26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 26:41–42

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

پھر جب جادوگر (میدان میں) آگئے تو فرعون سے پوچھنے لگے کہ : اگر ہم غالب رہے تو ہمیں کچھ صلہ بھی ملے گا ؟

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

فرعون نے جواب دیا : ہاں (صلہ بھی ملے گا) اور تمہیں (ہمارے ہاں) کرسیاں بھی ملیں 32 گی۔

32 مقررہ وقت سے پہلے جب تمام جادوگر اطراف و اکناف سے دارالخلافہ پہنچ گئے تو انہوں نے مل کر فرعون سے سوال کیا کہ اگر ہم کامیاب ہوگئے تو ہمیں کچھ معاوضہ یا انعام و اکرام بھی ملے گا ؟ جادوگروں کے اس سوال سے ان کی ذہنیت سامنے آجاتی ہے کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں۔ پیٹ کے دھندے کے طور پر کرتے ہیں۔ اس سے بلند ان کا کوئی مطمع نظر ہوتا ہی نہیں۔ جبکہ نبی لوگوں کے معاوضہ سے مطلقاً بےنیاز ہوتا ہے وہ بےلوث ہو کر محض اللہ کی رضا مندی کی خاطر اپنا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ فرعون کی اس وقت جان پر بنی ہوئی تھی۔ جادوگروں کے اس وال پر فوراً کہنے لگا۔ محض انعام و کرام کی کیا بات کرتے ہو اگر تم کامیاب ہوگئے میں انعام و اکرام کے بدلہ تمہیں بلند مناصب بھی دوں گا اور تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔
Ayah 26:43

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

موسیٰ نے جادوگروں سے کہا : پھینکو جو تم پھینکنا 33 چاہتے ہو۔

33 فرعون کے اس جواب پر جادوگر بہت خوش ہوگئے۔ میدان مقابلہ میں آئے تو موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کے عام دستور کے مطابق پوچھا : پہلے آپ اپنا شعبدہ دکھلائیں گے، یا ہم پہل کریں ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے فوراً جواب دیا : نہیں پہلے تم ہی اپنا شعبدہ دکھلاؤ گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ جواب محض رسماً یا رواجاً یا ان کی عزت افزائی کے طور پر نہیں دیا بلکہ آپ چاہتے ہی یہ تھے کہ باطل پوری طرح پہلے اپنا مظاہرہ کرلے۔ اس کے بعد ہی حق کی فتح پوری طرح واضح ہوسکے گی۔
Ayah 26:44

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

چناچہ انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور کہنے لگے : فرعون کی جے ! یقینا ہم ہی غالب 34 رہیں گے

34 جادوگروں کو فرعون کے اہل کاروں کی طرف سے صرف یہ بتلایا گیا کہ دارالخلافہ میں بادشاہ سلامت کے ہاں دو جادوگر آئے ہیں۔ ان میں سے ایک اپنی لاٹھی پھینکتا ہے تو وہ سانپ بن جاتا ہے اور یہی ان کے پاس سب سے بڑا شعبدہ ہے اور تم لوگوں کو بادشاہ سلامت نے ان کے مقابلہ کے لئے بلایا ہے۔ لہذا ان لوگوں نے اسی خاص پہلو میں اپنی تیاریاں کی تھیں۔ انہوں نے کچھ اپنی لاٹھیاں پھینکیں اور کچھ رسیاں پھینکیں جو لوگوں کو جیتے جاگتے متحرک سانپ نظر آنے لگے۔ اور ان کی تعداد اتنی زیادہ تھا کہ سارا میدان مقابلہ ایسے سانپوں سے بھر گیا تھا سارا مجمع اس منظر سے دہشت زدہ ہونے لگا۔ حتیٰ کہ حضرت موسیٰ بھی دل ہی دل میں ڈرنے لگے۔ یہ منظر جادوگروں کے لئے بڑا خوش کن تھا۔ اور انھیں یقین تھا کہ ان کے اس کرشمہ کا کوئی مقابلہ نہیں ہوسکتا۔ چناچہ اسی خوشی میں انہوں نے زور سے نعرہ مارہ فرعون کی جے، یقیناً ہم ہی جیتیں گے ۔
Ayah 26:45

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

پھر موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا تو جو کچھ جادوگروں نے شعبدے بنائے تھے، اس نے انھیں فوراً نگلنا شروع 35 کردیا۔

35 اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فوراً وحی کی کہ ڈرو نہیں بس اپنا عصا ڈال دو ۔ چناچہ آپ نے عصا ڈالا تو وہ صرف حرکت ہی نہیں کر رہا تھا بلکہ جادوگروں کے بنائے ہوئے تمام سانپوں کو اپنا لقمہ بھی بنائے جارہا تھا۔ حتیٰ کہ اس نے۔۔۔ بھرے مجمع میں اسی مقابلہ میں فرعون کو شکست ہوئی۔۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا کو ہاتھ میں لیا وہ پھر وہ عصا بن گیا۔
Ayah 26:46

