیم کا، پھر قوم نوح کا، پھر قوم عاد اولیٰ کا اور پانچویں نمبر پر قوم عاد ثانیہ کا ذکر ہے۔ اس قوم کے مسکن کو الحجر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تین چار سو کلومیٹر لمبا اور تقریباً سو کلومیٹر چوڑا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان واقع ہے اور اس راستہ پر واقع ہے جو مدینہ سے تبوک جاتا ہے۔ اس قوم کے رنگ ڈھنگ تقریباً وہی تھے جو عاد اولیٰ کے تھے۔ اسی طرح کے تندمند اور قد آور اور مضبوط جسموں کے مالک تھے۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے قائل ضرور تھے مگر شرک کی امراض میں بری طرح مبتلا تھے۔ بڑی متکبر اور سرکش قوم تھی۔ ان کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اعلیٰ درجہ کے انجینئر اور بہترین قسم کے سنگ تراش تھے۔ وہ اپنے فن کا مظاہرہ یوں کرتے کہ پہاڑوں میں پتھر تراش تراش کر اپنے عالیٰ شان مکان بنالیتے تھے۔ اسی طرح پہاڑوں کے اندر ہی اندر انہوں نے بستیوں کی بستیاں آباد کر رکھی تھیں۔
Ayahs 26:142–144

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ Open ayah 26:142 in the Quran reader

جبکہ ان کے بھائی صالح نے انھیں کہا تھا : کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ؟

اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 26:143 in the Quran reader

میں یقینا تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:144 in the Quran reader

لہٰذا اللہ سے ڈرو 90 اور میری اطاعت کرو

90 قوم ثمود کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے اسی قوم کے ایک فرد حضرت صالح (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ ثمود اس قوم کے جد اعلیٰ کا نام تھا اور صالح کا شجرہ نسب یوں چلتا ہے۔ صالح بن عبید بن آصف بن ماشح بن عبید بن صیادر بن ثمود۔ اس لحاظ سے یہ اپنی قوم کے بھائی ہوئے۔ انبیاء کی دعوت کا آغاز ہمیشہ توحید سے ہوتا ہے۔ وہ اپنی قوم کو اللہ کے احسانات یاد دلاتا ہے۔ ایسے احسانات جیسے سب لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اللہ ہی کے احسانات ہیں۔ پھر قوم کو دعوت فکر دی جاتی ہے کہ جب انعامات و احسانات کی بارش کرنے والا صرف اللہ ہے تو تم اس کی بندگی میں دوسروں کو کیوں اس کا شریک بناتے ہو۔ اور اگر قوم پیغمبر کی بات پر توجہ نہ دے یا اس کی دعوت کی مخالفت پر اتر آئے تو وہ انھیں اللہ کی گرفت اور عذاب سے ڈرانا ہے۔ یہی کام صالح (علیہ السلام) نے بھی اسی انداز پر سرانجام دیا۔
Ayahs 26:145–146

وَ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:145 in the Quran reader

میں تم سے اس کام کا کوئی صلہ نہیں مانگتا، میرا صلہ تو اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔

اَتُتْرَكُوْنَ فِیْ مَا هٰهُنَاۤ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 26:146 in the Quran reader

کیا تم یہاں کے سامان (عیش و عشرت) میں امن 91 سے رہنے کے لئے چھوڑ دیئے جاؤ گے ؟

91 قوم ثمود کا یہ علاقہ پہاڑیوں کے دامن میں واقع تھا۔ وادیاں زرخیز تھیں۔ جا بجا میٹھے پانی کے چشمے موجود تھے۔ کھیتیاں اور باغات بکثرت تھے۔ جن میں طرح طرح کے پھل اور اعلیٰ قسم کی کھجور پیدا ہوتی تھی۔ اور پہاڑوں کی تراش کر جو وہ مکان بناتے تھے تو وہ محض ضرورت رہائش پوری کرنے کے لئے نہیں بناتے تھے بلکہ خوبصورت سے خوبصورعت اور اعلیٰ سے اعلیٰ مکان بنانے میں ہر کوئی ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتا تھا اور اس سے ان کا مقصد اپنے ٹھاٹھ باٹھ اور شان و شوکت کا مظاہرہ کرنا ہوتا تھا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا، تمہارا کیا خیال ہے کہ تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی جو اس قدر دنیا پر ریجھ گئے ہو اور اپنے پروردگار کو بالکل فراموش کردیا ہے ؟ اللہ نے اگر تمہیں یہ نعمتیں دی ہیں تو اس کی ناشکری کی بنا پر وہ تم سے چھین بھی سکتا ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ اور اس کی گرفت سے ڈرتے رہو اور اگر انجام بخیر چاہتے ہو تو میرے بتلائے ہوئے راستہ پر عمل کرو۔
Ayahs 26:147–151

