Ayah 26:201119 یہ لوگ دراصل لاتوں کے بھوت ہیں۔ ان کا علاج دلائل نہیں بلکہ ڈنڈا ہے۔ جب انھیں جوتے پڑیں گے اور اللہ کا عذاب دیکھ لیں گے، خواہ یہ دنیا میں آئے یا موت کے وقف دیکھیں یا قیامت کو دیکھیں اس وقت یہ سب باتیں مانتے چلے جائیں گے۔ لیکن اس وقت ان کے ماننے کی کچھ قدر و قیمت نہ ہوگی۔
Ayahs 26:202–204120 یعنی آج انھیں مہلت ملی ہوئی ہے تو عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پھر جب عذاب دیکھ لیں گے تو اس وقت مہلت کا مطالبہ کریں گے۔ حالانکہ نہ ان کا پہلا مطالبہ درست تھا اور نہ دوسرا درست ہوگا اس لئے کہ عذاب الٰہی کے لئے بھی ایک ضابطہ مقرر ہے اس کا دارو مدار کسی کے مطالبہ کرنے یا نہ کرنے پر نہیں ہے۔ پھر جب معین وقت پر عذاب آجاتا ہے تو پھر اس میں تاخیر نہیں ہوسکتی۔ نہ کسی کے مطالبہ پر مزید مہلت مل سکتی ہے۔
Ayahs 26:205–207121 یہ کافروں کے مہلت کے مطالبہ کا دوسرا جواب ہے یعنی ہم نے انھیں دنیا میں سال ہا سال تک مہلت دی تو کیا اس مہلت سے انہوں نے کچھ فائدہ اٹھایا ؟ اور اگر ہم انھیں دوبارہ مہلت دے بھی دیں۔ پھر بھی یہ لوگ اس مہلت سے کچھ فائدہ نہیں اٹھائیں گے جب بڑی ہوئی مہلت میں ان کا سامان عیش و عشرت ان کے کسی کام نہ آئے گا تو اس سالہا سال تک دی ہوئی مہلت کو وہ بالکل تھوڑی مدت سمجھیں گے اور یہ خیال کریں گے کہ ہم بہت جلد پکڑے لئے گئے۔
Ayahs 26:208–209122 اور ہمارا ظلم یا زیادتی تو صرف اس صورت میں شمار ہوسکتا ہے جب ہم کسی قوم پر بغیر خبردار کئے یکدم عذاب نازل کردیتے جبکہ اصلی صورت حال یہ ہے کہ ہم نے ہر ہر بستی میں انبیاء بھیجے جو لوگوں کو ان کے برے انجام سے خبردار کرتے تھے اور لوگ انھیں جھٹلاتے رہے۔ اور نبیوں کو یہ کہہ کہہ کر پریشان کرتے رہے کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ جلد از جلد لے کیوں نہیں آتے۔ جس سے ان کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ عذاب کا وعدہ بھی سراسر جھوٹ اور فریب ہے ان باتوں کے باوجود ہم انھیں سنبھلنے کا موقع دیتے رہے۔ اور ہر ممکن طریقے سے حجت پوری کرنے کے بعد اور انھیں نصیحت کرنے کے بعد ان پر عذاب بھیجا اور اس لئے بھیجا کہ وہ ہر لحاظ سے عذاب کے مستحق ہوچکے تھے اس میں ہماری کچھ زیادتی نہیں تھی۔
Ayah 26:210123 اس آیت کا تعلق سابقہ آیت وانہ لتنزیل رب العالمین سے ہے درمیان میں قرآن کو جھٹلانے والوں کے کچھ احوال بیان کرنے کے بعد اصل مضمون کی طرف رجوع کیا گیا ہے کفار مکہ کے الزامات میں سے ایک الزام بھی تھا کہ وہ آپ کو کاہن کہتے بھی تھے اور سمجھتے بھی تھے۔ چناچہ جندب بن سفیان فرماتے ہیں۔ کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کا مزاج ناساز ہوا اور آپ دو تین رات نماز تہجد کے لئے اٹھ نہ سکے۔ ایک عورت) عوراء بنت حرب، ابو سفیان کی بہن، ابو لہب کی بیوی پاس کے پاس آئے اور کہنے لگی محمد) ! ﷺ ( میں سمجھتی ہوں۔ تیرے شیطان نے تجھ کو چھوڑ دیا۔ دو تین راتوں سے تیرے پاس نہیں آیا اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ ~) ( وَالضُّحٰى ۙ ) 93 ۔ الضحی:1) (~ (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة والضحیٰ )