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

یہ دیکھ کر جادوگر بےاختیار سجدہ 36 میں گرپڑے

36 فرعون کے جے پکارنے والے جادوگروں نے جب دیکھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا سے بنا ہوا سانپ ان کے سانپ کو ہڑپ کر رہا ہے تو انھیں یقین ہوگیا تھا کہ یہ جادو کے فن سے ماورا کوئی اور چیز ہے۔ وہ کوئی معمولی قسم کے جادوگر نہ تھے۔ بلکہ ملک بھر کے چوٹی کے ماہر اور نامور جادوگر تھے۔ لہذا جب ان کے بنائے ہوئے سب سانپ میدان مقابلہ سے ختم ہوگئے تو انہوں نے اپنی شکست کا برملا اعتراف کرلیا پھر اسی پر اکتفا نہ کیا۔ بلکہ اسی بھرے مجمع میں رب العالمین پر ایمان لانے کا اقرار کیا اور یہ بھی ساتھ ہی وضاحت کردی کہ رب سے مراد ہماری مراد فرعون نہیں بلکہ رب العالمین سے ہماری مراد وہ پروردگار ہے جو ہر چیز کا پرورش کنندہ ہے اور جس کی طرف موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) دعوت دے رہے ہیں۔
Ayahs 26:47–49

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

(اور) کہنے لگے : ہم پروردگار عالم پر ایمان لاتے ہیں

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

جو موسیٰ اور ہارون کا پروردگار ہے

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

فرعون بول اٹھا : تم موسیٰ کی بات مان گئے پیشتر اس کے کہ میں تمہیں اس کی اجازت دیتا۔ یقینا یہ تمہارا بڑا استاد ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ اس کا انجام تمہیں جلد ہی معلوم ہوجائے گا میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں میں کٹوا دوں گا اور تم سب کو سولی 37 چڑھا دوں گا۔

37 فرعون ایک تو بھرے مجمع میں اپنی واضح شکست دیکھ چکا تھا۔ یہ رنج ابھی تازہ ہی تھا کہ اوپر سے اس کے جادوگروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی رسالت کا اور اپنے ایمان لانے کا اقرار کرلیا تو وہ اس دوہرے صدمہ سے سیخ پا ہوگیا۔ اسے خطرہ یہ تھا کہ اب یہ سارا مجمع اور اس کے بعد اس کی قوم بھی اس کا ساتھ چھوڑ کر ایمان لے آئیں گے۔ لہذا اب دو تشدد پر اتر آیا۔ وہ مقابلہ سے پہلے اپنے ہی اس اقرار کو بھی بھول گیا جو وہ کہہ رہا تھا کہ ہمیں جادوگروں کا ہیساتھ دینا پڑے گا۔ فوراً ایک تجویز اس کے ذہن میں آئی اور اس نے جادوگروں پر یہ الزام لگا دیا کہ یہ جادوگر تو پہلے ہی موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔ وہ ان کا استاد تھا اور یہ اس کے چیلے تھے۔ ان دونوں نے مل کر مجھے اس انجام تک پہنچایا ہے اور اس کی دلیل یہ پیش کی کہ شکست کے بعد جادوگروں نے مجھے پوچھا تک نہیں نہ مجھ سے مشورہ کیا۔ جادوگر میرے تھے اور مل گئے) موسیٰ (علیہ السلام) ( سے اب ان کی اس فریب کاری کی میں انھیں پوری پوری سزا دوں گا اور ایسی سزا دوں گا جس سے باقی لوگوں کو ایسی حرکت کرنے کی جرات تک نہ ہوسکے۔ فرعون دراصل اس اعلان سے دوہرہ فائدہ حاصل کرنا چاہتا تھا وہ پہلے بھی اپنے طور پر یہ سمجھ چکا کہ موسیٰ (علیہ السلام) واقعی اللہ کا رسول ہے۔ لیکن دوسروں کو الو بنانے کی خاطر انھیں یہ یقین دلا رہا تھا کہ موسیٰ اور اس کا بھائی ہارون اللہ کے رسول نہیں۔ بلکہ یہ جادوگر ہیں۔ ہر مقابلہ میں شکست کے بعد عوام الناس میں پھر اسی تاثر کو مزید تقویت دینے کی کوشش کی اور دوسرے جادوگروں کو سولی چڑھانے کا اعلان کرکے لوگوں کو خوف زدہ کردیا تاکہ آئندہ کوئی شخص ان پر ایمان لانے کی جرات نہ کرسکے۔
Ayahs 26:50–51

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

وہ کہنے لگے : کچھ پروا نہیں ! ہمیں اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہونا ہے

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہمارا پروردگار ضرور ہماری خطائیں معاف فرما دے گا کیونکہ ہم سب سے پہلے ایمان 38 لائے ہیں

