Ayah 26:8157 موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے نہ کسی کو مفر ہے اور نہ اس میں کسی کا کچھ اختیار ہے۔ انسان نہ اپنی مرضی سے پیدا ہوا تھا اور نہ اپنی مرضی سے موت کو ٹال سکتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنی دوبارہ زندگی کو بھی روکنے میں بھی مجبور محصن ہے۔ اللہ کی شان یہ ہے کہ وہ ہر آن زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کرنے کے کرشمے دکھاتا رہتا ہے۔ لہذا دوبارہ پیدائش سے انکار کی معقول وجہ نہیں ہوسکتی۔ اور یہ ایسے کام ہیں۔ جن میں اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ پھر اللہ کی عبادت میں آخر دوسروں کو کیوں شریک بنایا جاسکتا ہے۔ یا دوسروں کو عبادت کے لائق کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔
Ayah 26:8258 قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جب عدالت قائم فرمائے گا تو اس وقت بھی اس کی عدالت، حاکمیت اور فیصلوں میں کسی دوسری ہستی کا کوئی عمل دخل نہ ہوگا۔ جس طرح مذکورہ بالا امور میں کسی دوسرے کا کچھ عمل دخل نہیں ہے۔ اور چونکہ میں نے اللہ کی عبادت میں دوسرے کسی کو اس کا شریک نہیں سمجھا لہذا مجھے توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دن میری چھوٹی موٹی خطاؤں اور لغزشوں کو معاف فرما دے گا۔ اس سے یہ نتیجہ بھی سامنے آتا ہے کہ جس کسی نے اللہ کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک بنایا ہوگا اس کی مغفرت کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
Ayah 26:8359 اللہ تعالیٰ کی مندرجہ بالا صفات بیان کرنے کے بعد حضرت ابراہیم اللہ تعالیٰ کے حضور دست بدعا ہوجاتے ہیں۔ پہلی دعا یہ ہے کہ یا اللہ مجھے صحیح قوت فیصلہ اور دینی بصیرت عطا فرما اور میرے علم میں اضافہ کر اور مجھے نیک لوگوں کی سوسائٹی عطا فرما۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں ایک نیک بخت اور نیک سیرت انسان اگر کسی بری سوسائٹی میں پھنس جائے تو اسے جتنی تکلیف اور ذہنی کوفت ہے، اسے سب جانتے ہیں۔ لہذا ہر شخص کو کوشش کرنی چاہئے اور اس کے لئے دعا بھی کرتے رہنا چاہئے کہ اسے نیک لوگوں کی صحبت حاصل ہو۔ اور آخرت میں اللہ تعالیٰ یقیناً نیک لوگوں کو نیک لوگوں سے ہی ملا دے گا۔ تاہم اس نعمت کے لئے بدست بدعا رہنا چاہئے۔ حضرت ابراہیم نے بھی ایسی دعا کی اور رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنی وفات کے ساتھ یہ دعا فرمائی تھی۔ اللہم فی الرفیق الاعلی
Ayah 26:8460 یعنی اس دنیا میں، میں ایسے اچھے کام کرسکوں کہ بعد میں آنے والے لوگ میرا ذکر اچھے الفاظ میں کیا کریں۔ حضرت ابراہیم کی یہ دعا حرف بحرف قبول ہوگئی۔ دنیا کے اکثر اہل مذاہب آپ کو اپنا دینی پیشوا ضرور تسلیم کرتے ہیں۔ اگرچہ حضرت ابراہیم کی تعلیم سے بہت سی باتوں میں منحرف ہوچکے ہیں۔ اسلام نے از سر نو دین ابراہیمی کو زندہ کیا۔ اور ہر نماز میں دورد کو واجب قرار دے کر آپ کا ذکر خیر بھی جاری کیا۔ مگر افسوس ہے کہ دوسرے مذاہب کی طرح مسلمان بھی خالص دین ابراہیمی سے ہٹ چکے ہیں۔ اور اپنے دین میں شرکت کی آمیزش کرلی ہے۔
Ayah 26:8561 وارث تو وہ اس لحاظ سے ہوں گے کہ ان کے جد امجد کا اصل مسکن جنت ہی تھا۔ اور جنت کے وارث صالحین ہی ہوں گے۔ جن کے ساتھ ملانے کے لئے حضرت ابراہیم دعا فرما رہے ہیں۔
