Ayah 26:1(26:) طسم۔ بعض کے نزدیک یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنی میں سے ہے بعض اسے قرآن مجید کے اسماء میں سے مراد لیتے ہیں بعض اسے سورة کا نام بتاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے بقول صاحب تفسیر مظہری (رح) :۔ انہ رمز بین اللہ وبین رسولہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے درمیان ایک راز ہے۔
Ayah 26:2(26:2) تلک۔ اسم اشارہ بعید ہے واحد مؤنث۔ مشار الیہ السورۃ ہے۔ یہ سورۃ۔
ایت الکتب المبین : الکتب المبین موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ ایات مضاف۔ واضح کتاب کی آیات، یہ سورة واضح کتاب کی آیات (پر مشتمل) ہے یا یہ واضح کتاب کی آیات ہیں۔ الکتب سے مراد القران ہے۔ مبین اسم فاعل واحد مذکر بمعنی کھولنے والا۔ ظاہر کرنے والا۔ ابانۃ (افعال) سے بین مادہ باب تفعیل (تبیین) باب تفعل تبیین لازم بھی آتے ہیں متعدی بھی۔ ظاہر ہونا یا ظاہر کرنا۔ لہٰذا مبین کا معنی ظاہر بھی ہے اور ظاہر کرنے والا بھی۔
Ayah 26:3(26:3) لعلک۔ لعل حرف مشبہ بفعل ۔ ک اس کا اسم ۔ شاید تو۔ شاید کر تو۔ ہوسکتا ہے۔ کہ تو۔
باخع : بخع یبخع (فتح) بخع سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ اپنے آپ کو ہلاک کردینے والا۔ غم یا غصہ سے اپنے آپ کو ہلاک کردینے والا۔ شاعر نے کہا ہے :۔
الا انھا الباخع الوجد نفسہ۔ اے غم کی وجہ سے خود کو ہلاک کرنے والے۔ اور جگہ قرآن میں آیا ہے : فلعلک باخع نفسک علی اثارھم ان لم یؤمنوا بھذا الحدیث اسفا (18:6) اگر وہ اس قرآن حکیم پر ایمان نہ لائے تو شاید آپ اس غم میں ان کے پیچھے اپنی جان دیدیں گے۔
جو گدی ریڑھ کی ہڈی میں سے گزرتی ہوئی گردن تک پہنچتی ہے اسے بخاع کہتے ہیں جب ذبح کرتے وقت چھری یہاں تک پہنچ جائے تو ذبح مکمل ہوجاتی ہے اسی سے باخع ماخوذ ہے یعنی ایسا ذبح کرنے والا جس نے چھری بخاع تک پہنچا دی ہو۔
الا یکونوا مومنین : لا یکونوا مضارع منفی مجزوم مؤمنین اسم فاعل جمع مذکر منصوب یکونوا کی خبر۔ یہ ہلاکت کی وجہ ہے الا اصل میں ان لا ہے۔
ای خیفۃ ان لا یؤمنوا بذلک الکتب المبین یہ اندیشہ کرتے ہوئے کہ وہ اس واضح کتاب پر ایمان نہ لائیں گے۔
Ayah 26:4(26:4) نشائ۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل ان جمع متکلم۔ شاء یشاء (باب فتح) شیء مشیئۃ مصدر (اگر) ہم چاہیں۔
ننزل۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ جمع متکلم ۔ ہم اتاردیں۔ ہم نازل کردیں۔
فظلت۔ فاء تعقیب کے لئے ہے۔ ظلت۔ افعال ناقصہ میں سے ہے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے بمعنی صار۔ وہ ہوگیا۔ آیا ہے فظلت پس وہ ہوگئی۔
اعناقھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی گردنیں ۔ اعناق کا واحد عنق وعنق وعنق ہے۔ عنق بمعنی رئیس لوگ۔ لوگوں کی جماعت بھی ہے۔