38 مقابلہ سے پہلے جادوگروں کی یہ حالت تھی کہ وہ فرعون سے انعام و اکرام حاصل کرنے کے لئے التجا کر رہے تھے لیکن جب وہ علی وجہ البصبرت صدق دل سے ایمان لے آئے تو ان کے ذہن میں یک لخت انقلاب آگیا۔ جیسے یکدم کسی کی آنکھیں کھل جائیں۔ ان کے ایمان نے ان میں اتنی جرات پیدا کردی تھی کہ اب وہ اسی جابر اور ظالم فرعون کی سولی کی دھمکی کو بھی خاطر میں نہیں لا رہے تھے وہ یک زبان ہو کو بول اٹھے تم جتنا بڑا سلوک ہم سے کرسکتے ہو اس میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھو۔ زیادہ سے زیادہ تم ہمیں مار ہی سکتے ہو۔ اس سے زیادہ تو ہمارا کچھ بگاڑ سکو گے مگر ہمیں جو دولت ایمان میسرآئی ہے وہ ان تکلیفوں کے مقابلہ میں ہزار درجہ بہتر ہے۔ انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس معرکہ حق و باطل میں جادوگروں کی شکست کے بعد جس طرح جادوگروں ایمان لائے تھے اسی طرح فرعون بھی ایمان لے آتا۔ مگر وہ پہلے سے زیادہ اکڑ بیٹھا جس کی وجہ سے محض یہ تھی کہ اگر وہ ایمان لاتا تو اس کی ساری حکومت اور اقتدار ہاتھ سے جاتی تھی اور اسے موسیٰ (علیہ السلام) کا مطیع فرمان بنا کر رہنا پڑتا تھا۔ لیکن جادوگروں کو ایسی کوئی فکر لاحق نہ تھی۔ جس سے ایک واضح نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایمان لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ اپنے جاہ، اپنی سرداریوں اور اپنے۔۔ سے دستبرداری ہوتی ہے اور ایسے ہی لوگ انبیاء کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے مخالف اور دشمن ہوتے ہیں۔
Ayahs 26:52–56

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ : راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ۔ تمہارا تعاقب کیا جائے گا

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

اس پر فرعون نے (فوج اکٹھی کرنے کے لئے) شہروں میں آدمی بھیج دیئے۔

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

(اور انھیں کہلا بھیجا کہ) یہ مٹھی بھر لوگ ہیں

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

جو ہمیں غصہ چڑھا رہے ہیں

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور ہم یقینا ایک مسلح جماعت 39 ہیں

39 اس مقام پر بہت سے واقعات چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ یہ بات بھی پوری طرح معلوم نہیں ہوسکی کہ آیا فرعون نے ان جادوگروں پر بعض مصلحتوں کی بنا پر سولی چڑھانے کی دھمکی ہی دی تھی یا فی الواقعہ چڑھایا بھی تھا۔ غالب گمان یہی ہے کہ اس نے یہ کام ضرور کیا ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ باطل پرست جب دلائل کے میدان میں شکست کھا جاتے ہیں تو تشدد اور اوچھے ہتھیاروں پر اتر آتے ہیں۔ پھر بھی ان کا غصہ رفع نہیں ہوتا۔ کیونکہ ایسے مظالم کے نتائج بسا اوقات توقع کے خلاف نکلتے ہیں اور جس کو جتنی قوت سے دبانے کی کوشش کی جائے اتنی ہی قوت سے ابھرتی اور اپنی جڑیں مضبوط بنا لیتی ہے۔ مصر میں بھی یہی کچھ ہوا۔ بیشمار اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تو موجودہ فرعون نے اس اسرائیلیوں کے لئے وہی سزا تجویز کی جو اس کے باپ نے کی تھی۔ یعنی بنی اسرائیل کے نومولود سب لڑکوں کو مار ڈالا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے اور اس طرح بتدریج ان کی نسل کو ختم کردیا جائے۔ یہ تو فرعون کا منصوبہ تھا لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ علاوہ ازیں فرعون کی قوم کے چند لوگ چوری چھپے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تھے۔ جب فرعون کے مظالم کی حد ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کے ذریعہ ملک مصر سے ہجرت کرکے ملک شام کی طرف جانے کا حکم دیا کہ وہ نبی اسرائیل کو ساتھ لے کر راتوں رات نہایت خفیہ طریقہ سے یہاں سے نکل جائیں۔ اور پوری احتیاط ملحوظ رکھیں اور جب سفر شروع کریں تو جلد از جلد مصر کے ملک سے پار نکل جانے کی کوشش کریں فرعون یقیناً ان کا تعاقب کرے گا۔ ایسا نہ ہو کہ وہ مصر کے اندر ہی تم لوگوں کے سر آن پہنچے۔ فرعون کو جب موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کی روانگی کا علم ہوا تو بہت سٹ پٹایا۔ اس کے سارے منصوبے خاک میں لے رہے تھے اس نے ایک لشکر جرار تیار کرنے کا حکم دیا اور درباریوں سے کہنے لگا۔ یہ مٹھی بھر کمزور سی جماعت ہے اور ان لوگوں نے فرار کی راہ اکتیار کرکے ہمیں خواہ مخواہ غصہ چڑھا دیا ہے لہذا ہمیں چاہئے کہ فوراً ان کا تعاقب کرکے انھیں کیفر کردار سے پہنچائیں۔ ہمارے مسلح اور جرار لشکر کے مقابلہ میں ان بےچاروں کی حقیقت ہی کیا ہے۔
Ayahs 26:57–58