Ayah 26:8662 جب باپ نے حضرت ابراہیم کو مشرک کے خلاف جہاد کی سزا کے طور پر گھر سے نکلا تھا۔ اس وقت حضرت ابراہیم نے اپنے باپ سے دعائے مغفرت کا وعدہ کیا تھا۔ (19: 47 ( اس کے بعد آپ نے دعائے مغفرت بھی فرمائی جیسا کہ یہاں مذکور ہے۔ اور ایک دفعہ اپنے والد اور والدہ دونوں کے حق میں دعائے مغفرت فرمائی تھی۔ (14: 41) پھر جب آپ پر یہ بات واضح ہوگئی کہ مشرک کی کسی حال میں مغفرت نہیں ہوگی تو آپ نے ایسی دعا کرنا چھوڑ دی تھی۔
Ayah 26:8763 یعنی قیامت کے دن مجھے تمام اولین و آخرین کے سامنے یوں رسوا نہ کرنا کہ باپ سزا پا رہا ہو اور ابراہیم کھڑا دیکھ رہا ہو۔ چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ ~ نے فرمایا : کہ حضرت ابراہم قیامت کے دن اپنے والد کو اس حال میں دیکھیں گے کہ منہ پر سیاہی اور گردو غبار چڑھ رہا ہوگا۔ آپ والد سے کہیں گے۔ میں نے تمہیں کہا نہ تھا میری نافرمانی نہ کرو۔ باپ کہے گا : آج میں تمہاری نافرمانی نہیں کروں۔ پھر حضرت ابراہیم اپنے پروردگار سے کہیں گے کہ آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ قیامت کے دن تجھے ذلیل نہیں کروں گا اس سے بڑھ کر میری کیا ذلت ہوگی کہ میرا باپ ذلیل ہو رہا ہے اور تیری رحمت سے محروم ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں نے کافروں پر جنت حرام کردی ہے پھر حضرت ابراہیم سے کہا جائے گا۔ ذرا اپنے پاؤں تلے تو دیکھو وہ دیکھیں گے تو ای نجاست سے لتھڑا ہوا بجو نظر آئے گا) اور والد کا کوئی پتہ نہیں لگے گا ( پھر اس کے پاؤں سے پکڑ کر اس بجو کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا (بخاری۔ کتاب بدء الخلق۔ باب واتخذ اژ ابراہیم فیصلا ( گویا قیامت کے دن حضرت ابراہیم کی رسوائی کا علاج کیا جائے گا کہ آپ کے باپ کی شکل و صورت ہی مسخ کردی جائے گی۔
Ayahs 26:88–8964 آیت نمبر 88، 89 حضرت ابراہیم کی دعا کا حصہ بھی ہوسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اس دن مجھے رسوا نہ کرنا جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد۔ یعنی میرے باپ کی دولت اس دن اس کے کسی کام نہ آئے گی اور نہ ہی میں کام آسکوں گا۔ کام آنے والی چیز تو صرف اللہ کی اطاعت ہوگی۔ جو شخص فرمانبردار دل لے کر حاضر ہوا وہی کامیاب ہوگا اور دوسری صورت میں قیامت کی یہ صفات اللہ تعالیٰ سے ارشاد ہوئی ہیں۔
Ayahs 26:90–9165 یعنی قیامت کے دن اہل جنت کے جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی جنت اپنی تمام دلکشیوں اور رعنائیوں سمیت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی۔ جسے دیکھ کر وہ بہت مسرور ہوں گے اور اس میں داخلہ کے لئے بیتاب ہوں گے۔ اسی طرح دوزخ اپنی تمام ہولناکیوں اور چنگھاڑوں سمیت گمراہ لوگوں کے سامنے لائی جائے گی۔ اور اہل دوزخ کو دیکھ کر وہ اور بھی جوش دکھانے اور چنگھاڑنے لگے گی۔ یہ منظر دیکھ کر اہل دوزخ کے دوزخ میں داخل ہونے سے پہلے پتے پانی ہوجائیں گے۔
Ayahs 26:92–9366 اہل دوزخ سے پوچھا جائے گا۔ بتلاؤ آج تمہارے وہ معبود کدھر ہیں جنہیں تم نے اللہ کے ہاں اپنے سفارشی سمجھ رکھا تھا اور اللہ کے بجائے انہی کی نذر و نیازوں اور نیاز مندیوں میں لگے رہتے تھے آج تو وہ اپنے آپ کو بھی دوزخ سے بچا نہیں سکتے تمہاری کیا خاک مدد کریں گے۔