لہا : ظلت کا صلہ ہے۔ اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ایۃ کی طرف راجع ہے۔
خاضعین خضوع سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ الخضوع کے معنی خشوع یعنی جھکنے کے ہیں۔ رجل خضعۃ وہ شخص جو ہر ایک کے سامنے عاجزی اور انکساری ظاہر کرنا پھرے۔ خضع یخضع (فتح) خضوع وخضع وخضعان عاجزی کرنا۔ فروتن ہونا۔ سرفگندہ ہونا۔ خاضعین عاجزی کرنے والے۔ جھکنے والے۔
فظللت اعناقھم لہا خضعین : ظلت فعل ناقص اعناقھم مضاف مضاف الیہ مل کر ظلت کا اسم لہا ظلت کا صلہ۔ خضعین خبر۔ اگر اعناق بمعنی رؤسا لیا جائے تو یہ ترکیب کسی تاویل یا تشریح کی محتاج نہیں ۔ ورنہ خبر خضعۃ چاہیے تھی اور ایک قرات اس طرح بھی ہے فظلت اعناقھم لہا خاضعۃ لیکن اس کی تاویل طویل ہے ۔ ملاحظہ ہو ضیاء القرآن حاشیہ آیت ہذا۔
پہلی صورت میں ترجمہ یوں ہوگا :۔ ہم افر چاہیں تو آسمان سے ان پر کوئی نشانی نازل کریں۔ پھر ان کی گردنیں اس کے آگے بالکل جھک جائیں ۔
دوسری صورت میں ترجمہ یوں ہوگا :۔ ہم اگر چاہیں تو آسمان سے ان پر کوئی نشانی نازل کریں پھر ان کے اکابر عاجز و درماندہ ہوکر اس کے سامنے جھک جائیں۔
Ayah 26:5(26:5) ما یاتیہم میں ما نافیہ ہے۔ یاتی مضارع واحد مذکر غائب ایتان مصدر (باب ضرب) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ وہ ان کے پاس آتی ہے یا آجائے گی۔ ما یاتیھم نہیں آتی ان کے پاس ۔
من ذکر میں من زائدہ ہے محض تاکید کے لئے اور نفی کو زور دار بنانے کے لئے لایا گیا ہے یا یہ تبعیضیہ ہے لیکن اول الذکر زیادہ صحیح ہے۔ ذکر ای موعظۃ و تذکیر۔ یعنی پندونصیحت یا تنبیہ کی کوئی بات۔ یا قرآن مجید کی کوئی آیت۔
محدث۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ احداث (افعال) مصدر۔ تازہ۔ نونبو، نئی۔ محدث و محدثۃ۔ نئی چیز جو اجنبی معلوم ہو۔ محدث صفت ہے ذکر کی۔ تازہ موعظت، تازہ فہمائش۔
معرضین۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب۔ اعراض (افعال) مصدر ۔ منہ موڑنے والے۔ اعراض کرنے والے۔ روگردانی کرنے والے۔ عنہ میں ہ ضمیر واحد غائب ذکر کی طرف سے راجع ہے۔
Ayah 26:6(26:6) فقد کذبوا۔ منجملہ دیگر خواص کے قد ماضی کو ماضی قریب کے معنی میں کردیتا ہے اور کبھی تحقیق کے معنی دیتا ہے ۔ فقد کذبوا تحقیق یہ لوگ (پیام حق اور پیام برحق دونوں کو) جھٹلا چکے ہیں یا انہوں نے جھٹلا دیا ہے۔ یہاں حق سے انکار کی مختلف صورتیں بیان فرمائی ہیں۔ اولا :۔ حق سے اعراض روگردانی۔ کبھی حق کو جادو کہہ کر۔ کبھی اس کو اساطیر الاولین گردان کر اور کبھی اس کو شعر گوئی بیان کرکے۔ پھر اس اعراض اور روگردانی کو آگے بڑھایا۔ اور کہہ دیا کہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ پھر اس پر ہی اکتفاء نہ کیا۔ بلکہ خفیۃ واعلانا خلوت میں اور جلوت میں قولا فعلا اس کے استہزاء میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔
فسیاتیہم :تعقیب کا ہے۔ س مضارع کو مستقبل قریب کے ساتھ مخصوص کردیتا ہے بمعنی اب۔ ابھی۔ قریب۔ عنقریب۔ یاتی فعل مضارع واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ پس وہ جلد ان پر آجائے گا۔ پس وہ عنقریب ان کو آلے گا۔ پس وہ جلد ان کے پاس آجائے گا۔
انبؤا۔ خبریں ۔ حقیقتیں ۔ نبأ کی جمع۔ جس سے بڑا فائدہ اور یقین یا ظن غالب حاصل ہو اسے نبأ کہتے ہیں۔ جس خبر میں یہ باتیں موجود نہ ہوں اس کو نبأ نہیں بولتے کیونکہ کوئی خبر نبأ کہلانے کی مستحق ہی نہیں جب تک کہ وہ شائبہ کذب سے پاک نہ ہو۔ جیسے وہ خبر جو بطریق تواتر ثابت ہو یا جس کو اللہ اور اس کے رسول نے بیان کیا ہو۔
انبؤا مجاف ہے اور اگلا جملہ ما کانوا بہ یستھزء ون ۔ مضاف الیہ ہے اس امر کی خبریں جس کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ انبؤا بصیغہ جمع آیا ہے جس طرح اعراض و تکذیب و استہزاء کی مختلف صورتیں تھیں اسی طرح آخر کار ان کی حقیقت بھی بہت سی مختلف شکلوں میں انہیں معلوم ہوگی۔
ما موصولہ بمعنی الذی جس امر کا ۔ جس بات کا۔
کانوا یستھزء ون ۔ ماضی استمراری جمع مذکر غائب۔ وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ وہ اسہزا کیا کرتے تھے یا اڑاتے رہے ہیں۔
ترجمہ پس عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت (مختلف طریقوں سے) معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں۔
بعض کے نزدیک انبؤا مراد عقوبات ہیں یعنی عنقریب ان کو اس استہزاء کی سزا مل جائے گی خواہ وہ شکست سے دہزیمت کی صورت میں ہو جیسے جنگ بدر وغیرہ میں خواہ ان کی توقعات کی موت کی شکل میں ہو کہ ان کی خواہشات و توقعات کے علی الرغم کار حق کا غلبہ۔
Ayah 26:7(26:7) اولم یروا الی الارض۔ آیات تنزیلیہ کے بعد مشرکین کی آیات تکونییہ سے اعراض و روگردانی کا ذکر ہو رہا ہے ہمزہ استفہام انکاری کا ہے واؤ عبارت مقدرہ پر عطف کے لئے ہے۔ ای اصروا علی الکفر باللہ و تکذیب ما یدعوھم الی الایمان و لم ینظروا الیٰ عجائب الارض کیا وہ اللہ (اور اس کی وحدانیت) سے انکار پر اور اس کی دعوت الی الایمان کی تکذیب پر اڑے ہوئے ہیں (تو کیا وہ) عجائبات ارض کی طرف اس کی دعوت سے عاری ہیں۔ لم یروا مضارع نفی جحد بلم ضمیر فاعل مشرکین کی طرف ہے کیا انہوں نے زمین کی طرف نہیں دیکھا ؟ کم اسم مبنی ہے اور صدر کلام میں آتا ہے مبہم ہونے کی وجہ سے تمیز کا محتاج ہے، یہ استفہام کے لئے بھی آتا ہے۔ جیسے کم لبثت (2:259) تو کتنی مدت (اس حالت میں) رہا۔ ای کم زمانا لبثت۔ اس صورت میں اس کی تمیز مفرد منصوب ہوتی ہے کم خبر یہ بھی آتا ہے اور اس صورت میں مقدار کی کمی بیشی اور تعداد کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے ۔ اور اس صورت میں تمیز مجرور ہوتی ہے۔ مثلاً کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ (2:249) اکثر چھوٹی جماعتیں بڑی جمارتوں پر غالب آگئیں۔