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:147 in the Quran reader

ان باغات میں اور ان چشموں میں

وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیْمٌۚ Open ayah 26:148 in the Quran reader

اور کھیتوں میں اور کھجوروں میں جن کے خوشے بہت ملائم ہیں ؟

وَ تَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا فٰرِهِیْنَۚ Open ayah 26:149 in the Quran reader

اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر فخریہ ان میں گھر بناتے ہو۔

فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ Open ayah 26:150 in the Quran reader

سو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

وَ لَا تُطِیْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 26:151 in the Quran reader

اور حد سے آگے گزرنے والوں کی بات 92 نہ مانو

92 حضرت صالح (علیہ السلام) کا یہ خطاب نچلے طبقہ کے لوگوں سے تھا جو تعداد میں زیادہ مگر چودھری ٹائپ لوگوں کے زیر نگیں ہوتے ہیں اور عموماً یہی لوگ انبیاء کی دعوت پر توجہ دیتے ہیں۔ کیونکہ یہ چودھریاں کے مظالم سے تنگ آئے ہوتے ہیں۔ آپ نے انھیں سمجھایا کہ اپنے ان چودھریوں اور رئیسوں کی اطاعت چھوڑ دو ۔ کیونکہ یہ مشرف لوگ ہیں جو اخلاق کی ساری حدیں پھلانگ کر شتر بےمہار بن چکے ہین۔ ان کے ہاتھوں خیر اور بھلائی یا معاشرتی بگاڑ کی اصلاح کبھی نہیں ہوسکتی۔ تمہارے لئے ان لوگوں سے نجات حاصل کرنے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ اپنے اندر اللہ کا خوف اور تقویٰ پیدا کرو اور ان کی اطاعت کے بجائے میری اطاعت کرو۔ کیونکہ میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ کے بتلائے ہوئے طریقے سے ہی تمہاری اخلاقی، تمدنی اور سیاسی اصلاح ممکن ہے۔
Ayahs 26:152–153

الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 26:152 in the Quran reader

جو ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں اور اصلاح کا کوئی کام نہیں کرتے۔

قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیْنَۚ Open ayah 26:153 in the Quran reader

وہ کہنے لگے : تم تو ایک سحر زدہ 93 آدمی ہو

93 حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت پر جب چند کمزور قسم کے لوگ ایمان لے آئے۔ تو چودھری لوگ حضرت صالح (علیہ السلام) کا مذاق اڑانے لگے کہ ان لوگوں کے سہارے تم انقلاب لانا چاہتے ہو ؟ کیا تمہاری عقل تو جواب نہیں دے گئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ تم پر کسی نے جادو کردیا ہے جو ایسی بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہو۔ پھر جب صالح (علیہ السلام) کے پیروکاروں میں کچھ مزید اضافہ ہوگیا۔ تو چودھریوں کو کچھ فکر لاحق ہونے لگی اور ان کا انداز کلام بھی بدل گیا۔ کہنے لگے : تم بھی ہمارے ہی جیسے آدمی ہو آخر تم میں وہ کون سی زائد خوبی ہے کہ ہم تجھے اللہ کا رسول تسلیم کرلیں۔ ہاں اگر تم واقعی اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو کوئی نشانی پیش کرو۔
Ayahs 26:154–155

مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا١ۖۚ فَاْتِ بِاٰیَةٍ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:154 in the Quran reader

تم ہمارے ہی جیسے ایک آدمی ہو۔ اگر تم سچے ہو تو کوئی نشانی لاؤ۔

قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّ لَكُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۚ Open ayah 26:155 in the Quran reader

صالح نے کہا : نشانی یہ اونٹنی 94 ہے ایک دن اس اونٹنی کے پانی پانی پینے کے لئے مقرر ہے اور ایک دن تم سب کے لئے