Ayahs 26:94–9567 اہل دوزخ کو دوزخ میں پھنکنے کا طریقہ یہ ہوگا پہلے ایک دوزخ کو اوندھے منہ دوزخ میں پھینکا جائے گا، اوپر سے دوسرے کو، پھر اوپر سے تیسرے کو، گویا ان کو دوزخ میں اس بیدردی سے پھینکا جائے جیسے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کو پھینکا جاتا ہے۔ اور دوزخ میں یوں پھینکے جانے والے لوگ تین طرح کے ہوں گے ایک مشرک لوگ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے والے، دوسرے ان کے معبود، خواہ وہ جاندار ہوں یا بےجان تاکہ مشرکوں کی حسرت میں مزید اضافہ ہو۔ اور۔۔ ابلیس کے لشکر جو ان کی گمراہیوں کا اصل سبب بنے تھے۔
Ayahs 26:96–9868 معبود صرف وہ دوزخ میں پھینکے جائیں گے جو بےجان ہیں مثلاً شجر و حجر اور پتھر یا لکڑی کے بت وغیرہ۔ ان کو پھینکنے کی دو وجوہ ہیں۔ ایک یہ کہ مشرکوں کی ندامت اور حسرت میں اضافہ ہو اور دوسرے یہ کہ وہ جہنم کی آگ کو مزید بھڑکائیں۔ اور جاندار اشیاء میں سے صرف وہ بزرگ اور اولیاء حضرات دوزخ میں ڈالے جائیں گے جنہوں نے اپنے مریدوں سے شفاعت کے اور ان کو بخشوانے کے وعدے کر رکھے ہوں گے یا وہ ایسی آرزو رکھتے ہوں کہ جو صفات اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ وہ ان میں بھی تسلیم کی جائیں۔ یا اگر کوئی شخص ایسی بات کرے تو اسے ناگوار سمجھنے کے بجائے انھیں خوشی محسوس ہو۔ رہے فرشتے یا انبیاء یا توحید پرست بزرگ جنہیں اس بات کی خبر تک نہیں کہ ان کی عبادت کی جاتی رہی ہے تو ایسے معبود ہرگز جہنم میں داخل نہ ہوں گے۔
جہنم میں پھینکے جانے کے بعد مشرک اپنے معبودوں سے الجھ پڑیں گے اور انھیں مخاطب کرکے کہیں گے کہ ہم نے دنیا میں تمہیں اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ رکھا تھا۔ اسی خیال سے ہم تمہیں پکارتے رہے، تمہاری نذریں نیازیں دیتے رہے، تمہارے آگے جھکتے رہے اور سر تسلیم کرتے رہے اور ہر وہ کام کیا جو صرف اللہ رب العالمین کے لئے سزا وار تھا۔ تو یہ ہماری سخت بھول تھی، گمراہی تھی اور اس گمراہی میں ہمیں ابلیس کے ان ساتھیوں نے مبتلا کر رکھا تھا۔ اور آج جب حقیقت حال سامنے آئی ہے تو معلوم ہوا کہ تم بھی ایسے ہی بےبس ہو۔ جیسے ہم ہیں۔ تم خود عذاب میں پڑے ہو۔ تو تم سے سفارش کی کیا توقع کی جاسکتی ہے اور تمہیں ہی ہم نے اپنا سفارشی سمجھ رکھا تھا۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ آج ہمیں کوئی ایسا دوست بھی نظر نہیں آتا جسے کم از کم ہمارے دکھ درد کا احساس تو ہو۔ دکھ بانٹنا یا سفارش کرنا تو دور کی بات ہے۔ کم از کم ہمیں تسلی دینے کے لئے کوئی دو جملے ہی کہہ دے۔
Ayahs 26:99–10269 مجرموں اور جہنمیوں کے اس قول اور اس آرزو کا ذکر بھی قرآن میں متعدد بار آیا ہے اور ساتھ ہی اس کا جواب بھی مذکور ہے۔ یعنی ان کو اگر دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے تو پھر بھی وہ وہی کام کریں گے جیسے پہلے کرتے رہے ہیں (16: 28 ( کیونکہ انسان کی تو عادت ہی یہ ہے کہ مشکل کے وقت جب جان پر بن جاتی ہے تو اس وقت وہ صرف ایک اللہ ہی کو یاد کرتا ہے اور دوسرے معبودوں کو بھول جاتا ہے۔ لیکن جب اللہ اسے مصیبت سے نجات دے دیتا ہے تو بعد میں وہ پھر اللہ کو بھول جاتا ہے اور اپنے معبودوں کو ہی پکارنے لگ جاتا ہے۔