آیت ہذا میں عبارت یوں ہوگی کم من کل زوج کریم انبتنا فیہا اس میں ہم نے عمدہ عمدہ قسم کی بوٹیاں کس کثرت سے اگائیں
انبتنا ماضی جمع متکلم انبات (افعال) سے ہم نے اگایا۔
روج کریم۔ موصوف و صفت۔ زوج خاوند۔ بیوی۔ جوڑا۔ بھانت بھانت ، قسم قسم۔ کریم۔ عدمہ ، عزت والا۔ صفت مشبہ کا صیغہ واحد۔ زوج کریم۔ عمدہ قسم کی ۔
Ayah 26:8(26:8) ذلک۔ کا اشارہ اگانے کے فعل کی طرف ہے یا اگائی ہوئی عمدہ بوٹیوں کی طرف ۔
Ayah 26:9(26:9) العزیز۔ زبردست۔ غالب ۔ گرامی قدر۔
Ayah 26:10(26:10) وواؤ حرف عطف ہے معطوف علیہ کلام ما قبل ہے اور معطوف وہ کلام ہے جو آگے آر ہی ہے یہ عطف القصہ علی القصہ کی مثال ہے
اذ نادی : ای واذکر اذ نادی اور یاد کر جب پکارا (تیرے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو) یا واذکر لقومک اذ نادی یاد دلا اپنی قوم کو جب پکارا (تیرے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو) ۔ اذ۔ جب ۔ نادی بمعنی پکارا۔ یا بمعنی امر۔ (حکم دیا) ۔
ان۔ کہ۔ یہ کہ۔ یہ۔ یا تو مصدریہ ہے اور اس کا مابعد بمنزلہ مصدر ہے یا یہ مفرہ ہے اور بمعنی ای ہے : کہ
ائت۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے تو آ۔ تو پہنچ۔ اثیان (ضرب) سے جانے کے معنی میں بھی مستعمل ہے۔ ملاحظہ ہو (26:16) ائیتا تم دونوں جاؤ۔
القوم الظلمین۔ موصوف و صفت۔ ظالم قوم۔ ظالم لوگ۔
Ayah 26:11(26:11) قوم فرعون۔ مضاف مضاف الیہ ، فرعون کی قوم۔ یہ القوم کا بدل ہے یا اس کا عطف بیان۔ ظالم لوگ یعنی قوم فرعون۔
الا یتقون۔ ہمزہ استفہامیہ ہے لا یتقون مضارع منفی جمع مذکر غائب یہ ائت سے حال ہے تقدیر کلام ہے ائتھم قائلالہم الا یتقون تو ان کے پاس جاء یہ کہتے ہوئے کیا یہ لوگ نہیں ڈرتے (قہر الٰہی سے)
Ayah 26:12(26:12) رب : ای یا ربی۔
ان یکذبون : ان مصدریہ ہے یکذبون اصل میں یکذبونی ہے کہ وہ مجھے جھٹلائینگے۔ (میری تبلیغ کے تمام ہونے سے قبل ہی میری تکذیب شروع کردیں گے۔ (الماجدی، روح المعانی)
Ayah 26:13(26:13) ویضیق صدری : یضیق مضارع واحد مذکر غائب ضیق مصدر (باب ضرب) تنگ ہوتا ہے۔ گھٹتا ہے (یعنی اتنے بڑے مشن پر تنہا جائے ہوئے گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے ۔ ( تفہیم القرآن) ۔
لا ینطلق مضارع منفی واحد مذکر غائب طلق مادہ الطلاق کے اصل معنی کسی بندھن سے آزاد کرنے کے ہیں جیسے اطلقت البعیر من عقالہ میں نے اونٹ کا پائے بند کھول دیا۔ اسی طرح طلقت المزأۃ کا محاورہ ہے یعنی میں نے اپنی عورت کو نکاح کے بندھن سے آزاد کردیا۔ باب انفعال سے انطلاق کے معنی چل پڑنے کے ہیں جیسے انطلقوا الی ما کنتم بہ تکذبون ۔ (77:29) جس چیز کو تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کی طرف چلو۔ لاینطلق۔ وہ روانی سے نہیں چلتی۔