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

اس طرح ہم فرعونیوں کو ان کے باغات اور چشموں سے

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

اور خزانوں اور بہترین قیام گاہوں 40 سے نکال لائے۔

40 چند دنوں میں فرعون نے بنی اسرائیل کے تعاقب اور ان سے نپٹنے کے لئے ایک لشکر جرار اکٹھا کرلیا اور ان کی سرکوبی کے لئے روانہ ہوگئے۔ ان کا تو یہی خیال تھا کہ چند دنوں میں ہم انھیں گرفتار کرکے واپس لے آئیں گے اور جو مقابلہ پر آئیں گے انھیں قتل کر ڈالیں گے۔ انھیں کیا معلوم تھا کہ جن محلوں اور باغوں سے نکل کر وہ ان کے تعاقب میں جارہے ہیں ان محلوں اور باغوں کو دوبارہ دیکھنا بھی ان کے نصیب میں نہ ہوگا۔ اور بنی اسرائیل کا شکار کرنے والا یہ لشکر خود موت کے ہاتھوں شکار بن جائے گا۔
Ayah 26:59

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

اور اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو ان کا وارث 41 بنادیا۔

41 اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگ مصر میں بھی رہ گئے تھے سارے کے سارے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہمراہ روانہ نہیں ہوئے تھے۔ جب فرعون اور اس کے جملہ اعیان سلطنت غرق ہو کر ہلاک ہوگئے تھے۔ تو ساتھ ہی آل فرعون کا اقتدار بھی ختم ہوگیا تھا اور یہی پیچھے رہنے والے بنی اسرائیل ان کے محلوں اور باغات پر قابض ہوگئے تھے۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ بنی اسرائیل مصر کے کچھ حصہ پر قابض ہوئے ہوں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت میں اس عہد کی طرف اشارہ ہو۔ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت مصر تک پھیل گئی اور بنی اسرائیل ہی فرعونیوں کے محلات اور باغات پر قابض ہوگئے تھے۔ واللہ اعلم بالصواب
Ayahs 26:60–61

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

چناچہ (ایک دن) صبح کے وقت فرعونی ان کے تعاقب میں چل پڑے۔

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

پھر جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تو موسیٰ کے ساتھی 42 چیخ اٹھے کہ ہم تو پکڑے گئے۔

42 فرعون کی بدحواسی کا یہ عالم تھا کہ ایک طرف تو وہ بنی اسرائیل کو ایک مٹھی بھر اور کمزور سی جماعت قرار دے رہا تھا دوسری طرف وہ ایک عظیم الشان مسلح لشکر کی تیاری کا حکم دے رہا تھا۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کو یقین تھا کہ بنی اسرائیل محض ایک کمزور سی اور مٹھی بھر جماعت ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد بھی ان کے شامل حل ہے۔ لہذا اس نے ہر ممکن احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایسا لشکر جرار تیار کرنے کا حکم دیا تھا جس کے تیار ہونے میں خواہ مخواہ کچھ عرصہ لگ گیا۔ فرعون کے اس لشکر نے بالاخر بنی اسرائیل کو بحیرہ قلزم کے کنارے پر جا پکڑا۔ اب صورت حال یہ تھی کہ دونوں لشکروں میں صرف اتنا فاصلہ رہ گیا تھا کہ دونوں لشکر ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے۔ بنی اسرائیل سمندر کے کنارے پر کھڑے تھے۔ پیچھے سے فرعون کا لشکر تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ان کی طرف بڑھا چلا آرہا تھا۔ بنی اسرائیل جو فرعون سے پہلے ہی سخت خوف زدہ تھے یہ صورت حال دیکھ کر سخت گھبرا گئے۔ آگے سمندر تھا پیچھے فرعون کا لشکر، دونوں طرف موت ہی موت کھڑی نظر آرہی تھی۔ لہذا ان کی زبان سے بےساختہ یہ الفاظ نکل گوے، موسیٰ اب تو ہم مارے گئے۔
Ayah 26:62

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا : ایسا ہرگز نہ ہوگا۔ میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ جلد ہی میری رہنمائی 43 کر دے گا

43 لیکن موسیٰ (علیہ السلام) پر اس صورت حال کا کچھ بھی اثر نہ ہوا۔ انھیں اس بات کا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے جو فتح و نصرت کے وعدے کر رکھے ہیں وہ یقیناً پورے ہوں گے۔ اور اس مصیبت سے نجات کے لئے بھی اللہ ضرور کوئی راہ نکال دے گا۔ لہذا انہوں نے گھبرائے ہوئے بنی اسرائیل کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ فرعون تمہلارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہمارے شامل حال ہے وہ ان حالات میں بھی ضرور ہماری رہنمائی فرمائے گا۔
Ayah 26:63