Ayah 26:10370 یعنی حضرت ابراہیم کے واقعات زندگی میں نشانی یہ ہے کہ شرک کے خلاف جہاد میں ان کے باپ اور ان کی قوم نے ان کو جس قدر تکلیفیں پہنچائیں۔ اللہ نہ انھیں اتنا ہی اعزاز بخشا۔ اسے تمام لوگوں کا امام اور پشیوا بنادیا۔ سب مذاہب کے لوگ ان کا انتہائی عزت و احترام کرتے ہیں اور انھیں اپنا روحانی پیشوا تسلیم کرتے ہیں۔ رہتی دنیا تک لوگ ان کا ذکر خیر کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہر اس مصیبت سے نجات بخشی جس میں ان کی قوم نے انھیں ڈالا۔ اور ان کے مقابلہ میں ان مشرکوں کو ہر ہر مقام پر ذلیل و رسوا کیا۔ یہ سب دیکھنے اور جاننے کے بعد بھی کم ہی لوگ ہیں جو ایمان لا کر شرک سے کلیتاً دستبردار ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم شرک کی ہر قسم کے بیزار رہے۔
Ayahs 26:104–10571 قوم نوح کی طرف مبعوث تو نوح (علیہ السلام) ہوئے تھے لیکن یہاں جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ تمام انبیاء کی بنیادی تعلیم ایک ہی جیسی رہی ہے۔ لہذا ایک نبی کو جھٹلانا سب نبیوں کو جھٹلانے کے مترادف ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس قوم کے پاس نوح (علیہ السلام) سے پہلے کچھ نبی آئے ہوں۔ جن کا ذکر قرآن اور حدیث میں موجود نہ ہو۔
Ayahs 26:106–10772 اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کے ہاں سے جو وحی مجھ پر نازل ہوتی ہے بلاکم وکاست تمہیں پہنچا رہا ہوں۔ اس میں نہ کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں جوں کی توں تم لوگوں کو پہنچا دیتا ہوں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ تو تم خود جانتے ہو کہ میں ایک راست باز اور امین انسان ہوں۔ کبھی کسی سے مکروفریب یا ہیرا پھیری کی بات نہیں کہی۔ تو کیا اب میں اللہ کے ذمہ جھوٹی باتیں منسوب کروں گا ؟
Ayah 26:10873 لہذا تمہیں میرے متعلق ہرگز کچھ بدگمانی نہ رکھنا چاہئے اور ایسی بدگمانی کرنے کے سلسلہ میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے اور مجھے اللہ تعالیٰ کا امانت دار پیغمبر سمجھ کر میری اطاعت کرنا چاہئے۔
Ayah 26:10974 دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ میں بالکل مخلص اور بےغرض ہو کر تمہیں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔ نہ اس میں میرا کوئی ذاتی مفاد ہے اور نہ ہی تم سے کسی معاوضہ کا، اجرت کا مطالبہ کرتا ہوں۔ میں جو بات کہتا ہوں بالکل بےلوث ہو کر اور تمہاری بھلائی کی خاطر کہتا ہوں۔ پھر بھی تم میرے درپے آزار بنے ہوئے ہو۔ اس معاملہ میں بھی تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے۔ کیونکہ ظلم و زیادتی کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوا کرتا۔ اور ایسے بےغرض اور بےلوگ آدمی کی بات مان لینا چاہئے۔
Ayahs 26:110–11175 اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ ہر نبی کی دعوت کی مخالفت کرنے والے ہمیشہ وہی لوگ ہوتے ہیں جن کا معاشرہ میں کچھ اثر و رسوخ ہوتا ہے۔ جنہیں عموماً چودھری، اشراف یا شیوخ کہا جاتا ہے اور قرآن ان کا ذکر ملا اور مترفین کے الفاظ سے کرتا ہے۔ اور یہ لوگ انبیاء کی مخالفت محض اس لئے کرتے ہیں کہ انھیں نبی پر ایمان لانے کی صورت میں مطاع کے بجائے مطیع بننا پڑتا ہے۔ لہذا ابتداء میں نبیوں پر ایمان وہی لوگ لاتے ہیں جن کا معاشرہ میں کچھ اثر و رسوخ نہیں ہوتا اور جنہیں یہ اشراف عموماً حقیر اور کمینہ مخلوق تصور کرتے ہیں۔ دوسری یہ بات کہ یہ اشراف اس بات میں اپنی ہتک اور توہین سمجھتے ہیں کہ ہم ایمان لا کر خود بھی اس حقیر اور کمینہ قسم کے لوگوں میں شامل ہو کر ان میں برابر کی سطح پر آجائیں۔ یعنی دوسری یہ چیز بھی ان کے ایمان لانے میں رکاوٹ کا سبب بن جاتی ہے اور اس طرح ان کی انا مجروح ہوتی ہے۔ چونکہ قریش مکہ بھی یہی کچھ کیا کرتے تھے لہذا اس سوال و جواب میں بھی گویا انہی کا ذکر ہے۔ بلکہ ان کا تو رسول اللہ ~ سے یہ مطالبہ بھی ہوتا تھا کہ اس قسم کے لوگوں کو اگر آپ اپنی مجلس سے کسی وقت اٹھا دیں تو ہم آپ کی باتیں سننے کو تیار ہیں۔ ) تفصیل کے لئے سورة انعام کی آیت نمبر 52 کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے (
Ayahs 26:112–11376 ان دو آیات کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ مجھے اس بات سے کچھ غرض نہیں کہ جو لوگ تمہاری نظروں میں مکتبہ ہیں وہ کیا پیشہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ موچی ہیں یا جولا ہے ہیں یا لوہار ہیں یا کمہار ہیں مجھے یہ معلوم کرنے سے کوئی مطلب نہیں۔ مجھے مطلب ہے تو صرف اس بات سے کہ وہ ایمان لے آئے ہیں اور میرے ساتھی ہیں۔ باقی ان کا پیشہ کیا ہے یہ اللہ بہتر جانتا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ میرے پاس یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ جو شخص میرے پاس آکر ایمان لاتا ہے اور میرے کہنے کے مطابق اس پر عمل کرنے لگتا ہے تو اس کی تہ میں کیا محرکات کام کر رہے ہیں۔ یہ اندازہ لگانا نہ میرا کام ہے نہ تمہارا بلکہ یہ اللہ کا کام ہے۔
Ayah 26:11477 اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم نوح کے چودھریوں نے حضرت نوح سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر تم ان رذیل اور کمینہ لوگوں کو اپنے ہاں سے اٹھا دو تو ہم آپ کے پاس بیٹھنے اور آپ کی باتیں غور سے سننے کو تیار ہیں۔ لیکن ان کی موجودگی میں ہمیں آپ کے پاس بیٹھنا گوارا نہیں اس کے جواب میں نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ تو بڑی بےانصافی اور کم عقلی کی بات ہے کہ جو لوگ مجھ پر یمان لائے ہیں، انھیں اپنے ہاں سے تمہاری خاطر دھکیل دوں جن کا بعد میں بھی ایمان لانے کا کچھ اعتبار نہیں۔ تم لوگ مجھ پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ تمہیں اختیار ہے۔ اور میں نے تمہیں تمہارے انجام سے پوری طرح آگاہ کردیا ہے۔ بہرحال میں کسی قسیمت پر بھی پہلے سے ایمان والوں کو اپنے ہاں سے اٹھانے کو تیار نہیں۔
Ayahs 26:115–11678 لفظ من المرجومین کے بھی دو مطلب ہیں۔ رجم کے معنی دور سے پتھر، کنکر وغیرہ پھینکنا اور جان سے مار ڈالنا یا سنگسار کرنا ہے اور یہ معنی ترجمہ میں مذکور ہیں۔ پھر یہ لفظ مادی اور معنوی دونوں طرح استعمال ہوگا ہے۔ اور رجیم اور مرجوم وہ شخص یا چیز ہے۔ جسپر لعنت اور پھٹکار پڑتی رہے۔ یعنی قوم نوح کے چودھریوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہا کہ اگر تم اپنی دعوت و تبلیغ سے باز نہ آئے تو ہر طرف سے تم پر لعنت اور پھٹکار پڑتی رہا کرے گی۔
Ayahs 26:117–11879 بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے سرداروں میں کوئی دو چار دفعہ ایسے مکالمے اور بحثیں ہوئی ہوں گی۔ لیکن واقعہ ایسا نہیں۔ پورے ساڑھے نو سو سال نوح اور ان کی قوم میں ایسے مکالمے اور بحث و تکرار ہوتی رہی۔ اور جب حضرت نوح اس قوم میں سے کسی نئے فرد کے ایمان لانے سے قطعاً مایوس ہوگئے تو اس وقت آپ نے یہ دعا کی تھی۔ اس دعا کی تفصیلی ذکر سورة نوح میں آئے گا۔
Ayahs 26:119–12080 کشتی نوح اور طوفان نوح کا ذکر پہلے سورة اعراف آیت 64، سورة یونس آیت نمبر 71، 73، سورة ہود آیت نمبر 38، 43 میں گزر چکا ہے۔ متعلقہ حواشی ملاحظہ فرما لئے جائیں۔