فارسل الی ہارون : ای ارسل جبریل (علیہ السلام) الی ہارون واجعلہ نبیا وازرنی بہ واشدد بہ عضدی لان فی الارسال الیہ (علیہ السلام) حصول ھذہ الاغراض کلہا لکن بسط فی سورة القصص وطہ واکتفی ھھنا بالاصل۔ یعنی اے میرے پروردگار تو جبرائیل (علیہ السلام) کو ہارون کی طرف بھیج اور اسے بھی نبوت عطا کر اور اس کی مدد سے مجھے طاقت بخش اور میری قوت بازو کو مضبوط بنا جبرائیل (علیہ السلام) کو اس کی طرف بھیجنے میں یہ جملہ اغراض مقصود تھیں۔ سورة قصص اور طہ میں اس کا بالتفصیل ذکر ہے یہاں صرف اصل پر اکتفا کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تو ہارون (علیہ السلام) کے پاس بھی وحی بھیج دے (اور اسے بھی شریک نبوت کر دے) ۔
Ayah 26:14(26:14) ولہم علی ذنب۔ اور ان کا میرے ذمہ ایک جرم (بھی) ہے یہاں اشارہ ہے ایک قبطی کے قتل کا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مکہ سے جاں بحق ہوگیا تھا۔ (ملاحظہ ہو 28:15)
Ayah 26:15(26:15) قال کلا کہا (اللہ تعالیٰ نے ایسا) ہرگز نہیں (ہوگا) ۔
مستمعون۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر مستمع واحد استماع (افتعال) مصدر سننے والے۔ اسی مضمون میں دوسری جگہ فرمایا لا تخافا اننی معکما اسمع واری (20:46) ڈرو نہیں میں۔ یقینا تمہارے ساتھ ہوں (ہر بات) سن رہا ہوں اور ہر چیز) دیکھ رہا ہوں، استمع باب افتعال خوب دھیان سے سننا۔ کان لگا کر سننا۔
Ayah 26:16(26:16) فاتنا فرعون۔ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ ائتیا تم دونوں جاؤ۔ تم دونوں پہنچو امر کا صیغہ تثنیہ مذکر حاضر۔ (ملاحظہ ہو 26:10) اتیان مصدر۔
Ayah 26:17(26:17) ان مفرہ ہے کہ ارسال میں قول کا مفہوم پایا جاتا ہے یا ان مصدریہ بھی ہوسکتا ہے یعنی ہم اللہ کی طرف سے بنی اسرائیل کو لے جانے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔
Ayah 26:18(26:18) الم نربک۔ ہمزہ استفہامیہ ہے لم نرب مضارع مجزوم نفی جحد بلم جمع متکلم۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ کیا ہم نے تجھے پالا نہیں تھا۔
فینا۔ اپنے ہاں۔ ہمارے اپنے پاس ای فی منازلنا ہمارے گھروں میں۔
ولیدا صیغہ صفت ہے ولادۃ سے نوزائیدہ بچہ۔
سنین سنۃ کی جمع ہے سال۔ برس۔ مجازا قحط والے سالوں کو بھی سنین کہتے ہیں۔ جیسے ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین (7:130) اور ہم نے پکڑ لیا فرعونیوں کو قحط والے سالوں میں یعنی قحط سالی میں ۔
Ayah 26:19(26:19) فعلتک : فعلۃ بمعنی فعل فعل سے مصدر ہے۔ فعل و فعلۃ ایک کام ۔ مرۃ۔ مضاف ہے ک ضمیر واحد مذکر حاضر مضاف الیہ۔ تیرا ایک کام ، تیرا ایک فعل ۔ فعلت فعلتک التی فعلت یعنی تیرا ایک فعل بھی ہے جو تو نے کیا تھا ۔ تو نے اپنی ایک اور حرکت بھی کی تھی۔ (اشارہ ہے قبطی کے قتل کی طرف) ۔