Ayah 26:211124 ایسا قرآن نازل کرنا شیطانوں کے بس کا روگ نہیں۔ جو سراسر لوگوں کی ہدایت و فلاح کا ضامن ہو۔ جس میں خالصتؤہ توحید باری کی تعلیم دی گئی ہے۔ اور شرک اور بت پرستی سے روکا گیا ہے۔ آخرت کی باز پرس کا خوف دلایا گیا ہے۔ ظالم اور بداخلاقی سے منع کیا گیا ہے۔ نیکوکاری اور راست بازی اور خلق خدا کے ساتھ احسان کی تعلیم دی گئی ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کو ایک مکمل ضابطہ حیات عطا کیا گیا ہے کیا کسی شیطان کے کلام میں ایسی باتوں کا پایا جانا ممکن ہے ؟ شیطان تو قرآن کے نام تک سے بدکتے ہیں وہ ایسا کلام لا کیسے سکتے ہیں ؟
Ayah 26:212125 یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام جبریل روح الامین کو دے کر بھیجا جو سیدھے یہ کلام لے کر رسول اللہ ﷺ کے دل پر نازل ہوئے۔ اب اس راستہ میں کوئی ایسا مقام آتا ہے جہاں سے شیطان اس کلام کا کچھ حصہ سن سکتے ہوں ؟ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس مضمون کی وضاحت کردی گئی ہے کہ جب یہ کلام نازل کیا جاتا ہے جو اس کے ارد گرد کڑا پہرہ بھی مقرر کیا جاتا ہے جس کے دو فائدے ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں کہیں سے بھی باطل کی آمیزش نہیں ہوسکتی (41: 42) اور دوسرا یہ کہ شیاطین اگر اس کلام کو چوری چھپے سننے کی کوشش کریں تو سن نہیں سکتے بلکہ شہاب ثاقب کے ذریعہ ان کی تواضع کی جاتی ہے۔ (72: 9 (
Ayah 26:213126 اس میں مخاطب رسول اللہ ﷺ ہیں۔ جو توحید کی طرف دعوت دینے والے اور شرک کے دشمن ہیں۔ اور آپ سے شرک کا صدور ناممکن ہے۔ اور انداز خطاب دراصل اس حکم میں تاکید مزید کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔ یعنی آپ ~ جو سب سے افضل و اشرف ہیں اگر آپ بھی شرک کریں تو اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکتے تو دوسروں کا کیا حال ہوگا۔ دراصل مشرکین مکہ پر شرک کی شدید قباحت کی وضاحت کے لئے یہ انداز اختیار کیا گیا ہے فی الحقیقت اس آیت کے مخاطب وہی لوگ ہیں جو اپنی حاجت براری اور مشکل کشائی کے لئے دوسروں کو پکارتے ہیں۔
Ayah 26:214127 آپ کی بعثت کے بعد تین سال تک آپ نے انتہائی خفیہ طریقہ پر دارارقم میں فریضہ تبلیغ سرانجام دیتے رہے۔ بعد میں یہ حکم نازل ہوا کہ آپ اب اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی کھل کر شرک سے بچنے کی دعوت دیجئے اور اس شرک کے انجام سے انھیں ڈرائیے۔ اس آیت پر آپ نے جس طرح عمل فرمایا وہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے :
حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ~ باہر نکلے اور صفا پہاڑ پر چڑھ گئے اور آواز دینے لگے : اے فہر کی اولاد، نے عدی کی اولاد، فرض قریش کے سب خاندان کو پکارا۔ وہ جمع ہوگئے جو کوئی خود نہ آسکا اس نے اپنی طرف سے ایک آدمی بھیج دیا تاکہ یہ دیکھے کہ کیا معاملہ ہے۔ ابو لہب خود آیا اور قریش کے دوسرے لوگ بھی آگئے۔ آپ نے ان سے پوچھا : اگر میں تم سے کہوں کہ اس وادی کے اس طرح کچھ سوار تم پر حملہ کرنے کے لئے جمع ہیں تو کیا تم میری بات سچ مانو گے ؟ انہوں نے کہا۔ بیشک ! کیونکہ ہم نے آپ کو ہمیشہ سچ ہی بولتے دیکھا ہے تو آپ ~ نے فرمایا : میں تمہیں اس سخت عذاب سے ڈراتا ہوں۔ جو) قیامت کو ( تمہیں پیش آنے والا ہے اس پر ابو لہب کہنے لگا : تم پر بقیہ سارا دن ہلاکت ہو کیا تم نے اسی بات کے لئے ہمیں اکٹھا کیا تھا ؟ اس وقت یہ سورت نازل ہوئی ( تَبَّتْ يَدَآ اَبِيْ لَهَبٍ وَّتَبَّ ۭ ) 111 ۔ الهب :1) (بخاری۔ کتاب التفسیر (