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

چناچہ ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ : اپنا عصا سمندر پر مارو چناچہ سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ایک حصہ 44 ایک بڑے پہاڑ کی طرح (ساکن و جامد) ہوگیا۔

44 بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بوجب وحی الٰہی جب اپنا عصا سمندر پر مارا تو وہ دو حصوں میں بٹ گیا اور درمیان میں کافی کشادہ راستہ بن گیا۔ اور راستہ خشک بھی فوراً ہوگیا۔ نیچے دلدلی زمین نہیں تھی۔ ایک طرف کا پانی بھی ساکن جامد پہاڑ کی طرح کھڑا کا کھڑا رہ گیا اور دوسری طرف کا بھی۔ لیکن مفسرین کی نقل کردہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خشک راستہ نہیں بلکہ بارہ راستے بنے تھے اور کل فرق کے الفاظ بھی ان روایات کی تائید کرتے ہیں کیونکہ کل کا لفظ دو کے لئے نہیں آتا۔ روایات کے مطابق سمندر میں بارہ راستے بنے تھے اور بنی اسرائیل کے بارہ ہی قبیلے تھے اور ہر قبیلے کے تقریباً بارہ ہزار افراد تھے جو ہجرت کرکے آئے تھے اس لحاظ سے ان مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ چوالیس ہزار بنتی ہے اور بعض روایات کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تھی۔ جبکہ فرعون کے لشکر کی تعداد سے بہت زیادہ تھی۔
Ayah 26:64

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

اور اسی جگہ ہم دوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے 45 ۔

45 اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر بنی اسرائیل کے لئے نجات کی راہ پیدا کردی۔ اور بنی اسرائیل اس میں سے گزر کر بخیر و عافیت اس بحیرہ کے دوسرے کنارے پر پہنچ گئے اس وقت فرعون کا لشکر انہی راستوں سے گزر کر سمندر پاکر کرنے کی تیاریاں کر رہا تھا۔ شاید اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خیال آیا ہو تو اب دوبارہ سمندر پر اپنا عصا ماریں۔ تاکہ پانی پھر سے آپس میں مل جائے اور فرعون کا لشکر ان تک نہ پہنچنے پائے لیکن اسی وقت اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی کہ واترک البحر وھوا (44: 24) یعنی سمندر کو اسی حال میں پہاڑوں کی طرح کھڑا چھوڑ دو ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مرضی صرف یہی نہیں تھی کہ بنی اسرائیل ان فرعونیوں سے نجات پاجائیں بلکہ یہ بھی تھی کہ اس ظالم قوم کو سمندر میں غرق کرکے صفحہ ہستی سے نیست و نابود کردیا جائے۔ فرعون اور آل فرعون اگر بنی اسرائیل کا تعاقب نہ کرتے یا سمندر سے ہی واپس چلے جاتے تو ان کا صرف اتنا ہی نقصان ہوتا کہ ایک غلام قوم ہاتھ سے نکل گئی۔ مگر اللہ کی مشیت پوری ہو کے رہتی ہے۔ ان کی ہلاکت ہی انھیں مقام ہلاکت پر کھینچ لائی تھی۔ پھر جب انہوں نے سمندر میں کھلے راستے دیکھے۔ پھر بھی فرعون کو یہ خیال نہ آیا کہ ممکن ہے کہ سمندر میں اس طرح راستہ بن جانا ایک خرق عادات امر اور موسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ ہو۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ فوراً اپنے گھوڑا انہی راستوں پر ڈال دیئے۔ اور جب فرعون کا پورا لشکر سمندر کی زد میں آگیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے پانی کو حکم دیا کہ وہ اپنی طبعی حالت پر واپس آجائے اور آپس میں مل جائے۔ چناچہ خدائی کے بلندو بانگ دعویٰ کرنے والا فرعون اپنے تمام اہلیان سلطنت اور لاؤ لشکر سمیت اس سمندر میں غرق ہوگیا۔
Ayahs 26:65–67

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

موسیٰ اور اس کے تمام ساتھیوں کو تو ہم نے بچا لیا

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

اور دوسرے گروہ کو وہاں غرق کردیا۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

اس واقعہ میں بھی ایک نشانی 46 ہے لیکن ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں

46 یعنی اس واقعہ میں ہر طرح کے لوگوں کے لئے نشانی ہے۔ ظالموں کے لئے یہ نشانی ہے کہ وہ اپنے کرتوتوں کی سزا اور اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ کا دست قدرت انھیں ایسے راستوں سے مقام ہلاکت کی طرف کھینچ لاتا ہے جن کا انھیں وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ لہذا اے معاندین قریش تم بھی اس واقعہ سے عبرت حاصل کرو کہ کہیں تمہیں بھی ایسے انجام بد سے دوچار نہ ہونا پڑے اور اس واقعہ میں ایمان لانے والوں کے لئے بھی نشانی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو آزماتا ضرور ہے۔ انھیں تکلیفیں بھی پہنچتی ہیں۔ بالاخر اللہ تعالیٰ مظلوموں کی ہی مدد کرتا ہے اور ظالموں کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔
Ayah 26:68