94 صالح (علیہ السلام) نے ان سے پوچھا : کونسی نشانی چاہتے ہو ؟ وہ کہنے لگے ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہ سامنے والا پہاڑ پھٹے اور اس میں سے ایک حاملہ اونٹنی برآمد ہو۔ پھر وہ حاملہ اونٹنی ہمارے سامنے بچہ جنے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ صالح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی۔ جسے اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشا۔ پہاڑ پھٹا جس سے ایک عظیم الجثہ اور دیو ہیکل اونٹنی پیدا ہوئی۔ جس نے ان لوگوں کے سامنے بچہ جنا۔ جب قوم کا مطلوبہ معجزہ ظہور میں آگیا۔ تو یہ ان لوگوں کے لئے ایک مصیبت بن گیا۔ کیونکہ اونٹنی اگر کسی کنوئیں یا چشمے پر پانی پینے جاتی تو قوم کے دوسرے جانور اس اونٹنی کے قد و قامت اور ڈیل ڈول سے ڈر کر بھاگ جاتے تھے۔
Ayah 26:156

وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 26:156 in the Quran reader

اسے کوئی دکھ نہ پہنچانا ورنہ ایک بڑے دن 95 کا عذاب تمہیں آلے گا۔

95 عرب جیسے بےآب و گیا ملک میں پانی کی ہمیشہ کم ہی رہی ہے اور پانی کا مسئلہ نہایت اہم مسئلہ تھا۔ لہذا صالح (علیہ السلام) نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک دن صرف یہ اللہ کی اونٹنی فلاں کنوئیں سے پانی پیا کرے گی۔ اس دن قوم کے جانور پانی پینے کے لئے ادھر نہ جائیں اور دوسرے دن قوم کے جانور پانی پیا کریں گے اور اونٹنی ادھر نہیں جائے گی۔ صالح (علیہ السلام) کا یہ فیصلہ اللہ کے حکم کے مطابق تھا۔ جسے قوم نے تسلیم کرلیا۔ مگر اس تسلیم کے پیچھے ان کی اپنی رضا کو کچھ دخل نہ تھا۔ بلکہ وہ یہ فیصلہ تسلیم کرنے پر مجبور تھے۔ اور اس کی دو وجوہ تھیں ایک یہ کہ فیصلہ کے ساتھ ہی صالح (علیہ السلام) نے یہ وارننگ بھی دے دی تھی کہ اگر تم لوگوں نے اس اونٹنی کو کوئی دکھ پہنچایا یا اس کے آزادی سے چرنے چگنے اور پانی پینے میں حائل ہوئے تو تم پر اللہ کا عذاب آجائے گا اور دوسرے یہ کہ یہ اونٹنی کا معجزہ دیکھنے کے بعد انھیں یہ یقین ہوچکا تھا کہ صالح (علیہ السلام) واقعی اللہ کے رسول ہیں۔ لہذا وہ ان پر ایمان لانے کے باوجود ان کی تنبیہ سے خائف تھے۔
Ayah 26:157

فَعَقَرُوْهَا فَاَصْبَحُوْا نٰدِمِیْنَۙ Open ayah 26:157 in the Quran reader

مگر ان لوگوں 96 نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر (عذاب کے ڈر سے) لگے پچھتانے

96 لیکن یہ لوگ زیادہ مدت تک اس پابندی کو برداشت نہ کرسکے۔ چوری چھپے باتیں کرتے اور دل ہی دل میں اس پابندی سے کڑھتے رہتے تھے۔ پھر جب ان کے ایمان نہ لانے پر بھی اللہ کا عذاب نہ آیا تو وہ کچھ دلیر ہوگئے۔ ان میں ایک بدکار عورتھی جس کے بہت سے مویشی تھے اور کا صی مالدار تھی۔ اس نے اپنے آشنا کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ اس اونٹنی کا قصہ پاک کردے۔ چناچہ اب اونٹنی کو مار ڈالنے کے سلسلہ میں خفیہ مشورہ ہونے لگے۔ مویشیوں کے لئے پانی اور چارے کے آدھا رہ جانے کی وجہ سے سب لوگ ہی اس اونٹنی سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ لہذا سب نے ہاں میں ہاں ملا دی۔ چناچہ وہی بدبخت زانی اس کام کے لئے تیار ہوگیا۔ چناچہ عبداللہ بن زمعہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبہ میں حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کا اور اس شخص کا ذکر کیا جس نے اونٹنی کو زخمی کیا تھا۔ آپ ~ نے فرمایا۔ وہ شخص اپنی قوم میں سب سے زیادہ بدبخت تھا۔ وہ ایک زور آور، شریر اور مضبوط شخص تھا جو اپنی قوم میں ابو زمعہ) زبیر بن عوام کا چچا ( کی طرح تھا اور اس کا نام قعار تھا (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة الشمس
Ayah 26:158

فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:158 in the Quran reader

آخر عذاب نے انھیں آلیا 97 ۔ اس واقعہ میں بھی ایک نشانی 98 ہے مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔

97 اس بدبخت نے اونٹنی کی کونچیں) پاؤں کی رگیں ( تلوار وغیرہ کے حملہ کرکے کاٹ ڈالیں۔ اونٹنی نے ایک زور کی چیخ ماری اور اسی پہاڑ میں جاکر غائب ہوگئی۔ اسی طرح اس کا بچہ بھی اسی پہاڑ میں جاکر غائب ہوگیا۔ اب ان لوگوں کو عذاب کا خطرہ محسوس ہونے لگا۔ جب حالات تشویشناک ہوجائیں تو عموماً انسان کی عقل ماری جاتی ہے۔ اور وہ الٹا سوچنے لگتی ہے۔ چناچہ ان بدبختوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو بھی ٹھکانے لگانے کے لئے خفیہ مشورے شروع کردیئے۔ ان کی عقل نے یہی کام کیا کہ اگر صالح بھی نہ رہے تو شائد عذاب نہیں آئے گا ان حالات کا صالح (علیہ السلام) کو علم ہوگیا تو آپ نے انھیں بحکم الٰہی تین دن کا الٹی میٹم دے دیا کہ تین دن مزے اڑا لو۔ اعد میں تم پر عذاب آجائے گا۔ (11: 65) حضرت صالح (علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں کی کل تعداد ایک سو بیس تھی۔ آپ انھیں ساتھ لے کر۔۔ کی طرف ہجرت کر گئے اور رملہ کے قریب جاکر آباد ہوگئے۔ اسی مقام پر حضرت صالح (علیہ السلام) نے وفات پائی۔ 98 اس قوم پر زبردست زلزلے کا عذاب آیا۔ جس نے پہاڑوں تک جڑیں ہلا دیں۔ ان میں شگاف پڑگئے اور پتھر پر پتھر گرنے لگے جس سے ان کے بیشتر مکانات کھنڈرات میں تبدیل ہوگئے اس دوران بڑی خوفناک اور کانوں کو پھاڑنے والی آوازیں بھی نکلتی تھیں۔ چناچہ اس دوہرے عذاب سے یہ بدبخت قوم صفحہ ہستی سے نیست و نابود کردی گئی۔ قوم ثمود کی تباہی بھی اللہ کی سنت کے عین مطابق واقع ہوئی۔ اور اس میں بھی عبرت کے کئی اسباب پوشیدہ ہیں۔ کاش ! یہ لوگ اس واقعہ سے ہی سبق حاصل کریں۔ مگر ان لوگوں کی اکثریت ایسی ہی ہے جو ایمان لانے کی طرف نہیں آتی۔
Ayahs 26:159–160

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:159 in the Quran reader

بلاشبہ آپ کا پروردگار ہی سب پر غالب اور رحم کرنے والا ہے۔

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:160 in the Quran reader

لوط کی قوم نے (بھی) رسولوں 99 کو جھٹلایا تھا۔

99 لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم کے چچا زاد بھائی تھے۔ جب حضرت ابراہیم نے اپنے وطن کو خیرباد کہا تو اس وقت صرف یہی ایک فرد آپ پر ایمان لایا تھا اور آپ کے ہمراہ فلسطین کی طرف ہجرت کی تھی۔ یہیں آپ کو نبوت عطا ہوئی۔ اور حضرت ابراہیم نے آپ کو شرق اردن کی طرف روانہ کردیا۔ آپ کی تبلیغ کا مرکز سدوم اور اس کے ارد گرد کا علاقہ اور ھمورہ کی بستیں تھیں۔ آپ کی قوم مشرک اور دوسری بداخلاقیوں کے علاوہ لواطت میں گرفتار بلکہ اس بدفعلی کی موجد تھی۔ ان لوگوں پر بھی خاندانی منصوبہ بندی کا بھوت سوار تھا۔ اسی لئے شہوت رانی کے فطری طریق کو چھوڑ کر لونڈے بازی کا فعل شروع کیا پھر یہ لوگ اپنی غیر فطری روش پر نادم نہیں تھے۔ نہ ہی اسے گناہ سمجھتے تھے۔ بلکہ عقلی لحاظ سے اس کے بہت فوائد بتلاتے تھے۔