کفرین۔ ناشکر گزار۔ احسان فراموش۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے لیبلونی اشکر ام اکفر (27:40) تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں۔
Ayah 26:20(26:20) فعلتھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اس فعل (فعلۃ کی طرف ہے جو آیت ماقبل میں مذکور ہے۔
اذا۔ تب۔ اس وقت۔
الضالین۔ لفظ الضلال کا اطلاق مندرجہ ذیل معانی پر ہوتا ہے :۔
(1) حقیقت الامر سے ناواقفی ۔ جب کوئی شخص کسی شے کی حقیقت سے ناواقف ہو تو عرب کہتے ہیں ضل عنہ اسی معنی میں ہے :۔ قال علمھا عند ربی فیکتاب لایضل ربی ولا ینسی (20:52) فرمایا اس کا علم میرے رب کے پاس ہے جو کتاب میں (ہرقوم) ہے میرا رب نہ کسی چیز سے لا علم ہے اور نہ بھولتا ہے۔
(2) طریق حق سے بھٹک کر باطل کی طرف جانا جیسے غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ۔ (سورۃ فاتحہ) نہ (راستہ) ان لوگوں کا جن پر غضب آیا ہو اور نہ ان کا جو راہ حق سے بھٹک چکے ہوں وھذا الضلال فی الدین۔
(3) غائب اور مضمحل ہوجانا۔ کسی چیز میں غائب یا گم ہوجانا۔ نیست ہوجانا اس کی مثال ہے۔ وقالوا اذا ضللنا فی الارضء انا لفی خلق جدید (32:10) اور کہا کیا جب ہم (مرنے کے بوعد) زمین میں نیست و نابود ہوجائیں گے۔ تو کیا ہم ازسر نو پیدا کئے جائیں گے۔
(4) محبت کے معنی میں۔ جیسے قالوا تاللہ انک لفی ضللک القدیم (12:95) کہنے لگے بخدا تم (یوسف کی) قدیم محبت میں ہی (پھر ایسی باتیں کر رہے ) ہو۔ یا ووجدک ضالا فھدی (93:7) اور آپ کو ہدایت کی محبت میں (سرگرداں) پایا اور آپ کو ہدایت بخشی۔
وانا من الضالین میں واؤ حالیہ ہے جب کہ میں لاعلمی کی حالت میں تھا۔
Ayah 26:21(26:21) ففررت منکم۔ ماضی واحد متکلم فر یفر فرارا ۔تعقیب کا ہے پس میں بھاگ نکلا تم سے۔
لما۔ جب، جس وقت۔ یہاں حرف شرط بھی ہوسکتا ہے اور اسم ظرف بھی۔
وھب لی۔ ماضی واحد مذکر غائب وھب یھب (فتح) وھب وھبۃ مصدر اس نے بخشش کی۔ اس نے بخشا۔
حکما۔ علم و حکمت۔ نبوت۔ بوجہ مفعول منصوب ہے۔
Ayahs 26:22–23ّ (26:22) تمنھا : من یمن منا (نصر) سے صیغہ واحد مذکر حاضر ہے علی کے صلہ کے ساتھ اس کے معنی ہیں کسی کو کوئی احسان جتلانا ھا ضمیر واحد مؤنث غائب نعمۃ کی طرف راجع ہے۔
ان بمعنی لان ہے ۔ ای انما صارت نعمۃ علی لان عبدت بنی اسرائیل لولم تفعل ذلک لکفلنی اہلی ولم یلقونی فی الیم یہ جو احسان تم مجھے جتلاتے ہو یہ سبب اس امر کے ہیں کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اگر تو ایسا نہ کرتا تو میرے اہل خانہ میری کفالت خود کرتے اور مجھے دریا میں نہ ڈالتے۔
مطلب یہ ہے کہ یہ جو تو مجھ پر احسان جتلا رہا ہے یہ سب بوجہ تمہارے بنی اسرائیل کو غلامی کی سخت بندھنوں میں جکڑنے اور ان پر مظالم ڈھانے کے ہے اگر تو اسرائیل کے معصوم بچوں کو قتل کرنے کا سفاکانہ قانون نافذ کرتا تو میری ماں مجھے دریا میں کیوں ڈالتی اور مجھے تیرے گھر میں پرورش پانے کی ضرورت کہاں آتی اور پھر تیرے اس بزعم خود احسان کا کیا موقع تھا۔