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

اور بلاشبہ تمہارا 47 پروردگار ہی ہر چیز پر غالب اور رحم کرنے والا ہے۔

47 یعنی ایسی واضح نشان دیکھ کر بھی منکرین حق کم ہی ایمان لاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سزا دینے کی اللہ پوری قدرت رکھتا ہے لیکن فوراً سزا اس لئے نہیں دیتا کہ وہ رحیم بھی ہے۔
Ayah 26:69

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 26:69 in the Quran reader

اور انھیں ابراہیم کا قصہ 48 (بھی) سنائیے

48 حضرت ابراہیم کا قصہ قریش مکہ سے گہری مناسب رکھتا ہے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم کا پیروکار ہونے کا دعویٰ رکھتے تھے۔ حضرت ابراہیم وہ ہستی ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی شرک کے خلاف جہاد میں گزاری اور اس راہ میں آنے والی ہر مصیبت کو بڑی خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ جبکہ قریش مکہ اپنے اس اتباع ابراہیمی کے دعویٰ کے باوجود سر سے پاؤں تک شرک میں ڈوبے ہوئے تھے۔ انھیں یہ اعتراف بھی تھا کہ حضرت ابراہیم خالصتؤہ توحید پرست اور شرک سے سخت بیزار تھے اور یہ بھی اعتراف تھا کہ عرب میں شرکیہ رسوم حضرت ابراہیم کی وفات کے صدیوں بعد رائج ہوئیں۔ حضرت ابراہیم کی قوم بھی سر تا پا شرک میں مبتلا تھی۔ دوسروں کا کیا ذکر آپکا باپ آزر نمرود کے دربار میں شاہی مہنت تھا۔ وہ خو بت تراش بھی تھا اور بت فروش بھی۔ اس کا ذریعہ معاشی بھی بت گری اور بت فروشی تھا۔ اور جاہ و منصب بھی اسے اسی وجہ سے حاصل ہوا۔ ایسے باپ کے گھر اور ایسے ماحول میں حضرت ابراہیم پیدا ہو وے۔ نبوت عطا ہوئی تو سب سے پہلے اپنے باپ کو ہی سمجھانا شروع کیا اور پھر اس کے بعد دوسرے لوگوں کو اپنے آپ اور اپنی قوم سے ان کا پہلا سوال ہی یہ تھا کہ ان پتھر کے بتوں اور مورتیوں میں کیا خصوصیت ہے تو جو تم ان کی پوجا کرتے ہو۔ آخر تم ان کو کیا سمجھ کر ان کی پوجا کرتے ہو اور ان کی نذریں نیازیں دیتے ہو ؟
Ayahs 26:70–71

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 26:70 in the Quran reader

جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا : یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم پوجا کرتے ہو ؟

قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ Open ayah 26:71 in the Quran reader

وہ کہنے لگے : ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور انھیں کے پاس بیٹھے 49 رہتے ہیں

49 لوگوں نے جواب میں کہا کہ تم نے ان سے متعلق نہایت حقارت کے لہمہ میں یہ سوال کیا ہے۔ حالانکہ ہمارے نزدیک یہ انتہائی قابل احترام چیزیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم عجز و نیاز سے سر جھکائے ان کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں۔ پہلے یہ بتلایا جاچکا ہے کہ حضرت ابراہیم کی قوم حقیقتاً ستارہ پرست تھی۔ اور وہ سیاروں کے انسانی زندگی پر اثرات کے شدت سے قائل تھے۔ انہوں نے ہر سیارہ کی روح کی ایک تصویر اپنے ذہن میں طے کر رکھی تھی پھر اسی تصویر کے مطابق ان کے مجسمے یا بت بنائے جاتے تھے۔ مثلاً کوئی سورج دیوتا کا مجسمہ تھا تو کوئی چاند دیوی کا۔ اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ جس سیارہ کا وہ مجسمہ ہو اس سیارہ کی روح کا اس سے خاص تعلق ہوتا ہے۔ اور اگر ان بتوں کی پوجا پاٹ کریں گے تو سیاروں کے غضب اور ان کے مضر اثرات سے محفوظ رہیں گے۔ اور یہ سب کچھ ان کا وہم و قیاس ہی تھا۔ جس کے لئے کوئی دلیل ان کے پاس نہیں تھی۔
Ayahs 26:72–73

قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ Open ayah 26:72 in the Quran reader

ابراہیم نے پوچھا : جب تم انھیں پکارتے ہو تو یہ تمہاری بات سنتے ہیں ؟

اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ Open ayah 26:73 in the Quran reader