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ~ کھڑے ہو کر فرمانے لگے : اے قریش کے لوگو ! ) یا کچھ ایسا ہی کلمہ کہا ( تم اپنی اپنی جانیں بچا لو۔ میں اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔ اے بنو عبدمناف ! میں اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔ اے میری پھوپھی صفیہ ! میں اللہ کے سامنے تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔ اے محمد) ﷺ ( کی بیٹی فاطمہ ! میرے مال سے جو چاہتی ہے مانگ لے لیکن اللہ کے سامنے میں تیرے کسی کام نہ آسکوں گا ) حوالہ ایضاً (
Ayahs 26:215–216128 ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ ان قریبی رشتہ داروں سے جو آپ پر ایمان لے آئیں اور آپ کی دعوت کو تسلیم کرلیں آپ ان سے تواضع سے پیش آئیے۔ اور جو نہ مانیں انھیں صاف سنا دیجئے کہ قیامت کے دن میں تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔ تمہیں اپنے ان شرکیہ اعمال و افعال کا نتیجہ خود ہی بھگتنا پڑے گا۔ تاہم یہ حکم عام ہے۔ جس میں آپ کے رشتہ دار اور غیر رشتہ دار سب قسم کے لوگ شامل ہیں۔
Ayah 26:217129 یعنی اس اللہ پر بھروسہ کیجئے جو نہ ماننے والوں اور اس راہ میں روڑے انکانے والوں پر غالب ہے اور انھیں سزا دینے کی پوری قدرت رکھتا ہے اور مومنوں کے حق میں جو کافروں کے ہاتھوں نشانہ ستم بنے ہوئے ہیں۔ رحیم بھی ہے وہ ان مظلوموں کی ضرور مدد کرے گا۔ اور ان کی محنتوں اور قربانیوں کا انھیں پورا بدلہ عطا کرنے کے علاوہ انھیں اپنے انعامات سے بھی نوازے گا۔
Ayah 26:218130 یعنی جب آپ نماز کے لئے رات کو اٹھتے ہیں یا کسی بھی نماز میں قیام کی حالت میں ہوتے ہیں یا تبلیغ رسالت کے فریضہ کی انجام دہی کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
Ayah 26:219131 اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ جب آپ نماز باجماعت میں اپنے مقتدیوں کے ساتھ رکوع و سجود کرتے ہیں، اس وقت اللہ تعالیٰ آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ جب آپ رات کو اٹھ کر گشت کرتے ہیں کہ کون کون سے عبادت گزار اس وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہیں اور کون کون سے غافل ہیں۔ اس وقت بھی اللہ آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ تیسرا یہ کہ سجدہ گزار لوگوں کے ساتھ مل کر آپ جو بھی اعلائے کلمہ~ن~ الحق کی سربلندی کے لئے تنگ و دو کرتے ہیں۔ اللہ آپ لوگوں کی ایک ایک نقل و حرکت سے واقف ہوتا ہے۔
Ayahs 26:220–222132 پہلے یہ بیان ہو رہا تھا کہ قرآن جیسی عظیم الشان کتاب کی تنزیل شیطانوں کے بس کا روگ نہیں اور یہ بات ناممکنات سے کہ وہ اس جیسی ایک آیت بھی لاسکیں۔ اس آیت میں یہ بتلایا جارہا ہے۔ شیطان کیسی چیز اتارتے ہیں اور کیسے لوگوں پر اترتے ہیں۔ شیطان صرف جھوٹوں، بدمعاشوں اور بدکاروں پر اترتے ہیں۔ و دیانتدار، راست باز اور نیک لوگوں سے بیزار ہوتے ہیں اور انھیں برا جانتے ہیں۔ وہ جھوٹے اور دغا باز قسم کے لوگوں پر خوش ہوتے ہیں اور یہی لوگ ان کی مرضی کے موافق ہوتے ہیں اور ایسے ہی لوگ شیطانوں کے القاء کے مطابق کہانت کا کاروبار چلاتے ہیں اور ان سے مراد کاہن، جوتشی، فال نکالنے والے، رمال، جنار اور حامل قسم کے لوگ ہیں جو اپنی غیب دانی کا ڈھونگ رچاتے، لچھے دار باتیں بناتے اور لوگوں کو ان کی قسمتیں بتاتے پھرتے ہیں۔ پھر کچھ لوگ جنوں کی تسخیر اور مؤکلوں کے ذریعہ لوگوں کی بگڑی بناتے ہیں۔ اور اس سے ان کا مقصد محض پیسہ بٹورنا ہوتا ہے۔