فائدہ : پچھلی آیت میں ففررت منکم اور لما خفتکم میں جمع مذکر حاضر کا صیغہ استعمال ہوا ہے کیونکہ فرار اور خوف صرف فرعون ہی سے نہ تھا بلکہ اس سے اور اس کے سرداروں سے تھا جس کے متعلق خبر دینے والے نے بتایا تھا قال یموسی ان الملا یاتمرون بل لیقتلون 280:20) اس نے بتایا اے موسیٰ سردار لوگ سازش کر رہے ہیں آپ کے بارے میں کہ آپ کو قتل کر ڈالیں۔ آیت 22 میں تمنھا اور عبدت کا عمل فرعون کی ذات سے مختص ہے اس لئے یہاں واحد مذکر حاضر کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔
Ayah 26:24(26:24) موقنین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ یقین کرنے والے۔ ایمان لانے والے۔ ایقان مصدر (باب افعال) ایقن یوقن یقین کرنا۔ یقین مادہ۔
Ayahs 26:25–26(26:25) حولہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کے گرد۔ اس کے آس پاس الحول (باب نصر) کے اصل معنی کسی چیز کے متغیر ہونے اور دوسری چیزوں سے الگ ہونے کے ہیں ۔ حال الشیء یحول حوول کسی شے کا متغیر ہوجانا اور انفصال کے اعتبار سے حال بینی و بینک یعنی میرے اور تیرے درمیان فلاں چیز حائل ہوگئی۔ تغیر کے معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے لا یبغون عنھا حولا (18:108) اور وہاں سے مکان بدلنا نہ چاہیں گے۔ یہاں حولا کے معنی تھول یعنی پھرنے کے ہیں۔
حول الشیء میں حول سے مراد کسی شے کی وہ جانب جس کی طرف اسے پھیرنا ممکن ہو قرآن مجید میں ہے الذین یحملون العرش ومن حولہ (40:5) جو فرشتے کہ عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو (فرشتے) اس کے گردا گرد ہیں۔
الا تستمعون ۔ ہمزہ استفہامہ لاتستمعون مضارع منفی جمع مذکر حاضر تم نہیں سن رہے ۔ تم نہیں سنتے ۔ الا تستمعون ۔ کیا تم سن نہیں رہے۔ کیا تم لوگ کچھ سنتے ہو یعنی میں تو رب العالمین کی حقیقت بوچھ رہا ہوں اور یہ اس کے افعال کا ذکر رہا ہے۔
Ayahs 26:27–28(26:27) قال : ای قال فرعون۔
رسولکم میں ضمیر کم جمع مذکر حاضر۔ فرعون کے اردگرد بیٹھے ہوئے سرداروں کی طرف راجع ہے۔
Ayah 26:29(26:29) لاجعلنک۔ لام تاکید کا ہے۔ اجعلن مضارع بانون ثقیلہ صیغہ واحد متکلم ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ تو میں ضرور بالضرور تمہیں بنا دوں گا۔
المسجونین۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ قیدی۔ المسجون واحد سجن یسجن (نصر) سجن سے۔
Ayahs 26:30–31(26:30) اولو جئتک بشیء مبین۔ میں واؤ حالیہ ہے اور اس پر ہمزہ استفہامیہ داخل کیا گیا ہے۔ ای اتفعل ذلک ولو جئتک بشیء مبین۔ کیا تو پھر بھی (میرے ساتھ) ایسا کرے گا (یعنی قید کرے گا) جب کہ میں تیرے سامنے ایک کھلی ہوئی چیز (یعنی معجزہ) پیش کروں۔