یا تمہیں کچھ فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے 50 ہیں ؟

50 حضرت ابراہیم کا اگلا سوال یہ تھا کہ جب تم انھیں پکارتے ہو تو یہ کوئی جواب دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہی ہوسکتا تھا۔ بھلا پتھر کے خود ساختہ بتوں کا سننے یا سن کر جواب دینے سے کیا کام ؟ حضرت ابراہیم نے اگلا سوال یہ کیا کہ یہ بت تمہارا کچھ سنوار یا بگاڑ سکتے ہیں ؟ اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہی ہوسکتا تھا بھلا جو بت اپنے وجود، اپنی حفاظت اور اپنے وجود کی بقا تک کے لئے اپنے عقیدت مندوں کے محتاج ہوں۔ یہ سنتے ہوں نہ بولتے ہوں۔ وہ اپنے عقیدت مندوں کو کون سی حاجت پوری کرسکتے ہیں یا ان کی کوئی تکلیف رفع کرسکتے ہیں ؟
Ayah 26:74

قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 26:74 in the Quran reader

وہ کہنے لگے : نہیں بلکہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایسا کرتے پایا 51 ہے

51 حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کے مشرکوں سے جو سوال کئے وہ ایسی صفات ہیں جن کا ایک معبود حقیقی میں پایا جانا لازمی ہے۔ یعنی وہ پکارنے والے کی پکار یا فریاد کو سنتا ہو پھر اس کا جواب بھی دیتا ہو۔ اس کی حاجت براری کی طاقت بھی رکھتا ہو اور اسے نقصان اور تکلیف سے بچا بھی سکتا ہو۔ اگر کسی معبود میں یہ صفات نہ پائی جائیں تو وہ معبود باطل ہی ہوسکتا ہے حقیقی نہیں ہوسکتا۔۔ اور یہ سوالات دراصل گفتہ آید از حدیث دیگراں کے مصداق قریش مکہ سے ہی ان کے معبودوں کے متعلق سوال ہیں۔ حضرت ابراہیم کی قوم آپ کے سوالوں کا تو کوئی جواب دے نہیں سکتی تھی۔ لے کے ان کے پاس جو جواب ہوسکتا تھا یہ تھا کہ چونکہ ہمارے آباء و اجداد ایسا کرتے آئے ہیں اور مدتوں سے ایسا ہوتا چلا آیا ہے لہذا ہم بھی یہ کام چھوڑ نہیں سکتے۔ ہمارے آباء و اجداد ہم سے زیادہ سمجھدار زیادہ بزرگ اور زیادہ نیک تھے۔ آخر انہوں نے ان بتوں کی پرستش میں کچھ فائدہ دیکھا ہوگا۔ تبھی تو انہوں نے یہ کام شروع کیا تھا آخر ان کے پاس بھی کوئی دلیل تو ہوگی ؟
Ayahs 26:75–77

قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:75 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا : بھلا دیکھو تو جن کو تم پوجتے ہو

اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ Open ayah 26:76 in the Quran reader

اور تمہارے پہلے آباء و اجداد بھی پوجتے رہے ہیں۔

فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:77 in the Quran reader

یہ تو میرے دشمن 52 ہیں (جو جہنم میں لے جائیں گے) بجز رب العالمین 53 کے

52 حضرت ابراہیم نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ بت تمہارے دشمن ہیں بلکہ یوں فرمایا کہ یہ میرے دشمن ہیں۔ تاکہ قوم کے لوگ چڑ نہ جائیں اور ضد بازی پر نہ اتر آئیں۔ اور ان کے دشمن ہونے کا ذکر سورة مریم کی آیت نمبر 82 میں موجود ہے کہ جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں کو اور ان کے معبودوں کو آمنے سامنے لا حاضر کرے گا تو یہی معبود خواہ وہ جاندار ہوں یا بےجان، اپنے عبادت کرنے والوں کے دشمن بن جائیں گے اور کہیں گے کہ احمقو ! تمہیں ہم کب نے کب کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر ہماری عبادت کیا کرو۔ یہ تو آخرت میں دشمنی ہوئی اور آج یہ میرے دشمن ہیں۔ لہذا یہ میرا جو کچھ بگاڑ سکتے ہیں میں حاضر ہوں، میں دیکھوں گا کہ میرا یہ کیا نقصان کرسکتے ہیں اور ان کے دشمن ہونے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ میں بھی ان کا دشمن ہوں۔ یعنی جہاں تک مجھ سے بن پڑا میں بھی ان سے دو دو ہاتھ کروں گا۔ چناچہ حضرت ابراہیم نے ان معبودوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کئے بھی تھے۔ جس کا ذکر سورة انبیاء کی آیت نمبر 57، 58 میں گزر چلا ہے۔ 53 یعنی میں اللہ رب العالمین کے سوا کسی کو بھی معبود تسلیم نہیں کرتا۔ کیونکہ وہی ساری کائنات کا خالق ہے، مالک ہے، ان کی تربیت کرنے والا اور ان پر کنٹرول اور ان کی نگہداشت کرنے والا ہے اور مخلوق اور مملوک کے لئے یہی سزاوار ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کے علاوہ کسی دوسرے کی غلامی نہ کرے۔
Ayah 26:78

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ Open ayah 26:78 in the Quran reader