دور نبوی میں مدینہ میں بھی ایک ایسا کاہن رہتا تھا جس کا نام ابن صیاد تھا جو غیب کی خبریں بتلایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے کہا : کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسولہوں ؟ وہ کہنے لگا : میں گواہی دیتا ہوں کہ ان پڑھوں کا رسول ہے پھر اس نے آپ ~ سے پوچھا کہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ آپ~صل 3~ نے اسے ٹھونکا مارا اور فرمایا : اللہ تجھے تیری حد سے آگے نہ بڑھنے دے گا۔ پھر آپ ~ نے پوچھا : اچھا بتلاؤ۔ اس وقت میرے دل میں کیا ہے۔ اس وقت آپ کے دل میں سورة دخان کا خیال آرہا تھا۔ اسنے کہا دخ اس سے آگے وہ کچھ نہ کہہ سکا۔
حضرت عمر ؓ اور بعض دوسرے صحابہ اسے دجال خیال کرتے تھے۔ چناچہ حضرت عمر ؓ نے آپ ~ سے اس کو قتل کرنے کی اجازت بھی طلب کی۔ آپ نے حضرت عمر ؓ کو اس کام سے روک دیا اور فرمایا : اگر فی الواقع دجال ہے تو اس کی موت تیرے ہاتھوں واقع نہیں ہوگی۔ اور اگر یہ دجال نہیں تو اسے قتل کرنے درست نہیں۔ (بخاری۔ کتاب القدر۔ باب قولہ تعالی۔ یحول بین المروقلبہ (
اب اس کے مقابلہ میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کی زندگی کو دیکھا جائے تو زمین و آسمان کا فرق نظر آتا ہے ان لوگوں کی راست بازی، صدق، امانت و دیانت، پرہیزگاری اور خوش اخلاقی وغیرہ ایسے اوصاف ہیں جن کی ان بدکرداروں کو ہوا بھی نہیں لگی ہوتی۔
Ayah 26:223133 یعنی ان کاہن قسم کے لوگوں کے ذرائع معلومات انتہائی ناقص قسم کے ہوتے ہیں۔ اور اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ شیطان ملاء اعلیٰ کی طرف کاہن لگاتے ہیں اور کوئی ایک آدھ بات سن پائیں تو اس میں سو جھوٹ ملا کر کاہنوں کو بتلاتے ہیں اور دوسرا یہ کہ کاہن شیطانوں کی طرف کان لگائے رکھتے ہیں۔ پھر جب شیطان کسی کاہن کو کچھ القاء کرتا ہے تو یہ کاہن اس میں سو جھوٹ ملا کر لوگوں کو بتلاتے ہیں۔ گویا ان کے کاروبار کی بنیاد سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہے۔
Ayah 26:224134 کفار مکہ کا ایک الزام یہ بھی تھی کہ آپ) معاذ اللہ ( شاعر ہیں۔ اسی نسبت سے یہاں شاعروں اور شاعروں کو داد دینے والوں کے کچھ اوصاف بیان فرما دیئے۔ تاکہ ہر شخص از خود یہ فیصلہ کرلے کہ رسول اللہ ﷺ شاعر ہوسکتے ہیں یا نہیں ؟ پھر آپ کے پیرو کاروں کے اوصاف کیسے ہیں۔ اور شاعروں کے پیروکاروں کے کیسے ہوتے ہیں ؟ شاعروں کا کام محض گرمی محفل اور وقتی جوش پیدا کرنا ہوتا ہے جس کا مستقل ہدایت سے کچھ تعلق نہیں ہوتا۔ اور ان کی داد دینے والے بھی ہدایت کی راہ سے بےبہرہ اور۔۔ ہوئے لوگ ہوتے ہیں۔
Ayah 26:225135 ان دو آیات میں شاعروں کی دو خصلتیں بیان فرمائیں ایک یہ کہ ان کے کلام میں تخیل ہی تخیل اور غلو کی حد تک پہنچائیں مبالغہ ہوتا ہے جس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہوتی۔ مثلاً کسی کی تعریف کرنے بیٹھے تو اسے آسمان پر چرھا دیا کسی کی ہجو پر آئے تو اسے دنیا کی بدترین مخلوق بنا کر پیش کردیا۔ پھر اگر کسی سے کچھ انعام و اکرام مل گیا تو اس کی مدح سرائی شروع کردی۔ کسی کی پگڑی اچھالی۔ کہیں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکائی اور عشق لگائے بغیر تو کسی شاعر کی شاعری مکمل ہی نہیں ہوتی۔ کہیں محبوبہ سے شکایتیں ہیں، تو کہیں رقبیوں پر برس رہے ہیں، دور اذکار استعاروں اور تشبیہات کا استعمال اور اپنی ثناخوانیاں جن میں حقیقت کچھ بھی نہیں ہوتی۔ غرضیکہ زندگی کا کوئی میدان ایسا نہیں جن میں یہ اپنے تخیل کے گھوڑے نہ دوڑاتے ہوں اور سر نہ پھٹکتے پھرتے ہوں۔ ان کی زندگی کا نہ کوئی متعین مقصد ہوتا ہے اور نہ ہی یہ کسی اصول کے پابند ہوتے ہیں۔
Ayah 26:226136 شاعر حضرات کی دوسری خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ ان کے قول اور فعل میں نمایاں تضاد ہوتا ہے وہ کہتے کچھ اور ہوتے کچھ ہیں۔ اور یہ چیز رسول اللہ ﷺ کے طرز عمل کے عین ضد تھی۔ آپ جو تعلیم پیش کرتے تھے سب سے پہلے خود اس پر عمل پیرا ہوتے تھے پھر ایمان لانے والوں کو اسی تعلیم کا نمونہ بناتے تھے۔ لہذا اے مشرکین مکہ ! خود ہی اندازہ کرلو کہ اس پیغمبر کے شاعر ہونے کا جو الزام تم لگا رہے ہو وہ کہاں تک درست ہے۔
Ayah 26:227137 یعنی جن شعراء کی عام مذمت بیان کی گئی۔ ان میں سے مندرجہ ذیل چار خصائل والے شعراء مستثنیٰ ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ایمان لائے ہوں۔ دوسرے انہوں نے نیک اعمال کو اپنا طرز زندگی بنا لیا ہو۔ تیسرے اللہ کو بکثرت یاد کرتے رہتے ہوں۔ کسی وقت بھی ان کے دل اللہ کی یاد سے غافل نہ ہوں۔ چوتھے یہ کہ جو کچھ کہیں ظالموں کے مقابلہ میں حق کی حمایت کے شعر کہیں۔ کسی کی ہجو اپنی ذاتی اغراض کے ماتحت نہ کریں۔ مثلاً اشعار کے ذریعہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کریں۔ نیکی کی ترغیب دیں۔ کفر کی اور گناہوں کی مذمت بیان کریں یا اگر کافر مسلمانوں یا اسلام یا پیغمبر اسلام کی ہجو بیان کریں۔ تو ہجو کا اسی طرح جواب دے کر اس ظالم کا بدلہ لے لیں۔ چناچہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ قریش نے مسلمانوں کی ہجو کی تو آپ نے مسلمانوں سے کہا کہ ان کی ہجو کا جواب دو ۔ کیونکہ ہجو قریش کو تیروں کی بوچھاڑ سے زیادہ ناگوار ہے۔ پھر عبداللہ بن رواحہ سے ہجو کرنے کو کہا۔ لیکن ان کی ہجو آپ کو پسند نہ آئی۔ پھر آپ نے کعب بن مالک سے کہا پھر حسان بن ثابت سے ہجو کرنے کا کہا اور ساتھ ہی یہ بتلا دیا کہ ذرا دھیان رکھنا میں بھی قریش ہی ہوں۔ حضرت حسان کہنے لگے اس ذات کی قسم جس نے آپ کو سچا پیغمبر بنا کے بھیجا۔ میں آپ کو قریش میں سے ایسے نکال لوں گا جیسے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے۔۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ نے حسان کے حق میں دعا کی یا اللہ اس کی روح القدس سے مدد کر۔ نیز فرمایا حسان ! جب تک تو اللہ اور اس کے رسول کے طرف سے جواب دیتا رہے گا روح القدس تیری مدد کرتا رہے گا۔ نیز فرمایا : حسان نے قریش کی ہجو کرکے مومنوں کے دلوں کو تسکین دی اور کافروں کی عزتوں کو تباہ کردیا ) مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب فضائل حسان بن ثابت ( اس کے بعد حضرت حسان بن ثابت کا طویل قصیدہ مسلم شریف میں مذکور ہے۔ 138 یعنی وہ لوگ جو رسول اللہ ﷺ کو کاہن اور شاعر یا ساحر اور مجنون قرار دیتے تھے تاکہ دعوت دین اسلام میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرکے حق کو نیچا دکھلا سکیں۔