Ayahs 26:32–33(26:32) نزع ماضی واحد مذکر غائب۔ نزع مصدر (باب فتح) اس نے باہر نکالا۔
بیضاء بیاض سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ سفید۔
Ayahs 26:34–35(26:34) ملا۔ اسم جمع سرداروں کی یا بڑوں کی جماعت۔ ملأ بمعنی بھر دینا۔ قوم کے سردار یا اہل الرائے اشخاص اپنی رائے کی خوبی اور ذاتی محاسن کے اعتبار سے لوگوں کی خواہش کو بھر دیتے ہیں اس لئے ان کو ملأ کہا جاتا ہے۔ جو لوگ زینت محاسن کے اعتبار سے لوگوں کی خواہش کو بھر دیتے ہیں اس لئے ان کو ملأ کہا جاتا ہے۔ جو لوگ زینت محفل ہوں دلوں کو ہیبت و عظمت سے اور آنکھوں کو ظاہری حسن و جمال سے بھر دیں ملأ کہلاتے ہیں۔
Ayah 26:36(26:36) ارجہ : ارج فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ارجی یرجی ارجاء (افعال) ۔
الامر۔ کام کو مؤخر کرنا۔ کام کو ٹال دینا۔ ڈھیل دینا۔ رجی مادہ رجاء رجو ورجاۃ ورجاء ۃ مصدر ہیں۔ ثلاثی مجرد سے رجا یرجوا (باب نصر) بمعنی امید رکھنا ، امید کرنا۔ خوف کرنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ارجہ تو اس کو ڈھیل دے۔ اس ضمیر کا مرجع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔
ابعث امر واحد مذکر حاضر تو بھیج، تو روانہ کر، بعث یبعث (فتح) بعث سے جس کے معنی کسی چیز کا اٹھا کھڑا کرنے اور روانہ کرنے ہے ہیں ۔ قرآن مجید میں روانہ کرنا اور اٹھا کھڑا کرنے ہر دو معنی میں آیا ہے۔ مثلاً فبعث اللہ غرابا (5:31) اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کو بھیجا۔ اور یوم ابعث حیا (19:33) اور جس روز میں زندہ کرکے اٹھایا جاؤں گا۔
المدائن : مدینۃ کی جمع ۔ شہر۔ بستیاں۔
حشرین۔ اکٹھے کرنے والے۔ حشر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر، ہر کارے
Ayah 26:37(26:37) یاتوک۔ مضارع مجزوم جمع مذکر غائب۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر وہ لائیں تیرے پاس۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب امر ہے یعنی تو ہر کاروں کو شہروں میں بھیج تاکہ وہ لے آئیں تیرے پاس۔
سخار فعال کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی بڑا جادو گر۔ موصوف علیم ماہر صفت سحار علیم ماہر فن جادوگر۔
Ayahs 26:38–39(26:38) السحرۃ : ساحر کی جمع۔ جادوگر۔
لمیقات : میقات ظرف زمان۔ وقت مقررہ۔ استعارۃ جائے مقررہ یا وہ جگہ جس کا وقت دیا گیا ہو۔ مضاف۔ یوم معلوم موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ۔ چناچہ ایک معین دن کے مقررہ وقت یا مقررہ جگہ جہاں جمع ہونے کا وقت دیا گیا تھا۔ سب جادوگروں کو اکٹھا کرلیا گیا۔
ہل انتم مجتمعون ۔ : مجتمعون اسم فاعل جمع مذکر باب افتعال سے جمع ہونے والے۔ لفظا ترجمہ ہوگا۔ کیا تم اکٹھے ہوگے۔ یہاں در حقیقت استفہام مراد نہیں بلکہ مجازا ان کو جلدی کرنے پر اکسانے کے لئے ہے۔