جس نے مجھے پیدا کیا، وہی میری رہنمائی 54 کرتا ہے۔

54 ان چار آیات میں حضرت ابراہیم نے اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا ذکر کیا۔ جن کا تعلق حضرت ابراہیم کی ذات سے ہی نہیں بلکہ ہر انسان سے تعلق ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی یہی وہ صفات ہیں جن کی بنا پر ہر انسان کو صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرنا چاہئے۔ پہلی صفت یہ ہے کہ اسی نے مجھے پیدا کیا اور وجود بخشا۔ اللہ تعالیٰ کی یہ صفت ایسی ہے جس کا کسی بھی دور کے مشرکوں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ یعنی جب میری تخلیق میں کسی دوسری ہستی کا کچھ حصہ نہیں۔ تو میری عبادت میں کوئی دوسرا کیسے حصہ دار بن سکتا ہے ؟ دوسری صفت یہ ہے کہ اللہ نے مجھے پیدا کرکے تنہا نہیں چھوڑ دیا۔ بلکہ ہر ہر مقام پر میری رہنمائی بھی کرتا ہے۔ اس سے مراد فطری رہنمائی بھی ہے جو ہر جاندار کو مہیا ہوتی ہے۔ مثلاً جب پیدا ہوتا ہے تو اپنی خوراک حاصل کرنے کے لئے ماں کی چھاتیوں کی طرف لپکتا ہے۔ پھر اللہ نے ہی اسے دودھ پینے کا طریقہ بھی بتلا دیا۔ غرض موقع و محل کے لحاظ سے اللہ ہر ہر مقام پر ہر جاندار کی رہنمائی اور دست گیری کرتا ہے اور انسانوں کی اخروی فلاح کے لئے وحی کے ذریعے رہنمائی فرماتا ہے اور اس ہمہ گیر قسم کی رہنمائی میں کسی دوسری ہستی کا کچھ بھی تعلق نہیں ہے۔ لہذا میری عبادت میں اللہ کے علاوہ دوسرا کوئی کیسے شریک بن سکتا ہے۔
Ayah 26:79

وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ Open ayah 26:79 in the Quran reader

وہی مجھے کھلاتا 55 ہے اور پلاتا ہے

55 یعنی اللہ تعالیٰ نے جاندرا مخلوق کو پیدا کرنے سے پیشتر ہی ایسا انتظام فرمایا جس سے ہر جاندار کو روزی اور خوراک میسر آسکے۔ وافر مقدار میں پانی پیدا کردیا۔ زمین میں قوت روئیدگی بخشی۔ ہوائیں چلائیں۔ بارش کا نظام قائم کیا اور ہر جاندار کی تمام ضروریات اسی زمین کے ساتھ وابستہ کردیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ کارنامہ بھی ایسا ہے جس میں دوسری ہستی شریک نہیں ہوسکتی تو پر عبادت میں کیسے شریک ہوسکتی ہے۔
Ayah 26:80

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ Open ayah 26:80 in the Quran reader

اور جب میں بیمار 56 پڑتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔

56 حضرت ابراہیم نے بیماری کی نسبت اللہ تعالیٰ کی بجائے اپنی طرف فرمائی تو یہ محض اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اپنی کسر نفسی کی بنا پر ایسا کہا۔ ورنہ بیماری اور شفا سب کچھ اللہ ہی طرف سے ہوتا ہے۔ اب بیماری اور شفا کے متعلق اللہ تعالیٰ کا مطالبہ یہ ہے کہ ہر جاندار کی طبیعت ہے اس کی سب سے بڑی معالج ہوتی ہے۔ بدن میں کسی مقام پر بھی کوئی نقص واقع ہوجائے تو طبیعت فوراً ادھر متوجہ ہوجاتی ہے۔ باہر سے کوئی آفت پڑنے کا خطرہ ہو تو ہر جاندار سے بلا ارادہ ایسی حرکات سرزد ہونے لگتی ہیں۔ جو اس کی اس آفت سے حفاظت کرسکیں اور دوائی کی ضرورت صرف اس وقت پیش آتی ہے جب طبیعت کی مدافعت سے معاملہ بڑھ جائے اور دوائی کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ طبیعت کا مدد کرتی ہے ورنہ اصل معالج طبیعت ہی ہوتی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے ہی بنائی ہے علاوہ ازیں دواؤں میں تاثیر اور خاصیت بھی اللہ کی پیدا کردہ ہے پھر کبھی دوا اپنا اثر دکھاتی ہے کبھی بےاثر ثابت ہوتی ہے اور کبھی الٹا اثر دکھاتی ہے اسی لئے کوئی حکیم یا ڈاکٹر یہ بات دعویٰ سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ فلاں مرض کا علاج کرکے شفا دے سکتا ہے۔ بلکہ ہر شخص اس معاملہ میں اپنے عجز کا اعتراف ان الفاظ میں کرتا ہے کہ شفا میں جانب اللہ ہوتا ہے۔ پھر جب شفا بخشنے میں اللہ کے علاوہ کسی دوسری ہستی کا دخل نہیں تو عبادت میں اللہ تعالیٰ کی سوا کوئی دوسرا کیسے شریک بنایا جاسکتا ہے۔